الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین وبعد :

{وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِی کُلِّ أُمَّۃٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللّہَ وَاجْتَنِبُواْ الطَّاغُوتَ فَمِنْہُم مَّنْ ہَدَی اللّہُ وَمِنْہُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْہِ الضَّلالَۃُ فَسِیرُواْ فِی الأَرْضِ فَانظُرُواْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِینَ}(النحل :۳۶)

قارئین کرام ! اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس دنیا کے اندر انسانوں اور جنوں کو پیدا کیا اس کے علاوہ بہت سی مخلوقات بنائیں لیل ونہار بنائے بروبحر ، شمس وقمر ، جبل وشجر اور چرند وپرند پیدا کیے ۔الغرض اس دنیا میں اور بہت سی چیزیں مختلف مخلوقات جن کا مشاہدہ انسان کرتاہے اب سوچئے ! ان ساری مخلوقات کے بارے میں اللہ تعالیٰ کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

{ہُوَ الَّذِی خَلَقَ لَکُم مَّا فِی الأَرْضِ جَمِیعاً }(البقرۃ:۲۹)

’’وہ اللہ جس نے تمہارے لیے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا۔‘‘

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا کہ میں نے دنیا میں جو کچھ بھی پیداکیا وہ تمہارے لیے پیدا کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ یہاں پر جن وانس سے خطاب فرمارہے ہیں اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اگر یہ شمس وقمر ، لیل ونہار ، بر وبحر ، یہ جبل وشجر ، ارض وسماء اور چرند وپرنداگر انسان کیلئے ہیں توانسان کس لیے پیدا ہوا؟ اس کا جواب خالق ارض وسماء نے خود دیا ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :

{وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ}(الذاریات :۵۶)

’’نہیں میں نے پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر اپنی عبادت کیلئے ۔‘‘

اور ایک دوسرے مقام پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے بنی آدم کو خطاب کرکے کہا:

{یاَ أَیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُواْ رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ وَالَّذِینَ مِن قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ}(البقرۃ:۲۱)

’’اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تم کو پیدا کیا اور جو تم سے پہلے قومیں تھی ان کو بھی پیدا کیا تاکہ تم تقوی اختیار کرو۔‘‘

انسان کا دنیا میں آنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ وہ اللہ کی عبادت کرے اور اسی سے ہرچیز مانگے لیکن افسوس صد افسوس کہ ! آج ہم اپنے مقصد زندگی کو بھول کر دنیا کی ضروریات کواپنا مقصد بنا بیٹھے ہیں اور اللہ نے انسانوں کو اس مقصد کا صحیح حق ادا کرنے کیلئے انبیاء اور رسولوں کو بھیجا تاکہ وہ رسول لوگوں کو ضلالت اور گمراہی کے رستے سے نکال کر روشنی اور ہدایت کی طرف لے آئیںبتوں کی پوجا سے نکال کر صرف اور صرف ایک اللہ کی وحدانیت کی طرف لائیں۔

ارشادی باری تعالی ہے:

{وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِی کُلِّ أُمَّۃٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللّہَ وَاجْتَنِبُواْ الطَّاغُوتَ فَمِنْہُم مَّنْ ہَدَی اللّہُ وَمِنْہُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْہِ الضَّلالَۃُ فَسِیرُواْ فِی الأَرْضِ فَانظُرُواْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِینَ}(النحل :۳۶)

’’ ہم نے ہر امت کی طرف رسول بھیجا کہ لوگو صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو پس بعض لوگو ں کو تو اللہ تعالی نے ہدایت دی اور بعض پر گمر اہی ثابت ہوگئی پس تم خود زمین پر چل پھر کردیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجا م کیا ہوا ْ؟

یہاں پر اللہ تعالی نے تمام انبیاء کا منہج بتادیا انکی دعوت بتادی کہ وہ بنی آدم کو اس وعدے کی یاد دہانی کراتے رہیں جو تمام ارواحوں سے اللہ نے لیا تھا  ــــ’’اَلَستُ بِرَ بِکُمْ قَالُوْا بَلَیٰ ‘‘ جب اس وعدے کو بنی آدم بھول گئے تو اللہ نے انبیاء کو مبعوث کیا ۔

سب سے پہلے اللہ نے نوح علیہ السلام کو بھیجا نوح علیہ السلام نے آکر اپنی قوم سے خطاب کیا اور کہا :

اے میری قوم والوں ایک اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرواور میری پیروی کرو (یہ سب کچھ کرنے سے کیا ہوگا )فرمایا :’’وہ تمھارے گناہوں کو معاف کردے گا اور تم کووقت مقرر تک مہلت عطا کرے گا جب اللہ کا مقرر کردہ وقت آجاتاہے تو تاخیر نہیں ہوتی کاش تمہیں حقیقت کا ادراک ہوتابلکہ اگر قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو یہ ہم کو آگے اور انبیاء کے بارے میں بھی بتلاتاہے کہ اصحاب مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب علیہ السلام کو بھیجا اس نے بھی وہی بات دھرائی جو اسکے بھائی نوح علیہ السلام اور صالح علیہ السلام نے اپنی قوم والوں سے کہی تھی فرمایا:{وَإِلَی مَدْیَنَ أَخَاہُمْ شُعَیْبًا قَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ وَلاَ تَنقُصُواْ الْمِکْیَالَ وَالْمِیزَانَ }(ہود :۸۴)’’کہ اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہاراکوئی معبود نہیں ہے اور تم ناپ تو ل میں بھی کمی نہ کرو۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ عبادت صرف نماز، روزہ ، حج، زکوٰۃ، کا نام نہیں ہے بلکہ دنیا وی امور بھی عبادت میں شامل ہوسکتے ہیں تھوڑا سا آگے چل کر عبادت کے بارے میں تھوڑی سی گفتگو ں کرونگا ۔اور یہی دعوت قوم عاد کی طرف ھود علیہ السلام لیکر آئے اور انہوں نے بھی اپنی قوم والوںکو اسی بات کی طرف توجہ دلائی کہ:

{قَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ إِنْ أَنتُمْ إِلاَّ مُفْتَرُونَ} (ہود :۵۰)

اے میری قوم والوں ایک اللہ کی عبادت کرو اسکے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں تم تو صرف بہتان ہی باند رہے ہو ۔

الغرض جتنے بھی انبیا ء آئے انہوں نے اسی بات کی طرف دعوت دی یہاں تک کہ یہ سلسلہ چلتے چلتے آخر الزمان سید المر سلین فخر موجودات جناب محمد  ﷺتک آپہنچا ۔

جب نبی علیہ السلام دنیا میں تشریف لائے تو اس وقت لوگ بتو ںکی پوجا کیا کر تے تھے حتٰی کہ بیت اللہ میں بھی بت موجود تھے جن کی تعداد تاریخمیں360 بتائی جاتی ہے پھر جب اللہ نے آپ کو نبوت عطا فر مائی توآپ ابتدائی دور میں خفیہ دعوت توحید دیتے رہے اور جب اللہ تعالیٰ نے اعلانیہ دعوت کا حکم دیا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کوہ صفا پر تمام اہل مکہ کو جمع کیا اور کہا:

’’قُوْلُوْا لَا اِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہَ تُفْلِحُوْا ۔‘‘(مسند احمد بن حنبل ،حدیث نمبر :۲۳۵۷۹)

اے لوگو! کہہ دو کہ اللہ ایک ہے اس کے علاوہ کوئی الہ نہیں تم فلاح پاجاؤ گے۔

نبی  ﷺ اسی دعوت کو لیکر نکلے اور پورے عرب میںاس دعوت کو پہنچایا اور عرب والوں نے اس دعوت کی وجہ سے پتھر بھی مارے یہاں تک کہ نبی  ﷺ نے فرمایا :’’اگر میرے دائیں ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند بھی لاکر رکھ دو پھر بھی میں اس دعوت سے اعراض نہیں کروں گا۔

اللہ نے قرآن میں نبی  ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا اے محمد  ﷺ اعلان فرما دیجئے۔

{قُلْ ہَذِہِ سَبِیلِی أَدْعُو إِلَی اللّہِ عَلَی بَصِیرَۃٍ أَنَاْ وَمَنِ اتَّبَعَنِی وَسُبْحَانَ اللّہِ وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِکِینَ} (یوسف :۱۰۸)

’’اے پیغمبر کہہ دیجئے یہ ہمارا راستہ ہے اور میری پیروی کرنے والے اللہ کی طرف بلارہے ہیںپورے یقین اور اعتماد کے ساتھ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘

قارئین کرام ! یہی راستہ جس کی طرف نبی  ﷺ نے دعوت دی سیدھا راستہ ہے۔ اور یہی دعوت پہلے انبیاء بھی لیکر آئے اور نبی  ﷺ نے بھی اپنی امت والوں کو مکہ والوں اور قریش مکہ کو اسی بات کی تلقین کی مختصر سا خلاصہ یہ کہ عرب کی یہ حالت تھی کہ نبی کے آنے سے پہلے عرب کے ہاں عورت کا کوئی مقام نہیں تھا ۔ شراب عام تھی زنا ان کا مشغلہ تھا اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بتوں کو اپنا خالق ومالک ورازق سمجھ بیٹھے تھے حقیقی رب کو بھول گئے دنیا کی حیات کو ابدی حیات سمجھ کر زندگی بسر کرنے لگے لیکن جب رحمۃ اللعالمین آئے تو اللہ نے ارشاد فرمایا :

{وَلَوْ کُنتَ فَظًّا غَلِیظَ الْقَلْبِ لاَنفَضُّواْ مِنْ حَوْلِکَ} (آل عمران :۱۵۹)

اگر آپ سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ سے بھاگ جاتے لیکن وہ جسے پوری انسانیت کی خاطر رحمت بنا کر بھیجا انہوں نے ان مکہ والوں کی زندگیوں میں انقلاب لاکر رکھ دیا اور ایک دن آیا نبی اکرم  ﷺنے اسی دعوت کو لیکر فاتح مکہ بن کر بیت اللہ کے اندر رکھے ہوئے بتوں کو اس نعرے کے ساتھ {وَقُلْ جَاء الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوقًا}(بنی اسرائیل :۸۱)منہدم کردیا۔

عرب کے حالات کا جائزہ لینے سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ نبی اکرم  ﷺ نے جہاں بتوں کی عبادت سے منع کیا وہاں عورت کو مقام بھی دیا اور دلایا اور جہاں عورت کو مقام دیا وہاں زنا کے اڈوں کو ختم کروایا صرف یہ ہی نہیں بلکہ شراب جیسی مصیبت سے نجات دلائی جوکہ تمام گناہوں کی جڑ ہے اور ان ساری چیزوں سے میں آثم یہی کہتاہوں اور یہی سمجھتا ہوں کہ عبادت صرف نماز، روزہ ، حج ، زکوۃ نہیں بلکہ عبادت کا لفظ عبد سے نکلا ہے عبد کے معنی بندے اورغلام کے ہیں ۔اسی لیے عبادت کے معنی بندگی اور غلامی کے ہوئے جب ایک غلام اپنے آقا کے ساتھ وفاداری کرتاہے اور اس کی اطاعت کرتاہے اور اس کی تعظیم کرتاہے تو دیکھنے والا یہ سمجھ جاتاہے کہ یہ ایک غلام اس کا آقا وہی ہے جس کے آگے جھک کر کھڑا ہے میں آثم یہی سمجھتاہوں کہ وفاداری ، اطاعت ، ادب اور تعظیم یہ سب چیزیں ملکر عبادت بنتی ہیں کیونکہ ایک غلام کے اندر جب یہ تینوں چیزیں جمع ہوتی ہیں تو تب جاکر یہ غلام بن سکتاہے۔

اس سے بھی مراد یہی ہے کہ انسان کو ایک ہی خدا کے ساتھ وفاداری کرنی چاہیے اس کے علاوہ کسی اور کے در پر سجدہ نہیں کرنا چاہیے اور اللہ کے مقابلہ میں کسی اور کو شریک نہیں ٹھہرانا چاہیے صرف اللہ ہی کے سامنے ادب وتعظیم سے سر جھکائیں ۔انہی تین چیزوں کو اللہ نے عبادت کے جامع لفظ میں بیان کیا ہے ۔ ہمارے نبی اکرم  ﷺ اور آپ سے پہلے جتنے انبیاء کرام آئے ان سب کی تعلیم کا لب لباب یہی ہے کہ

{وَقَضَی رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِیَّاہُ } (بنی اسرائیل :۲۳)

اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو ۔اگر کسی کو کسی چیز کی طلب ہے تو وہ بھی اللہ سے مانگے اگر کسی کے پاس اولاد نہیں وہ بھی اللہ سے مانگے ، اللہ کے سوا کسی اور سے مانگنا شرک ہے ۔الغرض وہ خدا ہی مالک ، خالق ، رازق وہ ہی بادشاہ ہے اور اسی بادشاہ کا فرمانبردار ہونا چاہیے صرف ایک قانون ہے جس کی تمہیں پیروی کرنی چاہیے وہ قانون اللہ کا قانون ہے اس قانون کو نافذ کرنے کیلئے ابنیاء کرام علیہم السلام آئے اور انبیا کا سلسلہ ختم ہوگیا پھر یہ ذمہ داری امت محمدیہ  ﷺ پر ڈال دی گئی پھرسیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آئے ، سیدنا عثمان غنی و علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہما آئے وہ بھی اسی دعوت کو لیکر مشرق ومغرب تک پہنچے اور یہ دعوت دی مجھے اور یہاں پر ایک ایسے سپہ سالار کا واقعہ یاد آیا جس کو دنیا مستجاب الدعوات عقبہ بن نافع رحمہ اللہ کے نام سے جانتی ہے مؤرخین لکھتے ہیں کہ جس وقت یہ افریقہ فتح کر چکے تھے اور یہ تمام علاقہ فتح کرتے ہوئے بحرظلمات کے کنارے جس کو بحر اوقیا نوس بھی کہا جاتاہے کھڑے ہوکر کہتے ہیں یاالٰہی اگر یہ سمندر میرے راستے میں حائل نہ ہوتا تو جہاں تک زمین ملتی میں تیری راہ میں جہاد کرتا چلا جاتا یہ کہہ کر سوار نے اپنے سبک رفتار گھوڑے کو جست لگا کر سمندر میں ڈال دیا اور جب پانی گھوڑے کی رانوں تک پہنچ گیا تو اس نے اس کو روک لیااور تلوار ہوا میں لہراتے ہوئے بڑے جوش اور جذبے سے یوں کہا اللہ رب العزت تو خوب جانتاہے کہ تیرا یہ عاجز بندہ اس نیت سے گھرسے نکلا تھا کہ تیرے ولی ذوالقرنین کی طرح زمین کی آخری حدوں تک تیرا نام بلند کرے تاکہ تیرے سوا کوئی دوسرا نہ پوجا جائے لیکن آج سمندر نے اس کا راستہ روک لیا ہے ۔(اللہ کے سپاہی ،لابی علی عبد الوکیل، صفحہ نمبر : ۶۹۔ خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ )

اسی بارے میں علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا۔

دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم

بحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے

اور یہ دعوت چلتی چلتی اب ہم تک پہنچی اور الحمد للہ ثم الحمد للہ اس دعوت کا اگر کوئی صحیح حق ادا کررہے ہیں تو وہ سلفیت کا عقیدہ رکھنے والے اہل حدیث ہیں جو انبیاء کرام علیہم السلام کی اس دعوت کو صحیح معنوں میں لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔ یہاں پر مجھے ایک بات یاد آئی کہ جب میں چھوٹا ہوتا تھا تو میرے دادا جان علیہ الرحمہ کہا کرتے تھے کہ اگر توحید ہے تو وہ اہل حدیثوں کے پاس ہے حالانکہ ان کا اپنا تعلق بریلوی مکتبہ فکر سے تھا ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآ ن وحدیث سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اور اسی دعوت کو جو دعوت نبی علیہ السلام نے دی اس کو لوگوں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین ثم آمین)

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *