31-234- حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو التَّيَّاحِ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يُبْنَى الْمَسْجِدُ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ .
آدم، شعبہ، ابوالتیاح ، انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ مسجد کے بنائے جانے سے پہلے نبی اکرم ﷺبکریوں کے بیٹھنے کے مقامات میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
وروى بسند آخرحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ثُمَّ سَمِعْتُهُ بَعْدُ يَقُولُ كَانَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ قَبْلَ أَنْ يُبْنَى الْمَسْجِدُ (رقمه :429)
تراجم الرواۃ :
1آدم بن أبی إیاس عبد الرحمن کا ترجمہ حدیث نمبر2 میں ملاحظہ فرمائیں
2شعبة بن الحجاج العتکی کا ترجمہ حدیث نمبر3میں ملاحظہ فرمائیں
3 أبو التیاح یزید بن حمید کا ترجمہ حدیث نمبر11میں ملاحظہ فرمائیں
4أنس بن مالك رضی اللہ عنہ کا ترجمہ حدیث نمبر2 میں ملاحظہ فرمائیں ۔
معانی الکلمات:
| يُصَلِّي | وہ ایک آدمی نماز پڑھتا ہے یا پڑھے گا |
| يُبْنَى | بنائی جائے |
| مَرَابِضِ | چوپاؤں کے بیٹھنے کی جگہ |
| الْغَنَمِ | بھیڑ بکریاں |
تشریح:
مسجد نبوی کی تعمیر ہجرت سے چھ ماہ بعد ہوئی ہے۔ اس سے قبل رسول اللہ ﷺ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیتے تھے۔ چونکہ بکریاں وہاں پیشاب اور مینگنیاں کرتی تھیں اس کے باوجودآپ نے وہاں نماز پڑھی اور نماز پڑھنے کی اجازت دی، تو معلوم ہوا کہ ان کا پیشاب وغیرہ پلید نہیں، البتہ اونٹوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے سے آپ ﷺنے منع فرمایا ہے، کیونکہ ان کے مستی میں آنے سے نقصان کا اندیشہ ہے۔
چنانچہ اس فرق کی وجہ بھی بیان کر دی گئی ہے۔ یہ بات درست نہیں کہ اونٹوں کے باڑوں میں ان کے پیشاب اور لید کے نجس ہونے کی وجہ سے نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، اگر یہ وجہ درست ہوتی تو بکریوں کے باڑوں میں بھی نماز پڑھنے سے روک دیا جاتا، کیونکہ دونوں کے پیشاب وغیرہ کا ایک حکم ہونا چاہیے۔
شریعت اسلامیہ کی رو سے محدثین کرام کے ہاں یہ مسلمہ مسئلہ ہے کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتاہے ان کا پیشاب پاک ہے۔شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی مراد یہ ہے کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب بھی پاک ہے۔
آپ ﷺنے خود اس علت کی وضاحت فرما دی ہے کہ اونٹوں کے مزاج میں شیطانیت اور شرارت پائی جاتی ہے، اس لیے نمازی کو یہ حکم دیا گیاتاکہ وہ متوقع نقصان سے بچ سکے۔ یہ رحمت کے زیادہ قریب ہیں کا مفہوم یہ ہے کہ اونٹوں کے برعکس اس جانور کے مزاج میں کمزوری اور نرمی پائی جاتی ہے، نمازی کو اس سے کوئی تشویش نہیں ہوتی جبکہ مرابض غنم (بکریوں کے باڑوں) کا ذکر کر کے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ان حیوانات کا پیشاب بھی پاک ہے۔ عنوان میں»دواب» کا لفظ زیادہ کیا تاکہ تمام ماکول اللحم (یعنی جن کا گوشت کھایا جاتاہے)جانوروں کا حکم بتا دیا جائے، گویا آپ نے قیاس کے ذریعے سے ان کو بھی اونٹوں اور بکریوں کے حکم میں شامل کیا ہے، بہرحال دین اسلام کے سہل اور یسر(آسان) ہونے کا تقاضا ہے کہ جن جانوروں کا گوشت استعمال ہوتا ہے ان کے بول وبراز کے متعلق اس قدر سختی مناسب نہیں کہ اسے نجس قراردے کر اس سے اجتناب کی تلقین کی جائے۔ دیہاتی ماحول کے لیے یہ ضابطہ انتہائی پیچیدگی اور مشکل کا باعث ہوسکتا ہے۔
مزید درج ذیل حدیث مبارکہ بھی اس بات کی بین اور واضح دلیل وبرھان ہے ۔
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہےرسول اللہ ﷺ سے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا گیاتو آپ ﷺ نے فرمایا:
صَلُّوْا فِیْهَا فَاِنَّهَا بَرَكَةٌ
ان میں نماز پڑھ لیا کرو، کیونکہ ان میں برکت ہے۔ (ابوداود: ۱۸۴، ترمذی: ۸۱، ابن ماجہ: ۴۹۴)
علامہ عبد الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ بکریوں میں بغاوت اور سرکشی کا مادہ نہیں پایا جاتا، بلکہ ان کے مزاج میں ضعف اور سکینت ہوتی ہے، وہ نمازی کو تکلیف دیتی ہیں نہ اس کی نماز منقطع کرتی ہیں، بلکہ یہ برکت والی ہوتی ہیں، اس لیے ان کے باڑوں میں نماز پڑھنی چاہیے۔ (عون المعبود: ۱/۱۲۰)
