Print this page

ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام کیوں کہیں

Written by عبد الوہاب سلیم 07 Oct,2018

 

 

عبدالوہاب سلیم

ایسا نہیں ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرشتے تھے جو بھول چوک سے مبرا تھے، ایسا بھی نہیں کہ وہ کسی نبی کے درجے پہ جا پہنچے جس سے غلطی محال ہے، ہمارا ایمان یہ ہے کہ سب صحابی رسول بشمول خلفاء راشدین مل کر بھی آجائیں تو کسی نبی کی گرد کے برابر نہیں پہنچ سکتے اور اسی طرح سب تابعین عظام مل کر آ جائیں ایک ادنی سے صحابی کی حیثیت کو نہیں پہنچ سکتے، اسی طرح پھر تبع تابعین کا جو مقام ہے وہ ان سے بعد والوں سے بہت بہتر ہے کہ یہ تینوں گروہ قرون اولیٰ سے ہیں اور بحیثیت مجموعی حدیث رسول کے مصداق بہترین لوگ ہیں۔ اسکے بعد اللہ عز وجل نے جو مقام آئمہ میں سے آئمہ اربعہ کو دیا وہ کسی اور کو نا مل سکا اگرچہ اہل السنّۃ کے سب آئمہ کرام عظیم تھے، جو مقام امیر المؤمنین فی الحدیث امام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ کو ملا باقی محدثین اس کو نا پہنچ سکے لیکن ان سب کا اپنا ایک مقام اور مرتبہ ہے اور تدوین سنت اور ترویج سنت میں انکی جہود ایک نور ہے جو بجھائے نا بجھے، لیکن ان سب میں سے کوئی غلطی سے مبرأ نہیںہے اور اصحاب رسول کے علاوہ انفرادی یا بطور گروہ بالنص جنتی نہیں ہے، ہاں ہم اللہ سے یہ نیک گمان اور امید کامل رکھتے ہیں کہ یہ سب جنتی ہیں کیونکہ یہ اہل صدق و صفا کا گروہ اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ علامات پہ پورا اترتا ہے جو اہل جنت کا خاصہ ہوں گی لیکن جیسا رسول اللہ نے کہا تم میں سے کوئی بھی اپنی نیکیوں سے نہیں بلکہ رحمت باری کی بدولت جنت جائے گا تو یہ گروہ اپنی پرہیز گاری اور نیکی کی بدولت اللہ کی رحمت کا زیادہ حقدار ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا تعلق ساتویں صدی ہجری کے اواخر اور آٹھویں صدی ہجری کی ابتدائی چوتھائی سے ہے۔ اس دور کا طائرانہ جائزہ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم آج کے دور میں جی رہے ہیں، خالص توحید اور صحیح سنن قصہ پارینہ بنتی جا رہی تھیں، اکثر لوگ بدعقیدہ ہو چکے تھے اور جو صحیح العقیدۃ موجود تھے ان میں یہ ہمت نہیں پڑتی تھی کہ یہ عقائد کھل کر بیان کریں یا پھر دلائل و براہین اور قوت استدلال ایسی نا تھی کہ مخالف کو قائل کر سکیں۔ رافضیت، صوفیت، حلولیت، جہمیت اور ایسے کئی گمراہ کن عقائد کے مالک فرقے مسلمانوں کے نمائندے کہلاتے تھے۔ اندازہ لگائیے اللہ تعالیٰ کو عرش پہ مستوی کہنا اس دور میں کفر سمجھا جاتا تھا، اللہ تعالیٰ کی ذات اجسام میں حلول کر جاتی ہے نعوذ باللہ درست سمجھی جاتی تھی، انبیاء و رسل کو خداؤں کا درجہ دیا جا چکا تھا، رسول اللہ کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھ لیا گیا تھا، سب سے برا حال صوفیاء کا تھا کہ انھوں نے دین اسلام کے متوازی اپنا دین قائم کر رکھا تھا اور اسے روحانیت اور باطنی امور کا نام دے کر اس میں ہر کفریہ عقیدہ شامل کیا ہوا تھا، صوفیاء کے پاس حیات و موت کے فیصلے بھی تھے اور وحی و الہام کا سلسلہ بھی جاری تھا، فرشتے باری تعالیٰ کی بجائے انکے احکامات کے پابند تھے اور يُخَادِعُونَ اللهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ کی عملی تصویر تھے۔ روافض کا گروہ ہر دور کی طرح دجل و فریب میں اس وقت بھی سب سے آگے تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ واہل بیت کے نام کو استعمال کر کے انکو اللہ تعالیٰ، انبیاء کرام اور فرشتوں کے نظام سپرد کر دئیے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو شب و ستم کو اہل بیت پہ بیتے مظالم کے پیچھے چھپا لیا جاتا۔ یونانی علوم فلسفہ اور کلام نے عقل پرستوں کو بھی شریر الطبع بنا دیا کہ الفاربی، ابن سینا جیسے لوگ مسلمانوں کے نمائندے کہلاتے اور انکی کتب اور مجالس صریح کفر سے بھری پڑی تھیں اپنی عقل ناقص کی بنیاد پہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہی واہمہ قرار دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی اسماء وصفات کا انکار اور ان میں تصرف اپنے عروج پہ تھا، اشاعرہ ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ کے عقائد ہی سے منحرف ہو چکے تھے، دوسری طرف تقلید جامد نے عقل اور اجتہاد کا دروازہ بند کیا ہوا تھا اور اس دروازے کی جدل و مناظرہ اور اکابر پرستی کے ساتھ قفل بندی کی ہوئی تھی مذاہب کے نام پہ کفر کے فتوے ملتے تھے اور اپنے مذاہب کی تائید میں جھوٹی احادیث گھڑی جاتی تھیں، صورتحال یہ ہو چکی تھی کہ عیسائی اور یہودی علماء جاہل مسلمانوں کو فتوے دیتے تھے اور مسلمان اسکو قبول کئے ہوئے تھے،  یہ سب تو علمی منظر نامی تھا۔

دوسری طرف سیاسی صورتحال اس سے بھی خراب تھی خلافت تو جیسے قصہ پارینہ لگتی تھی شام اور مصر میں مطلق العنان حکمران تھے، دین سے انھیں کچھ لینا دینا نہیں تھا اور دوسری طرف تاتار مسلمان ریاستوں کو نیست ونابود کرتے اہل علم وفن کی کتب جلاتے مسلمانوں کا خون بہاتے هوئےشام تک آ پہنچے تھے، تاتار اس وقت تک اسلام قبول کر چکے تھے لیکن ان کا اسلام سے وہی تعلق تھا جو دین اکبری کا اسلام سے تھا، ایسے حالات میں ایک نوجوان اٹھتا ہے دمشق کے گلی بازاروں میں اسکے حافظے اور علم کے تذکرے ہونے لگتے ہیں، اہل حق جو منہ چھپائے پھرتے تھے انکے لئے یہ خوشی کا تازیانہ تھا، دمشق کی جامع مسجد میں جہاں ہر مذہب کی الگ سے کرسی  قائم تھی، حدیث، تفسیر، فقہ، عقیدہ، اصول ہر فن کا الگ سے حلقہ قائم تھا وہ حلقات غائب ہونے لگے اب صبح دم فجر سے لے کر سارا دن ایک ہی شخص ہے جو ہر فن پہ بولے جا رہا  ہے، ابو حیان النحوی نے ایسی ہی ایک مجلس میں شرکت کی تو  پہلے اس عالم کو مفسر سمجھا، پھر محدث سمجھا، پھر فقیہ جانا پھر اسے اصولی کہا پھر ادب اور لغت پہ بات آئی تو اسے اس کا امام جانا، فلسفہ و کلام پہ گفتگو ہوئی تو اس میں اسے طاق پایا اور آخر میں کہا  ھذا الامام الذی ینظرکہ یہی تو وہ امام برحق ہے جس کی چاپ کا زمانہ منتظر تھا جو اللہ کی حجت ہے اور دین کا مجدد اور محی السنۃ ہے۔ اسی دمشق کی جامع مسجد میں اس امام نے دروس دئیے جس سے ہزاروں نے استفادہ کیا اور ان دروس کا غلغلہ مشرق میں ہند و چین تک تھا اور حجاز مقدس میں اس کا ذکر تھا، اسی شہرت کی وجہ سے دن میں کئی خطوط آتے جن کا اس امام برحق کو جواب دینا ہوتا اور یہی خطوط کے جواب بعد میں عظیم کتب بن گئیں۔ ایسا ہی ایک عقیدے کا سوال تھا جس کا جواب عقیدہ الواسطیہ کی صورت سامنے آیا جو عقیدہ پہ مختصر اور جامع ترین رسالہ ہے اور یہ جواب ظہر اور عصر کی نمازوں کے درمیان دیا گیا اور انھیں سوالوں کے جواب فتاوی کی چالیس کے قریب جلدوں میں سامنے آیا۔ امام صرف دروس کی حد تک محدود نا تھے انھوں نے براہ راست رافضہ، صوفیہ، فلاسفہ سے علمی مناظرے کئے اور انکو انھیں کی کتب سے دلائل دے کر شکست فاش دی۔ رافضہ کے نام انکی کتاب اقتضاء صراط مستقیم ایسی مدلل کتاب ہے کہ آج تک اس کا جواب نا بن پایا، فلاسفہ کے نام در تعارض فی العقل والنقل لکھی کہ پڑھتے دانتوں تلے پسینہ آ جائے۔ علو اللہ علی العرش پہ عقلی و نقلی دلائل شیخ کے فتاوی جات میں جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔ صوفیاء کے نام الفرقان بین الحق و البطلان لکھی اور حق ادا کر دیا۔ تلبیس الجھمیہ میں اللہ عزوجل کی اسماء وصفات کا ایسا بیان اور عقلی و نقلی دلائل کا ایسا حسین منظر کے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں۔

امام کو بیک وقت عقلی اور نقلی علوم پہ ید طولی حاصل تھا جسکی ایک آسان مثال عقیدۃ تدمریہ ہے، اس کتاب میں امام نے پہلے ہر فرقہ باطلہ کے اللہ تعالیٰ کی اسماء وصفات کے بارے سب سے پہلے اس فرقے کا عقیدہ بیان کیا پھر عقلی دلائل سے انکا رد کیا اور پھر نصوص سے ان کا رد کیا۔

درء تعارض فی العقل والنقل امام کی وہ کتاب ہے جو ان سب کے لئے دلیل ہے کہ عالم دین کو اپنے دور کے سب علوم کا بخوبی علم ہونا چاہیے یہ کتاب اس اصول پہ ہے کہ نصوص یعنی قرآن وسنت کو عقل پہ فوقیت حاصل ہے کیونکہ عقل محدود اور ناقص ہے اور نصوص شارع کا براہ راست یا بلواسطہ کلام ہے۔ اہل کلام اور فلسفہ جو دین کو پس پشت ڈال چکے تھے اور وجود باری تعالیٰ تک کے منکر ہو چکے اس کتاب میں ان کا خوب رد کیا گیا۔

کس کس کتاب کا ذکر کیا جائے اور کس فن کا ذکر ہو مقدمہ فی اصول التفسیر ہو، اصول فقہ کی دقیق بحوث ہوں (جہاں کے بڑے بڑے اصولی عقیدے سے منحرف ہو گئے، علم الکلام کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گم ہوئے یا احادیث کی حجیت پہ بحث کرنے لگے امام نے وہاں ثابت کیا کہ صحیح العقیدۃ ہو کر بھی ان علوم پہ دسترس ہو سکتی ہے) فقہ کے گنجلک مسائل ہوں یا کوئی بھی علم وہ اپنے وقت کے امام تھے اور اس فن پہ انکی کتاب نہیں کتب موجود ہیں۔

امام، حافظ، مؤرخ ذھبی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے اپنے استاذ کی کتب کو گنا تو ایک ہزار سے زیادہ تعداد پائی، کہا برسوں شیخ نے تفسیر کا درس دیا، پھر کہا وہ ہر فن کے امام تھے جو حدیث ابن تیمیہ کو نہیں معلوم وہ حدیث ہی نہیں ہے۔ حدیث کی طویل ترین اور ترتیب کے لحاظ سے مشکل ترین کتاب مسند احمد تھی امام ان کے دو شاگرد ابن قیم اور ابن کثیر تینوں اسکے حافظ تھے اس لئے انکی کتب میں آپ کو جابجا حوالے مسند احمد کے ملیں گے۔

یہی امام ذھبی کہتے ہیں کہ صحابہ اور تابعین کے آثار کا عالم میں نے امام سے بڑھ کر نہیں دیکھا۔

مذاہب اربعہ پہ ایسا عبور کہ دمشق کی جامع مسجد میں لگے چار مذاہب کے حلقے ختم ہو گئے کہ جب ابن تیمیہ موجود ہیں تو کسی اور مذہب کے حلقے کی کیا ضرورت ہے؟سنت کا اتنا تتبع شاید انکے دور سے لے کر اب تک ان سے بڑھ کر کوئی نا ہو اسی لئے آئمہ کی تقلید سے منع کیا اور کہا جو یہ سمجھے کہ کسی ایک امام کی مطلق تقلید ہی حق ہے وہ اپنے ایمان کو کفر کے رستے پہ ڈال رہا لیکن انکی شان گھٹانے سے منع کیا اور ایسے لوگوں کے نام رفع الملام عن الآئمۃ الاعلام جیسا عظیم الشان رسالہ لکھ دیا جو اعتدال اور حق کا حسین نمونہ ہے۔

شان ایسی کہ جن مسائل پہ کلام کیا اس پہ دلائل کے انبار لگا دئیے اور اپنے زمانے اور بعد کے لئے ان پہ اجتھاد کا دروازہ کھول دیا۔ طلاق ثلاثہ کا ہی مسئلہ لے لیجئے ان سے پہلے اہل ظاہر کے علاوہ جو آوازیں بھی اہل ظاہر کے حق میں اٹھیں وہ اتنی توانا نا تھیں اور انکے بعد اس مسئلے پہ کھل کے بحث ہوئی اور انکے بعد آنے والے کبار علماء نے انکے موقف کو قبول کیا۔

تحیۃ المسجد کو امام واجب مانتے تھے، اس سے پہلے اس مسئلے پہ امام شافعی ہی انکے ہمنوا تھے جب امام نے اس مسئلے پہ وجوب کا فتویٰ دیا تو ایسا یہ موقف مشہور ہوا کہ چاروں مذاہب میں اسے قبول عام حاصل ہو گیا۔

مشاجرات صحابہ کرام پہ انھوں نے سلف کا موقف پھر سے زندہ کر دیا اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کا ماموں کہہ کر انکی عظمت کو دوبارہ زندہ کیا۔ امام کے دور میں روافض اہل بیت سے غلو والی محبت رکھتے تھے اور انکی ضد میں نواصب کا زور تھا جو اہل بیت کی شان بیان ہی نا کرتے یا اس کا صریح انکار کرتے، امام نے اس معاملے میں شیخین سے محبت، عثمان رضی اللہ عنہ کا مقام ومرتبہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا صحیح مقام، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا مقام، کربلا پہ اہل السنّۃ کا مؤقف اور یزید کے بارے صحیح رائے پیش کی جو آج بھی جمہور اہل السنّۃ کی آواز ہے۔

پھر ایسا نہیں تھا کہ امام نے صرف آپ کو اسلام سے منسوب کرنیوالے فرقوں پہ ہی رد کیا، بلکہ آپ نے اپنے دور کے معروف عیسائی اور یہودی علماء سے مناظرے بھی کئے اور ان کو دین کی طرف دعوت بھی دی، عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا درجہ دینے والے اور انکا لایا دین بدلنے والے نام نہاد اہل نصاریٰ کے خلاف انکے قلم سے نکلی کتاب "الجواب الصحیح علی من بدل دین المسیح" آج بھی فرق کے موضوع پر مرجع کا درجہ رکھتی ہے۔

یہ تو امام کا قلمی جہاد تھا، امام نے تلوار سے جہاد کر کے تاتار کا قلع قمع کر دیا اور ایسا کیا کہ وہ دوبارہ مسلمان سلطنت کا رخ نا کر سکے، یہ وہ دور تھا کہ تاتار کا رعب اور دبدبہ مسلمانوں میں بیٹھا تھا کوئی انکے خلاف نہیں اٹھتا تھا، امام کی وفات سے کچھ عرصہ قبل ہی خلافت عباسیہ کا خاتمہ ہو چکا تھا، جس نے مسلمانوں پہ گہرے نقوش چھوڑے اور مسلمان تیزی سے ان علاقوں کو چھوڑ رہے تھے جہاں تاتار کا پیش قدمی کا خطرہ تھا حتی کہ شیخ نے خود بچپن میں اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کی تھی لیکن اب امام خود نوجوان تھے، امام ابن کثیر رحمہ اللہ جو امام کے شاگرد بھی ہیں وہ کہتے ہیں کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ سب سے پہلے سلطان سے ملے اور اسے جہاد کے لئے قائل کیا جو بزدلی اور خوف کے سبب ملک چھوڑ کر جانا چاہ رہا تھا، پھر عام لوگوں میں جہاد اور قتال کے فضائل بیان کئے اور امام کے بیانات سے لوگوں کا ایمان جاگ گیا، بزدلی کی جگہ بہادری عود آئی اور ملک شام میں جنگی تیاریاں عروج پہ تھیں، امام اس دوران تین بار تاتاریوں کے بادشاہ قبلائی خان سے بھی ملے اور اس قدر زور دار، مؤثر اور بلیغ خطاب کیا کہ امام کے ساتھی ڈر گئے کہ ہم زندہ واپس نہیں جائیں گے۔ آپ دمشق کے قلعے کے اردگرد اپنے گھوڑے پہ بیٹھ کر چکر لگاتے اور جنگ کے موقع پہ صف اول میں شریک رہے۔

تاتار کے ساتھ یہ جنگیں 697 ہجری سے 712 ہجری تک چلیں اس دوران امام کی مقبولیت اس قدر زیادہ ہو گئی کہ سلطان کو یہ خطرہ لاحق ہو گیا کہ کہیں یہ اقتدار پہ قابض نا ہو جائیں اور رہی سہی کسر درباری ملاؤں نے پوری کر دی جو امام کے خلاف سلطان کے کان بھرتے رہے اور امام کو دمشق کے قلعے میں قید کر دیا گیا۔

اس دوران ایک بار پھر خطرہ لاحق ہوا کہ تاتاری افواج حملہ آور ہونے والے ہیں، سلطان کو کوئی ترکیب نا سوجھی تو پھر امام کو قید سے رہا کیا اور امام نے للہ پھر سے جہاد کی ترغیب دی اور پھر سے جنگ میں حصہ لیا اور اس بار تاتاریوں کو شکست فاش ہوئی اور سلطان کا نام اسلامی دنیا میں بلند ہوا۔

یہاں امام کا ایک اور حسین پہلو سامنے آتا ہے کہ باوجود رائے عامہ میں اپنی مقبولیت کے، پرتشدد اور قید کے امام نے سلطان کے خلاف ایک کلمہ بھی نہیں کہا اور نا ہی کوئی شکوہ کیا بلکہ صحابہ کے موقف کے مطابق اولی الامر کی اطاعت کی اور دوسری طرف حق بات کہنے پہ ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نا کی اور توحید و سنت پہ کسی قسم کی مفاہمت نہیں کی اور قید برداشت کر لی۔

امام رحمہ اللہ نے دین کی خاطر بار بار قید کی مشقت برداشت کی اور ایک بار بھی کوئی ذاتی وجہ نہیں تھی بلکہ انکے صاف ستھرے عقائد اور نظریات تھے۔

پہلی بار انھیں الصارم المسلول کتاب لکھنے پہ قید ہوئی، یہ کتاب رسول اللہ کی حرمت اور تقدس پہ ہے اور انکی اہانت اور گستاخی کرنے والے کو کیا سزا ہونی چاہیے۔

دوسری بار انھیں اپنی مشہور کتاب جو کتاب الوسیلۃ کے نام سے معروف ہے اس پہ ہوئی اس کتاب میں استغاثہ یعنی اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنے کا سلف کا طریقہ کیا تھا اس پہ ہوئی۔

ایک بار اللہ تعالیٰ کا علو، نزول الی سماء الدنیا، صفت الکلام اس پہ قید ہوئی۔

دو بار امام کو تاتاریوں نے قید کیا اور ایک بار آپ کو قتل کرنے کا حکم بھی دے دیا اور تب آپ نے کہا اگر مجھے قتل کرو گے تو میں شہید ہوں گا، اگر جلا وطن کرو گے میں کہیں اور جا کے دین کی دعوت دوں گا، اگر قید کرو گے تو وہ میری عبادت گاہ بن جائے گا، میری مثال بھیڑ کی کھال کی ہے جہاں مرضی سے ہاتھ ڈال لو اون ہی ہاتھ آئے گیا۔چھٹی بار آپ کو طلاق بالحلف کے مسئلے پہ قید کیا گیا۔آخری بار آپ دو سال سے زائد مدت قید رہے اور یہ آپ کی طویل ترین مدت اور مشقت آمیز بھی تھی، اب کی بار آپ کا وہ فتویٰ تھا جس میں آپ نے کہا تھا کہ تین مساجد کے علاوہ کسی جگہ کی شرعی زیارت کے لئے سفر کرنا جائز نہیں ہے اور قبر رسول کی زیارت کی نیت نہیں بلکہ مسجد نبوی کی زیارت کی نیت سے سفر ہو گا اور پھر وہاں قبر رسول پہ سلام بھیجا جائے۔ آپ کو آخری بار قلعے میں قید کیا گیا اور یہیں آخر کار آپ کی وفات ہوئی اور قلعے سے ہی جنازہ اٹھایا گیا۔ آپ نے اس مدت کے دوران بیشمار علمی کتب لکھیں، فتاویٰ دئیے آپ پہ علوم کے دروازے کھول دئیے گئے۔ وہ حاسدین جنھوں نے آپ کو قید کرایا وہ یہ برداشت نا کر سکے اور آپ سے قلم اور کاغذ لے لیا گیا اور آپ کو قید تنہائی میں بھیج دیا گیا جہاں سخت اندھیرا تھا، آپ یہاں کوئلے سے دیوار پہ لکھتے رہے اور آپ کا سارا دن اللہ تعالیٰ کے ذکر اور قرآن مجید کی تلاوت میں گزرتا یہاں تک کے آپ فوت ہو گئے۔

آپ کے جنازے میں دمشق کی عوام امڈ آئی اس کے علاوہ حجاز، ہند، چین، خراسان اور مصر میں آپ کا غائبانہ جنازہ پڑھا گیا۔

امام ابن القیم جو آخری بار آپ کے ساتھ قید میں گئے انھوں نے، امام ابن کثیر اور امام ذھبی تینوں نے آپ کی وفات کا تذکرہ بہت تفصیل سے کیا ہے، جیل میں جا کر بھی دین کی تڑپ تھی، جیل میں قیدیوں کی اصلاح کا کوئی نظام نا تھا، اور وہ فضولیات میں مشغول رہتے، امام نے انکو جوا بازی سے دین پہ لگا دیا، خود آخری دنوں میں سارا دن قرآن مجید کی تلاوت کرتے اور فرماتے میں اللہ کا ذکر نا کروں تو میری روح بے چین رہتی اور ایسا لگتا ہے کہ بھوکا رہ گیا ہوں۔

اب بتائیے ایسے شخص کو جو ہر فتنے کا مقابلہ کرتا ہوا ان سب کو شکست فاش دیتا ہے، اپنے عقائد و نظریات پہ مداہنت کا شکار نہیں ہوتا، سب محاذوں پہ ڈٹا نظر آتا ہے اور بیک وقت قلم اور سیف سے جہاد کرتا ہے، زبان کی گولہ باری کا بھی شکار ہے اور قید کی صعوبت بھی برداشت کرتا ہے تو خود ہی انصاف سے بولیے اسے شیخ الاسلام، حجۃ اللہ علی الارض نا کہا جائے تو کیا کہا جائے!

Read 721 times
Rate this item
(2 votes)

Related items