Print this page

قرآنِ کریم کی اُصولی باتیں(قسط9)

Written by پروفیسر ڈاکٹرعمر بن عبد اللہ المقبل ترجمہ: ابو عبدالرحمن شبیر بن نور 15 Oct,2016

انیسواں اصول
وَلَـکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّـکُمْ تَـتَّقُوْنَ (البقرة : 179)
’’عقلمندو! قصاص میں تمہارے لیے زندگی ہے تاکہ تم (قتل ناحق سے) رکے رہو۔‘‘
لوگو ںکے درمیان معاملات کے حوالے سے یہ ایک بہت ہی اہم اصول ہے۔ جن کی اکثریت کسی نہ کسی شکل میں دشمنی اور زیادتی کا شکار ہوئی ہے خواہ یہ زیادتی جان پر ہوئی ہو یا مال پر۔اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بعد یہ عظیم اصول بیان ہوا ہے ‘ فرمایا:
یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاُنْثٰی بِالْاُنْثٰی فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْئٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَآئٌ اِلَـیْہِ بِاِحْسَانٍ ذٰلِکَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (البقرة : 178)
’’اے ایمان والو ! تم پر مقتولوں کاقصاص لینا فرض کیا گیا ہے۔ آزاد آزاد کے بدلے‘ غلام غلا م کے بدلے اور عورت عورت کے بدلے۔ ہاں کسی کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے تو اُسے بھلائی کی اتباع کرنی چاہیے اورآسانی کے ساتھ دیت اداکردینی چاہیے۔ تمہارے ربّ کی طرف سے یہ نرمی اور رحمت ہے۔ اس کے بعد بھی جوسرکشی کرے اُسے دردناک عذاب ہوگا۔‘‘
پھر اسی عظیم اصول کو دوسروں پر زیادتی کرنے کے باب میں بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَـکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّـکُمْ تَـتَّقُوْنَ (البقرة : 179)
’’عقلمندو! قصاص میں تمہارے لیے زندگی ہے تاکہ تم (قتل ناحق سے) رکے رہو۔‘‘
ہمارے لیے اس عظیم قرآنی قاعدے پر رک کرغور کرنے کے مقامات ہیں:
مقامِ اوّل: جو شخص دنیا بھر کے ملکوں (خواہ وہ مسلمان ممالکہیں یا کافر) کے حالات پرغور کرے گا تواُسے یہ نتیجہ ضرورملے گا کہ جوملک قاتل کوقتل کردیتے ہیں وہاں پر قتل کی شرح کم رہتی ہے۔ اس بات کا اعتراف کئی اہل علم نے کیا ہے ‘ اور اس کا سبب بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ قصاص قتل کے جرم کو کم کرنے کے لیے بہت بڑی رکاوٹ ہےاوریہی بات اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا آیت میں بیان فرمائی ہے۔ جبکہ دشمنانِ اسلام کا خیال ہے کہ قصاص کی سزا حکمت کے خلاف ہے ‘ اس لیے کہ پہلے انسان کے قتل کے بعد دوسرے انسان کے قتل سے آبادی میں کمی واقع ہوگی ‘ لہٰذا قاتل کو قتل کرنے کے بجائے کو ئی دوسری سزادے دی جائے‘ چنانچہ اُسے قید کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح دورانِ قید اگر اس کے ہاں بچہ پیدا ہو تو آبادی میں اضافہ ہو جائے گا۔ یہ سب بے فائدہ باتیں ہیں‘ جن کا حکمت ودانش سے دور دور تک کا بھی واسطہ نہیں ‘ اس لیے کہ قیدوبند کی سزا کسی کوقتل کے جرم سے نہیں روک سکتی۔ جب تک سزا صحیح معنی میں دل کو دہلادینے والی نہ ہو‘تو ناسمجھ لوگوں کی طرف سے قتل کی واردات ہوتی رہے گی۔ نتیجتاً قتل کی کثرت کی وجہ سے آبادی تیزی سے کم ہوتی رہے گی۔
دوسرامقام: اس محکم قرآنی اصول میں بیان کیا گیا ہے: وَلَـکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ ’’اور قصاص میں تمہارے لیے زندگی ہے‘‘۔ فطرۃً ہرانسان کو زندگی سب سے زیادہ پیاری ہوتی ہے۔ چنانچہ قتل کی سزاسے زیادہ کوئی سزابھی ڈرانے ‘دھمکانے اورجرم سے بازرکھنے
کے لیے کارگر نہیں ہوسکتی۔
اس میں دوسری حکمت یہ ہے کہ مقتول کے ورثاء کو
اطمینان رہے گا کہ نظامِ قضاء اس شخص سے خود بدلہ لے گا جس نے ان کے مقتول پر زیادتی کی ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَ لِیِّہٖ سُلْطٰنًا فَلاَ یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ اِنَّہٗ کَانَ مَنْصُوْرًا (الاسراء 33)
’’اور جو شخص مظلوم ہونے کی صورت میں مارڈالا جائے‘ ہم نے اُس کے وارث کو طاقت دے رکھی ہے ‘پس اُسے چاہیے کہ مارڈالنے میں زیادتی نہ کرے بے شک وہ مدد کیا گیا ہے۔‘‘
یعنی یہ نظام ہم نے اس لیے بنایاہے تاکہ مقتول کے وارث خود ہی اپنے رشتہ دار کے قاتل سے بدلہ لینا نہ شروع کردیں ‘ اس طرح تو دوقبیلوں میں جنگ کی شکل بن جائے گی اوربہت ساری جانوں کاضیاع ہوگا۔
تیسرا مقام: اس قرآنی قاعدے میں ’’حیاۃ‘‘یعنی زندگی کا لفظ استعمال ہوا ہے‘ فرمایا: وَلَـکُمْ فِـی الْقِصَاصِ حَـیٰوۃٌ ’’اور قصاص میں تمہارے لیے زندگی ہے‘‘۔ معنیٰ یہ کہ قصاص لینے میں تمہاری جانوں کا بچاؤ اور تحفظ ہے۔ یقیناحکمِ قصاص نافذ کرنے کی صورت میں یہ دوسری جانوں کے قتل ہونے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر قصاص کا حکم نافذ نہ کیا جائے تو لوگوں کو کسی قسم کا خوف نہیں رہے گا۔ اس لیے کہ موت کا ڈر ہی وہ شے ہے جس کی وجہ سے لوگ حادثات سے گھبراتے ہیں۔ جب قاتل کو معلوم ہو کہ وہ موت سے بچ جائے گا تو دوسری سزاؤں کی پروا کیے بغیر وہ قتل کرتا رہے گا۔
جیسا کہ زمانہ ٔجاہلیت میں ہوا کرتا تھا‘ اگر لوگوں کو خودسے بدلہ لینے کا موقع دے دیا جائے تو لوگ حد سے آگے بڑھ جائیں گے اور پھر ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا ‘ 

جس کا تذکرہ اوپر ہو چکا ہے۔ چنانچہ نتیجہ یہ ہے حکم قصاص کے نافذ کرنے میں ہی دونوں گروہوں کی زندگی ہے۔
چوتھا مقام: اس اصول کا اختتام اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر ہو رہا ہے: یّٰاُولِی الْاَلْبَابِ ’’اے عقل ودانش والو!‘‘ ان الفاظ کے ساتھ قصاص کی حکمت پر غور کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ عقل والوں کو مخاطب کرنے کا معنی یہ ہے کہ یہ بات صرف عقل والے ہی سمجھ سکتے ہیں‘ اس لیے کہ ظاہر میں تو سزا بھی جرم ہی طرح کی ہے‘ کیونکہ قصاص میں بھی تو ایک دوسری جان کا ضیاع ہے ‘ لیکن اگر گہرائی میں جا کر غور کیا جائے تو قصاص زندگی کی ضمانت ہے‘ نہ کہ جان کا ضیاع ہے‘ جس کے دلائل گزر چکے ہیں۔
پھر فرمایا: لَعَلَّـکُمْ تَـتَّقُوْنَ ’’تاکہ تم (جرم کرنے سے)بچے رہو‘‘۔ ایسی سزا مقرر کرنے کا فائدہ بیان فرمادیا‘ تاکہ تم جرم سے بچے رہو اور مقتول کا بدلہ لینے میں عدل و انصاف کی حد سے آگے نہ بڑھو۔

Read 552 times
Rate this item
(0 votes)

Related items