یہ کتاب ايمان کا حصہ ہے
ارشاد باری تعالی ہے :
وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ وَبِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ
اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف (قرآن کریم)اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا اور وہ آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں ۔ ( البقرة :4)
حديث جبرائيل
فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ، قَالَ: «أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ»
اس نے کہا : مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے ۔ آپ نے فرمایا : یہ کہ تم اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور آخری دن ( یوم قیامت ) پر ایمان رکھو اور اچھی اور بری تقدیر پر بھی ایمان لاؤ ۔(صحیح مسلم، حدیث: 93)
یہ اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے :
سورۃ الحاقة میں ارشاد باری تعالی ہے کہ
اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ وَّ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ تَنْزِيْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ
بيشک يہ ( قرآن ) بزرگ رسول (ﷺ) کا قول ہے ۔ یہ کسی شاعر کا قول نہیں ( افسوس ) تم بہت کم ايمان لاتے ہو ۔ اور نہ کسی کاہن کا قول ہے ( افسوس ) بہت کم نصیحت لے رہے ہو ۔ ( یہ تو ) رب العالمین کا اُتارا ہوا ہے۔(الحاقۃ:40تا 43)
یہ دنیا میں سب سے افضل واعلی کتاب ہے
الحمد للہ تعالی اس کتاب کو وہ شرف حاصل ہے کہ یہ دنیاوی و آسمانی تمام تر کتابوں سے افضل ترین کتاب ہے باقی تمام کتابیں ایک خاص وقت میں الگ الگ قوموں اور قبیلوں کے لیے نازل ہوئيں مگر یہ وہ کتاب ہے جس میں مکمل ضابطہ حیات کو رکھ دیا گیا ہے اور تمام کے تمام احکامات کو ذکر کیا گیا ہے کہ اس کے بعد کسی بھی ضابطے کی ضرورت ہی نہیں رہی اب اگر قیامت تک کوئی کامل واکمل کتاب ہے تو وہ قرآن مجید ہی ہے۔
اللہ ہی اس کا محافظ ہے
اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (الحجر :9)
ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔
اس کو لانے والا معزز فرشتہ ہے
اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ ذِيْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِيْنٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِيْنٍ ( التكویر: 19 تا 21)
یقیناً یہ ایک بزرگ رسول کا کہا ہوا ہے ۔ جو قوت والا ہے عرش والے ( اللہ ) کے نزدیک بلند مرتبہ ہے ۔ جس کی ( آسمانوں میں ) اطاعت کی جاتی ہے امین ہے ۔
یہ شب قدر (ليلة القدر ) میں اتاری گئی ہے
سورة القدر میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ :
اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ سَلٰمٌ هِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ (سورة القدر)
یقیناً ہم نے اسے شب قدر میں نازل فرمایا ۔ تو کیا سمجھا کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔ اس ( میں ہر کام ) کے سر انجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح ( جبرائیل) اترتے ہیں ۔ یہ رات سراسرسلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک ( رہتی ہے ) ۔
یعنی یہ ایسی کتاب ہے جسے اتنی بابرکت اور رحمتوں والی رات (شب قدر )میں نازل کیا گیا وہ رات جو ایک ھزار مہینوں یعنی (83 سال ) کی عبادت سے بہترہے ۔
یہ باطل کو شکست دینے والی کتاب ہے
یقیناًیہ وہ عظیم کتاب ہے جس کے سامنے دنیا عاجز ہے۔ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے۔
وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا
اور اعلان کر دے کہ حق آچکا اور ناحق نابود ہوگیا ۔ یقیناً باطل تھا بھی نابود ہونے والا ۔(الاسراء:81)
حديث ميں ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب نبی کریم ﷺخانہ کعبہ میں داخل ہوئے تو وہاں تین سو ساٹھ بت تھے آپ ﷺکے ہاتھ میں چھڑی تھی اور آپ چھڑی کی نوک سے ان بتوں کو مارتے جاتے اور (جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ) پڑھتے جاتے ۔
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا ، فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ فِي يَدِهِ ، وَجَعَلَ يَقُولُ : {جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ}
نبي کریم ﷺ( فتح مکہ دن جب ) مکہ میں داخل ہوئے تو خانہ کعبہ کے چاروں طرف تین سو ساٹھ بت تھے۔ آپ ﷺکے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان بتوں پر مارنے لگے اور فرمانے لگے کہ ’’حق آ گیا اور باطل مٹ گیا۔ (صحيح بخاری تفسیر سورة بنی اسرائيل وکتاب المظالم ، حدیث:2478 )
اور صحيح مسلم میں بھی کچھ اس طرح الفاظ وارد ہوئےہیں :
عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا، فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ كَانَ بِيَدِهِ، وَيَقُولُ: {جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا} [الإسراء: 81] {جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ} [سبأ: 49]، زَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: يَوْمَ الْفَتْحِ۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو کعبہ کے گرد تین سو ساٹھ بت تھے ۔ آپ ﷺ ہر ایک کو اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی لکڑی سے کچوکا دے کر گرانے لگے اور یہ فرمانے لگے حق آ گیا اور باطل مٹ گیا ، بلاشبہ باطل مٹنے والا ہے ۔ حق آ گیا اور باطل نہ آغاز کرتا ہے اور نہ لوٹاتا ہے ( بلکہ دونوں اللہ عزوجل جلالہ کے کام ہیں ۔ ) ابن ابی عمر نے اضافہ کیا: فتح مکہ کے دن ۔ (مسلم ،الجهاد باب إزالة الاصنام من حول الكعبة )
یہ تمام تر جسمانی اور روحانی امراض کا علاج ہے
اللہ رب العالمین کا فرمان ہے کہ :
وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ١ۙ وَ لَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا
یہ قرآن جو ہم نازل کر رہے ہیں مومنوں کے لئے تو سراسر شفا اور رحمت ہے ۔ ہاں ظالموں کو بجز نقصان کے اور کوئی زیادتی نہیں ہوتی ۔ (الإسراء:82)
غم زخم ہوتے ہیں، لوگوں کی باتیں زخم ہوتی ہیں ،محرومیاں زخم ہوتی ہیں،گناہ زخم ہوتے ہیں مایوسی زخم ہوتی ہے۔ان سب زخموں کا علاج اس کتاب میں موجود ہے۔ یہ آسمانی علاج ہے،یہ اللہ پاک کی طرف سے شفاء لما في الصدور ہے ۔
اس کو چھوڑ کر کہاں سے شفاء ملے گی،
کہاں سے سکون ملے گا…!
اس کو تھام لیں الله ﷻ آپکو تھام لےگا!۔ ان شاء الله
کلام اللہ رحمت ہے
وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ (النمل:77)
اور یہ قرآن ایمان والوں کے لئے یقیناً ہدایت اور رحمت ہے ۔
يقیناً یہ کتاب قرآن حکیم مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا ذریعہ ہے ۔ ویسے تو یہ سارے جہان والوں کے لیے ہدایت ورحمت کا ذریعہ ہے لیکن چونکہ اس سے فیض یاب صرف اہل ایمان ہی ہوتے ہیں اس لیے یہاں صرف انہیں کے لیے اسے ہدایت اور رحمت قرار دیا گیا ہے ۔
عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ يَقْرَأُ سُورَةَ الْكَهْفِ، وَإِلَى جَانِبِهِ حِصَانٌ مَرْبُوطٌ بِشَطَنَيْنِ ، فَتَغَشَّتْهُ سَحَابَةٌ ، فَجَعَلَتْ تَدْنُو وَتَدْنُو ، وَجَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ فَلَمَّا أَصْبَحَ ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ تِلْكَ السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ بِالْقُرْآنِ . ( صحيح البخاری، فضائل القرآن، باب فضل الكهف ،حديث: 5011، ومسلم، صلاة المسافرين وقصرها ، باب نزول السكينة لقراءة القرآن، حديث:795)
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی ( سیدنا اسید بن حضیر ) سورۃ الکہف پڑھ رہے تھے۔ ان کے ایک طرف ایک گھوڑا دو رسوں سے بندھا ہوا تھا۔ اس وقت ایک بادل( ابر )اوپر سے آیا اور نزدیک سے نزدیک تر ہونے لگا۔ ان کا گھوڑا اس کی وجہ سے بدکنے لگا۔ پھر صبح کے وقت وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ( ابر کا ٹکڑا ) سكينة تھا جو قرآن کی تلاوت کی وجہ سے (اللہ کی خاص رحمت تیرے اطمينان دل کے لیے ) اترا تھا۔
بے حد درجہ تاثیر کن کتاب ہے
یقیناً اس کتاب میں بے انتہا تاثیر پائی جاتی ہے اگر اسےپہاڑوں پر نازل کیا جاتا تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہو جاتے اس قرآن کی تاثیر و عظمت کی وجہ سے ۔
فرمان باری تعالی ہے کہ :
لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَيْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ
اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو ، تو دیکھتا کہ خوف الٰہی سے وہ پست ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں ۔ (الحشر :21)
یعنی قرآن کریم میں ہم نے بلاغت وفصاحت ،قوت استدلال اور وعظ تذکير کے ایسے پہلو بیان کیے ہیں کہ انہیں سن کر پہاڑ بھی باوجود اتنی سختی اور وسعت وبلندی کے خوف الٰہی سے ریزہ ریزہ ہو جاتے ۔ یہ انسان کو سمجھایا اور ڈرایا جا رہا ہے کہ تجھے عقل وفہم کی صلاحيتوں سے نوازا گیا ہے ۔ لیکن اگر قرآن سن کر تیرا دل کوئی اثر قبول نہیں کرتا تو تیرا انجام اچھا نہیں بلکہ انتہائی برا ہوگا( والعیاذ باللہ )
جيساکہ اللہ تعالی نے فرمایا :
وَاِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْيُنَهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ١ۚ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ (المائدۃ: 83)
اور جب وہ رسول کی طرف نازل کردہ ( کلام ) کو سنتے ہیں تو آپ ان کی آنکھیں آنسو سے بہتی ہوئی دیکھتے ہیں اس سبب سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا ، وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے پس تو ہم کو بھی ان لوگوں کے ساتھ لکھ لے جو تصدیق کرتے ہیں ۔
یقیناً اتنی تاثیر کہ کافر بھی سنتے ہیں تو آنکھوں سے آنسو نکل آتے ہیں۔
حبشہ میں اصحمہ نجاشی کی حکومت تھی اور عیسائیت مملکت تھی ۔ نبی اکرم ﷺ نے سیدناعمروبن ضمری رضی اللہ عنہ کو اپنا مکتوب دے کر نجاشی کی طرف بھیجا تھا جو آپ نے اسے جاکر سنایا نجاشی نے وہ مکتوب سن کر حبشہ میں موجود مہاجرین اور سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس بلایا اور اپنے علماء وعباد اور زہاد کو بھی جمع کیا اور پھرسیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کو قرآن پڑھنے کا کہا ۔ آپ نے سورۃ مریم پڑھی جسے سن کر وہ بڑے متاثر ہوئے اور آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے اور ایمان لے آئے۔ (فتح القدير )
اور بھی متعدد مقامات پر ایسی پُر اثر آیات و احادیث آتی ہیں جیساکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں :
وَاِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَمَاۤاُنْزِلَ اِلَيْهِمْ خٰشِعِيْنَ لِلّٰهِ
یقیناً اہلِ کتاب میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالٰی پر ایمان لاتے ہیں اور تمہاری طرف جو اُتارا گیا ہے اور ان کی جانب جو نازل ہوا اس پر بھی ، اللہ تعالٰی سے ڈرتے ہیں ۔( آل عمران :199 )
اس کی حلاوت شہد سے بھی زیادہ ہے
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما حدیث بیان کیا کرتے تھے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : میں نے آج رات خواب میں چھتری کی طرح ( سر پر سایہ فگن ) ایک بدلی کو دیکھا جس سے گھی اور شہد ٹپکا رہا ہے اور لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے اس سے چلو بھر رہے ہیں ، کچھ زیادہ لینے والے ہیں اور کچھ کم لینے والے ہیں۔
سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ! اللہ کی قسم ! آپ مجھے اجازت دیں تو میں اس کی تعبیر بتاؤں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم اس کی تعبیر بتاؤ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : چھتری ، اسلام کی چھتری ہے اور جو گھی اور شہد ٹپک رہا ہے، وہ قرآن ہے ، اس کی مٹھاس اور اس کی نرمی ہے اور جو اس سے اپنے چلو بھر رہے ہیں وہ قرآن میں سے زیادہ یا کم حصہ لینے والے لوگ ہیں ، اور آسمان سے زمین تک پہنچنے والی رسی وہ حق ہے جس پر آپ قائم ہیں ، آپ نے اسے تھاما ہوا ہے ، پس اللہ تعالیٰ آپ کو اس کے ذریعے سے مزید اوپر لے جائے گا ۔(صحیح مسلم :5928 )
افضل ترين نعمت قرآن کریم ہے
اللہ تعالی نے اس ( اشرف المخلوقات ) انسان کو لاتعداد و بیشمار نعمتوں سے نوازا ہے جن کی گنتی بنی آدم کبھی بھی نہیں کر سکتا ان تمام تر نعمتوں سے افضل ترین نعمت اللہ تعالی کا کلام (القرآن الحکيم ) ہے الحمد للہ ۔
ارشاد باری تعالی ہے :
وَّاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ(البقرۃ:٢٣١)
اور اللہ کا احسان جو تم پر ہے یاد کرو اور جو کچھ کتاب و حکمت اس نے نازل فرمائی ہے جس سے تمہیں نصیحت کر رہا ہے ، اسےبھی ۔ اور اللہ تعالٰی سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ اللہ تعالٰی ہرچیز کو جانتا ہے ۔
یہ کتاب شفاعت کرے گی
أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ اقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا اقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ.
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انھوں کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’ قرآن پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اصحاب قرآن ( حفظ و قراءت اور عمل کرنے والوں ) کا سفارشی بن کر آئے گا ۔ دو روشن چمکتی ہوئی سورتیں : البقرہ اور آل عمران پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے وہ دو بادل یا دو سائبان ہوں یا جیسے وہ ایک سیدھ میں اڑتے پرندوں کی دو ڈاریں ہوں ، وہ اپنی صحبت میں ( پڑھنے اور عمل کرنے ) والوں کی طرف سے دفاع کریں گی ۔ سورہ بقرہ پڑھا کرو کیونکہ اسے حاصل کرنا باعث برکت اور اسے ترک کرنا باعث حسرت ہے اور باطل پرست اس کی طاقت نہیں رکھتے ۔ ( صحیح مسلم : 1874 )
جس نے قرآن کو اپنا رہبر و پیشوا بنايا اسے یہ جنت میں لے جائے گا اور جس نے اس کتاب سے منہ موڑ لیا اسے جہنم میں لے جائےگا :
عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وسلم ، قَالَ: اَلْقُرْآنُ شَافِعٌ مُشَفَّعٌ، مَنْ جَعَلَهُ أَمَامَهُ قَادَهُ إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَنْ جَعَلَهُ خَلْفَ ظَهرِه سَاقَهُ إِلَى النَّارِ.
سیدناجابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: قرآن سفارش کرنے والا ہے اور اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔ جو شخص اسے اپنے سامنے رکھے گا اسے جنت کی طرف لے جائے گا اور جو اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دے گا اسے جہنم کی طرف ہانک کر لے جائے گا۔(السلسلة الصحیحۃ، حدیث:2876 )
یہ گواہی دینے والی کتاب ہے
وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَايِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا»
قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے ہر انسان دن کا آغاز کرتا ہے تو ( کچھ اعمال کے عوض ) اپنا سودا کرتا ہے ، پھر یا تو خود کو آزاد کرنے والا ہوتا ہے یا خود کو تباہ کرنے والا ۔ (صحیح مسلم : 534)
یہ سب کے لیے باعث رحمت ہے :
يقيناً اللہ تعالی کی یہ کتاب پوری دنیا کے لیے رحمت ہے خواہ وہ کافر، مشرک ، ہندو ، عیسائی ، یہودی ، یعنی ہر ایک کے لیے باعث رحمت اور مغفرت کا پیغام ہے جو چاہے اس رحمت کو لے لے اور جو چاہے اپنے آپ کو اس سے محروم کر کے رکھے ۔
اس کتاب کی پیروی کرنے والے ہمیشہ راہ راست پر ہوں گے :
بقول شاعر مشرق :
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر
ہم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر !
آج ہم جو پریشان ہیں یہ ہر طرف جو فتنے برپا ہیں مثلاً شرک و بدعات کا فتنہ, فرقوں اور باہمی تنازعات کا فتنہ, بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے چوری ڈکیتی کا فتنہ اور فحاشی عریانی کا فتنہ وغیرہ تو ان سے محفوظ رہنے کی کیا سبیل ہو سکتی ہے اس کی راہنمائی کرتے ہوئے حدیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ-
قَالَ رَسُولُ الله ﷺ تركتُ فيكم شيئَينِ ، لن تضِلوا بعدهما كتابَ اللهِ ، و سُنَّتي ، و لن يتفرَّقا حتى يَرِدا عليَّ الحوضَ۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
« میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے پکڑے رہو گے، ہرگز گمراہ نہیں ہو گے، الله تعالی کی کتاب اور اس کے نبی اکرم (ﷺ) کی سنت ، اور یہ دونوں جدا نہیں ہونگی حتی کہ میرے پاس حوض کوثر تک پہنچ جائیں۔( صحیح الجامع الصغیر :2937، وقال امام الألباني (صحيح) في المشكاة 186، و الصحيحة 1761.)
دنيا ميں عروج ،غلبہ ، اور انقلاب کا ذريعہ :
قَالَ عُمَرُ ، أَمَا إِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : «إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا ، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ« (صحيح مسلم كتاب صلاة المسافرين وقصرها ، باب فضل من يقوم بالقرآن … ، حدیث:817، سنن ابن ماجه ، كتاب السنة ، باب فضل من تعلم القرآن وعلمه، حدیث: 218)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارے نبی ﷺ نے ( واقعی سچ ) فرمایا تھا اللہ تعالیٰ اس کتاب ( کے علم اور اس پر عمل ) کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو بلند مقام عطا فرمائے گا اور اس ( سے اعراض کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو پست ( اور ذلیل ) کر دے گا ۔
ہمیشہ رہنے والا معجزہ جس سے قیامت تک کے آنے والے لوگ متاثر اور مستفید ہوتے رہیں گے ، {ان شاء اللہ } ۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلَّا أُعْطِيَ مَا مِثْلهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللهُ إِلَيَّ فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ (صحيح البخاری ، فضائل القرآن ، حدیث: 4981)
سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ ہر نبی کو ایسے ایسے معجزات عطا کئے گئے کہ ( انہیں دیکھ کر لوگ ) ان پر ایمان لائے ( بعد کے زمانے میں ان کا کوئی اثر نہیں رہا ) اور مجھے جو معجزہ دیا گیا ہے وہ وحی ( قرآن ) ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل کی ہے۔ ( اس کا اثر قیامت تک باقی رہے گا ) اس لیے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میرے تابع فرمان لوگ دوسرے پیغمبروں کے تابع فرمانوں سے زیادہ ہوں گے۔ وما توفيق إلا بالله
