Print this page

تبصرۂ کتب

Written by 02 Dec,2018


تبصرۂ کتب

الشيخ عبد الوكيل ناصر / محمد انس اقبال

کتاب کا نام : نماز جنازہ میں ایک طرف سلام پھیرنا مسنون ہے ۔

مؤلف : ابو زبير محمد ابراهيم رباني

ناشر : دارالاسلاف سندھ          كل صفحات : 96

تبصره نگار : شیخ عبدالوکیل ناصر

کسی بھی مسلمان کے جنازے میں شرکت اس کے آخری حق کی ادائیگی ہے جو کہ شرعا ایک مسلمان پر عائد ہوتی ہے۔ "الموت قدح کل نفس شاربوھا" کے مصداق مخلوق میں سے ہر ایک نے موت سے ہمکنار ہونا ہے ۔

اور پھر یقینا فوت شدہ مسلمان کا جنازہ بھی ہوناہےلہٰذا دیگر فقہی مسائل کی تفہیم کے ساتھ ساتھ جنازہ ، نماز جنازہ اور اس کے تمام تر متعلقات کا علم اور فہم بھی ضروری ہے ۔

اسی غرض سے تقریبا تمام محدثین نے اپنی اپنی تالیفات اور سنن میں کتاب الجنائز یا ابواب الجنائز کے عنوان سے احادیث و آثار ذکر کیے ہیں ۔كما لا يخفي علی اهل العلم

اور پھر بعض اہل علم نے مکمل تصنیف ہی اس عنوان سے مرتب کی ہے اور اس موضوع کو اس کے متعلقات کے ساتھ سمیٹ کر ایک ہی جگہ رکھ دیا ہے ۔

جیسے امام و محدث عبدالرحمان مبارکپوری اور شیخ ناصر الدین البانی رحمہما اللہ وغیرہ کی تصانیف اس پر شاہد ہیں ۔ اللہ تعالی ان تمام اہل علم کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے ہم کوتاہ نظروں کے لیے اس مسئلہ کی تفہیم کو آسان بنایا ۔

دیگر عناوین کی طرح اس عنوان پر بھی تا حال لکھنے کا سلسلہ جاری ہے اور رہے گا ۔ ان شاء اللہ

زیر نظر و زیر تبصرہ تالیف لطیف اس سلسلے کی ایک ذھبی کڑی اور لڑی ہے کہ جس میں فاضل مؤلف مولانا ابوزبیر محمد ابراہیم ربانی حفظہ اللہ نے نماز جنازہ میں اختتام نماز پر سلام سے متعلق سیر حاصل گفتگو فرمائی ہے۔

کتاب کے سرورق پر تقدیم و نظر ثانی کے تذکرے میں عالم باعمل شیخنا ذوالفقار علی طاہر رحمہ اللہ ، محقق دوراں غیرت اہل حدیث ڈاکٹر عبدالحفیظ سموں حفظہ اللہ اور میدان تحقیق و تخریج کے شہسوار حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ کے اسماء کا آ جانا ہی کتاب کے منھجی صلابت كے لیے کافی ہے ۔ جزاھم اللہ خیرالجزاء

کچھ کہنے اور لکھنے کی حاجت ہی نہیں ہے البتہ الامر فوق الادب کے تحت فاضل دوست صاحب علم و فضیلة الشیخ محمد سلیمان جمالی حفظہ اللہ کے حکم پر یہ چند ٹوٹے جملے سپرد قرطاس کر رہا ہوں ۔

أحب الصالحين ولست منهم

لعل الله يرزقني صلاحا

اس دعا کے بعد عرض ہے کہ یہ کتاب بحمد اللہ تعالی احادیث مبارکہ ، آثار صحابہ ، اقوال سلف اور اجماع کے دلائل سے مزین و معمور اور مملوء ہے ۔

تحقیق و تخریج اور رجال و رواة کے ایسے مباحث کہ نہ صرف طلبة العلم بلکہ اصحاب علم و فضل بھی سیرابی حاصل کرلیں ۔ انداز افہام و تفہیم کا اختیار کیا گیا ہے نہ کہ تحکم و تسلط کا ۔ نیز الزامی حوالہ جات اور جوابات کا بھی خوب اہتمام کیا گیا ہے ۔

نماز جنازہ میں ایک ہی سلام کے مسنون ہونے پر ایک جامع اور مانع تحریر ہے ۔ اہل علم و دانش امید ہے ، بنظر تحسین و تائید دیکھیں گے ۔

کتاب میں محترم فاضل دوست اور میرے ہم مکتب الشیخ انور شاہ راشدی حفظہ اللہ کی داد شجاعت ہی دیکھنے کو ملی ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ رؤوف و رحیم اس کتاب کو عوام الناس کے لیے باعث منفعت بنا دے اور مؤلف و مقدم اور ناشر اور دیگر رفقاء کے لیے ذخیرہ آخرت بنا دے ۔

وما ذلك علي الله بعزيز

۔۔۔

نام کتاب : توضیح الفرقان

تالیف : فضیلۃ الشیخ حافظ عبد الوہاب روپڑی حفظہ اللہ

صفحات : 978 بڑا سائز عمدہ رنگین کاغذ مجلد

ناشر : محدث روپڑی اکیڈمی جامع القدس

قیمت : درج نہیں

تبصرہ نگار : محمد انس اقبال

زیر تبصرہ کتاب اردو زبان میں قرآن پاک کی ایک عمدہ تفسیر ہے۔ تفسیر کا مطلب وضاحت کرنا ہے اور اصطلاحی طور پر اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے فرامین کی توضیح ہے کہ وہ اپنے بندوں سے کیا مطالب فرماتا ہے؟ کس بات کا حکم دیتاہے اور کس سے منع فرماتاہے؟ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے قرآن پاک نازل فرمایا اور اس کی تفسیر اور توضیح رسول اکرم ﷺ کا منصب قرار دیا۔

آپ ﷺ نے اپنے فرامین اور عمل مبارک سے کتاب اللہ کی تفسیر فرمائی ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی تفسیر سکھائی اور سمجھائی۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تفسیر قرآن کریم کی تعلیم کا سلسلہ جاری فرمایا تو تابعین عظام کے ساتھ ساتھ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی ان سے یہ مقدس علم سیکھا۔ امام مجاہد وعکرمہ رحمہما اللہ وغیرہ اس سلسلے میں بہت نامور ہوئے پھر ان سے آگے یہ سلسلہ چلتا گیا۔ قرآن پاک چونکہ علوم ومعارف کا خزانہ اور ناپید کنار سمندر ہے۔ اس لیے بڑے بڑے علماء کرام اورمفکرین عظام نے اس شناوری کو سعادت جانا اور اس کے لیے اپنی زندگیاں کھپا دیں ، امام طبری، امام قرطبی اور حافظ ابن کثیر رحمہم اللہ وغیرہ نے تفسیر میں شاندار تصانیف پیش کیں۔

اس علم عظیم کے خدمت گزاروں اور اس سے تعلق رکھنے والے سعادت مندوں میں ایک نام فضیلۃ الشیخ حافظ عبد الوہاب روپڑی حفظہ اللہ فاضل ام القریٰ یونیورسٹی مکہ مکرمہ کا بھی ہے جنہوں نے تفسیر بالماثور اور منہج سلف کے عین مطابق توضیح الفرقان کے نام سے قرآن پاک کی تین سورتوں (الفاتحہ، البقرۃ اور آل عمران) کی تفسیر لکھی ہے۔ یہ تفسیر اپنی مثال آپ ہے اس تفسیر کی خوبیاں یہ ہیں کہ شیخ محترم نے تفسیر کرتے وقت چند اہم چیزوں کا خاص خیال رکھا ہے جو قابل تحسین وستائش ہے۔

1 قرآنی آیات کی تفسیر آیات قرآنیہ کے ساتھ کی یعنی (تفسیر القرآن بالقرآن) کا اہتمام خاص کیا ہے۔ جیسا کہ انہوں نے أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی تفسیر میں فرمایا کہ انعام یافتہ وہ لوگ ہیں جو انبیائے کرام ،صدیقین،شہداء اور صالحین ہیں۔

2 تفسیر کرتے ہوئے مستند احادیث کاالتزام کیا۔جیسا کہ انہوں نے آمین کے حکم میں ذکر فرمایا کہ سورئہ فاتحہ کے اختتام پر بلند آواز سے آمین کہنا مسنون ہے جیسا کہ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب وَلَا الضَّالِّينَ پڑھتے قال آمین رَفَعَ بِهَا صَوْتَهُتو بلند آواز سے آمین کہتے۔

3 حسب ضرورت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام کے فرامین کو قلمبند کیاگیاہے۔حضرت بجالہ بن عبید رحمہ اللہ فرماتےہیں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ہر جادوگر(مردوعورت) کو قتل کرنے کا فرمان جاری فرمایا تھا چنانچہ ہم نے تین جادوگروں کو قتل کیا تھا۔

4 ضعیف اور من گھڑت روایات سے کلی اجتناب برتا گیاہے۔ جالوت کا قتل سیدنا داؤد علیہ السلام کے ہاتھوں ہونے کی تین وجوہات ہیں :

۱) سیدنا داؤد علیہ السلام اس وقت نوعمر اور جنگی امور سے بالکل ناآشنا تھے ان کے ہاتھوں جالوت جیسے جابر اور ظالم بادشاہ کو قتل کرواکر لوگوں کے دلوں سے ایسے حکمرانوں کا خوف اور ڈر زائل کرنا مقصود تھا کہ جن کو تم بڑے طاقتور اور جابر سمجھ کر خوف زدہ ہوتے ہو وہ تو بڑے کمزور اور ناتواں ہیں۔

۲) اللہ تعالیٰ سلطنت طالوتی کا وارث سیدنا داؤو علیہ السلام اور ان کے بعد سیدنا سلیمان علیہ السلام کو بنانا چاہتے تھے اسی لیے جالوت کے قتل کے بعد اللہ تعالیٰ نے نبوت اور حکومت سیدنا داؤد علیہ السلام کو عطا فرمادی۔

۳) بنی اسرائیل کے عقیدے میں پیدا ہونے والی بیداری کے صلہ میں اللہ تعالیٰ ان کو ایسی سلطنت دینا چاہتے تھے جو بنی اسرائیل کی ساری تاریخ کا عہدزریں ہو۔

5 تفسیر بالرائے کے بجائے تفسیر بالماثور کو ترجیح دی ۔

اس کے علاوہ شیخ محترم نے اس کتاب میں ہر آیت کا ترجمہ پھر توضیح، مشکل الفاظ کے معانی ، ہر توضیح کے بعد اخذ شدہ مسائل اور آیات کا باہمی ربط ومناسبت بھی ذکر کی ہے۔

اس کتاب میں تاریخی مباحث کو (جالوت) بھی عمدگی سے سمویاگیا ہے، تفسیر میں مروج کمزور روایات سے اجتناب کیاگیاہے، مفسر کا انداز خیر الکلام ما قل ودل کا مصداق ہے۔ مختصر مگر جامع بات کرتے ہیں۔

تفسیر قرآن کے لیے قابل احترام مفسر نے زبان نہایت سادہ وآسان استعمال کی ہے تاکہ عام لوگوں کے لیے فہم قرآن میں آسانی ہو ، عبارت رواں اور نہایت سلیس ہے۔

تفسیر قرآن کا یہ سلسلہ انتہائی مبارک سلسلہ ہےباری تعالیٰ سے دعا ہے کہ اسی نہج پرتکمیل کرنے کی توفیق فرمائے ۔آمین

طلبہ ، اساتذہ،علماء، عوام الناس الغرض زندگی کے ہرشعبہ سے متعلق افراد کے لیے تفسیر کے حوالے سے یہ کتاب نہایت مفید ہے۔

اللہ تعالیٰ اس کتاب کو مؤلف وناشرکے میزان حسنات میں شامل کرکے ان کے حق میں صدقہ جاریہ بنا ئے۔

۔۔۔

 

Read 1023 times Last modified on 02 Dec,2018
Rate this item
(0 votes)
ایڈیٹر

Latest from ایڈیٹر