حدیث شریف پڑھنا اور پڑھانا بڑے عزوشرف کا کام ہے۔ وہ لوگ بڑے عظیم ہیں جو اپنی زندگیاں قرآن وحدیث پڑھتے پڑھاتے گذار دیتے ہیں اور حدیث شریف پڑھتے ہوئے بار بار خاتم النبیین رحمۃ اللعالمین محمد کریم ﷺکا اسم گرامی پڑھتے ہیں اور ساتھ ہی درود ( صلی الله علیه وسلم) پڑھتے ہیں۔ قیامت کے روز انہیں رسول اکرم ﷺکا قرب بھی حاصل ہوگا۔ مدارس اسلامیہ نور نبوت کو عام کرنے میں مصروف عمل ہیں اور تاقیامت یہ فریضہ سر انجام دیتے رہیں گے۔ ماہ شعبان میں مدارس دینیہ کے امتحانات ہوتے ہیں اور پھر فراغت حاصل کرنے والے طلباء (جو کہ علماء کرام کی صف میں شامل ہو رہے ہوتے ہیں )کے اعزاز میں ان کی دستار بندی کی جاتی ہے اور اس موقع پر حدیث کی عظیم کتاب اصح الکتب بعد کتاب اللہ «صحیح بخاری» کے نام پر پروگرام منعقد ہوتے ہیں اور مشائخ عظام عظمت حدیث، عظمت توحید اور بخاری شریف کی آخری حدیث پر درس ارشاد فرماتے ہیں۔ جزاهم الله خیرا

راقم الحروف کے لیے یہ ایام بڑی خوشی اور مسرت کے تھے کہ بڑا بیٹا حافظ عمیر ثاقب سلمہ اللہ عالمی دانشگاہ جامعہ ابی بکرالاسلامیہ کراچی سے دینی علوم کی تکمیل کرکے سند فراغت حاصل کر رہا تھا۔ اس سلسلے میں کراچی کا رخت سفر اختیار کیا۔

11 مارچ 2022ءکو صبح جامعہ ابی بکرالاسلامیہ کراچی پہنچا۔ خطبہ جمعہ جامع مسجد فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا یارو گوٹھ کراچی میں دیا۔ بعد نماز عصر مولانا صدیق رضا صاحب حفظہ اللہ سے ملاقات کی۔ بعد نماز مغرب جامعہ اسلامیہ مسجد نیو کراچی میں درس دیا۔

13 مارچ 2022ء بعد نماز عصر عالمی دانش گاہ جامعہ ابی بکرالاسلامیہ کراچی کی تقریب تکمیل بخاری شریف تھی جس کی تیاریاں کئی روز سے جاری تھیں۔ نماز عصر تک پنڈال تیار ہوچکا تھا۔ اسٹیج کے پیچھے اور دونوں اطراف بڑی بڑی اسکرینیں نصب تھیں اور اسٹیج کے سامنے فراغت حاصل کرنے والے طلباء کے لیے کرسیاں لگائی گئی تھیں اور ان کے پیچھے مہمانانِ گرامی کےلیے کرسیاں جبکہ اسٹیج کے بائیں جانب علماء کرام اور ابناء جامعہ کے لیے نشستیں تھیں بائیں جانب انتظامیہ اور جلسہ کور کرنے والوں کے بیٹھنے کا انتظام تھا۔ اور ان کے سامنے ٹیبلز پر طلباء کے لیے تحائف اور کتب رکھی ہوئی تھیں۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں دینی مدارس کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے ان میں سے ایک نام جامعہ ابی بکرالاسلامیہ کراچی ہے جس کی خدمات کا دائرہ پاکستان کے علاوہ دنیا عالم کے 45 ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ اس عالمی دانشگاہ سے علمی اکتساب کرنے کے بعد وہ طلباء کرام علوم دینیہ اپنے اپنے ملک میں رہ کر دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور فروغ تعلیم میں کوشاں ہیں۔ پاکستان میں رہنے والے فاضلین بھی ہر شعبہ حیات میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں کوئی ایسا شعبہ نہیں جہاں فاضلین جامعہ ابی بکرالاسلامیہ کراچی نہ ہوں۔ جب جامعہ سے متخرجین کو ہر شعبہ میں اور بالخصوص تعلیم و تبلیغ میں مصروف دیکھتا ہوں تو اپنی مادر علمی کو قرآن مجید کی آیت « اصلھا ثابت و فرعھا فی السمآء « کا مصداق سمجھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہماری مادر علمی کی حفاظت فرمائے اور اسےتاقیامت شاد و آباد رکھے۔ آمین

یہ سب ثمر ہے ہمارے مربی و شیخ پروفیسر محمد ظفراللہ رحمۃ اللہ علیہ کے اخلاص کا، اور یہ سب کچھ ہمارے شیخ مرحوم ، معاونین، محسنین اور اساتذہ کرام کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔ جزاهم الله خیرا

تقریب کی پہلی نشست کا آغاز المعھد الثانوی الصف الرابع کے طالب علم محمد آصف کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ نظم محمد عمیر محمدی متعلم معہد الثانوی الصف الرابع نے پیش کی۔ فضیلۃ شیخ اسامہ رفیق اثری صاحب، پروفیسر سعید مجتبیٰ سعیدی صاحب اور فضیلۃ الشیخ ابوعمر محمد یوسف صاحب شیخ الحدیث جامعہ ابی بکرالاسلامیہ حفظہم اللہ نے خطاب کیا اس نشست کی نقابت شیخ عبدالمجید محمد حسین حفظہ اللہ نےکی۔

دوسری نشست بعد نماز مغرب عبدالرحمن طالب علم المعھد الثانوی الصف الرابع کی تلاوت سے ہوئی نظم سید معاذ الرحمن طالب علم مرکز اللغۃ العربیہ الصف الاول نے پیش کی۔ اسٹیج سیکریٹری کی ذمہ داری فضیلۃ الشیخ محمد طاہر آصف حفظہ اللہ نے ادا کی۔ کلمۃ ابناء الجامعۃ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر محمد حسین لکھوی صاحب مدیر التعلیم اور فضیلۃ الشیخ محمد طاہر باغ حفظہما اللہ نے ادا کیے۔

فضیلۃ الشیخ ضیاء الرحمن مدنی صاحب حفظہ اللہ مدیر جامعہ ابی بکرالاسلامیہ نے جامعہ کا تعارف اور اغراض و مقاصد پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ذیلی شعبہ جات کا تعارف بھی پیش کیا۔ جن میں جامعہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا للبنات ماڈل کالونی، مجلس العلمی للافتاء، مرکز الاقتصاد، رول ماڈل انسٹیٹیوٹ کراچی، مجلہ اسوہ حسنہ وغیرہ۔ شیخ ضیاء الرحمن مدنی صاحب نے بتایا کہ ہم نے جامعہ کی عمارت کی مرمت پر اپنے معاونین کے تعاون سے لاکھوں روپےخرچ کیے ہیں۔ عمارت کو پانچ منزلہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایک نیا بلاک بنانے کا بھی منصوبہ بن چکا ہے تاکہ متلاشیان علوم نبوت زیادہ سے زیادہ تعداد میں مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے اپنے والد گرامی پروفیسر محمد ظفراللہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول بھی دہرایا کہ یہ جامعہ میرا ذاتی نہیں ہے بلکہ جماعت مجاہدین کا ہے اور اس کے امیر مولانا عائش محمد صاحب متعنااللہ بطول حیاتہ ہیں اور میں بھی ان کے حکم کا پابند ہوں۔

اس موقع پر چند ماہ قبل جامعہ ابی بکرالاسلامیہ کراچی سے فیض حاصل کرنے والے طلباء جنہوں نے 1980 اور 1995 کے درمیان علمی اکتساب کیا ہے ان کے مل بیٹھنے کے لیے ایک پروگرام ’’ملتقی ابناء الجامعہ ‘‘ہوا تھا اس کی ڈاکومنٹری بھی دکھائی گئی جسے سامعین نے بے حد پسند کیا۔

اس کے بعد جامعہ ابی بکرالاسلامیہ سے فراغت حاصل کرنے والے شیر سندھ مولانا محمد ابرہیم طارق صاحب کو دعوت خطاب دی گئی انہوں نے توحید کے موضوع پر خطاب کیا۔ درس بخاری شریف بقیۃ السلف فضیلۃ الشیخ حافظ مسعود عالم صاحب حفظہ اللہ نے عربی اور اردو زبان میں دیا۔

درس حدیث کے بعد نتائج کا اعلان مدیر الامتحانات فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حافظ محمد افتخار شاھد صاحب حفظہ اللہ نے کیا۔ اور انہوں نے بتایا کہ مرکز اللغۃ العربیہ سے 110 ، المعھد الثانوی سے 35 اور کلیۃ الحدیث الشریف سے 15 طلباء فارغ ہو رہے ہیں۔ نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے اور مثالی طالب علم کو نقد انعامات دیے گئے۔ جبکہ کلیۃ الحدیث سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء کو مکتبہ دارالسلام کی مطبوع صحاح ستہ، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر رحمت للعالمین اور نضرۃ النعیم 12 جلدیں اور کالا پانی از مولانا جعفرتھانیسری رحمہ اللہ کے علاوہ ایک ایک سوٹ، رومال، جبہ اور نقد رقم بطور انعام دی گئی۔ جبکہ المعھد الثانوی سے فراغت حاصل کرنے والے طلباء کو حدیث کی مشہور کتاب ’’صحیح الترغیب والترھیب ‘‘دی گئی۔ انعامات فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر مقبول احمد مکی صاحب حفظہ اللہ کی معاونت سے تقسیم کیے گئے۔ آخر میں دعاء خیر ولی کامل بقیۃ السلف فضیلۃ الشیخ مولانا عائش محمد صاحب حفظہ اللہ نے فرمائی۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ دین اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے والے ان دینی اداروں کو دن دگنی رات چوگنی ترقی دے اور معاونین و محسنین کو دارین کی سعادتیں نصیب فرمائے۔ آمین یارب العالمین

By editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *