اک مسافر تھا کچھ دیر ٹھہرا یہاں
اپنی منزل کو آخر روانہ ہوا
عقل حیران ہے، دل ودماغ میں یادوں کے دریچے ہیں کہ ایک کے بعد ایک وا ہوتے چلے جارہے ہیں، کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کیا لکھوں اور کیسے لکھوں شہید زندہ ہوتے ہیں انہیں مردہ نہ کہو یہ پیغام قرآن کا ہے اور حقیقت میں بھائی ضیاء الرحمن بإذن اللہ شہادت کے رتبہ پر فائز ہوکر زندہ وجاوید ہوگئے، میں جب ماضی میں جھانکتا ہوں تو آج سے تقریباً چھتیس سال پہلے کا ایک منظر نگاہوں میں گھوم جاتاہے، ایک دس گیارہ سال کا بچہ جس کا مسکراتا ہوا چہرہ، آنکھوں میں احترام وحیا لیے ہوئے اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ جامعہ ابی بکر کے صحن کے باغیچہ میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر گھر سے لایا ہوا لنچ کھول رہا ہے، کچھ ہمجولی بھی ساتھ شریک ہوگئے ہیں، اسے یہ بھی شاید نصیحت کر دی گئی ہے کہ گھر سے لایا ہوا اماں کے ہاتھوں کا کھانا طلباء کے ڈائننگ ہال میں بھی بیٹھ کر مت کھانا بلکہ گھاس کے فرش کو دسترخواں بنالینا۔ 1986ء یا 1987ء کی بات ہے ایک مضبوط ترین مدیر جامعہ کا بیٹا مگر سادگی ایسی کہ عام طلباء میں سے کوئی فرق نہ کرپائے یہ تھے شہیدابن شہید ضیاء الرحمن بن پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہما اللہ۔ بھائی ضیاء الرحمن کا متبسم چہرہ، خاص وعام اور اپنے پرائے کو ان کا گرویدہ بنالیتا تھا۔
پھر ایک اور منظر ہے کہ جون 1997ء کی ایک سہ پہر جامعہ کے طلباء اور اساتذہ کرام اور بہت سے جماعتی ساتھی کراچی ایئرپورٹ پر حادثہ میں شہید ہوجانے والے بانیٔ جامعہ پروفیسر محمد ظفر اللہ aاور ان کے دو بیٹے اور بھانجے اور خالہ کے جسد خاکی وصول کرنے آئے ہیں، سب غم میں ڈوبے ہوئے دھاڑیں مار کر رو رہے ہیں، ایک انیس سال کا نوجوان جو اس حادثے میں سب سے زیادہ متأثر ہوا ہے، جس کا باپ دو بھائی پھوپھی زاد اور دادی اماں سب شہادت پاچکے ہیں وہ صبر واستقامت کا پہاڑ بنا بس ایک ہی بات کہہ رہا ہے۔
قَدَّر الله ما شاء
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے چاہا پھر وہ بہت مضبوط ہوگیا مولانا عائش محمد اور ڈاکٹر راشد رندھاوا رحمہما اللہ جیسے مربی میسر آگئے، پھر ایک وقت آیا کہ اس نے اپنے آپ کو جامعہ کے لیے وقف کر لیا، شب وروز کی محنت میں اللہ نے برکت دی اور جامعہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوئی، اکیلا شخص دن رات ایک کیے ہوئے اساتذہ وطلباء کے لیے حالات کی چلچلاتی دھوپ میں شجرسایہ دار بن گیا۔ انتہائی مصروفیت کے باوجود دعوت واصلاح کے میدان میں وعظ وتدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ نکتہ رسی ان کے دروس کا خاصہ تھی، بہت زیادہ رقت آمیز خطاب ہوتا جیسے دوسروں سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے مخاطب ہیں، اکثر کہتے بھائی ظالم بننے سے بہتر ہے مظلوم بن جاؤ۔
اور پھر مظلومیت میں شہید کیے گئے۔ اللہ پاک ان کو انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ملادے۔ آمین
یادیں اور باتیں بہت ہیں مگر الفاظ نوک قلم پر آنے کے بجائے دل ودماغ میں زیادہ اضطراب پیدا کر رہے ہیں۔ مجلہ اسوئہ حسنہ کا خصوصی نمبر بھائی ضیاء الرحمن کی حیات مستعار کے مختلف پہلوؤں کو قارئین تک پہنچانے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔ بھائی ضیاء الرحمن کی شخصیت تقویٰ، خودداری،بہادری،جرأت وغیرت کے اوصاف سے مزین تھی۔ اللہ ان کے گھرانے پر رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرمائے، ان کی والدہ محترمہ عظیم صابرہ خاتون ہیں جو قرون اولیٰ کی عظیم صحابیہ سیدہ خنساء کی یاد تازہ کرتی ہیںجو قادسیہ کی جنگ میں اپنے چار بیٹوں کی قربانی پیش کرتے ہوئے الحمد للہ کہتی ہیں، صبر بہت مشکل مرحلہ ہے، جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ سیدہ خنساء رضی اللہ عنہا کا ایک شعر کچھ تصرف کے ساتھ
يذكرني طلوع الشمس ضياء
واذكره لكل غروب الشمس
ہرصبح کا طلوع آفتاب ضیاء الرحمن a کی یادتازہ کرتاہے۔
اور ہرروز ڈوبتا سورج اس کی یاد سے مجھے تڑپاجاتاہے۔
مگرشہادت ایک ایسا عظیم مرتبہ ہے جو ہر کسی کے نصیب کی بات نہیں۔
ہر مدعی کے واسطے دارورسن کہاں
یہ رتبہ بلند ملا جسے مل گیا
یہ شہادت رہ الفت میں قدم رکھناہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ١ۖٞ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا(الأحزاب:23)
’’مومنوں میں (ایسے) لوگ بھی ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کیا تھا انہیں سچا کر دکھایا، بعض نے تو اپنا عہد پورا کردیا اور بعض (موقعہ کے) منتظر ہیں اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔‘‘
بنا کردند خوش رسمے بخون خاک غلیطدن
الہ رحمت کند ایں عاشقان پاک طنیت را
جامعہ ابی بکر کی صورت میں شیخ شہید محمد ظفر اللہ نے ایک گلشن آباد کیا جسے اپنے خون سے سینچا اور بھائی ضیاء الرحمن نے اپنے خون سے اس کی آبیاری کی یہاں تک کہ گھر کا ہر مرد اسی راہ میں قربان ہوگیا۔ اللہ پاک اس گھرانے کی شہادتیں قبول فرمائے۔ اور اس قربانی جیسے عظیم عمل سے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کی حفاظت فرمائے۔ بھائی ضیاء الرحمن کے بچوں کی حفاظت فرمائے اور ان کے مشن کو جاری وساری رکھے۔ آمین یارب العالمین
یقینا شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔اللہ پاک قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ توفیق دے کہ اس بہیمانہ اور سفاکانہ جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دلوائیں۔ یہ پاکستان کے استحکام، وحدت، اتحاد امت کے داعی کا قتل ہے۔ یہ امت مسلمہ جماعت اہل حدیث، اہل جامعہ ابی بکر، وطن کا درد رکھنے والے ہر فرد کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے اور دفاعی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی کہ ظاہری قاتلوں کے علاوہ اس کے اصل محرکات کو بھی بے نقاب کرکے اصل ذمہ داروں کو نشان عبرت بنائیں۔ ہمارا مقدمہ اللہ کی عدالت میں محفوظ ہے۔ac
