رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ کے آخری سال تک دس تاریخ کا ہی روزہ رکھا ہے۔اس لیے یہی سنت ہے۔کسی ایک حدیث میں بھی دس تاریخ کے روزے کو صریح الفاظ میں منسوخ کرنا ثابت نہیں۔

تمام احادیث میں عاشوراء کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔

ارشاد نبوی ہے:

 وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ (صحیح مسلم :1162)

یوں عاشوراء کا روزہ مجھے امید ہے گزشتہ سال کے گناہ مٹا دیتا ہے. اور عاشوراء دس تاریخ کو کہتے ہیں۔

عاشوراء کا روزہ نو تاریخ کو قرار دینا، لغت کی رو سے اتنا ہی بعید ہے جیسے کوئی کہے، دس کا مطلب نو ہوتا ہے۔

 رسول اللہ ﷺنے دس محرم کی صبح أنصار صحابہ کے ایک ایک محلے میں روزے کا پیغام بھجوایا۔(صحیح بخاری ،1960)

یوم عاشور کا روزہ دس محرم ہی کو ہے اس کی وضاحت ایک عظیم حدیث سے ہوتی ہے۔میں سمجھتا ہوں جو بھی اس حدیث مبارک پر غور کرے گا اسے کوئی اشکال باقی نہیں رہے گا ۔

امام بخاری اپنی سند کے ساتھ حمید بن عبدالرحمن سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے عاشوراءکے دن منبر پر سنا، انہوں نے کہا کہ اے اہل مدینہ ! تمہارے علماءکدھر گئے، میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے سنا کہ یہ عاشوراءکا دن ہے۔ اس کا روزہ تم پر فرض نہیں ہے لیکن میں روزہ سے ہوں اور اب جس کا جی چاہے روزہ سے رہے ( اور میری سنت پر عمل کرے ) اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔(صحیح بخاری 2003)

یہ خطاب رسول اللہ ﷺکی وفات کے تقریبا 46،سال بعد(حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے مطابق 57 ہجری میں) سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں اہل مدینہ، صحابہ و تابعین کے اجتماع سے دس محرم کو کیا۔۔

اور انہیں اسی دن روزے کی ترغیب دی اور بتایا کہ آج یعنی دس تاریخ کو عاشوراء کا روزہ سنت اور میں نے رکھا ہوا ہے. ۔کسی ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض نہیں کیا کہ دس تاریخ کو روزہ کیوں رکھا ہوا ہے، یہ تو منسوخ ہوچکا ہے.!! اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ و تابعین کا اس پر اتفاق تھا کہ عاشوراء کا روزہ دس تاریخ ہی کو رکھا جاتا ہے۔

سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی یہی فتوی دیتے تھے کہ یہودیوں کی مخالفت کرو نو اور دس کا روزہ رکھا کرو۔ ( مصنف عبدالرزاق 7839)

نبی کریم ﷺنے اپنی عمر مبارک کے آخری سال جو فرمایا، کہ آئندہ سال میں ہم نو کا روزہ رکھیں گے تو اس سے مراد یہی تھا کہ یہودی صرف دس تاریخ کا ایک روزہ رکھتے ہیں، ان کی مخالفت کرتے ہوئے ہم آئندہ سال دس کے ساتھ نو کا روزہ رکھیں گے. اس روایت کے راوی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو تو یہی مفہوم سمجھ میں آیا تھا۔

دس محرم کے روزے کی ایک اہم مناسبت سیدنا موسی علیہ السلام سے قربت و محبت کا اظہار ہے. انہیں دس محرم کو فرعون سے نجات ملی، اس مناسبت سے بھی دس تاریخ کا روزہ ہی اقرب الی صواب ہے۔

یہودی ہفتے کا روزہ رکھتے ہیں، رسول اللہ ﷺنے بطور خاص صرف ایک دن ہفتے کے روزے سے منع فرمایا، لیکن اگر اس کے ساتھ جمعے کا روزہ ملا لیا جائے تو اجازت ہے. کیونکہ ایسا کرنے سے یہودیوں سے مشابہت ختم ہو جاتی ہے، اسی طرح دس محرم کے ساتھ نو محرم کا روزہ رکھنے سے یہود سے تشبیہ باقی نہیں رہتی۔

اسلامی تاریخ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین، تابعین عظام اور دیگر کبار ائمہ کا یہی موقف رہا ہے.امام ترمذی، امام نووی، امام ابن عبدالبر نے اکثر علماء کا یہی موقف بیان کیا ہے۔

احتیاط اور تقوی کا تقاضا بھی یہی ہے۔اس لیے موجودہ دور کے کبار علماء کرام ومفتیان عظام کا بھی یہی رجحان ہے۔

شیخ محدث العصر حافظ محمد شریف صاحب، فاضل مدینہ یونیورسٹی ،شیخ محترم شارح صحیح بخاری، عبدالستار الحماد صاحب ،مصنف کتب کثیرہ الشیخ ارشاد الحق أثری حفظہ اللہ ،محدث دیار سندھ شیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ اور دیگر موجودہ کبار اہل علم کی یہی رائے ہے۔

 ایک اشکال اور اس کاجواب

 صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺنے فرمایا اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ، میں لازما نو محرم کا روزہ رکھوں گا۔(صحیح مسلم)

لیکن آئندہ سال محرم آنے سے پہلے ہی رسول اللہ ﷺوفات پاگئے۔

بعض لوگ اس سے دلیل لیتے ہیں کہ چونکہ رسول اللہ ﷺنے اپنی زندگی کے آخری سال نو کا ارادہ کر لیا تھا ،لہذا عاشوراء کا روزہ یہود کی مخالفت کرتے ہوئے نو تاریخ کو رکھا جائے گا۔

ہمارے علم کے مطابق حدیث سے یہ استدلال سخت محل نظر ہے ۔

1.اس حدیث میں نو کاروزہ رکھنے کا عزم ہے،دس کے چھوڑنے کی کوئی ادنی وضاحت نہیں ہے ۔

جب کہ کم و بیش نو سال تک رسول اللہ ﷺمسلسل دس تاریخ کو ہی روزہ رکھتے رہے ہیں ،اس واضح اور صریح سنت کو منسوخ کرنے کے لیے اس درجے کی کوئی واضح حدیث موجود نہیں ہے ۔

2.اس روزے کی فلاسفی جناب موسیٰ علیہ السلام سے اظہار تعلق ہے اور فرعون سے نجات پانے کی خوشی میں ہے،اور یہ تاریخی واقعہ جناب موسیٰ علیہ السلام کے دور میں ہو چکا تھا، کئی صدیاں پہلے رو نما ہونے والے واقعے کی تاریخ کو تبدیل کرنا ممکن ہی نہیں ،علمائے اصول فقہ کے ہاں متفقہ اصول ہے کہ شرعی حکم کی تبدیلی ممکن ہے لیکن تاریخی خبر میں تبدیلی ممکن نہیں ،یہ شرعی حکم ایک تاریخی خبر سے جڑا ہوا ہے،اس کی تاریخ تبدیل کرنا ممکن نہیں ہے ،البتہ شرعی حکم کے پر آپ ﷺنے ساتھ نو تاریخ کا اضافہ فرمانے کا ارادہ کیا ہے۔

3.انہی حقائق کی بنیاد پر امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، صرف نو کے روزے والا موقف کم فہمی پر مبنی ہے۔تمام احادیث ،طرق اور الفاظ کو یکجا نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ویسے یہ موقف لغت اور شریعت دونوں سے بعید تر ہے۔

وأما إفراد التاسع فمن نقص فهم الآثار، وعدم تتبع ألفاظها وطرقها، وهو بعيد من اللغة والشرع (زاد المعاد 2/72)

2.اسی طرح سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جو سائل کو راہ نمائی کی کہ اگر تم عاشوراء کا روزہ رکھنا چاہتے ہو تو محرم کا چاند دیکھ کر گنتی شروع کرنا اور نو تاریخ کو روزہ رکھنا، اس کی بھی یہی حقیقت ہے کہ دس تاریخ کی بات تو واضح تھی ،اس لیے اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں سمجھی گئی اور یہ بتایا کہ نو سے روزہ شروع کر دینا۔(زاد المعاد ،2/71)

عاشورہ کے روزے پر روافض کی طرف سے ایک اشکال

سوشل میڈیا کے اس دور میں دین کے مسلمہ مسائل پر بعض جاہل لوگ اس انداز میں اشکال عائد کرتے ہیں کہ سادہ لوح مسلمان تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں ۔مجھ سے کسی نے سوال کیا اور مجھے حیران کر دیا ،میں سوچ بھی نہیں سکتاتھا کہ کوئی مسلمان اس قدر واضح احادیث صحیحہ کی موجودگی میں ایسی منفی ذہنیت کا مریض بھی ہوسکتاہے!!!

ایک پوسٹ میں لکھا تھا،کہ یوم عاشوراء کا روزہ بنو امیہ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی خوشی میں شروع کیا تھا،حالانکہ یہ روزہ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے دور سے تعلق رکھتا ہے ،اور خود رسول اللہ ﷺمکی زندگی اور پھر مدنی زندگی میں یہ روزہ رکھتے رہے ہیں ۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دس محرم کے روزے کی خصوصی فضیلت ہے۔ اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ صرف محرم الحرام کا ایک ہی روزہ باعث فضیلت ہے،محرم کا تمام مہینہ نفلی روزوں کے لیے رمضان المبارک کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والا مہینہ ہے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

«أَفْضَلُ الصِّيَامِ، بَعْدَ رَمَضَانَ، شَهْرُ اللهِ الْمُحَرَّمُ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ، بَعْدَ الْفَرِيضَةِ، صَلَاةُ اللَّيْلِ»

’’رمضا ن کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے ’’محرم‘‘کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔(صحیح مسلم 1163)

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *