سندھ کے اہلحدیث مدارس میں انتہائی معتبر نام جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کے مہتمم، اپنے خاندان اور حلقہ اثر کی ہر دلعزیز شخصیت اور اہلحدیث کاز کے لئے ہرلمحہ مستعد رہنے والے مولانا ضیاء الرحمن مدنی کا افسوس ناک قتل ملک گیر سطح پر اہلحدیث جماعت کو سوگوار کر گیا پورے ملک میں غم وغصہ کی لہر پیدا ہوئی ملک کے کونے کونے پر انکے لئے دعائیں کی گئیں سینکڑوں مقامات پر غائبانہ نمازِجنازہ اداکی گئیں اجتماعات میں قاتلوں کی گرفتاری کے مطالبات کئے گئے اخباری بیانات اور سوشل میڈیا کے ذریعے جماعتوں اور شخصیات نے قتل کی مذمّت کی اور قتل کے محرکات سامنے لانے کے مطالبات کئے گئے وطن عزیز کے علاؤہ متعدد ممالک میں بھی انکے قتل کے خلاف ردعمل آیا غائبانہ نمازِجنازہ بھی ادا کی گئی یہ صورتحال اس بات کا اظہار تھی کہ مولانا ضیاء الرحمن مدنی شہید ملک اور بیرون ملک اپنا ایک اثر رکھتے تھے اور اس بات کا ثبوت بھی تھی کہ مشکل کی اس گھڑی میں انکا خاندان اور انکے ادارے تنہا نہیں بلکہ اہلحدیثوں کی تمام جماعتیں، ادارے، موئثر شخصیات اور عوام الناس انکے ساتھ ہیں۔
کیونکہ یہ سانحہ کراچی میں رونما ہوا لہذا ردعمل دکھانے اور قاتلوں کی گرفتاری کے لئے احتجاج منظم کرنے کی زیادہ ذمہ داری بھی کراچی کی اہلحدیث قیادت کی تھی اور یقیناً یہ ایک بڑی ذمہ داری تھی ۔
کراچی کی سطح پر اہلحدیث جماعتوں اور اداروں کا مشترکہ پلیٹ فارم اہلحدیث ایکشن کمیٹی پہلے وضع ہوچکا تھا اس پلیٹ فارم کی تشکیل تین سال قبل اس وقت ہوئی تھی جب کراچی ہی میں نمائش چورنگی پر دس محرم کے جلوس میں اعلانیہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر معاذاللہ تبرا کیا گیا تو تمام سنی مکاتب فکر میں غم و غصّے کی لہر دوڑ گئی اور تمام مکاتب فکر کی قیادت نے اس واقعے کے ردعمل کو منظم کیا چنانچہ اہلحدیث جماعتوں اور اداروں کا نمائندہ اجلاس مرکزی جمعیت اہلحدیث کراچی کی دعوت پر ادارہ فروغ قرآن وسنت جہانگیر آباد میں منعقد ہوا جس میں اہلحدیث ایکشن کمیٹی برائے دفاع صحابہ و اہلبیت کا پلیٹ فارم تشکیل پایا اس ایکشن کمیٹی کی سر پرستی کراچی کی مایہ ناز اہلحدیث شخصیات علامہ عبداللہ ناصر رحمانی، مفتی محمد یوسف قصوری،حافظ محمد سلفی،ڈاکٹر خلیل الرحمٰن لکھوی، مولانا ضیاء الرحمن مدنی شہید، ڈاکٹر عبد الحی مدنی اور حکیم ناصر منجاکوٹی نے قبول کی اور انہی سرپرستوں کی رہنمائی میں اہلحدیث ایکشن کمیٹی دفاع صحابہ کرام کے سلسلے میں کراچی کی تاریخ کی ایک بہت بڑی ریلی نکال پائی یہ ریلی انتہائی چیلنجنگ صورتحال میں نکالی گئی تھی کیونکہ گزشتہ دو روز دیوبندی اور بریلوی اپنی طاقت کا مظاہرہ کر چکے تھے اور اب سب کی نظریں اہلحدیث کی احتجاجی ریلی کی طرف تھیں کہ اب یہ کیا کرتے ہیں الحمدللہ اس ریلی کی زبردست کامیابی سے سب پر واضح ہوا کہ اگر اہلحدیث متحد ہوں تو یہ کوئی معمولی قوت نہیں ہیں اہلحدیث ایکشن کمیٹی اور اسکے سرپرستوں کو بھی حوصلہ ملا اور اس اتحاد کی افادیت کے پیش نظر اس اتحاد کو قائم رکھنے اور وقتاً فوقتاً اسکی بیٹھکیں کرنے پر اتفاق ہوا اور یہ سلسلہ یوں چلتا رہا ۔
مولانا ضیاء الرحمن مدنی کی شہادت کے بعد اہلحدیث ایکشن کمیٹی نے اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے جنازے سے قبل ہی ایکشن کمیٹی کا ہنگامی اجلاس جامعہ ابی بکر میں ہی طلب کیا کمیٹی کے دو سرپرست مفتی محمد یوسف قصوری اور ڈاکٹر عبد الحی مدنی بھی اجلاس میں شریک ہوے ایکشن کمیٹی کے کنوینئر مولانا افضل سردار قائم مقام رابطہ سیکریٹری محمد مزمل صدیقی ایکشن کمیٹی میں جامعہ ابی بکر کے نمائندے ڈاکٹر فیض الابرار اور ڈاکٹر مقبول احمدمکی اور جامعہ ابی بکر کے عبوری مہتمم شیخ ڈاکٹر محمد افتخار شاہد نے خصوصی شرکت کی ۔اجلاس کے بعد پریس بریفنگ تھی ایک درجن سے زائد چینلز کے نمائندے اپنے کیمرہ مینز کے ساتھ منتظر تھے کہ اجلاس کے بعد اہلحدیث قیادت کیا موقف پیش کرتی ہے ۔ اجلاس میں بھی یہی بات زیر غور تھی پولیس اس اندوہناک قتل کو را کے کھاتے میں ڈالنے کا بیان دے چکی تھی جس پر سب ہی کو تحفظات تھے قاتل پکڑے بغیر کسی کے ملوث ہونے کا اعلان کیسے کیا جا سکتا ہے ۔ ادھر واقعے سے دو روز قبل اہلحدیث ایکشن کمیٹی کے تحت جامعہ ستاریہ اسلامیہ میں دفاع صحابہ و اہلبیت کنونشن ہوچکا تھا جس میں ناموس صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم ترمیمی بل کے بھرپور دفاع کا عزم کیا گیا تھا فطری طور پر ذہن اس طرف جارہا تھا کہ کہیں یہ دہشت گردی اس واقع کا ردعمل تو نہیں لیکن سوال یہ تھا کہ اگر ایسا ہے تو پھر اس تحریک اور اس کنونشن کے فعال محرکین کو نشانہ کیوں نہ بنایا گیا جیساکہ تین سال قبل اسی طرح کی تحریک کے ردعمل میں مولانا عادل خان کو شہید کیا گیا تھا ۔ سوچ کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ کہیں قاتل قوتوں نے مخصوص حالات کا فائدہ تو نہیں اٹھایا جبکہ قتل کے محرکات کچھ اور ہوں ۔ لہذا سب کا اس پر اتفاق تھا کہ محض قیاس کی بنیاد پر کسی کو مورد الزام ٹھہرا کر باقی امکانات کو نظر انداذ کرنا درست نہیں ہو گا پھر آخر منتظر میڈیا کے سامنے کیا موقف رکھا جائے سوال یہ تھا ۔
اس حوالےسے کیونکہ اجلاس سے قبل بھی بات چیت ہورہی تھی اور اکابرین نے کچھ ہدایات بھی دے رکھی تھیں لہٰذا میں نے ان ہی ہدایات کی روشنی میں پریس بریفنگ کے لئے کچھ تحریری مواد تیار کیا تھا جو اجلاس میں پڑھ کر سنایا گیا اور مشاورت کے بعد معمولی ردوبدل کے ساتھ اس پر اتفاق کر لیا گیا اجلاس کے بعد اہلحدیث ایکشن کمیٹی کے سرپرست مفتی محمد یوسف قصوری صاحب نے میڈیا کے سامنے اعلامیہ پڑھ کر سنایا اور سوالوں کے جوابات دئیے اعلامیے میں کہا گیا کہ « مولانا ضیاء الرحمن مدنی دینی قوتوں کا قیمتی سرمایہ تھے انکا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے تحقیقاتی ادارے فرقہ واریت سمیت تمام امکانات کا جائزہ لیں تمام وسائل بروئے کار لاکر قاتلوں کا کھوج نکا لیں تمام مقتدر شخصیات اس حوالےسے اپنی ذمہ داری پوری کریں اور قتل کی تحقیقات اور قاتلوں کی گرفتاری کے سلسلے میں تمام ضروری اقدامات کریں ۔ مجرموں کو گرفتار کر کے قتل کے محرکات اور پس پردہ قوتوں کو بے نقاب کیا جائے» تفصیلی اعلامیہ میں اور بھی بہت کچھ تھا بنیادی مؤقف یہی تھا کہ تحقیقات محض قیاس کی بنیاد پر نہیں ٹھوس شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھائی جائیں تمام پہلوؤں اور امکانات کو پیشِ نظر رکھا جائے اور جلد از جلد قاتل،قتل کے محرکات اور قاتل قوتوں کو سامنے لایا جائے۔
ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی پر بھی بات ہوئی جنازے کا وقت اور مقام جامعہ کی انتظامیہ نے لواحقین کی مشاورت سے پہلے ہی طے کرلیا تھا اور اعلان بھی کیا جاچکا تھا ۔
ایسی صورت حال میں سب جانتے ہیں کہ فیصلے کر نے والوں پرکتنے دباؤ ہوتے ہیں باہر بیٹھے ہوئے لوگ اپنے تئیں جماعت اور مسلک کےسب سے بڑے خیرخواہ بن کر مشوروں کی لائن لگا دیتے ہیں ایسے مشورے زمینی حقائق سے بلکل میل نہیں کھاتے لیکن ان مشوروں کو اتنے اعتماد سے پیش کیا جارہا ہوتا گویا ان پر عمل درآمد بائیں ہاتھ کا کھیل ہو سوشل میڈیا کے یہ مجاہدین نہ تو شریعت کے تقاضے جانتے ہیں اور نہ انھیں ان معاملات میں جماعت اور جماعت کی قیادت کرنے والوں کی استعداد کا ادراک ہوتا ہے اور نہ ہی عوام میں تربیت اور جذبہ قربانی کے فقدان کا احساس ہوتا ہے ایسے لوگ صرف مشورے دیکر ہیرو بننا چاہتے ہیں اپنی بزدلی کی وجہ سے ایسے معاملات میں فرنٹ لائن پر آکر اپنا عملی کردار ادا کرنے سے قاصر ہوتے ہیں لیکن فیس سیونگ کے لئے سوشل میڈیا کے ذریعے کام کرنے والوں پر کڑی تنقید اور فری کے مشوروں کی بھرمار کئے جاتے ہیں چنانچہ فیصلے کر نے والوں اور کام کرنے والوں کو دباؤ کا سامنا رہتا ہے اہلحدیث ایکشن کمیٹی کو مشورے دئیے جارہے تھے کہ مقتول کے جنازہ فلاں روڈ پر یا گورنر و وزیر اعلیٰ ہاؤس پر رکھ کر دھرنا دیا جائے پھر دیکھو انتظامیہ کیسے ہلتی ہے ایکشن کمیٹی کو تنقید کانشانہ بنایا جارہا تھا کہ نماز جنازہ کہاں ایک کونے میں رکھ دیا بیچ شہر میں رکھا جاتا تو حکومت پر کتنا دباؤ ڈالا جاسکتا تھا ۔ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کواس قسم کی تنقید کا سامنا تھالیکن وہ جذباتیت سے بالاتر ہو کر جامعہ اور شہید کے لواحقین کی مشاورت سے اقدامات کرتے رہے جامعہ پلس لواحقین ایکشن کمیٹی کی تائید کررہےتھے اور ایکشن کمیٹی انکی سرپرستی اور نصرت کررہی تھی اور باہمی انڈرسٹینڈنگ سےامور کی انجام دہی ہو رہی تھی۔ اجلاس اور پریس بریفننگ کے فوری بعد ایکشن کمیٹی کے 9 رکنی وفد نے ایڈیشنل آئی جی سندھ سے مفتی یوسف قصوری صاحب کی قیادت میں ملاقات کی اور تحقیقات میں اس وقت تک کی پیش رفت سے آگاہی حاصل کرنے کے ساتھ ان پر دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ تحقیقات میں کسی قسم کی سستی اور غفلت برداشت نہیں کی جاسکتی ملک کسی احتجاج کا متحمل نہیں اسلئے ہمارے لوگوں کو انتظامیہ کے لئے مسئلہ بننے پر مجبور نہ کیا جائے اگلے دن صبح 9 بجے جنازہ تھا اور کراچی،اندرون سندھ،بلوچستان،پنجاب اور کے پی کے سے علماء رہنماؤں اور عوام کی بہت بڑی تعداد ماڈل کالونی کے گول گراؤنڈ پہنچ کر مولانا ضیاء الرحمن مدنی شہید کی نماز جنازہ میں شرکت کی متمنی تھی۔
ماڈل کالونی کے گول گراؤنڈ میں 9 بجے جنازہ ہونا تھا صبح ہی سے لوگ پہنچنا شروع ہوگئے تھے کراچی اور بیرون کراچی علماء کی کثیر تعداد گراؤنڈ میں موجود تھی دیگر مکاتب فکر کے علماء بھی نظر آرہے تھے۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے نائب امیر حافظ عبد الحمید عامر صاحب جہلم سے آئے ہوئے تھے پشاور سے بزرگ عالم دین بقیۃ السلف مولانا عبد العزیز نورستانی علماء کے ایک وفد کے ساتھ جنازے میں شریک تھے اسی طرح کوئٹہ سے شہید ضیاء الرحمن مدنی کلاس فیلو قریبی دوست مولانا عصمت اللہ سالم دیگر کئی احباب کے ساتھ جنازے میں موجود تھے سکھر سے ممتاز قلمکار مولانا عبد الرحمن ثاقب،قاری محمد عثمان نوابشاہ سے مولانا سیف الرحمن ایک وفد کے ساتھ آئے تھے اندرون سندھ سے اور بھی کئی احباب جنازے میں موجود تھے کراچی سے علماء اور اہم شخصیات کی ایک لمبی فہرست ہے جو نماز جنازہ میں شریک ہوئی ان تمام کے نام اس مختصر کالم میں لکھنا محال ہے ۔
نمازِ جنازہ کی امامت کے لئے فیصل آباد سے فضیلۃ الشیخ مولانا مسعود عالم صاحب تشریف لائے تھے ۔ جنازے میں شرعی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا گیا جنازہ جو پہلے ہی بوجوہ تاخیر کا شکار ہو چکا تھا اب مزید ایک منٹ کی تاخیر نامناسب سمجھی گئی طے شدہ وقت پر جنازے کی نماز شروع کی گئی انتہائی رقت کے ساتھ دعا ہوئی کیا خوش نصیبی تھی کہ سینکڑوں علماء عظام ہزاروں طلباء کرام وموحدین متقی پرہیز گار اور تہجّد گزار لوگ جنازے میں مرحوم کے لئے رو رو کر دعا کررہے تھے اور پھر یہیں پر بس نہیں تھی دنیا کے تقریباً 45 ممالک میں پھیلے ہوئے جامعہ ابی بکر کے فاضلین نہ جانے کہاں کہاں غائبانہ نمازِجنازہ ادا کررہے تھے اور اپنی دعاؤں میں مرحوم کے لئے مغفرت طلب کررہے تھے یہی حال وطن عزیز پاکستان کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ابناءالجا معہ کا تھا نیز تمام ہی اہلحدیث جماعتیں وہ سب بھی مولانا ضیاء الرحمن مدنی کے لئے دعاؤں اور غائبانہ نمازِجنازہ کا اہتمام کررہے تھے۔
علماء کی رہنمائی میں منتظمین جنازہ نے اجتماع جنازہ کو احتجاجی اجتماع میں تبدیل ہو نے نہیں دیا نہ کوئی احتجاجی تقریر نہ انتظامیہ کو کوئی الٹی میٹم اور نہ جنازے کے بعد روڈ بلاک کرنے یا دھرنا دینے کے اعلانات نہ کوئی توڑ پھوڑ بلکل عام جنازوں کی طرح نماز جنازہ پڑھی گئی اور تدفین کےلئے قبرستان روانہ ہوگئے یقیناً جذباتی لوگ اور بالخصوص نوجوان اس طرح جنازے کی توقع نہیں کررہے تھے البتہ ایک احتجاج سے سب کو تسلی بھی ہوئی اور سب ہی نے اسے سراہا بھی ۔ ہوا یہ کہ مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سینئر نائب امیر ڈاکٹر علی محمد ابوتراب d تعالیٰ جو اگرچہ ملک میں نہیں تھے تاہم مولانا ضیاء الرحمن مدنی شہید قتل کے بعد کی صورتحال سے لمحہ بہ لمحہ باخبر تھے انھوں مقامی نظم کو ہدایت کی کہ جنازے سے قبل جنازگاہ کے تمام راستوں پراور شہر کی نمایاں جگہوں پر قاتلوں کی گرفتاری کے مطالبے کے بینرز لگا دئیے جائیں تاکہ جنازے کو کور کرنے والی لاءانفورسمنٹ ایجنسیز اور صوبائی وزارت داخلہ اس پر امن احتجاج کا دباؤ محسوس کریں چنانچہ مقامی نظم نے راتوں رات علاقے کو احتجاجی بینرز سے بھر دیا اور شہر کے کئی دیگر علاقوں میں بھی بینرز آویزاں کردئیے گئے
تدفین کے بعد جامعہ ابی بکر میں تعزیت کےلئے آنے والوں کا تانتا بندھا رہا علماء،طلباء عام جماعتی اور دیگر مکاتب فکر کی جماعتوں کے رہنما سب ہی اظہار ہمدردی اور دعائیں کررہےتھے ۔تعزیت کےلئے آنے والوں میں ابوہریرہ اکیڈمی لاہور سے محترم میاں جمیل d تعالیٰ،جمعیت علمائے اسلام کے جنرل سیکرٹری سینیٹر مولانا عبد الغفور حیدری، قاری عثمان، مولانا عبد الکریم عابد، جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ مولانا اویس نورانی، جامعہ بنوریہ سائٹ کے مہتمم مفتی محمد نعمان نعیم بنوری ٹاؤن کے مولانا فخر الاسلام جامعہ فاروقیہ کے شیخ الحدیث مولانا محمد انور،ناظم تعلیمات جامعہ فاروقیہ الشیخ عبد الرزاق، مفتی حبیب حسین مولانا شبیر احمد عثمانی اور دیگر شامل تھے ۔
تعزیتوں کا سلسلہ بھی تھا اور قاتلوں کی گرفتاری کے سلسلے میں انتظامیہ سے روابط بھی ہورہےتھے جامعہ کی انتظامیہ اور مرحوم کے اہل خانہ تفتیشی افسر ان سے مکمل تعاون کررہےتھے اور متعلقہ افسران بھی تحقیقات کے سلسلے میں جاری پیش رفت کی روشنی میں اچھی امیدیں دلا رہے تھےانویسٹیگیشن ٹیم کی بھرپور دلچسپی اور سرگرمیاں اطمینان کا باعث تھیں ۔
15 ستمبر کو مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے ناظم اعلیٰ سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبد الکریم کی اپیل پر ملک بھر میں خطبات جمعہ میں مولانا ضیاء الرحمن مدنی کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی احتجاجی قرار دادیں منظور کروائی گئیں اور دعا کے لئے غائبانہ نمازِجنازہ کا اہتمام کیا گیا نیز کچھ علاقوں سے نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہروں کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر نظروں سے گزریں ملک اور بیرون ملک سے مولانا ضیاء الرحمن مدنی کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف جو ردعمل آرہا تھا وہ غیر معمولی قرار دیا جاسکتا ہے ۔
قتل کے تیسرے دن اہلحدیث ایکشن کمیٹی کے سرپرست مفتی محمد یوسف قصوری نے احبابِ کے ساتھ جامعہ کی انتظامیہ اور بلخصوص مولانا ضیاء الرحمن مدنی شہید کے جانشین مولانا حافظ عبیداللہ صاحب سے طویل مشاورت کی اس موقع پر حافظ عبد الحمید عامر آف جہلم بھی موجود تھے انھوں نے بھی مشاورت میں بھرپور حصہ لیا احتجاج کی ضرورت اور مروجہ طریقہ کار کی اہمیت اجاگر کی ۔جمعے کے اگلے روز اہلحدیث ایکشن کمیٹی کا ایک ہنگامی اجلاس کنوینئر شیخ الحدیث مولانا محمد افضل سردار نے جامعہ ابی بکر میں طلب کیا اجلاس میں قتل کے بعد سے اب تک کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور مولانا ضیاء الرحمن مدنی کے قتل کیس کی تفتیش کے سلسلے میں سست روی پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور انتظامیہ پر دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر مشاورت کی گئی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے اس واقعے پر دیگر مکاتب فکر کی ہمدردیاں ہمارے ساتھ ہیں ان ہمدردیوں کو اپنی طاقت بنانے کے لئے ایک تعزیتی پلس احتجاجی اجتماع منعقد کر لیا جائے قاتلوں کی گرفتاری کے لئے مشترکہ آواز یقیناً مؤثر ثابت ہوگی اگلے دن ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبد الکریم کی تعزیت کے لئے کراچی آمد کا شیڈول ہمیں مل چکا تھا یہ ایک اچھا موقع تھا کہ ہم حافظ صاحب کی صدارت میں ہی اس اجتماع کا انعقاد کر ڈالیں ایکشن کمیٹی کے تمام اراکین اس معاملے میں متفق تھے اجتماع کے انعقاد کی تیاری کے لئے ہمارے پاس پورے 24 گھنٹے بھی نہیں تھے ہم عصر کے بعد یہ فیصلہ کررہے تھے اور اگلے دن ظہر کے بعد پروگرام منعقد کرنا تھا ٹاسک مشکل ضرور تھا تاہم نا ممکن نہیں تھا فوری طور پر مختلف سیاسی ومذہبی رہنماؤں کو دعوتیں دینا شروع کر دی گئیں اسی طرح میڈیا کو کوریج کے لئے دعوت نامے ارسال کر دیئے گئے اجتماع جامعہ ابی بکر کی مسجد کے ہال میں طے کیا گیا تھا ۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے مرکز سے ناظم اعلیٰ صاحب کے علاوہ انتہائی متحرک اور فعال رہنما نائب ناظم مالیات حافظ فیصل افضل شیخ بھی تعزیت کے لئے کراچی تشریف لارہے تھےایک اور بھی حوصلہ مند خبر ہمیں اس وقت ملی جب ڈاکٹر شیخ علی محمد ابو تراب صاحب کا فون آیا کہ وہ بھی تعزیتی واحتجاجی اجتماع میں شرکت کے لئے بحرین سے صبح کراچی پہنچ رہے ہیں ۔
اگلے دن جامعہ ابی بکر میں معمول کے مطابق تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری رہا اس میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں آنے دی گئی ساڑھے بارہ بجے چھٹی کے بعد جامعہ کے اساتذہ کی رہنمائی میں طلبہ نے منٹوں میں پروگرام کا بہترین انتظام کر ڈالا ۔
الحمدللہ چند گھنٹوں کے شارٹ نوٹس پر منعقد ہونے والا اجتماع،انتظام، مختلف مکاتب فکر کے مہمانوں اور علمائے اہلحدیث کی شرکت اور میڈیا کی آمد کے اعتبار سے کامیاب اور بامقصد پروگرام ثابت ہوا۔
تعزیتی اجتماع میں سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبد الکریم، ڈاکٹر علی محمد ابو تراب، حافظ فیصل افضل شیخ صاحبان جو بیرون شہر سے تشریف لائے تھے انکے علاوہ جمعیت علمائے اسلام ( ف) کے حافظ عبد الکریم عابد،جماعت اسلامی کے مولانا محمد حسین محنتی، جمعیت علمائے پاکستان کے قاضی احمد نورانی، اہلسنت والجماعت کے مولانا تاج محمد حنفی،جامعہ اسلامیہ کلفٹن کے مولانا ابوبکر محی الدین جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مولانا غلام رسول، قومی وطن پارٹی کے سردار احمد نواز، جماعت غرباء اہلحدیث کے حافظ محمد سلفی، جمعیت اہلحدیث سندھ کے مولانا ارشد علی اور مرکزی جمعیت اہلحدیث سندھ کے تقریباً تمام نمایاں رہنما شریک ہوے اجتماع میں مقررین نے جہاں مولانا ضیاء الرحمن مدنی کے قتل کی بھرپور مذمت کی اور قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا وہاں مولانا ضیاء الرحمن مدنی کی شخصیت اور خدمات پر بھی اظہارِ خیال کیا گیا اس طر ح ملکی میڈیا اور حکومت و انتظامیہ تک مشترکہ اور مؤ ثر آواز پہنچائی گئی ۔
قتل کیس کے تفتیشی افسران جامعہ کی انتظامیہ اور لواحقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے بظاہر بہت ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جارہا تھا اہلحدیث ایکشن کمیٹی بھی جامعہ کے ساتھ ملکر دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کررہی تھی گورنر سندھ، وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ،ایڈیشنل آئی جی سندھ متعلقہ ڈی آئی جی اور متعلقہ ایس پی سب سے مولانا ضیاء الرحمن مدنی شہید قتل کیس کے سلسلے میں ملاقاتیں کی گئیں سب سنجیدہ نظر آئے ۔قتل کے تقریباً انیس دن بعد پولیس نے دعویٰ کیا کہ قاتل گرفتار کرلئے گئے جن کی تعداد چار بتائی گئی جنکے نام گل شیر ولد نور خان، حق نواز گوپانگ ولدعاشق حسین، عمیر ولد محمد ماجد اور یاسین ولد زرزمین بتائے گئے بتایا گیا یہ عادی مجرم ہیں اور اسٹریٹ کرائم کی لاتعداد وارداتوں میں ملوث ہیں اور انھوں نے مولانا ضیاء الرحمن صاحب کو بھی موبائل چھیننے کے دوران مزاحمت پر قتل کیا قاتلوں کے بارے میں لواحقین،جامعہ کے اساتذہ اور ایکشن کمیٹی کے رہنما کے ساتھ تبادلہ خیال کیا گیا۔سوال وجواب کا موقع بھی دیا گیا تاہم اب بھی کئی سوال تشنہ ہیں کسی کو بھی اس بات پر اطمینان نہیں ہورہا کہ جماعت کا قیمتی اثاثہ اتنی موئثر شخصیت ڈکیتی مزاحمت پر قتل ہوئی قاتلوں نے جو کہانی بیان کی وہ بھی ناقابل فہم ہے مقتول سے کچھ بھی چھینا نہیں گیا تھا موبائل بھی موجود تھا دو طرف سے بارہ تیرہ گولیاں کیسے اور کیوں کر چلیں ؟ اس قسم کے کچھ اور سوالوں کے تسلی بخش جواب ابھی نہیں ملے ۔
قتل کے محرکات کے حوالے سے ہمارے تحفظات موجود ہیں لیکن انویسٹیگیشن ٹیم کا اصرار وہی ہے کوئی نیا انکشاف اب تک سامنے نہیں لایا گیا البتہ سرغنہ کی گرفتاری ابھی ہونا باقی ہے ممکن ہے کچھ نئے انکشافات سامنے آئیں ۔
ہمارا بھروسہ اللہ کی ذات پر ہے یقیناً وہ مظلوموں کے ساتھ ہے ہم اللہ سے اس قتل کیس میں مدد اور انصاف کے طلبگار ہیں ۔
