الحمد لله والصلاة والسلام على سيد الأنبياء إلى يوم الدين، أما بعد:
سنتِ نبویہ علی صاحبہا أفضل الصلاۃ والتسلیم کی خدمت ایک بہت بڑا سرمایہ افتخار ہے ۔ اسی عظمت کے باعث محدثین ِعظام نے فن حدیث کا کوئی بھی پہلو تشنہ نہیں چھوڑا ۔ سند ہویا متن ، اصطلاحات حدیث ہوں قبول حدیث ورد حدیث کے قواعد ہوں علم روایت حدیث ہو یا علم درایت حدیث ،علل ہوں یا تاریخ رجال الحدیث ہو ان کے احوال وواقعات ہوں ہر پہلو سے اہل حدیث علماء کرام نے خدمات سر انجام دی ہیں ۔ اہل علم نے دواوین سنت کی خدمت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ۔ ان دواوین میں سرفہرست صحاح ستہ کی کتب ہیں جن میں صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، سنن ابی داؤد ، سنن نسائی ، سنن الترمذی ، سنن ابن ماجہ شامل ہیں ۔ ان کتب کی محدثین نے مختلف طَرز سے جس میں سند ، متن ، اعراب ، تھذیب ، ترتیب ، شرح وتعلیق ،جمع واختصار الغرض ہر پہلو سے ان کتب پر کام کیا ۔ انہی پہلؤوں میں سے ایک پہلو صحاح ستہ کی متفق علیہ احادیث کو یکجا کرنا بھی شامل ہے ۔ یعنی جو حدیث کتب ستہ کی تمام کتب میں وارد ہوئی ہے ان احادیث کو جمع کرنے کا محدثین نے اہتمام کیا ۔ اس سلسلے میں جلیل القدر عظیم محدث جناب علامہ امام ابن اثیر رحمہ اللہ ( المتوفی 606ھ) بھی ہیں جنہوں نے اپنی کتاب ’’جامع الأصول في أحادیث الرسول‘‘ میں صحاح ستہ کی متفقہ روایات کو جمع کیا ۔ لیکن یہاں انہوں نے چھٹی کتاب ’’ سنن ابن ماجه ‘‘ کے بجائے ’’ مؤطا إمام مالك‘‘ کو شامل کیا۔ یعنی باقی پانچ کتب اور چھٹی مؤطا امام مالک ۔ کیونکہ متقدم علماء کرام کے ہاں مؤطا امام مالک صحاح ستہ میں شمار ہوتی تھی ۔سب سے پہلے جس محدث نے ابن ماجہ کو کتب صحاح ستہ میں شامل کیا وہ علامہ ابو الفضل محمد بن طاھر المقدسی ہیں جنہوں نے اپنی کتاب ’’ أطراف کتب الستة ‘‘ اور اپنی کتاب ’’ شروط الأئمة الستة‘‘ میں ابن ماجہ کومؤطا امام مالک کی جگہ صحاح ستہ میں شمار کیا ۔ اس کے بعد جن ائمہ نے اطراف ،رجال کتب حدیث اور شروط الائمہ پر کتب تالیف کیں انہوں نے ابن طاہر مقدسی کی ہی پیروی کی اور ابن ماجہ کو صحاح ستہ میں شمار کرتے رہے ۔
جیساکہ حافظ ابن عساکر نے اپنی کتاب ’’أطراف السنن الأربعة‘‘اور شیوخ ائمہ ستہ پر لکھی گئی اپنی کتاب ’’ المعجم المسند‘‘ میں محمد المقدسی کی پیروی کی اور ابن ماجہ کو کتب ستہ میں شمار کیا۔ ان کے بعد حافظ عبد الغنی مقدسی نے اپنی کتاب ’’الکمال في أسماء الرجال‘‘میں امام مزی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’ تحفة الأشراف ‘‘ اور ’’ تھذیب الکمال ‘‘ میں اور ان کے بعد حافظ امام ذہبی رحمہ اللہ اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی تالیفات میں یہی منہج اپنایا پھر ان کے بعد جتنے ائمہ بھی آئے وہ اسی نہج پر قائم رہے اور ابن ماجہ کو ہی چھٹی صحیح کتاب شمار کرتےرہے ۔
الغرض بعد ازاں جو بھی ائمہ حدیث تشریف لائے انہوں نے ابن ماجہ کوہی صحاح ستہ کی چھٹی کتاب شمار کیا اور یہی منہج اور موقف ایک لحاظ سے درست ہے جس پر اس وقت امت کا تقریبا ًاتفاق ہے ۔جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سنن ابن ماجہ کے کتب خمسہ پر زوائد کافی زیادہ ہیں بخلاف موطامالک کہ اس میں زوائد کی تعداد انتہائی کم ہے بلکہ بسا اوقات تو ان کے کتب خمسہ پر کوئی بھی زوائد نہیں ہوتے ۔ لہذا ان مرفوع روایات کے زوائد،ترتیب کی عمدگی ،احادیث کےبیان، متون کے اختصار کی عمدگی کے باعث ابن ماجہ کو چھٹی کتاب شمار کیا گیا ہے ۔
کتب ستہ کی متفق علیہ احادیث کے جمع کرنے کےنہج پر امام حافظ علامہ علاء الدین مغلطائی ( وفات 762ھ) نے بھی کام کیا ۔ جنہوں نے ’’الدر المنظوم من کلام مصطفی المعصوم ﷺ‘‘ کے نام سے کتاب تالیف فرمائی ۔ لیکن اس کتاب میں انہوں نے محض کتب ستہ کی احکام والی متفق علیہ احادیث کو یکجا کیا ہے ۔ دیگر موضوعات کی روایات سے تعرض نہیں کیا گیا۔
معاصر علماء کرام میں ڈاکٹر عواد الخلف نے اسی طرز پر ایک کتاب تحریر فرمائی جس کا نام ’’ صحیح الحفاظ مما اتفق علیه الأئمة الستة‘‘ لیکن اس کتاب میں انہوں نے جمع ِاحادیث کیلئے جو طریقہ کار اختیار کیاہے وہ محدثین کے ہاں معمول علیہ اور مألوف طریقہ نہیں ہے ۔ اس کی وضاحت مثال سے یوں ہے کہ اگر ایک حدیث ایک صحابی سے چار کتب میں وارد ہو اور اسی حدیث کا کوئی لفظ کسی اورصحابی سے دیگر دو کتابوں میں وارد ہواہو تو محدثین کے یہاں یہ حدیث اصحاب کتب ستہ کے نزدیک متفق علیہ حدیث شمار نہیں ہوتی بلکہ منہج محدثین کےمطابق یہ دو مختلف احادیث شمار ہوتی ہیں لیکن ڈاکٹر عواد نے ان کو ایک ہی حدیث شمار کرکے اسے کتب ستہ کی متفق علیہ روایت کا درجہ دیاہے۔
اسی سابقہ کام کو سامنے رکھتے ہوئے المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کی ٹیم نے اس طرز میں تشنہ پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے محسوس کیاکہ اس پہلو پر منہج محدثین کے عین مطابق ،اس کی رعایت اور لحاظ کرتے ہوئے ایسی کتاب ترتیب دی جائے ،جس میں کتب ستہ کی تمام متفق علیہ احادیث جمع کردی جائیں جس سے اس تشنہ پہلو کی تکمیل بھی ہوجائے ۔
الحمد للہ اللہ تعالیٰ کے احسان اور فضل سے المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ عربی زبان میں اس طرز کی منفرد تالیف کو تیار کرنے کی توفیق اللہ تعالیٰ نے عنایت فرمائی اور اس اعزا ز سے اللہ نے نوازا ،لہذا اللہ کے فضل سے ادارہ کا یہ کام مکمل ہوا ۔جس کانام ’’ اللآلي المضيئة فيما اتفق عليه أصحاب الكتب الستة‘‘ رکھا گیا۔
اس کتاب کو جس منہج پر ترتیب دیاگیا اور اس پہلو پر کیا خدمت انجام دی گئی اس کا ذکر کتاب کےمقدمے میں مدیر المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر شیخ عثمان صفد ر حفظہ اللہ جوکہ اس پروجیکٹ کے نگران بھی تھے۔ نےتفصیلاً بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہاں تحریر کیا جاتاہے ۔
1 اس کتاب میں صرف وہ متفق علیہ احادیث شامل کی گئی ہیں جو تمام کتب میں ایک ہی صحابی سے مروی ہیں ۔ یعنی تمام اصحاب کتب ستہ نے ایک ہی صحابی سے روایت کرکے اپنی کتاب میں درج کی ہیں ۔ اور اگر کہیں صحابی کا اختلاف آگیا اگرچہ لفظ ایک ہی ہو ۔ اس حدیث کو اصحاب کتب ستہ کے ہاں متفق علیہ حدیث شمار نہیں کیاگیا کیونکہ منہج محدثین کے مطابق یہ الگ الگ احادیث ہیں ۔
بطور مثال : ایک حدیث جوکہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں:
نَهَى رَسُول اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ
’’رسول اللہﷺ نے زندہ جانور کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔‘‘
یہ حدیث کتب ستہ میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سےمروی ہے الا امام ترمذی رحمہ اللہ نےاپنی کتاب سنن الترمذی میں یہ حدیث ابودرداء رضی اللہ عنہ کی روایت سے نقل کی ہے ۔ لہذامحدثین کے منہج اور اصول کے مطابق یہ دو حدیثیں ہوگئیں ۔ اس لیے اس حدیث کو یہاں درج نہیں کیا گیا ۔
2 احادیث کی موضوعاتی ترتیب صحیح مسلم کی ترتیب کے اعتبار سے رکھی گئی ہے۔ کیونکہ مضامین کی ترتیب کے لحاظ سے صحیح مسلم کی ترتیب سب سے عمدہ ترتیب ہے ۔
3کتاب میں حدیث کے الفاظ اور متن بخاری کا لیاگیاہے ۔ کیونکہ امام بخاری کی متون کی تحقیق نہایت دقیق اور محتاط ہے ۔
4سند کے بیان میں اختصار کو مد نظر رکھتےہوئے محض صحابی پر اکتفا کیاگیاہے ۔ اور اگر سیاق حدیث کا تقاضا ہوتو بسا اوقات صحابی کے بعد تابعی بھی ذکر کردیا جاتاہے ۔
اس کتاب کی ترتیب میں فؤاد عبدالباقی کی کتاب ’’ اللؤلؤ والمرجان‘‘ سے کافی استفادہ کیا گیاہے کیونکہ انہوں نے صحیحین کی متفق علیہ روایات پر کام کیاہے نیز اس کے ساتھ بعض مقامات پر ہم نے ان پر استدراک بھی کیاہے ۔ بالخصوص ان احادیث کے بارے میں جو ان سے اس کتاب میں ( بیان ہونا ) رہ گئی تھیں ۔
کتاب کے فوائد اور خصوصیات
اس کتاب میں وہ احادیث شامل ہیں جن کی تخریج پر ائمہ أعلام امام بخاری ، مسلم ، ابوداؤود ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ کا اتفاق ہے ۔ کیونکہ ہم تک منقول ذخیرہ احادیث نبویہ میں یہ سب سے صحیح ترین ذخیرہ ہے ۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ جو شخص دواوین کتب ستہ یاد کرنا چاہتاہے وہ سب سے پہلے وہ احادیث یاد کرنا شروع کرےجن پر تمام اصحاب کتب ستہ کا اتفاق ہے ۔ پھر اس کے بعد وہ احادیث یاد کرے جن پر بخاری مسلم کا اتفاق ہے پھر وہ روایات یاد کرے جن میں بخاری منفرد ہیں پھر وہ روایات یاد کرے جن میں امام مسلم منفرد ہیں پھر اس کے بعد وہ زیادات یاد کرے جو دیگر چار ائمہ حدیث نے صحیحین پر بیان کی ہیں یا ان میں سے کسی ایک پر ۔
کتاب مختصر ہے ،اس کا تداول، پڑھنا اور فائدہ اٹھانا اس کے نشر کا اہتمام کرنا بھی انتہائی آسان ہے۔
یہ کتاب تھذیب ٹی وی کے ڈائریکٹر جناب کامران ملک صاحب کے خصوصی تعاون سے پایہ تکمیل کو پہنچی ہے ۔ اس کی تیاری میں المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کی ٹیم جن میں الشیخ محمد سعداللہ خان ، شیخ احمد نصیر شیخ عبد اللہ نور حفظہم اللہ کا کلیدی کردار ہے جس کی سربراہی مدیر مرکز جناب الشیخ عثمان صفدر حفظہ اللہ کر رہےتھے ۔
یہ کتاب انتہائی مفید اور تشنگان علم نبوت کیلئے عظیم سرمایہ ہے ا س کو حاصل کریں ۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ بمع فوائد بھی تیارہوچکے ہیں جو بہت جلد ان شاء اللہ قارئین کے ہاتھوں میں ہوں گے ۔ والله ولي التوفيق
