Print this page

رودادِ تقریب تکمیل صحیح بخاری

Written by احسان الٰہی ضامرانی/عبد الماجد ضامرانی 03 Jul,2016

علوم اسلامیہ کی بین الاقوامی شہرت یافتہ درس گاہ، جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کی 32ویں سالانہ تقریب تکمیل صحیح بخاری مورخہ 15مئی بروز اتوار روایتی تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوئی۔ تقریب بخاری میں اندرون و بیرون شہر سے لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس تقریب سعید کی صدارت بقیۃ السلف مولانا محمد عائش حفظہ اللہ نے فرمائی، جبکہ اسٹیج کے فرائض حسب روایت فضیلۃ الشیخ الاستاذ محمد حسین بلتستانی صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں انجام دیئے۔ انہوں نے روایتی نرم گوئی اور شیریں بیانی سے پوری تقریب میں سماں باندھے رکھا۔ (کثر اللہ امثالہ)
تقریب کا آغاز جامعہ کے ہونہار طالبعلم ابراہیم منظور کی خوبصورت تلاوت سے ہوا تلاوت کلام پاک کے بعد قاری صدیق الرحمن نے نظم پیش کی ، اس کے بعد جامعہ کے طالب علم عبید الرحمن (المعھد الثانوي الاول )نے عربی زبان میں تقریر پیش جس کا عنوان ’’کیف نجتنب عن الفتن‘‘ فتنوں سے کیسا بچیں‘‘ پر لب کشائی کی ان کی تقریر درج پانچ شرائط پر محیط تھی :
۱۔ تقوی اختیار کرنے سے ۔
۲۔اتباع سنت سے ۔
۳۔ بدعت سے بچنے سے ۔
۴۔ مسلمانوں کے اتحاد میں شامل ہونے اور تفرقات سے دور رہنے سے ۔
۵۔ راسخین فی العلم علماء اور محققین کیساتھ وابستگی سے۔
ان کے خطاب کے بعد انیس الرحمن(مرکز اللغۃ العربيۃ)کے طالب علم نے ’’حفظ اللسان‘‘ کے عنوان سے لب کشائی کی جس میں انہوں نے زبان کی حفاظت اور اس سے صادر امور پر مختصر اورمدلل بیان کیاان کا کہنا تھاکہ زبان ایک نرم گوشت ہے مگر جب یہ کسی کو لگے تو تیر سے بھی زیادہ زخمی کرتا ہے اس زبان کی حفاظت کرنے والوں کو نبی کریم ﷺ نے جنت کی نویداور اس کو بے لگام چھوڑنے پر وعید سنائی ہے۔
اس کے بعد جامعہ ہی کے طالب علم ظریف احمد (المعھد الثانوي الرابع)نے انگلش میں تقریر پیش کی جس کا عنوان ’’تعلیم کی اہمیت‘‘ تھا۔ ان کی لب کشائی کے بعد جامعہ ابی بکر کے مفتی علامہ نور محمد حفظہ اللہ نے ’’دور حاضر کے مسائل اور ان کا حل قرآن وسنت کی روشنی میں ‘‘ کے عنوان سے خطاب فرمایا ۔حمد وثناء کے بعد سامعین کو بتایا کہ جو لوگ امت مسلمہ کو فتنوں سے دوچار کرنے میں مصروف ہیں سامعین کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہقرآن مجید میں اللہ تعالیٰ 79 ایک کم اسی مرتبہ فتنوں کا تذکرہ کیا ہے محمد عربی  ﷺ نے بھی اپنی زبان مبارک سے تقریباً 76 مرتبہ ہمیں فتنوں سے ڈرایا جن پر 37 علماء کرام کی شروحات موجود ہیں آخر کیا وجہ ہے کہ اتنی مرتبہ ہمیں فتنوں سے ڈرایا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ جب فتنے برپا ہوں گے تو مسلمان کو چاہیے کہ وہ بازاروں کو چھو ڑ کر ،عیش وعشرت کو خیرباد کرکے اپنے دین کو بچانے کے لیے اور دین کی حفاظت کیلئے وہی طریقہ کار استعمال کرے جن پر نبی کریم ﷺ نے ہمیں چلنے اور اختیار کرنے کی تلقین کی ہے کیونکہ دین کے بغیر انسان کامیابی حاصل نہیں کرسکتا جہنم کی آگ سے بچنے کے لیے اور جنت کے باغات کو حاصل کرنے کے لیے دین کی حفاظت کرنا لازمی ہے ، سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیوی اور بچوں سمیت گھر باد اور سب کچھ لٹا دیا صرف
دین کو بچانے کی خاطر۔
مزید فرمایا کہ دین کو بچانا ہی سب سے اہم ہے کیونکہ موجودہ دور میں ایسے فتنے ہیں جو شخص ان سے نہیں بچا
اس سے اس کا دین جاسکتا ہے اسی لیے ضروری ہے کہ ہم ان فتنوں سے بچیں۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے خلیفۂ ثانی سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے پوچھا آپ فتنوں سے ڈراتے ہیں بتائیں نبی کریم ﷺ نے کن چیزوں کا تذکرہ کیا ہے۔
وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
فتنۃ الرجل فی أہلہ ومالہ وولدہ وجارہ
اس کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ آدمی کا گھر اہل وعیال اگر صحیح نہ ہوں تو وہ فتنوں سے دوچار ہوگا، مال بھی اگر اس مال کو حرام ذرائع سے کمایا یا خرچ کیا تو وہ مال اس کے لیے فتنہ بنے گا اسی طرح بیٹے بھی فتنہ بنیں گے اگر وہ نافرمان ہوںگے اس کی تربیت اگر غلط ہو گی ، اسی طرح آدمی کے ہمسائے بھی فتنہ بن سکتے ہیں اہل وعیال کی تربیت لازمی ہے جو آدمی ان فتنوں سے بچنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ چار کام سرانجام دے۔
1۔صحیح بخاری کی روایت ’’نماز کی پابندی کرنے سے آدمی فتنوں سے بچے گا کیونکہ اس پر اللہ کی رحمتوں کا نزول ہوگا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے دعا کی اے اللہ میری امت کی فجر میں برکت فرما۔ یہ برکت اگر آدمی فجر میں اٹھے گا تو گھر اور ہر جگہ ہوگی۔
2۔ مال کے فتنے سے بچنے کیلئے آدمی کو چاہیے کہ زکوۃ دے کیونکہ جب زکوۃ دی جائے گی تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں کو نہیں روکیں گے ، آسمان والا آسمان سے بارشیں برسائے گا ، صدقہ کرنے سے بڑی بڑی مصیبتیں ٹل جاتی ہیں،مال انسان کے لیے ایک بڑا فتنہ ہے اور یہ مال کو اگر صحیح خرچ نہ کیاتو یہ جہنم میں لے جانے کاموجب ٹھہرے گا آج ہمارے معاشرے میں مال کیوجہ سے کئی گھر برباد ہوچکے ہیں کئی لوگ قتل ہوچکے ہیں ، صدقہ انسان کے دلوں کو جیت لیتا ہے اور رب کائنات کو بھی راضی کرلیتا ہے اگرچہ صدقہ کی صورت نصف کھجور ہی کیوں نہ ہو۔
3۔روزہ کی فضیلت ’’سبعین خریفاً ’’جہنم کی آگ سے ستر میل دور‘‘ اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دینا ہم سب علماء کی ذمہ داری ہے۔یہ بھی نہی عن المنکر کی صورت ہے کہ آپ مال خرچ کرکے بھی دشمن کا دل جیت لیں تاکہ وہ گناہوں سے بچے۔
4۔قتل بھی ایک فتنہ ہے عصر حاضر میں ہم بعینہ مشاہدہ کررہے ہیں کہ شام وحلب وعراق میں انسانوں کے خون سے زمینوں کوسیراب کیا جارہا ہے یہی حالات ہمیں افغانستان وزیرستان میں بھی ملتے ہیںان سارے امور میں ہمیں صبر سے کام لینا ہےاور کبھی بھی برداشت کے دامن کو مت چھوڑنا۔اسی بنا پر آپ ہرگز کسی داعش وغیرہ کا ایجنٹ نہ بنیں یہ انہی کے لیے کام کرتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ......
انہوں نے اپنے خطاب فرمایا کہ غیر مسلموں نے ہمیشہ مسلمانوں کو مسلمانوں کے ہاتھ ہی پٹوایا ہے ۔ اس کے بعد انہوں نے شیعہ اور خارجیوں کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ صبر وتحمل سے کام لیتے ہوئے آگے زینۂ عروج کی طرف گامزن رہیں۔
اس کے بعد انہوں نے قبروں کی پوچا پاٹ کو بھی اس دور کے فتنوں میں گردانا اور عورت کو بھی عصر حاضر کے فتنوں میں شمار کیاالغرض علامہ صاحب مختصر وقت میں عصر حاضر کے مختلف فتنوں پر مختصر مگر جامع خطاب کیا۔
اس کے بعد جامعہ ابی بکر کے ہونہارطالب علم محمد انور سرور (المعھد الثانوي الثاني)نے موت کو یاددلانے والی اور مجلس کو گرمادینے والے نظم پیش کی جس کے الفاظ یہ تھے
تیرا کیا بنے گا بندے    تو سوچ آخرت کا۔۔۔۔
اس کے بعد بقیۃ السلف مولانا محمد عائش حفظہ اللہ نے توبہ واستغفار کے عنوان پر خطاب فرمایاان کا خطاب دو حدیثوں پر محیط تھا ایک صحیح مسلم کی روایت
إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ(صحيح مسلم 2564)
’’بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری شکل وصورت اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ اگر دیکھتا ہے تو تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔‘‘
جس میں انہوں نے غزوۂ تبوک اور بعد از نماز ’’استغفر اللہ‘‘ تین تین مرتبہ پڑھنے کی نشاندہی فرمائی۔ اس کے بعد انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان فرمائی جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ ایک بندہ گناہ کے بعد توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ بہت ہی زیادہ خوش ہوتے ہیں مثال کے طور پر انہوں نے ایک اور حدیث کی طرف اشارہ فرمایاجو کہ صحیح مسلم ہی کی ہے
لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ، مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِأَرْضِ فَلَاةٍ، فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَأَيِسَ مِنْهَا، فَأَتَى شَجَرَةً، فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا، قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا، قَائِمَةً عِنْدَهُ، فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا، ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ: اللهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ، أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ  (صحيح مسلم 2747)
 کہ ایک بندہ جنگل میں سفر کرتا ہے اس کے پاس ایک اونٹنی ہے جس پر اس کا زاد راہ ہے اس کی اونٹنی گم ہوجاتی ہے  اور وہ طویل جدوجہد کرنے کے بعد اونٹنی نہ ملنے پر مایوس ہوکر سوجائے اور پھر جب اچانک آنکھ کھلے تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کی اونٹنی بمعہ زاد راہ اس کے سامنے ہے تو وہ خوش کے مارے پھولے نہ سمائے کہہ دے۔
اللہ أنت عبدی وأنا ربک
اے اللہ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب ہوں۔ حالانکہ اس کا ارادہ اس کے برعکس ہوتاہے :
اللھم أنت ربی وأنا عبدک
پھر فوائد استغفار میں سورۃ نوح کی آیات تلاوت فرمائیں
يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا (النوح 11۔13)
پھر فرمایامغربی جمہوریت کی پوجا میں برکت اور رحمت نہیں آنے والی ، شہدائے بالا کوٹ نے مغربی تہذیب کا مقابلہ اپنے خون سے کیا ، یہ ملک اس وقت سنور جائے گا جب ہم یہاں کتاب اللہ وسنت رسول اللہ پر عمل پیرا ہوں گےاوراختلافی امور کا حل بھی قرآن وحدیث سے کریںگے ۔
مزید اس عنوان پر ننانوے آدمیوں کے قاتل والی حدیث بھی ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ توبہ واستغفار کرنے والوں کیلئے اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں کے دروازے کھولے رکھتا ہے لہٰذا مومن کو مایوسی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
دوسری حدیث وقت کی قلت کے سبب بیان نہ کرپائے۔
دوسری نشست :
بعد از نماز مغرب تقریب کی دوسری نشست کا آغاز ہوا جس میں اسٹیج کی ذمہ داری فضیلۃ الشیخ محمد طاہر آصف حفظہ الله رئیس مجلس ادارت مجلہ اسوئہ حسنہ نے انتہائی احسن اور دلچسپ انداز سے سرانجام دیئے دوسری نشست کا آغاز بھی جامعہ کے طالب علم عبد الرحمن بن عبد الرؤوف کی تلاوت سے کیا گیا تلاوت کے بعد جامعہ کے ہونہار طالب علم منشاء بلال (المعھد الثانوي الرابع )نے اردو میں ’’پیغمبر امن‘‘ کے عنوان سے لب کشائی کی، انہوں نے اپنے نرالے انداز میں سامعین سے خطاب کیا جس میں انہوں نے نبی آخر الزمان کی آمد سے قبل حالات اور بعثت کے بعد امن کی فضا قائم کرنے پر مختصراً تقریر کی۔ ان کے بعد سال آخر کے طالب علم نصیر الدین (کليۃ الحديث الشريف الفصل الرابع )نے کلمۃ الطالب پیش کیا جس میں انہوں نے جامعہ کی خدمات کوسراہتے ہوئے منتظمین جامعہ کا شکر ادا کیا۔
ان کے بعد کلمۃ ابناء الجامعہ پیش کرنے کیلئے فضیلۃ الشیخ عبد الرحمن ثاقب آف سکھر تشریف لائے انہوں نے حاضرین کو بتایا کہ 1986ء میں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ پڑھنے آیا ، اس وقت جامعہ کے مؤسس پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ یہاں کے طلباء کیساتھ بڑے مشفق اور ہمدرد تھے ، وہ خود گھر میں دال کھاتے اور ہمیں گوشت کھلاتے، جامعہ کا نورانی منظر آج بھی میرے سامنے ہے فراغت کے بعد کچھ عرصہ جامعہ میں رہنے کے بعد تدریس کا عمل جاری رکھا ، بخاری اور ترمذی بھی پڑھائی اور سکھر کی جامع مسجد اہلحدیث کا خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ الحمد للہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کی جانب سے سندھ میں دعوت وتبلیغی سرگرمیوں کا مسؤول بھی ہوں ، شیخ ظفر اللہ رحمہ اللہ کی پند ونصائح آج بھی میری دل میں نقش ہیں ۔ جامعہ ابی بکر کی انتظامیہ سے دو خواہش کا اظہار کرتا ہوں ۔
۱۔ جامعہ ابی بکر کو کالجز اور یونیورسٹیوں سے منسلک کیا جائے۔
۲۔ سیدین شہیدین جن کی طرف جامعہ کی نسبت ہے ان کی زندگی تاریخ اور جدوجہد پر لکھی گئی کتابوں کو جو پہلے شائع ہوچکی ہیں اب ناپید ہیں ان کو دوبارہ شائع کیا جائے۔آخر میں انہوں نے جامعہ کےبقاء اور دوام پر بدست دعا کی۔
ان کے بعد فضیلۃ الشیخ محمد امین محمدی حفظہ اللہ کے فرزند قاری سعد امین محمدی کو تلاوت کیلئے مدعو کیا گیا پھر ان کے بعد درس بخاری ہوا جس کی ذمہ داری فضیلۃ الشیخ علامہ محمد امین محمدی حفظہ اللہ جن کا تعلق گوجرانوالہ سے اور نصر العلوم عالم چوک میں شیخ الحدیث کی مسند عرصہ دراز سے سنبھالے ہوئے ہیں ۔
صحیح بخاری کی آخری حدیث کی سماعت آخری کلاس کے طالب علم محمد شعیب مغل سےہوئی اس کے بعد شیخ الحدیث محمد امین محمدی نے درس حدیث کا آغازکیاحمد وثناء کے بعد انہوںنے فرمایا کہ جب سے انسان نے زمین پر قدم رکھا ، مختلف حالات میں وہ گزرا ہےانسان کمالات کی وجہ سے نہیں بلکہ مختلف قسم کے حالات سے مقابلہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسے بلندیوں سے سرفراز فرمایا ہے۔ پھر انہوں نے سورۃ الرعد کی آیت
إِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ
میں فرمایا کہ تبدیلی دو قسم کی ہوتی ہے : مثبت اور منفی
مثبت تبدیلی وہ ہے کہ کسی بری چیز کو صحیح کر دینا جبکہ منفی تبدیلی یہ ہے کہ اچھی چیز بگاڑ دینا۔ بہر حال قرآن کے بتائے ہوئے اصولوں میں ہی انسان کی کامیابی کا راز مضمر ہے ۔ پھر انہوں نے علم کی چھ خوبیاں بیان کی۔ان مختصر باتوں کے بعد صلب موضوع میں انہوں نے فرمایا کہ اس وقت استاد اور شاگرد دونوں ایک دوسرے کا استاد بھی ہوتا اور شاگرد بھی۔انہوں نے امام بخاری سے متعلق فرمایا کہ تمام محدثین نے اقرار واعتراف کیاکہ دنیا میں کوئی ایسی حدیث نہیں جو امام بخاری کو یاد نہ ہواور فرمایا کہ انہوں نے طلب حدیث کے لیے کئی ملکوں کا سفر کیا،  محدثین نے مزید اعتراف یہ بھی کیا کہ وہ حدیث جو امام بخاری نہیں جانتے وہ حدیث ہے ہی نہیں۔ پھر شیخ صاحب نے اپنے درس حدیث میں ایک قیمتی نقطہ کی طرف اشارہ کیا کہ امام بخاری کے نام پرکوئی فرقہ یا جماعت نہیں کیونکہ انہوں نے اپنی کتاب صحیح البخاری کا آغاز کیا تو کتاب الوحی سے اور کتاب کے آخر میں ایک باب ’’الاعتصام بالکتاب والسنۃ‘‘ کے نام سے باندھا ۔ ان ابواب سے امام بخاری نے یہ اشارہ فرما دیا کہ منجملہ مسائل میں اگر رجوع کیا جائے تو کتاب وسنت ہی طرف کیا جائے۔پھر انہوں نے مطلوب حدیث کے راوی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرویات کی تعداد بتائی مزید بتایاکہ کل سات صحابہ ہیں جنہوں نے ایک ہزار سے زیادہ حدیثیں روایت کی ہیں ان میں سرفہرست سیدنا ابو ہریرۃرضی اللہ عنہ ہیں اور فرمایا کہ امام بخاری نے آخری باب کتاب التوحید کے نام سے باندھا کیونکہ جہمیہ نے کہا تھا کہ اللہ نہ سنتا ہے نہ دیکھتا ہے نہ بات کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔یہ باب باندھ کر امام بخاری نے تمام فرق ضالہ کی تردید کی ہے۔
پھر حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ دو کلمے ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کوبہت پسند ہیں پسند ہونے کا یہ مطلب نہیں وہ مشکل ہیں بلکہ زبان پر بہت آسان ،ادائیگی کے اعتبار سے بھی بہت آسان ۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں وہ وہ بہت آسان ہیں ان کا وزن نہیں ہوگا بلکہ وہ میزان میں بہت ہی وزنی ہیں وہ کلمے
سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ
امام بخاری نےاس حدیث سے اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی اور صفات علیا کو ثابت کیا ہے۔
درس حدیث کے بعد کلمۃ الجامعہ کیلئے نائب مدیر الجامعہ الشیخ ضیاء الرحمن بن ظفر اللہ المدنی کو مدعو کیا گیا انہوں نے اپنے کلمات میں جامعہ ابی بکر کا تعارف اور تعلیمی مراحل سے متعلق سامعین کو آگاہ کیا اور ان سے ملحق ادراروں کا مختصر تعارف پیش کیاجس میں جامعہ عائشہ للبنات ، ابو بکر اکیڈمی سرفہرست ہیں۔
آخر میں انہوں نے آئیے ہوئے مہمانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا خصوصاً فضیلۃ الشیخ محمد امین محمدی حفظہ اللہ کا۔
اس کے بعد فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حافظ افتخار احمد شاہد (مدیر الامتحانات) نے امتحانی نتائج کا اعلان کیا جس میں فائزین کو انعامات سے نوازا گیا۔ اور آخرمیں دعا کیلئے بقیۃ السلف مولانا محمد عائش کو مدعو کیاگیا انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں دعا کی۔
پروگرام میں مختلف مدارس واداروں کے ذمہ داران تشریف لائے تھے جن میں جامعہ الدراسات الاسلامیہ کے مدیر مفتی محمد یوسف طیبی ، چیئرمین مرکز المدنی ڈاکٹر عبد الحی المدنی ، مدیر مرکز الاسلامی کیچ حافظ ناصر الدین ضامرانی ،مولانا فاروق قصوری ودیگر علماء کرام کی ایک کثیر تعداد اس پروگرام کی رونق بنے۔

Read 664 times
Rate this item
(0 votes)

Related items