دوسری بیٹی کو اسی کے والد گرامی نے ترغیب دلائی کہ وہ بھی پہلی بیٹی کی طرح مختصر بخاری شریف حفظ کرے اور بیٹی نے ہامی بھر کر آغاز کر دیا ۔ باپ بیٹی کا یہ مکالمہ پہلی یا دوسری صدی ہجری کی بات نہیں جب ایسے ذوق و شوق امت محمدیہ کے شب وروز کا حصہ ہوا کرتے تھے۔ یہ مکالمہ اس دور کا بھی نہیں ہے جب علوم اسلامیہ اجتماعی طور پر امت اسلامیہ کیلئے باعث افتخار اور علوم قرآن و سنت ان کا اوڑھنا بچھونا تھے بلکہ باپ بیٹی کی یہ گفتگو 21 ویں صدی اور 3 ستمبر2020 کی بات ہے۔ اپنی بیٹی کو صحیح بخاری حفظ کروانے کا ولولہ ایسی شخصیات میں ہی پیداہوسکتا ہے جن کو ان علوم اسلامیہ کی قدر ہو اور انہوں نے اپنے علم و عمل سے امت کی سنہری تاریخ سے ناطہ قائم رکھا ہو اب تو باپ کے ذہن میں زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کرائی جائے مگر ماضی قریب میں ایسا دوسری مرتبہ ہوا ہے کہ کسی لڑکی نے مختصر بخاری شریف حفظ کی ہو۔ یہ کارنامہ انجام دے کر اللہ کی کرم نوازی سے عہد ماضی کی یادیں تازہ کر دی گئیں ۔ BA سال اول کے پیپروں کے بعد کچھ دن فارغ تھے تو ان کے والد گرامی نے اسے مشورہ دیا کہ تم بھی اپنے اس وقت کو کارآمد بناؤ۔میری خواہش ہے کہ تم بھی اپنی بڑی بہن کی طرح مختصرصحیح بخاری حفظ کر لو باپ کی یہ خواہش بیٹی کیلئے ایک حکم کی حیثیت اختیار کر گئی اور سعادت مند بیٹی نے حفظ کا آغاز کیا اور اس کیلئے عصر تا مغرب و مغرب تا عشاء کا وقت خاص کر دیا ۔ شروعات میں 4۔5 حدیثیں یاد کر کے والد محترم کو سنایا کر تی تھی ۔ اور اسی طرح عصر کے بعد جب کھانا بناتی اس کے ساتھ ساتھ بھی حفظ کرتی رہتی ۔ ایک عزم تھا جسے مکمل کرنا تھا۔ ابتداء میں جب آغاز کیا تب مشکل تھی مگر اب جبکہ وہ الھدیٰ انٹرنیشنل کا کورس مکمل کر چکی تھی اور صحیح بخاری کا ترجمہ بھی آتا تھا تو پھر یاد کرنے میں آسانی ہوتی چلی گئی ۔ اور الحمد اللہ 25رمضان 1443 بمطابق 28 اپریل 2022 کو تکمیل ہوئی ۔ جس نسخے سے حفظ کیا وہ نسخہ دارالسلام کا طبع کردہ تھا۔صحیح بخاری حفظ کرنے والی اسی بیٹی نے 2019 اپریل میں ڈاکٹر فرحت ہاشمی صاحبہ سے سند فراغت حاصل کی۔مختصر بخاری کے ابواب، صحابی کا نام اور حدیث یاد کرکے دور حاضر کی لڑکیوں اور لڑکوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ اخلاص اور محنت سے مشکل سے مشکل کام کو بھی آسان بنایا جاسکتا ہے۔ اور دنیوی علوم میں آگے سے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ علوم حدیث میں بھی آگے بڑھنا چاہیے۔

جب انھوں نے حفظ بخاری کی تکمیل کرلی تو وہ بہت زیادہ خوش تھیں۔ ایک طرف تو انھوں نے کتاب اللہ کے بعد صحیح ترین مجموعہ احادیث کو اپنے ذہن میں سما لیا تھا اور دوسرا یہ کہ انھوں نے اپنے والد کے دیکھے ہوئے خواب کو شرمندہ تعبیر کرلیا تھا۔ ان کا عزم ہے کہ وہ ایم فل کریں۔ وہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیوی علوم کے حصول کو بھی ضروری سمجھتی ہیں۔ تاکہ دور حاضر کے فتنوں کو سمجھا جاسکے، زمانے کی رفتار کو جانچا جاسکے اور جدید علوم پر دسترس حاصل کرکے معاشرے کی اصلاح کی جائے۔ اتنی محنت اور حصول علم کے ساتھ ساتھ گھر کے تمام امور وہ خود ہی نبھاتی ہیں۔ اور ان کی والدہ ملکہ کا رول ادا کرتی ہیں۔

اس دوران انھوں نے امت کی خواتین کو پیغام بھی دیا ہے کہ مسلم خواتین اور لڑکیاں دنیوی علوم کے ساتھ ساتھ دینی علوم بھی حاصل کریں۔ کم ازکم قرآن مجید کا ترجمہ، بلوغ المرام اور مشکوٰۃ ضرور پڑھنی چاہیے اور گرائمر کی شدبد بھی ہونی چاہیے۔اس کے علاوہ سیرت النبیﷺ اور سیرت صحابہ و صحابیات رضوان اللہ علیھم اجمعین کا بھی مطالعہ کرنا چاہیے اور اسی طرح صبح و شام کے مسنون اذکار کا بھی اہتمام کرنا چاہیے تاکہ دنیاوی حسد و نظر و جادو ٹونے سے محفوظ رہا جاسکے اور اسی طرح موبائل انٹرنیٹ کو صرف ضرورت کے مطابق استعمال کریں اور دینی معلومات کیلئے کتب کا مطالعہ کیا جائے کتابوں سے بے نیاز ہوکر موبائل یا انٹرنیٹ کی معلومات سے علمی رسوخ ہرگز نہیں پیدا ہوسکتا۔اور جدید قسم کے فیشن میں روپیہ پیسہ صرف کرنے کے بجائے اسلامی کتب خریدنے کی عادت بنائیں اور ہر ماہ کم از کم دو نئی کتب خرید کر مطالعہ کیا جائے اور اپنی لائبریری کی زینت بھی بنایا جائے ۔اسی طرح جو لڑکیاں دینی علوم حاصل کرتی ہیں، انھیں دنیوی علوم بھی حاصل کرنے چاہئیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ لڑکیاں بھی آگے بڑھیں۔ کوئی بھی کام شروع میں مشکل ہوتا ہے مگر پرعزم ارادوں سے اسے آسان اور ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ میں اپنے جیسی لڑکیوں کو یہ پیغام ضرور دوں گی کہ جیسے کئی طالبات حفظ قرآن کی سعادت حاصل کرتی ہیں اسی طرح حفظ حدیث کی سعادت بھی حاصل کریں۔ اور یہ کوئی مشکل نہیں ہے۔ میٹرک کرنے کے لیے جس قدر محنت اور اہتمام کیا جاتا ہے اگر اس کا ایک تہائی حصہ محنت اور اہتمام حفظ بخاری شریف پر صرف کیا جائے تو 8سے 9 ماہ میں بہ آسانی یاد کی جاسکتی ہے۔ حفظ حدیث کی ترغیب دلانے کے لیے انھوں نے اپیل کی ہے کہ جس طرح لوگ ایک رات یا ایک دن کی مجلس و جلسہ کو کامیاب کرنے کے لیے عمرہ کی قرعہ اندازی کرانے کی ترغیب دلاتے ہیں اسی طرح اگر مخیر حضرات میں سے کوئی خوش نصیب حفظ بخاری پر عمرہ کرانے کا اعلان کردے تو ممکن ہے اس صالح ترغیب پر کئی طلباء وطالبات اس میدان میں اتر آئیں۔یہ سعادت مند لڑکی مرکزالدعوۃ السلفیہ ستیانہ بنگلہ (فیصل آباد) کے مایہ ناز استاد مولانا ابونعمان بشیراحمدحفظہ اللہ کی صاحبزادی ہیں۔

اللہ تعالیٰ ان کو مزید علم وعمل کی توفیق عطا فرمائے اور انہیں اپنے والدین کیلئے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین

By editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *