Print this page

مولانا میاں محمود عباس رحمہ اللہ

Written by الشیخ عبد الرحمن ثاقب 02 Dec,2018

میاں محمود عباس بن میاں قطب الدین جھجہ کے گھر 1964ء کو جھجہ کلاں تحصیل دیپال پور ضلع اوکاڑہ میں پیدا ہوئے۔

تعلیم : 

ابتدائی تعلیم گورنمنٹ مڈل اسکول جھجہ کلاں سے حاصل کی ، ناظرہ قرآن مجید اپنے گاؤں کی مسجد میں حافظ محمد یوسف مرحوم اور مولانا عبد المجید مرحوم سے پڑھا۔

اس کے بعد آپ کے والد گرامی درس نظامی کی تعلیم کے حصول کے لیے مولانا مفتی محمد یوسف قصوری حفظہ اللہ امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث صوبہ سندھ کے ساتھ جامعہ دار الحدیث راجووال میں چھوڑ آئے۔ ایک سال زیر تعلیم رہنے کے بعد جھجہ خاندان کے نامور بزرگ استاذ الاساتذہ شیخ الحدیث مولانا محمد رفیق سلفی صاحب حفظہ اللہ آپ کو جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ لے گئے وہاں پر چار سال زیر تعلیم رہنے کے بعد فاضل عربی اور درس بخاری کے لیے جامعہ محمدیہ اوکاڑہ میں داخلہ لے لیا۔ جامعہ محمدیہ اوکاڑہ ہی سے فاضل عربی کا امتحان پاس کیا اور بخاری شریف شیخ الحدیث والتفسیرمولانا محمد عبد اللہ امجد چھتوی رحمہ اللہ سے پڑھی۔ جامعہ سے فراغت حاصل کرنے کے بعد جامعہ دار الحدیث رحمانیہ کراچی میں عربی لینگویج کا کورس کرنے کے لیے فضیلۃ الشیخ عبد اللہ سالم الدوسری پروفیسر جامعہ ملک ریاض سعودی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے استفادہ کیا۔ جامعہ دار الحدیث رحمانیہ کراچی میں ہی محقق عالم دین شیخ الحدیث مولانا کرم الدین السلفی سے دوبارہ بخاری شریف پڑھی۔

خطابت :

مولانا میاں محمود عباس دوران تعلیم ہی جامع مسجد بیت السلام لیاقت آباد کراچی میں خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ جامعہ سے فارغ ہونے کے بعد دو سال تک کراچی میں بطور خطیب رہے اس کے بعد بطورمدرس جامعہ تقویۃ الاسلام شیش محل روڈ لاہور میں درسی کتب چند سال تک پڑھاتے رہے ۔ تدریس کے ساتھ ساتھ جامع مسجد توحید المعروف لال مسجد قلعہ لچھمن سنگھ لاہور میں بطور خطیب خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اس کے بعد جامع مسجد مبارک اہل حدیث پتوکی میں خطبہ جمعہ کا آغاز کیا آپ سے قبل مفکر اسلام مولانا محمد ابراہیم کمیرپوری رحمہ اللہ یہاں پر خطیب تھے۔ آپ نے ان کی زندگی میں ہی یہاں خطبہ جمعہ کا آغاز کیا۔

اساتذہ کرام : 

مولانا میاں محمود عباس صاحب نے وقت کے جن اساطین علم سے استفادہ کیا ان کے اسماء گرامی یہ ہیں:

محدث زمان حافظ محمد محدث گوندلوی ، مفکر اسلام مولانا معین الدین لکھوی ، شیخ الحدیث مولانا عبد اللہ امجد چھتوی، شیخ الحدیث مولانا عبد المنان نورپوری، شیخ الحدیث مولانا الحلیم برادر مولانا حافظ عبد العلیم یزدانی، مولانا عبد الرشید،شیخ الحدیث مولانا حافظ محمد لکھوی بن ولی کامل مولانا محی الدین لکھوی رحمہم اللہ علیہم اجمعین اور مولانا عبد الحمید ہزاروی اور مولانا محمد رفیق سلفی حفظہما اللہ

تنظیمی وابستگی وذمہ داری :

میاں محمود عباس صاحب تنظیمی ذہن رکھنے کی وجہ سے

شروع سے ہی اہل حدیث کی کسی نہ کسی تنظیم سے وابستہ

رہے۔ آپ نے اپنی تنظیمی زندگی کا آغاز جمعیت طلبہ اہل حدیث سے کیا اس کے بعد آپ جمعیت شبان اہل حدیث پاکستان کے مرکزی صدر بھی رہے ہیں ۔ جب مسلک اہل حدیث کی دوبڑی جماعتوں مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان وجمعیت اہل حدیث پاکستان کا اتحاد ہوا اور نوجوانوں کی تنظیم اہل حدیث یوتھ فورس پاکستان کو بنایاگیا تو آپ کو اہل حدیث یوتھ فورس پاکستان کا ڈپٹی سیکریٹری جنرل بنایاگیا اور آپ یہ ذمہ داری نبھاتے رہے۔ 2011ء میں آپ کو مرکزی جمعیت اہل حدیث صوبہ پنجاب کا ناظم اعلی مقرر کیاگیا اور آپ تاحال 2018ء یہ ذمہ داری نبھا رہےتھے۔

جامعہ مدینہ کا قیام :

میاں محمود عباس نے 1996ء کو جی ٹی روڈ پتوکی میں 4 کنال اراضی خرید کر جامعہ مدینہ کی بنیاد رکھی اور اب تک اس جامعہ کے انتظام وانصرام آپ کے ذمہ تھا۔ بحمد اللہ اس جامعہ سے 250 حفاظ کرام اور تقریباً 65 علماء کرام سندفراغت حاصل کرچکے ہیں یہاں سے فراغت حاصل کرنے والوں میں جماعت کے مشہور خطیب قاری حافظ محمد اقبال قصوری جو کہ حال ہی میں اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں وہ بھی شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی دین حنیف کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔

تبلیغی سفر :

میاں محمود عباس صاحب نے جماعت کی ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ اندرون وبیرون ملک تبلیغی سفر بھی کیئے ،آپ دین اسلام کی تبلیغ واشاعت کے لیے سعودی عرب، بحرین ، کویت ، قطر، متحدہ عرب امارات وغیرہ بھی کئی بار تشریف لے جاتے رہے۔

شادی واولاد :

میاں محمود عباس صاحب نے ایک شادی کی ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں عطا کی ۔

وفات :

میاں محمود عباس صاحب 26 اکتوبر 2018ء کو احرام پہنے عمرے کی نیت سے مکہ مکرمہ پہنچے اور سستانے کی غرض سے لیٹ گئے آپ کے ساتھ مولانا محمد ابراہیم طارق صاحب ناظم اعلیٰ صوبہ سندھ ، عبد الحسیب حسن ذوالفقار علی جوئیہ وغیرہ بھی تھے۔ خطبہ جمعہ کے لیے جب اذان ہوئی تو آپ کو اُٹھانے کی کوشش کی تو دیکھا کہ آپ اپنے رب کے حضور پہنچ چکے ہیں۔ انا للہ وانا إلیہ راجعون

اگلے دن بعد نماز عشاء حرم مکی میں آپ کی نماز جنارہ امام کعبہ جناب فیصل الغزاوی صاحب حفظہ اللہ نے پڑھائی اور آپ کو بلدالامین مکہ مکرمہ میں دفن کر دیاگیا۔

اللہم اغفر لہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ . ... 

 

Read 933 times
Rate this item
(0 votes)

Related items