Print this page

لا إلہ الا اللہ...کا مفہوم

Written by 15 Jul,2018

آخري قسط

4قربانی:

 یہ بھی عبادت کی ایک قسم ہے جس میں کئی لوگ گمراہ ہو گئے ہیں اور وہ اس ذبح کے ذریعہ غیر اللہ کا قرب حاصل کرنے لگ گئے ہیں ۔ جیسا کہ نیک لوگوں اوراولیاء اللہ کی قبروں کے پاس جانوروں کو ذبح کرنا یہ دعوی کرتے ہوئے کہ ہمارا صدقہ اس قبر والے مردے کے واسطے کے بغیر اللہ تعالیٰ تک نہیں پہنچے گا یہ بعینہ شرک اکبر ہے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ذبح ہو یا کوئی اور عبادت ہو صرف خالص اللہ تعالیٰ کے لئے ہونی چاہیے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے : 

 قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ

آپ فرما دیں کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادات اور میرا جینا اور میرا مرنا سب خالص اللہ تعالی ہی کیلئےہے اسکا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم ملا اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں ۔(الانعام:۱۶۲۔۱۶۳)

 رسول اللہ نے فرمایا :

لَعَنَ اللهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللهِ ( مسلم)

غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی لعنت۔

 بلکہ رسول اللہ نے جن جگہوں میں غیر اللہ کی پوجا کی جاتی تھی یا وہاں زمانہ جاہلیت میں میلے لگائے جاتے تھے وہاں پر جانور ذبح کرنے سے منع فرمایا ہے ۔

5دَم :

 روحانی و جسمانی بیماریوں کے علاج کے لیے ایک شرعی و مسنون عمل ہے اور اس کے علاوہ وہ اشکال جو درست نہیں ہیں جیسا کہ تعویذ، گنڈے وغیرہ اورتعویز گنڈے وہ ہیں جو بچوں کے گلوں میں لٹکائے جاتے ہیں یا بد نظری کے خوف کی وجہ سے انکو استعمال کیا جاتا ہے یا کسی اور سبب سے استعمال میں لایا جاتا ہے۔سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کی حدیث میں تعویز گنڈے اورجھاڑ پھونک منع ہیں رسول اللہ نے فرمایا :

إِنَّ الرُّقَى، وَالتَّمَائِمَ، وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ

بے شک دم، جھاڑ ،گنڈے شرک ہیں ۔(ابو داؤد)

اور ایک معروف حدیث میں سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے گلے میں ایک دھاگہ دیکھا تو انہوں نے اس دھاگہ کے بارے میں اپنی بیوی سے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ آنکھوں میں بیماری کی وجہ سے اس دھاگہ میںدم کروا کر باندھا ہے تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس دھاگے کو کاٹ دیا اور ان سے فرمایا کہ عبداللہ کی آل شرک سے مستغنیٰ ہے ۔ او رآپکو صرف اتنا کہنا کافی ہے ۔

اَذْھِبِ الْبَأسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ اَنْتَ الشَّافِی لاَ شِفَاءَ اِلاَّ شِفَاءُ کَ شِفَاءً لاَ یُغَادِرُ سَقَماً

’’اے لوگوں کے پروردگار بیماری دور کر دے اور شفاء عطا فرما تو ہی شفاء عطا کرنے والا ہے ما سوائے تیری شفاء کے کوئی شفاء نہیں ہے جو کسی قسم کی بھی بیماری نہیں چھوڑتی ۔‘‘(ابوداود، ابن ماجہ)

 سیدناعبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کی یہ حدیث تعویز گنڈے اور جھاڑ پھونک کے شرک ہونے پر دلالت کرتی ہے ۔

جھاڑ پھونک کی حرمت اورعدم حرمت میں کچھ تفصیل ہے جھاڑ پھونک کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک حرام اور شرک ہے

اور دوسری قسم جائز ہے ۔

1حرام تو وہ ہے جس میں شرکیہ الفاظ ہوں اور غیر اللہ سے مدد طلب کی جائے اور اس سے پناہ مانگی جائے ۔

2جائز وہ ہے جوشرک کے شوائب سے خالی ہو بلکہ قرآن وسنت کے الفاظ اس میں ہوں۔ حدیث میں جو منع آیا ہے وہ پہلی قسم سے روکا گیا ہے کیونکہ بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : ماسوائے بدنظری یا بچھو کے ڈسنے سے جھاڑ پھونک نہیں ہے ۔(متفق علیہ)

اس حدیث میں دم کروانے کی اجازت ہے ۔

بدنظری اسے کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص کسی اچھی چیز کو دیکھتا ہے تو وہ ماشاء اللہ نہیں کہتا تو بسا اوقات اس کی نظر اس چیز کو لگ جاتی ہے ۔

کیونکہ رسول اللہ نے فرمایا : بدنظری حق ہے کہ یہ انسان کو لگ جاتی ہے ۔(متفق علیہ)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نےرسول اللہ سے اس دم کے متعلق سوال کیا جو وہ کرتے تھے تورسول اللہ نے ان سے فرمایا :

اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ، لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ

 تم مجھے اپنے دم درود دکھاؤ جب تک اس میں شرکیہ الفاظ نہ ہوں تو دم و دردود میں کوئی حرج نہیں ۔(مسلم، ترمذی)

رسول اللہ نے بھی دم کیا او ران پر دم کیا بھی گیا اور انہوں نے اس دم کوبرقرار رکھا ۔چند شروط کے ساتھ دم کروانا جائز ہے ۔

1 قرآن و حدیث یا اللہ تبارک وتعالیٰ کے اسماء اور صفات یا سلف صالحین سے منقول شدہ دعاؤں کے ذریعہ ہو ۔

2دَم عربی زبان میں ہو اگر دم کرنے والا عربی کو اچھی طرح نہیں جانتا اور عربی میں الفاظ ادا نہیں کرسکتا تو پھر شرط یہ ہے کہ مترجم دعاء کتاب و سنت کے مطابق ہو ۔

3 آدمی یہ عقیدہ نہ رکھے کہ شفا کا اثر صرف اسی دم میں ہے کیونکہ شفا تو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے یہ تو علاج کا ایک ذریعہ ہے ۔ اب رہ گئے تعویذ گنڈے تو یہ کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہیں ان کو باندھنا حرام ہے جب آدمی ان میں خیر کے طلب اور شر کے دور کرنے کا عقیدہ رکھ لے تو یہ شرک اکبر تک پہنچا دیتے ہیں ۔ عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا :

مَنْ تَعَلَّقَ شَيْئًا وُكِلَ إِلَيْهِ

 جس نے کوئی چیز لٹکائی اس کو اسی کے سپرد کر دیا جائے گا یعنی اللہ تعالی اس کو اسی طرف چھوڑ دے گا ۔(ترمذی ، أحمد)

ایک دوسری روایت میں ہے :جس نے تعویذ لٹکایا تو اللہ تعالیٰ اس کی مراد پوری نہ کرے ۔ (مسند احمد)

ایک آدمی رسول اللہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور اس کے ہاتھ میں پیتل کا ایک حلقہ (کڑا) تھا تورسول اللہ نے اس سے پوچھا یہ کیا ہے ؟ تو اس نے عرض کی کہ میرے جوڑوں میں بیماری ہے جس کی وجہ سے میں نے اس کوپہنا ہے

أَمَا إِنَّهَا لَا تَزِيدُكَ إِلَّا وَهْنًا انْبِذْهَا عَنْكَ؛ فَإِنَّكَ لَوْ مِتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ مَا أَفْلَحْتَ أَبَدًا

 تورسول اللہ نے اس کو حکم دیا کہ اس کو اتار دو یہ آپ کی بیماری کو اور زیادہ کر دے گا اور اگر تم اسی حالت میں مر گئے کہ یہ آ پ کے ہاتھ میں تھا تو تم کبھی بھی فلاح نہیں پاؤ گے ۔(مسند احمد، ابن ماجہ)

تمام قسم کے تعویذات لٹکانے کی حرمت پر ادلہ واضح اور روشن ہیں چاہے ان میں قرآن حکیم کی آیات ہی کیوں نہ لکھی ہوئی ہوں ۔ جس نے یہ کہا کہ جس میں قرآن کریم کی آیات لکھی ہوں تو جائز ہے تو اس کی بات کا کچھ اعتبار نہیں اس کے قول کو دلیل نہیں بنایا جائے گا اس لئے کہ اس کی بات پر قرآن و حدیث کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے ۔ اگر یہ تعویذ گنڈے مشروع اور جائز ہوتے تورسول اللہ اس کو بیان کر دیتے اور اس عمل کی دلیل صحیح طور پر ہم تک پہنچ جاتی ۔

6وسیلہ :

 وسیلہ کا لغوی معنی ہے قرب حاصل کرنا اور شرعًا جس چیز کے ذریعہ مطلوب کا قرب حاصل کیاجائے وسیلہ واسطہ اور سبب ہوتا ہے جو مراد تک پہنچا دے ۔امام ابن اثیر رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : کہ وسیلہ قرب اور واسطہ ہوتا ہے جس کے ذریعہ کسی چیز تک پہنچا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ قرب حاصل کیا جاتا ہے۔(النہایۃ لابن الاثیر ۵/۱۸۵)

اور القاموس المحیط میں ہے : ایسا کام کرنا جس کے ذریعہ مقصود کا قرب حاصل کیا جائے ۔ (القاموس المحیط ۴/۶۱۲ ۔ مادۃ وسل)

قرآن کریم میں وسیلہ کا یہی معنی ہے جس کی سلف صالحین نے قرآن کریم میں وارد ہونے والے وسیلہ کی تفسیر کی ہے اور یہ اعمال صالحہ سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے معنی سے نہیں نکلے گا ۔ قرآن کریم میں وسیلہ کا ذکر دو آیتوں میں آیا ہے ۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

 اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور اس کی طرف نزدیکی کی جستجو کرتے رہو اور اس کی راہ میں جہاد کیا کرو تا کہ تمہارا بھلا ہو ۔ (المائدۃ:۳۵)

جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں خود وہ اپنے رب کی نزدیکی کی جستجو میں رہتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ نزدیک ہو جائے وہ خود اس کی رحمت کی امید واری میں لگے رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوفزدہ ہیں بات بھی یہی ہے کہ تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے ۔ (الاسراء:۵۷)

امام ابن جریر الطبری ( وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ )کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے والے اعمال سے اس کا قرب حاصل کرو ۔

 اورابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وسیلہ کا معنی قرب نقل کیا ہے اور اسی طرح انہوں نے قتادۃ ‘ مجاہد ‘ عبداللہ بن کثیر ‘ سدی ‘ ابن زید رحمہم اللہ اور کئی دوسرے مفسرین سے یہی معنی نقل کیا ہے اور انہوں نے فرمایا ہے کہ اس معنی میں ائمہ مفسرین کا کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ وسیلہ وہ ہے جس کے ذریعہ مقصد اور مراد کو پہنچا جائے ۔دوسری آیت کے شان نزول کی مناسبت (جو وسیلہ کے معنی کو واضح کرتی ہے) کو جلیل القدر صحابی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ لوگ جنوں کی عبادت کرتے تھے جن تو مسلمان ہو گئے تھے اور ان لوگوں نے جنوں کے پہلے والے دین کو پکڑ لیا ۔ (بخاری)

اس آیت کی تفسیر میں یہی قول معتبر ہے جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کر کے اس پرصراحت کی ہے ۔قرآن کریم کی آیت وسیلہ کو تقرب إلی اللہ کے معنی میں لینے پر صریح ہے اسی لئے تو یَبْتَغُوْنَ فرمایا یعنی جولوگ اعمال صالحہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے ہیں ۔

جیسا کہ پہلے ا س بات کی وضاحت کی ہے کہ عمل اس وقت تک قبول نہیں ہوتا جب تک خالص اللہ تعالیٰ کی رضا اور سنت کے مطابق نہ ہو ۔ اس اعتبار سے وسیلہ کی دو قسمیں ہیں ۔

1شرعی وسیلہ           2غیر شرعی وسیلہ

1 شرعی وسیلہ :

کتاب و سنت کی طرف رجوع کر کے ہم مشروع وسیلہ کو تین قسموں میں منحصر پاتے ہیں ۔

m اللہ تبارک وتعالیٰ کے اسماء اور صفات کے ذریعہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف وسیلہ تلاش کرنا ۔

mنیک اعمال کے ذریعہ اس کی طرف وسیلہ تلاش کرنا جیسا کہ حدیث غار اس کی بیّن اور واضح دلیل ہےز

mنیک اور زندہ آدمی کی دعا سے اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف وسیلہ تلاش کرنا ۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور کا فعل اس پر دلیل کہ وہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی وساطت سے دعا کرتے۔

2غیر شرعی وسیلہ :

جیسا کہ مشروع وسیلہ اور اسکی اقسام اور دلیلیں پہچان لی ہیں لہذا اس کے علاوہ جو وسیلہ ہے جیسے بحق فلاں یا جاہ فلاں غیر شرعی وسائل ہیں اس وسیلہ پر کتاب و سنت کی کوئی نص دلالت نہیں کرتی ا ورنہ ہی اس قسم کا وسیلہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اورتابعین عظام رحمہم اللہ کی طرف سے منقول ہے لہٰذا اس غیر شرعی وسیلہ کے باطل ہونے پر یہی کافی ہے اسی وجہ سے اکثر ائمہ محققین نے اسکا انکار کیا ہے جس کسی بدعتی مولوی نے ا سکی اجازت دی ہے تو اس کے قول کا ادنیٰ سا بھی اعتبار نہیں ہے کیونکہ اس کا قول قرآن و حدیث کی صریح نصوص سے ٹکراتا ہے اور قرآن و حدیث دین میں بدعتیں ایجاد کرنے سے منع کرتے ہیں۔

7 قبروں کی زیارت کا حکم :

 بے شک قبروں کی زیارت کرنا مشروع اور جائز ہے لیکن اس طرح نہیں جس طرح آج لوگ کرتے ہیں ۔ قبروں پر مردوں کیلئے جانا جائز ہے مگر عورتوں کو اجازت نہیں ہے۔رسول اللہ نے فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا ۔ توسن لو ۔ اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہیں ۔ (ترمذی) حدیث میں لفظ فزوروھا (یعنی تم ان کی زیارت کر لیا کرو) عام ہے مردوں اور عورتوں سب کو شامل ہے ۔ جب ہم قبروں پر جائیں تو یہ دعا پڑھیں:

اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ اَہْلَ الدَّیَارِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُؤْمِنِیْنَ یَرْحَمُ اللہُ الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنَّا وَالْمُسْتَأخِرِیْنَ وَ اِنَّا اِنْ شَائَ اللہُ بِکُمْ لَلاَحِقُوْنَ

’’تم پر سلامتی ہو اے اس گھر والو مؤمنو اور مسلمانو اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں اور جو بعد میں آئیں گے او ربے شک ہم اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تم سے ملنے والے ہیں ۔ ‘‘ ( مسلم)

یا اس طرح کی اور دعا پڑھنی چاہیے جو قرآن و سنت میں وارد ہے ۔ لوگوں کی اکثریت حدیث کے بالکل خلاف کر رہی ہے یہ وہاں جاتے ہیں اور ان کے لئے دعا کرنے کی بجائے اپنے لئے دعا کرتے ہیں اور قبروں کو ہاتھ لگاتے ہیں چومتے اور چاٹتے ہیں اور انکی طرف متوجہ ہو کر برکت حاصل کرنے اور خیر طلب یا مصائب کے دور کرنے کی امیدیں وابستہ کرتے ہیں ۔ یہ سب مشرکانہ حرکات اور بدعتی افعال ہیں رسول اللہ نے ان حرکات اورافعال پر تنبیہ کی ہے ۔ کیونکہ کبھی کبھار ایسا کرنے سے انسان شرک اکبر میں واقع ہو جاتا ہے خصوصاً جب قبر والے مردے سے یہ اعتقاد رکھ لے کہ یہ مردہ سنتا ہے اور دعا کو قبول کرتا ہے یاغیب جانتا ہے یا مصیبتوں کو دور کرتا ہے اب ان باتوں (کرتوتوں) پر تنبیہ کرنا واجب ہے اگرچہ قبروں کی زیارت کرنا مردوں کیلئے مستحب ہے لیکن زیارت کرنے کے لئے مستقل سفر کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ کوئی مسلمان اپنے شہر کے مسلمانوں کے قبرستان پر جائے کیونکہ یہ سفر میں شمار نہیں ہوتا ۔ اب بڑی مصیبت تویہ ہے کہ قبروں کی تعظیم کی جارہی ہے اور انکو اونچا کرکے اوپر قبے بنائے جائے جارہے ہیں اور انکو سجدے کئے جارہے ہیں باوجود اس کے کہ کئی احادیث نبویہ ان چیزوں کی نہی میں وارد ہوئی ہیں۔

8زندہ انسان کے عمل سے میت کو فائدہ پہنچنے کا حکم:

 اہل سنت و جماعت نے اتفاق کیا ہے کہ مُردوں کو دو وجہوں سے زندہ انسان کے نیک عمل سے فائدہ حاصل ہوتا ہے ۔

1 وہ عمل خیر جس میں میت اپنی زندگی میں سبب اور ذریعہ بنا ہو مثلاً کوئی کنواں وغیرہ وقف کر دیا ، یااس نے وصیت کی کہ میرے مال سے مسجد بنوا دینا یا اس نے کوئی اور صدقہ جاریہ کیا ہو ۔ اس سے میت کو ثواب پہنچتا ہے اور اس کی دلیل رسول اللہ نے فرمایا :

إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ

 جب ابن آدم مر جاتا ہے تو اس سے اس کا عمل ختم ہو جاتا ہے مگر تین چیزوں میں ختم نہیں ہوتا 1 صدقہ جاریہ2 یا اس نے نیک لڑکا چھوڑا ہو جو اسکے لئے دعا کرتا رہا ہو 3یا اس نے علم چھوڑا ہو جس سے فائدہ حاصل کیا جاتا رہا ہو۔ (مسلم)

2 مسلمان اس میت کیلئے دعا اور استغفار کریں مثلاً میت کی طرف سے صدقہ کریں یا حج کریں ۔ یا روزہ رکھیں اور ان اعمال کے ثواب پہنچنے کی اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کریں ۔ اور اس کی دلیل اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :

رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ

اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں اور ایمانداروں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ اور دشمنی نہ ڈال ۔ اے ہمارے رب تو شفقت اور مہربانی کرنے والا ہے ۔ (الحشر:۱۰)

ابو داؤد نے سیدناعثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے حدیث نقل کی ہے و ہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ میت کو دفنا کر فارغ ہو جاتے اور اسکی قبر پر ٹھہر جاتے تو فرماتے :

اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ، وَسَلُوا لَهُ بِالتَّثْبِيتِ، فَإِنَّهُ الْآنَ يُسْأَلُ

اپنے بھائی کے لئے بخشش کی دعا کرو اور اس کے لئے ثابت قدمی کا سوال کرو اسلئے کہ اب اس سے پوچھا جا رہاہے۔ (ابو داؤد)

میت کو صدقہ کے ثواب پہنچنے کی دلیل سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ رسول اللہ کے پاس ایک آدمی آیا تو اس نے عرض کی : 

 إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَأُرَاهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ تَصَدَّقْ عَنْهَا

اے اللہ کے رسول میری والدہ وفات پا گئی ہے اور انہوں نے کوئی وصیت نہیں کی اور میرا خیال ہے کہ اگر وہ بات کرتیں تو وہ صدقہ کرنے کے بارے میں وصیت کرتی اگر میں انکی طرف سے صدقہ کر دوں تو کیا انکو اس کا ثواب پہنچ جائے گا ؟ ۔ تورسول اللہ نے فرمایا (نعم) ہاں پہنچ جائے گا۔ (بخاری)

اور یہ بات واضح رہے کہ تمام عبادتیں توقیفی ہیں ان میں قیاس کرنا جائز نہیں ہے ۔ لہذا مُردوں پر قرآن کریم پڑھنے والے مولویوں نے تو اپنے اپنے دفتر کھول رکھے ہیں تاکہ لوگ ان کے پاس آئیں اور اپنے مردوں پر قرآن کریم پڑھوائیں اور ان سے یہ بدبخت اجرت وصول کریں ۔ بلکہ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ لوگ اجرت کی حد بندی میں سودے بازی کی حد تک پہنچ جاتے ہیں پھر مردے کے پاس جلسے منعقد کرتے ہیں اور قرآن خوانی اور ولیموں کے ذریعہ مردوں کو تازہ دم کرتے ہیں اور بسا اوقات یہ قبیح حرکت مرنے کے سات دن بعد کرتے ہیں اور پھر چالیس دن بعد پھر سال بعد اور پھر ہر سال بعد مستقل طور پر اس مردے کا دن منایا جاتا ہے ۔

دوسرا حصہ’’ محمد رسول اللہ‘‘ کا مفہوم

رسول اور نبی کا تعلق اپنی اپنی امت میں سے ہی ہوتا ہے ان پر بھی وہی احوال جاری ہوتے ہیں جو تمام بشر پر جاری ہوتے ہیں مثلاً موت و حیات ۔ اور ان کو بھی کھانے ، پینے ، سونے ، جاگنے ، راحت و آرام ، نکاح و شادی وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے جس طرح دوسرے انسان ان چیزوں کے محتاج ہوتے ہیں ۔ مگر اللہ تبارک و تعالی نے ان کو وحی عطا کرنے اور تبلیغِ رسالت کے ذریعے تمام انسانوں سے ممتاز کیا ہے ۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا :

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ

آپ کہہ دیں کہ میں تم جیسا ہی ایک انسان ہوں ہاں میری طرف وحی کی جاتی ہے تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے ۔( الکہف:۱۱۰)

تمام امتوں میں رسولوں کی دعوت ایک ہی رہی ہے اور وہ خالص اللہ تبارک و تعالی کی توحید کی طرف دعوت دینا ہے اور توحید کو شرک و بدعت اور معاصی سے خالص کرنا ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا :

شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ

اللہ تعالی نے تمہارے لیے وہی شریعت مقرر کر دی ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے سیدنا نوح علیہ السلام کو حکم دیا تھااور جو بذریعہ وحی ہم نے تیری طرف بھیج دی ہے اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسی اور عیسی علیہم السلام کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم کرنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا ۔ (الشوری:۱۳)

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ

اور ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ لوگو صرف اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو (اور اس کے علاوہ تمام معبودوں سے بچو) (النحل:۳۶)

محمد رسول اللہ کا مفہوم اس لیے اہم ہے کہ موجودہ زمانہ کے مشرکین نے رسول اللہ کے بارے میں بہت غلط اور باطل عقائد وضع کیے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں وہ شرک کے مرتکب ہو چکے ہیں اور ایسی صفات جو صرف اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہیں ،رسول اللہ کا موجود مزکی انہی صفات سے متصف کیا جا رہا ہے جن میں سے بعض کا ذکر کیا جا چکا ہے اور کچھ کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

کیا اللہ تعالی کے رسول غیب جانتے ہیں ؟

اللہ تعالی کے رسول غیب نہیں جانتے مگر جس کا اللہ تعالی نے انہیں علم دیا ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا :

عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا

وہ غیب کا جاننے والا ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا ما سوائے اس پیغمبر کے جسے وہ پسند کرے لیکن اس کے آگے پیچھے پہرے دار مقرر کر دیتا ہے تاکہ ان کو اپنے رب کے پیغام پہنچا دینے کا علم ہو جائے ۔ (الجن:۲۶ تا ۲۷)

اللہ تبارک و تعالی نے اپنے نبی علیہ الصلاۃ والسلام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ

آپ کہہ دیں کہ میں خود اپنی ذات کے لئے کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا مگر اتنا ہی جتنا اللہ تعالی نے چاہا ہو اور اگرمیں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت سے منافع حاصل کر لیتا اور کوئی مضرت مجھ پر واقع نہ ہوتی میں تو محض ڈرانے اور بشارت دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں ۔ (الاعراف:۱۸۸)

 قُلْ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا

آپ کہہ دیں کہ میں تمہارے لئے کسی نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں ۔(الجن:۲۴)

جن لوگوں نے یہ دعوی کیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام اور اولیاء رحمہم اللہ بھی اللہ تبارک و تعالی کے علاوہ غیب جانتے ہیں تو انہوں نے اللہ سبحانہ و تعالی پر بہتان باندھا ہے اور اللہ سبحانہ و تعالی کا شریک ٹھہرایا ہے اور ان کا یہ دعوی قرآن و حدیث کی نصوص سے ٹکراتا ہے ۔

اکثر لوگوں نے انبیاء علیہم السلام کے بارے میں غلو کرنے میں مبالغہ کیا ہے یہاں تک کہ کئی ایسے لوگ ہیں جو اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ تمام دنیا کی مخلوق رسول اللہ کے نور سے پیدا کی گئی ہے اور اس پر موضوع ، من گھڑت  جن کی حدیث کی کتابوں میں کوئی اصل نہیں ہے ، دلیلیں پیش کرتے ہیں اور یہ بھی گمان فاسد کرتے ہیں کہ رسول اللہ اپنی قبر میں اسی طرح زندہ ہیں جس طرح وہ اپنے رفیق اعلی کی طرف منتقل ہونے سے پہلے زندہ تھے۔ اگر یہ بات اسی طرح ہوتی تو ان کے رسول اللہ کے پیچھے نماز کو چھوڑنے اور آپﷺ سے کئی گنا کم مرتبہ والے آدمی کے پیچھے نماز پڑھنے کی کوئی وہاں مقبول وجہ نہ ہوتی ۔

جی ہاں انبیاء علیہم السلام کی حیات پر صحیح احادیث دلالت کرتی ہیں ، جیسا کہ شہداء کی حیات پر قرآن کریم نے صراحت کی ہے لیکن یہ برزخی حیات ہے جس کی کیفیت کو ماسوائے اللہ تعالی کے کوئی نہیں جانتا ۔ اور برزخی زندگی کا دنیاوی زندگی پر قیاس کرنا جائز نہیں ہے ۔

اکثر مسلمانوں کی حالت رسول اللہ کی شان میں غلو کرنے کی وجہ سے خطرناک مرحلہ تک پہنچ چکی ہے ۔حتی کہ انہوں نے یہ خیال کیا ہے کہ رسول اللہ نفع اور نقصان کے مالک ہیں اور وہ پکارنے والے کی پکار کا جواب بھی دیتے ہیں اوریہ کہ انکے قبضہ میں سب کچھ ہے ۔ رسول اللہ نے فرمایا:

لاَ تُطْرُونِي، كَمَا أَطْرَتْ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا عَبْدُ اللَّهِ، وَرَسُولُهُ

(اے میری امت کے لوگو) تم میری تعریف میں مبالغہ نہ کرنا جس طرح نصاریٰ نے ابن مریم کی تعریف میں مبالغہ کیا ہے میں بندہ ہوں پس تم (مجھے) اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول کہا کرو۔(بخاری)

رسول اللہ کو اتنا فخر کافی ہے کہ آپ اللہ تبارک و تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ اور آپ سیدناآدم علیہ السلام کی اولاد کے سردار ہیں اور شفاعت کرنے والے ہیں اور آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی اور آپ حوض کوثر والے ہیں اور مقام محمود والے ہیں ۔ اس کے علاوہ بھی آپ کئی خصوصیات کے مالک ہیںآپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور سلام ہو ۔

نبی کریم سے محبت کرنے کا طریقہ آپ کی شان میں غلو اور مبالغہ کرنے میں نہیں ہے ۔ بلکہ آپکی محبت آپ کی سنت اورآپ ﷺکے راستہ کی اتباع اور پیروی کرنے میں ہے ۔

رسول اللہ کی حیات ابدی کا تصور بھی غیر اسلامی ہے اور اسی طرح ان کے حاضر ناظر ہونے والا عقیدہ بھی اسی ضمن میں متصور کیا جائے گا۔

آخر میں یہ بیا ن کیا جائے گا کہ کسی مسلمان کا کون سا عمل قبول کیا جائے گا اور کون سا رد کیا جائے گا ۔

قبول عمل کی شرطیں

تمام عبادتیں توقیفی ہیں کسی کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق عبادت کرے بلکہ اس طریقے کے مطابق عبادت کرے جس کو قرآن کریم اور سنت رسول اﷲ نے بیان فرمایا ہے یعنی کسی بھی عمل کے صحیح ہونے کے لئے دو بنیادی شرطوں کا ہونا ضروری ہے اور ان دونوں شرطوں کا ایک ساتھ پایا جانا ضروری ہے ۔

پہلی شرط : اکیلے اللہ تبارک و تعالی کے لئے عبادت کو خالص کرنا

 وہ یہ کہ عمل کرنے والا اپنے عمل سے اللہ سبحانہ و تعالی کی رضا کا ارادہ کرے جو ریاکاری اور شہرت سے دور ہو وہ اپنے اس عمل سے کسی سے بدلہ تلاش نہ کرے اس سلسلہ میں قرآن و حدیث کی نصوص کثرت سے وارد ہیں ۔

اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا :

فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ

پس تو اللہ تعالی ہی کی عبادت کراس کے لئے عبادت کو خالص کرتے ہوئے۔ (الزمر:۲)

وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَأَحْسِنْ كَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ

اور جو کچھ اللہ تعالی نے تجھے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیوی حصہ کو بھی نہ بھول اور جیسے کہ اللہ تعالی نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے توبھی احسان کرتا رہے ۔ (القصص:۷۷)

رسول اللہ نے فرمایا جو کہ حدیث قدسی میں آیا ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا :

 أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي، تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ

میں تمام شرکاء کے شرک سے مستغنی ہوں جس نے کوئی عمل کیا اور میرے ساتھ اس میں میرے غیر کو شریک کیا تو میں اس کا عمل اور اس کا شرک چھوڑ دوں گا ۔ (مسلم)

یعنی اللہ تعالی اپنی عبادات مالیہ، قولیہ اور بدنیہ میں کسی کی شراکت گوارہ نہیں کرتا ۔ اس لئے کہ اس وقت اخلاص اور انسان کا اپنے عمل سے دنیا کا ارادہ کرنے کے ساتھ ساتھ ممکن نہیں ہوتا ۔

 جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا :

إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى

اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے ہر آدمی کے لئے وہی ہو گا جس کی اس نے نیت کی ۔(بخاری )

دوسری شرط:رسول اللہ e کی متا بعت کرنا

وہ عمل جس کے ذریعہ ہم اللہ تعالی کا قرب حاصل کرتے ہیں اس آئین کے مطابق ہو جسے اللہ تعالی نے یا رسول اللہ نے بیان کیا ہے اس لئے کہ اللہ تعالی نے ہمارے لیے ہمارے دین کو مکمل کر دیا ہے اب اس میں کسی کمی و زیادتی کی حاجت نہیں رہی ۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے کہ :

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا

آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور میں نے اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کوبحیثیت دین پسند کر لیا ۔ (المائدۃ:۳)

ایسی بہت سی آیات ہیں جو اتباع سنت کا حکم دیتی اور دین میں نئی نئی باتیں ایجاد کرنے سےمنع کرتی ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا :

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا

 یقینا تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ موجود ہے ۔ ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالی کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہو اور بکثرت اللہ تعالی کو یاد کرتا ہو۔ (الاحزاب:۲۱)

اور اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا :

وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا

جو رسول اللہ تم کو دے اس کو لے لو اور جس سے روکے اس سے باز آجاؤ ۔ ( الحشر:۷)

قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ

کہہ دیں اگر تم اللہ تعالی سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میری تابعداری کرو تو اللہ تعالی تم سے محبت کرے گا ۔ (آل عمران:۳۱)

اس سلسلہ میں احادیث رسول بھی کثرت سے وارد ہوئی ہیں ۔ رسول اللہ نے فرمایا :

 فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْأُمُورَ الْمُحْدَثَاتِ، فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ

تم پر میری سنت اور میرے بعد خلفاء الراشدین کی سنت لازم ہے اس کو مضبوطی سے پکڑ لو اور نئی بدعتیں ایجاد کرنے سے بچ جاؤ اس لئے کہ (دین میں) ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں (لے جانے کا سبب بنتی )ہے ۔(ترمذی ، ابن ماجہ)

رسول اللہ نے فرمایا :

تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ، لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ

میں نے تم میں دو چیزیں چھوڑی ہیں جب تک تم ان کو مضبوطی سے پکڑے رکھو گے تو ہرگز گمراہ نہیں ہوگے ۔ ایک کتاب اللہ ہے اور دوسری میری سنت ہے ۔(مؤطا)

رسول اللہ نے فرمایا :

مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ، فَهُوَ رَدٌّ

جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز گھڑی جو اس سے نہیں تو وہ رد ہے۔ (بخاری)

یہ تمام نصوص رسول اللہ کی اطاعت کے واجب ہونے پر دلالت کرتی ہیں جو عمل رسول اللہ کی فرمانبرداری کے بغیر ہو اس کی کوئی قبولیت نہیں ہے ۔

ان دونوں شرطوں کو سورۃ الکہف کی اس آیت نے جمع کیا ہے :

فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا

جو شخص اپنے رب کی ملاقات کی امید کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ نیک عمل (سنت کے مطابق ) کرے اوراپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔ (الکہف:۱۱۰)

اللہ سبحانہ و تعالی نے حکم دیا ہے کہ عمل سنت کے مطابق ہو پھر حکم دیا ہے کہ عمل کرنے والا خالص اللہ تعالی کے لئے عمل کرے اور اس عمل کے ذریعہ اس کے سوا کسی کا قرب تلاش نہ کرے ۔ اور رسول اللہ کے صحابہ رضی اللہ عنہم ہمارے لئے بہترین نمونہ ہیں ۔

سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سنا کہ کچھ لوگ روزانہ مغرب کی نماز کے بعد جمع ہوتے ہیں اور اللہ اکبر ، لا الہ الا اللہ ، سبحان اللہ کو بیک آواز بار بار دہراتے ہیں توعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور ان لوگوں پر نکیر فرمائی اور فرمایا اللہ کی قسم تم لوگ ظلماً بدعت لائے ہو اور تم علم کے اعتبار سے اپنے رسول اللہ کے صحابہ سے فضیلت لے جانا چاہتے ہو۔ (دارمی)

اب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے لا الہ الا اللہ یا سبحان اللہ کہنے پر نکیر نہیں فرمائی اس لئے یہ تو ذکر ہے بلکہ انہوں نے اس ہیئت پر جس کے ذریعہ ذکر کر رہے تھے نکیر فرمائی ہے اس لئے کہ اس حالت میں جمع ہو کر ذکر کرنا رسول اللہ کے صحابہ رضی اللہ عنہم ، جنہوں نے آپﷺ سے روایت کیا اور آپﷺ سے اذکار کو سیکھا اور آپؐ سے سنا ، کے نزدیک مشروع نہیں ہے ۔

آخر میں اللہ رب العزت سے دعا گو ہوں کہ باری تعالیٰ ہمیں توحید وسنت کو اپنانے اور اس کے تقاضوںکوپورا کرتے ہوئے شرک وبدعت سے بچائے۔ آمین

۔۔۔

Read 820 times
Rate this item
(0 votes)
الشیخ شاہ فیض الابرار صدیقی

Latest from الشیخ شاہ فیض الابرار صدیقی

Related items