الحمد لله رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسوله الکریم ، أما بعد:

قال اللہ تعالی:  هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍۙ۰۰۲ (الجمعة:2)
قال رسول الله ﷺ : إِنَّ اللهَ لاَ يَقْبِضُ العِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ العِبَادِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ العِلْمَ بِقَبْضِ العُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا (صحيح البخاري:100)

اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا، سب سے پہلے اسے علم کی دولت سے مالا مال فرمایا، اللہ رب العزت کا ارشاد ہے :

وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا (البقرۃ:31)

’’ اور آدم علیہ السلام کو تمام اشیاء کے نام سیکھائے۔‘‘

اور اہل علم کے مقام ومرتبہ کو رب ذو الجلال نے یوں بیان فرمایا :

هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ

 کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور جو علم نہیں رکھتے ہیں کیا برابر ہوسکتے ہیں۔ (الزمر:9)

اس آیت مبارکہ کی روشنی میں اللہ رب العزت اور نبی آخر الزماں محمد عربی ﷺ کے بعد انسان کا سب سے بڑا محسن ومربی استاد ہوتاہے۔ استاد کا احسان ماں باپ سے بھی زیادہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان  عالی ہے:

إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا (جامع بيان العلم وفضله، حديث:242)

’’بیشک میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔‘‘

اس استاد کا مقام کتنا اعلیٰ وارفع ہے۔ اساتذہ تو علم کے روشن منارے ہیں۔ اگر اس دنیا میں استاد نہ ہوں تو یہ دنیا جہالت کی اندھیر نگری ہوتی۔ یہ تو استاد کا احسان ہے کہ جس نے ہمیں علم کے نور سے منور کرکے جہالت وگمراہی کے اندھیروں سے نکال کر معاشرے میں زندگی گزارنے کا سلیقہ اور آداب سکھائے۔

استاد علم کی منہ بولتی تصویر اور اخلاق وآداب کا نمونہ ہوتاہے اور اس کی ذات معاشرے میں مرکزی کردار کی حیثیت رکھتی ہے۔ استاد اگر حقیقی معنوں میں  استاد ہو تو اپنے شاگردوں کی زندگیاں بدل دینے کے ساتھ ، قوم کی تقدیر میں بھی صالح اور نیک انقلاب برپا کر سکتاہے لہذا ایسی عظیم شخصیت بہترین اور عظیم الشان سلوک کی مستحق ہونی چاہیے۔

استاد کی عظمت کو ترازو میں نہ تولو

استاد تو ہر دور میں انمول رہا ہے

استاد کا ادب واحترام اسلامی نقطۂ نظر سے دو اعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

ایک تو وہ منبع علم ہونے کے ناطے ہمارے روحانی باپ ہواکرتےہیں، ہماری اخلاقی اور روحانی اصلاح وفلاح کے لیے اپنی زندگی صرف کرتے ہیں۔

دوسرا یہ کہ وہ عموما طلبہ سے بڑے ہوتے ہیں اور اسلام اپنے سے بڑوں کے احترام کا حکم بھی دیتاہے۔ ارشاد نبوی ہے :

لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرْ كَبِيرَنَا، وَيَرْحَمْ صَغِيرَنَا (مسند أحمد:6937)

اب ان دلائل کا بھی تذکرہ کرتے ہیں جن میں استاد کی تکریم اور ادب کو ملحوظ خاطر رکھنے کا حکم دیاگیاہے۔

اسلامی تعلیم میں استاد کی تکریم کا جابجا حکم ملتا ہے۔ آپ ﷺ کا یہ فرمان :

إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا (جامع بيان العلم وفضله، حديث:242)

کہ مجھے ایک معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔

اس بات کی بیّن اور واضح دلیل ہے کہ استاد کا مقام ومرتبہ نہایت بلند وبالا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ’’وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ‘‘کہہ کر نبی کریم ﷺ کی شان بحیثیت معلم بیان کرکے استاد کے مقام ومرتبہ میں چار چاند لگا دیئے ہیں۔

آپ جانتے ہیں کہ جبرئیل امین روح القدس علیہ السلام نے نبی علیہ الصلاۃ والسلام کے آگے زانوئے تلمذ طے کرکے آنے والے طالب  اور شاگرد کو یہ تعلیم دے دی کہ انہیں استاد کے سامنے کیسے بیٹھنا چاہیے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم ﷺ کے سامنے ایسے بیٹھتے ، معلوم ہوتا کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں۔ یہ حدیث قدسی بھی استاد کے مقام ومرتبہ کے اوپر ایک شاندار دلیل ہے۔

اب ہم آپ کے سامنے ملت اسلامیہ کی قابل قدر شخصیات کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے اپنے اساتذہ کے ادب واحترام کی درخشندہ مثالیں ہیں جو ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔

امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ  امام مالک رحمہ اللہ مجلس درس بڑی باوقار ہوا کرتی تھی۔ تمام طلبہ آدب سے بیٹھتے حتی کہ ہم لوگ اپنی کتابوں کا ورق بھی آہستہ الٹتے تاکہ کھڑکھڑاہٹ کی آواز بلند نہ ہو ۔

ہارون رشید کے دربار میں جب کوئی عالم دین تشریف لاتے تو ہارون رشید اس کے استقبال کے لیے کھڑے ہوجاتے۔ اس پر ان کے درباریوں نے ان سے کہا اے بادشاہ سلامت! اس طرح سلطنت کا رعب ودبدبہ جاتا رہتاہے تو ہارون رشید نے جو جواب دیا یقینا وہ ماء ذھب (سونے کے پانی) سے لکھنے کے لائق ہے۔ آپ نے کہا اگر علماء دین کی تعظیم ادب واحترام سے رعب سلطنت جاتاہے تو جائے۔

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ایک جنازے پر نماز پڑھی پھر آپ کی سواری کے لیے خچر لایا گیا تو سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آگے بڑھ کر رکاب تھام لی، تو اس پر زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا :

یا ابن عم رسول الله ﷺ

اے ابن عم رسول اللہ ﷺ! آپ ہٹ جائیں اس پر سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ علماء دین اور اکابر کی عزت واحترام اسی طرح کرنی چاہیے۔

استاد کی تکریم اور اس کے مقام ومرتبہ کے تعلق سے قرآن وحدیث اور اقوال سلف صالح کو بیان کرنے کے بعد مناسب معلوم ہوتاہے کہ امام زین العابدین رحمہ اللہ کی نظر میں استاد کے 12 حقوق بیان کیے جائیں۔

امام زین العابدین رحمہ اللہ سے رسالۃ الحقوق میں روایت ہےفرمایا:

وحق سائسك بالعلم

جس نے بھی علم ومعرفت کی جانب تمہاری راہنمائی کی اس کا حق یہ ہے کہ

التعظیم له                      اُن کا احترام کرو

والتوقیر لمجلسه                         اُن کی مجلس کو محترم جانو۔

وحسن الاستماع إلیه       اُن کی گفتگو غور سے سنو۔

والإقبال علیه     اُن کی جانب رخ رکھو یعنی پشت مت کرو۔

وأن لا ترفع علیه صوتك

اپنی آواز کو اُن کی آواز سے بلند نہ کرو۔

ولا تجیب أحدا یسأله عن شیی حتی یکون هو الذی یجیب

اگر کوئی کسی چیز کے بارے اُن سے سوال کرے تم جواب نہ دو بلکہ انہیں دینے دو۔

ولا یحدث فی مجلسه أحدا

اُن کی مجلس میں بیٹھ کر کوئی کسی سے کلام نہ کرے۔

ولا تغتاب عنده أحدا

اُن کے پاس پیٹھ پیچھے کسی کی غیبت نہ کرو۔

وأن تدفع عنه إذا ذکر عندك بسوء

اور جب تمہارے سامنے اُن کی کوئی برائی بیان کی جائے تو اس کا دفاع کرو۔

وأن تستر عیوبه وتظهر مناقبه

اُن کے عیوب ونقائص پر پردہ ڈالو اور اس کے فضائل ومناقب کو ظاہر کرو۔

ولا تجالس له عدوا          اُن کے دشمن کی ہم نشینی نہ کرو۔

ولا تعادی له ولیا                       

اور اُن کے دوستوں سے دشمنی نہ کرو۔

ان بارہ حقوق کو ذکر کرنے کے بعد امام رحمہ اللہ نے اس کا صلہ واجر بیان فرمایا۔

فإذا فعلت ذلك شهدت لك ملائكة الله عزوجل بأنك قصدته وتعلمت علمه لله جل وعز اسمه لا للناس

پس اگر تم اس پہ عمل کرلوگے تو اللہ تعالیٰ کے فرشتے تمہارے حق میں گواہی دیں گے کہ تم نے اُن کا حق ادا کر دیا اور ان سے اللہ تعالیٰ کے لیے تعلیم حاصل کی ہے نہ کے لوگوں کو دکھانے کے لیے۔

عزیز طلبہ کرام! اپنے استاد کے حقوق کو پہچانیے، اُن کا ادب کریں، ان کی کوئی بات رد نہ کریں، ان کو دل سے دوست رکھیں، اگر ان کی بدی مذکور ہو تو رد کریں اگر رد نہیں کرسکتے تو وہاں سے اٹھ جائیں۔ ان کے حقوق کو فراموش نہ کریں کیونکہ وہ روحانی باپ ہے ان کے حقوق اصل باپ سے زیادہ ہیں۔

کیونکہ استاد بنیاد کی وہ اینٹ ہے جو پوری عمارت کا بوجھ اٹھاتی ہے مگر کسی کو نظر نہیں آتی، استاد معاشرے کا نمک ہے جو تھوڑی مقدار میں ہونے کے باوجود ذائقہ بدلنے کی صلاحیت رکھتاہے۔

استاد شمع ہے جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتا ہے۔استاد وہ ماں ہے جو سراسر محبت ہے جو بذات خود ٹھنڈی جگہ لیٹ کر بچے کو خشک اور گرم بستر مہیا کرتی ہے۔ استاد شعور ذات کے سفر میں راہنمائی کرنے والا اور علم ودانش کا رکھوالا ہے، استاد بادشاہ نہیں ہوتا مگر بادشاہ بنادیتاہے اپنے استاد کی عزت کرنا سیکھو کیونکہ آج تم اسی کی بدولت یہ عبارت پڑھنے کے قابل ہو۔

سکندر اعظم کا قول ہے : میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لایا اور میرا استاد مجھے زمین سے آسمان پر لے گیا۔

استاد دنیا کی بہترین ہستی ہے اس لیے ہمیں اپنے استاتذہ کرام کی عزت کرنی چاہیے، جس قدر استاد سے محبت ہوگی اور جتنا استاد کا ادب ہوگا اسی قدر علم میں برکت ہوگی، سنۃ اللہ یہی ہے کہ استاد راضی نہ ہو تو علم نہیں آسکتا۔

اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ روشنی چاہے تھوڑی ہو اندھیرے سے بہتر ہے۔ صحت چاہے کمزور ہو بیماری سے بہتر ہے۔ ایمان چاہے کمزور ہو کفر سے بہتر ہے اسی طرح اساتذہ کرام علماء میں چاہے کچھ کوتاہیاں ہوں لیکن عوام سے بہتر ہیں کیونکہ یہ انبیاء کے وارث ہیں آج جو اساتذہ کرام وعلماء ہیں ان کی قدر کرلیں آنے والے وقت میں ہمیں ایسے اساتذہ وعلماء بھی نہ ملیں گے۔

وما علینا الا البلاغ

By editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *