قارئین کرام ! ویسے تو سیدالعابدین محمد رسول اللہ  ﷺ ہمیشہ ہی دعا ومناجات میں مصروف رہتے تھے مگر نمازِ فجر کے بعد تو رسول اللہ  ﷺ اذکار کا خصوصی اہتمام کرتے تھے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صبح کے وقت برکت اور رحمتِ الٰہی کیلئے خاص اہمیت رکھتاہے درج ذیل سطور میں معمولات محمدیہ اور مأمورات نبویہ میں وارد شدہ صبح وشام کے مسنون اذکار رقم کیے ہیں۔ یادرہے ! کہ یہاں پر صرف وہی دعائیں اور احادیث ذکر کی ہیں جن کسی مشہور محدثین نے صحیح قرار دیا ہے یقینا ان دعاؤں میں ایک خاص قسم کی تاثیر ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ’’اسوۂ حسنہ ‘‘کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

۱۔ اَللّٰہُمَّ بِکَ أَصْبَحْنَا ، وَبِکَ أَمْسَیْنَا، وَبِکَ نَحْیَا ، وَبِکَ نَمُوْتُ ، وَإِلَیْکَ النُّشُوْرُ ۔(ابن ماجہ :۳۸۶۸، اسنادہ قوی)
۲۔أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْکُ لِلّٰہِ ، وَالْحَمْدُ لِلّّٰہِ۔ ولاَاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَئٍ قَدِیْرٌ، رَبِّ أَسْأَلُکَ خَیْرَ مَا فِیْ ہَذَا الْیَوْمِ (خَیْرَ مَا فِیْ ہَذَہِ اللَّیْلَۃِ) وَخَیْرَ مَا بَعْدَہ(وَخَیْرَ مَا بَعْدَہَا)۔ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ ہَذَا الْیَوْمِ (مِنْ شَرِّ ہَذِہِ اللَّیْلَۃِ) وَشَرِّ مَا بَعْدَہُ ، (وَشَرِّ مَا بَعْدَہَا) ۔ رَبِّ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَسُوْئِ الْکِبَرِ ، رَبِّ أَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابٍ فِیْ النَّارِ ، وَعَذَابٍ فِی الْقَبْرِ۔(عبد اللہ بن مسعود ، مسلم:۲۷۲۳)
( أَمْسَیْنَاوَاَمْسَی الْمُلْکُ لِلّٰہِ …)

ملحوظہ : رات کے وقت بریکٹ میں دے گئے الفاظ ادا کریں۔

۳۔ اَللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ ، رَبَّ کُلَّ شَیْئٍ وَمَلِیْکَہُ و َمَالِکَہُ ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ ، أَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ وَمِنْ شَرِّ الشَّیْطَانِ وَشِرْکِہِ ِوَأَنِ اقْتَرِفَ عَلَی نَفْسِیْ سُوْء اً أَوْ أَجُرَّہُ إِلَی مُسْلِمٍ:(عن أبی بکر ، ترمذی :۳۳۸۹، ابوداؤد :۵۰۶۷ إسنادہ صحیح )
۴۔بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہِ شَیْئٌ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِی السَّمَائِ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔

( تین مرتبہ صبح اور تین مرتبہ شام ) (عثمان بن عفان ، ابن ماجہ:۳۸۶۹ وإسنادہ صحیح )

جو شخص یہ دعا تین تین دفعہ صبح وشام پڑھتا ہے اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی۔

۵۔ اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ الْعَافِیَۃَ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ ، اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِیْ دِیْنِیْ وَدُنْیَایَ وَأَھْلِیْ وَمَالِیْ ، اَللّٰہُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِیْ ، وَآمِنْ رَوْعَاتِیْ ، اللّٰہُمَّ احْفَظْنِیْ مِنْ بَیْنَ یَدَیَّ ، وَمِنْ خَلْفِیْ ، وَعَنْ یَمِیْنِیْ وَعَنْ شِمَالِیْ ، وَمِنْ فَوْقِیْ ، وَأَعُوْذُبِکَ وَأَعُوْذُ بِعَظَمَتِکَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِیْ ۔( ابوداؤد: ۵۰۷۳ حسنہ الحافظ فی أمالی الأذکار )
۶۔ أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْکُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ، اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ خَیْرَ ہَذَا الْیَوْمِ فَتْحَہُ وَنَصْرَہُ وَنُوْرَہُ وَبَرَکَتَہُ وَہِدَایَتَہُ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیْہِ وَشَرِّ مَا بَعْدَہُ ۔ (ابوداؤد ۵۰۸۴، وسندہ حسن)
۷۔ أَصْبَحْنَا عَلَی فِطْرَۃِ الْإِسْلاَمِ ، وَکَلِمَۃِ الْإِخْلاَصِ ، وَدِیْنِ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ ﷺ وَمِلَّۃِ أَبِیْنَا إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً مُسْلِماً ، وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔ (أحمد۳/۴۰۶و۴۰۷ وإسنادہ صحیح)
۸۔ یَا حَیُّ ، یَا قَیُّوْمُ بِکَ أَسْتَغِیْثُ : فَاصْلِحْ لِیْ شَأْنِیْ کُلَّہُ وَلاَ تَکِلْنِیْ إِلَی نَفْسِیْ طَرَفَۃَ عَیْنٍ۔ (الحاکم ۱/۵۴۵حسن)

یہ دعا رسول اللہ ا نے اپنی چہیتی بیٹی سیدتنا فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بطور وصیت پڑھنے کا حکم دیا۔

۹۔اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ عِلْماً نَافِعاً ، وَرِزْقاً طَیِّباً ، وَعَمَلاً مُتَقَبَّلاً ۔(ابن ماجہ/۹۲۵ولہ شاہد  عند الطبرانی فی معجم الصغیر بسند صحیح)
۱۰۔ حَسْبِیَ اللَّہُ لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ ۔(ابن السنی عمل الیوم واللیلۃ (۷۰) سندہ صحیح)

یہ دعا صبح وشام سات سات مرتبہ پڑھنے والے کیلئے اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت کے ان تمام کاموں سے کافی ہوجاتاہے جو اسے فکر مند کرتے ہیں ۔

۱۱۔ اَللّٰہُمًّ أَنْتَ رَبِّیْ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَأَنَا عَبْدُکَ وَأَنَا عَلَی عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ ، أَبُؤُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ ، وَأُبُوْئُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ إِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ ۔ (بخاری ،۱۱/۸۳۔۸۴ الدعوات)

اس دعا کو رسول اللہ  ﷺ نے سید الإستغفار کہا اور فرمایا کہ جو شخص یقین کی حالت میں اسے شام کے وقت پڑھ لے اور اسی طرح رات فوت ہوجائے وہ جنت میں داخل ہوگا اسی جو صبح کے وقت پڑھے اور شام تک فوت ہوجائے وہ بھی جنت میں داخل ہوگا۔

۱۲۔ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ۔( سو مرتبہ صبح سو مرتبہ شام) (بخاری ، ۱۱/ ۱۷۳ ومسلم: ۲۶۹۲)

جو شخص اسے صبح شام پڑھے گا قیامت کے دن کوئی آدمی اس سے افضل چیز لیکر نہیں آئے گاجو یہ لیکر آیا ہے۔سوائے اس شخص کے جو اس کی مثل کہے یا اس سے زیادہعمل کرے گا۔

۱۳۔ لاَاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَئٍ قَدِیْرٌ۔ (صبح ، شام دس دس مرتبہ) (ابوداؤد :۵۰۷۷ ، أحمد :۴/۶۰ وإسنادہ صحیح)

جو شخص ان کلمات کو ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دس گناہ معاف فرما دیتے ہیں اور اس کی دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اس کو دس غلام آزاد کرنے کا ثواب دیا جاتاہے اور وہ شام تک شیطان کے شر سے محفوظ رہتاہے۔اور اگر شام کویہ کلمات کہے تو صبح تک یہ فضیلت حاصل رہتی ہے۔

٭لاَاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَئٍ قَدِیْرٌ۔ (سو مرتبہ)( بخاری : ۱۱/۱۶۸و ۱۶۹ الدعوات)

جو شخص اسے دن میں سو مرتبہ پڑھ لے اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہوگا اور اس کیلئے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کی سو برائیاں مٹا دی جاتی ہیں اور اس دن شام تک شیطان سے اس کیلئے بچاؤ رہے گا اور کوئی شخص اس سے بہتر عمل لیکر نہیں آئے گا مگر جس نے اس سے زیادہ عمل کیا ہوگا۔

۱۴۔ أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّآمَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔ (صحیح الترمذی :۳۶۰۴)

جوشخص شام کے وقت درج بالا دعا تین دفعہ پڑھ لے تو اسے اس رات زہریلے جانور کا ڈنگ نقصان نہیں پہنچائے گا ۔

۱۵۔’’اَللّٰہُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلَی نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ۔ (صحیح الترغیب والترھیب :۱/۲۷۳)

 نبی  ﷺ نے فرمایا: ’’جوشخص صبح شام دس دس مرتبہ مجھ پر درود پڑھے اسے قیامت کے دن میری شفاعت حاصل ہوگی۔

۱۶۔ اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَصْبَحْتُ أُشْہِدُکَ وَأُشْہِدُ حَمَلَۃَ عَرْشِکَ وَمَلاَئِکَتَکَ وَجَمِیْعَ خَلْقِکَ أَنَّکَ أَنْتَ اللّٰہُ لآَاِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ وَحْدَکَ لاَ شَرِیْکَ لَکَ وَاَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ۔ (ابوداؤد:۴/۳۱۷)
۱۷۔ رَضِیْتُ بِاللّٰہِِ رَبًّا وَّبِالْإِسْلاَمِ دِیْناً وَّبِمُحَمَّدٍ نَّبِیاًّ۔ (صحیح الترمذی ۳/۱۴۱ ۔ للألبانی رحمہ اللہ )

جو شخص یہ دعا تین تین مرتبہ صبح وشام پڑھے تو اللہ تعالیٰ پرحق ہوجاتاہے کہ اسے راضی کرے ۔

۱۸۔آیت الکرسی۔ (سورۃ البقرۃ، آیت نمبر: ۲۵۵)

۱۹۔ آخری تین سورتیں

(سورت الإخلاص، الفلق ، والناس )

۲۰۔ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ عَدَدَ خَلْقِہِ وَرِضَا نَفْسِہِ ، وَزِیْنَۃَ عَرْشِہِ وَمِدَادَ کَلِمَاتِہِ۔ (تین مرتبہ صبح) (مسلم :۲۷۲۶)
۲۱۔ اَللّٰہُمَّ عَافِنِیْ فِیْ بَدَنِیْ ،  اَللّٰہُمَّ عَافِنِیْ فِیْ سَمْعِیْ ،  اَللّٰہُمَّ عَافِنِیْ فِیْ بَصَرِیْ ، لاَ إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ  اَللّٰہُمَّ إِنَّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ  لاَ إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ  ۔( تین تین مرتبہ صبح وشام) ( أبوداؤد ۴/۳۲۴)

قارئین کرام! اس مضمون کی تیاری درج ذیل کتب میں سے کی گئی ہے ۔اور ہر دعا صحیح سند کیساتھ ثابت ہے۔

۱۔ زاد المعاد فی ھدی خیر العبادلابن القیم تحقیق الشیخ شعیب الارنؤوط۔               

۲۔حصن المسلم فضیلۃ الشیخ سعید بن علی القحطانی مترجم الشیخ عبد السلام بن محمد         

۳۔24 گھنٹوں میں 1000 سنتیں مترجم ڈاکٹر اسحاق زاہد جزاہم اللہ جمیعاً

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کتاب وسنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *