جب سے اللہ تعالیٰ نے دنیا بنائی ہے ، اس میں بحر وبر بچھائے کھیت وکھلیان اگائے ہیں تب سے حبِّ مال انسانی فطرت کا بنیادی حصہ رہاہے لیکن آج کے دور میں دنیا سے محبت اور اسے ہی اپنا مقصد حیات بنانا اور دنیا کی خاطر اپنی جان کی بازی لگادینا اس وقت کچھ زیادہ ہی عروج پر ہے ۔ اس کی سب سے بڑی جیتی جاگتی مثال گذشتہ دنوں یورپ جانے کی خواہش میں یونانی ساحل پر کشتی الٹنے کے سبب سینکڑوں ہلاکتیں ہیں جن میں ایک محدود اندازے کے مطابق تین سو سے زائد لوگ پاکستانی تھے جوسوائے چند ایک کے تمام ہلاکت ہوگئے۔ اس سے بڑھ کر تکلیف کی بات یہ کہ وہ لوگ لاکھوں روپے خرچ کرکے یورپ آسودگی کی تلاش میں نکل پڑے نہ پُر خطر راستوں کی پرواہ کی ، نہ موت سے ڈرے ، نہ پیچھے اپنے ماں باپ،بیوی بچوں کا خیال آیا ۔ دنیا کی محبت میں اتنا اندھا اور وہ بھی ایک مسلمان !! اور بچنے والے کہتے ہیں ہم نے 25 لاکھ ادا کیے اس سفر کے انتخاب کیلئے ۔یہاں سب سے بڑھ کر اور تکلیف کی بات یہ ہےکہ یہ حبِ مال ان لوگوں کے بھی رگ وریشے میں رچتی بستی جارہی ہے جو خود کو مسلمان اور اسلام سے منسوب کرتے ہیں ۔ ایک مسلمان کا دنیا کی خاطر خود کو خطرات میں ڈالنا اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر۔ یہ تربیت تو رسول اللہ ﷺ نے نہیں دی تھی بلکہ آپ نے تو قناعت ، صبر وشکر کا درس دیاتھا۔ آپ کی دعاؤوں میں یہ دعا بھی ہوا کرتی تھی کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں آپ ﷺ جب بھی کسی مجلس سے اٹھتے تو ان کلمات سے دعا کرتے:

اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ، وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ، وَمِنَ اليَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مُصِيبَاتِ الدُّنْيَا، وَمَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَا أَحْيَيْتَنَا، وَاجْعَلْهُ الوَارِثَ مِنَّا، وَاجْعَلْ ثَأْرَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا، وَانْصُرْنَا عَلَى مَنْ عَادَانَا، وَلاَ تَجْعَلْ مُصِيبَتَنَا فِي دِينِنَا، وَلاَ تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَلاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا، وَلاَ تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لاَ يَرْحَمُنَا (سنن الترمذي،حديث:3502)

’’ اے اللہ! ہمارے درمیان تو اپنا اتنا خوف بانٹ دے جو ہمارے اور ہمارے گناہوں کے درمیان حائل ہو جائے، اور ہمارے درمیان اپنی طاعت و فرماں برداری کا اتنا جذبہ پھیلا دے جو ہمیں تیری جنت تک پہنچا دے، اور ہمیں اتنا یقین دے دے جس کے سہارے دنیا کی مصیبتیں ہیچ اورآسان ہو جائیں، اور جب تک تو زندہ رکھے ہمیں اپنے کانوں اپنی آنکھوں اور اپنی قوتوں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دیتا رہ، اور ان سب کو (ہماری موت تک) باقی رکھ، اور ہمارا قصاص اور ہمارا بدلہ ان سے لے جو ہم پر ظلم کرے، اور جو ہم سے دشمنی کرے اس کے مقابل میں ہماری مدد فرما، اور دنیا کو ہمارا بڑامقصد نہ بنا دے، اور نہ ہمارے علم کی انتہا بنا ( کہ ہمارا سارا سیکھنا سکھا نا صرف دنیا کی خاطر ہو) اور ہم پر کسی ایسے شخص کو مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے۔

اس روایت میں یہ کلمات انتہائی قابل غور ہیں :

((ولَا تَجْعَلْ الدنيا أكبرَ هَمِّنَا))

’’اے اللہ !دنیا کو ہمارے لیے سب سے بڑا ہم وغم نہ بنانا۔‘‘

مراد یہ کہ ایک مسلمان کا سب سے بڑا ہم وغم دین کے بارے میں ہونا چاہئے نہ دنیا کا ۔ اب جو اوپر ہم نے حادثہ ذکر کیا اس میں لوگ اتنی بڑی رقم ادا کرکے یورپ گئے جو غیر مسلم ممالک ہیں، اللہ کا غضب وہاں نازل ہوتاہے ، کفر وشرک، بے حیائی وبے شرمی اپنے عروج پر اور ایک مسلمان اتنی قربانی دیکر وہاں آسودگی ڈھونڈنے جا رہاہے ۔ یا للعجب ۔ ایک بندہ جس کے پاس یہاں پچیس لاکھ ہے وہ قناعت کے ساتھ زندگی گذارے تو پاکستان میں آرام سے کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرکے زندگی بسر کرسکتاہے ۔ لیکن کیا کریں ہمیں میڈیا نے یہ دکھایا ، آج کی تعلیم نے یہی سکھایا کہ جینا ہے تو کھانے کے لئے جیو ، مرنا ہے تو بھی اس دنیا کی خاطر مرو ، نوکری نوکری اور بس نوکری! ۔اس کے علاوہ کچھ نہیں سوچنا ، اس کے علاوہ کچھ نہیں دیکھنا، پاکستان میں کچھ نہیں رکھا ، جیسے موقع ملےکسی طرح پاکستان سے نکل جاؤ ۔ جب تک تمہارے پاس پیسا نہیں آئے گا تم کچھ نہیں کرسکتے لوگ تمہیں کسی خاطر میں نہیں لائیں گے ۔ اپنی ساکھ کی دھاک بٹھانی ہے تو یورپ جاؤ پیسے کماؤ اور سیٹھ بن کر زندگی گذارو ۔ یہ سوچ میرے محترم ومکرم بھائیو ایک مسلمان ہونے کے ناطے بہت خطرناک سو چ ہے کہ جس چیز سے ہمارے نبی ﷺ نے پناہ مانگی کہ ‘‘ اے اللہ میرا ہم وغم محض دنیا نہ بنانا‘‘ ہم آج اسی غم میں مبتلا ہوگئے ۔ ایسے سفر کے دروان ایک حادثے میں کئی لوگ زندہ بچ گئے ان میں کئی افریقی ممالک کے بھی تھے ان سے جب انٹرویو کیا گیا تو بی بی سی رپورٹرلکھتاہے کہ ’’ تاہم سمندر کی بےرحم موجوں سے بچائے گئے ان افراد کا کہنا ہے کہ کوئی بھی چیز انھیں یورپ پہنچنے کی کوشش سے نہیں روک سکتی‘‘۔ رپورٹر آگے لکھتاہے: ’’ان تارکین وطن نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ ان خطرات سے لاعلم نہیں تھے جن کا انھیں یورپ کے سفر کے دوران سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ یورپ پہنچنے کی ان کی پہلی کوشش نہیں تھی، اُن میں چند افراد ایسے بھی تھے جو پہلے یورپ پہنچنے کی خواہش میں مرنے سے بال بال بچ چکے تھے مگر انھوں نے دوبارہ یورپ جانے کے لیے اسی پرخطر سفر کا چناؤ کیا۔

ایک 17 سالہ پناہ گزین کا کہنا ہے کہ ’میں سات مرتبہ کوشش کر چکا ہوں۔

میں نے جتنے بھی پناہ گزینوں سے بات کی انھوں نے بتایا کہ ان کا کوئی نہ کوئی دوست اس سفر کے دوران ہلاک ہو چکا ہے۔

ان میں سے کچھ افراد یونان کشتی حادثے کی خبر کے بارے میں سوشل میڈیا پر پڑھ چکے ہیں۔ اس حادثے کو اب تک پناہ گزین کشتی حادثوں کی تاریخ کے سب سے ہلاکت خیز حادثوں میں سے ایک کہا جا رہا ہے جس میں مختلف اندازوں کے مطابق 750 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کشتی کے سوار بھی لیبیا ہی سے اٹلی کے لیے روانہ ہوئے تھے۔

ایک پناہ گزین نے اس حادثے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے انھیں بالکل بھی مایوس نہیں کیا کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ان پناہ گزینوں کی بھی یہی سوچ ہو گی جو ان کی ہے۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ ’یہی سوچ ہوتی ہے کہ یا تو یورپ پہنچو یا سمندر میں مر جاؤ۔ صرف دو آپشن ہوتے ہیں۔‘‘

(https://www.bbc.com/urdu/articles/cv25nne571eo )

 بچ جانے والے لوگوں کے یہ خیالات اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ مادیت اور مادیت پرستی آج کے نوجوان کے دل میں گھر کر چکی ہے ۔ آج لوگ جیتے دنیا کیلئے ، مرتے دنیا کیلئے ، تعلق بناتے دنیا کی خاطر  تعلق توڑتے محض دنیا کی خاطر ، اپنے گھر بار ، عزیز واقارب کوچھوڑ دیتے ہیں محض دنیا کیلئے ۔ یہ سوچ اور یہ راہ میرے محترم اہل اسلام بھائیو ہم مسلمانوں کیلئے بہت ہی خطرناک ہے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس مقصد کیلے دنیا میں نہیں بھیجا بلکہ ہمیں دنیا میں بھیجنے کا مقصد واشگاف الفاظ میں قرآن میں لکھ دیا کہ

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ(الذاریات:56)

’’ میں نے جنوں اور انسانوں کو محض اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے۔‘‘

ہمیں اس مشن کے بارے میں سوچنا چاہیے جس کیلئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھیجا ہے ۔ کہ ہماری آخرت کیسے بہتر ہو ، ہماری اولاد کی تربیت اسلامی کیسے ہو ، ہم کہاں رہ کر اپنے رب کی آسانی سے عباد ت کرسکتے ہیں۔ یہ جان اللہ کی امانت ہے یہ اللہ کی راہ میں ہی دینے کی اجازت ہے ۔ دنیا کی راہ میں نہیں ۔ لہذا معیشت کو بڑا مسئلہ نہ بنائیں دنیا کو اپنا ہدف اور مقصد نہ بنائیں کہ اگر آپ کے نیچےگاڑی نہیں ۔ قلعہ نما گھر نہیں تو آپ نے کچھ نہیں کیا ۔ نہیں میرے محترم مسلمان بھائی ایسا نہیں ۔ جو سید الاولین والاخرین تھے سید الکونین تھے ان کے گھر کے حالات کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ مہینے گذر جاتے ہمارے گھر میں آگ نہیں جلتی تھی ۔ آج ہمارے پاس تو لاکھوں ہیں جو ہم ایجنٹوں کو دے کر موت کے سفر کا انتخاب کرتے ہیں اور وہ بھی ان علاقوں کا جہاں اللہ کا غضب نازل ہوتاہے ۔ جہاں جاکر ہم نمازیں وقت پر نہیں پڑھ سکتے ، اذان کی آواز نہیں سن سکتے ۔ معاشرے میں عفت وعصمت کی حفاظت ممکن نہیں رہتی ہے۔ یہ تو بڑے گھاٹے کا سودا ہے ۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں سب سے پہلے جو حدیث نقل کی ہے اس کو پڑھیں تو رونگٹے گھڑے ہوجاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ (صحيح البخاري،حديث:1)

’’ اعمال کا مدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کو اس کی نیت ہی کے مطابق پھل ملے گا، پھر جس شخص نے دنیا کمانے یا کسی عورت سے شادی رچانے کے لیے وطن چھوڑا تو اس کی ہجرت اسی کام کے لیے ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔‘‘

اس حدیث میں واضح بتادیا گیا کہ جس نے دنیا کی خاطر یا کسی عورت کی خاطر ہجرت کی تو اس کی یہ ہجرت نیکی نہیں بلکہ اسی کام کی طرف شمار کی جائے گی جس کیلئے وہ جا رہاہے ۔ اور ہجرت کر رہاہے ۔ یعنی دیار کفر کا سفر کرتے موت آگئی ہائے افسوس! رب نے پوچھا کہ اہل کفر کی جانب کیوں جارہے تھے کیا یہ جواب دیں گے کہ یارب دنیا کمانے کی خاطر ۔دین قربان کرنے کیلئے ۔!

لہذا صورت حال بہت ہی الارمنگ ہے میرے بھائیو ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو دیا ہے اس پر قناعت کریں ۔ اپنے دیس میں رہیں اپنے ماں باپ کی خدمت کریں ۔ اپنے بچوں کی تربیت کریں ۔ نہ کہ ایسے ملکوں کا موت کا سفر کریں جن سے اللہ بھی ناراض ہے اور ان سے دنیا کی بھیک مانگیں ، پھرجو کام ملے حلال ہو یا حرام کریں اور اللہ کے مجرم ٹھریں ۔ بڑے گھاٹے کا سوداہے ۔ ایسے بھائی جو قانوی طور پر بھی یورپی ملکوں میں گئے ہیں وہ یہی خبریں دیتے ہیں کہ کوئی کہتاہے میں تین نمازیں اکھٹی کرکے پڑھتاہوں ۔آفس کی طرف سے نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ۔ کوئی کہتاہے تین مہینے ہوگئے میں نے جمعہ نہیں پڑھا ۔ کیونکہ مسجد بہت دور ہے ۔ تو میرے محترم بھائی اگر نہ نماز پڑھنی ہے ، نہ جمعہ پڑھنا ہے پھر اسلام میں رہ کر آپ کیا کر رہے ہیں ۔

ایک مؤمن مسلمان کی سب سے پہلی ترجیح اپنے دین کو بچانا اس پر عمل پیرا ہونا ہے ۔ ہاں معیشت میں تنگی فراخی آتی رہتی ہے ۔ ایک مومن کا یہ ایمان ہونا چاہیے کہ جو رزق اللہ نے لکھا ہے وہ کھا کر ہی موت آنی ہے لہذا ایسے رستے پر کیوں انسان مرے جہاں کا سفر نہ اللہ کیلئے تھا نہ رسول اللہ کی شریعت پر عمل پیرا ہونے کیلئے بلکہ محض دنیاوی ومادی غرض سےتھا ۔ چاہے اس میں دین کی قربانی کیوں نہ دینی پڑے ۔ لہذا یہ حادثہ ہمارے لئے ایک سبق ہے اس سے کچھ حاصل کرنا چاہئے ۔ اور یہ سبق درجِ ذیل اصولوں کو سامنے رکھ کر حاصل ہوگا ۔

۱: جو اللہ نے دیا ہے اس پر قناعت کریں ۔

۲: زندگی میں رزق کی تنگی کے حوالے سے جو مشکلات آتی ہیں ان پر صبر کریں ۔

۳: رزق کی تلاش میں اگر کہیں باہر جانا ہے تو صرف قانونی طریقے سے جائیں اور محض کسی اسلامی ملک کا انتخاب کریں جہاں شعائر اسلام ظاہر ہوں اورآپ آسانی سے اپنے رب کی عبادت کرسکیں ۔

۴: محض مادیت اور دنیا داری اور دنیاوی جاہ وحشمت کو اپنا مطمع نظر نہ بنائیں ۔ ایک مومن کیلئے رضائے الٰہی سب سے بڑا مقصد حیات ہونا چاہئے ۔

۵: اپنے ذہن سے پیسہ پیسہ اور بس پیسہ کا بھوت اُتار دیں ۔آپ کو اتنا ہی ملے گا جتنا کہ رب نےلکھا ہے اس سے زیادہ ایک لقمہ بھی نصیب نہیں ہوگا ۔ فرمان نبوی ﷺ ہے :

« إنَّ رُوحَ القُدُسِ نفثَ في رُوعِي، أنَّ نفسًا لَن تموتَ حتَّى تستكمِلَ أجلَها، وتستوعِبَ رزقَها، فاتَّقوا اللهَ، وأجمِلُوا في الطَّلَبِ، ولا يَحمِلَنَّ أحدَكم استبطاءُ الرِّزقِ أن يطلُبَه بمَعصيةِ اللهِ ، فإنَّ اللهَ تعالى لا يُنالُ ما عندَه إلَّا بِطاعَتِهِ (حلية الأولياء 10/26)

’’بلا شبہ روح القدس ( جبريل امين ) نے ميرے دل ميں يہ بات ڈالى ہے كہ كوئى بھى جان اس وقت تك فوت نہيں ہو گى جب تك كہ وہ اپنا رزق اور اپنى زندگى كے ايام و وقت پورا نہ كر لے، تو تم اللہ تعالىٰ كا تقوى اختيار كرتے ہوئے ( روزى ) طلب كرنے ميں بہتر طريقہ اختيار كرو، اور روزى كا ليٹ ہو جانا تمہيں اس پر نہ ابھارے كہ وہ اللہ كى معصيت و نافرمانى كر كے روزى حاصل كرنے لگے، كيونكہ اللہ تعالى كے پاس جو كچھ ہے وہ اس كى اطاعت و فرمانبردارى كے بغير حاصل نہيں ہو سكتا۔‘‘

۶ : اہل علم، دانشوروں اور لکھاریوں مفکرین ملت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ مادیت کاجو سحر لوگوں کے سر سوار ہے اسے اتارنے میں کردار ادا کریں ۔ تاکہ مزید لوگ چند لقموں کی تلاش میں اتنی بھیانک موت نہ مریں ۔

۷: اہل مسند واقتدارسے بھی درخواست ہے کہ انسانی جان کی قدر کریں اور قوم کو محض مادیت کے پیچھے نہ لگائیں بلکہ سادگی کفایت شعاری اور قناعت پسندی کی تعلیم کو زد عام کریں ۔ ٹیلی وزن پر نت نئے ڈیزائن اور اشتہارات اور فنکاروں کے ذریعے مالی ہوس پرستی کو پھیلنے سے روکیں ۔

۸: لوگوں کے ذہنوں کو لگزری لائف سے نکال کر محض ضروریات زندگی پر انحصار اور قناعت کرنے کی تربیت کی جائے ۔

۹: ملک پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بیش بہا خزانوں سے نوازا ہے ہم سب مل کر اس کی تعمیر وترقی میں حصہ ڈالیں ، اللہ تعالیٰ باہر سے زیادہ یہاں رزق عطا فرمادے گا ۔ ان شاء اللہ ۔

۱۰۔ ارباب اختیار یہاں پاکستان میں لوگوں کو جو چھوٹے کاروبار شروع کرنے میں مشکلات آتی ہیں ان کا تدارک کریں ۔ لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کریں تاکہ لوگ اپنے ملک سے محبت کریں اور یہیں رزق تلاش کریں ہوسکتاہے ہماری ان کاوشوں سے لوگوں کی ترجیحات بدلیں ، اپنے ملک پر اعتماد بڑھے اور مزید کتنے ہی بچے یتیم ہونے ، عورتیں بیواہ ہونے ، اور بہنیں بے سہارا ہونے ، والدین بےیاروومددگار ہونے سے بچ جائیں ۔

آخر میں اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے جو ہمارے نبی سرور کونین ﷺ مانگا کرتے تھے :

اللَّهُمَ قَنِّعْنِي بِمَا رَزَقْتَنِي، وَبَارِكْ لي فِيهِ، وَاخْلُفْ عَلَيَّ كُلَّ غَائِبَةٍ لِي بِخَيْرٍ (المستدرك للحاکم،حدیث:1674)

’’اے اللہ! جو چیز تو نے مجھے عطا فرمائی ہے اس میں قناعت کی توفیق دےاور باعث برکت بنااور ہر غائب ہونے والی چیز پر بھلائی کے ساتھ میرا نگہبان اور محافظ ہو ۔‘‘

هذا ما عندي والله ولي التوفيق

By editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *