حرمین شریفین ہم اہل اسلام کے مقدس مقامات میں سے ایک ہے اور ہمارے ایمان کا مرکز ہے۔مسلمان دنیا کے کسی بھی خطے میں رہتے ہوں، حرمین شریفین کا تقدس ان کے نزدیک سب سے اہم اور ان کی عقیدت کا مرکز ہے۔مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دونوں دین اسلام کے وہ بنیادی مراکز ہیں،جہاں نبی کریم ﷺپر وحی کا نزول ہوا،یہاں تک کہ دین کے پیغام کی تکمیل ہوئی۔
مکہ ومدینہ کے گلی کوچے بھی محترم ہیں،کیوں کہ ان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نقوش قدم ثبت ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ یہیں سیدناجبرائیل علیہ السلام وحی لے کر رسول کریم ﷺکی خدمت میں مودبانہ حاضر ہوتے تھے۔اللہ تعالی نے حرمین کو امن واحترام کی جگہ قرار دیا ہے،ان مقدس مقامات کی تاقیامت حرمت کا اعلان کیا ہے،اس لئے وہاں کسی قسم کا دنگا فساد، لڑائی جھگڑا اور گالم گلوچ کو الحاد اور کج روی قرار دیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺپر ایمان رکھنے والا شخص کبھی ان مقدس مقامات کی توہین کر سکتا ہے نہ فتنہ وفساد پھیلا سکتا ہے۔اس لئے جب وہاں سے کسی قسم کی شرانگیزی کی خبر ملتی ہے،تو دل مضطرب اور پریشان ہو جاتا ہے۔
مسجد نبوی شریف کی توہین کا واقعہ:
28 اپریل 2022ء بروز جمعرات جب پاکستان میں 26واں اور سعودی عرب میں 27واں روزہ تھا،یہ طاق رات تھی جمعةالوداع کی مبارک ساعتیں تھیں کہ مسجد نبوی شریف میں ایک ایسا دلخراش سانحہ پیش آیا،جس سے اہل ایمان کے دلوں کو بہت تکلیف پہنچی اور دل ٹوٹ کر رہ گئے۔اس واقعہ کی تفصیل یوں ہے کہ:
حکومت پاکستان کا ایک اہم ترین وفد وزیر اعظم پاکستان کی قیادت میں عمرہ کی ادائیگی کے لئے شاہی مہمان ٹھہرا تھا۔ اس اہم وفد میں شامل بعض وفاقی وزراء اور وزیر اعظم کی کیبنٹ کے چند دیگر لوگ مسجد نبوی میں حاضری ونماز کے لئے پہنچے تو وہاں پر ایک سیاسی جماعت کے بعض ذمہ داران نے مسجد نبوی کے تقدس اور اس کے احترام کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس حکومتی وفد کے خلاف بدترین ہلڑ بازی کی، وزراء کے بال نوچے گئے،انہیں گندی گالیاں دی گئیں،آوازیں کسی گئیں۔ان پر براہ راست حملہ کی کوشش کی گئی،اس دوران سعودی سیکورٹی نے انہیں وہاں سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔
شرم ناک واقعہ کی روح فرسا خبر:
یہ المناک مناظر الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے پورے عالم میں پھیل گئے۔سعودی حکومت کی بروقت کارروائی سے اس واقعے پر قابو پا لیا گیا۔
یقینا یہ ایک روح فرسا خبر تھی اور حادثہ عظیم تھا۔مسجد نبوی جس کے قرب میں رسول اللہ ﷺکی قبر ہے،کوئی مسلمان وہاں ایسے واہی تباہی کے کام کا سوچ کیسے سکتا ہے؟
جب کہ مسجد نبوی امت کی وحدت کا ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔وہاں تمام آداب وفرائض کو بھلا کر محض جمہوری سیاست اور گروہی مفاد کو بالا تر سمجھا گیا۔ایک مسلمان اس کا سوچ کیسے سکتا ہے؟
نبی کریم ﷺکی آواز سے اپنی آواز بلند نہ کا حکم قرآنی:
اللہ تعالی نے اپنے محبوب نبی ﷺکی بارگاہ میں حاضری کے آداب قرآن مجید میں بیان فر مائے ہیں،ارشاد ہوتا ہے:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ۰۰۲ (الحجرات:2)
«اے ایمان والو! اپنی آواز پیغمبرکی آواز سے اونچی نہ کرو اور نبی کے ساتھ ایسی بات نہ کرو،جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہو،ورنہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور تمہیں احساس بھی نہ ہو گا کہ تمہارے اعمال ضائع ہو گئے ہیں۔»
یہاں پر ”جہر“ کا معنی صرف یہ نہیں کہ اونچی آواز سے بات نہ کرو بلکہ معنی یہ ہے کہ پیغمبر کے ساتھ تم اس طرح بات نہ کیا کرو،جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہو۔ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اتنی پست آواز سے بولتے تھے کہ بسا اوقات پوچھنا پڑتا کہ آپ نے کیا کہا ہے؟
سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی آواز طبعاً بہت اونچی تھی تو وہ بہت پریشان ہوئے کہ میری تو آواز اونچی ہے، نہ چاہتے ہوئے آواز اونچی ہو جاتی ہے تو انہوں نے اپنی آواز کو پست کر لیا۔
سيدناعمر فاروق رضی اللہ عنہ اور ادب رسول ﷺ:
ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مسجد ِنَبوی میں دو شخصوں کی بلند آواز سنی تو آپ (ان کے پاس) تشریف لائے اور فرمایا: ’’کیا تم دونوں جانتے ہو کہ کہاں کھڑے ہو؟پھر ارشاد فرمایا:تم کس علاقے سے تعلق رکھتے ہو؟دونوں نے عرض کی: ہم طائف کے رہنے والے ہیں۔
ارشاد فرمایا: اگر تم مدینہ منورہ کے رہنے والے ہوتے تو میں (یہاں آواز بلند کرنے کی وجہ سے) تمہیں ضرور سزا دیتا (کیونکہ مدینہ منورہ میں رہنے والے رسالت ماب ﷺکے آداب سے خوب واقف ہیں)۔( ابن کثیر، الحجرات، تحت الآیۃ: ۲، ۷ / ۳۴۳)
مدینۃالمنورہ میں خوف و ہراس پھیلانے والوں کا انجام:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمان ہےکہ جس شخص نے از راہِ ظلم اہلِ مدینہ کو خوفزدہ کیا، اللہ اسے خوفزدہ کرےگا اور اس پر اللہ، اس کے فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔»[البدایہ والنہایہ، ج 8 ص 1147 ،نفیس اکیڈمی کراچی]
سیدنا امام مالک رحمہ اللہ اور ادب رسول ﷺ:
امام دارالہجرہ امام مالک رحمہ اللہ نے تیس سال مسجد نبوی میں درس حدیث دیا۔ کسی ایک دن بھی کتاب کے ورق پلٹنے تک کی آواز نہ آئی امام مالک رحمہ اللہ نے امت کو بتایا کہ مسجد نبوی کا کیا احترام ہے۔ اور آج جس طرح مسجد نبوی کا تقدس پامال کیا گیا،ان لوگوں کو کیا سمجھا جائے کیا یہ اخلاقیات اور دینی غیرت وحمیت سے اتنے گر چکے ہیں کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس اور آپ کی مسجد کا احترام بھی نہیں رہا۔اناللہ وانا الیہ راجعون
دینی طبقات کا مطالبہ
مسجد نبوی شریف کہ بے حرمتی پر ہر صاحب ایمان نادم ہے، اس شرمناک اقدام کی پوری دنیا میں مذمت اور اس پر غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔تمام مکاتب فکر کے جید علماء نے اس سانحے کی سخت سے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ملک بھر میں یوم حرمت مسجد نبوی منایا گیا۔علماء کرام اور خطباء نے جمعہ کے خطبات میں مسجد نبوی میں سیاسی نعرے لگانے والوں پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک سیاسی جماعت نے نفرت،اور اشتعال انگیزی کا روپ دھار لیا ہے۔اس لئےدینی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ اس جماعت کی اوچھی حرکتوں کا اعلی عدلیہ نوٹس لے اور سانحہ مسجد نبوی کے تمام ذمہ داران کو کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے۔ایسے گستاخان جن کو حرم پاک اور مسجد نبوی کے تقدس کا احساس نہیں اور وہ شرمناک حرکتوں سے گریز ہی نہیں کرتے،ایسے لوگوں پر تاحیات حجاز مقدس جانے پر پابندی لگائی جائے۔
