الحمد لله وحده والصلاة والسلام علی من لا نبی بعده، أما بعد:
معزز علماء کرام! آج کا اہم اجلاس جو کہ ہمارے عظیم بھائی شہید ضیاء الرحمن رحمہ اللہ کی شہادت کی مناسبت سے منعقد کیا گیا ہے۔ ہم سب کے لیے یہ انتہائی دکھ، تکلیف، رنج وغم کا لمحہ ہے کہ اس جامعہ کی آبیاری کرنے والے وہ باغبان آج باغ میں نہیں رہے۔ آج کے اجلاس کے انعقاد کا مقصد ضیاء الرحمن رحمہ اللہ کی شہادت پر تعزیت کے اظہار کے ساتھ ساتھ اس عزم کا اعادہ بھی ہے کہ ہم اس خون کا حساب لیے بغیر کسی صورت چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ اس موقع پر میں اپنی تمام مذہبی جماعتوں کے سربراہان، مدارس کے مدراء ومنتظمین، احباب جامعہ ۔تمام علماء کرام وزعماء جامعہ میں آنے، ہمارے غم میں شریک ہونے اور ضیاء الرحمن کی شہادت پر آواز اٹھانے پر تہہ دل سے مشکور وممنون ہوں۔ بالخصوص محترم جناب سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبد الکریم حفظہ اللہ ورعاہ (ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان)
محترم جناب ڈاکٹر علی محمد ابو تراب حفظہ اللہ (سینئر نائب امیری مرکزی جمعیت اہل حدیث / وأمیر مرکزی جمعیت اہل حدیث بلوچستان پاکستان)
محترم جناب فضیلۃ الشیخ محمد سلفی حفظہ اللہ (نائب امیر جماعت غرباء اہل حدیث۔ پاکستان)
محترم جناب فیصل افضل (مرکزی راہنما مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان)
محترم جناب مولانا عبد الکریم عابد (نائب امیر جمعیت علماء اسلام کراچی)
محترم جناب قاضی احمد نورانی (مرکزی رہنما جمعیت علماء پاکستان)
محترم جناب محمد حسین محنتی (سابق رکن قومی اسمبلی ومرکزی رہنما جماعت اسلامی پاکستان)
محترم جناب مولانا تاج محمد حنفی (مرکزی رہنما اہل سنت والجماعت پاکستان)
محترم جناب سردار أحمدنواز ( سینئر وائس ‘قومی وطن پارٹی پاکستان)
محترم جناب مولانا یوسف قصوری (امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث صوبہ سندھ)
محترم جناب مولانا ارشد علی ( نمائندہ خاص فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ )
محترم جناب مولانا غلام رسول ( نمائندہ خاص جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی)
محترم جناب مفتی ابو ہریرہ محی الدین (جامعہ ابو ہریرہ کلفٹن کراچی)
آخر میں ہم ان تمام جماعتوں کے اکابرین کے ساتھ مل کر یہی عزم دہراتے ہیں کہ ضیاء الرحمن کی شہادت کو کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ہم ان کے قاتلوں کی سرکوبی اور پیچھا کریں گے۔ قانونی دائرہ میں رہتے ہوئے یا ان کے قاتلوں تک پہنچ کر ان کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے یا پھر ہم بھی اسی راہ میں قربان ہو جائیں گےجس پر شیخ ضیاء الرحمن رحمہ اللہ قربان ہوئے۔
