مولانا دین محمد وفائی کا شمار سندھ کے ان عظیم سپوتوں میں ہو تا ہے جنہوں نے اپنے علم اور اپنے قلم سے بر صغیر اور خصوصًا سندھ میں انگریزی کے خلاف علم جہاد بلندکیا اور تحریک خلافت میں اہم کردار ادا کیا ۔مولانا وفائی 4اپریل 1894ء کو گا ؤ ں کٹی عرف نبی آباد تعلقہ گڑھی یاسین ،ضلع سکھر میں پیدا ہوئے ۔فارسی اور عربی کی تعلیم اپنے والد خلیفہ حکیم گل محمد سے حاصل کی۔نو سال کی عمر میں آپ کے والد کا انتقال ہو گیا تو فارسی کی بقیہ تعلیم اپنے عزیز میاں جی سے حاصل کی ۔اس کے بعد عربی کی تعلیم مولانا ابو الفیض غلام محمد جتوئی سے پائی ۔اٹھا ئیس سا ل کی عمر میں تعلیم سے فراغت کے بعد اپنے استاد کے مشورے پر کراچی آگئے اور سندھ میں مدرسے میںبطور معلم کے فرائض انجام دیتے رہے ،یہاں ان کی ملاقات حاجی حسن اللہ پاٹائی سے ہوئی جن کے فیض نے اس پارس کو کندن بنا دیا ۔
مولانا دین محمد وفائی نے کراچی آمد پر صحافتی زندگی کا آغا ز کیا ۔مولانا عبد اللہ میر پوری اور شیخ عبدالعزیز محمد سلیمان ،مالک اخبار ’’الحق‘‘سکھر نے آپ کی صحافتی زندگی کی ہمت افزائی کی ،مارچ1920ء سے کراچی سے اخبار ’’الوحید ‘‘جاری ہوا تو مولانا کو ا س اخبار کا معاون مدیر مقرر کیا ،اس کے ساتھ انہوں نے اپنی ادارت میں رسالہ ’’توحید ‘‘جاری کیا وہ ’’الوحید‘‘اور رسالہ ’’توحید ‘‘کیلئے علمی،ادبی اور تاریخی مضامین لکھتے تھے ۔1926ء میں مولا نا وفائی تبلیغی کاموں کے سلسلے میں ایک سال تک کراچی سے باہر رہے جس کی وجہ سے رسالہ ’’توحید ‘‘بند ہو گیا ۔ 1927 ء میں آپ نے پیر سید حزب اللہ شاہ کی سر پرستی میں سکھر سے ہفت روزہ اخبار ’’الحزب‘‘جاری کیا لیکن یہ زیادہ دیر تک نہ چل سکا ،چنا نچہ آپ ’’الوحید ‘‘کی ادارت سے دوبارہ وابستہ ہو گئے ۔1934ء میں رسالہ ’’توحید ‘‘ بھی دوبارہ جاری کیا جو ان کی زندگی کے آخری وقت تک جاری رہا ۔1936ء میں سندھ ،بمبئی سے الگ ہو کر ایک علیحدہ صوبہ بنا تو اس موقع پر اخبار ’’الوحید ‘‘ نے ایک خاص نمبر (سندھ آزاد نمبر )نکالا جس میں سندھ کی قدیم تاریخ، تہذیب اور علم وادب کے بہترین شہ پارے شامل کئے گئے ان میں اکثر مضامین خود مولانا دین محمد وفائی کی تخلیق تھے۔
ہندوستان میں تحریک خلافت شروع ہونے پر آپ نے اس تحریک میں شمولیت اختیار کی ۔اس تحریک کو دبانے کیلئے انگریز حکمرانوں نے علماء سوء سے کام لیا اور ایک عالم دین نے ترکوں کی خلافت کے خلاف حجاز کے شریف حسین کے حق میں ایک رسالہ لکھا جس پر متعدد علماء نے دستخط کیے تھے ۔اس رسالہ کا ترجمہ انگریزی میں بھی ہوا اور یہ رسالہ ہزاروں کی تعداد میں تقسیم کیا گیا جس سے تحریک خلافت کو نقصان پہنچ جانے کا اندیشہ ہو ا ۔مولانا دین محمد وفائی نے محسوس کیا کہ اس نازک موقع پر خاموش رہنا گناہ ہے ۔اس لئے انہوں نے شیخ عبد العزیز مالک اخبار ’’الحق ‘‘سکھر کے ساتھ مل کر اس رسالے کے خلاف لکھنا شروع کیا اس کے بعد ہی مولانا وفائی کو جمیعت علمائے سندھ کا ناظم منتخب کیا گیا 1939ء میں مولانا عبید اللہ سندھی رحمہ اللہ سندھ واپس آئے اور یہاں ولی الہی تحریک شروع کی مولانا وفائی نے اس تحریک میں بھی سر گرمی سے حصہ لیا ۔پیر علی محمد راشدی نے مولانا دین محمد وفائی کے متعلق ایک جگہ لکھا ہے کہ ’’مولا نا دین محمد وفائی‘‘ان جانبازوں میں سے تھے جنہوں نے دماغ اور قلم کے زور پر سندھ کی آزادی کی تحریک کو آگے بڑھایا اور عزت نفس کا احساس پیدا کیا وہ زندگی کے آخری ایا م تک جدو جہد کرتے رہے ۔صرف اس لئے کہ سندھیوں کی غیرت جاگ اٹھے ۔اس زمانے میں سندھ کی تاریخ کی تحقیق سے کسی کو کو ئی دلچسپی نہ تھی ۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ نہ سندھ کی تاریخ میں کوئی عظمت کا پہلو ہے اور نہ سندھی کبھی کسی میدان میں سرخرو ہوئے ہیں ۔مولا نا دین محمد وفائی وہ واحد سندھی ادیب اور عالم تھے جنہوں نے اس کمی کو پورا کرنے کیلئے جدو جہد شروع کی ۔مولانا دین محمد وفائی کی تحریر کا اپنا اسلوب تھا جس کا مقابلہ انگریزی طرز نگار سے کیا جا سکتا ہے ۔سلیس زبان ،مختصر جملے،پیچیدگی سے پاک صاف تحریر ،اظہار قابلیت سے نفور،محض الفاظ کی نمائش سے دور ،مطلب کو و اضح انداز سے پیش کرنا اور صحیح حقائق کی مدد سے نتیجے پر پہنچنا ان کی تحریر کا خاص وصف تھا ۔‘‘
مولانا دین محمد وفائی کا یادگار علمی وتحقیقی کارنامہ ’’تذکرہ مشاہیر سندھ‘‘ کی تدوین ہے۔ یہ تذکرہ چار جلدوں میں سندھی ادبی بورڈ نے شائع کرایا ہے۔ یہ سندھ کی ثقافتی اور ادبی تاریخ ہے۔ سندھی ادبی بورڈ،جو 1940ء میں قائم کیا گیا تھا، ان کی کوششوں اور کاوشوں کانتیجہ تھا۔ مولانا وفائی نے اپنی صحافتی زندگی کی مصروفیتوں کے باوجود متعدد مذہبی، علمی اور ادبی کتابوں کا ذخیرہ اپنی یادگارمیں چھوڑاہے۔ ان کی کچھ کتابیں شائع ہوئی ہیں اور کچھ کتابیں شائع ہونے کے بعد نایاب ہوگئیں۔ ان کی آخری تصنیف ’’لطفِ لطیف‘‘ ہے یہ کتاب انہوں نے نومبر1949ء میں مکمل کی او ر ان کی زندگی میں یہ کتاب چھپنا شروع ہوگئی تھی لیکن کتاب کی طباعت ابھی اختتام پر نہ پہنچی تھی کہ مولانا دین محمد وفائی 10/اپریل 1950ء کو سکھر میں وفات پاگئے۔ ( انا للہ وانا إلیہ راجعون)
