قارئین کرام ! ایک مسلمان پر دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد جوچیز سب سے پہلے اس پر لازم ہوتی ہے اس کو اطاعتِ محمدی کہتے ہیں ۔ایک مسلمان اپنی حیات مستعار کے شب وروز اسوۂ محمدی کی ہدایات کی روشنی میں گزارنے کی کوشش کرتاہے جیسا کہ قرآن حکیم میں ارشاد رب العالمین ہے ۔
{لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ}(الأحزاب:۲۱)
ترجمہ :’’ درحقیقت تم لوگوں کیلئے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے‘‘
امام المفسرین ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت مبارکہ رسول اللہ ﷺ کے افعال واقوال اور احوال کی اطاعت پر اصل دلیل ہے۔ جب ہمیں اس بات کا علم ہوچکاہے کہ رسول اللہ ﷺ کا اسوئہ ہی حسنہ ہے تو پھر اپنی زندگی میں پیش آمدہ مسائل کے لئے اسی اسوہ اور طرز زندگی کی طرف رجوع کرنا چاہیے ۔ سنت پر عمل کرنے سے جو فوائد وثمرات ہمیں انفرادی واجتماعی زندگی میں حاصل ہوتے ہیں وہ لاتعداد ہیں چند ایک کا تذکرہ اختصار کے ساتھ کیا جاتاہے۔
سنت پر عمل کرنے کے فائدے
۱۔ سنت محمدی ﷺ محبت الٰہی کا ذریعہ ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ’’میرا بندہ نوافل(سنتوں) کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتاہے حتی کہ میں اس بندہ کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں ۔ (صحیح البخاری ، کتاب الرقاق)
یعنی کہ سنت پر عمل کرنے اور اس پر دوام سے وابستگی پر اللہ بندہ مؤمن کو اپنا محبوب بنالیتاہے۔ اور جوشخص اللہ کا محبوب بن جاتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کو زمین وآسمان میں ہر ایک کے لئے محبوب بنادیتے ہیں۔
۲۔سنت پر عمل کرنے سے فرائض میں ہونے والی کمی کو تاہی پوری ہوجاتی ہے۔
۳۔سنت سے وابستگی سے آدمی بدعت کی ضلالت سے محفوظ ہوجاتاہے ۔
۴۔سنت رسول ﷺ کی طرف دعوت دینے والا اتنے ہی اجر وثواب کا مستحق ہوتاہے جتنا کہ اس کی ترغیب ودعوت سے سنت پر عمل کرنے والا ثواب حاصل کرتا ہے۔
۵۔سنتِ محمدیہ پر عمل کا سب سے بڑا اور اہم فائدہ یہ ہے کہ امت محمدیہ افتراق وانتشار سے بچ جاتی ہے ۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بدعت باعث افتراق اور سنت باعث اجتماع ملت ہے۔(الاستقامۃ / ۱ ، ص/۴۴۰)
اس کے علاوہ بھی سنت کے بے شمار فوائد وثمرات ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی حیات مستعار میں اسی اسوئہ محمدیہ سے مکمل رہنمائی لیں تاکہ ہم دونوں جہانوں میں سرخرو ہوسکیں۔
آداب النوم (سونے کے آداب)
رسول اللہ ﷺ کے معمولات میں سے سب سے پہلے آداب النوم (سونے کے آداب) ذکر کرتے ہیں اللہ سے دعاہے کہ وہ ہمیں اسوئہ محمدی کو اپنانے کی توفیق عنایت فرمائے۔
نیند نعمت الٰہی
{َمِن رَّحْمَتِہِ جَعَلَ لَکُمُ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ لِتَسْکُنُوا فِیہِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِہِ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ} (القصص :۷۳)
ایک مسلمان نیند کو اللہ کی نعمت جانتاہے ، اس لئے کہ سارے بدن کی مسلسل جدوجہد اور بھاگ دوڑ کے بعد رات کے اوقات میں انسان کا نیند کرنا جسم کی زندگی نشوونما، تندرستی کے لئے ازحد ضروری ہے تاکہ انسان چست وچالاک ہوکر اپنے مقصدِ حیات کو پورا کرسکے ۔ جیسا کہ ارشاد ربّانی ہے:
ترجمہ :’’اور اس کی مہربانی ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات اور دن بنایا تاکہ تم اس میں آرام کرسکو اور اس کا فضل (رزقِ حلال) تلاش کرواور اس کا شکر ادا کرو۔‘‘
نیز ارشاد الٰہی ہے :
{وَجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا}(النبا:۹)
اور تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا۔‘‘
اس نعمتِ الٰہی کا شکریہ اسی وقت ادا ہوسکتاہے جب ہم اس نعمت کو اسوئہ محمدی کی روشنی میں استعمال کریں جوکہ مندرجہ ذیل ہے۔
٭ نماز عشاء کے فوراًبعد سونا۔
رسول اللہ کا اسوئہ اور عادت مبارک تھی آپ ﷺ نمازِ عشاء کے فوراً بعد سوجاتے تھے۔ رات کو دیر تک جاگنا بہت سی خیرات وبرکات اور دینی روحانی جسمانی ثمرات سے محروم کردیتاہے۔
دلیل ،
عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ قال کاَنَ رسول اللہ ﷺ نَہَیَ عَنِ النَّوْمِ قَبْلَہَا وَالْحَدِیْثَ بَعْدَہَا۔ (صحیح بخاری ومسلم ، ابو داؤد :۴۸۴۹، باب فی السمر بعد العشاء )
’’ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نمازِ عشاء سے پہلے نیند اور اس کے بعد میں باتیں کرنے سے منع فرماتے تھے۔‘‘
عشاء سے پہلے سونے سے منع اس لئے کیا ہے کہ اس سے نمازِ عشاء کے فوت ہونے کا اندیشہ ہے اور اگر آدمی نمازِ عشاء کے بعد دیر تک باتیں کرتا رہے تو اس کے لئے تہجد اور فجر کی ادائیگی مشکل ہوجاتی ہے ۔ ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر انسان اول رات میں جاگتاہے تو اس کے لئے آخر رات میں تہجد کی ادائیگی اور قیام اللیل دشوار ہوجاتاہے لیکن اہل علم نے انتہائی ضروری امور کی انجام کے لئے رات کو جاگنے کی اجازت دی ہے ۔
دلیل ۔
عن عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہما قال کان رسول اللہ ﷺ یسعر مع ابی بکر رضی اللہ عنہ فی الأمر من أمور المسلمین وأنا معہما ۔ (أخرجہ الترمذی وحسنہ :۱۶۹)
’’ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز عشاء کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کیساتھ مسلمانوں کے امور کی اصلاح کیلئے مشورہ کرتے تھے اور میں بھی ان دونوں کیساتھ ہوتا تھا ۔‘‘ لیکن آج ہمارے معاشرے میں راتوں کو دیر تک جاگنا فیشن بن چکاہے۔ لوگ پوری پوری رات ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ اور موبائل پر باتیں کرتے گزار دیتے ہیں۔ وإلی اللہ المشتکی
پیٹ کے بل لیٹنا منع ہے۔
رات یا دن کے وقت پیٹ کے بَل لیٹنا سخت منع ہے۔
عن قیس بن طِحْفَۃَ الغفاری عن أبیہ قال أصابنی رسول اللہ نائماً فی المسجد علی بطنی فرکضنی برجلہ وقال : مالک ولِہذا النوم ہذہ نومۃ یکرہہا اللہ ۔‘‘
’’قیس بن طحفۃ الغفاری اپنے والد سے روایت کرتے ہیںکہ میں مسجد میں پیٹ کے بل سویا ہوا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے جگایا اور کہا تم اس طرح کیوںسورہے ہو اس طرح کا سونا اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔
اور ایک دوسری روایت میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ :
’’ انما ہذہ ضِجْعَۃُ اہل النار ۔‘‘
یہ جہنمیوں کے انداز کا لیٹناہے۔‘‘ (رواہ ابن ماجہ وصححہ الالبانی رحمہ اللہ :۳۷۲۴،کتاب الأدب، باب النہی عن الإضطجاع علی الوجہ )
اس لئے لیٹنے سے پہلے اس چیز کو ملحوظ نظر رکھیں کہ کہیں آپ پیٹ کے بل تو نہیں لیٹے ہوئے۔ یادرہے کہ پیٹ کے بل لیٹنے سے نظام ہضم میں متعدد خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔
روشنی بند کرکے سونا
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سونے کے آداب میں سے یہ بات بھی بتلائی ہے کہ سونے سے پہلے آگ اور چراغ (بلب ، ٹیوب لائٹ وغیرہ) بجھا کر سوئیں۔
دلیل :
عن أبی موسی رضی اللہ عنہ قال : احترق بیتُ فی المدینۃ علی أھلہ من اللیل فلما حُدِّث رسول اللہ بشأْنہم قال ﷺ : إن ہذہ النار إنما ہی عدوکم فإذا نمتم فأطفؤہا عنکم ۔‘‘ (صحیح ابن حبان بتحقیق شعیب الاونوط أخرجہ الإمام البخاری فی کتاب الاستئذان ، باب لا تترک النار فی البیت عند النوم ، ومسلم ، وابن ماجہ فی کتاب الأدب ، باب اطفاء النار عند المبیت)
’’سیدناابو موسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات مدینہ میں رات کو کسی گھر میں آگ بھڑک اٹھی جب رسول اللہ ﷺ کو اس بارے میں خبر دی گئی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ آگ تو تمہاری دشمن ہے سونے سے پہلے اس کو بجھا دیا کرو۔ اس فرمانِ محمدی پر عمل کرنے سے انسان آتشزدگی شارٹ سرکٹ اور دوسری ناگہانی آفات سے محفوظ ہوجاتاہے۔
با وضو ہو کرسونا
کوشش کریں کہ باوضو ہوکر سوئیںکیونکہ رسول اللہ ﷺ نے براء بن عازب کو حکم دیا :
’’ إِذَا أَتَیْتَ مَضْجَعَکَ فَتَوَضَّأْ وُضُوْئَکَ لِلصَّلاَۃِ ‘‘(رواہ البخاری،کتاب الوضوء ، و مسلم ، کتاب الذکر )
’’جب تو سونے کیلئے بستر پر آئے تو نماز کی طرح وضو کرو۔‘‘
دائیں پہلو پہ لیٹنا
سوتے وقت دائیں پہلو پہ لیٹنا رسول اللہ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کیونکہ اس طرز پر سونے سے کھانا معدہ میں اچھی طرح ٹھہر جاتاہے پھر دائیں کروٹ ہوکر اپنی نیند پوری کریں تاکہ غذا طبی طور پر جلد ازجلد اتر کر آنتوں میں آجائے اور دائیں ہاتھ کا سرہانہ بھی بنانا چاہیے جس طرح کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
’’ثم اضطجع علی شقک الأیمن ‘‘ (رواہ البخاری فی کتاب الوضوء ، ومسلم فی کتاب صلاۃ المسافرین )
اور دوسری روایت میں ہے :
’’فتوسد یمینک ۔‘‘ (رواہ البخاری ومسلم) ’’دائیں ہاتھ کو سرہانہ بناؤ۔‘‘
سونے سے پہلے کتاب وسنت سے ثابت شدہ دعائیں پڑھیں جن کا تذکرہ آئندہ شمارے میں کیا جائے گا۔ إن شاء اللہ (جاری ہے)
