قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری علمی کاموں کی مصروفیات کے باعث یہ کام رہتا گیا، الحمدللہ رب نے وقت میں برکت ڈالی اور اصحاب رسول ﷺ کے دفاع جیسے بابرکت عمل کے باعث اللہ نے اس کام کی توفیق عطا فرمائی۔

سب سے پہلے اس روایت کی سند ملاحظہ فرمائیں پھر اس کا تین طریقوں سے رد کیا جائے گا ان شاء اللہ ترتیب وار۔

سند کا پوسٹ مارٹم۔

 روایت کے متن سے استدلال کا پوسٹ مارٹم۔

لا علمی کے واقعات اہل بیت کرام سے فریقین کی کتب سے پیش کئے جائیں گے جس میں تحقیقی اور الزامی دونوں جوابات کی قسم شامل ہوگی۔

اب سند ملاحظہ فرمائیں

قال أحمد ابن زهير حدثنا عبيد الله بن عمر القواريري حدثنا مؤمل بن إسماعيل حدثنا سفيان الثوري عن يحيي بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال كان عمر يتعوذ بالله من معضلة ليس لها أبو الحسن وقال في ردالمج نونة التي أمر برجمها وفي التي وضعت لستة أشهر فأراد عمر رجمها فقال له علي إن الله تعالي يقول وحملة وفصاله ثلاثون شهرا الحديث وقال له إن الله رفع القلم عن المجنون ۔۔۔۔۔۔۔الحديث فكان عمر يقول لولا علي لهلك عمر. (الاستيعاب ابن عبدالبر جلد سوم صفحہ نمبر 206)

سند کا پوسٹ مارٹم۔

ناچیز نے الاستیعاب فی معرفت الاصحاب کے جتنے نسخے دیکھے ہیں اس میں روایت کا زیر بحث ٹکڑا

لولا علی لھلك عمر»

بالکل عليحده روایت کے آخر میں علیحدہ وقفہ سے نقل کیا گیا ہے جو یہ احتمال دے رہا ہے ہے کہ یہ قول امام ابنِ عبدالبر رحمة اللہ علیہ نے ڈائریکٹ جناب عمر فاروق اعظم رضي الله عنه کی طرف سے نقل کیا ہے اور اس لحاظ سے بے سند ہونے کی وجہ سے بھی حجت نہ رہا۔ اگر پچھلی سند کا ٹکڑا بھی سمجھا جائے پھر بھی روایت درست نہیں شرح اس کی یہ ہے کہ

1۔ اس کا ایک راوی مومل بن اسماعیل ہے امام بخاری رحمه الله کے مطابق منکر الحدیث تھا، اور جو راوی امام بخاری کے نزدیک منکر حدیث ہو اس کی کسی روایت سے احتجاج نہیں کیا جا سکتا ملاحظہ فرمائیں۔(میزان الاعتدال جلد اول رقم ترجمہ ابان بن تغلب صفحہ نمبر 119)

اس کے علاؤہ اس کو امام نسائی، امام ابن عماد، امام دار قطنی، امام ابو زرعہ رحمہم اللہ سب نے مومل بن اسماعیل کو کثیر الخطا کہا ہے۔(میزان الاعتدال جلد ششم رقم ترجمہ 8956 صفحہ نمبر 571.تہذیب التہذیب جلد ششم صفحہ نمبر489,490 رقم ترجمہ 8277)

علاوہ ازیں اس کا حافظہ خراب تھا اور اس نے اپنی کتب دفن کردی تھیں اور روایات صرف اپنے حافظے سے بیان کرتا تھا اس لیے اس سے بہت زیادہ غلطیاں صادر ہوتی تھیں۔ جیسا کہ محدث حافظ ابن عمار الشھید نے وضاحت فرمائی ہے۔(علم الحدیث فی کتاب صحیح مسلم صفحہ نمبر 128)

اس لیے یہ روایات میں کثرت سے وہم اور اغلاط کرتا تھا۔ اس کی روایات صرف متابعت میں قبول کی جاتی ہیں اور زیر بحث روایت میں مومل بن اسماعیل منفرد ہے چنانچہ امام نصر مروزی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ

مومل بن اسماعیل جب کسی روایت میں منفرد ہوں تو اس روایت سے توقف کیا جائے گا۔(تعظیم قدر الصلاۃ جلد دوم صفحہ نمبر 574)

2. اس کے دوسرے راوی امام سفیان ثوری رحمہ اللہ ہیں جو ثقہ تو ہیں لیکن مدلس ہونے کی وجہ سے ان کی عن سے روایت حجت نہیں ہوگی۔(میزان الاعتدال جلد دؤم صفحہ نمبر 169, سیر اعلام النبلاء جلد ہفتم صفحہ نمبر 274)

اور زیر بحث روایت عن سے ہے۔ اس کے علاؤہ یہاں پر اس روایت میں ایک اور علت بھی ہے جس کی وجہ سے جناب سفیان ثوری رحمہ اللہ تعالی کی روایت ان کے ثقہ ہونے کے باوجود حجت نہیں کیونکہ اس روایت میں امام سفیان ثوری رحمہ اللہ تعالی سے نقل کرنے والے مومل بن اسماعیل ہیں اور ان کی جناب سفیان ثوری رحمہ اللہ تعالی سے منقول روایت حجت نہیں ہوتی چنانچہ محدث امام ابن عساکر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ

’’محمد بن عثمان بن سعید دارمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام یحییٰ بن معین سے فریابی کی سفیان ثوری سے روایت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا فریابی کی سفیان ثوری سے روایت کا وہی حال ہے جس طرح مومل بن اسماعیل، عبیداللہ بن موسیٰ، قبیصہ اور عبدالرزاق کی روایت سفیان ثوری سے ہیں۔(تاریخ دمشق لابن عساکر جلد 56 صفحہ نمبر 329)

یعنی جس طرح ان راویوں کی جناب سفیان ثوری سے روایات ضعیف ہوتی ہیں اسی طرح مومل بن اسماعیل کی جناب سفیان ثوری سے منقول روایت بھی ضعیف ہوگی۔

تنبیہ: ہمارے کئی اہل علم حضرات نے امام سفیان ثوری رحمہ اللہ تعالی کے بارے میں یہ ثابت کیا ہے کہ ’’ان کی تدلیس مضر نہیں» ان کی آراء کو تسلیم کرنے کے بعد بھی زیر بحث روایت ثابت نہیں ہوتی جس کی وجہ امام ابنِ عساکر کی کتب کے حوالے سے پیش کر دی گئی ہے ۔

3. اس کے تیسرے راوی امام سعید بن مسیب رحمه الله ہیں جو 21 ہجری میں پیدا ہوئے تھے, سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ان کا سماع نہیں ہے۔اس لیے یہ روایت منقطع ہونے کی وجہ سے حجت نہیں۔

اس کے علاوہ روایت ’’لو لا علی… کے الفاظ روایت میں بڑھائے گئے ہیں۔۔ جمہور محدثین نے ان الفاظ کو نہیں لکھا۔۔ اس لیے منہاج السنہ میں شیخ الاسلام ابن تیمیه رحمه الله نے لکھا ہے کہ یہ الفاظ ضعیف ہیں۔

 منہاج السنہ جلد ششم ۔

4. اس روایت کے ایک راوی جناب احمد بن زہیر رحمہ اللہ تعالی عنہ ہیں یہ گو کہ ثقہ ہیں لیکن زیر بحث روایات میں ایک خارجی علت کی وجہ سے یہ روایت حجت نہیں شرح اس کی یہ ہے کہ ان سے امام عبدالبر رحمہ اللہ تعالی روایت کو نقل کر رہے ہیں جن کی پیدائش 368 ہجری کی ہے جبکہ جناب امام احمد بن زہیر رحمہ اللہ تعالی عنہ کی وفات 279 ہجری میں ہوئی ان کی وفات اور حالات کی تفصیل کے لئے درج ذیل کتب کی طرف رجوع فرمائیں۔(تاریخ مدینہ السلام واخبار محدثیھا جلد پنجم رقم ترجمہ 2110. صفحہ نمبر 267, تاریخ بغداد جلد چہارم صفحہ نمبر 162)

اس صورت حال میں جناب احمد بن زہیر اور جناب ابن عبد البر کے درمیان 89 سال کا انقطاع بن رہا ہے لہذا یہ روایت یہاں بھی منقول ثابت ہوگئی۔

’’دوسرے حوالے کا پوسٹ مارٹم ’’

اس کا ایک طرق مسند امام زید سے پیش کیا جاتا ہے ملاحظہ فرمائیں۔

(مسند امام زید بن علی صفحہ نمبر 299, رقم روایت نمبر 627)

لیکن یہ کتاب امام زید رحمہ اللہ تعالی سے ثابت نہیں اور جس کے ذریعے سے منقول ہے وہ عَمرو بن خالد واسطی ہے جو کہ متروک، منکر حدیث اور کذاب راویوں میں شامل تھا اس پر مفصل محدثین کی جرح ملاحظہ فرمائیں

1. قال عبد الله بْن أحمد بْن حنبل، عن أبيه : متروك الحديث، ليس بشيء .
2. وقال أَبُو بكر الأثرم، عن أحمد بْن حنبل : كذاب، يروي عن زيد بْن علي، عن آبائه أحاديث موضوعة يكذب .
3. وقال عباس الدوري ، عن يحيى بْن معين : كذاب غير ثقة ، ولا مأمون .
4. وقال هاشم بْن مرثد الطبراني، عن يحيى بْن
5. معين : كذاب ليس بشيء .
وقال إسحاق بْن راهويه، وأبو زرعة : كَانَ يضع الحديث .
6. وقال أَبُو حاتم : متروك الحديث ، ذاهب الحديث ، لا يشتغل بِهِ .
7. وقال أَبُو عبيد الآجري : سألت أبا داود عن عمرو بْن خالد الَّذِي يروي عَنْهُ أَبُو حفص الأبار ، فَقَالَ : هَذَا كذاب .
8. وقال فِي موضع آخر : سألت أبا داود عن عمرو بْن خالد ، فَقَالَ : ليس بشيء .
9. قال وكيع : كَانَ جارنا ، فظهرنا مِنْهُ عَلَى كذب ، فانتقل قُلْتُ : كَانَ واسطيا؟ قال : نعم .
وحكى غيره عن وكيع ، قال : كَانَ فِي جوارنا يضع الحديث ، فلما فطن لَهُ تحول إِلَى واسط.

ملاحظہ فرمائیں: ( الضعفاء امام عقلی جلد سوم صفحہ نمبر 986رقم ترجمہ 1276 وغیرہ)

خلاصۃ یہ ہے کہ جب مسند امام زید کتاب ہی سرے سے ثابت نہیں اور جس کا واسطہ ہے وہ خود کذاب، مجروح اور متروک راوی ہے تو اس کتاب کی کسی روایت سے حجت نہیں پکڑی جا سکتی ۔

روایت کے متن سے استدلال کا پوسٹ مارٹم ۔

بالفرض ہم اس روایت کو تسلیم کر لیتے ہیں پھر بھی اس سے امیر المومنین سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو شرعی طور پر لا علم ثابت نہیں کیا جاسکتا شرح اس کی یہ ہے کہ جس معاملہ کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو معلومات دی تھیں وہ ایک خارجی چیز تھی جو اس عورت کے گھر والوں کو بھی پتا تھا جس کا تعلق عورتوں سے ہوتا ہے۔ اور اس سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جناب عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ رجم کے احکام سے واقف نہیں تھے۔ بلکہ آپ رضی اللہ عنہ جناب علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک خارجی علت کی وجہ سے اپنے عمل سے رک گئے تھے۔ اور یہ بات شریعت کے علوم سے تعلق نہیں رکھتی کہ جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ پر اعتراض ہوسکے ان کی جواب داری تو ظاہری معاملات کو دیکھتے ہوئے تھی جس پر انہوں نہ فیصلہ فرمایا اور حکم شریعت بھی یہی ہے کہ حکم ظاہر پر ہی ہوتا ہے اس کے لیے رسول اللہ ﷺکا فرمان دیکھنے کے لیے صحیح بخاری کہ طرف رجوع فرمائیں۔(صحیح بخاری جلد دوم)

قرآن مجید میں الله تعالیٰ نے جناب سلیمان علیہ السلام کا واقعہ بیان فرمایا ہے جس میں ایک خارجی خبر پر ایک ہُدہُد پرندہ جناب سلیمان علیہ السلام کو خبر دیتا ہے جس کا علم جناب سلیمان علیہ السلام کو نہیں تھا۔ چناچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ

فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ يَّقِيْنٍ (النمل:22)

 کچھ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ(ہُدہُد نے) اس نے آکر کہا میں ایک ایسی چیز کی خبر لایا ہوں کہ آپ (یعنی سیدنا سلیمان علیہ السلام) کو اس کی خبر ہی نہیں، میں سبا کی ایک سچی خبر آپ کے پاس لایا ہوں ۔

جب کسی خارجی خبر کے نہ ہونے کی وجہ سے ایک نبی کے علم پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا تو صحابی رسول ﷺ پر بھی اعتراض کیسے کیا جاسکتا ہے؟

اگر ایک عورت کے قتل کی وجہ سے جناب عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اپنی ہلاکت کا فرما رہے ہیں تو جس خلیفہ کی طرف سے صِفِّین و جَمَل میں ہزاروں کا قتل ہوا وہ تو اس کا بدرجہ اولٰی حق دار ہیں۔

(الزامی جواب)

 اہل بیت کے لا علمی کے واقعات۔

لولا علی لھلک عمر۔۔

سے امامیہ شیعوں کا استدلال جناب عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی شریعت سے لاعلمی کو ثابت کرنے کی ناکام لنگڑی کوشش تھی جس کا اوپر تحقیقی جواب میں کھٹا چٹھا کھول دیا ہے۔ اب الزامی جواب کے تحت اسی طرح کے لاعلمی کے واقعات امامیہ شیعوں کے نزدیک معصوم شخصیات کی طرف سے فریقین کی کتب سے پیش کئے جائیں گے ان شإاللہ ملاحظہ فرمائیں۔

(1) سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ

‏‏‏‏أَنَّ عَلِيًّا حَرَّقَ قَوْمًا ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ،‏‏‏‏ فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ لَوْ كُنْتُ أَنَا لَقَتَلْتُهُمْ،‏‏‏‏ لِقَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ،‏‏‏‏ وَلَمْ أَكُنْ لِأُحَرِّقَهُمْ،‏‏‏‏ لِقَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللهِ ،‏‏‏‏ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ۔

سیدناعلی رضی الله عنہ نے کچھ ایسے لوگوں کو زندہ جلا دیا جو اسلام سے مرتد ہوگئے تھے، جب ابن عباس رضی الله عنہما کو یہ بات معلوم ہوئی ۱؎ تو انہوں نے کہا: اگر (علی رضی الله عنہ کی جگہ) میں ہوتا تو انہیں قتل کرتا، کیونکہ رسول اللہ ﷺکا فرمان ہے: ”جو اپنے دین (اسلام) کو بدل ڈالے اسے قتل کرو“، اور میں انہیں جلاتا نہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺکا فرمان ہے: ”اللہ کے عذاب خاص جیسا تم لوگ عذاب نہ دو“، پھر اس بات کی خبر علی رضی الله عنہ کو ہوئی تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی الله عنہما نے سچ کہا۔

(صحیح بخاری جلد دوم کتاب الجہاد رقم حدیث نمبر 3017,جامع ترمذی جلد دوم رقم حدیث نمبر 1458)

(2)۔اسی طرح جناب ربیعہ بن دراج فرماتے ہیں کہ

ان علی صلی بعد العصر رکعتین فتغیظ علیہ عمر وقال اما علمت ان رسول اللہ ﷺکان نھی عنھا۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز کے بعد دو رکعت نفل پڑھے تو سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ناراض ہوتے ہوئے فرمایا ’’آپ کو علم نہیں کہ نبی ﷺنے عصر کی نماز کے بعد نفل پڑھنے سے منع فرمایا تھا۔‘‘

(مسند احمد جلد اول مسندات عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ رقم حدیث نمبر 101, مصنف عبدالرزاق جلد دوم صفحہ نمبر 430)

(3)۔ایک اور معاملہ جو لونڈیوں سے اولاد کو فروخت کے مسئلہ میں سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ ان کو فروخت نہ کیا جائے لیکن جناب علی المرتضی رضی اللہ عنہ ان کے بیچنے کے جواز کے قائل تھے اس معاملے کے بعد میں جناب علی رضی اللہ عنہ کے قاضی عبیدہ جناب علی رضی اللہ عنہ کی اس رائے کے مقابلے میں جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی رائے کو ترجیح دیتے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس بارے میں اپنی رائے کو مرجوع اور جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی بات کو راجح سمجھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

اقْضُوا كَمَا كُنْتُمْ تَقْضُونَ فَإِنِّي أَكْرَهُ الِاخْتِلَافَ حَتَّى يَكُونَ لِلنَّاسِ جَمَاعَةٌ أَوْ أَمُوتَ كَمَا مَاتَ أَصْحَابِي»

جس طرح تم پہلے فیصلہ کیا کرتے تھے اب بھی کیا کرو کیونکہ میں اختلاف کو برا جانتا ہوں۔ اس وقت تک کہ سب لوگ جمع ہوجائیں یا میں بھی اپنے ساتھیوں (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) کی طرح دنیا سے چلا جاؤں۔(صحیح بخاری جلد دوم رقم حدیث نمبر 3707.کتاب المغنی عبد الجبار صفحہ نمبر 18)

(4)۔جناب علی رضی اللہ عنہ دادا کے ساتھ میت کے بھائی کی صورت میں دادا کو ثلث دینے کے قائل ہیں لیکن بعد میں اپنے اس فیصلے سے رجوع کرتے ہوئے دوسرے اصحاب رسول اللہ ﷺکے موافق ادا حصہ اختیار فرما لیا۔(کتاب المغنی قاضی عبد الجبار صفحہ نمبر 18)

(5)۔ جناب محمد بن کعب رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دے دیا تو اس شخص نے عرض کیا کہ

’’اس طرح کا مسئلہ نہیں جس طرح آپ فرما رہے ہیں بلکہ اس طرح ہے (یعنی اس شخص نے اس کے مخالف مسئلہ کا کہہ دیا)

اس پر جناب علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا

اصبت واخطات وفوق کل ذی علم علیم

’’تم نے مسئلہ درست بتایا ہے اور میں نے غلطی کی ہر علم والے سے زیادہ دوسرا زیادہ علم والا ہوسکتا ہے»(کنزالعمال جلد پنجم باب العلم والعلما صفحہ نمبر 241)

نہج البلاغہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی غلطیوں کے حوالے سے فرمایا

’’فلا تلفوا ون مقالہ او مشورہ بعدل فانی لست فی نفسی بفوق ان اخطی ولا آمن ذالک من فعلی

’’اے مخاطبین! حق بات کہنے میں اور مجھے انصاف کا مشورہ دینے سے مت رکو، کیوں کہ میں غلطی کرنے سے بالا تر نہیں ہوں اور میں اپنے فعل میں غلطی سے بے خود نہیں ہوں»

(اصول کافی جلد سوم کتاب الروضہ خطبہ امیر المومنین رضی اللہ عنہ رقم روایت 550 صفحہ نمبر 597۔نہج البلاغہ جلد اوّل خطبہ بصفین صفحہ نمبر 436)

تنبیہ: اگر ہماری طرف سے پیش کردہ روایات میں کسی جگہ صرف بھی موجود ہے تو اس اعتراض کو پیش کرنے سے پہلے زیر بحث روایت کو اسنادی حیثیت سے صحیح ثابت کرنا ضروری ہے ورنہ ہماری روایات پر بات کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہوگا۔

(6)۔شیعہ امامیہ کی طرف سے ’’لو لا علی لھلک عمر» سے استدلال کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کوئی بہت غلط فیصلہ کرنے ہی والے تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آکر صحیح فیصلہ کر دیا۔ اب اسی طرح کی ایک روایت امامیہ کی معتبر کتاب اصول کافی سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فیصلے کے بارے میں ملاحظہ فرمائیں جبکہ امامیہ شیعوں کا دعوٰی ہے کہ وہ معصوم تھے۔ لیکن روایت کی روشنی میں ایک چور کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے چور کے بجائے ایک بے گناہ انسان کا ہاتھ کاٹ دیا۔

(اصول کافی جلد سوم کتاب الفروع کتاب شھادت من شھدثم رجع عن شھادتہ صفحہ نمبر 432۔مرات العقول جلد 24 باب صفحہ نمبر 228 )

الکافی کے صحیح السند روایت کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کے خلاف فیصلہ دیا جس کے متعلق دو آدمیوں نے گواہی دی اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ اس کے بعد وہ گواہ کسی اور آدمی کو لے آئے کہ چور وہ نہیں تھا جس کا ہاتھ کاٹا گیا بلکہ یہ اصل چور ہے ہمیں اس کے متعلق اشتباہ ہوگیا تھا۔

پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو آدھی دِیَّت دینے کا حکم دیا اور کہا دوسرے کے بارے میں ان کی گواہی قبول نہیں۔ اگر یہاں کوئی امامی شیعہ تاویل کرے کہ حکم ظاہر پر ہوتا ہے یہ تو گواہوں پر اس کا وبال ہے تو یہ تاویل ہمارے حق میں ہے شرح اس کی یہ ہے کہ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ بھی ظاہر پر فیصلہ کرنے کے مجاز تھے جنہوں نے ایک خارجی خبر کی وجہ س دوسرا فیصلہ صادر فرمایا۔ پھر اس میں شرعی لا علمی کا اعتراض خود دم توڑ جاتا ہے۔

(7)۔ قرآن مجید سے لا علمی کے واقعات کو اگر دیکھا جائے تو یہ اصولی کافی میں ہی اہل بیت کے بارے میں بہت سارے مل جائیں گے چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ قرآن مجید کی سورۃ لقمان کی آیت 15 کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ

یہ آیت ابن حنتمہ اور اس کے ساتھی کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ ’’اگر یہ دونوں تمہیں اس بات پر مجبور کریں کہ تو وصیت (یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ولایت کی وصیت) کے بارے میں کسی کو میرا شریک ٹھہرادے اور اس سے رو گردانی کرے جس کی اطاعت کا تجھے حکم دیا گیا ہے ان دونوں کی اطاعت نہ کرنا اور ان دونوں کی بات ماننا»

(اصول کافی جلد اول کتاب الحجتہ باب فیہ نکت و نتف من التنزیل فی ولایت رقم روایت نمبر 79 صفحہ نمبر 198)

 جبکہ اس مطلب و مفہوم کو قرآن رد کر رہا ہے شرح اس کی یہ ہے کہ یہ سورہ لقمان کی ایک آیت ہے جو مکی ہے یہ آیت والدین سے نیکی کرنے کی ترغیب کے ساتھ ساتھ ایک مسلمان بچے کو کافر والدین کے ساتھ تعلقات رکھنے کی وضاحت کر رہی ہے کہ کن امور میں اولاد ان کی اطاعت کرے گی اور کن امور میں نہیں کرے گی۔ چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے کہ

وَ وَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَ لِوَالِدَيْكَ١ؕ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِيْ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوْفًا١ٞ وَّ اتَّبِعْ سَبِيْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَيَّ١ۚ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ

’’ اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو تُو ان کا کہنا نہ ماننا، ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح بسر کرنا اور اس کی راہ چلنا جو میری طرف جھکا ہوا ہو تمہارا سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے تم جو کچھ کرتے ہو اس سے پھر میں تمہیں خبردار کردوں گا۔ ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔‘‘(لقمان:14،15)

(8)۔امام باقر رحمہ اللہ تعالی عنہ سے سورہ ملک کی ایت27 کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے قرآن کے خلاف اس کا مطلب کچھ اس طرح بیان کیا:

’’یہ آیت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے»

( اصول کافی جلد اول کتاب الحجتہ باب فیہ نکت و نتف من التنزیل فی ولایت صفحہ نمبر 197, رقم روایت نمبر 68)

(9)۔جناب باقر رحمہ اللہ تعالی سے ام ہانی نے سورہ تکویر کی آیات 15٫16 کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا:

’’اس سے مراد امام مہدی ہیں جو 260 ہجری میں چھپ جائیں گے۔‘‘(اصول کافی جلد اول کتاب الحجتہ باب فی الغیبۃ صفحہ نمبر 157, رقم روایت نمبر 23)

جبکہ قرآن مجید اس مطلب کو رد کررہا ہے اس آیت میں ’’الخنس» چلنے والوں سے مراد وہ ستارے ہیں جو آسمان میں چلتے رہتے ہیں اس کی فضاؤں میں تیرتے رہتے ہیں اور اس کی گزر گاہوں میں رواں دواں رہتے ہیں پوری سورہ تکویر میں امام کے قول کی کوئی گنجائش نہیں یہاں پر بالخصوص آسمان پر موجود اللهُ تعالیٰ کی نشانیوں کی بات ہورہی ہے اس کا مزید ثبوت یہ ہے کہ ان ہی زیر بحث آیات کے ساتھ آگے اللہ تعالیٰ عرش، ستاروں کے ساتھ اپنے عرش اور آسمانوں میں اپنی قوت کا تذکرہ فرماتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ ذِيْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِيْنٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِيْنٍ (التکویر: 19 ۔ 21)

یقیناً یہ ایک بزرگ رسول کا کہا ہوا ہے۔ جو قوت والا ہے عرش والے (اللہ) کے نزدیک بلند مرتبہ ہے۔ جس کی (آسمانوں میں) اطاعت کی جاتی ہے امین ہے ۔‘‘

علاوہ ازیں جناب باقر رحمہ اللہ نے آیات کا جو مطلب بیان فرمایا اس کا رد خود امیر المومنین علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی کررہے ہیں چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ ان آیات میں ستاروں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ

وھی خمستہ انجم زحل ولمشتری والمریخ والزھرہ وعطارد

’’وہ یہ پانچ ستارے ہیں انجم زحل، مشتری، مریخ، زھرہ اور عطارد ۔

(تفسیر مجمع البیان جلد دہم تفسیر سورہ تکویر صفحہ نمبر446، تفسیر نمونہ جلد 15 تفسیر سورۃ تکویر صفحہ پر 48)

(10)۔ امام موسیٰ کاظم رحمہ اللہ تعالی سورہ حج کی آیت نمبر 45 کے بارے میں فرماتے ہیں کہ

’’اس آیت میں بے کار کنوؤں سے مراد ’’خاموش امام» ہے اور مضبوط محلوں سے مراد بولنے والا امام ہے»

(اصول کافی جلد اول کتاب الحجتہ باب فیہ نکت و نتف من التنزیل فی ولایت صفحہ نمبر 198 رقم روایت نمبر 75)

جبکہ اس آیت کا تعلق امام ناطق و صامت سے ہرگز نہیں بلکہ قرآن مجید امام موسیٰ کاظم رحمہ اللہ تعالی کی بات کو رد کررہا ہے کیونکہ زیر بحث مقام والی آیات سابقہ قوموں کی تباہی کے بعد باقی ماندہ آثار کی بات کررہی ہیں جس کا تعلق نہ تو امام ناطق سے ہے اور نہ امام صامت سے ہے۔چنانچہ ارشاد ہوا:

وَ اِنْ يُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ اِبْرٰهِيْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ مَدْيَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَيْتُ لِلْكٰفِرِيْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِفَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِيْدٍ اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ يَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِيْ فِي الصُّدُوْرِ(الحج: 42 ۔ 46)

’’اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں (تو کوئی تعجب کی بات نہیں) تو ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور ثمود۔ اور قوم ابراہیم اور قوم لوط۔ اور مدین والے بھی اپنے اپنے نبیوں کو جھٹلا چکے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) بھی جھٹلائے جاچکے ہیں پس میں نے کافروں کو یوں ہی سہی مہلت دی پھر دھر دبایا پھر میرا عذاب کیسا ہوا؟ بہت سی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے تہہ و بالا کردیا اس لئے کہ وہ ظالم تھے پس وہ اپنی چھتوں کے بل اوندھی ہوئی پڑی ہیں اور بہت سے آباد کنوئیں بیکار پڑے ہیں اور بہت سے پکے اور بلند محل ویران پڑے ہیں۔ کیا انہوں نے زمین میں سیر و سیاحت نہیں کی جو ان کے دل ان باتوں کے سمجھنے والے ہوتے یا کانوں سے ہی ان (واقعات) کو سن لیتے، بات یہ ہے کہ صرف آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔‘‘

اس کے علاوہ اصول اربعہ امامیہ شیعوں کی بنیادی کتب معتبرہ پوری کھنگالی جائیں تو قرآن مجید کے خلاف سنت رسول ﷺ اور فرمان رسول ﷺکے خلاف اصول وعقائد اور فروعات تک ایسی روایات کا ایک انسائیکلوپیڈیا تیار ہوسکتا ہے جس کی یہاں چنداں ضرورت نہیں عقل مند کے لیے اتنے اشارے کافی ہیں۔

ناچیز نے ضعیف متروک روایت ’’لو لا علی ھلک عمر ’’ کی سند اور متن کا مکمل پوسٹ مارٹم کر دیا ہے اور الزامی جوابات کے تحت بھی فریقین کے مصادر سے دس واقعات و روایات پیش کردی ہیں جس کے ہوتے ہوئے اس روایت کو بنیاد بنا کر امامیہ شیعوں کی طرف سے جناب عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ پر طعن کرنا بے وزن اور ناکارہ ہوکر رہ جاتا ہے۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *