Print this page

تفسیر سورۃ النور قسط 30

Written by 10 Dec,2012

 

توضیح:

وَعَدَ اللہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا مِنْکُمْ وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ:

اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اپنےا س وعدہ کی یاد دھانی کرائی کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ عام نہیں ہے بلکہ مؤمنین کے لئے ہے۔ یعنی اہل ایمان جو عمل صالح کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور محمد رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں اپنی زندگی گزار رہے ہوں، اس وعدے کا تذکرہ سورۃ الانبیاء، سورۃ الحج اور سورۃ المومنون میں گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کی مخالفت نہیں کرتےلیکن یہ بات واضح رہے کہ یہ وعدہ مشروط ہے ایمان اور عمل صالح کے ساتھ۔

یستخلفنھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم

تاکہ زمین کی خلافت وہ ایسے لوگوں کے سپرد کردےگا جو صاحبِ ایمان ہوں گے اور نیک و پاکیزہ اعمال کے مالک ہونگے ایسے صاحبِ ایمان و کردار لوگ ہی اس زمین کی خلافت کے مستحق ہیں ایسے ہی لوگ ہی اللہ کی تائید اور منظوری سے زمین پر خلافت کرچکے ہیں یعنی یہ خلافت ارضی ان لوگوں کو اسی طرح عطا کی جائےگی جس طرح سابق رسولوں اور ان کی امتوں کو عطا کی گئی تھی اور ان لوگوںنے زمین پر عدل و انصاف قائم کیا اور فساد سے گریز کیا۔ اور اس خلافت سے مراد اوامر الٰہی اور نواہی کا زمین پر نفاذ ہے اور یہ خلافت زمین پر جس خطے میں بھی مسلمانوں کو حاصل ہوجائے تو اسے انہی مقاصد کے لئے استعمال ہونا چاہئے جو کہ قرآن مجید نے بتائے ہیں۔ ان میں نماز قائم کرنا، زکوٰۃ کی ادائیگی شامل ہے۔

و لیمکنن لھم دینھم الذی ارتضیٰ لھم:

یعنی دینِ اسلام کو جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پسند فرمایا جیسا کہ ارشاد ہے: وَرَضِیْتُ لَـکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا اس دین کو اس سرزمین پر متمکن کردےگا یعنی اس دین کا قانون اس ملک پر چلے گا اور اس کی اساسیات پر اس ملک کا نظام اجتماعی و سیاسی استوار ہوگا اس دین کے سوا کسی اور دین کا اقتدار اس ملک پر باقی نہ رہے گا اس لئے رسول اللہ ﷺ نے مکہ پر فتح کے بعد اعلان کیا تھا کہ اب سرزمین پر دین اسلام کے علاوہ کوئی اور دین نہ ہوگا۔ لا یجتمع فیھا دینان۔ کہ اس میں دو دین جمع نہیںہوسکتے۔

ولیبدلنھم من بعد خوفھم امنا:

یعنی اس وقت اس دین کے دشمنوں کے سبب جو خوف و اندیشہ کی حالت ہے تو اللہ تعالیٰ اس خوف کی حالت کو امن سے بدل دے گا اور پھر ایسی کیفیت ہوگی کہ اس ملک کے ایک سرے سے لیکر دوسرے سرے تک کسی کو مجال نہ ہوگی کہ وہ اللہ کے دین یا اس دین کے عاملین کے لئے کوئی خطرہ پیدا کرسکے۔ بالکل ایسے ہی جیسے آج کے مؤمن کفار کے فتنوں سے خوف زدہ رہتے ہیں اور ان کی تکالیف کو برداشت کرتے ہیں اس طرح ان کا یہ خوف امن اور یہ تکالیف راحتوں اور کامرانیوں میں بدل جائیں گی، لیکن اس کے لئے ایمان کامل اور عمل صالح کی شرط لازم ہے۔

لِیعبدوننی ولایشرکون بی شیئا:

اور وہ خلافت ارضی ملنے کے بعد اس سرزمین پر صرف اور صرف میری عبادت کریں گے میری ہی اطاعت کریں گے اور اپنی زندگیاں میرے احکام کے مطابق گزاریں گے اور میرے ساتھ کسی بھی قسم کا شرک نہ کریں گے۔ یعنی جن لوگوں کو یہ خلافت ارضی ملتی ہے تو ان کا اولین فریضہ عبادت الٰہی اور شرک کی نفی ہے اور یہ دونوں امور کسی بھی مسلمان کو سیرت طیبہ سے مل سکتے ہیں کہ رسالت کی اطاعت کے بغیر کوئی عبادت عبادت نہیں ہے اور اس کی اطاعت کے بغیر اطاعت الٰہی بھی غیر مقبول ہے بلکہ ناممکن ہے۔

ومن یکفر بعد ذالک فأولٰئک ہم الفاسقون:

اور جو کوئی بھی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کر تاہے اور ان بیان کردہ دروس سے عبرت حاصل نہیں کرتا تو اس کا انجام اور آخری ٹھکانہ جہنم ہے کہ کفر کا انجام عذابِ الٰہی ہے مستقل عذاب ۔

اور ایسے لوگ ہی فاسق ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے دائرے سے باہر نکل چکے ہیں اور اپنی من مانیاں کرتے پھر رہے ہیں اور اپنی زندگیاں اپنی خواہشات نفسانی کے مطابق گزار رہے ہیں۔ اعوذباللہ من ھؤلاء

فوائد و استفادات:

اللہ کا وعدہ صرف ان لوگون کے لئے جو حقیقی اہل ایمان ہیں اور عمل صالح کے حامل ہیں۔ اور یہ دونوں امور کتاب و سنت پر عمل کے بغیر ممکن نہیں لہٰذا جو کوئی اس وعدہ کا مستحق بننا چاہتا ہے اس پر لازم ہے اپنی زندگی کو کتاب و سنت کی تعلیمات سے مزین کرے ۔

یہ خلافت اہل ایمان کو پہلے بھی عطا کی جاچکی ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف اوامر الٰہیہ و نواہی کی تنفیذ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر امن اور توحید جیسے انعامات نازل کئے۔

خلافت ارضی کے بعد توحید کا قیام از حد ضروری ہے ۔

ان لوگوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے جو اپنی زندگیاں بغیر کسی تفکر و تدبر کے گزار رہے ہیں اور اندھے بہرے بن کر دنیاوی اغراض و متاع کو ہی اپنا حاصل و مطلوب سمجھے بیٹھے ہیں اور دین کی حقیقی سمجھ سے محروم ہیں اور اس کا نتیجہ صرف اور صرف جہنم اور عذاب الٰہی کی صورت میں ان کے سامنے آئے گا۔

و اَقیموا الصلاۃ واٰتوا الزکوٰۃ و اطیعوا الرسول لعلکم ترحمون(56)

نماز کی پابندی کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری میں لگے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

اَقیموا : اقام، یقیم، اقامۃ: اقامۃ الشیء کا مطلب ہے کہ کسی چیز کا پورا پورا حق ادا کردینا یا جم کر کھڑے رہنے سے ہیں اور توازن قائم کرنے کے ہیں۔

مفردات میں اس کا مفہوم کسی چیز کی حفاظت کرنا اور اس کی ادائیگی پر عزم کرلینا اور اصطلاحاً قرآن مجید نے اس کو نماز کے قائم کرنے کے ساتھ خاص کردیا ہے یعنی نماز قائم کرنا، اور نماز قائم کرنے سے مراد اس کے اراکین، شروط، صلوا کما رأیتمونی اصلی کی بنیادی شرط اور اس کی پنجگانہ ادائیگی وغیرہ ہے۔

الصلوٰۃ: شرعی اصطلاح میں لفظ صلوٰۃ کا اطلاق ان اعمال اور مخصوص اقوال پر ہوتا ہے جو کہ تکبیر سے شروع ہوتے ہیں اور تسلیم پر ختم ہوتے ہیں۔

جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ وذکر اسم ربہ فصلیٰ یعنی اس نے نماز ادا کی، صلاۃ قرآن مجید میں مختلف معانی میں آیا ہے مثلاً دعاء، رحمت، تکریم، تعظیم وغیرہ اور صلوٰۃ اگر اللہ کی طرف سے ہوتو اس کا مطلب رحمت، احسان، مغفرت اور نعمت اور قبولیت ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ علیہم صلوٰۃ من ربھم و رحمۃ اور فرشتوں کی طرف سے اس کا مطلب ہے استغفار کرنا۔

اور مومنین کی طرف سے اس کا مفہوم دعاء ہے۔

مختصراًشرعا اس کا اطلاق پنجگانہ نمازوں فجر، ظہر، عصر، مغرب، عشاء یا نفلی نمازوں پر ہوتا ہے۔

اطیعو الرسول: طاع، یطوع، طاعۃ اور طاع کا مفہوم ہے کہ کسی شیء کا وسیع ہونا اس سے اطاعت کا بنیادی مطلب سامنے آجاتا ہے یعنی دل کی کشاد گی سے کسی کام کا کرنا چنانچہ قرآن نے طوعاً کے مقابلے میں کُرھاً کا استعمال کرکے اس حقیقت کو واضح کیا کہ کرھا کا مطلب ہوتا ہے۔ کسی کام کو ناگواری اور دل کے جبر سے کرنا، لہٰذا طوعاً کے معنیٰ ہوئے کسی کام کو بطیب خاطر، دل کی کشادگی اور پسندیدگی سے کرنا۔

اطاع کا مفہوم ہے کسی کے حکم کی بطیب خاطر تعلیم کرنا۔

ابن فارس نے لکھا ہے کہ اس کے دو بنیادی معانی ہیں، کسی کے ساتھ لگنے اور تابعدار ہوجانے کے ہیں۔

اطیعوا الرسول کا مطلب ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت یعنی ان کے احکام کی مکمل تعلیم جس میں کوئی شک، شبہ نہ ہو، اطاعت کی کتاب و سنت میں پانچ بنیادی قسمیں استعمال کی ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔

اطاعتِ الٰہی، اطاعتِ رسالت، اطاعت اولیٰ الامر، اطاعت والدین، بیوی کی شوہر کی اطاعت اور اس میں سب سے اہم قسم اطاعت رسالت ہے جس بناء پر بقیہ قسمیں بھی حاصل ہوتی ہیں، تاہم باقی انواع اطاعت کے طریقے ہمیں رسالت ﷺ کا مقدس و محترم و جود ہی بتاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں قرآن نے کفار کی اطاعت سے واضح منع کیا ہے، تفصیل کے لئے دیکھیں آل عمران100، 149، الفرقان52، الاحزاب48

لعلکم ترحمون: تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

یعنی اقامت صلوٰۃ، ایتاء زکوٰۃ، اوراطاعت رسول کے بعد تم پر رحم کیا جائے گا۔

اجمالی مفہوم:

آیات سابقہ میں خلافتِ ارضی کے مستحسن لوگوں کا تذکرہ کیا گیا اور ان کے اعمال بھی بتائے گئے اب فریضہ بتایا جارہا ہے جو ان کو یہ منصب ملنے کے بعد ان پر لازم ہوجاتا ہے اور اگر وہ اس فریضہ کو قائم نہ کریں تو یہ منصب ان سے واپس بھی لیا جاسکتا ہے جیسا کہ ماضی گواہ ہے۔

یہ فرائض تین اقسام کے ہیں۔

1     اقامت صلوٰۃ

2       ایتاء زکوٰۃ

3       اطاعت رسول اللہ ﷺ

مذکوہ بالا فرائض کی ترتیب قابلِ غور ہے کہ فریضہ اول اور دوم دونوں فریضہ سوم کے نتیجہ میں حاصل ہوتے ہیں۔

لیکن اس کے باوجود ان کا تذکرہ پہلے کیا گیا ہے اس سے مراد مسلم معاشرے میں ان دونوں اعمال کی اہمیت ہے کہ مسلم معاشرے کے قائم ہونے سے دو امور سب سے زیادہ اہم ہیں نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ کی ادائیگی کیونکہ یہ دونوں امور مسلم معاشرے کے ساکنین کو اتحاد یگانگت کی زنجیر میں باندھ دیتے ہیں۔

کیونکہ اقامت صلوٰۃ اور ادائیگی زکوٰۃ دونوں عبادتیں اجتماعیت کی علامت ہیں اور اس کے بعد اطاعت رسول ﷺ ہے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مذکورہ بالا دونوں امور اطاعت رسول ﷺ کے نتیجے میں ہی حاصل ہوسکتے ہیں۔ اور اگر یہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی اتباع میں نہ ہوں تو غیر مقبول بلکہ گمراہی ہے۔ جیسا کہ شاعرنے کہا:

العلم بلا عمل و بال                    والعمل بلا علم ضلال

کہ ایسا علم جس پر عمل نہ ہو وبال ہے، اور ایسا عمل جو علم پر مبنی نہ ہو گمراہی ہے

اعمال کی قبولیت کی دو شرطیں ہیں ایک اخلاص اور دوسری اتباع، پہلی شرط کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے اور دوسری شرط کا تعلق رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہے۔ لہٰذا ایسی خلافت ارض جو نبوت کے منہج پر نہ ہو اور وہ خلافتِ ارضی نہیں، دنیاوی تسلط اور حکومت کہی جاسکتی ہے۔

فوائد:

1۔ خلافتِ ارض قائم ہونے کے بعد خلیفہ وقت کا سب سے پہلا فریضہ پنجگانہ باجماعت نماز کی ادائیگی کا قیام ہے۔

2۔ پنجگانہ نماز جماعت کے ساتھ فرض ہے جو کہ مسجد میں ادا کی جاتی ہے۔

3۔ دوسرا فریضہ زکوٰۃ کی ادائیگی ہے۔

4۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کے ذریعے مسلم معاشرے کی اقتصادیات میں توازن قائم ہوتا ہے۔

5۔ مسلم معاشرے میں ادائیگی زکوٰۃ کے ذریعے دولت کا توازن نہیں بگڑتا اور کسی ایک جگہ جمع نہیں ہوتی ۔

6۔ نماز، بدنی عبادت اور زکوٰۃ مالی عبادت ہے جس کے ذریعے مسلم معاشرے کے دونوں اہم ستونوں کو قائم کرنا مقصود ہے اور اس سے مسلم معاشرہ تعمیر ہوتا ہے۔

7۔ تیسرا اہم فریضہ اطاعت رسول ہے جس کے ذریعے رحمت الٰہی نازل ہوتی ہے۔

8۔ اطاعت رسول کے بغیر خلافتِ ارض اپنی حقیقی شکل و صورت میں قائم نہیں ہوسکتی۔

9۔ گو کہ ان تینوں امور کا آیت میں خلافت ارضی کے حصول کے بعد تذکرہ کیا گیا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ خلافت ملنے سے پہلے یہ امور فرض نہیں ہوتے۔ بلکہ یہ تینوں امور تو ہر مسلمان پر فرض ہیں یہاں ان کا تذکرہ خلافت ارض کے قیام کے ساتھ کیا گیا ہے ان کے بغیر خلافت ارض قائم نہیں ہوسکتی اور باقی عبادات کے مقابلے میں ان کی اہمیت کا بیان ہے۔

10 نماز فرض اور نفلی دونوں مراد ہیں اور زکوٰۃ بھی فرض اور نفلی مراد ہے۔

Read 1748 times Last modified on 14 Oct,2015
Rate this item
(0 votes)
الشیخ شاہ فیض الابرار صدیقی

Latest from الشیخ شاہ فیض الابرار صدیقی

Related items