تقویة الاسلام لاہور میں داخلہ لینے کا بڑا سبب پروفیسر سید ابوبکر غزنوی سے عقیدت تھی ۔ سید صاحب بڑے نفیس الطبع شخص تھے ۔ رکھ رکھاؤ اور نفاست میں تانا شاہ تھے ۔ کسی کی داڑھی بڑھی اور لباس سادہ ہوتا تو سید صاحب اسے دیکھ کر گڑبڑا جاتے کہ اپنے آپ کو سنوار کر کیوں نہیں رکھتے۔ ہمارے استاذ مکرم سید عبدالشکور آف سانگلہ ہل بتاتے ہیں مجھے ان سے ڈانٹ پڑی تھی ۔ لیکن یہ کیا کہ ایک لال ڈاڑھی والا سادہ منش بابا انہیں بڑا محبوب تھا ۔یہ صوفی عائش محمد تھے ۔ کئی دن وہ مدرسے میں رہتے ہم بھی ان کے عقیدتمند ہوگئے ۔ میں نے ایک طویل مضمون کسی موضوع پر لکھا تو صوفی صاحب سے اس پر تبصرہ لکھنے کا کہا کئی دن کے اصرار کے بعد انہوں نے چند الٹی ترچھی لکیریں کھینچیں جسے وہ تبصرہ سمجھتے رہے ۔ کوئی بات بھی ہوتی تو صوفی صاحب کی آنکھیں برسنے لگ جاتی ہم منڈے کھنڈے تو شتونگڑے ہوتے تھے کئی طرح کے لطیفے بنا رکھے تھے ۔ صوفی صاحب تک ہماری شرارتیں پہنچ جاتیں تو ہلکی سی مسکراہٹ سے انجوائے کرا دیتے ۔ مکہ مکرمہ بڑا عرصہ رہے حرم کے سامنے ہوٹل یر موک کے نگران بنائے گئے ۔ حافظ عبدالرحمن مکی حافظ محمد سعید صاحب کے بہنوئی بھی تھے اور نسبتی برادر بھی ۔ حافظ سعید صاحب نے ریاض میں قاضی کورس کیا تھا اس دوران وہ مکے آتے جاتے اور ہوٹل یرموک میں میٹنگ بلاتے قیادت کا مادہ ان میں خوب تھا پروفیسر ظفر اللہ کراچی والے بھی شریک ہوجاتے یوں یہ عرصہ بڑا یادگاررہا صوفی صاحب سے بڑی لمبی لمبی ملاقاتیں رہتی تھیں ۔ سیدین الشہیدین کے قافلے کے بچھڑے ہوئے راہی تھے ۔صوفی محمد عبداللہ مولانا عبدالقادر ندوی ، ڈاکٹر راشد رندھاوا ، چوہدری عبدالحفیظ یہ سارے مجاھدین بالاکوٹ کے راہرو تھے ۔ صوفی صاحب حضرت شاہ اسماعیل شہید کے نام سے یونیورسٹی چک چھتیس میں بنانے کا ارادہ بھی کرچکے تھے بلکہ اینٹیں بھی منگوا لی تھیں میں نے ایک دفعہ پوچھ ہی لیا تو کہنے لگے تم پوچھو گے یا ساتھ بھی چلو گے عرض کیا صوفی صاحب آپ جیسے مجاھد کے ساتھ ہم جیسے کسلان کہاں رل سکتے ہیں ۔ سید ابوبکر غزنوی کے بعد پروفیسر ظفر اللہ صاحب نے صوفی صاحب کو ہمیشہ ساتھ رکھا بلکہ صوفی صاحب کی سرپرستی میں رہے ۔ کافی عرصہ سے صوفی صاحب کو دیکھا نہیں کیونکہ وہ کراچی ہی رہے جامعہ ابی بکر میں ۔ کچھ عرصہ پہلے پتہ چلا کہ وہ چک چھتیس میں ہیں اور علیل ہیں ۔ اللہ سلامت رکھے ۔ پچھلے ہفتے ان کے بارے میں ایک معروف صحافی کے حوالے سے ان کا نام میڈیا میں آیا اور ہمارے ہمدم دیرینہ حافظ مقصود احمد صدر جامعہ تعلیم الاسلام ماموںکانجن کی تحریر بھی صوفی صاحب کے حوالے سے ہمارے وٹس ایپ گروپ “ دفاع منبر و محراب “ میں پڑھنے کو ملی ۔ تو یادوں کے در وا ہوگئے ۔ اب آپ حافظ صاحب کا مضمون ملا حظہ فرمائیں ۔

صوفي عائش محمد كا تذكره ميڈیا پر

چند دن قبل معروف تجزیہ نگار ھارون الرشید صاحب نے صوفی عائش محمد حفظہ اللہ کے متعلق 92 سے گفتگو کرتے ھوئے کہا کہ صوفی صاحب جو عمران خان کے متعلق اچھی رائے نہیں رکھتے تھے،تو انہیں استخارے کا مشورہ دیا گیا،اس کے بعد ان کی رائے بدل گئی اور اب وہ عمران خان کے حق میں دعا کرتے ہیں۔

اس بیان سے ان کے متعلقین میں کئی دن تک بحث وتمحیص چلتی رہی اور مولانا ضیاء الرحمن مدیر جامعہ ابوبکر کراچی اور مولانا حفیظ الرحمن لکھوی آف رینالہ خورد کے بیانات بھی سوشل میڈیا کی زینت بنے، جو صوفی صاحب کی رائے کے متعلق تھے،میں صوفی صاحب کی رائے پر تبصرہ نہیں کرنا چاہوں گا،صرف اتنا عرض کر دوں کہ صوفی صاحب کی اپنی ایک دنیا ہے،وہ سید احمد شہید اورشاہ اسمعیل شہید رحمہما اللہ کی تحریک جہاد کے موجودہ امیر بھی ہیں،بچپن سے ان کی ایک سوچ ہے کہ ماسکو اور واشنگٹن پر توحید کا جھنڈا لہرانا چاہیے،رشیا تو بکھر گیا،امریکہ کے متعلق ان کی 100 فیصد رائے ہے کہ وہ مکڑی کا جالا ہے ضرور بکھرے گا،بلکہ صوفی صاحب کی مجلس میں بیٹھیں تو لگتا ہے کہ چند دنوں بعد امریکہ ٹوٹ جائے گا۔

ان سے کوئی شخص کسی قسم کی دعا کے لیے آئے اور وہ ہاتھ اٹھا کر دعا مانگیں تو پہلے امریکہ کے ٹوٹنے کا ذکر کریں گے،بعض دفعہ سائل کی دعا بھول ہی جاتے ہیں،صرف امریکہ کی تباہی پر دعا ختم ہو جاتی ہے اور سائل کی حاجت بھی اللہ تعالی پوری فرما دیتے ہیں،وہ ہمہ وقت ذکر وفکر میں مشغول رہتے ہیںاور دن میں بیسیوں بار دوران ذکر دعا کرتے ہیں یا اللہ: وائٹ ہاؤس کی شہزادیوں کو ہماری زندگی میں ہی ہماری لونڈیاں بنا دے،جب باہمت تھے تو دوران تقریر غصے سے پاوں زمیں پر مسل کر کہا کرتے تھے کہ وائٹ ہاؤس کی میرے پاؤں کے نیچے یہ حیثیت ہے۔

وہ اپنی دنیا میں مگن اور وسائل سے بے نیاز ہو کر امریکہ کو ہر وقت ہر تقریر میں چیلنج کرتے رہتے ہیں،حتی کہ خطبہ نکاح ہو تو اس میں بھی امریکہ کی خیر نہیں ہوتی۔ ایک دفعہ ذوالحجہ میں حج ویزوں کے کلوز ہونے کے بعد اسلام اباد تشریف لائے کہ میں نے حج پر جانا ہے،ویزا لگوا کر دیں،تب میں ویزا سیکشن میں تھا،میں نے کہا اب آخری دن ہے قونصلر سے لڑ کر ویزا لینا پڑے گا جو مشکل ہے کیونکہ ہم اپنا حق لے چکے ہیں،آپ اگلے سال تشریف لائیں،اس سال حج کا خیال دل سے نکال دیں، ظہر کے وقت میں انہیں جامعہ سلفیہ لے گیا،ڈاکٹر طاہر محمود صاحب نے حضرت صاحب سے درس اور دعا کی درخواست کی،مختصر درس دیا اور دعا مانگی،وہی مکڑی کا جالا امریکہ ان کے پاؤں کے نیچے تھا،دعا میں فرمانے لگے:اگر میں نے عرفات،مزدلفہ اور منی میں لبیک کہنا ہے تو امریکہ ٹانگیں بھی کھڑی کر لے تو مجھے روک نہیں سکتا،میں نے سوچا ان کے حج سے امریکہ کا کیا تعلق؟ اسی وقت میں نے عزم کر لیا کہ کل قونصلر سے بحث کر کے حج ویزے کی کوشش کروں گا، اگلے دن خلاف توقع قونصلر گویا کہ مسخر ہوچکا تھا،فورا ویزا لگایا اور کراچی جہاز کا کرایہ بھی نہیں تھا،میں اور چوہدری نذیر صاحب جہاز پر بٹھا کر آئے اور دوسرے دن صوفی صاحب لبیک لبیک پکار رہےتھے۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص امریکہ کو تار عنکبوت سمجھتا ہے اگر وہ کہیں سے آواز سنے کہ کوئی امریکہ کو چیلنج کر رہا ہے ، اس کی غلامی کو ٹھکرا کر خود داری کا نعرہ لگا رھا ہے تو اس سے صوفی صاحب کا متاثر ہونا کوئی بعید بات نہیں۔

صوفی صاحب کی کرامات:

ھارون الرشید صاحب نے کہا کہ صوفی عائش محمد صاحب کرامت بزرگ اور امیر المجاھدین ،ابو المساکین صوفی محمد عبداللہ رحمہ اللہ بانی جامعہ تعلیم الاسلام کے شاگرد ہیں،مستجاب الدعوات ہیں،حضرت صوفی محمد عبداللہ رحمہ اللہ کی کرامات تو ہم سب نے مشاہدہ کی تھیں اور لوگ دور دور سے دعائیں کروانے کے لیے آتے تھے،صوفی صاحب بہت لمبی دعا مانگا کرتے تھے ، اور دعا مانگتے مانگتے اصرار کرنے لگ جاتے ،گویا کہ بحث کر رہے ہیں کہ ابھی بس ابھی دے دے،،، میرے خیال کے مطابق حضرت صوفی صاحب کو اللہ تعالی کی طرف سے اسم اعظم عطا ہوا تھا کہ دعائیں قبول ہوتی تھیں،،،لیکن صوفی عائش محمد چونکہ جامعہ کی انجمن کے رکن، جامعہ کی پہچان اور تا حال سیرت کے سبق کے مدرس ہیں،ایک اعتبار سے میرے بزرگ اور ایک اعتبار سے جامعہ کے عملے میں شامل ہیں،یہ ان کی تواضع ہے کہ جہاں بھی جانا ہو فون پر مجھ سے اجازت لیں گے وہ مجھے انجمن کا صدر نہیں بلکہ شرعی امیر کہتے ہیں،اور اجازت سے ہر کام کرتے ہیں،آجکل اطاعت امیر کا یہ انداز شاید ڈھونڈنے سے بھی کہیں نہ مل سکے،لوگ صوفی صاحب کے پاس دور دور سے دعائیں کروانے کے لیے آتے ہیں،صوفی صاحب متوجہ الی اللہ ہوکر امریکہ کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اور قرآن مجید کی آیات تلاوت کر کے دعا ختم کر دیتے ہیں،میں نے بعض دفعہ دعا کے لیے متوجہ کرنے کی کوشش کی کہ حضرت صاحب فلاں چیز یا فلاں آدمی یا فلاں ضرورت کا نام لے کر دعا کرائیں اور بھولیں نہیں،لیکن صوفی صاحب کی سوئی امریکہ پر ہی اٹکی رہتی ہے،فرعون کی تباہی کی آیات پڑھیں گے،کبھی سیدنایعقوب اور سیدناایوب علیہما السلام کی شفا کی آیات پڑھیں گے اور منہ پر ہاتھ پھیر دیں گے، کئی دفعہ ہم آپس میں ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ صوفی صاحب وہ دعا بھول ہی گئے جو ہم نے کہی تھی، لیکن ایسا نہیں ہے ،بلکہ ان کا دعا مانگنے کا ایک خاص انداز ہے،وہ فرعون کے غرق کی آیات کے اندر ہی بہت کچھ مانگ چکے ہوتے ہیں، جس کا یقین آج 9 مئی 2022 کو ہوا،وہ ایسے کہ تقریبا ڈیڑھ سال قبل میرے خاص دوست کے ہمراہ ایک بڑے افسر ماموں کانجن آئے کہ صوفی صاحب سے دعا کروانی ہے ،مگر وہ تو 36 چک ہیں،وہاں جانا پڑے گا،میں ان کے ساتھ ہو لیا،وہاں پہنچے توصوفی صاحب سے عرض کی گئی کہ یہ افسر ہیں8 سال گزر گئے اولاد کی نعمت سے محروم ہیں،ان کے حق میں دعا فرمائیں ،صوفی صاحب نے ہاتھ اٹھائے اور وہی دعا کا انداز ، پھر ہاتھ منہ پر پھیر لیے، آج میرے دوست نے بتلایا کہ اللہ تعالی نے صوفی صاحب کی دعا قبول فرما لی ہے اور اللہ تعالی نے ان صاحب کو بیٹا عطا کیا ہے،میں اس وقت سے سوچ رہا ہوں کہ دعا مانگنے کا بھی ایک انداز ہے،شاید صوفی صاحب کا انداز دعا اللہ تعالی کے ہاں قبولیت کا درجہ رکھتا ہے،اور اسی طرف ھارون الرشید صاحب نے اشارہ کیا ہے۔

By editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *