شریعت اسلامیہ میں مہینوں کی تعداد بارہ ہے ان میں چار مہینے حرمت والے ہیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’حرمت والے مہینے ذوالقعدہ ، ذوالحجہ ، محرم اور رجب ہیں۔‘‘ (بخاری ، کتاب التفسیر سورۃ توبۃ)
یوں تو اسلام نے ہر مہینہ میںاور ہر آن و ہر گھڑی فتنہ وفساد، قتل وغارت گری اور فسق وفجور سے منع کرتا ہے مگران حرمت والے مہینوں میں ان امور سے خاص طور پر اجتناب کرنا چاہیے ان مہینوں کی حرمت وتعظیم قبل از اسلام بھی مسلم تھی ۔ کافروں کو بھی ان مہینوں میں قتل وغارت گری کی جسارت نہ ہوتی تھی مگر صد افسوس کہ آج امت مسلمہ کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ان کے اندر ان جاہلی عربوں جتنا بھی احساس باقی نہ رہا یہ امت محرم جیسے ماہ حرام میں فسق وفجور اور عصیان ومعصیت کا وہ طوفان برپا کرتی ہے کہ الامان والحفیظ
ماہ محرم کا وہ خاص دن کہ جسے رسول اللہ ﷺ نے روزہ کا دن قرار دیا تھا اور اسے کفارہ سیئات ٹھہرایا تھا عین اس دن کو خرافات وبدعات کی نذر کردیاگیا کہ عوام تو کجا خواص تک ان بدعات وخرافات کو دین سمجھ بیٹھے ہیں۔وإلی اللہ المشتکی
سن ہجری آغاز:
محرم الحرام سن ہجری کا پہلا مہینہ ہے جس کی اساس واقعہ ہجرت نبوی پر ہے اس اسلامی سن کا تقرر اور آغاز عمر فاروق رضی اللہ عنہ(۱۷ ہجری) کے عہد خلافت میں ہوا۔ (فتح الباری ، باب التاریخ)
صوم عاشوراء
ماہ محرم میں صحیح روایت سے روزہ کے سوا کوئی عمل ثابت نہیں ہے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی شہرہ آفاق کتاب منہاج السنۃ میں رقمطرا ز ہیں۔
’’جیسا کہ عاشوراء کے دن فضائل کے باب میں اہل وعیال پر وسعت نفقہ اور مصافحہ وغسل کی برکت وغیرہ کے متعلق حدیثیں بیان کی جاتی ہیںاور کہا جاتاہے کہ اس دن خاص نماز پڑھنی چاہے ۔ سراسر رسول اللہ ﷺ پر کذب اور افتراء ہے محرم میں صوم عاشوراء کے سوا کوئی عمل بسندصحیح ثابت نہیں ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے فرض نمازوں کے بعد افضل ترین نماز کی بابت پوچھا گیا تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ فرض نمازوں کے بعد افضل ترین نماز تہجد کی ہے۔ اور رمضان کے روزوں کے بعد سب سے افضل ماہ محرم کے روزے ہیں۔ (صحیح مسلم، کتاب الصیام ، باب فضل صوم محرم)
ابن عباس رضی اللہ عنہماکا ارشاد ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہود عاشوراء کے دن روزہ رکھتے ہیں فرمایا یہ کیا معاملہ ہے ؟ تم لوگ اس دن روزہ کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا یہ ایک اچھا دن ہے اسی دن اللہ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم وستم سے نجات دلائی اور اسی دن فرعون اپنی قوم کے ساتھ غرق ہوا تھا تو موسی علیہ السلام نے اظہار تشکر کیلئے اس دن روزہ رکھا اس لئے ہم بھی اسی خوشی میں اس دن کا روزہ رکھتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہاری نسبت ہمارا موسیٰ علیہ السلام سے تعلق زیادہ ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے اس دن روزہ رکھا اور اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔‘‘ (صحیح مسلم ، کتاب الصیام ، باب فضل صوم محرم)
ایک دوسری روایت میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو نو(۹) محرم کو بھی ضرور روزہ رکھوں گا تاکہ یہود کی مخالفت ہو ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگلا سال آنے سے پہلے ہی رسول اللہ ﷺ انتقال فرما گئے۔ (صحیح مسلم، حوالہ مذکورہ)
شارح سنن ترمذی علامہ مبارک پوری رحمہ اللہ تحفۃ الأحوذی میں اس حدیث کے تحت رقمطراز ہیں کہ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ قول’’ اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو نو(۹) محرم کا روزہ رکھوں گا ۔ دوامر کا متحمل ہے (۱) آپ ﷺ نے دسویں تاریخ کے روزہ کو نویں تاریخ کے روزے کی طرف منتقل کرنے کا ارادہ فرمایا یا (۲) دسویں تاریخ کیساتھ نویں محرم کا اضافہ فرمانے کا ارادہ کیا ، اب جبکہ رسول اللہ ﷺ کا انتقال قبل ازوضاحت ہوگیا تو احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ نویں ، دسویں دونوں دن روزہ رکھا جائے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ دونوں حدیثوں میں تطبیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ صوم یوم عاشوراء تین درجات پر مشتمل ہے۔
۱۔صرف دسویں محرم کو روزہ رکھا جائے۔
۲۔دسویں کیساتھ نویں تاریخ کا روزہ رکھا جائے۔
۳۔دسویں کیساتھ نویں اور گیارہویں تاریخ کا بھی روزہ رکھا جائے ۔ صوم یوم عاشوراء گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔
جیسا کہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے یوم عرفہ کے بارے میںپوچھا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا عاشوراء کے دن کا روزہ گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتاہے ۔(صحیح مسلم، کتاب الصیام ، باب استحباب صیامہ ثلاثۃ أیّام فی کل شہر ویوم عرفۃ یوم عاشوراء)
مذکورہ بالا احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صحیح روایات میں اس مہینہ میں روزہ کے سوا کوئی عمل ثابت نہیں ہے ۔ اس ماہ میں روزے کے سوا جتنے خصوصی اعمال کیے جاتے ہیں تمام کے تمام خود ساختہ بدعات ومحدثات ہیں۔ شریعت مطہرہ کا ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔اب ہم اس مہینے کی چند چیدہ چیدہ بدعات کا تذکرہ کرتے ہیں۔
سب سے پہلے تو ہمیں بدعت کی قباحت کو جاننا چاہیے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ برے اعمال میں سے سب سے زیادہ برا عمل بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی کا سبب اور ہر گمراہی باعث جہنم ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب الجمعہ، باب تخفیف الصلاۃ والجمعۃ )
اور دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا کہ ہر وہ کام جس کا ثبوت شریعت اسلامیہ میں نہ ہو وہ کام مردود ہے۔
٭نوحہ خوانی
محرم الحرام میں نوحہ خوانی ،گریہ زاری ،سینہ کوبی وغیرہ تمام کام بدعات اور ممنوع ہیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کاارشاد ہے :
’’ لَیْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُوْدَ وَشَقَّ الْجُیُوْبَ وَدَعاَ بِدَعْوَی الْجَاہِلِیَّۃ‘‘(صحیح بخاری ، کتاب الجنائز)
’’جس نے اپنے رخساروں کو پیٹا گریبان کو چاک کیا اور جاہلیت کے بین کیے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘
٭ خود ساختہ قبر
ماہ محرم کی مروجہ بدعات میں سے ایک قبیح بدعت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی مصنوعی قبر بھی ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
’’مَنْ زَارَ قَبْراً بِلاَ مَقْبُوْرٍ فَکَأَنَّمَا عَبَدَ الصَّنَمَ‘‘ (رسالۃ تنبیہ الضالین )
’’یعنی جس نے بغیر میت کے کسی قبر کی زیارت کی تو گویا اس نے بت کی پوجا کی ۔‘‘
٭محرم کو منحوس سمجھنا
اکثر لوگ محرم الحرام کو بالعموم اور یوم عاشوراء کو بالخصوص منحوس سمجھتے ہیں اور ان ایام میں شادی بیاہ رچانے ، خوشی منانے اور زیب وزینت کو انتہائی منحوس سمجھتے ہیں حالانکہ کہ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :’’ابن آدم( علیہ السلام) مجھے تکلیف دیتا ہے زمانے کو گالی دیتا ہے حالانکہ زمانہ تو میں ہی ہوں کیونکہ میں دن رات کو تبدیل کرتا ہوں ۔‘‘ (صحیح بخاری ، کتاب التفسیر سورۃ الجاثیۃ)
٭قل خوانی
یوم عاشوراء ماکولات اور مشروبات پر سورت الفاتحہ ، سورت الکافرون ، سورت إخلاص ، سورت فلق اور سورت الناس پڑھ کر لوگوں میں تقسیم کرنا سراسر جہالت اور بدعت ہے جس کا دین میں کسی قسم کا کوئی ثبوت نہیں۔
محرم الحرام میں ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو طعن وتشنیع کا نشانہ بنایا جاتاہے حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
’’لاَ تَسُبُّوْا اَصْحَابِیْ فَلَوْ اَنَّ اَحَدَکُمْ اَنْفَقَ مِثْلَ اُحُدٍ ذَہَباً مَا بَلَغَ مُدَّ اَحَدِہِمْ وَلاَ نَصِیْفَہُ ‘‘ (صحیح بخاری ، کتاب المناقب ، باب فضائل اصحاب النبی ﷺ ، حدیث نمبر /۳۳۹۷)
’’میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کو برا بھلا مت کہو کیونکہ تم میں سے اگر کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کردے تو وہ کسی صحابی کے خرچ کردہ ایک سیر بلکہ آدھے سیر کے برابر بھی نہیں ہوسکتا۔‘‘
تاریخی حقائق اور کتب تاریخ اس بات پر شاہد ہیں کہ واقعہ کربلا میں کسی صحابی کاکوئی عمل دخل نہیں ہے۔ بعض اوقات تو ان حضرات کو بھی سب وشتم کا نشانہ بنایا جاتاہے جوکہ اس واقعہ سے پہلے ہی رخت سفر باندھ چکے تھے۔
حرف اخیرماہ محرم کی عظمت وحرمت کو سمجھتے ہوئے ہمیں چاہیے تھا کہ اس کا احترام کرتے اس میںکثرت سے ذکر واذکار کااہتمام کرتے۔ نو، دس محرم کا روزہ رکھتے اور اس مہینہ میں ہونے والے واقعات سے سبق حاصل کرتے مگرافسوس صد افسوس کہ ہم نے اس مہینہ کی حرمت کو پامال کردیا ایسی بدعات وخرافات ایجاد کرلی جوکہ دین اسلام کے منافی ہیں اور اسی طرح ہم نے یہود ونصاریٰ کی تقلید کرتے ہوئے ان کے رسوم ورواج اور تہذیب وتمدن کو اپنے لیے ترقی کا رستہ سمجھ لیا۔ یادرکھیں جو قومیں اپنی تہذیب وتمدن ، رسم ورواج اور رہن وسہن کو اپنے مذہب کے قوانین وضوابط کے مطابق رکھتی ہیں وہی دنیا میں ارتقاء کی بلندیوں کو چھوتی ہیں اور وہ کامیاب وکامران قومیں سمجھی جاتی ہیں اور جو قومیں اپنی تہذیب وتمدن ورسم ورواج اور رہن سہن کو اپنے مذہب کے قوانین وضوابط اور اصول کو پس پشت ڈال دیتی ہیں تو وہ ذلت وپستی کاشکار ہوکر اغیار کی غلامی میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں جیسا کہ آج ہماری حالت زار ہے۔
فطرت افراد سے اغماض توکر لیتی ہے
لیکن کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف
