ادارے کی طرف سے کہا گیا کہ بہن سے کہیں کچھ شیخ محترم کی نجی زندگی سے متعلق تحریر کریں، کئی دن سے کوشش کر رہی تھی، کچھ لکھوں لیکن ہمت نہیں کرپارہی تھی۔ عجب داستان جانے کب شروع ہوئی اور کیسے ختم ہوگئی۔ جب وقتِ مقررہ ختم ہونے کے قریب ہوا تو خیال آیا اگر نہ لکھا تو لوگوں کو کیسے معلوم ہوگا کہ ایک داعی دین اپنے گھر والوں میں کیسا بہترین شخص تھا، انہوں نے اپنے ہر رشتے کو بہت خوبصورتی سے نبھانے کی کوشش کی، بیٹے کی حیثیت سے، بھائی کی حیثیت سے، شوہر اوروالد کی حیثیت سے۔
والدہ محترمہ کا اس قدر احترام وتکریم ومحبت کرتے تھے کہ مجھے ایسے محسوس ہوتا جیسے وہ قرآن کریم کی اس آیت پر عمل کرنے کی کوشش کررہے ہیں :
وَ بِالْوَالِدَيْنِ۠ اِحْسَانًا اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا (الإسراء:23)
’’والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اگر والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو۔‘‘
ہمارے گھر میں والدہ کی رائے ان کا حکم حتمی سمجھا جاتا تھا۔ضیاء کبھی والدہ کی کوئی بات نہیں ٹالتے تھے، امی جی کچھ بھی کہتیں ضیاء کا ایک ہی جواب ہوتا :جی امی جی یا ٹھیک ہے امی جی، کیا بتاؤں وہ کیسے فرمانبردار بیٹے تھے، تحریر کرتے ہوئے بھی آنسو پر ضبط مشکل ہورہا ہے۔ ایک مرتبہ اپنے کزن کے ساتھ پنجاب کا سفر کیا کزن کے گھر والوں نے آکر والدہ سے شکایت کر دی مجھے کہنے لگیں ضیاء الرحمن کو فون کرو اور کہو جہاں بھی ہو فوراً گھر واپس آؤ، میں پریشان تھی فون کروں یا نہیں کیونکہ معاملہ میرے علم میں تھا۔ بہر حال میں نے انہیں فون کیا اوروالدہ کا پیغام دیا، بس حیدرآباد سے آگے نکل چکی تھی پھر بھی انہوں نے بس رکوائی سامان بس میں ہی چھوڑا اور واپسی کی بس پکڑ کر گھر پہنچ گئے والدہ شدید غصے میں بیٹھی ہیں اور ضیاء اُن کے پیروں کو پکڑ کر ایک ہی بات دہراتے جارہے تھے ۔ امی جی مجھے معاف کردیں، امی جی مینو معاف کردیو، امی جی مینو معاف کر دیو، بلامبالغہ 3 گھنٹے تک وہی بیٹھے رہے جب تک کہ والدہ کے منہ سے یہ سن نہیں لیا ٹھیک ہے معاف کیا۔ اللہ اکبر کبیرا،کھانے پینے میں ان کی پسند کا خیال رکھتے، ان جگہوں پر ان کو لے کر جاتے جہاں جاکر ان کو خوشی ملتی، تبلیغی دورہ کے سلسلے میں جولائی 2023ء میں بلتستان جانے کا موقع ملا اس سفر کے دوران بہت کثرت سے والدہ کو یاد کیا کہ اگلی دفعہ والدہ کو اس جگہ لے کر آؤں گا وہ بہت خوش ہوں گی، کسے خبر تھی کہ وہ اگلے سال ہم میں نہیں ہوں گے۔
بہنوں کے معاملے میں بہت نرم بہت شفیق، ان کی شادیاں کر دینے کے بعد ان کو ان کے حال پر ہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ جس حد تک ممکن ہوا ان کا خیال رکھا ان کے بارے میں باخبر رہتے انہیں کسی بھی طرح کی ضرورت پیش آتی ان کی مدد کرتے، ان کے بچوں سے محبت کرتے، وراثت کے معاملے میں بھی بہنوں کے ساتھ عدل کرنے کی کوشش کی۔
ضیاء بہت سی خوبیوں کے مالک تھے، ان کی طبیعت میں بہت ٹھہراؤ تھا وہ کمال کے ضبط اورظرف کے مالک تھے یہ خوبی بہت کم لوگوں میں ہوتی ہیں بہت زیادہ بہت جلدی معاف کر دیا کرتے تھے، دل میں نہیں رکھتے تھے، اپنی ذات سے دوسروں کو زحمت دینے سے بچنے کی کوشش کرتے۔ اللہ پر بہت زیادہ توکل کرتے تھے۔
رب کے فیصلوں پر راضی رہنے والے، مجھے اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا سکھایا، اللہ سے باتیں کرنا دعائیں مانگنا سکھایا، والدین کا احترام کیسے کرتے ہیں؟ رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کس طرح کرتے ہیں، میں نے ان سے سیکھا ان کے معاملات کو دیکھ کر میرے اندر خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی دین کا علم حاصل کروں جب میں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو بہت خوش ہوئے، میرے تعلیمی سفر کے دوران لانے لے جانے کی ذمہ داری بہت خوبصورتی سے نبھائی، پڑھائی کے دوران اور دین کے کاموں میں جب جب اور جہاں جہاں مجھے ضرورت پڑی بھرپور تعاون کیا۔
بیٹی کے حفظ کی ذمہ داری کی وجہ سے پڑھنے پڑھانے کے سلسلے میں کمی آگئی، جب اس کا حفظ مکمل ہوا تو کہنے لگے آپ پھر سے پڑھنا شروع کردیں، انسان کو تمام عمر طالب علم ہی رہنا چاہیے، اس دوران موت آجائے تو آپ شہید ہیں، خود بھی ذاتی طور پر علمی مجالس میں سیکھنے کی غرض سے شرکت فرماتے، آخری مجلس جس میں انہوں نے شرکت کی وہ شیخ عبد اللہ ناصر رحمانی d تعالیٰ کی تھی۔ اپنے اساتذہ کا بے حد احترام کرتے گھر میں جب اپنے اساتذہ کا ذکر کرتے تو محسوس ہوتا جیسے کسی محبوب ہستی کا ذکر کر رہے ہیں۔ مال کی محبت دل میں کبھی نہیں آئی، اگر مال مانگا بھی تو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے لیے ۔ پہلی دفعہ جب ہم عمرہ ادا کرنے گئے تو نماز کے بعد ہم اکٹھے ہوئے تاکہ مطاف میں جاکر طواف شروع کریں، تو پوچھنے لگے دعا کی میں نے کہا جی تو کہنے لگے اللہ تعالیٰ سے بہت سا مال مانگو مجھے تعجب ہوا اور میں نے ان کی طرف دیکھا کہ یہ شخص جس کی نظر میں مال ودولت کی کوئی اہمیت نہیں وہ کہہ رہا ہے تو کہنے لگے مال ہوگا تو اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے، پھر پوچھنے لگے آپ نے کیا دعا کی میں نے بتایا کہ میں نے دعا کی ہے کہ آپ زندگی میں کبھی بھی دوسری شادی کریں تو آپ مجھ سے ایسی ہی محبت کریں جیسی نبی کریم ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کرتے تھے تو وہ زور سے ہنسے اور آمین کہہ کر میرا ہاتھ تھامتے ہوئے مطاف کی طرف چل دیئے۔ جامعہ کا کوئی نیا پروجیکٹ شروع کرتے گھر والوں سے ڈسکس بھی کرتے اورکثرت سے دعا کرنے کا بھی کہتے رہتے۔
گھر میں عدل کا یہ عالم تھا کہ جب بھی ان کے کپڑے لاتی اور ان کو دکھاتی تو کہتے آپ اپنے لیے کیا لائی ہیں جب میں کہتی کہ کچھ نہیں تو کہتے جتنے پیسوں کے کپڑے آپ میرے لیے لائی ہیں اپنے لیے بھی لے کر آئیں۔ اگر ایک بچی اپنے لیے کچھ پسند کرتی، خریدتی تو دوسری بیٹی کو بھی کہتے بیٹا آپ بھی اپنے لیے کچھ لے لیں۔
بچیاں جب بھی کوئی نیاکام سیکھتیں اُن کو بہت سراہتے ان کا حوصلہ بڑھاتے انہیں انعام دیتے، اپنی خوشی کا اظہار کرتے۔ اکثر اوقات لوگ ان سے پوچھتے، کتنے بچے ہیں توہ بتاتے ما شاء اللہ دو بیٹیاں ہیں، پوچھنے والا دعا دیتا آپ کو اللہ بیٹا بھی دے تو سن کر آمین کہتے اور ساتھ یہ بھی کہہ دیتے میری بیٹیاں بھی میرے بیٹے ہی ہیں۔
ادارے کے مدیر کی حیثیت سے لوگوں سے ملنا جلنا بہت زیادہ تھا جس کی وجہ سے اکثر انہیں تحائف ملتے وہ تحائف گھر کبھی نہیں آتے تھے وہ ان تحائف کو آگے دے دیا کرتے، وہ کہتے تھے کہ تحائف میرے عہدے کی وجہ سے مجھے ملے ہیں ورنہ لوگوں کو کیا پتہ کون ضیاء الرحمن کوئی سلام بھی نہ کرے۔
ضیاء اپنی ذمہ داریوں کی وجہ سے بہت مصروف رہتے تھے آپس میں بات کرنے کا موقع کم ملتا جس کی وجہ سے واک کرنے کی عادت بنا رکھی تھی، بعض اوقات واک بھی مصروفیت کی نظر ہوجاتی، بہرحال ہم جب واک کرنے گھر سے نکلتے تو پارک تک پیدل ہی جاتے 20 منٹ کے دوران ہم آپس میں جو بھی کام ہوتے ان کو ڈسکس کرتے، جو کام بات ان کے علم میں لانا ہوتی وہ بتاتی کسی معاملے میں اجازت درکار ہوتی وہ ان کو بتاتی، اس دوران ہم پارک پہنچ جاتے اس کے بعد ہم اپنی اپنی واک شروع کر دیتے واک کے دوران 2 تسبیحات بہت کثرت سے کرتے
لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّيْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ
اور
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
11 ستمبر بروز پیر میری طبیعت کچھ ناساز تھی میں نے کہا ضیاء آپ نے مجھ پر بہت زیادہ ذمہ داری ڈال دی ہے میں تھک جاتی ہوں اور اپنی پڑھائی پر بھی پوری توجہ نہیں دے پاتی تو کہنے لگے آپ گھبراتی کیوں ہیں۔ اللہ نے آپ سے دین کا بہت کام لینا ہے آپ تو عورتوں کی ضیاء الرحمن ہیں۔ ان کے اس طرح کے جملے میری تھکن کم کردیتے اورمجھے حوصلہ دیتے۔
12 ستمبر کا دن بھی روٹین کے مطابق بہت مصروف گزرا، شام میں جب گھر آرہے تھے تو فون کیا ( ان کی عادت تھی، راستے میں ضرور فون کرتے اور کہتے بیگم ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ میں اکثر کہتی ایسے نہ کہا کریں مجھے اچھا نہیں لگتا)، میں نے کہا مٹھائی لے آئیں، پوچھا خیریت میں نے بتایا کہ میرے بھانجے (موسی کامران) کا حفظ مکمل ہوگیا ہے وہ تین دن سے فون کر رہا تھا کہ خالہ جان مجھے ضیاء بھائی کو سرپرائز کرنا ہے آپ نہیں بتایئے گا آپ بس ضیاء بھائی سے میری بات کروادیں۔ آسٹریلیا میں رہنے کی وجہ سے ٹائم کا فرق تھا، شام میں جب وہ گھر آتے تھے، اس وقت ان کی رات کا وقت ہوتا جس کی وجہ سے بچے کی بات نہ ہوسکی، وہ میٹھائی لے آئے میں نے چائے بنائی انہوں نے پی اسی دوران مغرب کی اذان ہوگئی، کہنے لگے گھر میں جماعت کروالیتے ہیں، ہم نے نماز ادا کی، اس کے بعد میں کچن میں چلی گئی جب میں کام کرکے کمرے میں واپس آئی تو وہ جوگر پہن رہے تھے کہنے لگے میں واک کے لے جارہا ہوں آپ ملیر سے والدہ کو لے آئیں۔ میرا دل نہیں چاہ رہا تھا مگر میں یہ سوچ کر خاموش ہوگئی کہ صبح انہوں نے اسلام آباد کا سفر کرنا ہے واک کے بعد آکر آرام کرلیں گے یہ سوچ کر میں نے حامی بھر لی وہ نیچے اُتر گئے پھر ان کا فون آیا آپ کی گاڑی کا ٹائر پنکچر ہے آپ پہلے فکس کروالیں پھر جایئے گا میں نیچے اُتری اور پارکنگ سے گاڑی نکالی تو فوراً آئے اور کہنے لگے لایئے چابی مجھے دیں میں پنکچر لگا کر لاؤں میں نے کہا ٹھیک ہے۔ وہ واپس آئے گاڑی کی چابی مجھے دی اور واک کرنے چلے گئے۔ میں 10 بجے ملیر پہنچی۔ 10 بج کر 30 منٹ پر جب میں والدہ کے ساتھ گھر سے نکل کر گاڑی میں بیٹھنے لگی تو ضیاء کے کزن اقبال بھائی اور ان کے بیٹے گلی میں موجود تھے انہوں نے مجھے بلایا اور پوچھا کچھ پتہ چلا میں نے حیران ہوکر کہا :کیا ؟کہنے لگے ضیاء الرحمن کو گولی لگی ہے۔ جناح ہسپتال لے کر گئے ہیں میں نے سنا تو یہی خیال آیا موبائل Snatching ہوئی ہوگی۔ ضیاء بہت ہمت اورحوصلے والے ہیں إن شاء اللہ ٹھیک ہوجائیں گے (یہ حوصلہ ہمت مجھے بھی ضیاء کی طرف سے ملا جو تربیت انہوں نے گھر میں کی) میں واپس گھر میں داخل ہوئی اوروالدہ سے بس یہ کہا کہ ضیاء کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے۔ والدہ کا دل بہت کمزور ہے وہ بہت جلد پریشان ہو جاتی تھیں۔ میرے موبائل پر لوگوں کے فون آنا شروع ہوگئے ہر فون کرنے والا بس ایک ہی بات کہتا آپ کو پتہ چلا اور میں بھی کہے جارہی تھیں، جی مجھے کیا معلوم تھا کہ اللہ کا حکم صادر ہوچکا۔ میں نے عشاء کی نماز ادا کی۔ پھر ہسپتال جانے کا ارادہ کیا اس دوران پتہ چلا یونس ربانی ہسپتال پہنچ چکے ہیں میں مستقل ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتی رہی اچانک انہوں نے فون اٹینڈ کر لیا میں نے پوچھا: شیخ صاحب کیسے ہیں، وہ بس ایک ہی بات کر رہے تھے کہ دعا کریں جب میں نے اصرار کیا کہ میں ہسپتال آرہی ہوں تو کہنے لگے آپ کون بات کر رہی ہیں؟ میں نے کہا ان کی اہلیہ، انہوں نےکہا: بہن شیخ صاحب ہم میں نہیں رہے۔ بإذن اللہ زبان سے نکلنے والے الفاظ اس کے سوا کچھ نہ تھے۔ إنا للہ وإنا إلیہ راجعون
اللهم أجمعنا فی الجنة الفردوس
ہم مریں گے تو وہاں خلد میں عیش کریں گے۔ہم نے اس اُمید پر صبر کر رکھا ہے۔
