مؤرخہ 12ستمبر کو عشاء کے بعد کا وقت تھا میں اپنے ادارے المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر ڈیفنس سے نکل کر گھر کی جانب جانے کیلئے نکلا ہی تھا کہ ہمارے محترم ساتھی شیخ یونس ربانی حفظہ اللہ کی کال آئی کہ شیخ ضیاء صاحب کو گولی لگی ہے انہیں جناح ہاسپٹل لے جایا جا رہاہے آپ وہاں پہنچیں میں بھی آرہاہوں ۔ ابتداءً ایسا لگاکہ شاید زخمی وغیرہ ہوئے ہوں گے ۔ اللہ خیر فرمادے گا ۔ فورًا جناح ہسپتال پہنچے تو جامعہ کے متعلقین میں سب سے پہلے میں اور یونس ربانی اندر ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہوئے تو شیخ سٹریچر پر بے حس وحرکت خون میں لت پت پڑے تھے ایدھی کا ایک ملازم ان کے پاؤں باندھ رہاتھا۔ یہ دیکھتے ہی ایسے لگا شاید ہم کسی عالم رؤیا میں ہیں ۔ ہمارے اوسان کا کیا عالم تھا یہ رب کی ذات ہی جانتی ہے ۔ کچھ سجھائی نہیں دے رہاتھا ۔شیخ محترم کے جسد کے قریب جانے سے وہاں کا عملہ روک رہاتھا ۔ شاید ان کے کچھ قانونی تقاضے تھے جو وہ پورا کرنا چاہتے تھے ۔ الغرض پھر ہم نے جامعہ اور دیگر گروپس میں اطلاعات نشر کیں ۔ تو یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی ۔ بعد ازاں جو مراحل پیش آئے وہ قارئین دیگر مضامین میں ملاحظہ کریں گے ۔ ہر لکھاری نے اپنی روداد لکھی ہے۔ لیکن یقین جانیے ایک باب تھا جو بند ہوگیا اور پیچھے ایسا خلا چھوڑ گیا کہ شاید ہی کوئی بھر سکے۔
یہ امر یقینی ہے کہ اہل علم کی وفات کوئی عام فرد کی طرح نہیں بلکہ علماء تو معاشرے کا نور ہیں، دین کے حاملین ہیں، انہی کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت اور اس کی نشر واشاعت کرتاہے ۔وہی لوگوں کو فتنوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور ان فتنوں اور شبہات کی سرکوبی کرتےہیں ۔ اہل علم سے استغناء ایک لمحے کیلئے بھی ممکن نہیں ہے۔ علماء کی اسی اہمیت کے پیش نظر یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ علماء کی وفات معاشرے پر دور رس اثرات چھوڑتی ہے ۔ علماء کی دعوت سے چلنے والے کئی کنویں خشک ہوجاتے ہیں ۔ایک عالم کا دنیا سے چلے جانا ایک بہت بڑی مصیبت وآز مائش ہے جس میں امت مبتلا ہوتی ۔ بقول شاعر :
وما كان قَيسٌ هلكُه هَلك واحد
ولكنه بنيان قوم تهدما
قیس کی ہلاکت ایک فرد کی ہلاکت نہیں ۔ بلکہ یہ تو ایک قوم کی بنیاد اور عمارت تھی جو زمین بوس ہوگئی ۔
عالم کی فضیلت میں امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں ابی امامہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«فَضْلُ العَالِمِ عَلَى العَابِدِ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ» (سنن الترمذي:2685)
’’ عالم کی ایک عابد پر فضیلت ایسے ہی ہےجیسا کہ میری فضیلت تم میں سے ایک ادنیٰ امتی پر۔ ‘‘
ایک اورروایت میں ہے جوکہ سنن ابی داؤد میں مروی ہے :
«فَضْلُ العَالِمِ عَلَى العَابِدِ، كَفَضْلِ القَمَرِ عَلَى سَائِرِ الكَوَاكِبِ، إِنَّ العُلَمَاءَ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ، إِنَّ الأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا إِنَّمَا وَرَّثُوا العِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَ بِهِ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ» (سنن الترمذي:2682)
’’عالم کی عابد پر فضیلت ایسے ہی ہے جیساکہ چودھویں رات کے چاند کی تمام ستاروں پر، اور علماء انبیاء کے وارث ہیں، اور انبیاء نے درہم ودینار وراثت میں نہیں چھوڑے بلکہ علم اپنی وراثت میں چھوڑا جس نے اس سے کچھ لے لیا اس نے (خیر وبھلائی کا) وافر حصہ اپنے لیے حاصل کرلیا ۔‘‘
رسول اللہ ﷺ نے علماء کی موت کو علم کے اٹھنے سے تعبیر وتفسیر کیا ہے۔ عالم دین جہاں تک رسائی رکھتاہے وہاں دین سکھاتاہے،دعوت دیتا ہے، استقامت اور اصلاح کی تلقین کرتاہے جس سے معاشرے میں برکات نازل ہوتی ہیں ۔ امت بلاؤں وآفات فتنوں سے بچتی ہے ۔
ابراہیم بن ادہم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
«إن الله تعالى يرفعُ البلاء عن هذه الأمة برحلة أصحاب الحديث»
’’اللہ تعالیٰ اصحاب حدیث کےطلب حدیث میں سفر کی برکت سے اس امت سے بلائیں اور آفات کو ٹال دیتاہے۔‘‘
عالم دین کی وفات کے باعث کتنے لوگ ہیں جو خیر سیکھنے سے محروم ہوجاتے ہیں، کتنے ہیں جو دعاؤوں سے محروم ہوجاتے ہیں اور کتنے ہیں جو فتنوں کے دور میں صحیح رہنمائی سے محروم ہوجاتے ہیں ۔ عالم دین کی موت محرومیاں ہی محرومیاں چھوڑ جاتی ہے ۔ ہمارے شیخ ضیاء الرحمٰن رحمہ اللہ بھی ایسا ہی ایک چشمہ تھے جنہوں نے بہت سوں کو اپنے دعوتی خطابات سے سیراب کیا، سوالات کے جوابات دیئے ۔ اپنےزیر ادارت جامعہ ابی بکر،جامعہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور دیگر ذیلی اداروں میں علمی دعوتی پروگرامز اور کانفرنسز کا اہتمام کیا ۔ حتی کہ آپ اپنی وفات سے چند دن پہلے ہی ناموس صحابہ اور دفاع صحابہ میں جامعہ ستاریہ میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں شریک ہوئے، والہانہ خطاب کیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے ۔ آپ رحمہ اللہ کتنے اصلاحی درس دیتے تھے ۔ حتی کہ جس دن ان کی شہادت ہوئی عین شہادت کے کچھ لمحے بعد ہی ایک ساتھی نے موبائل فون پر ان سے جمعہ کا ٹائم لینے کیلئے فون کیا تو پتا چلا کہ سانحہ عظیم رونما ہوچکا ہے ۔ تو اب آپ اندازہ کریں یہ جتنے لوگ بھی شیخ رحمہ اللہ کے درس ودروس سے مستفید ہوتے تھے وہ محروم ہوگئے ۔ آپ رحمہ اللہ کے خاندان میں آپ ہی عالم تھے جو ان میں دستیاب ہوتے تھے ۔ خاندان والے ان سے رہنمائی لیتے ۔ اپنی اصلاح کرتے ان سے اپنے تنازعات کے فیصلے کراتے ۔ آپ طویل عرصے سے جامعہ ابی بکر اسلامیہ میں ادارتی وتدریسی خدمات انجام دے رہے تھے ۔فرائض کا علم پڑھاتے جسے رسول اللہ ﷺ نے ’’نصف العلم‘‘ یعنی آدھا علم قرار دیاہے ۔ اور فرمایا کہ دنیا سے سب سے پہلے یہی علم اٹھے گا ۔ اس کے علاوہ آپ حدیث کی تدریس کرتے ۔ جامعہ ابی بکر اور جامعہ عائشہ صدیقہ کے طلباء وطالبات کتنی خیر کثیرِ ووفیر سے محروم ہوئے یہ تو انہی سےپوچھئے۔ ہمارے ایک ادارے کے ساتھی کہتے ہیں میں جامعہ میں پڑھتا تھا کہ کرونا کی وباکا دور آگیا ۔ حکومت کی طرف سے اعلان ہوا کہ مدارس ومساجد کو بھی بند کردیا جائے ۔ طلباء کو چھٹیاں دے کر گھر روانہ کردیا جائے ۔ وہ ساتھی کہتے ہیں میرےکچھ گھریلو مسائل تھے جس کیلئے میں صبح جامعہ میں پڑھتا اور شام کہیں کام کرتا تھا ۔ جب حکومتی احکامات آئے ادارے کی ذیلی انتظامیہ نے ان ساتھی کو بھی رہائش خالی کرنے کا کہا لاکھ کاوش کے بعد وہ راضی نہ ہوئے ۔ وہ ساتھی کہتے ہیں میں نے شیخ ضیاء الرحمٰن کو واٹس ایپ کیا اپنا بتایا کہ فلاں کلاس میں پڑھتاہوں اور یہ مسئلہ پیش آیا ہے انتظامیہ نے مجھے جامعہ میں رہنے سے منع کردیا ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں شیخ ضیاء کا فون آگیا کہا آپ ہمارے طالب علم ہیں، ہمارے مہمان ہیں آپ جامعہ میں ہی رہیں گے کوئی آپ کو رہائش میں رہنے سے منع نہیں کرسکتا ۔اور آپ نے فورا مشرفین اور انتظامیہ کو احکامات دیئےکہ اس طالب علم کو کچھ نہ کہا جائے یہ یہیں رہے گا ۔ بہت بڑی بات اور طلباء علم کی قدردانی کی اعلیٰ مثال ہے کہ ایک ادنیٰ ابتدائی کلاس کے طالب علم کو فوری رپلائی دینا فون کرکے جبکہ طالب نے میسج کیا تھا ۔ اور اسے یقین دلانا کہ آپ بالکل بے فکر ہوجائیں ۔آپ کو جامعہ سے جانے کا کوئی نہیں کہے گا:
ڈھونڈ کر لاؤں کوئی تجھ سا کہاں سے آخر
ایک ہی شخص ہے بس تیرا بدل یعنی توٗ
عالم دین کی ضرورت لوگوں کو کھانے پینے سے زیادہ رہتی ہے ۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
«الناس أحوج إلى العلم منهم إلى الطعام والشراب، لأن الطعام والشراب يحتاج إليه في اليوم مرتين أو ثلاثا، والعلم يحتاج إليه في كل وقت».
’’لوگوں کو کھانے پینے سے زیادہ علم کی ضرورت ہے، کیونکہ کھانے پینے کی ضرورت دن میں دو یا تین دفعہ ہی پڑتی ہے جبکہ علم کی انسان کو ہر وقت ضرورت رہتی ہے ۔ ‘‘
اور علم علماء کے ساتھ قائم ہے۔ علماء نہیں تو علم نہیں،اس لئے رسول اللہ ﷺ نے جب علم کے اٹھ جانے کا تذکرہ کیا تو فرمایا: جیساکہ امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں یہ حدیث نقل کی اور اس پر امام نووی رحمہ اللہ نے یہ باب باندھا کہ : «باب رَفْعِ الْعِلْمِ وَقَبْضِهِ وَظُهُورِ الْجَهْلِ وَالْفِتَنِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ» باب: آخر زمانہ میں علم کی کمی ہونا۔‘‘
امام مسلم نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی حدیث نقل کی، جس میں رسول اللہ ﷺکافرمان ہے:
«إِنَّ اللهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَتْرُكْ عَالِـمًا، اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا»(صحيح مسلم:2673)
’’اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں سے چھینتے ہوئے نہیں اٹھائے گا بلکہ وہ علماء کو اٹھا کر علم کو اٹھا لے گا حتی کہ جب وہ (لوگوں میں) کسی عالم کو (باقی) نہیں چھوڑے گا تو لوگ (دین کے معاملات میں بھی) جاہلوں کو اپنا سربراہ بنا لیں گے۔ ان سے (دین کے بارے میں) سوال کیے جائیں گے تو وہ علم کے بغیر فتوے دیں گے، اس طرح خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔‘‘
اس حدیث میں واشگاف الفاظ میں بتا دیا گیا کہ علماء اٹھ گئے تو علم اٹھ جائے گا ۔ اور علم کے اٹھ جانے کا مطلب ہے فتنوں کا در آنا، جہالت کا عام ہونا ۔
اما م عبداللہ بن احمد بن حنبل رحمہمااللہ فرماتے ہیں :
«قلت لأبي: أي رجل كان الشافعي، فإني سمعتك تكثر من الدعاء له؟ قال: يا بني كان كالشمس للدنيا وكالعافية للناس، فهل لهذين من خلف أو منهما من عوض».
’’میں نے اپنے والد سے کہا کہ : یہ شافعی کیسی شخصیت ہیں ؟ میں نے سنا کہ آپ ان کیلئے بہت دعا ئیں کرتے ہیں : امام احمد فرمانے لگے : اے میرے بیٹے شافعی دنیا والوں کیلئے سورج کی مانند تھے، لوگوں کیلئے عافیت کی طرح تھے، تو کیا سورج اور عافیت کا کوئی ثانی ہے کیا ان کا کوئی بدل یا عوض ہے جو دنیا والوں کو مل سکے ۔‘‘
علماء اور خشیت لازم وملزوم ہیں : فرمان باری تعالیٰ ہے : :
اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا(فاطر:28)
’’اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔‘‘
علماء احکام کے بیان اور عقیدہ کی وضاحت کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں فرمان باری تعالیٰ ہے :
فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(النحل:43)
’’ پس تم اہل علم سے پوچھ لو اگر تمہیں علم نہ ہو۔‘‘
نیک اور صالح اہل علم جو امر بالمعروف والنھی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے ہیں وہ امت کو ہلاکت سے بچانے کا بہت بڑا وسیلہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس امت کو تباہ وبرباد نہیں کرتے جس میں لوگوں کی اصلاح کرنے اور ان کی رہنمائی کرنے والے موجود ہوں ۔ فرمان باری تعالیٰ ہے :
وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّاَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ(هود: 117)
’’ آپ کا رب ایسا نہیں کہ کسی بستی کو ظلم سے ہلاک کر دے اور وہاں کے لوگ نیکوکار ہوں۔‘‘
علماء کی وفات قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے :
«إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: أَنْ يُرْفَعَ العِلْمُ وَيَثْبُتَ الجَهْلُ»(صحيح البخاري:80، صحيح مسلم:2671)
’’ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، اور جہالت عام ہوجائے گی ۔‘‘
امام سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا کہ :
«ما علامة الساعة وهلاك الناس؟ قال: إذا ذهب علماؤهم».
’’ قیامت اور لوگوں کی تباہی کی کیا نشانی ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ جب ان کے علماء چلے جائیں ‘‘ ۔
امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ
«موت العالم ثُلمة في الإسلام، لا يسدها شيء ما اختلف الليل و النهار».
’’عالم کی وفات اسلام میں ایسا شگاف ہے، رہتی دنیا تک اسے کوئی چیز پر نہیں کرسکتی ۔ ‘‘
علامہ ایوب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
«إني أُخبَر بموت الرجل من أهل السنة، فكأني أفقد بعض أعضائي».
’’جب مجھے اہل سنت میں سے کسی کی موت کی خبر دی جاتی ہےتو ایسا لگتاہے کہ میرا بدن کا کوئی حصہ کٹ کر گر گیا ہے۔‘‘
سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ شہید محراب کی وفات پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
«إني لأحسب تسعة أعشار العلم اليوم قد ذهب»
’’ میں سمجھتا ہوں دس میں سے نو حصے علم آج اٹھ گیا۔‘‘
اور سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
«وأي عقوبة أشد على أهل الجهل أن يذهب أهل العلم».
’’ اہل جہل کیلئے اس سے بڑی سزا کیا ہوسکتی ہے کہ اہل علم چلے جائیں ۔‘‘
الأرض تحيا إذا ما عاش عالمها
متى يمت عالمٌ منها يمت طرفُ
كالأرض تحيا إذا ما الغيث حلَّ بها
وإن أبى، عاد في أكنافها التلف
جب تک عالم زندہ ہے زمین زندہ ہے، اور جب عالم فوت ہوجاتاہے تو زمین کا ایک حصہ بنجر ہوجاتا ہے ۔جیسا کہ زمین زندہ ہوجاتی ہے جب اس پر برسات برستی ہے، اور اگر برسات نہ برسے تو زمین بنجر ہوجاتی ہے۔‘‘
یہ مشتے از خروارے کے طور پر ہم نے چند نصوص وآثار نقل کیے ہیں، جن میں اہل علم کے جانے سے امت کن مصائب میں مبتلا ہوتی ہے اور معاشرے کا کیانقصان ہوتاہے،اس کی نشاندہی ہوسکے تاکہ لوگ علماء کی قدر جانیں، ان کی تکریم کریں ان کے مقام ومنزلت کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی حفاظت کیلئے دعائیں کرے ۔ علماء امت کے امین ہیں جو اسے ضلالت وگمراہی سے بچا کر راہ راست پر قائم رکھتے ہیں ۔ عوام کو چاہیے کہ ان علماء کی مجالس کو لازم پکڑیں ۔ وہاں جو نور نبوت تقسیم ہو رہا ہوتاہے اسے حاصل کریں ۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :
«إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الجَنَّةِ فَارْتَعُوا قَالُوا: وَمَا رِيَاضُ الجَنَّةِ؟ قَالَ: حِلَقُ الذِّكْرِ» (سنن الترمذي:3510)
’’ جب جنت کے باغیچوں سے گذرو تو وہاں سے کچھ لے لیا کرو،آپ ﷺ سے کہا گیاکہ اے اللہ کے رسول ﷺ جنت کے باغیچے کون سے ہیں، فرمایا : ذکر کی مجالس۔‘‘
اور علم سے بڑھ کر ذکر کیا ہے ؟ علماء کی مجالس در اصل اللہ کی یاد کی مجلسیں ہی ہوتی ہیں ۔
ایک مرتبہ سیدنا ابوهریرۃ رضی اللہ عنہ نے بازار میں جاکر ندا لگائی کہ اے تاجروں کی جماعت مسجد میں رسول اللہ ﷺ کی وراثت تقسیم ہو رہی ہے اور تم یہاں بیٹھے ہو ۔ وہ اپنی تجارت چھوڑ کر مسجد کی طرف لپکے ۔مسجد میں آئے تو دیکھتے ہیں کہ لوگ کوئی نماز پڑھ رہاہے، کوئی اللہ کا ذکر کر رہاہے اور کوئی دین میں فقہ حاصل کر رہاہے، یہ دیکھ کر تاجر واپس آگئے اور کہنے لگے ۔ ہمیں تو مسجد میں کوئی چیز تقسیم ہوتی نظرنہیں آئی ۔ آپ نے کہا تم نے وہاں کیا دیکھا۔ کہنے لگے:
«وجدنا الناس بين مصلِ وذاكرٍ ومتفقه، قال: ذلك ميراثُ النبي صلى الله عليه وسلم» (رواه الطبراني في المعجم الأوسط، ح:1429، حسن إسناده المنذري)
ہم نے دیکھا وہاں لوگ کچھ نماز پڑھ رہے تھے، کچھ ذکر کر رہے تھے، اور کچھ دین میں فقہ حاصل کر رہے تھے،سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’یہی تو نبی ﷺ کی وراثت ہے۔ ‘‘
آخر میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ شیخ ضیاء الرحمن کی شہادت کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس کا وارث بنائے اور انہیں اپنے مقرب بندوں میں شامل فرمالے۔ اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل وجزیل عطا فرمائے۔ اللہ ولی التوفیق
