قرآن کریم میں جس موضوع پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے اور انسانوں کو اس پر عقلی ، منطقی اور سائنسی نقطہ نظر سے دعوت فکردی گئی ہے وہ ہے معرفت الٰہی اور اسکی وحدانیت ، ربوبیت اور خلاقیت کا اثبات ۔ اسی وجہ سے قرآن مجیدمیں جگہ جگہ اس کائنات کے مادی مظاہر میں غوروفکر کرنے اور ان میں پوشیدہ نشان ہائے الٰہی کا استخراج و استنباط کرنے اور ان معلوم جزوی حقائق سے نامعلوم کلی حقیقتوں کا ادراک کرنے پر ابھارا گیا ہے تاکہ اس سے جہاں ایک طرف معرفت الٰہی حاصل ہو سکے تو دوسری طرف فطرت وشریعت میں مطابقت و ہم آہنگی کا اثبات ہو سکے اور یہ حقیقت بھی منکشف ہو کہ ان دونوں کا سرچشمہ اور منبع ایک ہی ہے اس لیے قرآن مجید کو کتاب دلائل کہا گیا ہے۔
{وَبِیِّنَِاتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَان}(البقرہ:۱۸۵)
’’ یہ( قرآن) لوگوں کیلئے ہدایت کی روشن دلیلیں اور حق وباطل میں فرق کرنے والا ہے ‘‘
ایسی آیات میں سے ایک عظیم ترین آیت (نشانی )
زیتون کا پھل اور اسکا تیل ہے ۔ قرآن مجیداور احادیث مبارکہ میں زیتون اور اسکے تیل کا متعدد جگہوں پر ذکر آیا ہے اس سلسلے میں ایک جدید ترین سائنسی تحقیق (جس کی رو سے زیتون کے تیل سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے ) سے ایک عظیم قرآنی پیشین گوئی کی تصدیق کر کے اس کو حقیقت کا جامہ پہنا دیا ہے ۔
زیتون احادیث مبارکہ میں
زیتون کے بارے میں جو حدیثیں آئی ہیں وہ حسب ذیل ہیں :۔
عن عمر عن النبی ﷺ انہ قال: ’’ ائتدموا بالزیت وادہنوا بہ فانہ من شجرۃ مبارکۃ ‘‘ (کنز الاعمال ، ۱۰/۸۵ بحوالۃ مسند عمر، وصححہ الالبانی فی سنن ابن ماجہ برقم ۳۳۱۹)
’’ حضرت عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
زیتون کو سالن کے طور پر کھاؤ او راس کی مالش کرو کیونکہ یہ ایک مبارک پیڑ کا تیل ہے ۔
عن ابی ہریرۃ عن النبی ﷺ انہ قال: کلوا الزیت وادھنوا بہ فانہ من شجرۃ مبارکۃ ۔ ‘‘ (ترمذی ۱۸۵۱، ابن ماجہ ۳۳۲۰، وصححہ الالبانی)
’’ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: زیتون کا تیل کھاؤ اور اسکی مالش کرو، کیونکہ یہ ایک مبارک درخت سے ہے‘‘
کان النبی ﷺ یدھن بالزیت والورس من ذات الجنب ۔(الطب من الکتاب والسنہ البغدادی ص ۱۱۵، رواہ الترمذی برقم ۲۰۷۸ وصححہ الالبانی )
’’رسول اللہ ﷺذات الجنب (PLEURISY) کا علاج زیتون کے تیل سے اور ورس (قط البحری ) کی مالش سے کرتے تھے ۔
عن علقمۃ بن عامر : علیکم بالزیت الزیتون کلوا وادھنوا بہ فانہ ینفع من بواسیر ۔ (ابن الجوزی)
حضرت علقمہ کہتے ہیں کہ تم زیتون کا تیل استعمال کرو اسکو کھاؤ اور اس سے مالش کرو کیونکہ وہ بواسیر سے فائدہ پہنچاتا ہے ۔
من ادھن بالزیت لم یقربہ الشیطان (الطب النبوی ، محمد بن احمد الذہبی)
ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ’’جو زیتون کے تیل کی مالش کرے گا شیطان اس کے قریب نہیں آئے گا ‘‘
عن جابر بن عبداللہ عن النبی ﷺ انہ قال: لکل داء دواء فاذا أصاب دواء بریٔ باذن اللہ عزوجل۔ (صحیح مسلم)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہر ایک مرض کا علاج ہے جب کسی مرض کا صحیح علاج کیا جاتا ہے تو اللہ کے حکم سے اسے شفا ملتی ہے ‘‘
عن ابی الدرداء قال قال رسول اللہ ﷺ : ان اللہ انز ل الداء والدواء وجعل لکل داء دواء ، فتداووا ولا تتداووا بحرام ۔ (سنن ابی داؤد )
’’ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بیماری اور دواء دونوں نازل کی ہیں اور ہر بیماری کا علاج بھی مقرر کیا ہے لہٰذا تم علاج کرو البتہ حرام طریقہ اور محرمات سے علاج نہ کرو‘‘
مندرجہ بالا احادیث سے یہ امر منکشف ہوتا ہے کہ زیتون کے طبی فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے روحانی فوائد بھی ہیں اسی وجہ سے قرآن مجیداور حدیث دونوں میں اس کے درخت کو مبارک کہا گیاہے ۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ وہ جنت کا پیڑ ہے قرآن مجید میں اس کے تیل کو سالن کے طور پراستعمال کرنے کی بات بھی کہی گئی ہے ایک اور جگہ پر اللہ تعالیٰ نے زیتون کے درخت کی قسم بھی کھائی ہے ،ایک دوسری جگہ پر اللہ اپنے نور کی مثال زیتون کے مبارک تیل سے حاصل شدہ روشنی سے دیتا ہے اس آیت کی تفسیر جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میں آگے ملاحظہ ہو۔
زیتون اسلامی طب میں
طب پراسلامی دورکی قدیم ترین کتابوں میںایک کتاب شیخ الرئیس ابن سینا کی ’’القانون فی الطب ‘‘ ہے ،ابن سینا کا شمار تاریخ طب کے عظیم ترین اطباء میں ہوتاہے اسکی یہ کتاب ماضی قریب تک طب میں ’’امہات المراجع‘‘کا درجہ رکھتی تھی ۔اور بارہویں صدی سے اٹھارویں صدی تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں داخل نصاب تھی ۔ ابن سینا نے زیتون کی مختلف انواع کی تقسیم ہے پھر ان کی الگ الگ انواع انکے پھلوں ، پتوں اور تیلوں کے طبی اور غذائی فوائد اور مختلف اعضائے جسمانی کیلئے ان کی افادیت کو بالتفصیل پیش کیا ہے اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے:۔
زیتون ایک عظیم درخت ہے جو بعض ممالک میں پایا جاتاہے اس کا تیل کچے زیتون سے بھی نکالا جاتاہے جس کو ’’زیت انفاق ‘‘ کہتے ہیں اور پکے ہوئے سے بھی نکالا جاتا ہے جس کو ’’مدرک ‘‘ کہتے ہیںاور ان دونوں کے درمیانی سرخ زیتون سے بھی نکالا جاتاہے اسی طرح زیتون کے تیل کی ایک تقسیم اس کے زیتون کے باغ میں یا ریگستان (بری) میںاگنے کی بنیاد پرہے ۔ ’’زیت انفاق‘‘ ٹھنڈا اور مرطو ب ہوتا ہے ۔ اور ’’زیت مدرک‘‘ معتدل مرطوب ہوتا ہے ۔ زیتون کے تیل کی تمام انواع جسم کیلئے مقوی اور حرکت و چستی بخش ہوتی ہیں۔بری زیتون کے پتے انگلیوں کی سوجن کیلئے فائدہ مند ہوتے ہیں ۔ یہ بالعموم گلاب کے عرق کی مانند ہوتا ہے ۔ بالوں کی حفاظت کرتا ہے اوراگر ہر روز استعمال کیا جائے تو بڑھاپے کو جلد ی آنے سے روکتا ہے ۔
اس طرح یہ ’’سرخبادہ‘‘ erysipelas ’’چھپاکی‘‘ uticaria اور دوسری سوجنوں کو مٹاتا ہے ، کچے بری زیتون کا تیل کچے اور سوکھے زخموں اور خارش سے فائدہ دیتا ہے اور اس کے پتے سرخبادہ ساعیہ، خبیثہ ، وسخہ ، نملہ اور چھپاکی کیلئے مفید ہیں ۔ وہ ہر طرح کی خارش یہاں تک کہ جانوروں کی خارش کو بھی ختم کردیتاہے ۔ زیتون کے تیل ، پانی اور نمک کے مرکب سے آگ کے جلے کو پٹی باندھی جائے تو فائدہ دیتا ہے ، اس کا گوند زخموں کے مرہم کے طورپر بھی استعمال ہوتا ہے ۔
زیتون کے نمکین پانی سے ’’عرق النساء‘‘ کیلئے حقنہ دیا جاتا ہے اس طرح یہ جوڑوں اور پٹھوں کے درد کیلئے بھی مفید ہے ۔
زیتون سر کے مختلف اعضاء کیلئے بہت فائدہ مند ہے ، زیتون کے پتوں کو کچے انگور کے پانی سے پکایا جاتاہے یہاں تک کہ وہ شہد کی مانندہو جاتا ہے اس کو کھوکھلے دانتوں پر لگایا جاتا ہے تاکہ اس کے نکالنے میں آسانی ہو۔ بری زیتون کا تیل سر دردسے افاقے میں گلاب کے عرق کی مانند ہوتا ہے ۔ یہ کان کے سیلان کے علاج میں بھی کام آتا ہے ، مسوڑھوں کو مضبوط کرتا ہے اور ان میں سے خون کے بہاؤ کو روکتا ہے اور دانتوں کوبھی مضبوط کرتا ہے ۔ اگر بری زیتون کے گوند کو کھوکھلے دانت میں بھر دیا جائے تو وہ درد کم کر دیتا ہے ،کان کے درد کیلئے اس کے تیل کے قطرات سب سے مفید ہیں ، اسکے پتے قلایا جوشش دہن کیلئے مفید ہوتے ہیں۔
آنکھ کے علاجات
اس کو آنکھوں کی کم بینائی کیلئے سرمہ کے طور پراستعمال کیا جاتا ہے اسکی جڑ کو آنکھوں کی دواؤں میں استعمال کیا جاتا ہے ، اس کے جلے ہوئے پتے توتیا (ایک دھات جس سے سرمہ بنایا جاتاہے )کے بدل کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں ۔ اس کا گوند اسکے دھندلے پن ،سفیدی اور قرنیہ چشم کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ،اس کے پتوں کا رس خروج چشم اورقرینہ کی پھنسیوں اور پھوڑوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ، آنکھ کیلئے بساتی زیتون بری زیتون سے زیادہ منافع بخش ہے ۔
دل کے اعضاء کے علاج:۔
کالا زیتون مع اس کے بیج کے من جملہ ان بخورات میں سے ایک ہے جو دمہ اور جو پھیپھڑوں کے علاج کیلئے فائدہ مند ہے ۔
غذائی فائدے : ۔
زیتون اور اسکی جڑ شہوت بڑھاتے ہیں ، معدے کو مقوی بناتے ہیں ، کائم کو پیدا کرتے ہیں اورہاضمہ کو بڑھاتے ہیں ۔
زہرسے علاج:۔
زیتون کے تیل کو گرم پانی کے ساتھ پیا جائے تو وہ زہر کی قوت کو توڑ دیتا ہے ۔ اس ضمن میں بری زیتون کا گوند تریاق کا کام دیتا ہے ۔
زیتون کے سلسلے میں یہ تحقیقات آج سے ایک ہزار سال پہلے کے ایک مسلمان طبیب وفلسفی کی ہیں۔
اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں نے اس وقت ہی تجرباتی سائنس اور تجرباتی طب میں کس قدر ترقی کرلی تھی ۔جس کی ایک جھلک زیتون کے سلسلے میں ان کی طبی تحقیقات سے ہمیںنظر آرہی ہے ابن سینا سے پہلے اوربعد میں بھی درجنوں بڑے اور نامور محقیقین اطباء گزرے ہیں جن میں محمد بن زکریا الرازی (۹۳۲م)علی بن عباسی المجوسی (۹۸۲ھ) ابن جلجل(۱۰۰۹ھ )ابن الجزار (۳۵۰ھ) ، الزاہراوی (۱۰۱۳ھ) ، ابن الہیثم (۴۳۰ھ)، ابن واقد (۱۰۱۳ھ) ، امیۃ بن ابی صلت (۵۲۹ھ) ، ابن ماجہ (۵۳۳ھ) ، ابن بیطار (۶۴۶ھ) ، ابن نفیس (۶۸۷ھ) ، اور ابن القف (۶۸۵ھ) وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ جن کی تصنیفات وتحقیقات ہمارے پاس دستیاب نہیں ہیں۔ علماء اور متکلمین نے بھی طب نبوی پر خصوصی کتابیں تصنیف کی ہیں جو زیادہ تر انہی مسلم اطباء کی تحقیقات سے مستفاد ہیں۔ ان میں عبد اللطیف بغدادی (۶۲۹ھ) کی ’’الطب من الکتاب والسنۃ : علامہ ابن القیم الجوزیہ (۷۵۱ھ) کی ’’الطب النبوی ‘‘ اور محمد بن احمد الذہبی (۷۸۴ھ) کی بھی ’’ الطب النبوی ‘‘ قابل ذکر ہیں۔
عبد اللطیف بغدادی جو بیک وقت پائے کے محقق ، طبیب اور عالم دین بھی تھے نے زیتون کے تیل کے متعلق اپنی تحقیقات اس طرح قلمبند کی ہیں:۔
یہ ٹھنڈا اور مرطوب ہوتاہے ، یہ جس قدر پرانا ہوگا اس کی حرارت اسی قدر زیادہ ہوگی ، اور بڑھاپے کی آمد میں تاخیر کا سبب بنتی ہے۔ وہ جسمانی زہروں کیلئے تریاق کاکام کرتاہے۔ پیٹ کو صاف کرتاہے ، اس کے دردوں کو ختم کرتاہے، اور اس کے کیڑوں کو نکال دیتاہے اس کے پرانے تیل میں زیادہ قوت اور تمازت ہوتی ہے۔ اس کے منافع اس سے کئی گنا زیادہ ہیں جس کو ہم نے بیان کیا ہے۔
زیتون طب جدید میں
یہ ایک نہ جمنے والا تیل کہلاتا ہے جس کو بغیر پکائے سالن کے طور پر استعمال کیا جا سکتاہے۔ پتھری جوکہ آج کل ایک عام بیماری ہے اس کے علاج کیلئے یہ ایک انتہائی مفید تیل ہے ۔پتھری پتہ میں چکنے مادے کی زیادتی اور اس کو تحلیل کرنے کیلئے درکار صفراوی تیزاب bile acid کی کمی کی وجہ سے بنتی ہے۔ زیتوں کا تیل اس طرح کی پتھریوں کے جمنے کے خلاف مؤثر تحفظ فراہم کرتاہے۔جن ممالک میںاس کا تیل استعمال زیادہ ہے وہاںیہ بیماری کم ہے۔
زیتون کا تیل نوزائدہ بچوں کیلئے انتہائی مفید ہوتاہے۔ بنیادی طور پر ان کیلئے کسی بھی طرح کے تیل کا استعمال انتہائی مضر ہوتاہے۔ لیکن زیتون کے غذائی تجزیے سے اس کا انکشاف ہواہے کہ اس میں شیر خوار بچوں کیلئے درکار ضروری مادے کے ساتھ ساتھ ایسی متوازن مقدار میں ترشہ Linoleic – Linolenic acid پایا جاتاہے جو ماؤں کے دودھ میں پایا جاتاہے اس طرح یہ ہڈیوں کی نشوونما اور ان کے تحجر mineralization کیلئے انتہائی مفید تیل ہے۔
مگر ان تمام حقائق سے جوچیز نمایاں طور پر سامنے آتی ہے وہ یہ کہ ان نبوی ارشادات اور جدید طبی و سائنسی حقائق میں اس قدر زبردست مطابقت اور ہم آہنگی کسی انسان کی ذہنی پیداوار نہیں ہوسکتی اور نہ اس کا مرجع سنی سنائی باتوں کو قرار دیا جاسکتاہے۔ لہذا اس کا مآخذ سوائے وحی الہٰی کے اور کچھ نہیں ہوسکتی۔
زیتون کے طبی فوائد کا یہ ایک اختصار ہے ورنہ اس کے فوائد اس سے کہیں زیادہ ہیں جن کو اوپر بیان کیا گیا ہے۔
