قسط نمبر: 5
60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا
عن أبي أمامة رضي الله عنه أن الرجل من أهل الجنة ليشتهي الطير من طيور الجنة فيقع في يده منفلقا نضجا [صحيح الترغيب والترهيب:3741]
سیدناابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنتی شخص جنت کے پرندوں میں سے ایک پرندے کے کھانے کی خواہش کرے گا، وہ اس کے ہاتھ میں پکا ہوا اور ٹکڑے کیے ہوئے کی صورت میں آگرے گا۔
61.جنتیوں کی پرندوں کے گوشت سے خاطر تواضع
عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ طَيْرَ الْجَنَّةِ كَأَمْثَالِ الْبُخْتِ تَرْعَى فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ هَذِهِ لَطَيْرٌ نَاعِمَةٌ فَقَالَ أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا [مسند أحمد: 13311]
سیدناانس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نےفرمایا: جنت میں اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے ہوں گے، جو درختوں میں چرتے پھریں گے، سیدناابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! پھر تو وہ پرندے خوب صحت مند ہوں گے، آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ صحت مند ہوں گے۔
62.جنت میں ایک آدمی کو سو آدمیوں کے برابر قوت ملنا
عن زَيْد بْن أَرْقَمَ يَقُولُ قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يُعْطَى قُوَّةَ مِائَةِ رَجُلٍ فِي الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ وَالشَّهْوَةِ وَالْجِمَاعِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ فَإِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَةُ أَحَدِهِمْ عَرَقٌ يَفِيضُ مِنْ جِلْدِهِ فَإِذَا بَطْنُهُ قَدْ ضَمُرَ [مسند احمد:19314]
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: بےشک اہل جنت میں سے ایک آدمی کو کھانے میں، پینے میں، شہوت اور جماع میں سو آدمیوں کی طاقت دی جائے گی، تو یہودیوں میں سے ایک آدمی نے کہا: جب بندہ کھائے اور پیئے گا تو اس کو قضائے حاجت کی ضرورت بھی ہوگی، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: جنتیوں میں سے کسی ایک کی حاجت ایک پسینے کی صورت میں ہوگی، جو اس کی جلد سے بہے گا تو اس سے اس کا پیٹ سکڑ جائے گا (یعنی اس کی حاجت پوری ہو جائے گی)۔
63. جنت میں بڑے بڑے پھل
عن عُتْبَةَ بْن عَبْدٍ السُّلَمِيِّ يَقُولُ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ الْحَوْضِ وَذَكَرَ الْجَنَّةَ ثُمَّ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ فِيهَا فَاكِهَةٌ قَالَ نَعَمْ۔۔۔۔۔ قَالَ فِيهَا عِنَبٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَمَا عِظَمُ الْعُنْقُودِ قَالَ مَسِيرَةُ شَهْرٍ لِلْغُرَابِ الْأَبْقَعِ وَلَا يَعْثُرُ قَالَ فَمَا عِظَمُ الْحَبَّةِ قَالَ هَلْ ذَبَحَ أَبُوكَ تَيْسًا مِنْ غَنَمِهِ قَطُّ عَظِيمًا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَسَلَخَ إِهَابَهُ فَأَعْطَاهُ أُمَّكَ قَالَ اتَّخِذِي لَنَا مِنْهُ دَلْوًا قَالَ نَعَمْ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ فَإِنَّ تِلْكَ الْحَبَّةَ لَتُشْبِعُنِي وَأَهْلَ بَيْتِي قَالَ نَعَمْ وَعَامَّةَ عَشِيرَتِكَ [مسند احمد:17642]
سیدناعتبہ بن عبد السلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حوض کوثر اور جنت کے متعلق سوالات پوچھنے لگا، پھر دیہاتی نے پوچھا: کیا جنت میں میوے ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں!۔۔۔۔اس دیہاتی نے پوچھا: جنت میں انگور ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! اس نے پوچھا: اس کے خوشوں کی موٹائی کتنی ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: چتکبرے کوے کی ایک مہینے کی مسلسل مسافت جس میں وہ رکے نہیں، اس نے پوچھا: اس کے ایک دانے کی موٹائی کتنی ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے والد نے کبھی اپنی بکریوں میں سے کوئی بہت بڑا مینڈھا ذبح کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! نبی ﷺ نے فرمایا: پھر اس نے اس کی کھال اتار کر تمہاری والدہ کو دی ہو اور یہ کہا ہو کہ اس کا ڈول بنالو؟ اس نے کہا جی ہاں! دیہاتی کہنے لگا: اس طرح تو وہ ایک دانہ ہی مجھے اور میرے تمام اہل خانہ کو سیراب کر دے گا، آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! اور تمہارے تمام خاندان والوں کو بھی سیراب کر دے گا۔
64.جنت میں جھکے ہوئے پھل
عن البراء بن عازب رضي الله عنه في قوله وذللت قطوفها تذليلا قال إن أهل الجنة يأكلون من ثمار الجنة قياما وقعودا ومضطجعين [صحيح الترغيب والترهيب:3734]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالی کے اس فرمان وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلًا(الإنسان:14) کے بارے میں روایت ہے کہ جنتی لوگ جنت کے پھلوں اور میووں سے، اُٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے کھاتے رہیں گے۔
65.جنت میں بغیر گٹھلی کے میٹھے اور نرم پھل
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال نخل الجنة جذوعها من زمرد خضر وكربها ذهب أحمر وسعفها كسوة لأهل الجنة منها مقطعاتهم وحللهم وثمرها أمثال القلال والدلاء أشد بياضا من اللبن وأحلى من العسل وألين من الزبد ليس فيها عجم [صحيح الترغيب والترهيب:3735]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جنت کی کھجوروں کے تنے سبز زمرد کے ہیں اور کھجور کی ٹہنیوں کا ابتدائی حصہ سرخ سونے کا ہے اور اس کی ٹہنیوں کا چھلکا جنتیوں کا لباس ہوگا،ان میں سے کچھ چھوٹے کپڑے اور کچھ حُلے ہوں گے اور اس کے پھل، مٹکوں اور ڈولوں کے برابر ہوں گے، وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے، ان میں گٹھلیاں نہیں ہوں گی۔
66.جنت میں انگوروں کے گچھے کی لمبائی
عن عبد الله بن أبي الهديل قال كنا مع عبد الله يعني ابن مسعود بالشام أو بعمان فتذاكروا الجنة فقال إن العنقود من عناقيدها من ههنا إلى صنعاء [صحيح الترغيب والترهيب:3730]
سیدنا عبد اللہ بن ابی الہدیل سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم عبد اللہ بن مسعود کے ساتھ شام یا عمان میں تھےتو لوگوں نے جنت کا تذکرہ کیا، پس انہوں نے کہا: جنت کے انگوروں کے گچھوں میں سے ایک گچھا یہاں سے لےکر صنعاء [یمن] تک بڑا اور لمبا ہوگا۔
67.جنت میں ایک انگور کے جوس سے ایک بڑا ڈول بھر جانا
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال عرضت علي الجنة فذهبت أتناول منها قطفا أريكموه فحيل بيني وبينه فقال رجل يا رسول الله ما ماء الحبة من العنب قال كأعظم دلو فرت أمك قط [صحيح الترغيب والترهيب:3731]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھ پر جنت پیش کی گئی تو میں گیا اور اس سے انگوروں کا خوشہ توڑنے لگا تاکہ میں اسے تم کو دکھا دوں، تو میرے اور اس کے درمیان رکاوٹ حائل کر دی گئی۔ پس ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! انگور کے دانے کا پانی کتنا ہوگا؟آپ ﷺ نے فرمایا: سب سے بڑے ڈول کے برابر جو تمہاری ماں نے کبھی بنایا ہو۔
68.جنت میں مشروب اور برتنوں کا خود پاس آجانا
عن أبي أمامة رضي الله عنه قال إن الرجل من أهل الجنة ليشتهي الشراب من شراب الجنة فيجيء الإبريق فيقع في يده فيشرب ثم يعود إلى مكانه [صحيح الترغيب والترهيب:3738]
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جنت والوں میں سے ایک شخص جنت کی شراب کی خواہش کرے گا پس (ٹونٹی والی کیتلی کی طرح کا) برتن اس کے ہاتھ میں آجائےگا، تو وہ پی لے گا۔ پھر وہ برتن اپنی جگہ پر واپس چلا جائے گا۔
69.جنت کے خوبصورت بستر
عن ابن مسعود رضي الله عنه في قوله عز وجل بطائنها من إستبرق قال أخبرتم بالبطائن فكيف بالظهائر[صحيح الترغيب والترهيب:3746]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان کے بارے میں روایت ہے «جن کا اندرونی حصہ موٹے ریشم کا ہوگا»[الرحمٰن 54] وہ کہتے ہیں کہ تمہیں اندرونی حصے کے بارے میں یہ خبر دی گئی ہے تو بیرونی حصے کی کیفیت کیا ہوگی۔
70.جنت میں دو چاندی اور دو سونے کے باغ
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا [صحیح البخاری:4878]
سیدناابو بكر بن عبد الله بن قيس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: (جنت میں) دو باغ چاندی کے ہوں گے جن کے برتن اور تمام دوسری چیزیں چاندی کی ہوں گی، اور دو باغ سونے کے ہوں گے جن کے برتن اور تمام دوسری چیزیں سونے کی ہوں گی۔
71.جنت کے پھلوں کے غلافوں سے کپڑوں کا نکلنا
عن أبي سعيد الخدري عن رسول الله ﷺ قَالَ طوبى شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ مِائَةِ عَامٍ ثِيَابُ أَهْلِ الْجَنَّةِ تَخْرُجُ مِنْ أَكْمَامِهَا [السلسلة الصحيحة :1985]
سیدناابو سعید خدری رضى الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: طوبی جنت کے ایک درخت کا نام ہے جس کی مسافت سو سال کے برابر ہے، اور اہل جنت کے کپڑے اس درخت کے پھلوں کے چھلکوں سے نکلیں گے۔
72.جنت میں موتیوں کے ہار
عن أَبي ذَرٍّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ … أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا فِيهَا حَبَايِلُ اللُّؤْلُؤِ [صحیح البخاری:349]
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: … مجھے جنت میں لے جایا گیا، میں نے دیکھا کہ اس میں موتیوں کے ہار ہیں۔
73.جنت میں سونے کی کنگھیاں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: ۔۔۔۔۔ أَمْشَاطُهُمْ مِنْ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَمَجَامِرُهُمْ الْأَلُوَّةُ [صحيح البخاری:3245]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: …..اہل جنت کی کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی۔اور ان کی انگیٹھیوں میں (جلانے کے لئے) خوشبودار لکڑی ہوگی۔
74.اہل جنت کے سونے کے برتن
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ آنِيَتُهُمْ فِيهَا الذَّهَبُ[صحيح البخاری: 3245]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت میں جنتیوں کے برتن سونے کے ہوں گے۔
75.جنت میں چاندی اور شیشے کے برتن
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ [صحیح البخاری:4878]
ابو بکر بن عبد اللہ بن قیس اپنے والد (ابو موسی اشعری) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو باغ چاندی کے ہیں۔ ان دونوں کے برتن اور ان کا دیگر سازو سامان چاندی کا ہوگا۔ اور دو باغ سونے کے ہیں۔ ان کے برتن اور دیگر سازو سامان بھی سونے کا ہوگا۔اور جنت عدن میں اہل جنت اور ان کے رب کے دیدار میں کوئی چیز حائل نہیں ہوگی، البتہ! رب کے چہرے پر کبریائی کی چادر ضرور ہوگی۔
(جاری ہے)
