عرب کا مختصر جغرافیہ

جناب رسالت مآب ﷺکی ولادت باسعادت جزیرہ نمائے عرب میں ہوئی۔جزیرہ عرب تین براعظموں ایشیا، یورپ اور افریقہ کے وسط میں واقع ہے۔ اس جزیرے کی تین جانب سمندر جبکہ ایک سمت خشک ہے۔ جزیرہ عرب کے مشرق میں خلیج فارس اور مغرب میں بحیرئہ احمرہے۔ اسی کو بحیرئہ قلزم کہا جاتا ہے اور اسی میں فرعون غرق ہوا تھا۔ جزیرئہ عرب کے شمال میں شام اور شمال مشرق میں عراق واقع ہے۔اس جزیرے کے جنوب میں بحیرہ عرب اور اسی سے متصل بحرہند ہے۔جزیرئہ عرب پاکستان کے مغرب میں جبکہ ہندوستان کے شمال میں واقع ہے۔جزیرہ عرب کا اکثر حصہ خشک پہاڑی سلسلوں اور بے آب و گیاہ صحراؤں پر مشتمل ہے۔ یہ دنیا بھر کے تمام جزیرہ نماؤں سے بڑا ہے۔اس کی قدیم اور جدیدجغرافیائی تقسیم میں خاصہ فرق ہے۔ مکہ مدینہ اس کے مقدس ترین شہر ہیں۔ مکہ مکرمہ رسول مقبولﷺ کا مقام ولادت جبکہ مدینہ منورہ آپ کی جائے ہجرت اور جائے وفات ہے۔ مدینہ ہی مسلمانوں کی اولین اسلامی ریاست قرار پایا۔

فقہ السیرہ النبویہ

1۔جزیرہ عرب اورعالمگیر دین

اسلام عالمگیر اور ہمہ گیر دین ہے۔جزیرہ عرب کے قلب ،مکہ شہر سے پیغام ربانی کا آغاز ہوا۔ دعوت دین جزیرئہ عرب میں محدود نہ رہی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ پیغام چہار دانگ عالم میں پھیل گیا۔ عالم دنیا میںاسلام کی نشرواشاعت میں عرب جغرافیہ کی خاص اہمیت ہے۔اسلامی مرکز دعوت تین براعظموں کا نقطہ اتصال اور ان کے وسط میں واقع ہے ۔بلد امین سے بلند ہونے والی صدائے حق کی کرنوںنے اطراف و اکناف کو نور اسلام سے منور کیا۔ ایشیا، یورپ اور افریقہ سے لوگ اس شمع رسالت کی روشنی سے فیض یاب ہوئے۔یہ دین کسی خاص قوم و قبیلے، خاص ملک و ملت اور خاص زمان ومکاں تک محدود نہیں۔ دین اسلام کسی تفریق وامتیاز کے بغیرکرہ ارضی پر موجود تمام انسانیت کے لیے ہے ۔عرب و عجم کے تمام مسلمان ملت واحد ہیں۔رسول مقبول ﷺ کی عالم گیر نبوت ورسالت کا اعلان کرتے ہوئے باری تعالی نے فرمایا:

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّ نَذِيْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۰۰۲۸(سبأ:٢٨)

’’ہم نے آپ کو تمام انسانیت کے لیے خوشخبری دینے اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے،لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں۔‘‘ دین اسلام کا عالم گیر پیغام نوع انسانی تک پہنچانا امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے۔اللہ تعالی ملت اسلامیہ کے داعیان اور مصلحین کی نصرت وتوفیق فرمائے۔

2۔جزیرہ عرب اور ہمہ گیر دین

جزیرہ عرب سے صدائے حق بلند ہوئی۔اس کے باعث اہل عرب کی ہمہ گیر اصلاح ہوئی۔دعوت دین کے عرب کے تمام شعبہ زندگی پر مثالی اثرات مرتب ہوئے۔ ان کے باطل افکار ونظریات کی اصلاح ہوئی۔ان کے اخلاق و کردار سنورے۔ ان کی سوچ وفکرمیں مثبت تبدیلی آئی۔ان کی وفاشعاری، عہد ومیثاق کی پاسداری، غیرت و حمیت، جودو سخااور جرأت و بہادری جیسی عمدہ صفات کو مزید جلا ملا۔ان کی بری عادات و اطوارکی اصلاح ہوئی اور ان کی سمت درست ہوئی۔ قوم و قبیلے کے بجائے ایمان و عقیدے کو وحدت کا سبب سمجھا جانے لگا۔ جرأت و بہادری کے اظہار کے لیے میدان جہاد کی رہنمائی کی گئی ۔ غیرت و حمیت بھی اسلام کے تابع قرار پائی۔ انفرادی ،اجتماعی ،معاشی ،معاشرتی اور سیاسی امور میں شرعی ہدایات کی پاسداری ان کا دستور حیات قرار پایا۔عرب کے بادیہ نشیں دنیا کی مہذب ترین قوم بن گئے۔ اس کے عرب سے باہر کی اقوام پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ وقت کی مہذب ترین قومیں بھی انگشت بدندان تھیں ۔ اہل عرب کی ایسی ہمہ گیر اصلاح و تربیت ہوئی کہ قیامت تک کی انسانیت کے لیے معیار ایمان قرارپائے۔ارشاد باری تعالی ہے:

فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا(البقرۃ:١٣٧)

’’اگر وہ اسی طرح ایمان لائےں جس طرح تم ایمان لائے ہو ، تو وہ ہدایت پر ہیں۔‘‘

3۔جزیرہ عرب ہی کیوں؟

جزیرہ ٔعرب بے آب و گیاہ اور لق و دق صحرا تھا۔ یہاں کے باسی بادیہ نشیں اور غیر مہذب تھے۔ روم و فارس اور مصر وحبشہ اس دور کی مہذب ترین اقوام تھیں۔ بعثت کے لیے ان میں سے کسی کا انتخاب نہیں کیاگیا۔ سرتاج رسل ﷺکے لیے جزیرہ عرب ہی کا انتخاب کیوں؟ خاص جغرافیائی صورتحال کی وجہ سے جزیرہ عرب کے باسی متعدد ایسی عمدہ صفات سے متصف تھے جو انھی کا خاصہ تھیں۔یہ جود و سخاکے پیکر تھے۔کنجوسی ان کے ہاںبہت بڑا عیب سمجھی جاتی تھی۔جرأت و بہادری میں کوئی ان کا ثانی نا تھا۔بزدلی اورجنگ وحرب سے فرار ان کے نزدیک انتہائی معیوب گردانہ جاتا تھا۔ غیرت و حمیت، صدق و وفا شعاری،عہد ومیثاق کی پاسداری اورسادگی وجانکوشی بھی ان کے امتیازات میں شامل تھی۔قادر الکلامی،فصیح البیانی اور فصاحت وبلاغت میں اعلی مقام پر فائز تھے۔بعثت کے لیے جزیرہ عرب کے انتخاب کے یہ ظاہری اسباب وعوامل بیان کیے جاتے ہیں۔دیگر اقوام وملل کا دامن ان میںسے بیشتر امور سے خالی دکھائی دیتا ہے۔ بعثت نبوی کے لیے جزیرہ عرب کے انتخاب کی اہم ترین وجہ دعائے کلیمی اور مشیت الہی ہے۔آپ نے خود فرمایا:

أَنَا دَعْوَةُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ، وَبِشَارَةُ عِيسَى (مسند أحمد:٢٢٢٦١،مستدرك حاکم:٣٥٦٦)

میں اپنے جد اعلی ابراہیم کی دعا کا ثمرہ اور نوید مسیح ہوں،، پروردگار عالم نے اپنا دستور رسالت بیان کرتے فرمایا:

اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ (الأنعام:١٢٤)

’’اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس نے منصب رسالت سے کسے سرفراز کرنا ہے۔‘‘

٤۔جغرافیائی اور فکری سرحدیں

دشمنان دین نے جزیرہ عرب سمیت دیگر اسلامی ملکوں کو مختلف آزاد ریاستوں میں تقسیم کیا۔اس جغرافیائی تقسیم سے اعدائے دین کا مقصود سیاسی، مادی اور الحادی مقاصد کاحصول ہے۔جدید الحاد نے وطنیت، لسانیت، قومیت اور رنگ و نسل کی بنیاد پر انسانیت کو ایک دوسرے کا دشمن بنایا۔ عالمی استعمارنے سرحدی اور ملکی ایسے قانون وضع کیے کہ امت مسلمہ کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیاگیا۔ مسلم برادری وحدت امت کے اسلامی تصور کوتقریبا بھول چکی اوردعوت دین کے فریضہ کو پس پشت ڈال چکی ہے۔ بیشتر مسلم ممالک بھی دیگر الحادی ریاستوں کی طرح اپنی اپنی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ہی کو سب کچھ سمجھنے لگے ہیں۔ جزیرہ عرب سے بلند ہونے والی صدا ئے حق پراب کوئی کان دھرنے کو تیار نہیں۔ امت مسلمہ عقائد وایمانیات میں کمزورہوتی جا رہی اورمسلم معاشرے سے اسلامی اخلاق و کرداراور اقدار وروایات رخصت ہو تے جارہے ہیں۔ مسلمان عالمی سطح پر اسلام کی حقانیت کو تسلیم کروانے میں بھی ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ مسلمانوں کے روحانی مراکز بھی امت مسلمہ کی امیدوں پر پورا اترتے دکھائی نہیں دے رہے۔ عصر حاضر میں جغرافیائی سرحدوں سے زیادہ ایمانی و فکری سرحدوں کی حفاظت کی ضرورت ہے۔

5۔جزیرہ عرب اوراسبا ب دعوت

اسلام کی نشر و اشاعت میں عرب جغرافیہ کی خاص اہمیت ہے ۔عالمی دنیامیںدعوت دین کی اشاعت وقبولیت کا بہت بڑا سبب عرب جغرافیہ اور اہل عرب تھے۔جزیرہ عرب تین بر اعظموںکا نقطہ اتصال ہے۔جزیرہ عرب ایشیا،یورپ اورافریقہ کے وسط میں واقع ہے۔ سلام کے عہد زریں میں عرب کی جغرافیائی اہمیت کا انکار ناممکن ہے۔ اس سے اسلام کی اشاعت ودعوت کے لیے اسباب و ذرائع کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ پیغام ربانی نوع انسانی تک پہنچانے کے لیے ہر طرح کے ممکنہ اور جائز اسباب و ذرائع اختیار کرنار حکم ربانی اور پیغمبرانہ سنت ہے۔اسباب وعوامل کی دنیا میں جائز مقصد کے حصول کے لیے دستیاب ذرائع سے احتراز کسی طرح بھی مناسب نہیں۔خفیہ دعوت دین،علانیہ دعوت توحید،صفا پہاڑی پر صدائے حق اور تعلق داروں کو انذار وتبشیر،یہ تمام مراحل وانداز دعوت اسلام کی اشاعت وتبلیغ کے مختلف اسباب وتدابیر ہی تھیں۔ سفر طائف ،اطراف واکناف کے قبائل کو دعوت ،انصار کی نصرت ومعاونت،ہجرت حبشہ ومدینہ،میثاق مدینہ اور غزوات وسرایا،یہ تمام تدابیر واقدامات دعوت اسلام کے اسباب ہی توتھے۔عصر حاضر جدید ذرائع ابلاغ کا مثبت اور بھرپور استعمال انتہائی اہم اور مفید ہے۔عرب علماء کرام کاعمل وکردار اس حوالے سے بہت شاندار اور مثالی ہے۔

6۔دعوت دین اور جغرافیائی اہمیت

جزیرہ عرب رسول مقبول ﷺکا مقام ولادت ہے ، یہ کرۂ ارض پر خاص جغرافیائی اہمیت کا حامل ہے۔فکر ودعوت کی نشرو اشاعت اور قوموں کے عروج و زوال میں جغرافیائی صورت حال بہت اہم ہوتی ہے۔ عالم دنیا میں اسلام کی ترویج ومقبولیت اور غلبہ دین میں عرب جغرافیہ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔بلد امین سے بلند ہونے والی صدائے حق کچھ ہی عرصہ میں تمام عالم میں گونجنے لگی اور گرد و نواح کے ممالک بھی نور ایمان سے منور ہونے لگے۔انبیائے کرام علیہم السلام کے مقام بعثت اپنے اپنے عہد میں خاص جغرافیائی اہمیت کے حامل تھے۔رسول مقبولﷺ مقام ولادت وبعثت بھی محل وقوع کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت وافادیت کا حامل ہے۔جس کا اظہار باری تعالی نے ’’ام القری‘‘ کے الفاظ میں فرمایا۔اسلامی ریاست، دینی مراکز، تعلیمی اداروں اور فلاحی اداروں کے لیے مناسب جغرافیائی محلِ وقوع بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ عظیم مقاصد کے حصول، فکر و عقیدے کی اشاعت اور امن و امان کے قیام میں مناسب جغرافیائی محل وقوع کا خاص کردار ہوتا ہے۔ دعوتی،اصلاحی،فکری،تہذیبی،سماجی اور سیاسی تحریکوں کی کامیابی یا ناکامی میں جغرافیائی اہمیت کا انکارناممکن ہے۔پاکستان اور سعودیہ اسلام پسندوں اور اپنی خاص جغرافیہ اہمیت کے پیش نظر عالمی دنیا کی توجہ کا مرکز ہے۔

7۔جزیرہ عرب اور جدید فکر وتہذیب

عصر حاضر میں جزیرہ عرب سمیت تمام کرہ ارضی گلوب کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے۔جدید فکر والحاد تمام جغرافیائی سرحدیں عبور کرکے پوری انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔مغربی فکرو تہذیب جزیرہ عرب سمیت تمام بلاد اسلامیہ اور دیگر امصار وممالک میں اپنے پنجے گاڑ چکی ہے۔ جدید الحاد فکری و علمی اور عملی و تدبیری لحاظ سے سابقہ تمام فتنوں سے بڑھ کر گمراہ کن اورخطرناک ہے۔ مغربی فکر وتہذیب اور عصری ضلالت و گمراہی ہمہ گیر اور عالمگیر ہے۔ تمام شعبہ ہائے زندگی کو اس نے چیلنج کیاہے۔ اسلامی تہذیب و ثقافت، اسلامی اخلاق و کردار، اسلامی اقدار وروایات اور اسلامی فکر و عقیدہ پر اس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔مسلمانوں کی اکثریت اپنی انفرادی و اجماعتی زندگی میں اور اسلامی اقدار و روایات میں دین پسندی سے احتراز برتنے لگی ہے ۔بیشتراسلامی ممالک کے سماجی، اقتصادی اور ریاستی ادارے تک جدید الحادی سوچ و فکر پر قائم وگامزن ہیں۔ نظام معیشت و معاشرت ، سیاست وثقافت اور تعلیم و تربیت تک میں الحادی افکار و نظریات در آئے ہیں۔ آزادی، جدت پسندی، حقوق نسواں، مساوات اور ترقی جیسے گمراہ کن نعرے زبانِ زدعام ہیں۔مذہب بیزار جدید فکروتہذیب کے سامنے مضبوط بند باندھنے کی اشد ضرورت ہے۔اس کے لیے مسجد ومدرسہ اورمسلمانوں کے روحانی مراکزحرمین شریفین کاعمل وکردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔عصر حاضر کی فکری وعملی گمراہی سے نجات کا واحد راستہ نبوی منہج دعوت وترتیب اور شرعی سیاست ہی ہے۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *