گزشتہ دنوں سندھ سے تعلق رکھنے والے طالب علم مشہود عالم کی اچانک علالت ووفات پر طالب علم ساتھی کے تاثرات
موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کسی ذی نفس کا فرار ہونا ممکن نہیں ہے رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ کفی بالموت واعظاً کہ موت سے بڑھ کر کوئی وعظ اور نصیحت نہیں ہے ۔ قرآن وحدیث میں جابجاتذکیر بالموت کا ذکر ہوا ہے مگر افسوس کہ ہم مسلمان جتنا موت سے غافل ہیں اتنا کسی اور چیز سے غافل نہیں ہیں۔ ہمیں اس حقیقت کا ادراک بھی ہے۔ کہ زندگی ایک پانی کا بلبلہ ہے جو کہ پل میں تولہ ہوتا ہے تو پل میں ماشہ یا حیات انسانی اس ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی مانند ہے جوکہ چہرے کو چھوکر روح کو چند پل سرور دیتا اور گزر جاتاہے۔ زندگی تو ایک سفر ہے کبھی طویل تو کبھی انتہائی مختصر… اس لئے تو امام الزاہدین محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابی ابن عمر رضی اللہ عنہما کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اے ابن عمر رضی اللہ عنہما! دنیا میں تم مسافر کی طرح یا پردیسی کی طرح اپنی زندگی بسر کرو ۔(صحیح بخاری ، کتاب الرقائق ، باب قول النبی ﷺ کن فی الدنیا…)
لیکن باعث فخرہے ان لوگوں کی موت جوکہ اپنی زندگی میں آخرت کی تیاری کرتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے ملتے ہیں انہی نفوس مزکیہ میں سے ہی ہمارے ممدوح اور عزیز ساتھی مشہودعالم بھائی ہیں۔ (ان شاء اللہ)
محترم مشہود عالم بھائی کا آبائی تعلق سندھ کے مردم خیز شہر کنڈیارو سے تھا ۔ آپ معہد العلمی الثانوی کے سال اول کے طالب علم تھے آپ انتہائی مخلص ، محنتی اور ہنس مکھ شخصیت کے مالک تھے ان کی رہائش ہمارے ہی بلاک میں تھی۔ حلیم طبعی ایسی تھی کہ میں نے ان کو کسی ساتھی سے سخت الفاظ اور دررشت لہجے میںبات کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ مشہود بھائی خدمت خلق کا جذبہ صادقہ بھی رکھتے تھے ۔طلباء کی خدمت کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے کمپیوٹر سافٹ وئیر کے ماہر تھے جب بھی کسی ساتھی یا استاذ نے ان کو کسی کام کیلئے کہا تو انتہائی رغبت اور دلچسپی کے ساتھ ان کا کام کرتے تھے۔ موصوف کی وفات والے دن جامعہ میں دوپہر کے کھانے میں بریانی پکی تھی ۔ راقم الحروف کے ساتھ بیٹھ کر ہی مشہود بھائی بریانی کھا رہے تھے۔ میں نے ازراہِ مذاق ان سے کہا کہ آپ کھانا کم کھایا کریں آپ کا جسم روز بروز فربا ہوتا جارہاہے تو انہوں نے متبسم لہجے میں کہا ! شیخ (راقم الحروف کو ہمیشہ نام کی بجائے شیخ کہا کرتاتھا جوکہ عاجز کے ساتھ ان کی بے لوث محبت کی دلیل ہے ۔ ہم کھانے کے لئے زندہ نہیں ہیں بلکہ زندہ رہنے کیلئے کھاتے ہیں ( سبحان اللہ) کیا پتا تھا کہ یہ کھانا ان کی زندگی کا آخری کھانا ہوگا۔ کھانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں کپڑے استری کررہے تھے کہ اچانک ہی ان کو مرگی کا دورہ پڑگیا ۔ آہ موت کو تو بہانہ چاہیے مرگی کا دورہ تو ان کو پہلے بھی پڑ جاتاتھا مگر کیا پتہ تھا کہ دورہ جان لیوا ثابت ہوگا ولی اللہ بھائی نے جلدی سے ان کو چارپائی پہ لیٹایا اور ان کے زیر استعمال گولیاں دیںانجکشن بھی لگایا عصر کے بعد ان کو قریبی ہسپتال منتقل کیا ڈاکٹروں نے انتہائی سرعت سے ان کا چیک اپ کیا تو انہوں نے خبر دی کہ مرگی کا دورہ ان کا جان لیوا ثابت ہوا ہے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
ہم تمام ساتھیوں کی سسکیاں نکل گئی ہمیں کیا پتہ تھا کہ ہمارا ساتھی ہمیں یونہی اچانک چھوڑ جائے گا پردیس میں موت بھی ایک آزمائش سے کم نہیں ہے تمام ساتھی دم بخود تھے اور ایک دوسرے کو تسلیاں بھی دے رہے تھے۔ان کے ورثاء کو فون کیا اور جامعہ میں باقی طلباء کو بھی اطلاع دی گئی نمازِ مغرب میں فضیلۃ الشیخ ضیاء الرحمن المدنی حفظہ اللہ نے آبدیدہ حالت میں یہ جانکا خبر سنائی تو سب طلباء پر نم آنکھوں کیساتھ ہسپتال کی طرف چل پڑے مشہودعالم واقعی اسم بامسمی ثابت ہوئے ہر طالب علم نے ان کے اچھے برتاؤ، نیکی، صبراور شکر کی شہادت دی۔نمازِ مغرب کے بعد ان کی لاش کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ آبائی شہر روانہ کیا گیا۔ میں یہ سوچ کر کانپ جاتاہوں کہ ان کے والدین پر کیا گزری ہوگی۔ والدہ کو کسی نے کس حوصلہ سے جوان فرزند کی موت کی خبر دی ہوگی۔کیسے کیسے سپنے دیکھے ہوں مگرکوئی جائے خوشخبری دے ان خوش نصیب والدین کو کہ ان کا بیٹا فوت نہیں ہوا بلکہ حصولِ علم شرعی کی راہ میں شہادت جیسی عظیم اور قابل رشک موت سے ہمکنار ہوا ہے اور شہادت کی موت تو ’’یہ رتبہ بلند ہے جس کو مل گیا‘‘ اور’’ ایں سعادت بزور بازونیست ‘‘والی چیز ہے۔ اگلے دن بعد از ظہر نائب مدیر الجامعہ فضیلۃ الشیخ العلامہ نور محمد حفظہ اللہ نے انتہائی رقت أمیز انداز میں غائبانہ جنازہ پڑھایا۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ محترم مشہود عالم بھائی کی بشری خطاؤں پر قلمِ رحمت پھیر کر انہیں اعلیٰ علیین میں جگہ عنایت فرمائے اور جملہ پسماندگان خصوصاً ان کے والدین کو اس عظیم حادثہ پر صبر جمیل اور اجر جزیل عطا فرمائے اور دعا ہے کہ ہمارا یہ سفرِ زندگی بھی دین اسلام کی شاہراہ پر ہی تمام ہو۔ آمین
