بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی

وہ ذی وقار شخصیت سارے شہر کو ویران کر گئی

احساسات کے چشمے اور زرخیز زمین اُس وقت ہوا کرتی ہے جب اس میں عبادت اور محبت کی وارفتگی جنم لے لیتی ہو ہر انسان کا مکمل وجود اور انسانی ڈھانچہ دل کے تابع ہوا کرتا ہے۔ جبکہ نفرت کا بیچ بھی دل کی سر زمین پر پروان چڑھتا ہے ۔ میری اور آپکی آنکھ ظاہری بینائی رکھتی ہے دل کے کنٹرول روم سے جو پیغام (Message)باڈی کے دیگر اعضا ء کی طرف فارورڈ ہوتا ہے وہی منظر چہرے اپنے اندر جذب کر لیا کرتے ہیں۔ شیخ ضیاء الرحمن شہید کی قوت گویائی سے جو بات نکلتی تھی اس میں جاذبیت اور طمانیت کے ان گنت اجزاء سمٹے ہوتے تھے یہ شخصیت کے کمال ہنر مندی کے وہ کمالات ہیں جو ہر شخص میں نہیں ہوا کرتے۔ جامعہ ابی بکر الا سلامیہ گلشن اقبال کراچی میں شیخ ضیاء الرحمن کی25سالہ تعلیمی رفاقت، اساتذہ کرام دینی شاگردان رشید، جامعہ ابی بکر کا  غیر تدریسی عملہ ان کی موجودگی اور غیر موجودگی میں نہایت احسن انداز سے اپنی ڈیوٹی سر انجام دیا کرتا رہتا تھا ۔ رب تعالیٰ نے کچھ افراد کو ایسا دل دیا ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذہانت و فطانت، برجستہ اظہار خیال، موقع مناسبت سے سامعین کرام اور اپنے اکابرین کو اپنی طرف مائل کر لینا ان کی ظرافت و حسن خلق کے وہ معیارات تھے جنہیں میں کاغذ کے صفحات پر اور اپنے دل کی دنیا میں لکھنے سے قاصر ہوں ۔ شیخ ضیاء الرحمن شہید a جامعہ ابی بکر میں اہم عہدوں پر فائز رہے اور پچھلے 8سالوں سے شیخ محترم بحیثیت مدیرالجامعہ کی حیثیت سے اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے ۔ ان کی ہمہ وقت سنجیدگی اور جامعہ کے امور سے والہانہ لگاؤ،اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ شجر تنہا سے وابستہ نہیں تھے بلکہ وہ مملکت سعودیہ عربیہ کی تعلیم و تربیت اور شریعہ لاء کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اور اپنے پیارے بابا جانی پروفیسر محمد ظفر اﷲ a کی رحلت کے بعد ان کی جانشینی کے وہ علمبردار تھے کہ کراچی کی چھوٹی چھوٹی مساجد و مدارس اور بڑے بڑے دینی جامعات میں جا کر اپنے مافی الضمیر برملا کچھ اس طرح اظہار کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ میں آج علوم اسلامیہ کی دینی درسگاہ جامعہ ستاریہ الا سلامیہ میں علماء کنوینشن سے اپنے اکابرین اور اساتذہ کرام کی موجودگی میں کس طرح گویا ہو سکتا ہوں لیکن آج مجھے کچھ کہنا ہے پھر انہوں نے اپنی لب کشائی اور جوش خطابت سے جو کچھ کہا میں اسے ضبط تحریر میں لا رہا ہوں۔ اسلئے کہ صحافت کی رنگینیاں اور صحافت کے علم بردار اپنے قلم کو اپنے الفاظوں میں بیان کرتے ہیں لیکن جامعہ ابی بکر الا سلامیہ کے مدیر الجامعہ نے نہایت فصاحت و بلاغت اور حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے کراچی بھر کے علماء کرام کی موجودگی میں کہا کہ دینی جامعات کی دوریاں اور قربتیں مجھے اور آپ کو یہاں لے آئی ہیں میں چاہتا ہوں کہ جامعہ ستاریہ کے مدیر الجامعہ پروفیسر محمد سلفی، جامعہ ابی بکر کو دور تصور نہ کیا کریں اور نہ میں دینی جامعات کو دوری کے تصور کو اپنے ذہن میں لاؤں بلکہ مسلک اہل حدیث کے تمام دینی جامعات کے مدیران جامعات، اساتذہ کرام اور لاکھوں دینی شاگردان رشید دوسرے جامعات میں جا کر اپنی تعلیمی اور طالب علمی والی روشنی کو کچھ اس طرح نبھائیں جیسے مکہ اور مدینہ کے نفوس قدسیہ اور صحابہ کرام نے آمنہ کے لعل محمد عربی ﷺ اور ان کے قافلے والوں سے ہمدردی و اُنسیت والا برتاؤ کیا تھا ۔

اپنے مختصر اور پر اثر خطاب میں شیخ ضیاء الرحمن a نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب مل کر محبتوں، قربتوں اور بھائی چارگی والے چراغ جلائیں جن کے اتحاد و اتفاق کی روشنی دور دور تک پھیل جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے اپنے جامعات میں دینی مشن کو اُجاگر کرتے رہیں لیکن اُمت مسلمہ کے دیگر افراد کو چھوڑ دینگے تو دینی تشنگان علم سے بے وفائی ہوگی۔ بلکہ ہمیں من حیث القوم چاہیے کہ ہم خوشی، غمی اور دینی جامعات کے دینی ماحول کو بہتر انداز سے لوگوں کے سامنے پیش کریں تاکہ ہم دین کی اشاعت و ترویج میں مزید وسعتوں کے چراغ جلا سکیں ۔ آخری اور اختتامی کلمات شیخ ضیاء الرحمن کے اس بات کا (In Advance)ہمیں پیغام دے رہے تھے کہ دینی جامعات کے مدیران اور رئیس الجامعات کی اجتماعی مشاورت اور ہر جامعہ میں کثیر المقاصد والے دینی پروگرامز کا انعقاد اور قرآن فہمی کی ورکشاپس اور اس کے دینی کورس ہمیں ایک دوسرے سے قریب سے قریب تر لانے میں ممدو معاون ثابت ہونگے۔ شیخ ضیاء الرحمن کے اتحاد و یگانگت اور متحد ہونے کے پیغام پر ہمیں ہمیشہ عمل کرنا ہوگا اور اپنی دینی اور علمی صفوں میں اکھٹا ہو کر دشمنان اسلام اور علماء کرام کے دشمنوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا ۔ تب ہی ہم راہِ حق و باطل میں تمیز پید ا کر سکیں گے۔ ورنہ ۔۔۔۔؟

شیخ ضیاء الرحمن شہید جیسے بردباد، تحمل مزاج، غم گسار، اپنی تقاریر میں اکابرین جماعت، صحابہ کرام اور محمد عربی ﷺکا تذکرہ کرتے کرتے آبدیدہ ہوجانا انکی گھٹی میں شامل تھا ۔ راقم الحروف اور جماعت اہل حدیث کے بے شمار ساتھیوں نے شیخ کی اس عادت کا برملا اظہار کیا ہے ۔ اﷲ تعالیٰ ان کی لحد پر ہمیشہ رحمت و مغفرت کی بیشمار برکھا برساتا رہے ۔ آمین ۔

ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں

جسے غرور ہو آئے شکار کرے مجھے

زندہ رہنا ہے تو میر کارواں بن کے رہو

اس جہاں کی پستیوں میں آسماں بن کے رہو

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *