بَاب غَسْلِ الْمَرْأَةِ أَبَاهَا الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ

عورت کا اپنے والد کے چہرہ سے خون کو دھونے کا بیان

33-243- حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَامٍ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ وَسَأَلَهُ النَّاسُ وَمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ أَحَدٌ بِأَيِّ شَيْءٍ دُووِيَ جُرْحُ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَقِيَ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي كَانَ عَلِيٌّ يَجِيءُ بِتُرْسِهِ فِيهِ مَاءٌ وَفَاطِمَةُ تَغْسِلُ عَنْ وَجْهِهِ الدَّمَ فَأُخِذَ حَصِيرٌ فَأُحْرِقَ فَحُشِيَ بِهِ جُرْحُهُ

محمد، سفیان بن عیینہ، ابوحازم سے روایت ہے کہ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لوگوں نے پوچھا تھا (اور میں بھی وہاں موجود سن رہا تھا) نبی کریم ﷺ کے زخم پر کون سی دوا استعمال کی گئی تھی؟ انھوں نے فرمایا: اس کے متعلق مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی شخص نہیں رہا۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ اپنی ڈھال میں پانی لاتے تھے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے چہرہ مبارک سے خون دھوتی تھیں۔ پھر ایک بوریا لایا گیا اور اسے جلانے کے بعد اس کی راکھ کو آپ کے زخم میں بھر دیا گیا۔

Narrated Abu Hazim: Sahl bin Sa›d As-Sa›idi, was asked by the people, «With what was the wound of the Prophet treated? Sahl replied, «None remains among the people living who knows that better than I. ‘Ah used to bring water in his shield and Fatima used to wash the blood off his face. Then straw mat was burnt and the wound was filled with it.»

وروي بسد آخرحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلٍ قَالَ لَمَّا كُسِرَتْ بَيْضَةُ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِهِ وَأُدْمِيَ وَجْهُهُ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ وَكَانَ عَلِيٌّ يَخْتَلِفُ بِالْمَاءِ فِي الْمِجَنِّ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَغْسِلُهُ فَلَمَّا رَأَتِ الدَّمَ يَزِيدُ عَلَى الْمَاءِ كَثْرَةً عَمَدَتْ إِلَى حَصِيرٍ فَأَحْرَقَتْهَا وَأَلْصَقَتْهَا عَلَى جُرْحِهِ فَرَقَأَ الدَّمُ ( رقمه : 2903 )
وروي بسد آخر حَدَّثَنَا عَبْدُاللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلٍ رَضِي الله عَنْه أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ جُرْحِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ جُرِحَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ به ( رقمه : 2911 )
وروي بسد آخرحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِاللهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ قَالَ سَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ رَضِي الله عَنْه بِأَيِّ شَيْءٍ دُووِيَ جُرْحُ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي كَانَ عَلِيٌّ يَجِيءُ بِالْمَاءِ فِي تُرْسِهِ وَكَانَتْ يَعْنِي فَاطِمَةَ تَغْسِلُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَأُخِذَ حَصِيرٌ فَأُحْرِقَ ثُمَّ حُشِيَ بِهِ جُرْحُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ( رقمه : 3037 )
وروي بسد آخر حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ وَهُوَ يُسْأَلُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَا وَاللهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مَنْ كَانَ يَغْسِلُ جُرْحَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ يَسْكُبُ الْمَاءَ وَبِمَا دُووِيَ قَالَ كَانَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغْسِلُهُ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ يَسْكُبُ الْمَاءَ بِالْمِجَنِّ فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ أَنَّ الْمَاءَ لَا يَزِيدُ الدَّمَ إِلَّا كَثْرَةً أَخَذَتْ قِطْعَةً مِنْ حَصِيرٍ فَأَحْرَقَتْهَا وَأَلْصَقَتْهَا فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَئِذٍ وَجُرِحَ وَجْهُهُ وَكُسِرَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ ( رقمه : 4075 )
وروي بسد آخرحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ اخْتَلَفَ النَّاسُ بِأَيِّ شَيْءٍ دُووِيَ جُرْحُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَسَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ وَكَانَ مِنْ آخِرِ مَنْ بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ فَقَالَ وَمَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي كَانَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام تَغْسِلُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَعَلِيٌّ يَأْتِي بِالْمَاءِ عَلَى تُرْسِهِ فَأُخِذَ حَصِيرٌ فَحُرِّقَ فَحُشِيَ بِهِ جُرْحُهُ (رقمه : 5248 )
وروي بسد آخر حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ لَمَّا كُسِرَتْ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْضَةُ وَأُدْمِيَ وَجْهُهُ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ وَكَانَ عَلِيٌّ يَخْتَلِفُ بِالْمَاءِ فِي الْمِجَنِّ وَجَاءَتْ فَاطِمَةُ تَغْسِلُ عَنْ وَجْهِهِ الدَّمَ فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام الدَّمَ يَزِيدُ عَلَى الْمَاءِ كَثْرَةً عَمَدَتْ إِلَى حَصِيرٍ فَأَحْرَقَتْهَا وَأَلْصَقَتْهَا عَلَى جُرْحِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَقَأَ الدَّمُ ( رقمه : 5722 )

            معانی الکلمات

دُووِيَدوا دی گئی
مَا بَقِيَنہیں باقی بچا
جُرْحُزخم
يَجِيءُوہ ایک مرد آیا
تُرْسڈھال
الدَّمَخون
حَصِيرٌچٹائی،بوریا
فَأُحْرِقَجلائی گئی
حُشِيَبھری گئی
تراجم الرواۃ

1نام ونسب: محمد بن سلام بن الفرح السلمي البخاري

کنیت: أبو عبد اللہ ، البیکندي

محدثین کے ہاں مقام ورتبہ: امام ابن حجر کے ہاں ثقہ اور ثبت تھےجبکہ امام ذہبی رحمہ اللہ کے ہاں الحافظ تھے۔

وفات

: 227 ہجری میں ہوئی۔

2نام ونسب: سفیان بن عیینة بن أبي عمران میمون الهلالي الکوفی ثم المكي

کنیت: أبو محمد الکوفی

ولادت: 107

ہجری کوفہ میں ہوئی۔

محدثین کے ہاں مقام ورتبہ:  امام ابن حجر فرماتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ ثقہ ،حافظ، امام، حجہ تھے مگر آخری عمر میں حافظہ کمزوری ہوگیا تھا۔ بعض ثقہ راویوں سے تدلیس بھی پائی جاتی ہے۔ امام ذہبی رحمہ اللہ کے ہاں ثقہ، ثبت، حافظ اور امام تھے۔

وفات :

  198 ہجری مکہ مکرمہ میں ہوئی۔

3نام ونسب:  أبو حازم سلمة بن دینار المدنی المخزومی

کنیت:

أبو حازم الأعرج التمار المدني

محدثین کے ہاں مقام ورتبہ: امام ابن حجر کے ہاں ثقہ، عابد ہیں ۔

امام ذہبی رحمہ اللہ کے ہاں امام جبکہ امام خزیمہ کے ہاں ثقہ تھے۔

وفات:

140 ہجری میں ہوئی۔

4نام ونسب:  سهل بن سعد بن سعد بن مالك بن خالد الانصاری الخزرجی الساعدی ،آپ رضی اللہ عنہ کے والد بھی صحابی تھے۔

کنیت:

أبو یحییٰ المدنی

وفات : 91 ہجری مدینہ منورہ میں سب سے آخری وفات پانے والے صحابی ہیں۔

 تشریح

 رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک پر غزوہ احد کے وقت زخم لگا تھا۔ جب پانی ڈالنے سے خون بند نہ ہوا تو ایک پرانا بوریا جلا کر اس کی راکھ زخم میں بھر دی گئی۔ یہ راکھ اپنے اندر یہ خصوصیت رکھتی ہے کہ اس سے خون فوراً بند ہوجاتاہے۔

 سیدناسہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس وقت مجھ سے زیادہ حدیث کا علم جاننے والاکوئی نہیںتھا، کیونکہ یہ واقعہ غزوہ احد کے موقع پر پیش آیا اور جب سیدناسہل نے یہ حدیث بیان کی تو اس وقت اس واقعے پر اسی سال سے زائد عرصہ بیت چکا تھا اور سیدناسہل مدینے میں سب سے آخری وفات پانے والے صحابی ہیں۔ انھوں نے 91 ہجری میں وفات پائی۔ جبکہ ان کی عمر سوسال ہوچکی تھی۔ (فتح الباري:462/1)

علامہ ابن بطال نے اس حدیث سے مندرجہ ذیل فوائد کا استخراج کیا ہے:

 عورت اپنے باپ اور دیگر محارم کی خدمت اور تیمارداری کے پیش نظر ان کا بدن چھوسکتی ہے۔ دوا اور علاج کا جواز معلوم ہوتا ہے اور ایسا کرنا توکل کے منافی نہیں۔

 علاج معالجے میں دوسروں سے مدد لینے کا جواز ثابت ہونا ہے۔ بوریا جلاکر اس کی راکھ زخموں پر لگانے کی افادیت معلوم ہوئی۔ مصائب وآلام میں انبیاء کراہم علیہم السلام کو بھی مبتلا کیا جاتارہا ہے۔ لوگ اگرکسی چیز سے واقف نہ ہوں تو اہل علم سے استفسار کاحق رکھتے ہیں۔ (شرح ابن بطال:362/1 وعمدة القاري:689/2)  عنوان میں (عَن وَجهِه) کا اضافہ صرف مطابقت واقعہ کی رعایت سے کیا گیا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے دست مبارک سے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک دھورہی تھیں۔ یہ مطلب نہیں کہ اگر چہرے کے علاوہ بدن کے کسی اور حصے کو ہاتھ لگائے تو اس کا الگ حکم ہوگا۔ ’’اگرسیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ کا زخم دھویا تو یہ تاریخ کا بڑا اہم واقعہ ہے۔ دنیا کی تمام خواتین کے لیے اورلڑکیوں کے لیے یہ ایک اسوہ ہے۔ اس حوالے سے امام صاحب یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اعضائے وضو پر زخم وغیرہ کی صورت میں وضو میں کسی دوسرے سے مدد لی جاسکتی ہے۔‘‘

By editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *