يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ ﴾ (النساء: ۱۷۱)
’’اے اہل کتاب ! اپنے دین میں حد سے نہ بڑھو ۔‘‘
یہودیوں نے سیدنا عزیرکی محبت میں اور عیسائیوں نے سیدنا مریم، سیدنا عیسیٰiاور بزرگوں کی عقیدت میں غلو کیا جس بنا پر وہ گمراہ قرار پائے۔ سرورِ دو عالم نے عقیدہ اور عقیدت کا فرق سمجھاتے ہوئے امت کو اس عقیدت اور محبت سے روک دیا ہے کہ جس سے آدمی شرک جیسے گناہ میں مبتلا ہو کر گمراہ ہو جائے۔
عَنْ عُمَرَ t قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِe لَا تُطْرُوْنِیْ كَمَا اَطْرَتِ النَّصَارَی ابْنَ مَرْیَمَ فَاِنَّمَا اَنَا عَبْدُهٗ فَقُوْلُوْا عَبْدُاللهِ وَرَسُوْلُهٗ (رواه البخاری: 3445)
’’سیدنا عمرt ذکر کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے فرمایا: ’’میری تعریف میں مبالغہ آرائی نہ کرنا‘ جس طرح عیسائیوں نے عیسٰی بن مریمu کی شان میں مبالغہ کیا ہے۔ میں ’’اللہ‘‘ کا بندہ ہوں لہٰذا مجھے اللہ کا بندہ اوراس کا رسول ہی سمجھنا۔ ‘‘
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍw قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ غَدَاةَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْقُطْ لِي حَصًى فَلَقَطْتُ لَهُ سَبْعَ حَصَيَاتٍ هُنَّ حَصَى الْخَذْفِ فَجَعَلَ يَنْفُضُهُنَّ فِي كَفِّهِ وَيَقُولُ أَمْثَالَ هَؤُلَاءِ فَارْمُوا ثُمَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ فَإِنَّهُ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ (سنن ابن ماجه[حسن])
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے جمرئہ عقبہ کی صبح اس وقت ارشاد فرمایا کہ جب آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے۔ مجھے فرمایا: میرے لیے کنکریاں چن کر لاؤ، میں نے آپ کو سات کنکریاں لاکر دیں۔ آپ نے انہیں اپنی ہتھیلی میں ہلاتے ہوئے فرمایا: ان جیسی کنکریاں مارو، پھر فرمایا: ’’لوگو ! دین میں غلو کرنے سے بچو کیو نکہ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کرنے کی وجہ سے ہلا ک ہوئے تھے۔‘‘
انسان کامادہ (Root)اُنس سے ہے، اس بنا پر لوگ ایک دوسرے سے محبّت کرتے ہیں اور کرنی چاہیے۔ دینِ اسلام انسانی فطرت کا ترجمان ہے۔ اس نے جائز محبت کرنے سے منع نہیں کیا، مطالبہ صرف یہ ہے کہ کسی کی محبّت میں حد سے نہیں بڑھنا چاہیے ۔ البتہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دنیا وما فیہا سے بڑھ کر محبت کرنی ہے۔ مگر نبی کریم، اہلِ بیت، صحابہ کرام ، علماء اور نیک لوگوں کی محبت ’’اللہ‘‘کی محبت کے تابع ہونی چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کو تمام عقیدتوں اور محبتوں میں سب سے پہلے رکھا ہے۔
﴿ قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَاَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِيْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ ا۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ ﴾ (التوبة: ۲۴)
’’فرمادیںاگرتمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارے خاندان اور اموال جو تم کماتے ہو، تجارت جس کے گھاٹے سے تم ڈرتے ہو اور مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو،اگر تمہیں ’’اللہ‘‘ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ عزیز ہیں توانتظار کرو، یہاں تک کہ ’’اللہ‘‘ اپنا حکم لے آئے کیونکہ ’’اللہ ‘‘نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘
نبی کریمe نے اسی بنا پر اپنی محبّت کی بجائے ’’اللہ‘‘ کی محبّت کو مرکز اور معیار قرار دیا ہے۔
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے فرمایا
: أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ الْحُبُّ فِي اللهِ، وَالْبُغْضُ فِي اللهِ
’’اللہ ‘‘کے لیے محبت کرنا اور ’’اللہ ‘‘کے لیے کسی سے ناراض ہونا افضل ترین عمل ہے۔‘‘ (سنن أبی داود[حسن])
سیدنا ابوالدرداء کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے فرمایا سیدنا داود کی دعاؤں میں ایک دعا یہ بھی تھی:
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَالعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَأَهْلِي، وَمِنَ المَاءِ البَارِدِ. قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللهِ إِذَا ذَكَرَ دَاوُدَ يُحَدِّثُ عَنْهُ قَالَ كَانَ أَعْبَدَ البَشَرِ (سنن الترمذی: أبواب الدعوات[حسن])
’’اے اللہ ! میں تجھ سے تیری محبت چاہتا ہوں اور اس کی محبت بھی چاہتا ہوں جو تجھ سے محبت کرتاہے، اور ایسے عمل کی توفیق مانگتا ہوں جس سے مجھے تیری محبت نصیب ہو جائے۔ اے اللہ! اپنی محبت کو میرے لیے میری جان، میرے اہلِ خانہ اور ٹھنڈے مشروب کی چاہت سے بھی زیادہ کر دے۔‘‘ اللہ کے رسولe نے یہ بھی فرمایا: ’’داؤدu تمام لوگوں سے زیادہ عبادت کرنے والے تھے۔ ‘‘
شرک اور غلو کرنے والا خالقِ کائنات کی محبت سے بڑھ کر دوسروں سے محبت اور تعلق رکھتا ہے، حالانکہ سب سے زیادہ محبت اللہ اور اس کے رسولe کے ساتھ ہونی چاہیے۔باقی تمام محبتیں اس محبت کے تابع ہوناضروری ہیں۔ لیکن مشرک ’’اللہ‘‘ کی ذات اور اس کی محبت کے مقابلے میں دوسروں کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کے برعکس سچے اور سمجھدار مسلمان کادل اللہ اور اس کے رسولe کی محبت سے اس طرح لبریز ہوتا ہے کہ وہ اس کے مقابلے میں دنیا کی کسی چیز کو ترجیح نہیں دیتا۔ اس محبت کے لیے نبی کریمe دعا کیا کرتے تھے:
اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الخَيْرَاتِ وَتَرْكَ المُنْكَرَاتِ وَحُبَّ المَسَاكِينِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِي قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ وَأَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُ إِلَى حُبِّك (رواه الترمذي، باب ومن سورة صٓ[صحیح])
’’اے اللہ! میں تجھ سے نیک اعمال کرنے کی توفیق، بُرے اعمال سے بچنے کی ہمت اور مساکین سے محبت کرنے کی التجاء کرتا ہوں، الٰہی!مجھے معاف کردے اور مجھ پر رحم فرما، جب قوم پر کوئی آزمائش آئے تو مجھے اس آزمائش سے پہلے فوت کر لینا، اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت مانگتاہوں اور اس کی محبت بھی چاہتا ہوں جو تجھ سے محبت کرتاہے، اور ایسے عمل کی توفیق چاہتا ہوں جس سے مجھے تیری محبت نصیب ہو جائے۔‘‘(یہاں آزمائش سے مراد عذاب ہے۔)
سیدنا ابو ہریرہاللہ کے رسول کا فرمان نقل کرتے ہیں:
سَبْعَةٌ یُظِلُّهُمُ اللهُ فِیْ ظِلِّهٖ یَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّهُ۔۔ وَرَجُلَانِ تَحَآبَّا فِی اللهِ اجْتَمَعَا عَلَیْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَیْهِ……
’’قیامت کے دن ’’اللہ ‘‘سات آدمیوںکو اپنے عرش کا سایہ نصیب فرمائیں گے ، اس دن کوئی چیز سایہ فگن نہیں ہو گی۔ …ان میں دو آدمی وہ ہونگے جو آپس میں ’’اللہ ‘‘کے لیے محبت کرتے ہیں اور اسی بنا پر ایک دوسرے سے ملتے اور الگ ہوتے ہیں۔‘‘(رواه البخاري: 660)
قرآن مجید کے ارشاد اور حدیث مبارکہ کی روشنی میں یہ بات واضح ہوئی کہ سچی اور حقیقی محبّت کا معیار اور مدار ’’اللہ‘‘ کی محبت ہے۔ اس کے باوجود بے شمار لوگ ایسے ہیں جو اپنے معبودوں اور بزرگوں سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی اللہ تعالیٰ سے محبت کرنی چاہیے۔
﴿ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَهُمْ۠ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَلَوْ يَرَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْيَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِيْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعَذَابِ﴾ (البقرۃ: ۱۶۵)
’’ بعض لوگ ایسے ہیں جو دوسروں کو ’’اللہ‘‘ کا شریک بنا کر ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی ’’اللہ ‘‘سے محبت کرنی چاہیے جبکہ ایمان والے ’’اللہ ‘‘ کی محبت میں بہت آگے ہوتے ہیں۔ کاش کہ مشرک لوگ وہ کچھ دیکھ لیں جو وہ عذاب کے وقت دیکھیں گے کہ تمام قوت ’’اللہ‘‘ ہی کے پاس ہے اور ’’اللہ‘‘ سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘
یہ حقیقت ذہن میں رہے کہ محبت ایک فطری جذبہ ہے جو ہر انسان اور ہر جاندار میں پایا جاتاہے۔ حکم یہ ہے کہ تم اپنے ’’رب‘‘ اور اس کے فرمودات سے سب سے زیادہ محبت کرو ۔
تم کسی کے احسان کی وجہ سے محبت کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہارا سب سے بڑا محسن ہے، کسی سے قرابت داری کی وجہ سے محبت کرتے ہو تو وہ سب سے بڑھ کر تمہارے قریب ہے، تم کسی سے اس کے جمال وکمال کی وجہ سے محبت کرتے ہو تو کائنات کا سارے کا سار اجمال و کمال اسی کا دیا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ اجمل اور اکمل ہے، کسی کے اقتدار اور اختیار کی بناپر تعلق جوڑتے ہو تو اس سے بڑھ کر کسی کے پاس اختیار اوراقتدار نہیں۔ غرضیکہ کسی سے سچی محبت کرنے کے جو بھی محرکات اوراسباب ہو سکتے ہیں ان سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، پھر سب سے زیادہ محبت اسی کے ساتھ کیوں نہ کی جائے؟
اللہ تعالیٰ کی محبت کے ساتھ اس کے رسول سیدنا محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ eکے ساتھ ساری مخلوق سے بڑھ کر محبت ہونی چاہیے تب جا کر آدمی کا ایمان مکمل ہوتا ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا:
لَا یُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتّٰی أَكُوْنَ أَحَبَّ إِلَیْهِ مِنْ وَّالِدِهٖ وَوَلَدِهٖ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ.
’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتاجب تک میں اسے اس کے والدین، اُس کی اولا د اور تمام لوگوں سے بڑھ کر عزیز تر نہ ہو جائوں۔ ‘‘ (صحیح البخاري)
نبی کریمe کے فرمان کی لطافت اور ذہانت پر غور فرمائیں، آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ میرے ساتھ اللہ تعالیٰ سے زیادہ یا اس کی محبّت جیسی محبّت کرو۔ بلکہ یہ فرمایا ہے کہ میرے ساتھ اپنے والدین، اپنی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کریہاں تک کہ اپنی جان سے بھی زیادہ محبّت کرو۔ بالفاظِ دیگر خالق سے زیادہ نہیں بلکہ پوری مخلوق سے بڑھ کرمیرے ساتھ محبت کرو۔
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللهِ لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا مِنْ نَفْسِي فَقَالَ النَّبِيُّ لاَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ فَإِنَّهُ الآنَ وَاللهِ لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي فَقَالَ النَّبِيُّ الآنَ يَا عُمَرُ (صحیح البخاري)
’’سیدنا عبداللہ بن ہشام بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریمe کے ساتھ تھے اور آپ نے عمر بن خطاب کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی اللہ کے رسول آپ مجھے میری جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں۔ آپe نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس وقت تک تمہارا ایمان کامل نہیں ہو سکتا جب تک تم مجھے اپنی جان سے زیادہ محبوب نہ سمجھو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی اللہ کی قسم اب آپ میری جان سے بھی زیادہ مجھے عزیز ہو چکے ہیں۔ فرمایا: ’’اے عمر اب تیرا ایمان مکمل ہوا ہے۔‘‘ لیکن اکثر لوگوں نے بالخصوص مذہب کے دعوے داروں کی غالب اکثریت نے انبیاء اور بزرگوں کی محبّت میں اس حد تک غلو اختیار کر رکھا ہے کہ انبیاء کرام کو ’’رب‘‘ کا درجہ دے دیا ہے اور بزرگوں کو انبیاء کے برابر کر رکھا ہے۔
