سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی اور بچوں کو وقت، محبت، قربت اور نرمی دینا مرد کے فرائض میں سے ہے۔قرآن میں بھی شوہروں کو حکم دیا گیا ہے کہ اپنی بیویوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور پیار سے رہیں:
«وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ‘‘(النساء: 19)
یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارو۔
1. کیا باپ کا صرف نان نفقہ دینا کافی ہے؟
نان نفقہ، گھر کا خرچ، بچوں کی ضروریات پوری کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے، لیکن صرف یہ ذمہ داری پوری کر دینا شادی کا مقصد نہیں۔ گھر میں اگر محبت، توجہ اور دل کی قربت نہ ہو تو بیوی اور بچے دل سے محروم ہو جاتے ہیں۔بیوی صرف خواہش پوری کرنے یا کھانا پکانے کے لیے نہیں ہے، وہ دل کا سکون، دوستی، عزت اور محبت چاہتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی کے حق میں بہترین ہو، اور میں اپنی بیویوں کے ساتھ سب سے بہتر ہوں۔(ترمذی)
2. کیا شوہر کا دل سخت ہو سکتا ہے؟
کبھی کبھی مرد اتنی ذمہ داریوں میں الجھ جاتا ہے کہ وہ خود بھی تھک جاتا ہے۔ وہ پیار کے جذبات کو ظاہر نہیں کر پاتا۔کچھ مرد سمجھتے ہیں کہ اگر خرچ دے دیا، گھر کی ضرورت پوری کر دی تو ان کا فرض مکمل ہو گیا،لیکن عورت کی سب سے بڑی ضرورت پیار، نرمی اور عزت ہے۔یہ سختی اکثر حاکمانہ رویہ نہیں بلکہ تھکن کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہے لیکن پھر بھی شوہر کو چاہیے وہ پہل کرکے بیوی کے ساتھ عزت پیار سے بات کرے تو بیوی بھی ان شاءاللہ شوہر کی امیدوں پر آہستہ آہستہ پورا اتر سکتی ہے۔
3. حل اور راہنمائی:
شوہر کو یہ سمجھنا چاہیے کہ بیوی کا دل جیتے بغیر گھر کبھی سکون کا گہوارہ نہیں بن سکتا۔بیوی کی بات سننا، اس سے نرمی اور محبت سے پیش آنا نبی ﷺ کی سنت ہے۔اگر شوہر بیوی کو وقت اور محبت دے، تو گھر جنت کا نقشہ بن سکتا ہے۔والدین کے جھگڑوں اور فاصلوں سے بچے ٹوٹتے ہیں،لیکن اگر بیوی اور شوہر محبت سے رہیں، تو بچے بھی محفوظ، خوش اور اطاعت گزار ہو جاتے ہیں۔ہر دن کے اختتام پر صرف دس منٹ…بیوی کی بات سننا، اس کی تعریف کرنا… یہ چھوٹے عمل بڑے رشتے بچا لیتے ہیں۔ بیوی وہی پھول ہے جو محبت سے کھِلتا ہے۔اگر شوہر دل سے اس کی قدر کرے، تو وہ ہر دکھ، ہر قربانی آسانی سے سہہ لیتی ہے۔اگر شوہر بات نہ سمجھے، تو خاموشی سے، حکمت سے، اللہ سے دعا کریں…اللہ دل بدلنے والا ہے۔
4. اگر بیوی ضدی ہو، جذباتی ہو، تو کیا شوہر کو سخت ہو جانا چاہیے؟
نہیں…!بیوی ضدی ہو، تو شوہر نرم لہجہ اختیار کرے،بیوی بحث کرے، تو شوہر خاموشی میں حکمت تلاش کرے،بیوی روئے، تو شوہر بانہوں میں لے کر اسے سینے سے لگا کر اسے تسلی دے، یہ کمزوری نہیں، قیادت ہے۔
شوہر گھر کا سربراہ ہے، تو اُسے صرف خرچ کا نہیں،محبت، ماحول، اور بیوی کے دل کا بھی ذمہ دار سمجھا گیا ہے۔اگر بیوی بار بار شکایت کرتی ہے تو وہ توجہ اور اپنائیت کی بھوکی ہےایسی عورت کو الزام نہیں، محبت بھرے جملے اور محفوظ بازو چاہئیں۔
’’میں تیرے آنسوؤں کا ذمہ دار بننا چاہتا ہوں، مجھ سے ناراض نہ ہو۔‘‘
بیوی محبت چاہتی ہے،شوہر عزت چاہتا ہےلیکن اکثر دونوں اپنی ضد میں تنہا ہو جاتے ہیں۔تو پہل کون کرے؟
اگر شوہر ہر معاملے میں «حاکم» بننا پسند کرتا ہے،تو اصلاح میں بھی «حاکم» بنے، پہل کرے، معاف کرے، ایسا نہ ہو کہ دونوں ہی زخم لے کر جیتے رہیںاور بیچ میں اولاد اُن زخموں کی قیمت چکائے۔
5. اولاد کا کیا قصور ہے؟
بیوی کہتی ہے: ’’میں اپنی بیٹی کی شادی شوہر کے خاندان میں نہیں کروں گی‘‘،شوہر کہتا ہے: ’’میرا فیصلہ ہے، میرے رشتے داروں میں ہی کرنی ہے‘‘،یہ ضد، وہ غصہ ہے جو ماضی کی محرومیوں نے پیدا کیاجب عورت کو وقت، عزت اور توجہ نہ ملے،تو وہ اعتماد کھو بیٹھتی ہے۔ اور شک میں جینے لگتی ہے۔
لیکن اولاد…؟وہ تو دونوں کی محبت کا عکس تھی،اب وہ دیوار کے بیچ دب چکی ہے،کبھی ماں کی بات سنے، کبھی باپ کی…اس کا بچپن، اس کا ذہن، اس کا دل…سب الجھ کر رہ گئے،نہ رشتے سمجھ آتے ہیں، نہ اعتماد باقی رہتا ہے۔اور وہ یہی سوچتی ہے: ’’میرے کس عمل کی سزا ہے یہ سب؟‘‘ان کے دل زخمی ہو گئے، سوچیں الجھ گئیں،انہیں نہ رشتوں پر اعتماد رہا، نہ محبت پر یقین۔
6. حل: محبت سے گھر کو پھر سے آباد کرنے کی دعوت
اے شوہر!اگر بیوی روٹھتی ہے، چیختی ہے،تو سمجھ لو کہ وہ تمہاری محبت کی بھوکی ہے،اسے طعنہ مت دو… اسے تھام لو،ایسا مرد بن جاؤ کہ بیوی دل سے کہے:
’’میرا شوہر میرا محافظ ہے، میری عزت ہے، میری دنیا ہے۔‘‘
اے بیوی!اگر شوہر خاموش ہے، سخت ہے تو اس کی خاموشی کے پیچھے تھکن، فکر، ذمہ داری ہے،کبھی اُس کے سر پر ہاتھ رکھو اور دل سے کہو:’’تم میرے لیے سب کچھ ہو، میں تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘
اگر دونوں ضد چھوڑ دیں،تو سکون لوٹ آتا ہے، محبت پلٹ آتی ہے
اور وہ اولاد…؟جو کبھی بکھر چکی تھی…وہ بھی ایک مضبوط نسل بن جاتی ہے
ماں باپ کا اتفاق ہی اولاد کی حفاظت ہے۔
کبھی خود کو درست ثابت کرنے کے بجائےرشتہ بچانا زیادہ ضروری ہوتا ہے،کبھی ضد توڑنے سے محبت جیت جاتی ہے،کبھی معاف کرنے سے نسلیں محفوظ ہو جاتی ہیں۔اللہ دلوں کو جوڑنے والا ہے،اس سے دعا کریں… دل بدل جاتے ہیں،پیار واپس آتا ہےاور وہ دن بھی آتا ہے جب بیوی شوہر سے کہے:’’تم میرے صبر کا انعام ہو۔‘‘
اور شوہر بیوی سے کہے:’’تم میری زندگی کی خوشبو ہو۔‘‘
7. جب بیوی شوہر کے خاندان سے نفرت کرنے لگے
بیوی کہتی ہے:’’تمہارے رشتے دار میرے لیے ناقابلِ برداشت ہیں، کوئی میرے گھر نہ آئے، نہ میں کسی کے گھر جاؤں!‘‘
یہ جملے صرف بغاوت نہیں، بلکہ ایک ٹوٹے ہوئے دل کی چیخ ہیں…
ایسا دل جو کہیں نہ کہیں محبت، عزت یا تحفظ کھو چکا ہے۔
بیوی یہ سب یوں ہی نہیں کہتی…شاید سسرال سے کبھی طنز سنے ہوں، شاید اُس کی عزت کا پاس نہ رکھا گیا ہو،شاید جو عزت محبت وہ شوہر سے چاہتی تھی سسرال کے سامنے بھی وہ اسے نہ ملا ہو اسے لوگوں کے سامنے شوہر ہی نے کم تر کہا ہو، شاید وہ بار بار یہ محسوس کر چکی ہو کہ وہ شوہر کے خاندان میں ’’بیگانی‘‘ ہے۔
اور افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جب شوہر اپنی بیوی کے جذبات کو سسرال کے مقابلے میں ہلکا لے، تو بیوی خاموش نہیں رہتی… وہ بغاوت پر اُتر آتی ہے۔
لیکن یاد رکھیں!اکثر لوگ بغاوت کا راستہ تکلیف، محرومی یا بداعتمادی کے نتیجے میں اختیار کرتے ہیں ۔ اس لیے کسی کو «باغی» کہنا بھی درست نہیں، اُس کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کو سمجھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
8. پھر شوہر کیا کرے؟
شوہر تھک کر کہتا ہے:’’پھر میں دوسری شادی کر لیتا ہوں!‘‘
یہ جملہ گویا تیل ہے اُس آگ پر جو پہلے ہی بیوی کے اندر جل رہی ہے۔شوہر سمجھتا ہے کہ شاید بیوی کو سیدھا کرنے کا یہ واحد طریقہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بیوی کو بغاوت سے مزید دور نہیں کیا جا سکتا…بلکہ اُسے محبت، انصاف اور تحفظ دے کر واپس لایا جا سکتا ہے۔
شوہر کو بیوی کے جذبات کو سمجھنے کی ضرورت ہے:
’’آخر اُس کی روح میں ایسا کیا ٹوٹ گیا ہے، کہ وہ سب سے نفرت کرنے لگی؟‘‘ بیوی کو یہ احساس چاہیے کہ تم میرے لیے سب سے قیمتی ہو ،تمہاری عزت میری عزت ہے۔
9. بیوی کیا چاہتی ہے؟
بیوی چاہتی ہے:شوہر اُسے اپنے خاندان سے الگ نہ کرے، مگر خود اُس کی سُن لےاگر اُسے کسی نے تکلیف دی ہے، تو شوہر اُس کے ساتھ کھڑا ہواُسے بھی گھر میں عزت، مقام، اور اعتماد دیا جائے۔یہ بغاوت نہیں، یہ درد کا انداز ہےاور جب یہ درد بڑھ جاتا ہے، تو عورت بدتمیزی، سختی، یا ضد پر اُتر آتی ہےلیکن اندر سے وہ تب بھی اپنے شوہر کی محبت میں ہی زندہ ہوتی ہے۔
10. حل:
اگر دونوں سچ میں خوش رہنا چاہتے ہیں،شوہر اگر دوسری شادی کا سوچے، تو پہلے یہ دیکھے:’’کیا میں نے پہلی بیوی کو اُس کا حق، تحفظ دل کا سکون چاہت محبت اور دل کا اعتماد دیا؟‘‘ اور بیوی اگر بغاوت پر ہے، تو خود سے پوچھے:’’کیا میرے رویے نے شوہر کا دل زخمی نہیں کیا؟‘‘
دونوں ایک دوسرے کو آئینہ بن کر دیکھیں،نہ کہ صرف ایک دوسرے پر الزام ڈالیں۔اگر شوہر بیوی کے تحفظ کے لیے خود دیوار بن جائے،تو بیوی شوہر کے خاندان کو برداشت بھی کر سکتی ہے۔اگر بیوی شوہر کو عزت دے، نرمی سے بات کرے،تو شوہر خود اپنی بیوی کو سب سے بڑھ کر مقدم رکھتا ہے۔
11. پیغامِ آخر:
باغی عورت بھی صرف ایک زخمی عورت ہے…اور غصے میں دوسری شادی کی بات کرنے والا مرد بھی اندر سے بکھرا ہوا شوہر ہے…لیکن اگر دونوں صرف ایک بار ’’ضد‘‘ توڑ کر ’’احساس‘‘ کی زبان بول لیں —تو گھر، جنت کا نمونہ بن سکتا ہے۔
محبت، احساس اور نرم بات…یہ وہ دوا ہے جو ہر رشتے کو زندہ کر سکتی ہے۔
