Print this page

صومِ عاشوراء فضائل۔ تحقیق۔ مسائل

Written by فضیلۃ الشیخ محمد صالح المنجد حفظہ اللہ 11 Nov,2012

الحمد لله رب العالمین والصلاة والسلام على نبینا محمد خاتم الأنبیاء وسید المرسلین وعلى آله وصحبه أجمعین وبعد

عاشوراء کی تاریخ :

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول کریم مدینہ طیبہ تشریف لائے تویہودیوں کودیکھا کہ وہ یوم عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے ، تورسول کریم نے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ وہ کہنے لگے : یہ ایک اچھا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کواپنے دشمن سے نجات عطا فرمائی تھی، لہٰذا موسی علیہ السلام نے روزہ رکھا تورسول کریم فرمانے لگے :

’’ میں تم سے زیادہ موسی علیہ السلام کا حقدار ہوں ، لہٰذا رسول کریم نے اس دن کاخود بھی روزہ رکھا اورروزہ رکھنے کا حکم بھی دیا‘‘ صحیح بخاری 1865

قولہ : ( ھذہٖ یوم صالح ) یہ اچھا دن ہے یہ مسلم کی روایت کے الفاظ ہیں جس کا معنی ہے کہ : یہ عظیم دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام اوران کی قوم کونجات دی اورفرعون اوراس کی قوم کوغرق کردیا ۔

قولہ : ( لہٰذا موسی علیہ السلام نے روزہ رکھا ) مسلم رحمہ اللہ تعالیٰ نے ا پنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے : ( اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرنے کےلیے روزہ رکھا تھا لہٰذا ہم بھی روزہ رکھتے ہیں )

اوربخاری شریف کی روایت میں ہے : ( اورہم اس کی تعظیم کے لیے روزہ رکھتےہیں )

اورامام احمد رحمہ اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل الفاظ کی زیادتی کےساتھ روایت کی ہے :

( یہ وہ دن ہے جس دن نوح علیہ اسلام کی کشتی جودی (پہاڑکانام ہے ) پررکی تونوح علیہ السلام نے شکرانے کا روزہ رکھا )

قولہ:(امربصیامہ) اس کا روزہ رکھنے کا حکم دیا، اوربخاری شریف کی روایت میں یہ بھی ہے کہ : ( رسول کریم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوفرمایا : تم موسی علیہ السلام کے زیادہ حقدار ہو لہٰذا تم روزہ رکھو)

یوم عاشوراء کا روزہ تونبی کریم کی بعثت سے قبل ایام جاہلیت میں بھی معروف تھا ، اورروزہ رکھا جاتا تھا لہٰذا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ :

اہل جاہلیت اس دن کا روزہ رکھا کرتے تھے ۔

امام قرطبی رحمہ اللہ تعالیٰ کہتےہیں :

ہوسکتا ہےکہ وہ اس دن کا روزہ رکھنے میں اپنے سے پہلی کی شریعت کوسند مانتے ہوں مثلاً ابراہیم علیہ السلام کی شریعت اوریہ بھی ثابت ہے کہ نبی کریم مدینہ ہجرت کرنے سے قبل مکہ میں ہی اس دن کا روزہ رکھا کرتے تھے اورجب مدینہ ہجرت کی تووہاں یہودیوں کواس دن کا جشن مناتے ہوئے دیکھا تونبی مکرم نے اس کا سبب دریافت کیا توانہیں وہی جواب دیاگیا جیسا کہ پہلے حدیث میں ذکر ہوچکا ہے ، لہٰذا رسول کریم نے اس عید اورجشن منانے کی مخالفت کرنے کا حکم دیا جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے :

ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتےہیں کہ یہودی یوم عاشوراء کوجشن اورعید منایا کرتے تھے ( اورمسلم کی روایت میں ہے کہ یہودی یوم عاشوراء کوعیدکا تہوار مناتے اوراس کی تعظیم کیا کرتے تھے اورمسلم کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ : اہل خیبر ( یہودی ) اس دن عید کا تہوار مناتے اوران کی عورتیں زیورات اورخوبصورت لباس زیب تن کیا کرتی تھیں ) تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :( توتم روزہ رکھا کرو ) اسے بخاری نے روایت کیا ہے ۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یوم عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کے حکم کا سبب یہودیوں سے مخالفت کی محبت ہے تا کہ جس دن وہ روزہ نہیں رکھتے اس میں روزہ رکھا جائے کیونکہ عید کے دن روزہ نہیں رکھا جاتا ۔ انتھی

صحیح بخاری کی شرح فتح الباری میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی کلام کی تلخیص ختم ہوئی۔

روزوں کی تشریع اورفرضیت میں عاشوراء کا روزہ تدریجی حیثیت کا حامل ہے ، لہٰذا روزوں کوتین حالتوں میں بدلاگیا ، لہٰذا جب رسول کریم مدینہ طیبہ تشریف لائے تومہینہ بھرمیں تین روزے اورعاشوراء کا روزہ مقرر کیا ، پھراللہ تعالیٰ نے روزوں کی فرضیت اس فرمان میں بیان کی :

{ تم پرروزے رکھنے فرض کیے گئے ہیں } دیکھیں : احکام القرآن للجصاص جلدنمبر ( 1 ) ۔

لہٰذا روزوں کی فرضیت عاشوراء کے روزے سے رمضان المبارک کے روزے کی فرضیت میں منتقل ہوئی ، اوراصول فقہ میں ہلکے اورخفیف کومنسوخ کرکے بھاری اوربڑی چیزفرض کرنے کی دلیل بھی یہی ہے ۔

اوریوم عاشوراء کے روزے کاوجوب منسوخ ہونے سے قبل یوم عاشوراء کا روزہ رکھنا واجب تھا جس کا ثبوت روزہ رکھنے کا امر ہے پھر اس کی تاکید کی گئی اورپھراس کی اوربھی زیادہ تاکید اس حکم سے ہوئی کہ مائیں اپنے بچوں کواس میں دودھ نہ پلائیں ، اورمسلم شریف میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ثابت ہے :

جب رمضان المبارک کے روزے فرض کیے گئے توعاشوراء کا روزہ ترک کردیا گیا ۔ دیکھیں : فتح الباری (4 / 247 ) یعنی اس کا وجوب ترک کردیا گیا اوراس کے روزے کا استحباب باقی ہے ۔

یوم عاشوراء کے روزہ کے فضیلت :

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کواس یوم عاشوراء کے دن اوراس مہینہ یعنی رمضان المبارک کے روزوں کے علاوہ کسی اوردن کاروزہ رکھ کرفضیلت حاصل کرنے کی کوشش کرتے نہیں دیکھا ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1867 )

اورحدیث میں استعمال لفظ ( یتحری ) کامعنی یہ ہے کہ : ثواب حاصل کرنے کی رغبت رکھتے ہوئے اس کا روزہ رکھا کرتے تھے ۔

اورنبی کریم کا فرمان ہے :

( یوم عاشوراء کا روزہ رکھنے میں مجھےاللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ پچھلے ایک برس کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1976 )

لہٰذا ہم پریہ اس اللہ رب العزت کا فضل وکرم اورسخاوت ہے کہ صرف ایک دن کے روزے کے بدلے میں ہمارے ایک برس کے گناہ معاف فرمادیتا ہے اوریہ کیوں نہ ہو وہ اللہ رب العزت توبڑے فضل وکرم والا ہے ۔

یوم عاشوراء کونسا دن ہے :

امام نووی رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں عاشوراء اورتاسوعاء یہ دونوں ہی اسم ممدود ہیں ، اورکتب لغت میں یہی مشہور ہے ، ہمارے اصحاب کہتے ہیں ، عاشوراء محرم کی دس تاریخ ہے اورتاسوعاء محرم کی نوتاریخ کوکہا جاتا ہے ، ہمارا مذھب یہی ہے ، اورجمہورعلماء کرام کا بھی یہی کہنا ہے ، اوراحادیث سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے اورلفظ کےاطلاق کا تقاضہ بھی یہی ہے اوراہل لغت کےہاں بھی یہی معروف ہے ۔ دیکھیں : المجموع

اورعاشوراء ایک اسلامی نام ہے جس کی پہچان دور جاہلیت میں نہیں تھی ۔ دیکھیں : کشاف القناع جلددوم صوم المحرم ۔

اورابن قدامہ المقدسی رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں :

محرم کی دس تاریخ عاشوراء ہے ، سعید بن مسیب ، حسن رحمہم اللہ کا بھی یہی قول ہے کیونکہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ :

( نبی کریم نے یوم عاشوراء دس محرم کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ) امام ترمذی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اسے روایت کیا اوراسے حسن صحیح کہا ہے ۔

اورابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ بھی مروری ہے کہ انہوں نے نوتاریخ کہا ۔

اورروایت ہے کہ رسول کریم نومحرم کا روزہ رکھتے تھے ۔ امام مسلم نےاسی معنی کی روایت کی ہے ۔

اورعطاء رحمہ اللہ تعالیٰ سے مروی ہے:( نواوردس تاریخ کا روزہ رکھا کرو اوریہودیوں سے مشابہت اختیارنہ کرو) ۔

لہٰذا جب یہ ثابت ہے توپھر نواوردس محرم کا روزہ رکھنا مستحب ہوا ، اوراسی لیے امام احمد رحمہ اللہ تعالیٰ نے یہی بیان کیا ہے اوراسحاق رحمہ اللہ تعالیٰ کا قول بھی یہی ہے ۔

عاشوراء کے ساتھ نومحرم کا روزہ رکھنا بھی مستحب ہے :

عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول کریم نے عاشوراء کا روزہ خود رکھا اوراس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا توصحابہ نے عرض کی :

اے اللہ تعالیٰ کے رسول اس دن کی یہودی اورعیسائی تعظیم کرتے ہیں ، تورسول کریم فرمانے لگے : اگر میں آئندہ برس زندہ رہا تو 9 تاریخ کا روزہ رکھوں گا۔ لہٰذا جب اگلابرس آیا توہم نے نومحرم کا روزہ رکھا ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ کہتے ہیں اگلابرس آنے سے قبل ہی رسول کریم فوت ہوگئے ۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1916 )

امام شافعی رحمہ اللہ اوران کے اصحاب اورامام احمد ، اسحاق ، اوردوسروں کا کہنا ہے کہ : نواوردس محرم دونوں کا ہی روزہ رکھنا مستحب ہے ، کیونکہ رسول کریم نے دس تاریخ کا روزہ رکھا اورنوتاریخ کے روزہ رکھنے کی نیت فرمائی ۔

تواس بنا پرعاشوراء کےروزہ کے مراتب ہیں اس کا کم از کم مرتبہ یہ ہےکہ صرف عاشوراء کا ہی روزہ رکھا جائے ، اوراس سے بڑا اوراونچا مرتبہ یہ ہےکہ دس کےساتھ نوتاریخ کا بھی روزہ رکھا جائے ، اورمحرم میں جتنے بھی زیادہ روزے رکھے جائیں گے اتنا ہی بہتر اورافضل ہوگا

نومحرم کوروزہ رکھنے کے استحباب کی حکمت :

امام نووی رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں :

ہمارے اصحاب وغیرہ علماء کرام نے نومحرم کا روزہ رکھنے کی حکمت ذکر کرتے ہوئے کئی ایک وجوھات ذکر کی ہیں ، ان میں سے ایک یہ ہے :

اس سے یہودیوں اورعیسائیوں کی مخالفت مراد ہے کہ وہ صرف دس محرم کا روزہ رکھتے ہیں ، یہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے ۔

دوسری : اس سے یوم عاشوراء کے ساتھ روزہ ملانا مراد ہے ، جیسا کہ نبی کریم نے صرف جمعہ کے دن کا اکیلا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ، اسے امام خطابی اوردوسروں نے ذکر کیا ہے ۔

تیسری : صرف دس تاریخ کا روزہ رکھنے میں احتیاط ہے کہ کہیں چاندمیں کمی نہ ہو ، اوراس طرح روزہ صحیح نہ ہو اورغلط ہوجائے تواس طرح نوتاریخ چاند کے اعتبار سے دس ہو۔ انتھیٰ

ان وجوھات میں سب سے قوی یہ ہے کہ اس میں اہل کتاب کی مخالفت ہے، شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالیٰ کہتےہیں :

نبی کریم نے بہت ساری احادیث میں اہل کتاب کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے ، مثلا رسول کریم نے عاشوراء کے بارہ میں ýفرمایا :

( اگرمیں آئندہ برس زندہ رہا تومیں ضرورنوتاریخ کا روزہ رکھوں گا ) دیکھیں : الفتاوی الکبری جلدنمبر ( 6 ) سدالذرائع المفضیۃ الی المحارم ۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالیٰ اس حدیث ( اگرمیں آئندہ برس زندہ رہا تونوتاریخ کاروزہ رکھوں گا ) پرتعلیق چڑھاتے ہوئے کہتے ہیں :

نبی کریم صلی اللہ علیہ کا نوتاریخ کے روزہ رکھنے کا ارادہ کا معنی یہ نہیں کہ صرف نوتاریخ کے روزے پرہی اقتصار کیا جائے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ یاتواحتیاطا دس تاریخ کے ساتھ نوکابھی روزہ رکھاجائے یاپھریہودیوں اور عیسائیوں کی مخالفت کی بناپر اورراجح بھی یہی ہے اور مسلم شریف کی بعض روایات سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے ۔ دیکھیں : فتح الباری ( 4 / 245 ) ۔

صرف یوم عاشوراء ( دس محرم ) کا روزہ رکھنے کا حکم :

شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں : یوم عاشوراء کا روزہ رکھنا ایک برس کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے اورصرف عاشوراء ( دس محرم ) کاروزہ رکھنا مکروہ نہیں ۔ ۔۔ دیکھیں : الفتاوی الکبری جلدنمبر ( 5 ) ۔

اورابن حجر ھیتمی رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں : صرف عاشوراء ( دس محرم ) کاروزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔ دیکھیں تحفۃ المحتاج باب صوم التطوع جلدنمبر ( 3 ) ۔

اگرعاشوراء جمعہ کا یاہفتہ کےدن بھی آئے توروزہ رکھا جائےگا :

امام طحاوی رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں :

رسول کریم نے عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا اوراس پرابھارا بھی ہے ، اورنبی کریم نے یہ نہیں فرمایا کہ اگرہفتہ کے دن یوم عاشوراء ہوتوروزہ نہ رکھاجائے ، لہٰذا اس میں یہ دلیل ہے کہ کسی بھی دن یوم عاشوراء آجائے توروزہ رکھا جائے ۔

اورہمارے ہاں یہ جائز ہے ، واللہ اعلم ، اگریہ ثابت بھی ہو ( یعنی ہفتہ کے دن روزہ رکھنا منع ہو ) تواس کے روزہ سے اس لیے روکا گیا ہے کہ اس سے اس کی تعظیم نہ کی جائے اورکھانے پینے اورجماع سے رکا جائے جیسا کہ یہودی کیا کرتے تھے ، اورجوکوئی اس دن کا روزہ رکھتا ہے اس دن کی تعظیم کے لیے نہیں اورنہ ہی اس لیے کہ جوکچھ یہودی ترک کرنے کی کوشش کرتے تھے اس کی وجہ سے توپھر یہ مکروہ نہیں ۔۔ دیکھیں : مشکل الآثار باب صوم یوم السبت جلدنمبر ( 2 ) ۔

فرضی روزہ کے علاوہ صرف جمعہ یا صرف ہفتہ کا روزہ رکھنے کی ممانعت وارد ہے ، لیکن جب اس کے ساتھ کسی دوسرے دن کا روزہ ملالیا جائے تویہ ممانعت ختم ہوجاتی ہے ، یاپھر مشروع عادت کے موافق ہوجائے مثلا ایک دن روزہ رکھنا اورایک دن نہ رکھنا ، یا پھر نذر اورقضاء کا روزہ رکھنا یا شریعت نے اس دن کا روزہ رکھنے کا مطالبہ کیا ہو جیسا کہ یوم عرفہ اوریوم عاشوراء کا روزہ رکھنے کا کہا گیا ہے ۔

دیکھیں: تحفۃ المحتاج باب صوم التطوع جلد نمبر ( 3 ) ، اورکشاف القناع باب صوم التطوع جلددوم ۔

اورصاحب المنہاج کہتےہیں : ( اورصرف جمعہ کاروزہ رکھنا ممنوع ہے) لیکن اس کے ساتھ دوسرے دن کوملانے سے یہ کراہت زائل ہوجاتی ہے ، جیسا کہ یہ حدیث میں بھی ثابت ہے ، اورجب عادت یا نذر یا قضاء کے موافق یہ دن آجائے توپھر اس کا روزہ رکھا جاسکتا ہے اس کا بھی ثبوت حدیث میں ملتا ہے ۔

تحفۃ المحتاج میں شرح کرتے ہوئے کہتے ہیں : قولہ (جب عادت کے موافق آجائے ) یعنی وہ ایک دن روزہ رکھتا اورایک دن افطار کرتا تھا توروزے والا دن جمعہ کےموافق آجائے ، قولہ ( یا نذر کے موافق آجائے الخ) اوراسی طرح جب شارع کے کہنے پرروزہ رکھاجائے اوروہ دن اس کے موافق آجائے مثلا عاشوراء یا یوم عرفہ کا روزہ رکھنا ۔ دیکھیں : تحفۃ المحتاج باب صوم التطوع جلدسوم ۔

بھوٹی رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں :

( اور ) جان بوجھ کر ( صرف ہفتہ کے دن ) کا روزہ رکھنا مکروہ ہے کیونکہ عبداللہ بن بشراپنی بہن سے بیان کرتے ہیں :

( ہفتہ کے دن کا روزہ نہ رکھو لیکن جوتم پرفرض کیا گیا ہے ) اسے امام احمد رحمہ اللہ تعالیٰ نے جید سند کے ساتھ روایت کیا ہے اورامام حاکم کہتے ہیں یہ بخاری کی شرط پر ہے ۔

اوراس لیے کہ یہودی اس دن کی تعظیم کرتےہیں توصرف ہفتہ کےدن کا روزہ رکھنے میں ان کی مشابہت ہے۔ ( لیکن اگر یہ موافق ہو ) یعنی جمعہ یا ہفتہ کے موافق آجائے (عادت کے موافق آجائے ) مثلا یوم عرفہ یا یوم عاشوراء کے موافق آجائے اوراس کی روزہ رکھنے کی عادت ہو تواس میں کوئی کراہت نہیں ، کیونکہ اس میں عادت موثر ہے ۔

دیکھیں: کشاف القناع باب صوم التطوع جلد دوم ۔

جب مہینہ کی ابتداء میں شبہ ہوتوکیا کرنا چاہیے ؟

امام احمد رحمہ اللہ تعالیٰ کہتےہیں :

اگرکسی کومہینہ کی ابتداء میں شبہ ہو وہ تین دن کے روزے رکھے ، اوراسے یہ اس لیے کرنا چاہیے تا کہ وہ نو اوردس محرم کا یقینی روزہ رکھ سکے ، دیکھیں : المنعی لابن قدامہ الصیام ، صیام عاشوراء جلدسوم ۔

اورجسے محرم کے مہینہ کے شروع ہونے کا علم ہی نہ ہوسکے اوروہ دس محرم کے بارہ میں احتیاط کرنا چاہے تووہ ذوالحجہ کوتیس یوم کا شمار کرے - جیسا کہ قاعدہ بھی یہی ہے - پھر اسے نو اوردس محرم کا روزہ رکھنا چاہیے ، اورجوکوئی نوتاریخ کی بھی احتیاط کرنا چاہے اسے تین یعنی آٹھ ، نو اوردس محرم کوروزہ رکھنا چاہیے ، ( لہٰذا اگر ذوالجہ کا مہینہ ناقص یعنی انتیس دن کا بھی ہوا تو یقینا اس نے نو اوردس محرم کا روزہ بھی رکھ لیا ) اوراس لیے کہ عاشوراء کا روزہ رکھنا مستحب ہے نہ کہ واجب لہٰذا لوگوں کومحرم کا چاندضروردیکھنے کا نہیں کہا جائے جس طرح کہ انہیں رمضان اورشوال کا چانددیکھنا ضروری ہے ۔

عاشوراء کا روزہ کس چیز کا کفارہ بنتا ہے ؟

امام نووی رحمہ اللہ تعالیٰ کہتےہیں :

سب صغیرہ گناہ کا کفارہ بنتا ہے ، اوراس کی تقدیر یہ ہوگی کہ کبیرہ گناہوں کے علاوہ سب صغیرہ گناہوں کا کفارہ بنے گا ۔

پھراس کے بعدکہتے ہیں :

یوم عرفہ کا روزہ دوبرس کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے اوریوم عاشوراء ایک برس کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے ، اورجب اس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوجائے تواس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتےہیں ۔

یہ سب مذکور اشیاء کفارہ بننے کے اہل ہیں لہٰذا اگر صغیرہ گناہ ہوں تویہ ان کا کفارہ بن جاتی ہیں ، لیکن اگر نہ توکبیرہ گناہ ہوں اورنہ ہی صغیرہ ہوں توپھران کی بنا پرنیکیاں لکھی جاتی اور درجات بلند کردیے جاتےہیں ، ۔ اوراگر صغیرہ گناہ نہ ہوں بلکہ کبیرہ ہوں توہم امید رکھتےہیں کہ کبیرہ گناہوں میں تخفیف کا باعث بنتے ہیں۔(دیکھیں : المجموع شرح المھذب صوم یوم عرفۃ جلد سادس )

اورشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالیٰ کہتےہیں :

وضو وطہارت ، نماز ، اوررمضان المبارک ، یوم عرفہ اوریوم عاشوراء کے روزے صرف صغیرہ گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں ۔ دیکھیں الفتاوی الکبری جلدسادس ۔

روزوں کے ثواب سے دھوکہ میں نہ رہا جائے :

بعض مغرور قسم کےلوگ عاشوراء یا یوم عرفہ کے روزے کے اجروثواب پراعتماد کرتے ہوئے دھوکہ میں پڑجاتے ہیں ،حتی کہ ان میں سے بعض یہ کہتےہیں : عاشوراء کا روزہ رکھنے سے سارے سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں ، اوریوم عرفہ کا روزے رکھنے سے اجروثواب باقی رہتا ہے ۔

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ تعالیٰ کہتےہیں :

یہ مغرور اوردھوکہ میں پڑنے والا شخص یہ نہیں جانتا کہ رمضان المبارک کے روزے ، اورپانچوں نمازیں تویوم عرفہ اورعاشوراء کےروزوں سے بھی بڑھ کرعظمت رکھتےہیں ، اوریہ توصرف ان کے مابین صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہیں جب کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے ، لہٰذا رمضان رمضان تک ، اور جمعہ جمعہ تک ان کے مابین گناہوں کا کفارہ اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے توپھر یہ سب کچھ قوی ہوکر صغیرہ گناہوں کی تکفیر کا باعث بنتےہیں ۔

اورکچھ مغرور یہ بھی گمان کرتےہیں کہ ان کی اطاعت کے کام تومعصیت وگناہ سے زیادہ ہیں ، کیونکہ وہ نافرمانی اورمعصیت میں اپنا محاسبہ ہی نہیں کرتا اورنہ ہی وہ اپنے گناہوں کا خیال کرتا ہے ، لیکن جب کوئی اطاعت اورفرمانبرداری کرتا ہے تواسے شمار کرلیتا اوریاد رکھتا ہے ، جس طرح کہ وہ شخض جواپنی زبان سے استغفار کرتا ہے یا پھر دن میں سوبار تسبیح کرتا ہے پھر وہ مسلمانوں کی غیبت اورچغلی بھی کرتا اوران کی عزتیں بھی اچھالتا ہے اورسارا دن ایسی کلام کرتا ہے جواللہ تعالیٰ کوپسند ہی نہیں ، تویہ شخص اپنی ان تسبیحات اوراستغفار کے فضائل توظاہر کرتا ہے لیکن وہ غیبت اورچغلی کرنے والوں اورجھوٹے اورکذاب لوگوں کی سزا وعقاب کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتا کہ اس کی سزا کیا ہے یااس طرح دوسری زبانی آفتوں کی سزائیں کیاہیں ؟ تواس طرح یہ صرف اورصرف غرور اوردھوکہ کے علاوہ کچھ نہیں ۔

دیکھیں : الموسوعۃ الفقھیۃ جلدنمبر ( 31 ) غرور ۔

رمضان کی قضاء والے شخص کا عاشوراء کے دن روزہ رکھنا :

فقہاء کرام نے رمضان کی قضاء ادا کرنے سے قبل یوم عاشوراء کا روزہ رکھنے کے حکم میں اختلاف کیا ہے :

احناف کے ہاں رمضان المبارک کی قضاء ادا کرنے سے قبل نفلی روزہ رکھنا جائز ہے اوراس میں کوئی کراہت نہیں ، کیونکہ قضاء فورا واجب نہیں ، لیکن مالکیہ اورشافعیہ کہتے ہیں کہ ایسا کرنا جائز توہے لیکن اس میں کراہت ہے ، کیونکہ ایسا کرنے سے قضاء میں تاخیر لازم ہوتی ہے۔

دسوقی رحمہ اللہ تعالیٰ کہتےہیں : جس کے ذمہ واجب روزہ رہتاہو اسے نفلی روزہ رکھنا مکروہ ہے ، مثلا نذر والے یا جس کے ذمہ قضاء ہو یا کفارہ کا روزہ رہتا ہو ، چاہے واجب روزے پرمقدم کیا جانے والا نفلی روزہ مؤکد ہویا غیر مؤکد مثلا عاشوراء اورنوذوالحجہ کا روزہ ہو راجح یہی ہے۔

اورحنابلہ کے ہاں قضاء رمضان سے قبل نفلی روزہ رکھنا حرام ہے اوراس وقت نفلی روزصحیح نہیں ہوگا اگرچہ ابھی قضاء کا وقت باقی بھی ہو ، بلکہ یہ ضروری ہے کہ وہ فرضی کوشروع کرے تا کہ اس کی قضاء ادا کی جاسکے ۔

دیکھیں : الموسوعۃ الفقھیـــۃ صوم التطوع جلدنمبر ( 28 ) ۔

لہٰذا مسلمان شخص کوچاہیے کہ وہ رمضان المبارک کے بعد روزوں کی قضاء میں جلدی کرے تا کہ وہ بغیر کسی حرج اورتنگی کے یوم عرفہ اورعاشوراء کا روزہ رکھ سکے ۔

اوراگر اس نے یوم عرفہ اورعاشوراء کاروزہ قضاء کی نیت سے بھی رکھا اوررات کوہی روزہ رکھنے کی نیت کرلی تویہ فرضی روزے کی قضاء سے کفائت کرجائے گا ، اوراللہ سبحانہ وتعالیٰ بڑے فضل وکرم والا ہے ۔

عاشوراء کی بدعات :

شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالیٰ سے مندجہ ذیل سوال پوچھاگیا: یوم عاشوراء میں جولوگ سرمہ ، غسل اورمہندی اورمصافحہ وغیرہ کرتے ہیں اور دانے وغیرہ پکاکر خوشی وسرور کا اظہار کرتے ہیں کیا اس کے بارہ میں نبی سے کوئی صحیح حدیث وارد ہے یا نہیں ؟

اوراگراس بارہ میں کوئی بھی صحیح حدیث وارد نہیں توکیا یہ سب کچھ کرنا بدعت ہے یا نہیں ؟

اورایک دوسرا گروہ اس دن غم وحزن اورماتم اورپیاس اورنوحہ وغیرہ کا اظہارکرتا ہے اورمرثیہ پڑھتے ہیں اورگریبان چاک کرتے ہیں توکیا اس کی کوئی دلیل اوراصل ملتی ہے یا نہیں ؟

توشیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالیٰ کا جواب تھا :

الحمدللہ رب العالمین :

سب تعریفات اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہی ہیں : اما بعد :

اس بارہ میں نبی سے کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں ہے اورنہ ہی صحابہ کرام سے ثابت ہے ، اورنہ ہی مسلمان آئمہ کرام میں سے نہ توآئمہ اربعہ اورنہ ہی کسی دوسرے نے اسے مستحب قراردیا ہے اورنہ ہی بااعتماد کتب میں اسکے متعلق نبی سےاورنہ ہی صحابہ کرام میں سے کسی ایک سے کوئی روایت مروی ہے بلکہ تابعین کرام سے بھی کوئی صحیح بلکہ ضعیف حدیث بھی مروی نہیں ، نہ توکتب سنن میں اورنہ ہی بھی کتب صحاح اورمسانید میں کوئی روایت ملتی ہے ۔

اورقرون فاضلہ (افضل اوربہترادوار) میں یہ اشیاء معروف تک نہ تھیں اورنہ ہی کوئی اسے جانتا ہی تھا ، لیکن بعض متاخرین نے اس بارہ میں کچھ احادیث روایت کی ہیں مثلا :

یہ راویت کیا جاتا ہے کہ : جس نے یوم عاشوراء کوسرمہ ڈالا اس برس اس کی آنکھ خراب نہیں ہوگی یعنی اسے آشوب چشم نہیں ہوگی ، اورجو شخص یوم عاشوراء میں غسل کرے گا اس برس اسے کوئی بیماری لاحق نہیں ہوگی ۔ اس طرح کی احادیث روایت کی جاتی ہیں ۔

اورایک موضوع حدیث میں یہ بھی روایت کرتے جو نبی کے ذمہ جھوٹ باندھی گئی ہے :

جس نے اپنے گھروالوں کے لیے یوم عاشوراء میں وسعت کی اللہ تعالیٰ اس پرسارا سال ہی وسعت کرے گا ۔

تواس طرح کی جتنی بھی احادیث ہیں وہ سب کی سب جھوٹ اورکذب بیانی پرمشتمل ہیں ۔

پھرشیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے ابتدائی ایام میں ہونے والے فتنوں اورمقتل حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اوراس کی وجہ سے مختلف گروہوں نے جوکچھ کیا اس کا خلاصہ ذکر کرتے ہوئے کہا ہے :

لہٰذا ایک گروہ توبالکل جاہل اورظالم ہوگیا : یا تووہ گروہ منافق اورملحد ہے یا پھر گمراہ اورخواہشات کا غلام ہے وہ اپنی موالات اوردوستی ظاہرکررہا ہے ، اوراہل بیت کی موالات اورمحبت میں یوم عاشوراء کوماتم اورغم وپریشانی اورنوحہ کا دن بنالیتا ہے ، اس میں جاہلیت کا ماتم رخسارپیٹنا اورگریبان چاک کرنا اورجاہلیت کی تعزیت کے شعار اورعلامات کا اظہار کرتا ہے ، تواس طرح اہل ضلال اورگمراہ لوگوں کے لیے شیطان نے مزین کرکے یوم عاشوراء کوماتم کا دن بنا کررکھ دیا ہے اوراس میں وہ جوکچھ مرثیے اورنوحہ اورغم وحزن کے قصیدے پڑھتے ہیں اسے بھی شیطان نے ان کے لیے مزین کردیا ہے ، اوراسی طرح ایسی روایات اورقصے بیان کرتے ہیں جوسراسرکذب بیانی اورجھوٹ پرمبنی ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ملتی ، اس میںý تعصب اورغم کی تجدید اورجنگ وجدال اورمسلمانوں کے مابین حسد وبغض اورفتنہ پھیلانے اورسابقین الاولین پرسب وشتم کے علاوہ سچ والی کوئی بات نہیں ۔

اوران لوگوں کا اسلام کونقصان و ضرر اوراسے شرپہنچانا فصیح الکلام شخص توشمارہی نہیں کرسکتا ، یہ لوگ یا تومتعصب نواصب لوگوں سے جوحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اوراہل بیت کے بارے میں تعصب کرتے ہیں ان سے تعلق رکھتے ہیں، یا پھر ان کا تعلق ان جاہل قسم کے لوگوں سے ہے جوفساد کامقابلہ بھی فساد اورجھوٹ کا مقابلہ جھوٹ ، اورشرکے مقابلہ میں شر اوربدعات کے مقابلہ میں بدعات کرتے ہیں ، لہٰذا انہوں نے اس سلسلے میں یوم عاشوراء میں فرحت وسرور اورخوشی منانے کے آثار وضع کیے اورگھڑلیے جیسا کہ اس دن سرمہ اورخضاب وغیرہ لگانا اوراہل وعیال پردل کھول کرخرچ کرنا ، اورعام عادت سے ہٹ کرخاص قسم کے کھانے پکانا ، اوراس طرح کے دوسرے کام جوخاص تہواروں اورعیدوں اورخوشی کے موقع پرکیے جاتے ہیں ، تواس طرح ان لوگوں نے یوم عاشوراء کوایک تہوار اورخوشی کا موقع بنالیا ہے ۔

لیکن اس کے مقابلہ میں دوسرا گروہ اس دن ماتم غم اورحزن اورپریشانی کا اظہار کرتا ہے ، اوریہ دونوں گروہ ہی غلط ہیں اورسنت سے خارج ہیں ، اگرچہ وہ لوگ ( ماتم کرنے والے)قصد اورارادہ کے اعتبار سے بہت برے اورجاہل اورزیادہ ظالم ہیں ، نہ تورسول کریم سے اورنہ ہی ان کے خلفاء اربعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے عاشوراء کے دن پہ کچھ کرنا مسنون ہے ، نہ توغم اورپریشانی اورماتم کی علامات کا اظہار ، اورنہ ہی یہ ثابت ہے کہ اس دن خوشی وسرور اورفرحت کا اظہار کیا جائے ۔

اورسارے معاملات:مثلا عمومی عادت سے ہٹ کرکھانے تیارکرنا ، یاتودانے وغیرہ پکانا یا پھر نیا لباس زیب تن کرنا یا خرچہ میں وسعت کرنا اوردل کھول کرخرچ کرنا ، یا سال بھر کی ضروریات اس دن خریدلینا ، یاکوئی خاص عبادت کرنا مثلا اس دن کے ساتھ کوئی خاص نماز ادا کرنا ، یا جانوروغیرہ ذبح کرنا یا پھر قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنا کہ اس کے ساتھ دانے پکائے جائیں ، یا سرمہ اورخضاب وغیرہ لگانا ، یا غسل اورمصافحہ کرنا ، یا آپس میں ایک دوسرے کی زیارت کرنا ، یا مساجد اورمیدانوں وغیرہ کی زیارت کرنا ۔

یہ سب کچھ برائی اوربدعات میں شامل ہوتا ہے جورسول کریم سے مسنون اورثابت نہیں ، اورنہ ہی خلفاء راشدین سے اس کا کوئی ثبوت ملتا ہے ، اورنہ ہی مسلمان آئمہ کرام میں سے کسی ایک نے اسے مستحب قرار دیا ہے ، نہ توامام ثوری ، نہ ہی لیث بن سعد اورنہ ہی امام ابوحنیفہ ، اورامام اوزاعی اورنہ ہی امام شافعی اورامام احمد بن حنبل نے نہ ہی امام اسحاق بن راھویہ اوراسی طرح دوسرے کسی امام نے اسے مستحب قرار دیا ہے ۔ دیکھیں : فتاوی الکبری لابن تیمیہ ۔

اورابن حاج رحمہ اللہ تعالیٰ نے عاشوراء کی بدعات ذکر کرتے ہوئے یہ بھی ذکرکیا ہے کہ : زکاۃ کی ادائیگی میں جان بوجھ کر تاخیر یا تقدیم کرنا کہ عاشوراء کے دن زکاۃ ادا کی جا سکے ، اوراس دن کومرغی ذبح کرنے اورعورتوں کے لیے مہندی کے استعمال کے لیے خاص کرنا بھی بدعات میں شامل ہیں ۔ دیکھیں : المدخل جلداول یوم عاشوراء ۔

آخر میں ہماری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے نبی کریم کی سنت پر عمل پیراہونے والا بنائے اورہماری موت ایمان پرلائے ، اورہمیں اپنی رضامندی اورمحبوب کام کرنے کی توفیق سے نوازے ۔

ہماری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اپنے ذکر اورشکر بہتر طریقہ سے عبادت پرہماری مدد وتعاون فرمائے اورہمیں متقی وپرہیزگاروں میں سے بنائے ، اورہمارے نبی محمد اوران کی آل اورصحابہ کرام پراپنی رحمتوں کا نزول فرمائے ۔

Read 2163 times
Rate this item
(0 votes)

Related items