TEST1

العربية بن الأصالة والمعاصرة

العربية بن الأصالة والمعاصرة

معیشت صحیح راستے پر لانا چاہتے ہیں۔ عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالنا مجبوری تھی۔ پاک افغان صورتحال پر اجلاس بلارہا ہوں ۔ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔شہباز شریف

رئيس الوزراء شهباز شريف يصرح: نريد أن يمضي الوضع الاقتصادي على المسار الصحيح. كنا مضطرين لحمل عبء الغلاء على الشعب.

يجب علينا القضاء على أنانيتنا لأجل تنمية وتطوير باكستان. أدعو الاجتماع بشأن الوضع المتوتر بين باكستان و أفغانستان.

معاشی صورتحال/معیشت: الوضع الاقتصادي

صحیح راہ :المسار الصحيح

بوجھ ڈالنا: حمل العبء

ترقی اور خوشحالی:التنمية والتطوير

کشیدہ صورتحال:الوضع المتوتر

پاکستان کبھی دیوالیہ نہ ہوگا۔ عمران خان دشمنوں کو خوش کرنے والی باتیں کرتے ہیں. ہم نے سیاست کی بجائے ریاست کو ترجیح دی۔اسحاق ڈار

وزير المالية إسحق دار: لن تفلس باكستان، يقدم عمران خان من الكلام ما يبهج الأعداء.أعطينا الأولوية للبلد بدلا عن السياسة.

دیوالیہ ہونا:أفلس يفلس إفلاس

ترجیح :الأولوية

خوش کرتا ہے :يبهج

پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے اربوں ڈالر کی امداد ملنے کی توقع ہے۔

عمران خان خان کے ساتھ ہیں،غلط فہمیاں پیدا کرنے والے ناکام رہیں گے ۔

ملک بچانے کا نعرہ لگانے والوں نے ملک تباہی کے دہانے پر پہنچادیا۔

إمكانية تقديم دعم سعودي لباكستان بقيمة مليارات الدولارات. نحن مع عمران خان ، سيبقى فاشلا من ينشيء سوء التفاهم. المرددون لشعار إنقاذ البلد دفعوا البلد إلى شفا التدمير.

سعودی امداد: دعم سعودي

اربوں ڈالر:مليارات الدولارات

غلط فہمی:سوء التفاهم

ناکام رہیں گے:يبقى فاشلا

ملک بچانا:إنقاذ البلد

تباہی کا دہانہ:شفا التدمير

محکمہ سندھ نے صوبہ کے تمام نجی و سرکاری سکولز و کالجز میں موسم سرما کی چھٹیوں کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق 22 دسمبر سے 30 دسمبر تک تعلیمی بند رہینگے۔ دوبارہ تعلیمی ادارے 2 جنوری 2023 بروز پیر کھلیں گے ۔

أصدر قسم التعليم إشعارا بشأن إجازات شتوية في كافة المدارس والكليات الحكومية والأهلية. وفقا للإشعار الصادر تبقى المعاهد التعليمية مغلقة من ٢٢ كانون الأول إلى ٣٠ كانون الأول. و تستأنف الدراسة فيها يوم الاثنين ٣ من كانون الثاني ٢٠٢٣.

جاری کردیا :أصدر

نوٹیفیکیشن:إشعار

موسم سرما کی چھٹیاں:إجازات شتوية

سرکاری و نجی:الحكومية والأهلية

دسمبر:كانون الأول

تعلیمی ادارے:المعاهد التعليمية

جنوری:كانون الثاني

سرکاری ملازمت کے خواہش مند افراد کے لئے بڑی خوشخبری۔ تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے محکمہ تعلیم میں 500 افسران بھرتی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

بشرى سارة للراغبين في توظيفي حكومي. وفقا للتفاصيل الصادرة قررت حكومة سند توظيف ٥٠٠ ضباط في قسم التعليم .

بڑی خوشخبری:بشرى سارة

سرکاری ملازمت:توظيفي حكومي

خواہش مند افراد:الراغبون./المتمنون

تفصیلات کے مطابق:وفقا للتفاصيل

فیصلہ کیا: قرر

بھرتی کرنا:توظيف

افسران:ضباط

روس سے سستا تیل خریدنے کی کوشش ہورہی ہے۔ پٹرول کی قیمتیں کم کرکے خوشی ہوئی۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی۔

سونے کی قیمت میں اضافے کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے ،خریدار پریشان۔

سقوط ڈھاکہ کو 51 برس بیت گئے۔

تجري المحاولات لشراء النفط الرخيص من روسيا . صرنا سعداء إثر تخفيضنا لأسعار النفط.
هبوط كبير في أسعار النفط في السوق الدولي.
تحطمت الأرقام القياسية كلها لارتفاع سعر الذهب.المتسوقون يشعرون بالقلق.
مرت ٥١ عاما على سقوط (مدينة)دكا.

کوششیں چل رہی ہیں:تجري المحاولات

سستا پٹرول:النفط الرخيص

بڑی کمی:هبوط كبير

ریکارڈ ٹوٹنا: تحطيم الأرقام القياسية

ڈھاکہ:دکا

بیت گئے:مضت

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ مزید پابندیاں ان کے میزائل پروگرام کو نہیں روک سکتیَ.

امریکہ نے رواں ماہ کے شروع میں تین کورین عہدیداروں پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور میزائلوں کی تیاری کی حمایت کرنے کی وجہ سے پابندی لگا دی تھی۔

پیر اور منگل کی درمیانی شب اسرائیلی جنگی طیاروں نے فضائی حملے کیے جس میں دمشق انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے گردونواح اور جنوبی مغربی دیہی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

فلسطینی قیدی ناصر ابو حمید کو کومے کی حالت میں ہسپتا ل منتقل کردیا گیا۔

قالت کوريا الشمالية:إن العقوبات الإضافيه لن توقف برنامج الصاروخي وكانت الولايات المتحدة قد اعلنت مطلع الشهر الجاري فرض العقوبات اقتصادية على ثلاثة مسؤولين كوريين شماليين لدعم تطوير اسلحة دمار شامل وصواريخ باليستية.
شنت الطائرات الحربية الاسرائيلة غارات جوية ,استهدفت محيط مطار دمشق الدولي وريف دمشق الجنوبي الغربي منتصف ليلة الاثنين الثلاثاء.
نقل الأسير الفلسطيني ناصر أبو حميد للمستشفى بحالة غيبوبة.

العقوبات الإضافية: مزید پابندیاں

البرنامج الصاروخي: میزائل پروگرام

مطلع الشهر الجاري: رواں ماہ کے شروع میں

دعم: سپورٹ/ حمایت

دمار شامل: بڑے پیمانے پر تباہی

صواريخ باليستية: بلیسٹک میزائل

حالة غيبوبة: کومے کی حالت

قتل ٦مدنيين وجرح ٨ آخرون مساء اليوم الاثنين في هجوم مسلح شرق ديال شرق العاصمة العراقية بغداد.
استعرض ولي العهد السعودي الأمير محمد بن سلمان في اتصال هاتفي مع الملك الاردني عبد الله الثاني على العلاقات الثنائية بين البلدين.
بلغ لمغرب قبل النهائي و خسر 0-2امام فرنسا.

عراقی دارالحکومت بغداد کے مشرق میں واقع ضلع دیال کے شمال مشرق میں مسلح حملے میں 6شہری ہلاک و دیگر8 زخمی ہوئے.

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ٹیلیفونک رابطے میں اردنی فرمانروا امیر عبداللہ الثانی کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا۔

سیمی فائنل میں پہنچنے کے بعد مراکش کو فرانس سے 0-2شکست ہوئی۔

مدنيون:شہری

استعرض: جائزہ لیا

اتصال هاتفي: ٹیلیفونک رابطہ

العلاقات الثنائية: دو طرفہ تعلقات

الدور قبل النهائي:سیمی فائنل

خسر:شکست ہوئی

حدیث نبوی میں احد پہاڑ کا تذکرہ

حدیث نبوی میں احد پہاڑ کا تذکرہ 

مدینہ منورہ کے پہاڑوں میں سے احد پہاڑ کو بہت ہی زیادہ اہمیت حاصل ہے، کیونکہ اس پہاڑ کو پیارے پیغمبر ﷺ سے اور آپ علیہ السلام کو اس پہاڑ سے محبت ہوا کرتی تھی، اور اس پہاڑ سے کئی تاریخی یادیں بھی جڑی ہوئی ہیں، آپ علیہ السلام نے کئی مقام پر اس پہاڑ کا ذکر فرمایا اور بعض اعمال اور ان کے اجر و ثواب کو بھی اس سے تشبیہ دیا، ہم ایسی چند روایات یہاں ذکر کرتے ہیں جن میں احد پہاڑ کا ذکر ہے۔

احد حدودِ حرم میں ہے

سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:

مَا بَيْنَ كَدَائ، وَأُحُدٍ حَرَامٌ، حَرَّمَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا كُنْتُ لِأَقْطَعَ بِهِ شَجَرَةً وَلَا أَقْتُلَ بِهِ طَائِرًا

مدینہ منورہ کداء سے احد پہاڑ تک حرم ہے، اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حرم قرار دیا ہے، میں حدودِ حرم میں سے نہ کوئی درخت کاٹتا ہوں اور نہ کسی پر ندے کو قتل کرتا ہوں۔(مسند احمد : 12620)

صحابہ جیسی نیکیاں کسی کی نہیں

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ

’’ میرے صحابہ کو برا مت کہو ، میرے صحابہ کو برا مت کہو ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ جتنا سونا بھی خرچ کرے تو وہ ان ( صحابہ ) میں سے کسی ایک کے دیے ہوئے ایک مد بلکہ اس کے آدھے کے برابر بھی ( اجر ) نہیں پا سکتا ۔‘‘( صحیح مسلم : 6487 )

خلفاء راشدین کی فضیلت

سیدنا انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ :

 أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ، فَقَالَ: «اثْبُتْ أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدَانِ»

جب نبی کریم ﷺ ، ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر احد پہاڑ پر چڑھے تو احد کانپ اٹھا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” احد ! قرار پکڑ کہ تجھ پر ایک نبی ، ایک صدیق اور دو شہید ہیں ۔“( صحیح بخاری : 3675 )

نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت کا اجر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا :

مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِمٍ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا وَكَانَ مَعَهُ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا وَيَفْرُغَ مِنْ دَفْنِهَا ، فَإِنَّه يَرْجِعُ مِنَ الْأَجْرِ بِقِيرَاطَيْنِ كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ ، فَإِنَّهُ يَرْجِعُ بِقِيرَاطٍ

جو کوئی ایمان رکھ کر اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے اور نماز اور دفن سے فراغت ہونے تک اس کے ساتھ رہے تو وہ دو قیراط ثواب لے کر لوٹے گا ہر قیراط اتنا بڑا ہو گا جیسے احد کا پہاڑ ، اور جو شخص جنازے پر نماز پڑھ کر دفن سے پہلے لوٹ جائے تو وہ ایک قیراط ثواب لے کر لوٹے گا ۔( صحیح بخاری : 47 )

احد پہاڑ کی نبی ﷺ سے محبت

سیدنا انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ :

خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ أَخْدُمُهُ ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا وَبَدَا لَهُ أُحُدٌ ، قَالَ : هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ، ثُمَّ أَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : اللهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَتَحْرِيمِ إِبْرَاهِيمَ مَكَّةَ ، اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا .

میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر ( غزوہ کے موقع پر ) گیا ، میں آپ ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا ، پھر جب آپ ﷺ واپس ہوئے اور احد پہاڑ دکھائی دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ وہ پہاڑ ہے جس سے ہم محبت کرتے ہیں اور وہ ہم سے محبت کرتا ہے ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے مدینہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ۔ اے اللہ!  میں اس کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کے خطے کو حرمت والا قرار دیتا ہوں ، جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا شہر قرار دیا تھا ، اے اللہ ! ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت عطا فرما ۔( صحیح بخاری : 2889 )

رسول اللّٰہ ﷺ کی دنیا سے بے رغبتی

سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا :

لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا يَسُرُّنِي أَنْ لَا يَمُرَّ عَلَيَّ ثَلَاثٌ وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ ، إِلَّا شَيْءٌ أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ

اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تب بھی مجھے یہ پسند نہیں کہ تین دن گزر جائیں اور اس ( سونے ) کا کوئی بھی حصہ میرے پاس رہ جائے ۔ سوا اس کے جو میں کسی قرض کے دینے کے لیے رکھ چھوڑوں۔ (صحیح بخاری : 2389)

دجال کہاں اترے گا ؟

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

يَأْتِي الْمَسِيحُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، هِمَّتُهُ الْمَدِينَةُ، حَتَّى يَنْزِلَ دُبُرَ أُحُدٍ، ثُمَّ تَصْرِفُ الْمَلَائِكَةُ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ، وَهُنَالِكَ يَهْلِكُ ( صحیح مسلم : 3351 )

’’ مشرق کی جانب سے مسیح دجال آئے گا ، اس کا ارادہ مدینہ ( میں داخلے کا ) ہو گا یہاں تک کہ وہ احد پہاڑ کے پیچھے اترے گا ، پھر فرشتے اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے ، اور وہیں وہ ہلاک ہو جائے گا ۔‘‘

جہنم میں کافر کی کیفیت

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

ضِرْسُ الْكَافِرِ أَوْ نَابُ الْكَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ وَغِلَظُ جِلْدِهِ مَسِيرَةُ ثَلَاثٍ ( صحیح مسلم : 2851 )

’’ کافر کی داڑھ یا ( فرمایا : ) کافر کا کچلی دانت احد پہاڑ جتنا ہو جائے گا اور اس کی کھال کی موٹائی تین دن چلنے کی مسافت کے برابر ہو گی ۔

ایک روایت میں ہے کہ :

إِنَّ غِلَظَ جِلْدِ الْكَافِرِ اثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ ذِرَاعًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ ضِرْسَهُ مِثْلُ أُحُدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ مَجْلِسَهُ مِنْ جَهَنَّمَ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ،‏‏‏‏ وَالْمَدِينَةِ

پہاڑ جیسی ہو گی اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہو گی جتنا مکہ اور مدینہ کے درمیان کا فاصلہ“۔( سنن ترمذی : 2577 )

رسول اللّٰہ ﷺ کی دامن احد میں دفن ہونے کی تمنا

سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : میں نے سنا کہ جب شہدائے احد کا تذکرہ ہوتا تو رسول اللہ ﷺفرماتے :

أَمَا وَاللّٰہِ! لَوَدِدْتُ أَنِّی غُودِرْتُ مَعَ أَصْحَابِ نُحْصَ الْجَبَلِ یَعْنِی سَفْحَ الْجَبَلِ.

اللہ کی قسم! میں یہ پسند کرتا ہوں کہ مجھے بھی ان کے ہمراہ پہاڑ کے دامن میں دفن کر دیا جاتا۔( مسند احمد : 10738)

صدقہ کی فضیلت

سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ نے فرمایا :

«إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْبَلُ الصَّدَقَاتِ، وَيَأْخُذُهَا بِيَمِينِهِ، فَيُرَبِّيهَا لِأَحَدِكُمْ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ، أَوْ فَلُوَّهُ حَتَّى إِنَّ اللُّقْمَةَ لَتَصِيرُ مِثْلَ أُحُدٍ» ، وَقَالَ وَكِيعٌ فِي حَدِيثِهِ: وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللهِ: {هُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ} {وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ} وَ{يَمْحَقُ اللهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ}

اللہ تعالیٰ صدقات کو قبول کرتا ہے اور ان کو دائیں ہاتھ میں وصول کرتا ہے، پھر وہ ان کو یوں بڑھاتا رہتا ہے، جیسے تم میں سے کوئی گھوڑی، اونٹنی یا گائے کے بچے کی پرورش کرتا ہے،یہاں تک کہ ایک لقمہ احد پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔ وکیع نے اپنی روایت میں کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کی تصدیق قرآن مجید کی ان آیات سے ہوتی ہے: اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کے صدقات کو پکڑ لیتا ہے۔ (سورۂ توبہ: 104) اور اللہ سود کو ختم کرتا اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ (سورۂ بقرۃ: 284 ، بحوالہ مسند احمد: 10090)

اگر جبل احد جتنا قرضہ ہو

رسول اللہ ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا میں تجھے ایک دعا نہ سکھلاؤں کہ اگر تجھ پر احد پہاڑ جتنا بھی قرض ہو تو اللہ اسے ادا کردے۔ اے معاذ تو پڑھ لیا کر:

اللهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكِ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ رَحْمَنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيمَهُمَا، تُعْطِيهُمَا مَنْ تَشَاءُ، وتَمْنَعُ مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ، ارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِيني بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ

اے اللہ، دنیا کے مالک، تو جسے چاہتا ہے بادشاہی دیتا ہے، جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے، جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے، جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے، ۔ تیرے ہاتھ میں بھلائی ہے. تو ہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ دنیا کے رحمان اور آخرت کے رحیم تو جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے جسے چاہتا ہے منع کرتا ہے۔ مجھ پر ایسی رحمت کر کہ میں تیرے سوا سب سے غنی ہو جاؤں۔(صحيح الترغيب : 1821)

موسم سرما اور اسلامی تعلیمات

موسم سرما اور اسلامی تعلیمات

الحمد للہ وحدہ، والصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ ، وبعد:

اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ملک پاکستان میں مختلف اقسام کے مواسم میسر فرمائے اور ان سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کیا۔ یقیناً یہ موسم کا تغیر وتبدل اللہ تعالیٰ کی قدرت اور عظمت کی اہم نشانیوں میں سے ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ (آل عمران: 190)

’’آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیرپھیر میں یقیناً عقلمندروں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘

مزید فرمایا:

يُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّيْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِي الْاَبْصَارِ (النور: 44)

’’ اللہ تعالیٰ ہی دن اور رات کو ردوبدل کرتارہتاہے آنکھوں والوں کے لیے تو اس میں یقیناً بڑی بڑی عبرتیں ہیں۔‘‘

محترم قارئین کرام! جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ پاکستان میں چار نمایاں موسم پائے جاتے ہیں جن میں سے ایک موسم سرما بھی ہے جس کا آغاز دسمبر سے ہوتاہے اور جس کے آتے ہی کچھ چہروں پر فرحت اور کچھ پر غمی وحزن کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔

بلاشبہ سردی کے آنے سے مختلف پریشانیاں درپیش آتی ہیں مثلاً: بیماری، برف کا گرنا،موسم کا انتہائی سرد ہونا وغیرہ لیکن ہمیں اس بات کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ یہ تمام امور مشیئتِ الٰہی سے ہوتے ہیں اور ان میں اللہ رب العالمین کی حکمت شامل ہوتی ہے۔ ارشاد ربانی ہے :

رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا (آل عمران:191)

’’اے ہمارے رب! تو نے یہ بے فائدہ نہیں بنایا۔‘‘

اس آیت سے ہمیں یہ معلوم ہوتاہے کہ کوئی بھی چیز اللہ تعالیٰ نے بے فائدہ اور بے مقصد نہیں بنائی اس میں اللہ رب العالمین کی حکمت مضمر ہوتی ہے اور انسانیت کی بھلائی مقصود ہوتی ہے کیونکہ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔

سبب

اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہر شے کے وجود کا ایک سبب رکھا ہے اور اس میں حکمتِ الٰہی ہے۔ بسا اوقات ہمیں یہ اسباب معلوم ہوتے ہیں اور کبھی ہم ان سے غافل ہوتے ہیں۔ اسی طرح سردی کا باطنی سبب حدیث رسول میں کچھ اس طرح بیان ہواہے۔سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا فَقَالَتْ: رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ: نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ، فَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الحَرِّ، وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ (صحیح بخاری، حدیث: 3260)

’’جہنم نے اپنے رب کے حضور میں شکایت کی اور کہا کہ میرے رب! میرے ہی بعض حصے نے بعض کو کھا لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانسوں کی اجازت دی ایک سانس جاڑے میں اور ایک سانس گرمی میں، تم انتہائی گرمی اور انتہائی سردی جو ان موسموں میں دیکھتے ہو اس کا یہی سبب ہے۔‘‘

سردی کو بُرا بھلا کہنا

احادیث سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ سردی ہو یا گرمی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ بعض لوگ اس امر سے غافل ہوتے ہیں اور نادانی میں سردی کو بُرا بھلا کہہ دیتے ہیں جو کہ جائز نہیں چنانچہ حدیث قدسی میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ، يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ، أُقَلِّبُ الليْلَ وَالنَّهَارَ (صحيح مسلم:2246)

’’ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتاہے زمانہ کو بُرا بھلا کہتاہے حالانکہ میں ہی زمانہ پیدا کرنے والا ہوں میرے ہی ہاتھ میں تمام کام ہیں میں جس طرح چاہتاہوں رات اور دن کو پھیرتا رہتاہوں۔‘‘

سردی اور گرمی کا ہیرپھیر اور زمانے کی تبدیلی کا نظام اللہ تعالیٰ چلا رہا ہے اور جو شخص اس نظام کو بُرا بھلا کہتاہے گویا وہ اس کے چلانے والے کو بُرا کہتاہے جو کہ اللہ کو گالی دینے کے مترادف ہے۔

اگر کسی شخص کو سردی کی وجہ سے زیادہ مشکلات درپیش ہوں تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس کے شر سے پناہ کی دعا کرے اور حفاظتی اسباب اختیار کرے۔نیز اس موسم کے کچھ شرعی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ کچھ ایسے افعال ہیں جن سے بچنا چاہیے اور بعض میں سبقت لے جانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ذیل میں ایسے امور ذکر کرتاہوں جن سے اجتناب ضروری ہے۔

۱۔ منہ ڈھانپ کر نماز پڑھنا:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ وَأَنْ يُغَطِّيَ الرَّجُلُ فَاهُ

’’ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں سدل سے منع فرمایا اور اس سے بھی کہ انسان منہ ڈھانپ کرنماز پڑھے۔‘‘(سنن أبي داود:643)

سردی کے موسم میں اکثر لوگ نماز کی حالت میں اپنا منہ چادر یا مفلر وغیرہ سے ڈھانپ کر نماز پڑھتے ہیں یہ عمل مکروہ ہے الا یہ کہ کوئی عذر ہو مثلاً: کسی بیماری کی وجہ سے تو اس بناء پر کوئی حر ج نہیں۔

۲۔ السدل :

سدل کی تعریف صاحب ھدایہ نے کچھ اس طرح کی ہے :

هو أن يجعل ثوبه على رأسه أو كتفيه ثم يرسل أطرافه من جوانبه ( الهداية 1/143)

’’(سدل یہ ہےکہ) کوئی شخص اپنا کپڑا اپنے سر یا کندھوں پر رکھے پھر اس کے کناروں کو (بغیر ملائے) چھوڑ دے۔‘‘

سردیوں میں اکثر حضرات یہ عمل بھی کرتے ہیں۔ حالتِ نماز میں چادر وغیرہ کو گلے میں اس طرح ڈالتے ہیں اور رکوع کرتے وقت دونوں کنارے لٹکتے ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ عمل جائز نہیں۔

۳۔ رات سوتے وقت ہیٹر جلتے ہوئے چھوڑ دینا:

آپ کے علم میں یہ بات بھی ہے کہ کتنے ہی حادثے اس وجہ سے رونما ہوئے ہیں کہ رات ہیٹر، انگیٹھی بند کیے بغیر سوجانےاور آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کتنی ہی قیمتی جانیں چا چکی ہیں۔

اس لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 

لاَ تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ (صحيح البخاری:6293)

’’جب (تم)سونے لگو تو گھر میں (جلتی ہوئی ) آگ نہ چھوڑو۔‘‘

اسی طرح ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ :

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: احْتَرَقَ بَيْتٌ بِالْمَدِينَةِ عَلَى أَهْلِهِ، فَحُدِّثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَأْنِهِمْ، فَقَالَ: «إِنَّمَا هَذِهِ النَّارُ عَدُوٌّ لَكُمْ، فَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوهَا عَنْكُمْ» (سنن ابن ماجه:3770)

’’سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینہ طیبہ میں ایک گھر کو آگ لگ گئی جب کہ گھر والے گھر میں تھے۔ نبی کریم ﷺ کو ان کے حادثے کی خبر ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ آگ تمہاری دشمن ہے جب تم سونے لگو تو اسے بجھا دیا کرو۔‘‘

لہذا رات سوتے وقت ہیٹر یا کوئی بھی اس جیسی چیز (لکڑی یا کوئلوں پر جلنے والی انگیٹھیاں وغیرہ) بند کرکے سونا چاہیے اور اس حساس عمل سے احتیاط برتنی چاہیے۔

۴۔ ٹھنڈے پانی کے ڈر سے وضو یا غسل میں سستی کرنا اور عبادات ترک کرنا:

سردی کے آتے ہی اکثر لوگ پانی کے ٹھنڈے ہونے کی وجہ سے وضو یا غسل میں سستی کرتے ہیں اور عبادات کو ترک کر دیتے ہیں جو کہ جائز نہیں کیونکہ اگر غور کیا جائے تو اس مشقت پر اور زیادہ انسان اجر کا مستحق ہوتاہے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يَمْحُو اللهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ

’’کیا میں تمہیں ان چیزوں کی خبرنہ دوں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ غلطیاں مٹاتااور درجات بلند فرماتاہے؟ (صحابہ نے عرض کیا اللہ کے رسولﷺ! کیوں نہیں)، آپ ﷺ نے فرمایا: مشقت اور نا چاہتے ہوئے وضو مکمل اور اچھی طرح کرنا، مسجدوں کی طرف دور سے چل کر جانا اور نماز کے بعد اگلی نماز (مسجد میں بیٹھ کر) انتظار کرنا۔ یہ ہے رباط(تین مرتبہ یہ الفاظ ارشاد فرمائے)۔ (النسائی : 143)

یقیناً سخت سردی میں جب انسان اپنے اعضاء کو اچھی طرح دھوتا ہے اوروضو کرتاہے تو وہ اس اجر کا مستحق ہوتاہے البتہ کسی شرعی عذر کی بناء پر مثلاً: بیماری کے خدشہ کی وجہ سے وضو یا غسل ترک کر دینا اور اس کی جگہ تیمم اختیار کرنا اس میں کوئی حرج نہیں۔

یقیناً یہ موسم مؤمن کے لیے بہار ہے:

بعض ایسے امور بھی ہیں جو اس موسم میں کثرت سے کرنے کا موقع میسر آتاہے اور اسلام ان کی طرف رغبت دلاتاہے جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ موسم سرمامیں راتیں لمبی اور دن چھوٹے ہوتے ہیں اور اس سنہری موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم بہت سی عبادات سرانجام دے سکتے ہیں۔

۱۔ قیام اللیل:

یقیناً قیام اللیل اور شب بیداری مؤمنین کا شیوہ ہے۔ اور یہ موسم ان کے لیے ایک بہار کی مانند ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ (الذاریات: 17۔18)

’’وہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے اور سحر کے وقت استغفار کیا کرتے تھے۔‘‘

فرمان نبوی ہے:

أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الرَّبُّ مِنَ العَبْدِ فِي جَوْفِ الليْلِ الآخِرِ، فَإِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَذْكُرُ اللهَ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ فَكُنْ (سنن الترمذی:3579)

’’اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے سب سے قریب رات کے آخری نصف حصے کے درمیان میں ہوتاہے تو اگر تم ان لوگوں میں سے ہو سکو جو رات کے اس حصے میں اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو تم بھی اس ذکر میں شامل ہوکر ان لوگوں میں سے ہوجاؤ(یعنی تہجد پڑھو)۔‘‘

۲۔روزہ:

اس موسم میں جہاں دیگر عبادات کرنے کے مواقع ملتے ہیں وہاں روزہ بھی ہے کیونکہ اس موسم میں دن چھوٹے ہوتے ہیں جس میں انسان آسانی سے صیام(روزہ) کا اہتمام کر سکتاہے چنانچہ آپ ﷺ کا فرمان ہے : 

الغَنِيمَةُ البَارِدَةُ الصَّوْمُ فِي الشِّتَاءِ (سنن الترمذی: 797 مرسل صحیح)

’’ٹھنڈا ٹھنڈا بغیر محنت کے مال غنیمت یہ ہے کہ روزہ سردی میں ہو۔‘‘

اور روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کے متعلق نبی کریم ﷺ نے فرمایا :

وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ تَعَالَى مِنْ رِيحِ المِسْكِ يَتْرُكُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي الصِّيَامُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا (صحیح البخاری: 1896)

’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بُو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ اورپاکیزہ ہے (اللہ تعالیٰ فرماتاہے) بندہ اپنا کھانا پینا اور اپنی شہوات میرے لیے چھوڑتا ہے، روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور (دوسری) نیکیوں کا ثواب بھی اصل نیکی کے دس گنا ہوتاہے۔‘‘

لہٰذا ہمیں موقع کو غنیمت جانتے ہوئے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے کیونکہ ان ایام میں روزے دار زیادہ گرمی، بھوک اور پیاس محسوس نہیں کرتا اور بآسانی روزہ رکھ لیتاہے۔

۳۔ صدقہ وخیرات:

اس موسم میں جہاں دیگر عبادات کے مواقع میسر ہوتے ہیں وہاں ایک پہلو صدقہ وخیرات کا بھی ہے کیونکہ اس موسم میں اکثر غرباء ومساکین کو شدت سے لحاف،کمبل ودیگر گرم ملبوسات وحفاظتی سامان کی ضرورت ہوتی ہے اور ہمارے منتظر ہوتے ہیں۔ احادیث میں صدقہ واخیرات کی بڑی فضیلت آئی ہے اور اگر یہ صدقہ صحیح وقت پر مستحق تک پہنچ جائے تو اس کی اور بھی قدر بڑھ جاتی ہے۔

جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ، يَسَّرَ اللهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ (صحيح مسلم:2699)

’’جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی۔ اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا اور جس شخص نے کسی تنگ دست کے لیے آسانی کی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا وآخرت میں آسانی کرے گا۔ ‘‘

آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر حال میں نافرمانیوں سے بچنے اور نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

بیماری و آزمائش

بیماری و آزمائش

1:بیماری درحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش :

وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَيْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ

اور ہم تمہیں برائی اور بھلائی میں مبتلا کرتے ہیں، آزمانے کے لیے اور تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (الأنبياء :35)

وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍمِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌقَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ (البقرة: 155,156)

اور یقینا ہم تمہیں خوف اور بھوک اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی میں سے کسی نہ کسی چیز کے ساتھ ضرور آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دے۔وہ لوگ کہ جب انھیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں بیشک ہم اللہ کے لیے ہیں اور بیشک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ (البقرۃ :214)

یا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے، حالانکہ ابھی تک تم پر ان لوگوں جیسی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے، انھیں تنگدستی اور تکلیف پہنچی اور وہ سخت ہلائے گئے، یہاں تک کہ رسول اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے، کہہ اٹھے اللہ کی مدد کب ہوگی ؟ سن لو بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔

اس آیت کی تفسیر میں حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

«هي الأمراض والأسقام والآلام والمصائب والنوائب» (تفسير ابن كثير : 571/1)

’’ان سے مراد امراض ، عوارض ، تکالیف ،مصائب اور آفتیں ہیں ۔‘‘

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَةِ فِي نَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَمَالِهِ، حَتَّى يَلْقَى اللهَ وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مومن مرد اور مومن عورت کی جان، اولاد، اور مال میں آزمائشیں آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ جب وہ مرنے کے بعد اللہ سے ملاقات کرتے ہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ (سنن الترمذي : 2399)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ خَامَةِ الزَّرْعِ، يَفِيءُ وَرَقُهُ، مِنْ حَيْثُ أَتَتْهَا الرِّيحُ تُكَفِّئُهَا، فَإِذَا سَكَنَتِ اعْتَدَلَتْ، وَكَذَلِكَ الْمُؤْمِنُ يُكَفَّأُ بِالْبَلَاءِ، وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ صَمَّاءَ مُعْتَدِلَةً، حَتَّى يَقْصِمَهَا اللهُ إِذَا شَاءَ (صحيح البخاري :7466)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی مثال کھیت کے نرم پودے کی سی ہے کہ جدھر ہوا چلتی ہے تو اس کے پتے ادھر جھک جاتے ہیں اور جب ہوا رک جاتی ہے تو پتے بھی برابر ہو جاتے ہیں۔اسی طرح مومن آزمائشوں میں بچایا جاتا ہے لیکن کافر کی مثال صنوبر کے سخت درخت جیسی ہے کہ ایک حالت پر کھڑا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ جب چاہتا ہے اسے اکھاڑ دیتا ہے۔

2 : بیماری کوئی عیب نہیں ہے ۔

بیماری و آزمائش سے انبیاء کرام جیسی عظیم جماعت بھی دوچار ہوئی تھی لہذا بیماریوں کا آنا یہ عیب نہیں ہے ۔

وَ اَيُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّيْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَيْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِيْنَ

’’اور ایوب، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بیشک مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم والا ہے۔تو ہم نے اس کی دعا قبول کرلی، پس اسے جو بھی تکلیف تھی دور کردی اور اسے اس کے گھر والے اور ان کے ساتھ ان کی مثل (اور) عطا کردیے، اپنے پاس سے رحمت کے لیے اور ان لوگوں کی یاددہانی کے لیے جو عبادت کرنے والے ہیں۔‘‘(الأنبياء: 83,84)

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ایوب (علیہ السلام) اللہ کے برگزیدہ نبی تھے۔ اللہ کی طرف سے ان پر ایسی آزمائش آئی کہ وہ شدید اور لمبی بیماری میں مبتلا ہوگئے، ان کے اہل و عیال بھی جدائی یا فوت ہونے کی وجہ سے ان سے جدا ہوگئے۔ جب کمانے والے ہی نہ رہے تو مال مویشی بھی ہلاک ہوگئے، مگر سیدنا ایوب (علیہ السلام) نے ہر مصیبت پر صبر کیا، نہ کوئی واویلا کیا اور نہ کوئی حرف شکایت لب پر لائے۔ جب تکلیف حد سے بڑھ گئی تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ ایک یہ کہ اے میرے رب ! مجھے شیطان نے بڑا دکھ اور تکلیف پہنچائی ہے۔ دوسری یہ کہ اے میرے رب ! مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم والا ہے۔ اس دعا میں انھوں نے اپنی حالت زار بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے ارحم الراحمین ہونے کے بیان ہی کو کافی سمجھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حکم دیا کہ زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ انھوں نے پاؤں مارا تو ٹھنڈے پانی کا چشمہ نمودار ہوگیا۔ حکم ہوا کہ اسے پیو اور اس سے غسل کرو۔ وہ مبارک پانی پینے اور اس کے ساتھ غسل کرنے سے ان کی ساری بیماری دور ہوگئی اور وہ پوری طرح صحت مند ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کے گھر والے بھی عطا فرما دیے اور اتنے ہی اور عطا فرما دیے۔ بیماری کے دوران انھوں نے کسی پر ناراض ہو کر اسے کوڑے مارنے کی قسم کھائی تھی، اب وہ سزا زیادہ سمجھ کر پریشان تھے کہ اسے اتنے کوڑے ماروں تو زیادتی ہوتی ہے، نہ ماروں تو قسم ٹوٹتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ مشکل بھی حل فرما دی کہ اتنے تنکوں کا مٹھا لے کر ایک دفعہ مار دو ، جتنے کوڑے مارنے کی تم نے قسم کھائی تھی، اس سے تمہاری قسم پوری ہوجائے گی، قسم توڑنے کا گناہ نہیں ہوگا۔ (تفسیر القرآن ازعبد السلام بھٹوی سورۃ الأنبياءآیت نمبر 83)

3:جتنا ایمان پختہ ہوگا اتنی آزمائش سخت :

عن سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً ؟ قَالَ : « الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ، يُبْتَلَى الْعَبْدُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صُلْبًا اشْتَدَّ بَلَاؤُهُ، وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَمَا يَبْرَحُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَتْرُكَهُ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ «. (سنن الترمذی : 2398)

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سب سے زیادہ مصیبت کس پر آتی ہے؟ آپ نے فرمایا: انبیاء و رسل پر، پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں، پھر جو ان کے بعد ہیں، بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر بندہ اپنے دین میں سخت ہے تو اس کی مصیبت بھی سخت ہوتی ہے اور اگر وہ اپنے دین میں نرم ہوتا ہے تو اس کے دین کے مطابق مصیبت بھی ہوتی ہے، پھر مصیبت بندے کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے، یہاں تک کہ بندہ روئے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ۔

 4:اللہ تعالیٰ کا ارادئے خیر :

مریض کو اللہ تعالیٰ کے متعلق حسن ظن رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ بھلائی و خیر چاہتا ہے ۔تاکہ اللہ تعالیٰ اس بیماری کے ذریعے اس کے گناہ مٹادے گا اور اس کے درجات بلند فرمائے گا ۔

عن أَبَي هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ (صحيح البخاري :5645)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر وبھلائی کرنا چاہتا ہے اسے بیماری کی تکالیف اور دیگر مصیبتوں میں مبتلا کردیتا ہے۔

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَرَادَ اللهُ بِعَبْدِهِ الْخَيْرَ عَجَّلَ لَهُ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا، وَإِذَا أَرَادَ اللهُ بِعَبْدِهِ الشَّرَّ أَمْسَكَ عَنْهُ بِذَنْبِهِ حَتَّى يُوَافِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کے ساتھ خیر اور بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دنیا ہی میں جلد سزا دے دیتا ہے ، اور جب اپنے کسی بندے کے ساتھ شر (برائی) کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے گناہوں کی سزا کو روکے رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پوری پوری سزا دیتا ہے۔ (سنن الترمذی: 2396)

 نبی کریم ﷺنے فرمایا :

إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللهِ مَنْزِلَةٌ لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلِهِ ابْتَلَاهُ اللهُ فِي جَسَدِهِ، أَوْ فِي مَالِهِ، أَوْ فِي وَلَدِهِ (سنن أبي داود: 3090)

’’جب بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا رتبہ مل جاتا ہے جس تک وہ اپنے عمل کے ذریعہ نہیں پہنچ پاتا تو اللہ تعالیٰ اس کے جسم یا اس کے مال یا اس کی اولاد کے ذریعہ اسے آزماتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ بندہ اس مقام کو جا پہنچتا ہے جو اسے اللہ کی طرف سے ملا تھا ۔‘‘

 5:بیماری پر صبر :

عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ ؛ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ (صحيح مسلم :2999)

سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن کا معاملہ عجیب ہے ۔ اس کا ہر معاملہ اس کے لیے بھلائی کا ہے ۔ اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کو میسر نہیں ۔ اسے خوشی اور خوشحالی ملے تو شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچے تو ( اللہ کی رضا کے لیے ) صبر کرتا ہے ، یہ ( بھی ) اس کے لیے بھلائی ہوتی ہے ۔‘‘

حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ : قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ : أَلَا أُرِيكَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ قُلْتُ : بَلَى. قَالَ : هَذِهِ الْمَرْأَةُ السَّوْدَاءُ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ : إِنِّي أُصْرَعُ، وَإِنِّي أَتَكَشَّفُ، فَادْعُ اللهَ لِي. قَالَ : « إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ، وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللهَ أَنْ يُعَافِيَكِ «. فَقَالَتْ : أَصْبِرُ. فَقَالَتْ : إِنِّي أَتَكَشَّفُ، فَادْعُ اللهَ أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ. فَدَعَا لَهَا (صحيح البخاري : 5652)

عطاء بن ربیع فرماتے ہیں کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا، تمہیں میں ایک جنتی عورت کو نہ دکھا دوں؟ میں نے عرض کیا کہ ضرور دکھائیں، کہا کہ ایک سیاہ عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئی اور کہا کہ مجھے مرگی آتی ہے اور اس کی وجہ سے میرا ستر کھل جاتا ہے۔ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیجیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر تو چاہے تو صبر کر تجھے جنت ملے گی اور اگر چاہے تو میں تیرے لیے اللہ سے اس مرض سے نجات کی دعا کر دوں۔ اس نے عرض کیا کہ میں صبر کروں گی پھر اس نے عرض کیا کہ مرگی کے وقت میرا ستر کھل جاتا ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے اس کی دعا کر دیں کہ ستر نہ کھلا کرے۔ نبی کریم ﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی۔

6: بیماری کو برا بھلا نہیں کہنا چاہیے :

حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ السَّائِبِ-أَوْ أُمِّ الْمُسَيَّبِ- فَقَالَ: مَا لَكِ يَا أُمَّ السَّائِبِ-أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيَّبِ – تُزَفْزِفِينَ؟  قَالَتِ: الْحُمَّى، لَا بَارَكَ اللهُ فِيهَا. فَقَالَ:  لَا تَسُبِّي الْحُمَّى ؛ فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ، كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ(صحيح مسلم : 2575)

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری خاتون ام سائب یا ام مسیب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے ، آپ نے فرمایا :’’ ام سائب یا ام مسیب ! تمہیں کیا ہوا ؟ کیا تم شدت سے کانپ رہی ہو ؟‘‘ انہوں نے کہا : بخار ہے ، اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہ دے ! آپ نے فرمایا :’’ بخار کو برا نہ کہو ، کیونکہ یہ آدم کی اولاد کے گناہوں کو اس طرح دور کرتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کرتی ہے ۔‘‘

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : ذُكِرَتِ الْحُمَّى عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَّهَا رَجُلٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسُبَّهَا ؛ فَإِنَّهَا تَنْفِي الذُّنُوبَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْحَدِيدِ (سنن ابن ماجه : 3469)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں بخار کا ذکر ہوا تو ایک آدمی نے اسے برا بھلا کہا۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اس (بخار) کوبرا نہ کہو۔اس سے گناہ اس طرح دور ہو جاتے ہیں جس طرح آگ سے لوہے کی میل کچیل دور ہو جاتی ہے۔‘‘

7:بیماری گناہوں کا کفارہ :

سیدنا سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا

فَمَا يَبْرَحُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَتْرُكَهُ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ مَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ «.(سنن الترمذي : 2398)

مصیبت بندے کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے،یہاں تک کہ بندہ روئے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا يُصِيبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ، وَلَا هَمٍّ وَلَا حُزْنٍ، وَلَا أَذًى وَلَا غَمٍّ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ (صحيح البخاري :5641)

سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا مسلمان جب بھی کسی پریشانی،بیماری،رنج وملال،تکلیف اور غم میں مبتلا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھ جائے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ، فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي، فَقُلْتُ : إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا. قَالَ: أَجَلْ، كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ «. قَالَ : لَكَ أَجْرَانِ؟ قَالَ: نَعَمْ، مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى ؛ مَرَضٌ فَمَا سِوَاهُ، إِلَّا حَطَّ اللهُ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا(صحيح البخاري : 5667)

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو بخار آیا ہو ا تھا میں نے آپ کا جسم چھو کر عرض کیا کہ آپ ﷺکو بڑا تیز بخار ہے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ ہاں تم میں سے دو آدمیوں کے برابر ہے۔سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ نبی کریم ﷺکا اجر بھی دو گنا ہے۔کہا ہاں پھر آپ نے فرمایا کہ کسی مسلمان کو بھی جب کسی مرض کی تکلیف یا اور کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ اس کے گناہ کو اس طرح جھاڑ دیتا ہے جس طرح درخت اپنے پتوں کو جھاڑ تا ہے۔

عَن عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مُصِيبَةٍ تُصِيبُ الْمُسْلِمَ إِلَّا كَفَّرَ اللهُ بِهَا عَنْهُ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا (صحيح البخاري: 5640)

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو مصیبت بھی کسی مسلمان کو پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہ کا کفارہ بنادیتا ہے (کسی مسلمان کے) ایک کانٹا بھی اگر جسم کے کسی حصہ میں چبھ جائے۔

8:حالت صحت میں کیے ہوئے اعمال حالت مرض میں لکھے جائیں گے :

عن أَبَى مُوسَى قال قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ أَوْ سَافَرَ، كُتِبَ لَهُ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا (صحيح البخاري : 2996)

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ جب بندہ بیمار ہوتا ہے یا سفر کرتا ہے تو اس کے لیے ان تمام عبادات کا ثواب لکھا جاتا ہے جنہیں اقامت یا صحت کے وقت یہ کیا کرتا تھا۔

وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ : إِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ، وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الْمَسَاءَ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ، وَمِنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ.(صحيح البخاري :6416)

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے شام ہوجائے تو صبح کے منتظر نہ رہو اورصبح کے وقت شام کے منتظر نہ رہو۔اپنی صحت کو مرض سے پہلے غنیمت جانو اور زندگی کوموت سے پہلے۔

9:بیمار کی عیادت :

عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ «.(صحيح مسلم : 2568)

 سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کسی مریض کی عیادت کرتا ہے وہ واپس آنے تک مسلسل جنت کے باغیچوں میں رہتا ہے ۔‘‘

10:بیمار کے لیے دعا:

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَتَى مَرِيضًا أَوْ أُتِيَ بِهِ قَالَ : « أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا «

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺجب کسی مریض کے پاس تشریف لے جاتے یاکوئی مریض آپ کے پاس لایا جاتا تو آپ یہ دعا فرماتے،اے پروردگار لوگوں کے! بیماری دور کردے،اے انسانوں کے پالنے والے! شفا عطا فرما،توہی شفا دینے والا ہے۔تیری شفا کے سوا اور کوئی شفا نہیں،ایسی شفا دے جس میں مرض بالکل باقی نہ رہے۔ (صحيح البخاري : 5675)

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ، اشْتَكَيْتَ ؟ فَقَالَ : « نَعَمْ «. قَالَ : بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ، أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ اللهُ يَشْفِيكَ، بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ. (صحيح مسلم : 2186)

سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا : اے محمد ! کیا آپ بیمار ہو گئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ جبرائیل علیہ السلام نے یہ کلمات فرمائے ’’ میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں ، ہر اس چیز سے ( حفاظت کے لئے ) جو آپ کو تکلیف دے ، ہر نفس اور ہر حسد کرنے والی آنکھ کے شر سے، اللہ آپ کو شفا دے ، میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں ۔‘‘

حدیث نبوی میں حیوانات اور حشرات کا تذکرہ

 قارئین کرام ! رسول اللہ ﷺ کے فرامین میں ہمارے لیے بہت سی نصیحتیں اسباق و احکام موجود ہیں۔ حدیث نبوی کے بہت سے جہات ایسے ہیں جن کی طرف ہماری توجہ نہیں جاتی اس لیے وہ گوشے ہم سے مخفی رہتے ہیں۔ لہذا ضروری ہے کہ ہم رسول اللہ کے تمام فرامین کا مطالعہ رکھیں۔ لہذا اس ضمن میں ہم آپ کی خدمت میں بعض ایسی احادیث کا ذکر کر رہے ہیں جن کا تعلق حیوانات اور حشرات سے ہے جن میں بہت سے فضائل احکام اور اسباق موجود ہیں۔ آئیں حدیث نبوی کا یہ گوشہ ملاحظہ فرمائیں۔

1۔ بکری جنتی جانوروں میں سے ہے

سيدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

الشَّاةُ مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ.

بکری جنت کے جانوروں میں سے ہے ۔(سنن ابن ماجة: 2306)

2۔ بکریوں میں برکت ہے

سيدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اتَّخِذُوا الْغَنَمَ، فَإِنَّ فِيهَا بَرَكَةً.

بکریاں پالو، اس لیے کہ ان میں برکت ہے ۔(سنن ابن ماجة: 2304 مسند أحمد: 27381)

3۔ گھوڑوں کی پیشانی میں خير ہے

سیدنا عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ يَرْفَعُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْإِبِلُ عِزٌّ لِأَهْلِهَا وَالْغَنَمُ بَرَكَةٌ وَالْخَيْرُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .

اونٹ ان کے مالکوں کے لیے قوت کی چیز ہے، اور بکریاں باعث برکت ہیں، اور گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لیے بھلائی بندھی ہے ۔(سنن ابن ماجة: 2305)

4۔ مینڈک قتل کرنا منع ہے

سیدنا عبدالرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

أَنَّ طَبِيبًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضِفْدَعٍ يَجْعَلُهَا فِي دَوَاءٍ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا.

ایک طبیب نے نبی اکرم ﷺ سے دوا میں مینڈک کے استعمال کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے مینڈک قتل کرنے سے منع فرمایا۔(سنن ابي داود: 3871)

5۔ چار جانداروں کو قتل کرنا منع ہے

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے :

إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ نَهَى عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنَ الدَّوَابِّ:‏‏‏‏ النَّمْلَةُ،‏‏‏‏ وَالنَّحْلَةُ،‏‏‏‏ وَالْهُدْهُدُ،‏‏‏‏ وَالصُّرَدُ.

نبی مکرم ﷺ نے چار جانوروں کے قتل سے روکا ہے چیونٹی، شہد کی مکھی، ہد ہد، لٹورا چڑیا۔(سنن ابى داود: 5267)

6۔ چھپکلی موذی جانور ہے

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

الْوَزَغُ الْفُوَيْسِقُ.

چھپکلی فاسق جانور ہے۔(صحیح بخاری: 1831 سنن نسائی: 2886)

7۔ چھپکلی کو مارنے کا اجر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّانِيَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، لِدُونِ الْأُولَى، وَإِنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، لِدُونِ الثَّانِيَةِ.

جس شخص نے پہلی ضرب میں چھپکلی کو قتل کر دیا اس کے لیے اتنی اتنی نیکیاں ہیں اور جس نے دوسری ضرب میں مارا اس کے لیے اتنی اتنی ، پہلی سے کم نیکیاں ہیں اور اگر تیسری ضرب سے مارا تو اتنی اتنی نیکیاں ہیں ، دوسری سے کم ( بتائیں ۔ )(صحيح البخاري: 2240)

8۔ سانپ کو قتل کرو

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ، وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ.

سانپوں کو مار ڈالو، دو دھاری اور دم کٹے سانپ کو ضرور مارو، اس لیے کہ یہ دونوں آنکھ کی بینائی زائل کر دیتے ہیں اور حمل کو گرا دیتے ہیں۔ (صحیح بخاری: 3297)

9۔ جو سانپوں سے ڈر کر انہیں قتل نہ کرے

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ تَرَكَ الْحَيَّاتِ مَخَافَةَ طَلَبِهِنَّ فَلَيْسَ مِنَّا.

جو شخص سانپوں کو اس ڈر سے چھوڑ دے کہ وہ پلٹ کر ہمارا پیچھا کریں گے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔(سنن ابي داود: 5250)

10۔ نماز میں بچھو اور سانپ قتل کیا جا سکتا ہے

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اقْتُلُوا الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ:‏‏‏‏ الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ.

نماز میں دونوں کالوں سانپ اور بچھو کو ( اگر دیکھو تو ) قتل کر ڈالو ۔ (سنن ابی داود: 921)

11۔ پانج جانوروں کو حرم میں بھی قتل کرنے کا حکم ہے

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ ، يَقْتُلُهُنَّ فِي الْحَرَمِ : الْغُرَابُ ، وَالْحِدَأَةُ ، وَالْعَقْرَبُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ.

پانچ جانور ایسے ہیں جو سب کے سب موذی ہیں اور انہیں حرم میں بھی مارا جا سکتا ہے کوا، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔(صحيح بخاري: 1829)

12۔ گائے کے دودھ میں شفا ہے۔

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

إِنَّ اللهَ عَزَّوَجَلَّ لَمْ يُنْزِلِ دَاءً إِلا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً إِلا الْهَرَمَ، فَعَلَيْكُمْ بِأَلْبَانِ الْبَقَرِ فَإِنَّهَا تَرُمُّ مِنْ كُلِّ شَجَر.

یقینا اللہ عزوجل نے جو بھی بیماری نازل كی اس كے ساتھ شفا بھی نازل كی ہے سوائے بڑھاپے کے ۔ گائے كا دودھ لازم كرو كیوں كہ یہ ہر درخت سے چرتی ہے۔(الصحيحة: 518)

ایک روایت کے لفظ ہیں:

أَلْبَانُهَا شِفَاءٌ وَسَمَنُهَا دَوَاءٌ وَ لُحُومُهَا دَاءٌ.

اس كا دودھ شفا ہے اس كا گھی دوا ہے اور اس كا گوشت بیماری ہے۔ (الصحیحة: 1533)

13۔ اگر مشروب میں مکھی گر جائے

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ، ثُمَّ لِيَطْرَحْهُ ؛ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ شِفَاءً، وَفِي الْآخَرِ دَاءً.

جب مکھی تم میں سے کسی کے برتن میں پڑ جائے تو پوری مکھی کو برتن میں ڈبو دے اور پھر اسے نکال کر پھینک دے کیونکہ اس کے ایک پر میں شفاء اور دوسرے میں بیماری ہے۔(صحیح بخاری: 5782)

14۔ اگر کتا برتن میں منہ ڈال لے

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعًا.

جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں سے کچھ پی لے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے۔(صحيح بخارى: 172)

15۔ شوقیہ کتا پالنے کی قباحت

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا فَإِنَّهُ يَنْقُصُ كُلَّ يَوْمٍ مِنْ عَمَلِهِ قِيرَاطٌ.

جس شخص نے کوئی کتا رکھا، اس نے روزانہ اپنے اعمال میں سے ایک قیراط کی کمی کر لی۔ البتہ کھیتی یا مویشی کی حفاظت کے لیے کتے اس سے الگ ہیں۔(صحيح البخاري: 2322)

ایک روایت کے لفظ ہیں:

نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ.

اس کے اجر میں سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے۔(صحیح مسلم: 1574)

16۔ جس گھر میں کتا ہو فرشتے داخل نہیں ہوتے

سيدنا ابن عمر رضى الله عنہما سے روایت ہے کہ:

وَعَدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ.

ایک مرتبہ جبریل علیہ السلام نے نبی اکرمﷺ کے پاس آنے کا وعدہ کیا تھا ( لیکن نہیں آئے ) اور کہا: ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں تصویر یا کتا ہو۔(صحیح بخاری: 3227)

17۔ کالا کتا شیطان ہے

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ عَنِ الْكَلْبِ الْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ شَيْطَانٌ .

میں نے رسول اللہ ﷺ سے خالص سیاہ کتے کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: وہ شیطان ہے ۔(سنن ابن ماجة: 3210)

18۔ مرغ کو برا بھلا نہ کہو

سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَا تَسُبُّوا الدِّيكَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ يُوقِظُ لِلصَّلَاةِ.

مرغ کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ نماز (فجر) کے لیے جگاتا ہے ۔(سنن ابی داود: 5101)

19۔ مرغ کی بانگ سننے پر فضل کا سوال کرو

سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ فَاسْأَلُوا اللهَ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا

جب مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو، بیشک اس نے فرشتہ دیکھا ہے۔(صحیح البخاري: 3302)

20۔ جب گدھے کی آواز سنائی دے

سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الْحِمَارِ فَتَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِنَّهُ رَأَى شَيْطَانًا.

جب گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے۔(صحیح البخاري: 3302)

21۔ اگر گھی میں چوہا گر جائے

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ

رسول اللہ ﷺ سے چوہے کے بارہ میں پوچھا گیا جو گھی میں گر گیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا:

أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا ، فَاطْرَحُوهُ وَكُلُوا سَمْنَكُمْ.

اس کو نکال دو اور اس کے آس پاس ( کے گھی ) کو نکال پھینکو اور اپنا باقی گھی استعمال کرو۔(صحيح البخاري: 235)

22۔ خرگوش کا گوشت حلال ہے

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:

أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَسَعَوْا عَلَيْهَا حَتَّى لَغِبُوا فَسَعَيْتُ عَلَيْهَا حَتَّى أَخَذْتُهَا فَجِئْتُ بِهَا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ فَبَعَثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَرِكَيْهَا أَوْ فَخِذَيْهَا فَقَبِلَهُ.

ہم نے مر الظہران کے مقام پر ایک خرگوش کو ابھارا لوگ اس کے پیچھے دوڑے مگر نہ پایا پھر میں اس کے پیچھے لگا اور اسے پکڑ لیا اور اسے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا، انہوں نے نبی مکرم ﷺ کی خدمت میں اس کا کولھا اور دونوں رانیں بھیجیں تو آپ ﷺ نے انہیں قبول فرما لیا۔(صحیح بخاری: 5489)

سنن ابی داود میں ہےمحمد بن صفوان بیان کرتے ہیں کہ:

اصَّدْتُ أَرْنَبَيْنِ فَذَبَحْتُهُمَا بِمَرْوَةٍ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ عَنْهُمَا فَأَمَرَنِي بِأَكْلِهِمَا.

میں نے دو خرگوش شکار کئے اور انہیں ایک سفید (دھار دار) پتھر سے ذبح کیا، پھر ان کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے مجھے ان کے کھانے کا حکم دیا۔ (سنن ابی داود: 2822)

23۔ چیونٹیوں کو جلانا منع ہے

سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

قَرَصَتْ نَمْلَةٌ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ ، فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَحْرَقْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ.

ایک چیونٹی نے ایک نبی کو کاٹ لیا۔ تو ان کے حکم پر چیونٹیوں کے سارے گھر جلا دئیے گئے ۔ اس پر اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تمہیں تو فقط ایک چیونٹی نے کاٹا تھا اور تم نے ایک ایسی مخلوق کو جلا دیا جو اللہ کی تسبیح بیان کرتی تھی ۔(صحیح البخاري: 3019)

24۔ تفریح کے لیے چڑیا کے بچے پکڑنا

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ فَرَأَيْنَا حُمَرَةً مَعَهَا فَرْخَانِ فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا فَجَاءَتِ الْحُمَرَةُ فَجَعَلَتْ تَفْرِشُ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ فَجَعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا.

ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ آپ اپنی ضرورت کے لیے گئے، ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے ساتھ دو بچے تھے، ہم نے ان بچوں کو پکڑ لیا، وہ چڑیا آ کر زمین پر پر بچھانے لگی، اتنے میں نبی کریمﷺ آ گئے، اور یہ دیکھ کر فرمایا: اس چڑیا کا بچہ لے کر کس نے اسے بے قرار کیا ہے؟ اس کا بچہ اسے واپس کردو۔(سنن أبي داود: 2675)

25۔ بلی نجس نہیں ہے

سيدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ أَوِ الطَّوَّافَاتِ.

یہ (بلی) نجس نہیں ہے، یہ تو تمہارے پاس برابر آنے جانے والوں یا آنے جانے والیوں میں سے ہے۔(سنن الترمذي: 92)

26۔ بلی کی وجہ سے عذاب

سيدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا ، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ.

ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب ہوا جسے اس نے اتنی دیر تک باندھے رکھا تھا کہ وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی۔ اور وہ عورت اسی وجہ سے دوزخ میں داخل ہوئی۔ (صحيح البخاري: 2365)

27۔ بلی اور کتے کی قیمت منع ہے

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، ‏‏‏‏‏‏وَالسِّنَّوْرِ.

نبی معظمﷺ نے کتے اور بلی کی قیمت ( لینے ) سے منع فرمایا ہے۔(سنن أبي داود: 3479)

28۔ پالتو گدھے کا گوشت حرام ہے

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے روایت ہے:

أَكَلْنَا زَمَنَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ، وَحُمُرَ الْوَحْشِ، وَنَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِمَارِ الْأَهْلِيّ.

خیبر کے زمانے میں ہم نے جنگلی گدھوں ( گورخر ، زیبرا ) اور گھوڑوں کا گوشت کھایا اور نبی معظمﷺ نے ہم کو پالتو گدھے کے گوشت سے منع فرما دیا ۔(صحیح مسلم: 1941)

29۔ کچلی والا درندہ حرام ہے

سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:

أَتَيْت النَّبِي ﷺ‌ فَقُلْت: يَا رَسُول الله حَدِّثْنِي ما يَحُل لِي مِمَّا يُحَرَّم علي، فَقَال: لَا تَأَكُلْ الْحِمَار الْأَهْلِي ولَا كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاع.

میں نبی کریم ‌ﷺ ‌كے پاس آیا اور كہا: اے اللہ كے رسول ! جوچیزیں مجھ پرحرام ہیں ان میں سے میرے لئے حلال بیان کیجیے؟ تو آپ نے فرمایا: گھریلو گدھا نہ كھاؤ اور نہ كچلی والا درندہ كھاؤ۔(الصحيحة: 475)

30۔ گھوڑے کا گوشت حلال ہے

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ :

نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَخَّصَ فِي لُحُومِ الْخَيْلِ.

جنگ خیبر میں رسول اللہ ﷺ نے گدھے کا گوشت کھانے کی ممانعت فرما دی تھی اور گھوڑے کا گوشت کھانے کی رخصت دی تھی۔(صحیح بخاری: 5520)

عَنْ جَابِرٍ قَالَ : كُنَّا نَأْكُلُ لُحُومَ الْخَيْلِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں گھوڑے کا گوشت کھاتے تھے۔ (سنن نسائی: 4335)

بھوک اور افلاس کے خاتمے کے لیے اسلام کے رہنما اصول

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا شرف عطا کر کے پیدا کیا ہے اور یہ شرف انسان کی عملی زندگی میں تبھی نظر آئے گا جب انسان معاشی طور پر نہ صرف خودکفیل ہو بلکہ دوسروں کی مدد کرنے کے قابل ہو۔ معاشی خوشحالی نہ صرف انسان کو اللہ تعالیٰ کا شکر گزار اور خود دار بناتی ہے بلکہ اس میں اتنی فارغ البالی پیدا کرتی ہے کہ وہ انسانیت کی اجتماعی فلاح وبہبود کے لیے غور وفکر کرتا ہے اور بہترین افکار ونظریات پیش کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں جو شخص بھوک وافلاس میں مبتلاہو ،قریب ہے کہ اس کا افلاس اسے کفر کے قریب پہنچادے۔ اگر کفر کے قریب نہ بھی پہنچائے تب بھی وہ مہذب و شائستہ زندگی نہیں گزار سکتا اور نہ ہی قوم وملک اور انسانیت کے لیے کوئی اعلیٰ فکر دے سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں معاشی خوشحالی کو خیر ،بھلائی اور اپنی نعمت قرار دیا ہے اور اس کے حصول کے لیے طریقے بتائے ہیں اور آپ ﷺ نے معاشی بدحالی،بھوک وافلاس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی ہے اور معاشی خوشحالی کے حصول کے لیے راستے بتائے ہیں

اس مضمون میں اس امر کا جائزہ لیا جائے گا کہ اسلام نے بھوک وافلاس کے خاتمے کے لیے کیا رہنما اصول دیے ہیں۔

اسلام نے بھوک وافلاس کے خاتمے کے لیے کچھ رہنما اصول دیے ہیںجو کہ مندرجہ ذیل ہیں:

(۱): اسلام کا پہلا اصول یہ ہے کہ ہر شخص محنت اور جدوجہد کر کے اپنی روزی خود حاصل کرے۔

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ جاں فشانی،محنت و مشقت کے بغیر کوئی بھی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی ترقی کی منازل طے کرنے کے لیے محنت وسعی لازم ہے۔ اگر ہم اپنے ماضی کا مطالعہ کریں ،تو یہ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ آپﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں بادیہ نشینوں نے محنت و جدوجہد کو اپنایا تو وہ صحرائے عرب سے اُٹھ کر ایک عالم پر چھا گئے اور دنیا کے ہر شعبے میں چاہے وہ عبادت ہوں معاملات ہوں ،معیشت ہو یا معاشرت، سائنس ہو یا شعروادب، غرض اپنی محنت و جاں فشانی سے بحروبر مسخر کر لیے اور پوری دنیا میں ہدایت وعلم کی روشنی میں پھیلانے کا ذریعہ بنے۔

آپ ﷺ کے فرامین اور عملی زندگی سےہمیں پیہم، محنت و مشقت اور جان فشانی کی تلقین ملتی ہے۔ آپ ﷺ نے بچپن میں بکریاں چرائیں، بعثت سے پہلے باقاعدہ تجارت کی اور تجارت کی غرض سے طویل سفر  کیے۔بیت اللہ کی تعمیر میں حصہ لیا ، رسول اللہ ﷺاپنے جوتوں کی مرمت خود فرمالیتے اور سیتے تھے۔ انبیائے کرام رضوان اللہ اجمعین جہاں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کی ذمہ داریاں مکمل طور سے ادا فرماتے اور رسالت کی تبلیغ فرماتے وہاں دینوی اعتبار سے بھی ان کی محنت ،سعی اور کوشش کی واضح مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ چنانچہ سیدنا آدم علیہ السلام کھیتی باڑی کرتے تھے۔ سیدنا نوح علیہ السلام بڑھئی کا کام کرتے اور انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کشتی بنائی۔ سیدنا داؤد علیہ السلام لوہے کا کام کرتے تھے ۔آپ علیہ السلام لوہے سے زرہیں اور دیگر سامان ِ جنگ بناتے تھے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اجرت پر دس سال سیدنا شعیب علیہ السلام کے ہاں خدمت گزاری کی۔ سیدنا ادریس علیہ السلام کپڑے بنتے تھے ۔ سیدنا زکریا علیہ السلام کپڑے سیتے تھے ۔ جد الانبیاء سیدنا ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام راج گیری کا کام کرتے تھے۔ باپ بیٹے نے مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی ۔ سیدنا یعقوب علیہ السلام نےدس سال تک بکریاں چرائیں۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں نے بھی کبھی محنت سے جی نہیں چرایا اور کوئی بھی حلال پیشہ اپنانے میں عار نہ سمجھا، بلکہ اپنے عمل سے اُمت پر یہ ثابت کردیا کہ عزت اور عظمت معاشی جدوجہد میں مضمر ہے۔سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زمام اقتدارسنبھالنے کے بعد گردونواح میں کپڑا بیچا اور ضرورت مندوں کا کام اپنے ہاتھوں سے انجام دیا۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تجارت کرتے تھے ،بہترین کمائی مزدور کی کمائی ہے، کیونکہ وہ جسم کی تمام توانائیاں صرف کرتا ہے۔ اگر مزدور کی حق اور بھلائی بھی پیش رکھے تو اس کا درجہ بہت ُبلند ہے (۱)

قرآن و حدیث میں اللہ تعالیٰ نے محنت اور جدوجہد کر کے اپنی روزی خود حاصل کر کے کھانے کی ترغیب دی گئی ہے ۔

اسلام میں کسب معاش کی اہمیت:

اسی لیے اسلام میں کسبِ معاش کی اہمیت دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود یہ ارشاد فرمایا کہ دن کی یہ روشنی اسی لیے ہے کہ تلاشِ معاش میں سہولت ہو:

وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا (۲)

زمین کے بارے میں فرمایا کہ وہ بھی تمہارے لیے حصولِ معاش کا زریعہ ہے:

وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِيْهَا مَعَايِشَ (۳)

طلب معاش کو جائز اور درست قرار دیا گیا:

اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ(۴)

کسب معاش کے لیے سفر کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی :

وَ اٰخَرُوْنَ يَضْرِبُوْنَ فِي الْاَرْضِ يَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ (۵)

بلکہ کسب معاش اور اس کے لیے تگ ودو کا حکم فرمایا گیا:

فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ(۶)

محنت کا ذکر حدیث نبوی ﷺ میں:

احادیث میں بھی کسب معاش کی فضیلت کے سلِسلہ میں کثرت پائی جاتی ہے یہاں تک آپ ﷺ نے سچے اور امانت دار تاجر کو فرمایا کہ اس کا حشر انبیاء ، صدیقین شہدا کے ساتھ ہو گا۔ (٧)

آپ نے فرمایا کہ بہتر آدمی کے لیے مالِ حلال بہتر شےہے۔ (۸)

حدیث شریف میں محنت یعنی مزدوری اور عملِ ید یعنی انسان کے خود اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی بڑی عظمت اور فضیلت وارد ہوئی ہے۔ مثلاً «بخاری» میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں :

«مَا بَعَثَ اللهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الغَنَمَ» ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: وَأَنْتَ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ، كُنْتُ أَرْعَاهَا عَلَى قَرَارِيطَ لِأَهْلِ مَكَّةَ» (۹)

یعنی اللہ نے کوئی نبی مبعوث نہیں فرمایا جس نے اجرت پر بکریاں نہ چرائی ہوں۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم نے (متحیر ہو کر) سوال کیا:» اللہ کے رسول ﷺ کیا آپ نے بھی یہ کام کیا ہے َ» اس کا جواب نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایہ ہم سب کے لیے بہت اہم ہے، اس لیے کہ اس میں حضور ﷺ کا تواضع و انکسار ی بھی نمایا ں طور پر جھلک رہی ہے:« میں تو چند قراریط کے عوض(چند ٹکوں کے عوض) مکہ کے لوگوں کے جانور چرایا کرتا تھا» معلوم ہوا کہ اجرت یا مزدوری یا دوسروں کے لیے کام کرنا ہر گز باعثِ ندامت یا موجبِ شرم نہیں ہے۔ اس لیےکہ اگرچہ یہ تو مسلّمات میں سے ہے کہ جو شخص خود اپنے سرمائے سے کام کر رہا ہو خواہ وہ چھابڑی ہی لگاتا ہو اس کے لیے کسی احساسِ کمتری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ جبکہ انسان کسی اور کے لیے اُجرت پر کام کرنے میں یقیناً عار محسوس کرتا ہے لیکن نبی اکرم ﷺ نے اس کے لیے فرمایا کے میں خود اجرت پر دوسروں کے لیے کام کرتا رہاہوں ۔ لہذا یہ قطعی طور پر ثابت ہو گیا کہ یہ ہرگز ایسی بات نہیں ہے جس پر انسان کسی بھی درجے میں ندامت یا شرم محسوس کرے۔(۱۰)

فریضہ طلبِ حلال:

«طَلَبُ الْحَلَالِ فَرِيضَةٌ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ»

’’رزقِ حلال کی تلاش فرض عبادت کے بعد (سب سے بڑا) فریضہ ہے۔‘‘(۱۱)

سیدنا داؤد علیہ السلام اور عملِ ید:

اسی طرح بخاری ہی کی حدیث کا حوالہ بھی یہاں بے محل نہ ہو گا جو کہ سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں:

«مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ، خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ، وَإِنَّ نَبِيَّ اللهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، كَانَ يَأْكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ» (۱۲)

’’کسی شخص نے ان سے بہتر روزی نہیں کھائی جس نے اپنے ہاتھ سے کام کرکے روزی کمائی اور اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ سے کام کر کے روزی کماتے تھے۔‘‘

محنت اور جائز تجارت:

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: «عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ، وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ»

’’سیدنا رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ! کون سی کمائی سب سے پاکیزہ ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا آدمی کا اپنے ہاتھ سے کمانا اور ہر جائز تجارت۔‘‘ (۱۳)

سوال کی مذمّت اور محنت مزدوری کی ترغیب:

یہاں بنی اکرم ﷺ نے جس طرح سوال کرنے کی بجائے محنت مزدوری کرکے پیٹ پالنے کی ترغیب دلائی ہےوہ بھی پیشِ نظر رہے:

«لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ، فَيَأْتِيَ بِحُزْمَةِ الحَطَبِ عَلَى ظَهْرِهِ، فَيَبِيعَهَا، فَيَكُفَّ اللهُ بِهَا وَجْهَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ أَوْ مَنَعُوهُ»(۱۴)

’’ تم میں سے کسی شخص کا رسی لے کر پہاڑ پر چلا جانا اور پھر لکڑیوں کا گھٹہ پیٹھ پر لاد کر بیچنا اور اس طرح اپنے چہرے کو (یعنی عزتِ نفس کو) بچانا اس سے کہیں بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے سوال کے اور وہ چاہے تو اس کو کچھ دے دیں اور چاہے تو خالی ہاتھ لوٹا دیں ۔‘‘

محدثین کے نزدیک بہترین ذریعہ معاش:

مشہور عالم علامہ ماوردی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ بنیادی طور پر کسبِ حلال کے تین ذرائع ہیں ۔

(۱) زراعت

(۲) تجارت

(۳)صنعت

اس میں سے کون سا زریعہ معاش زیادہ بہتر ہے، علماءکرام نے اپنی راے کے مطابق اس کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا خیال ہے کہ تجارت سب سے افضل ہے۔ خود ماوردی کی رائے ہے کہ زراعت کی فضیلت زیادہ ہے۔ (۱۵)

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک ہی جگہ ایسی حدیثیں جمع کردی ہیں جو تجارت و زراعت اور صنعت کی اسلام میں اہمیت اور پیغمبرِ اسلام کی نگاہ میں شرف و فضیلت بتاتی ہیں۔ (۱۶)

قَال مُحَمَّدٌ بْنُ الْحَسَنِ الشَّيْبَانِيُّ: ثُمَّ الْمَذْهَبُ عِنْدَ جُمْهُورِ الْفُقَهَاءِ أَنَّ الْكَسْبَ بِقَدْرِ مَا لاَ بُدَّ مِنْهُ فَرِيضَةٌ

’’ محمد بن شیبانی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ بقدر کفایت روزی کمانا ہر شخص پر فرضِ عین ہے ۔‘‘(۱٧)

(۲): دوسرا اصول یہ ہے کہ مالدار لوگ غرباء و مساکین کی مالی مدد کریں ۔

اسلام نے نفع مند مال کی تعریف کی ہے اور اس مال کے کمانے کی خواہش اور حرص کو اسے احسن طریقے سے خرچ کرنے اور اس مال کو مزید ثمر آور بنانے کو ضروری قرار دیا ہے ۔ ایسے مال دار آدمی کو سراہا ہے جو مال ملنے پر شاکر ہو اور اس مال کو لوگوں کی منفعت اور خیر خواہی کے لیے خرچ کرے جب کہ اس ضمن میں سوائے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے اور کوئی چیز اس کے پیشِ نظر نہ ہو۔محتاجوں،غریبوں، یتیموں اور ضرورت مندوں کی مدد،معاونت، حاجت روائی اور دلجوئی کرنا دینِ اسلام کا بنیادی درس ہے، دوسروں کی مدد کرنے ان کے ساتھ تعاون کرنے ان کےلیے روز مرہ کی ضرورت کی اشیاء فراہم کرنے کو دینِ اسلام نے اپنے رب کو راضی کرنے کا نسخہ بتایا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مال دار لوگوں کو اپنے مال میں سےغریبوں کو دینے کا حکم دیا ہے، صاحبِ استطاعت پر واجب ہے کہ مال دار لوگ غریب ،مسکین ،یتیم کی مقدور بھر مدد کریں ۔

قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰٓىِٕكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ١ۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ١ۙ وَالسَّآىِٕلِيْنَ۠ وَفِي الرِّقَابِ١ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ

’’نیکی صرف یہی نہیں کہ آپ لوگ اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لیں بلکہ اصل نیکی تو اس شخص کی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پراور (آسمانی) کتابوں پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اور مال سے محبت کے باوجود اسے قرابت داروں،یتیموں،محتاجوں ،مسافروں،سوال کرنے والوں،غلاموں کی آزادی پر خرچ کرے۔ یہ وہ لوگ ہیں جونماز قائم کرتے ہیں زکوٰۃ دیتے ہیں اور جب کوئی وعدہ کرے تو اسے پورا کرتے ہیں ۔ سختی،مصیبت اور جہاد کے وقت صبر کرتے ہیں یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں ۔‘‘(۱۸)

قرآن حکیم ہی کی ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

يَسْـَٔلُوْنَكَ مَاذَايُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ١ؕ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ

’’(لوگ) آپ ﷺ سے سوال پوچھتے ہیں کہ ( اللہ کی راہ میں ) کیا خرچ کریں ۔ فرما دیجیے کہ جس قدر بھی مال خرچ کرو (درست) ہےمگر اس کے حق دار تمہارے ماں باپ ہیں اور قریبی رشتہ دار ہیں اور یتیم ہیں اور محتاج ہیں اور مسافر ہیں اور جو نیکی بھی تم کرتے ہو بےشک اللہ اسے خوب جاننے والاہے۔ ‘‘(۱۹)

اسلام میں سماجی بہبود کا بنیادی مقصد معاشرے کے محتاجوں ، بےکسوں،معذوروں، بیماروں ، بیواؤں، یتیموں اور بے سہارا افراد کی دیکھ بھال اور ان کی فلاح و بہبود ہے۔اور یہ مقصد اُسی وقت حاصل ہو سکتا ہےجب ایسے لوگوں کی ضرورت اور معذوی کا خاتمہ کر کے معاشرے میں دولت اورضرورت کے درمیان توازن پیدا کیا جا سکے۔ جو لوگ معاشرے سے غربت و افلاس اور ضرورت و محتاجی کو دور کرنے کے لیے اپنا مال و دولت خرچ کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کے خرچ کو اپنے ذمہ قرضِ حسنہ قرار دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ يُّوَفَّ اِلَيْكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ

’’ تم جوکچھ مال خرچ کر رہے ہو یہ سب (اس کا ثواب) تم کو پورا پورا مل جائے گا اور تمہاے لیے اس میں ذرا کمی نہیں کی جائے گی۔ ‘‘(۲۰)

دوسرو کی مدد کرنا ان کی ضروریات کو پورا کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت پسنددیدہ عمل ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِيَ١ۚ وَاِنْ تُخْفُوْهَا وَتُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَيِّاٰتِكُمْ١ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ

’’ اگر تم ظاہر کرکے دو صدقوں کو تب بھی اچھی بات ہے اور اگر ان سے چھوپا کر دو ان فقیروں کو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ (اس کی برکت سے) تمہارے کچھ گناہ بھی دور کر دیں گے اور اللہ تمہارے کیے ہوئے کاموں کو خوب خبر رکھتے ہیں ۔ (۲۱)

دینِ اسلام سراسر خیر خواہی کا مذہب ہے، اسلام میں حقوق العباد کی اہمیت کو حقوق اللہ کی اہمیت سے بڑھ کر بیان کیا گیا ہے۔ دوسروں کی خیر خواہی اور مدد کرکے حقیقی خوشی حاصل ہوتی ہےجو کہ اطمنانِ قلب کے ساتھ ساتھ رضائے الٰہی کا باعث بنتی ہے ۔

صدقہ کرنے والوں کی حدیث مبارکہ میں حوصلہ افزائی

«إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ وَتَدْفَعُ مِيتَةَ السُّوءِ»

’’صدقہ اللہ تعالیٰ کے غضب و ناراضگی کو ختم کر دیتا ہے اور بُری موت سے بچاتا ہے۔‘‘ (۲۲)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

الصَّدَقَةُ عَلَى المِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ ثِنْتَانِ: صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ

’’مسکین پر صدقہ صرف صدقہ ہے اور رشتہ دار پر صدقہ میں دو بھلائیاں ہیں کیونکہ یہ اس کے لیے صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔‘‘(۲۳)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

«مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ، وَلَا يَقْبَلُ اللهُ إِلَّا الطَّيِّبَ، إِلَّا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ بِيَمِينِهِ، وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً تَرْبُو فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ، حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الجَبَلِ»

جس نے بھی کسی پاکیزہ چیز کا صدقہ کیا اور اللہ پاکیزہ چیز کو قبول کرتا ہے تو رحمٰن ایسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے، اگرچہ وہ ایک کھجور ہی ہو۔ یہ مال صدقہ رحمٰن کی ہتھیلی میں بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کے وہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔ (۲۴)

محسنِ انسانیت رسول اللہ ﷺ نے نہ صرف حاجت مندوں کی حاجت روائی کرنے کا حکم دیا کرتے بلکہ عملی طور پر آپ ﷺ خود بھی ہمیشہ غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرتے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ مسجدِ نبوی میں صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک عورت اپنی کسی ضرورت کے لیے آپ ﷺ کے پاس آئی ، آپ ﷺ صحابہ کرام کے درمیان سے اُٹھ کر دیر تک مسجد کے صحن میں چلے گئے اور اس کی باتیں سنتے رہے اور اس کی حاجت روائی کا یقین دلا کر مطمئن کر کے اسے بھیج دیا۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے کے حاجت مندوں کی مدد کے لیے میں مدینہ کے دوسرے سرے تک جانے کے لیے تیار ہوں۔ (۲۵)

حدیثِ نبوی ﷺ ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارو مددگار چھوڑتاہے۔ جوشخص اپنے کیسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی ستر پوشی کرتا ہےاللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن ستر پوشی فرمائے گا۔(۲۶)

ارشاد نبویﷺ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کے کام میں مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کے کام میں مدد کرتا رہتا ہے۔ (۲٧)

لہذا ہمیں ان احادیث مبارکہ کے مطابق اپنی زندگی کو اس انداز سے گزارنے کی کوشش کرنی چاہئیے تاکہ دین و دنیا کی خوشنودی کے ساتھ ساتھ دلی اطمینان بھی حاصل ہو اور یہی حقیقی زندگی ہے۔

(۳): تیسرا اُصول یہ ہے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو وسائل معاش فراہم کرکے دے ، یا ایسے کارخانے لگائے یا ایسے وسائل تلاش کرے جہاں سے لوگ روزی روٹی حاصل کریں ۔ اسی طرح مال داروں سے زکوٰۃ وصول کرکے فقراء و مساکین بیواؤں، یتیموں ، بوڑھوں اور کمزوروں تک پہنچائے یا مالداروں پر ٹیکس لگا کر غرباء کی کفالت کرے۔

اسلامی نظامِ معیشت میں تمام مسلمانوں کو حقُ المعاش کے مساوی حقوق دئیے گئیے ہیں اور بنیادی حقُ المعاش کی فراہمی یاست کی زمہ داری ہے۔ (۲۸)

کتاب الخراج میں ایک روایت نقل کی ہے جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے ۔

« سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ لوگوں میں سے کسی شخص کے دروازے کے پاس سے گزرے وہاں ایک سائل سوال کر رہا تھا جو نہیات ضعیف اور اندھا تھا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کے بازو پر پیچھے سے مارا اور کہا کہ تم کون سے اہلِ کتاب میں سے ہو اس نے کہا کے یہودی ہوں ۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تجھے اس امر پر کس نے مجبور کیا جو میں دیکھ رہا ہوں ؟ اس نے کہا کہ میں جزیہ کی ادائیگی،حاجات کی تکمیل اور عمر رسیدگی کی وجہ سے سوال کرتا ہوں راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اِسے اپنے گھر لے گئے او اسے اپنے گھر سے کچھ مال دیا پھر ایسے بیت المال کے خازن کی طرف بھیجا اور کہا کے اسے اور اس کے قبیل کے دوسرے لوگوں کو دیکھو۔ اللہ کی قسم ہم نے اس کے ساتھ انصاف نہیں کیا ہم نے اس کی جوانی سے تو خوب فائیدہ اٹھایا اور بڑھاپے میں ایسے رسوا کر دیا (پھر آپ نے یہ آیت پڑھی) (بے شک صدقات فقراء اور مساکین کے لیے ہے ) اور فرمایا فقراء سے مراد مسلمان ہیں اور یہ اہلِ کتاب مسکین میں سے ہیں اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس سے اور اس جیسے دیگر کمزور لوگوں سے جزیہ ساقط کردیا۔ (۲۹)

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اس فعل سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ رعایا کو حق المعاش کی فراہمی اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے صاحبانِ اقتدا پر لازم ہے کہ اس امر کا انتظام کریں کے کوئی بھی شخص حقِ معیشت سے محروم نہ ہو بلکہ ہر فرد کو حصولِ معیشت کا مساوی حق دیا جائے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں اور کاوشوں کو بروئے کار لا کر باعزت اور حلال طریقے سے اپنی روزی کما سکیں ۔نیز اہل ثروت پر لازم ہے کہ وہ اپنے مال میں سے ضرورت مندوں ،غرباء اور محتاجوں کی معاشی ضرویات سے محروم نہ رہے۔ اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اگر معاشرے میں غریب اور نادر لوگ زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہوں اور دوسری طرف امراء عیش و عشرت کی زندگی گزاررہے ہوں تو اسلامی حکومت ان امیر لوگوں سے سختی کے ساتھ زکوٰۃ وصول کرکے غرباء اور ضرورت مندوں میں تقسیم کرے۔

اللہ تعالیٰ نے جن مقامات پر اپنے بندوں کو رزق فراہم کرنے کا وعدہ فرمایا ہے ۔ ان میں اسلامی ریاست کی بنیادی ذمہ داری سے آگاہ کیا گیا ہے ۔ یہ قرآنی احکام اس منشاء ایزدی کو ظاہر کرتے ہیں ۔ لہذا اسلامی ریاست پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنی اس بنیادی ذمہ داری کو پورا کرے کہ ایسا کرنے سے ہی اس کے قیام اور بقا کا جواز ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ : 

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا

’’اور زمین میں کوئی چلنے پھر والا(جاندار) نہیں ہے مگر (یہ کہ) اس کا رزق اللہ کےذمہ ہے۔ ‘‘(۳۰)

اس وعدۂ رب کے بعد اگر کوئی شخص بنیادی حق المعاش سے محروم ہے تو اس کی ذمہ داری براہ راست ریاست اور حکومت اسلامی پر عائد ہوتی کیونکہ حقوق اللہ کی تنفیذ اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینا من جانب اللہ اسلامی ریاست ہی کا حق ہے ۔ جیسے حدود کا اجراء حق اللہ میں سے ہے مگر اس کو تعزیری شکل میں ریاست نافذ کرتی ہے ۔ حدود و قصاص عشر زکوٰۃ وغیرہ لینا اسلامی ریاست کا فرضِ منصبی ہے۔ (۳۱)

تو یہ ہیں وہ اُصول جو رسول اکرم ﷺ نے ماتحتوں کے بارے میں وضع فرمائے ہیں اور یہی ہیں وہ اخلاقی تعلیمات ہیں ،کہ جب تک وہ کسی معاشرے میں بالفعل موجود نہ ہوں تو محض کوئی خالی قانونی ڈھانچہ ،خواہ اس کی کتنی ہی پیروی کیوں نہ کر لی جائے، معاشرے میں وہ برکات پیدا نہیں کر سکتا جو اسلام کی منشاء ہیں۔ (۳۲)

حوالہ جات

(۱)ترمذی،حدیث نمبر ۱۲۲۲،ج۳/ص۵۳۴۔

(۲)سورۃ نباء، آیت، ۱۱

(۳)سورۃاعراف،آیت ۱۰

(۴)سورۃ بقرہ آیت، ۱۹۸                

(۵)سورۃ مزمل آیت، ۲۰

(۶)سورۃ جمعہ ،آیت ،۱۰

(٧) ترمذی، عن ابی سعید الخدری، کتاب البیوع،باب ماجاء فی التجار

(۸)مجمع الزوائدج ۴/۶۴ص ،باب اتحاذ المال

(۹) بخاری ، حدیث ،نمبر۲۲۶۲ کتابُ الاجارہ

(۱۰)اسلام کا معاشی نظام ڈاکٹر اسرار احمد مرکزی انجمن خدّام القرآن، لاہور ،ص نمبر ۳٧

(۱۱) طبرانی، المعجم الکبیر، ۱۰:۱۰۸،رقم:۱۰۱۱۸

(۱۲)بخاری کتاب: خرید وفروخت کے مسائل کا بیان حدیث،۲۰٧۲۔

(۱۳)شعرانی، کشف الغمۃ عن جمیع الامۃ، ۲:۳

(۱۴) بخاری عن زبیر بن عوام، کتاب الزکوٰۃ ،باب سوال سے بچنے کا بیان، حدیث: ۱۴٧۱

(۱۵) عینی علی البخاری ج۶/۱۸۶

(۱۶)بخاری ،کتاب البیوع، باب کسب الرجل وعملہ بیدہ

(۱٧)حوالہ الموسوعہ الفقھیہ الکویتیہ جلد ۴۰ /ص ۳۹

(۱۸) سورۃ بقرۃ آیت نمبر ۱٧٧

(۱۹) حوالہ سورۃ البقرۃ آیت نمبر ۲۱۵

(۲۰)حوالہ سورۃ بقرۃ آیت نمبر ۲٧۲

(۲۱) سورۃ بقرۃ آیت نمبر ۲٧۱

(۲۲) جامع ترمذی ، ابوعیسیٰ محمد بن عیسیٰ ، کتاب زکوٰۃ و صدقات کے احکام، حدیث ۶۶۴

(۲۳) ترمذی حدیث نمبر ۶۵۸           

(۲۴) ترمذی : حدیث ۶۶۱

(۲۵) بخاری ، محمد بن اسماعیل ،کتاب مظالم والغصب،حدیث ۴۴۲

(۲۶)ترمذی، باب ماجاء فی الستر علی ا؛مسلمِ، ابواب الحدود حدیث ،نمبر۱۴۲۵۔

(۲٧)سننِ ابوداؤد،حدیث نمبر ۴۶۴۹۔

(۲۸) امام ابو یوسف کتابُ الخراج،ص۱۸۳۔۱۱۳۔

(۲۹)ابو یوسف کتاب الخراج ص، ۱۳۶۔

(۳۰)سورۃہود، آیت، ۶۔

(۳۱)اقتصادی اسلامی ص ،منہاج القرآن ،طبع لاہور، ص ۱۹۸۔۱۹۹

(۳۲)اسلام کا معاشی نظام ڈاکٹر اسرار احمد مرکزی انجمن خدّام القرآن، طبع، لاہور،ص نمبر۴۰

حیات انسانی کی الجھنیں

انسان کی زندگی ایک ایسی الجھی ہوئی ڈور ہےجس کا سرا ڈھونڈتے بعض اوقات ساری عمر ہی بیت جاتی ہےمگر ڈور سلجھ ہی نہیں پاتی۔زندگی کی اس الجھی ڈور کو سلجھانے کے لیے جس فہم و فراست اور دور اندیشی اور دروں بینی کی ضرورت ہوتی ہے، وہ بھی ہر انسان میں نہیں ہوتی۔خال خال لوگ ہی ہوتے ہیں جنہیں اللہ کی یہ نعمت حاصل ہوتی ہے۔کم فہمی، عجلت پسندی اور حقائق سے لا علمی اور جھوٹی انا انسانی معاملات کو مزید پیچیدہ کردیتے ہیں۔اس دنیا میں کچھ لوگ غیر معمولی ذہانت، فطانت، عقابی نگاہیں اور عبقری شخصیت کے حامل ہوتے ہیں اور وہ ہر گزرتے ہوئے لمحے کو اپنی مٹھی میں قید کرلینے کی خداداد صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ لوگ دنیا میں شہرت، دولت اور زندگی کی بے شمار آسائشوں سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ان کی زندگی کا محور و مرکز یہی مادی دنیا ہوتی ہے، اس لیے ان کی تمام بھاگ دوڑ ، تمام سعی و جہد اسی فانی دنیا کے لیے ہوتی ہے۔وہ اپنی کاوشوں سے شہرت و کامرانی کی بلندیوں کو چھونے لگتے ہیں۔ان کی شخصیت لوگوں کی مرکزِ نگاہ ہوتی ہے، جو چاہتے ہیں حاصل کر لیتے ہیں، مادہ پرستانہ سوچ ان کے ہر عمل سےنمایاں ہوتی ہے، کیونکہ انہوں نے جو کچھ کیا ہوتا ہے وہ دنیا کے نفع و نقصان کو سامنے رکھ کر ہی تو کیا ہوتا ہے۔ارشاد ربانی ہے:

وَ اَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى

’’اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔‘‘(النجم:39)

اس کے بر عکس کچھ لوگ اس دنیا میں ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی ساری بھاگ دوڑ ، سعی و جہد، ہمہ وقت، ہمہ جہت صرف ایک ہی زاویے میں ہوتی ہے کہ اس دنیا کی نعمتیں ملیں نہ ملیں ، لیکن ان کی آخرت کی دنیا بہتر اور نتیجہ خیز ہوجائے، ان کا ربّ ان سے راضی ہوجائے۔وہ ہر اس عمل سے خود کو بچاتے ہیں جس میں اللہ کے غضب کا امکان پیدا ہوتا ہو، ان کے نزدیک یہ دنیا برتنے کی چیز ہے اسی میں کھو کر رہ جانا ، دنیا ہی کو دل میں بسا لینا ان کا مطمح نظر نہیں ہوتا۔

بقولِ اکبر الہ آبادی :

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں

بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں

چنانچہ جس طرح دنیا کی طلب ، اس کی تگ و دو آخر کار انسان کو کم و بیش دنیا دے ہی دیتی ہے، اسی طرح انسان آخرت کی کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنے جسم وجان کی تمام توانائیاں کھپادیتا ہے تو اسے آخرت کی فلاح اور ربّ تعالیٰ کی نظر کرم حاصل ہونے کی امید پیدا ہوجاتی ہے۔حدیث مبارکہ میں فرمایا گیا ہے:

’’ایمان والا امید اور خوف کے درمیان رہتا ہے۔‘‘

انسان اپنی کوشش، ارادہ، عزم صمیم ،اپنی خواہش اور طلب کی شدت سے کامیاب اور فتح مند توہوجاتا ہے ۔اس لیے کہ حرکت میں برکت ہے اور اللہ کسی کے عمل کو ضا ئع نہیں کرتا۔بہر حال انسان کو صلہ تو مل ہی جاتا ہے ، کیونکہ اللہ نے انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دے کر دنیا میں بھیجاہے اس کے ہاتھ پیر باندھ کر نہیں ،اور یہ دنیا اور اس کی مصلحتوں تقاضا بھی ہے۔تاہم کامیابی، فتح مندی، شہرت وناموری حاصل کرنا اور پھر اس کو اپنی زندگی میں قائم رکھنا ، دو الگ پہلو ہیں۔ایسے ہی جیسے اس دنیا ا ورآخرت کے قانون بالکل الگ الگ ہیں۔پانی اپنی سطح سے باہر نکل جائے تو ہلاکت کا باعث بن جاتا ہے۔دودھ برتن کے اندر رہے تو بہتر ہے ، مگر وہ آگ کی حرارت سے ابل کر باہر آجائے تو وقت اور پیسہ دونوں ضائع ہوجاتے ہیں۔ان حقائق سے لاعلم ہوکر انسان بعض اوقات اپنی کامیابی ،اپنی شہرت و بلندی اور اپنے مقام و مرتبے کے احساس ِ برتری میں مبتلا ہوکر دوسرے انسانوں کو کمتر، حقیر اور بے وقعت سمجھنے لگتا ہے۔مختلف پیرائے میں ان کی تضحیک و توہین کو اپنا مشغلہ بنا لیتا ہے، کیونکہ اس کے ذہن میں یہ بھرا ہوتا ہے کہ یہ سب جو اسے حاصل ہے اس کی اپنی محنت، حکمتِ عملی اور بہترین منصوبہ بندی کے سبب ہے۔یہ سب میری ذہانت اور عبقریت کا نتیجہ ہے۔یہ وہ باغیانہ افکار و نظر یات ہیں جو انسان کے لیے اللہ سے دوری کا سبب بنتے ہیں۔اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی شکر گزاری کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کو اس کی ہدایت کے مطابق استعمال کیا جائے۔جس عمل میں اللہ کی ہدایت و فرماں برداری شامل نہ ہو وہ کسی اعتبار سے بھی اس کے لیے نعمت اور فلاح کا باعث نہیں بن سکتا۔جو چیز اپنے محل سے ہٹ جائے وہ اپنا مقام اور اپنا اثر کھودیتی ہے۔جس طرح عبارت طویل ہو جائے تو غیر مؤثر ہوجاتی ہے۔اسلام کی تعلیم میں جو سب سے اعلیٰ وصف ہے وہ انسان کا اخلاق ہے اور اس دائرے میں انسانوں کے تمام رویے شامل ہیں۔

انسان عظیم و اشرف مخلوق ہے،اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ علم و دانش کی صلاحیت رکھتا ہے۔انسان کو طاقت،وزن یا رنگ کی بنیاد پر دوسری مخلوقات پر فوقیت نہیں بخشی گئی کیوں کہ چیتا اس سے زیادہ طاقت اور ہاتھی اس سے زیادہ وزن رکھتا ہے۔زیبرا ہر رنگ میں انسان سے زیادہ خوبصورت نظر آتا ہے ۔غرض انسان طاقت،وزن یا صورت کا نام نہیں بلکہ انسانی جوہر کا ہے اور انسانیت کا جوہر وحی سے ہے۔اگر انسان کو علمِ وحی حاصل نہ ہو تو وہ انسان، انسان نہیں رہے گا، گو اس کی صورت انسان جیسی ہو۔لیکن انسان نام انسانی صورت کا نہیں بلکہ انسانی جوہر کا ہے اور انسانیت کا جوہر علمِ وحی ہے۔

جب انسان فطری قوانین (natural laws)کے بر خلاف کام کرتا ہے تو اس کے منفی اثرات اس کی زندگی پر ضرور پڑتے ہیں ۔ کیوں کہ انسان کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ سب کچھ ربّ کائنات کی عطا ہے۔ایک محدود مدت تک یہ سب اس کے پاس رہتا ہے پھر اللہ اپنی امانت واپس لے لیتا ہے۔سچی بات یہ ہے کہ ہماری تو اپنی زندگی اپنی نہیں ہے۔ جس کو بنانے سنوارنے میں انسان جائز ناجائز، حق ناحق اورظلم و زیادتی کے رویوں سے گریز نہیں کرتے ، لیکن پھر بھی ہم سے چھین لی جاتی ہے ہم اور ہمارے چاہنے والے روکنا چاہیں بھی تو روک نہیں سکتے۔بالکل اسی طرح جیسے کچھ پھول شام ڈھلے اپنی پنکھڑیاں سمیٹ کر اپنی رعنایوں کے ساتھ اپنےہی وجود میں سما جاتے ہیں۔ہم چاہیں بھی تو ان سمٹی ہوئی پنکھڑیوں کو پھول نہیں بنا سکتے، کیونکہ قانونِ فطرت یہی ہے۔

اس دنیا میں کتنے ہی انسان ایک لمحے کی خوشی ڈھونڈتے ڈھونڈتے یہ دنیا ہی چھوڑ جاتے ہیں ، اسی کا نام زندگی ہے جسے انسان کو جھیلنا ہی پڑتا ہے۔یہاں حقیقت کو فسانہ بنتے دیر نہیں لگتی ۔کوئی اپنے گھر سے تفریح منانے ،مسائل اور نا خوشگواریوں کی دھول کو اپنے ذہن سے جھٹکنے، مایوسیوں اور کلفتوں کی دبیز چادر کو اپنے اوپر سے اتار پھینکنے ، رزق کی تلاش، حصول علم میں یا محض اپنے شوقِ آوارگی کی تسکین کے لیے کھلی فضاؤں اور یخ بستہ ہواؤں کا لطف لینے سفر پر نکل جاتا ہے، اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ اس کی زندگی کا آخری سفر ہوگا۔روح وبدن کے ساتھ گھر سے چلا تھا اور بے روح ہوکر خاکی جسم کے ساتھ واپس لوٹے گا۔روح وبدن کی اس جدائی کا تسلسل ازل سے جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا کہ یہی منشاء الٰہی ہے جسے کوئی بدلا نہیں سکتا۔ہر انسان حالتِ سفر میں ہے ،کسی کا سفر دو گام چلتے ہی ختم ہوجاتا ہے اور کوئی ایک طویل شاہراہ پر چلتا جاتا ہے۔اس کے قویٰ شل ہونے لگتے ہیں ۔آرزوئیں دم توڑنے لگتی ہیں ۔ جذبات کی سرد لہریں جسم میں خون منجمد کرنے لگتی ہیں مگر سفر پھر بھی ختم نہیں ہوتا۔راستے کی کٹھنائیاں سانسوں کو اتھل پتھل کردیتی ہیں۔چلتے چلتے پاؤں آبلہ پا ہوجاتے ہیں مگر سفر پھر بھی رواں دواں رہتا ہے۔دن ہفتوں میں اور مہینے سالوں کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں ۔چلتے چلتے کوئی مڑ کر دیکھتا ہے تو دور تک ناکام تمناؤں کی گرد اڑتی دکھائی دیتی ہے۔اکیلے پن کا احساس روح کو چھلنی کرتا محسوس ہوتا ہے۔کچھ لوگ دنیا کی کثیر دولت سمیٹ کر بھی خود کو تہی دامن پاتے ہیں ، دولت کے انبار گھر میں ہوتے ہیں جسے دوسرے استعمال کرتے ہیں (یعنی  دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوّے انڈے کھائیں)کے مصداق صاحبِ ثروت کو کھانا بھی ناپ تول کر چمچوں سے کھلا یا جاتا ہے۔کچھ لوگ تنہا اپنی ذات میں انجمن ہوتے ہیں اور بعض لوگ انجمن میں تنہا اور اکیلے اکیلے، یہی اس زندگی کا تضاد ہے، لیکن یہ زندگی کبھی ختم نہیں ہوتی کیونکہ اس کا ایک سرا دنیا ہے تو دوسرا سرا آخرت!

ہر گزرنے ولا دن ہمیں اپنی موت سے قریب تر کررہا ہے۔لیکن سوچنے کا موقع کسی کے پاس نہیں، ہمیں تو ہر آنے والے نئے سال کا جشن منانا یاد رہتاہے۔آگ اور بارود کا کھیل ، بے ہنگم موسیقی پر تھرکتے مدہوش بدن، دنیا و مافیہا سے بے نیاز، بے حیائی ناچتی ہے بال کھولے۔رنگ و نور کی یہ محفلیں پوری رات اپنا جوبن دکھاتی ہیں۔یہ ہے ابنِ آدم کا طرز زندگی اور اس کے شبِ روز کے میلے ٹھیلے ! ہم اس دنیامیں کیوں آئے ہیں؟ ہماری راہ گزر کون سی ہے؟منزل کہاں ہے؟ ہمیں کیا کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے؟ ان سوالوں کے جواب نہ کوئی جانتا ہے اور نہ جاننے کی جستجو اس کے اندر مچلتی ہے۔کیونکہ علم تو خوف پیدا کرتا ہے، اسی لیے نہ جاننا ہی بہتر ہے۔بقولِ عبد الحمید عدم،

میں مے کدے کی راہ سے ہو کر نکل گیا

ورنہ سفر حیات کا کافی طویل تھا

یہ زندگی جشن منانے کے لیے، لطف و سرور کی محفلیں سجانے کے لیے اور مادیت کے جال میں خود کو محصور کرنے کے لیے نہیں دی گئی ہے۔زندگی کا مقصد اُس ذاتِ اقدس کی عبادت میں پنہاں ہے جس نے ہمیں عدم سے وجود بخشا ہے۔ہمارے خاکی وجود میں روحِ ربانی کا لطیف جوہر پھونکا اور ہم جیتے جاگتے انسان بن گئے۔عدم سے وجود بخشنے کے ساتھ ہی بے شمار نعمتوں سے مالا مال بھی کیا گیا۔خالی دامن اس دنیائے فانی میں نہیں بھیجا گیا۔لیکن جیسے ہی ہم عدم سے وجود میں آئے، اپنا وہ عہد ہی بھول گئےجو اپنے خالق سے ہم نے کیا تھا۔ہم سب نے اُس کو اپنا ربّ ہونے کا یک زبان ہوکر گواہی دی تھی، لیکن ہم یہ بھول گئے۔پھر بھی وہ ربّ ذوالجلال ہمیں نہیں بھولا، وہ ہمیں رزق دینے کے ساتھ ساتھ ہماری ہر ضرورت اور احتیاج کو پورا کر رہا ہے۔ہم اسے بھولے ہوئے ہیں مگر وہ ہمیں کبھی نہیں بھولتاہے۔

جدیدت کا تصور یہ ہے کہ انسان کسی خدا اور مذہب کا پابند نہیں ہے۔وہ اپنی آزادی کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی زندگی جس طرح چاہے بسر کرے ۔ماضی ،حال اور مستقبل کے آمیزے سے ایک وحدت ابھر کرسامنے آتی ہے ۔ماضی کے بغیر حال اور حال کے بنا مستقبل کا کوئی وجود نہیں۔مسلمانوں کا شاندار ماضی ایک تحرک ہے، راستے کی رکاوٹ نہیں ۔اقبال نے امت مسلمہ کے ماضی سے متاثر ہوکر اپنی شاعری کی شمعیں فروزاں کیں۔اسلام کے ماضی پر فکر و تدبر کے نتیجہ میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کرنے کا داعیہ دل میں پیدا ہوا۔اور آج پورے کرہ ارض پر احیائی تحریکوں کی اٹھان اسی فکر و نظر کا اعلان ہے کہ ماضی کی پختہ اینٹوں سے ہی حال کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔

فہم و فراست کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنے ماضی کا احتساب کرنا چاہیے کہ ماضی میں کیا کھویا اور کیا پایا، حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کہاں کہاں کوتاہیاں ہوئیں، کس پر ظلم و زیادتی کی، اپنے طرزِ عمل سے لوگوں کو دین سے قریب کیا یا انہیں دین سے دور ہونے کی راہ سجھائی۔آج ہم اس دنیا کے رنگ و بو میں ایسے مست رہتے ہیں کہ آگےپیچھے ، دائیں بائیں کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ہم شیطان کے ہاتھوں میں کٹھ پتیوں کی مانند ناچ رہے ہوتے ہیں۔جس کے نتیجے میں مصائب، ناگہانی آفتیں، عجیب عجیب طرح کی بیماریاں، فرسٹریشن ،شکوک و اوہام اور بے سکونی ہمارے گھروں میں ڈیرے ڈال لیتی ہے۔

دنیا کا اصل لطف اپنے خالق کی بندگی ، عاجزی، فروتنی، پاکیزگی اور شرم و حیا کے احساس کے ساتھ زندگی گزارنے میں ہے۔دوسروں کے لیے زندہ رہنے والا انسان کبھی نہیں مرتا، وہ زندہ رہتا ہےلوگوں کے دلوں میں ، ان کی یادوںمیں ، ان کی خلوت و جلوت میں اور تاریخ کے اوراق میں! کاش اس دنیا میں ہی ہمیں یہ بات سمجھ میں آجائےاور ہمیں اپنی ذات کی صحیح معرفت حاصل ہوجائے جو اللہ کی معرفت تک لے جانے والا راستہ ہے اور یہی ہمارے آنے والے کل کے لیے ہماری نجات کا باعث بن سکتا ہے۔اس کی کامیابی کے لیےہمارا حسن عمل ، خشیت الٰہی، ظاہر و باطن کی نفاست اور اپنے اللہ سے گڑگڑا کر مانگی ہوئی دعا بہترین وسیلہ ہے، : جو ہزار سجدوں سے آدمی کا دیتا ہے نجات۔»

یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ ہر عمل کا ردّعمل ہوتا ہے۔مصیبت کے مارے انسانوں کی بے بسی اور ناگفتہ بہ حالت سے چشم پوشی اختیار کرنا، اپنے ہی عیش و عشرت اور طاؤس و رباب میں مدہوش رہنا ،معاشرے کے محروم طبقے میں تعصب، انتقام اور ظلم کی روش کو جنم دیتا ہے۔اور یہ طرزِ عمل دنیا میں تباہی و بربادی ، خوں ریزی، دہشت گردی، لوٹ مار، چھینا جھپٹی اور حیوانیت کی راہیں ہموار کرتا ہے۔یہ وہ حقائق ہیں جنہیں ہر باشعور انسان خوب جانتا ہے کیونکہ وہ خود بھی اسی ماحول میں زندگی گزار رہا ہے— جو اس وقت دنیا کی باگ ڈور تھامے ہوئے ہیں وہ کٹھور دل، سفاک اور مال و دولت کے پجاری ہیں ، انہیں عوام صرف اس وقت یاد آتے ہیں جب ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بعد وہ اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں تو ان کو یاد ہی نہیں ہوتا کہ ہم کن لوگوں کے کندھوں پر سوار ہوکر مسند اقتدار تک پہنچے ہیں۔

یہ بے حسی ہمارے حکمرانوں کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔ان کے دورِ اقتدار میں کوئی خود کشی کر کے خود مر جائےیا غربت اور مفلسی سے تنگ آکر اپنے معصوم بچوںکو موت کے گھاٹ اتار دے، ان کو اس سے نہ کوئی غرض ہوتی ہے اور نہ کوئی افسوس! ہم بحیثیت امت مسلمہ وہ خوش نصیب اور بختاور لوگ ہیں جن کے پاس ربّ کائنات کی طرف سے انسان کی فوز و فلاح اور اطمینان قلب کے لیے پورا ایک ضابطۂ حیات موجود ہے۔پھر ہمیں کسی خوف اور غم کے سمندر میں ڈوبنے کی کیا ضرورت ہے؟

یہ حقیقت ہےکہ ہر انسان کی اپنی ایک مخصوص فطرت(nature) ہے، جس پر انسان کے ذہن میں پرورش پانے والے ہر تصور کی بنیاد ہے۔یہ وصف ہر انسان میں با لقوہ(potentially)موجود ہے۔مطلب یہ کہ ہر فرد انسان کے کلی تصور یعنی تصور ِ انسان کی ایک مخصوص مثال ہے۔انسان پہلے وجود میں آتا ہے، اپنی ذات کا سامنا کرتا ہے ، کاغذات میں ابھرتا ہے اور پھر کہیں اپنے تصور کی تشکیل کر پاتا ہے۔

انسان صرف اس وقت وجود سے مشرف ہوتا ہے جب وہ کچھ ہو، کچھ کر کے وہ خود کو بنانا چاہتا ہے۔کچھ ہونے کی آرزو محض وجود نہیں ، آرزو یا ارادے سے بالعموم ہماری مراد شعوری طور پر کچھ فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ایسا فیصلہ جو اکثر وبیشتر ہم اپنے آپ کو بنالینے کے بعد کرتے ہیں۔کوئی شے ہمارے لیے اس وقت تک بہتر نہیں ہوسکتی جب تک تمام نوعِ انسان کی اس میں بہتری نہ ہو۔اس حقیقت کا ادراک ہی ہمارے نفس کا اصل جوہر ہے ، یہ نہ ہو تو انسان اینٹ اور پتھر سے زیادہ وقعت دیے جانے کے قابل نہیں۔

انسان کا طرزِ عمل دراصل عکس ہوتا ہے اس کی فکر اور سوچ کا۔انسان کے کردار پر اس کی سوچ کا گہرا اثر پڑتا ہے۔جس طرح کے عقائد و نظریات ہوں گے ، اعمال بھی اسی کے مطابق ہوں گے۔گویا انسان کا نظریہ زندگی ہی اس کے تمام اعمال و افعال پر حکمرانی کرتا ہے۔بعض لوگ اپنے غیر مناسب طرزِ عمل اور غیر اخلاقی رویوں سے زندگی کی ڈور کو سلجھانے کے بجائے کچھ اور الجھا دیتے ہیں۔کیونکہ سرا گم ہوجائے تو ڈور میں الجھاوا بڑھتا ہی جاتا ہے۔شعور و ادراک ہی انسان کی وہ قیمتی متاع ہے جو زندگی کی ہر راہ کو ہموار کر دیتے ہیں۔الجھنیں تو آتی رہتی ہیں ، حالات و معاملات میں گرہیں پڑتی رہتی ہیں مگرفہم و فراست کے حامل انسان کی ایک چٹکی ان تمام گروہوں کو اس طرح کھول دیتی ہے جیسے طلوع سحر کے وقت شاخوں میں لگی کلیاں انگڑائیاں لے کر خوشنما اور دیدہ زیب پھول بن جاتی ہیں۔ ایک کامیاب ، بھر پور اور جوہر ِ انسانیت سے معمور زندگی کوئی سات پردوں میں چھپی ہوئی شے نہیں ہے ، بلکہ ہر فرد کو اپنے فکرو عمل،اپنی غیر فطری (unnatural) نفسیات اور زیغ و ضلال (deception)سے دھند لائے ہوئے آئینہ کی گرد صاف کرنے کی ضرورت ہے۔انسانیت کا بے داغ اور منور چہرہ نکھر کر سامنے آجائے گا۔اور پھر زندگی کی ہر الجھی ہوئی ڈور سلجھتی چلی جائے گی، آگہی کا نور دل کے بند دریچوں کوکھول دے گا۔اور حیرت و استعجاب کے دبیز پردے یوں اٹھتے چلے جائیں گے جیسے چاند کے اوپر آئےگہرےبا دل دھیرے دھیرے سرکتے جاتے ہیں۔اورچاند کی نرم و گداز کرنیں آسمان کی وسعتوں میں چہار سو اپنی پوری تابناکیوں کے ساتھ بکھر جاتی ہیں۔

حج وعمرہ اور آج کل کے مسلمان

حج وعمرہ اور آج کل کے مسلمان

ان دنوں حج و عمرہ کے تعلق سے ہم عجیب وغریب منظر دیکھتے ہیں ، لگتا ہی نہیں یہ کوئی عبادت ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے یہ کوئی دنیاوی فنکشن ہے۔ حج وعمرہ پہ جانے سے پہلے رشتہ داروں سے دعوتی ملاقات، محلے میں حاجی اور معتمر کی دعوتوں کی لمبی قطار ، گھر پہ اجتماع پہ اجتماع ، مکہ جاتے وقت گلے میں ہارومالا پہناپہناکر راجاؤں مہاراجاؤں کی طرح رخصتی مانو کسی ملک کو فتح کرنے جارہے ہیں۔ پھردوران عبادت مکہ میں مختلف قسم کے اعمال جو عبادت کےلئے نقصان دہ ہوتے ہیں وہ کئے جاتے ہیں ۔ ان میں ایک کام لمحہ بہ لمحہ کی تصویر کشی یا عبادت کرتے ہوئے ویڈیو کالنگ تاکہ اپنی عبادت کو دکھاسکیں۔

بیت اللہ سے واپسی اور اپنے گھر پہنچنے پراستقبال کا منظر بھی بیحد افسوسناک ہوتا ہے۔ پھول مالا لئے ملنے والوں کی ایک لمبی قطار جو مالا پہناپہناکر ملک و قلع فتح کرلینے جیسی مبارکبادی دیتی ہے، بعدہ اسے سرٹیفائڈحاجی اور معتمرکالقب مل جاتاہے پھرمرتے دم تک بلکہ مرنے کے بعد بھی حاجی صاحب ، حاجی صاحب کے لقب سے پکارے جانے لگتے ہیں۔ العیاذ باللہ

ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ حج اور عمرہ عظیم عبادت ہے اور عبادت کی قبولیت کے لئے اخلاص نیت اوراتباع سنت ضروری ہے۔ بغیر اخلاص اور بغیراتباع رسول کے حج وعمرہ قبول نہیں ہوگا بلکہ دین کا کوئی عمل اس کے بغیر قبول نہیں ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آج کل کے حج و عمرہ میں نہ اخلاص ہے اور نہ ہی اتباع رسول ہے۔

اخلاص اس لئے نہیں ہے کہ لوگوں کو دکھانے کے لئے حج وعمرہ کیا جارہا ہے ، جو اخلاص کے ساتھ حج وعمرہ کرے گا وہ کبھی اپنی عبادت کا پرچار نہیں کرے گا۔لوگوں کو اپنے گھربلابلاکراجتماع کرنا، گھر گھر جاکردعوت کھانا، گاؤں گاؤں گھوم کراپنے پرائے سب سےملاقات کرنایہ سب اخلاص کے منافی ہیں۔

اور اتباع سنت اس لئے نہیں کہ ہمیں نبی ﷺ اور آپ کے پیارے اصحاب کی زندگی میں حج یا عمرہ کی انجام دہی میں اس قسم کا کوئی نمونہ نہیں ملتا ، اور کیسے ملے گا ، یہ تو شہرت کی باتیں ہیں جو اخلاص کے منافی اور عمل کو غارت کرنے والی ہیں۔

گویا عبادت کی قبولیت کی دونوں شرطیں آج کل کے اکثر حج وعمرہ انجام دینے والوں میں نہیں پائی جاتیں۔پھر ایسی عبادت کا انجام کیا ہوگا۔ آئیے نبی ﷺ کی حدیث دیکھتے ہیں ۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

قیامت کے روز سب سے پہلا شخص جس کے خلاف فیصلہ آئے گا، وہ ہو گا جسے شہید کر دیا گیا۔ اسے پیش کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی (عطا کردہ) نعمت کی پہچان کرائے گا تو وہ اسے پہچان لے گا۔ وہ پوچھے گا تو نے اس نعمت کے ساتھ کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے تیری راہ میں لڑائی کی حتی کہ مجھے شہید کر دیا گیا۔ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا تو نے جھوٹ بولا۔ تم اس لیے لڑے تھے کہ کہا جائے: یہ (شخص) جری ہے۔ اور یہی کہا گیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا تو اس آدمی کو منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یہاں تک کہ آگ میں ڈال دیا جائے گا اور وہ آدمی جس نے علم پڑھا، پڑھایا اور قرآن کی قراءت کی،اسے پیش کیا جائے گا۔ (اللہ تعالیٰ) اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا، وہ پہچان کر لے گا، وہ فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں کے ساتھ کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم پڑھا اور پڑھایا اور تیری خاطر قرآن کی قراءت کی، (اللہ) فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا، تو نے اس لیے علم پڑھا کہ کہا جائے (یہ) عالم ہے اور تو نے قرآن اس لیے پڑھا کہ کہا جائے: یہ قاری ہے، وہ کہا گیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا، اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا حتی کہ آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ اور وہ آدمی جس پر اللہ نے وسعت کی اور ہر قسم کا مال عطا کیا، اسے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا، وہ پہچان لے گا۔ اللہ فرمائے گا: تم نے ان میں کیا کیا؟ کہے گا: میں نے کوئی راہ نہیں چھوڑی جس میں تمہیں پسند ہے کہ مال خرچ کیا جائے مگر ہر ایسی راہ میں خرچ کیا۔ اللہ فرمائے گا: تم نے جھوٹ بولا ہے، تم نے (یہ سب) اس لیے کیا تاکہ کہا جائے، وہ سخی ہے، ایسا ہی کہا گیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا، تو اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم: 1905)

اس حدیث سے آپ نے جان لیا کہ شہرت کے لئے جہاد کرنا، شہرت کے لئے علم حاصل کرنااور شہرت کے لیے مال خرچ کرنا جہنم میں لے جانے کا سبب ہے تو جو شہرت کے لیے حج یا عمرہ کرےوہ اپنا مال بھی ضائع کرتا ہے، وقت بھی ضائع کرتاہے اور ایسے آدمی کا بھیانک انجام یہ ہوگا کہ اسے گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ اللہ ہمیں شہرت سے بچائے۔

اسلامی بھائیواور بہنو!ہمیں اپنے رب سے ڈرنا چاہئے اور عبادت کی انجام دہی میں اخلاص وللہیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسوہ رسول کو اپنانا چاہئے۔

عمرہ کے تعلق سے ایک بات مزید واضح کرنا چاہتا ہوں کہ آج کل حرم شریف میں زمین پر اصل مطاف میں بغیر احرام کے طواف کرنے پر پابندی لگی ہوئی ہے تو وہ لوگ جو صرف طواف کرنا چاہتے ہیں نیچے طواف کرنے کے لئے احرام کا لباس پہن لیتے ہیں ۔ یہ عمل شرعا بھی غلط ہے اور قانونا بھی ۔ شرعا اس لئے کہ نبی ﷺ جب فتح مکہ کے موقع پر طواف کرتے ہیں تو بغیر احرام کے طواف کرتے ہیں اس لئے صرف طواف کرنے کے لئے احرام باندھنے کی ضرورت نہیں ہے اور قانونی طور پر غلط تو ہےہی۔

آخر میں اپنے مسلمان بھائیوں کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ اپنے حج وعمرہ میں اخلاص پیداکریں،حج یا عمرہ کرنے سے پہلے یا دوران حج وعمرہ یا حج وعمرہ کے بعد ایسے کام کرنے سے بچیں جو آپ کی عبادت کو برباد کردے، آپ یہ نہ کہیں کہ لوگ ایسا کرتے، ہم ان لوگوں کو ایسا کرنے کا حکم نہیں دیتے ۔ نہیں یہ آپ کرتے ہیں کیونکہ آپ کے ساتھ یہ ہوتا ہےاور آپ صاحب معاملہ ہیں۔آپ چاہیں تو یہ سب کام ہوتے رہیں گے اور آپ نہ چاہیں تو یہ سب کام بند ہوجائیں گے۔

آپ کو کوئی آگ پر چلنے کو کہےیا گولی مارنے کوکہے آپ انکار کردیں گے، پھر جو لوگ آپ کے حج کو برباد کرنے میں لگے ہیں ، ان کے حساب سے کیوں چلتے ہیں؟۔ آپ حج کررہے ہیں اور آپ صاحب معاملہ ہیں تو آپ کے ساتھ ہونے والے معاملات کامکمل آپ ہی ذمہ دار ہیں۔ اس لئے خدارا ! عبادت کو عبادت ہی رہنے دیں، اس کو کھیل تماشہ، رسم ورواج اور فنکشن نہ بنائیں۔ یہ بڑی عظیم عبادت ہے ، زندگی میں ایک بار ہی حج فرض ہے ، زندگی بھر کی ایک عظیم عبادت کو اللہ کی رضا کے لئے انجام دیں۔ خود بھی غلط کاموں سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔ وماعلینا إلاالبلاغ المبین

حلال وحرام کا بیان

اسلام  کے نظریہ حلال و حرام کے حوالے سے سابقہ شمار ہ میں قرآن مجید سے ماخوذ تین  اصول بیان  کیے گئے تھے یہ اصول اس حوالے سے بنیاد کا درجہ رکھتے ہیں  اس لئے قرآن پاک میں ان کی  جا بجا  تاکید ملتی ہے  یہ اصول  درج  ذیل  ہیں:

حلت و حرمت کا تعلق  شارع سے ہے اور  اس میں انسانی عقل کا کوئی  عمل و دخل نہیں ہے۔

کائنات میں موجود تمام اشیاء کی تخلیق انسانوں کیلئے ہوئی ہے، اس لئے ہر چیز کا  اصل حکم اباحت (جائز)کا ہے۔

طیبات  حلال اور خبیث و ناپسندیدہ اشیاء حرام ہیں۔

ان تینوں کی مکمل وضاحت کے لیے مجلہ اسوۃ حسنہ کا سابقہ شمار ہ ملاحظہ کیجیے ۔ اس حوالے سے ذخیرہ احادیث سے منتخب احادیث اور ان کے تحقیقی فوائد درج کیے جا رہے ہیں تاکہ سابقہ تینوں اصولوں کی  فہم و تفہیم مزید آسان ہو جائے۔ 

حلال و حرام کا بیان  (1)

عن أبي ثعلبة إِنَّ اللهَ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوهَا، وَنَهَى عَنْ أَشْيَاءَ فَلَا تَنْتَهِكُوهَا، وَحَدَّ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا، وَغَفَلَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تَبْحَثُوا عَنْهَا (الطبراني، سليمان بن أحمد بن أيوب بن مطير اللخمي الشامي، أبو القاسم الطبراني المتوفى: 360ه، المعجم الکبیر للطبرانی، ح: 18035، ج: 16، ص: 93)

’’رسول اللہﷺ نے فرمایا: « اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں فرض کی ہیں، سو اُن کو ضائع مت کرو اور کچھ حدود مقرر کی ہیں سو اُن سے تجاوز مت کرو۔ اور کچھ چیزوں کو حرام کیا ہے سو اُن کا ارتکاب نہ کرو اور کچھ چیزوں سے خاموشی اختیار فرمائی ہے تم پر رحمت کی وجہ سے نہ کہ بھول کر۔ سو تم اُن چیزوں کا تجسس نہ کرو‘‘۔

مذکورہ  بالا حدیث حلال و حرام کے احکام سے متعلق انتہائی جامع اور اہم حدیث ہے۔ چنانچہ بعض محدثین کے بقول رسولﷺ کی احادیث میں کوئی حدیث بھی تنہا علمِ شریعت کے اصول و فروع کو اتنی جامع نہیں جتنی سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی یہ روایت ہے۔

عَنْ أَبِي وَاثِلَةَ الْمُزَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدِّينَ فِي أَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، ثُمَّ ذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي ثَعْلَبَةَ (ابن رجب، الإمام الحافظ الفقيه زين الدين أبي الفرج عبد الرحمن بن شهاب الدين البغدادي ثم الدمشقي‍، جامع العلوم والحكم، دار المعرفة بيروت، الطبعة الأولى 1408ھ، ج:1، ص:277)

’’سید نا واثلہ مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے پورے دین کو چار کلمات میں جمع کردیا ہے۔ پھر انہوں نے سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث ذکر فرمائی‘‘۔

قَالَ أَبُو بَكْرٍ السَّمْعَانِيُّ: هَذَا الْحَدِيثُ أَصْلٌ كَبِيرٌ مِنْ أُصُولِ الدِّينِ (ابن رجب، الإمام الحافظ الفقيه زين الدين أبي الفرج عبد الرحمن بن شهاب الدين البغدادي ثم الدمشقي‍، جامع العلوم والحكم، دار المعرفة بيروت، الطبعة الأولى 1408ھ، ج:1، ص:277)

’’اورامام ابوبکر سمعانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث دین کے اصولوں میں سے ایک بڑا اصول ہے‘‘۔

اس حدیث کی مختصر تشریح یہ ہے کہ  رسول اللہﷺ نے پورے دین پر عمل کا یہ نسخہ ارشاد فرمایا ہے کہ فرائض یعنی جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے اُن پر عمل ہو، محرمات یعنی اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے اجتناب ہو اور مسکوتات یعنی جن چیزوں کے بارہ میں قرآن و حدیث میں خاموشی ہو اُن کے بارے میں تجسس  نہ کیا جائے۔

اس حدیث سے یہ اہم اصول معلوم ہوتا ہے کہ:

 جس چیز کے حلال یا حرام ہونے کا قرآن و سُنت میں کہیں ذکر نہ ہو وہ مباحات میں داخل ہے۔

تاہم اس سلسلے میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ: کسی چیز کے حرام ہونے کیلئے یہ ضروری نہیں کہ قرآن و حدیث میں اس کا ذکر صریح آئے۔

 بلکہ کسی عام اصول کے ضمن میں اس کا ذکر ہوجانا بھی کافی ہے۔ لہٰذا اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ جس چیز کا صراحتاً یا تبعاً کسی بھی طرح قرآن و حدیث میں ذکر نہ ہو وہ مباح اور معاف ہے۔

حلال و حرام کا بیان(2)

مَا أَحَلَّ اللهُ فِي كِتَابِهِ فَهُوَ حَلَالٌ وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَافِيَةٌ فَاقْبَلُوا مِنَ اللهِ عَافَيْتَهُ فَإِنَّ اللهَ لَمْ يَكُنْ نَسِيًّا ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا} [مريم: 64]  (الحاكم، أبو عبد الله الحاكم محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه بن نُعيم بن الحكم الضبي الطهماني النيسابوري المعروف بابن البيع، المستدرك على الصحيحين، دار الكتب العلمية بيروت، الطبعة الأولى،1411– 1990، باب تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، ج: 2، ص: 406، ح: 3419)

’’رسول اللہﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال فرما دیا  حلال ہے اور جو کچھ حرام فرما دیا حرام ہے، اور جس چیز سے خاموشی اختیار فرمائی ہے وہ معاف ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی اس کی عافیت کو قبول کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو بھولا نہیں کرتے۔ پھر آپﷺ نے سورۃ مریم کی آیت تلاوت فرمائی‘‘۔

اس حدیث میں یہ اصول بیان ہوا ہے کہ:

حلال و حرام صرف وہی چیز کہلا سکتی ہے جس کی حرمت یا حلت اللہ کی کتاب میں موجود ہے۔

تاہم اس سے متعلق بھی ایک تو وہی وضاحت ہے جو اوپر ذکر ہوئی کہ کتاب اللہ میں حلت یا حرمت ذکر ہونے کی دونوں صورتیں ہیں: ایک یہ کہ صراحتاً ذکر ہو، دوسرے یہ کہ کسی عام اصول کے ضمن میں ذکر ہو۔

دوسری وضاحت یہ ہے کہ کتاب اللہ سے مراد بھی کتاب و سُنت دونوں ہیں چنانچہ اسی طرح کی ایک روایت امام ابو داؤدرحمہ اللہ نے  سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ  سے بھی روایت کی ہے جس میں یہ اضافہ ہے کہ: 

كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَأْكُلُونَ أَشْيَاءَ وَيَتْرُكُونَ أَشْيَاءَ تَقَذُّرًا فَبَعَثَ اللهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ وَأَنْزَلَ كِتَابَهُ وَأَحَلَّ حَلاَلَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ فَمَا أَحَلَّ فَهُوَ حَلاَلٌ وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَفْوٌ وَتَلاَ (قُلْ لاَ أَجِدُ فِيمَا أُوحِىَ إِلَىَّ مُحَرَّمًا) إِلَى آخِرِ الآيَةِ. (أبو داود سليمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشير بن شداد بن عمرو الأزدي السِّجِسْتاني، سنن أبي داود، دار الكتاب العربي  بيروت، باب مَا لَمْ يُذْكَرْ تَحْرِيمُهُ، ج: 3، ص: 417، ح: 3802)

’’زمانہ جاہلیت کے لوگ کچھ چیزیں کھا لیا کرتے تھے اور کچھ چیزوں کو گندا سمجھ کر چھوڑ دیا کرتے تھے۔ سو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی بھیج کر اور اپنی کتاب نازل فرما کر حلال چیزوں کو حلال اور حرام چیزوں کو حرام قرار دیا۔ لہذا جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال فرما دیا ہے وہ حلال ہے اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرما دیا ہے وہ حرام ہے، اور جس چیز سے اللہ تعالیٰ نے خاموشی اختیار فرمائی ہے وہ معاف ہے۔ پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے سورہ انعام کی آیت تلاوت فرمائی‘‘۔

سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے اسی روایت کی ایک اور سند سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں اس طرح  ہے کہ:آپﷺ سے گھی، پنیر اور پوستین کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس کے جواب میں آپﷺ نے مذکورہ بالا الفاظ ارشاد فرمائے۔

حلال و حرام کا بیان (3)

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِﷺ يَقُولُ: الْحَلاَلُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ لاَ يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَى الْمُشَبَّهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِيِنِهِ وَعِرْضِهِ ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ كَرَاعٍ يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ أَلاَ وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى أَلاَ إِنَّ حِمَى اللهِ فِي أَرْضِهِ مَحَارِمُهُ أَلاَ وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلاَ وَهِيَ الْقَلْبُ (البخاري، محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة البخاري، أبو عبد الله، الجامع الصحيح، دار الشعب القاهرة، الطبعة: الأولى، 1407-1987 کتاب بدء الوحي، باب فَضْلِ مَنِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ، ج:1، ص:20، ح:52)

’’سیدنا  نعمان بن بشیررضی اللہ عنہ  سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سُنا کہ بے شک حلال واضح ہے اور بے شک حرام واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ پس جو شخص شبہات سے بچا، اس نے اپنے دین و آبرو کو بچالیا اور جو شبہات میں پڑا وہ حرام میں پڑگیا۔ جیسے چرواہا جو چراگاہ کے اردگرد بکریاں چراتا ہے ، قریب ہے کہ چراگاہ میں چرا لے، اور بے شک ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے، اور سُنو! اللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور سُنو! انسانی جسم میں ایک ٹکڑا ہے، جب وہ تندرست ہوتا ہے تو سارا جسم تندرست ہوتا ہے اور جب وہ خراب ہوتا ہے تو سارا جسم بیمار ہوجاتا ہے، سنو وہ ٹکڑا دل ہے‘‘۔

یہ حدیث احکام حلال و حرام اور مشتبہات کے سلسلے میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے ۔ ہم اس حدیث کو بنیاد بنا کر احکام کے تینوں جوانب یعنی حلال و حرام اور مشتبہات کے بارے میں بات کریں گے ۔

امام ابو داؤد رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

أصول السنن في كل فن أربعة أحاديث: إنما الأعمال بالنيات وحديث الحلال بين والحرام بين. وحديث من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه. وحديث ازهد في الدنيا يحبك الله، وازهد فيما في أيد الناس يحبك الناس (ابن رجب؛ عبد الرحمن بن أحمد بن رجب الدمشقي، أبو الفرج، زين الدين، جامع العلوم والحكم في شرح خمسين حديثا من جوامع الكلم، دار ابن كثير، بيروت، 2008،  ج:1، ص: 30)

’’دین کے احکامات میں درج ذیل چار احادیث بنیادی اہمیت کی حامل ہیں :

إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ     
الْحَلَالُ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ
مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ
ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبَّكَ اللهُ۔۔۔۔

اس حدیث میں استعمال ہونے والی اشیاء کی تین اقسام بتائی گئی ہیں:

1. حلال

2.  حرام

3.مشتبہات

یعنی  بنی نوع انسان کے استعمال میں کائنات میں جتنی بھی اشیاء ہیں وہ شرعی حکم کے اعتبار سے تین انواع میں سے کسی ایک نوع میں شمار کی جا سکتی ہیں جن کا ذکر اس حدیث میں کیا گیا ہے۔

حلال و حرام کے بعد مشتبہ چیزوں سے بچنے کا حکم دے کر «حمی» کی مثال سے اس کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔››حمی›› اس چراگاہ کو کہاجاتا تھا جسے زمانہ جاہلیت میں کوئی بادشاہ یا سردار اپنے لئے مخصوص کر کے یہ اعلان کردیتا تھا کہ اس چراگاہ میں کسی اور کو اپنا جانور چرانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس حدیث میں حمی کی مثال سے مشتبہ امور سے بچنے کی اہمیت واضح فرمائی کہ جس طرح وہاں پر عام لوگ اس خوف سے حمی کے اردگرد اپنا جانور نہیں چراتے تھے کہ اگر جانور بھٹک کر اس حمی کے اندر چلا جائے گا تو یہ بادشاہ کی سزا کا باعث بن جائے گا، اسی طرح مشتبہ امور کا ارتکاب بھی ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی حمی کے اردگرد رہنا، جس میں اس بات کا خطرہ ہے کہ کہیں بندہ محرمات کا ارتکاب کرکے اللہ تعالیٰ کی سزا کا مستحق نہ ہوجائے۔

اس حدیث کا جملہ  ’’جو آدمی مشتبہات میں پڑ جائے وہ حرام میں پڑ جاتا ہے‘‘  کا مطلب یہ ہے کہ: جو چیز مشتبہ ہو اور آدمی کو اس کے حلال یا حرام ہونے کا علم نہ ہو، اگر آدمی اس میں احتیاط نہ کرے تو ہوسکتا ہے کہ وہ چیز حقیقت میں حرام ہو اور اس میں پڑنے سے آدمی اس طرح حرام میں واقع ہوجائے کہ ا س کو پتہ نہ چلے۔

جیساکہ معجم طبرانی میں روایت  ہے:

كَالْمُرْتِعِ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَ الْحِمَى وَهُوَ لَا يَشْعُرُ (الطبراني، سليمان بن أحمد بن أيوب، المعجم الکبیر،ح: 384، ج: 11، ص: 211)

’’یعنی جو جانور چراگاہ کے گرد چرتا ہے وہ چراگاہ میں داخل ہوجاتا ہے، جبکہ اس کو پتہ بھی نہیں ہوتا‘‘۔

بسااوقات مشتبہات میں مبتلا ہونا آدمی کو صریح حرام تک پہنچا سکتا ہے۔  جیسا کہ اس روایت میں ہے:

مَنْ تَهَاوَنَ بِالْمُحَقَّرَاتِ، يُوشِكُ أَنْ يُخَالِطَ الْكَبَائِرَ (ابن رجب، زين الدين عبد الرحمن بن أحمد، جامع العلوم والحكم في شرح خمسين حديثاً من جوامع الكلم، دار السلام، الثانية، 1424 هـ – 2004 م، ج: 1، ص: 215، (ضعيف)

’’جو شخص چھوٹی اور حقیر سمجھی جانے والی چیزوں میں غفلت سے کام لیتا ہے اور انہیں معمولی تصور کرتا ہے وہ بڑے گناہوں میں پڑ جانے کے بہت قریب ہوتا ہے۔‘‘

اور اسی مفہوم میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بھی ہے کہ:

أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ((إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ فَإِنَّهُنَّ يَجْتَمِعْنَ عَلَى الرَّجُلِ حَتَّى يُهْلِكْنَهُ))، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ لَهُنَّ مَثَلًا: كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا أَرْضَ فَلاةٍ، فَحَضَرَ صَنِيعُ الْقَوْمِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْطَلِقُ، فَيَجِيءُ بِالْعُودِ، وَالرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْعُودِ، حَتَّى جَمَعُوا سَوَادًا، فَأَجَّجُوا نَارًا، وَأَنْضَجُوا مَا قَذَفُوا فِيهَا (ابن حنبل؛ أحمد بن محمد بن حنبل، أبو عبد الله، الشيباني، المسند، مؤسسة الرسالة، دمشق، 2009، رقم الحديث3818)

’’چھوٹے گناہوں سے بھی اپنے آپ کو بچاؤ، کیونکہ بعض اوقات بہت سے چھوٹے گناہ بھی اکٹھے ہو کر انسان کو ہلاک کر دیتے ہیں اور نبی (ﷺ) نے اس کی مثال اس قوم سے دی جنہوں نے کسی جنگل میں پڑاؤ ڈالا، کھانے کا وقت آیا تو ایک آدمی جا کر ایک لکڑی لے آیا، دوسرا جا کر دوسری لکڑی لے آیا یہاں تک کہ بہت سی لکڑیاں جمع ہوگئیں اور انہوں نے آگ جلا کر جو اس میں ڈالا تھا وہ پکا لیا۔‘‘

لہذا یہ حدیث اصولی طور پر ‘›سدِ ذریعہ›› کے معروف اصول کی اساس بنتی ہے یعنی اسلام اپنےماننے والوں کو نہ صرف حرام سے روکتا ہے بلکہ ایسی مشتبہ چیزوں سے بھی روکتا ہے جن میں مبتلا ہونےسے اس امر کا اندیشہ ہو کہ لوگ  حرام میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ اس اصول کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے جس میں اللہ تعالی بندوں کو حکم دیتے ہیں کہ : ’’ولا تقربوا الزنا‘‘ کہ زنا کے قریب بھی نہ جاؤ ، اس سے مراد زناتو حرام ہے ہی زنا کی طرف لے جانے والے راستے بھی حرام ہیں ان کے بھی قریب نہ جاؤ مبادا تمہیں یہ راستے زنا میں مبتلا نہ کردیں۔

اللہ ہی حاکم ہے اس کے سوا کسی کا حکم نہیں چلنا چاہیے


﴿اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ﴾

’’سن لو! پیدا کرنا اور حکم دینا ’’اللہ‘‘ ہی کا کام ہے ، ’’اللہ‘‘ بہت برکت والا اور سارے جہانوں کا رب ہے۔‘‘(الاعراف:۵۴)

حضرات! اللہ تعالیٰ کے احکم الحاکمین ہونے کے ثبوت اور اس کی حاکمیت کے دلائل جاننے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم ’’اللہ‘‘ کی ذات کا ایک جامع تصور اپنے ذہن میں تازہ کریں ، تاکہ ہمارے ایمان میں تازگی اور ایقان میں پختگی اور ’’اللہ تعالیٰ‘‘ سے تعلق میں وارفتگی پیدا ہو جائے کہ ہم نے اسے کیوں اپنا حاکم ماننا اور ہر حال میں کس لئے اس کا حکم تسلیم کرنا ہے۔ ہم نے اس لیے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کا حکم ماننا ہے کیونکہ وہ صرف ہمارا خالق ، مالک، رازق معبودہی نہیں بلکہ وہ ہمارا بادشاہ اور حاکم بھی ہے ، اس کا فرمان ہے:

﴿ا۟لَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرً﴾ (الفرقان: ۲)

’’اللہ ‘‘ ہی کے لیے زمین وآسمانوں کی بادشاہی ہے، اس نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا اور اس کی بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے، اس نے ہرچیز کوپیدا کیا اور پھراس کی تقدیر مقرر فرمائی۔ ‘‘

﴿فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ﴾ ( یٰس: ۸۳)

’’پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اقتدار ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جانے والے ہو۔ ‘‘

﴿هُوَ اللّٰهُ الَّذِيْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ﴾ ( الحشر: ۲۳)

’’وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ بادشاہ ہے نہایت پاک، سراسر سلامتی والا ، امن دینے والا، نگرانی کرنے والا، اپنا حکم نافذ کرنے پر پوری طرح بااختیار اوربلند و بالاہے ۔‘‘

﴿اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَؒ۰۰۸﴾ ( التین: ۸)

’’کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں؟ ‘‘

اس کے ہر حکم میں حکمت اور خیر خواہی پائی جاتی ہے۔ اس لیے کسی کو اختیار حاصل نہیں کہ وہ لوگوں کو اپنا بندہ بنائے اور ان پر اپنا حکم چلائے۔ لہٰذا انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اسی کا حکم چلنا چاہئے کیونکہ وہ سب سے بڑا حاکم ہے۔

﴿اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ﴾ ( الأعراف:۵۴)

’’بے شک تمہارا رب ’’اللہ‘‘ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیداکیا، پھرعرش پر مستوی ہوا ،وہ رات کو دن پراوڑھاتا ہے جو تیز چلتاہوا، رات کے پیچھے چلاآتا ہے، سورج، چاند اور ستارے ہیں جو اس کے حکم کے تابع ہیں، سن لو! پیدا کرنا اور حکم دینا اللہ ہی کا کام ہے ، اللہ تعالیٰ بڑی برکت والا اور سارے جہانوں کا رب ہے۔‘‘

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو حاکم تسلیم کروانے اور اپنا حکم منوانے کے لئے اپنی قدرت اور خالق ہونے کی بڑی بڑی نشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جس ’’اللہ ‘‘ کا تم نے حکم ماننا ہے وہی تمہارا رب ہے اور اسی نے سات آسمانوں اور زمینوں کو چھ دن میں پیدا کیا پھر اپنی شان کے مطابق عرش پر جلوہ افروز ہوا وہی رات اور دن کے نظام کو چلانے والا اور اسی نے سورج، چاند اور ستاروں کو مسخر کر رکھا ہے۔ لوگو! کان کھول کر سُن لو وہی سب کو پیدا کرنے والا ہے اس لیے حکم بھی اسی کا چلنا چاہئے ۔کیونکہ وہ بڑا برکت والا اور رب العالمین ہے۔

اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات اور اس کے اہم ترین ارکان کا نام لے کر بتلایا ہے کہ یہ میرے تابع اور میرے حکم پر اپنا اپنا کام کر رہے ہیں۔ اے انسان تو اپنے آپ پر غور کر کہ ان کے مقابلے میں تیری حیثیت تو نہایت معمولی ہے جب کائنات کے بڑے، بڑے ارکان میرے حکم پر چل رہے ہیں تو تجھے بھی میرا حکم ماننا چاہئے ۔

 ﴿ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيْرِ﴾ (المؤمن: ۱۲)

’’حکم دینے کا اختیار ’’اللہ‘‘ بزرگ وبرتر کے پاس ہے۔‘‘

یہی بات سیدنا یعقوبu نے اپنے بیٹوں کو اور سیدنا یوسفu نے اپنے قید کے ساتھیوں کو سمجھائی تھی۔

﴿ وَ قَالَ يٰبَنِيَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِيْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ﴾

’’یعقوبuنے فرمایا: اے میرے بیٹو !ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا، میں اللہ کی طرف سے آنے والی تم سے کسی چیز کو ٹال نہیں سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سوا کسی کا حکم نہیں چلتا، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اورلازم ہے کہ بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کیا کریں۔‘‘ ( یوسف:۶۷)

سیدنا یعقوبu کی نصیحت سے معلوم ہوتا ہے کہ ملکِ مصر میں قحط سالی کی وجہ سے امن وامان کا مسئلہ بھی پیدا ہو چکا تھا۔ جیساکہ عام طور پر ایسے حالات میں ہو جایا کرتا ہے۔ اس صورتحال میں گیارہ آدمیوں کا جتھا جو کہ ایک سے ایک بڑھ کر کڑیل جوان اور حسن و جمال کے پیکر تھے۔ ایسے اجنبیوں کو انتظامیہ مشکوک نگاہوں سے دیکھے بغیر نہیں رہ سکتی اور یہ بھی ممکن ہےکہ انتظامیہ نے مصر میں امن و امان برقرا ر رکھنے کے لیے دفعہ 144جیسا کوئی قانون لگا کر رکھا ہو۔ اس صورتِ حال کے پیش نظر سیدنا یعقوب uنے اپنے بیٹوں کو نصیحت فرمائی کہ بیٹا تم وہاں اجنبی اور پردیسی ہو گے۔ اس لیے تمھیں ایک جتھے کی شکل میں ایک ہی دروازے سے داخل ہونے کی بجائے مختلف دروازوں سے شہر میں داخل ہونا چاہیے ۔ یہ میری احتیاطی تجویز ہے ورنہ میرا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے اور اس تجویز پر عمل کرتے ہوئے تمہارا بھی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات پر بھروسہ کرنے والوں کے معاملات آسان کو فرما دیتا ہے ۔

سیدنا یوسفu بے گناہ ہونے کے باوجود پابند سلاسل کر دیے گئے۔ اس حالت میں بھی انہوں نے اپنی دعوت کا سلسلہ جاری رکھا چنانچہ وہ اپنے ساتھیوں کو سمجھاتے ہیں کہ حقیقی حاکم تو اللہ تعالیٰ ہے۔

﴿مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّيْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ ﴾ ( یوسف:۴۰)

’’جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سِوا عبادت کرتے ہو یہ تم نے اور تمہارے باپ دادا نے محض نام رکھ لیے ہیں، سوائے ناموں کے تم کسی کی عبادت نہیں کرتے۔ اللہ نے ان کے بارے کوئی دلیل نہیں اُتاری۔ حکم دینے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اس نے حکم دیاہے کہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو، یہی اصل دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔ ‘‘

سیدنا یوسف u نے اپنے قید کے ساتھیوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ بالآخر اللہ تعالیٰ کا حکم نافذ ہو کر رہتا ہے کیونکہ حکم دینا ’’اللہ‘‘ کا اختیار اور کام ہے۔ یوسف نے دین قیم کے الفاظ استعمال فرما کر قیدی ساتھیوں کو یہ بھی سمجھایا کہ جس کے پاس عقیدۂ توحید نہیں ، اس کے پاس کچھ بھی نہیں بے شک وہ کتناپاکبازاور دیندار ہونے کے دعوے کرتا پھرے۔ حقیقی معبود تو ’’اللہ تعالیٰ ہے۔مگر اکثر اس بات کو جاننے اور ماننے کی کوشش نہیں کرتے۔

﴿وَ اتَّبِعْ مَا يُوْحٰۤى اِلَيْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى يَحْكُمَ اللّٰهُ وَ هُوَ خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ﴾ ( یونس: ۱۰۹)

’’اس کی پیروی کریں جوآپe کی طرف وحی کی جاتی ہے اور صبر کریں یہاں تک کہ ’’اللہ‘‘ فیصلہ کردے، وہ فیصلہ کرنے والوں میں سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔‘‘

﴿وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١ٞ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ﴾ ( القصص: ۷۰)

’’اس ’’اللہ‘‘کے سواکوئی عبادت کے لائق نہیں اوّل ، آخر اس کی تعریف ہے، اور حکم دینے کا اختیار اسی کو ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جانے والے ہو۔ ‘‘

﴿ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ﴾ ( الأنعام: ۶۲)

’’پھر وہ ’’اللہ‘‘ کی طرف لوٹائے جائیں گے جو ان کا سچامالک ہے ۔سن لو! حکم اُسی کا چلتا ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والاہے۔ ‘‘

﴿ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِيْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ اِلَيْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا١ؕ …… فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ﴾ ( الانعام:۱۱۴)

’’کیا میں ’’اللہ‘‘ کے سواکوئی اورحاکم تلاش کروں، جب کہ اس نے تمہاری طرف مفصّل کتاب نازل فرمائی ہے …آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں۔‘‘

﴿وَّ لَا يُشْرِكُ فِيْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا﴾ (الکھف:۲۶)

’’وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔‘‘

اہل لوگوں کو ذمہ داری دینے کا حکم:

﴿اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا﴾ ( النساء: ۵۸)

 ’’یقیناً ’’اللہ ‘‘ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل لوگوں کے حوالے کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو ’’اللہ‘‘ جس کی تمہیں نصیحت کررہا ہے، یقیناً یہ تمہارے لیے بہتر ہے،بے شک ’’اللہ ‘‘ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ ‘‘

اس فرمان میں ہر قسم کی امانتوں کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے جس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ دینی، سیاسی اور انتظامی ذمہ داری بھی اہل لوگوں کو دینی چاہئے کیونکہ جب تک اہل لوگ آگے نہیں ہوں گے اور وہ اپنی ذمہ داری ٹھیک طور پر پوری نہیں کریں گے، قانون کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو اس کے بہتر نتائج نہیں نکل سکتے۔

اہل منصب کو فیصلہ کرتے وقت اپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہئے:

﴿يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِيْنَ يَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا نَسُوْا يَوْمَ الْحِسَابِؒ﴾ ( ص :۲۶)

’’اے داؤدu ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہٰذا لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور اپنے نفس کی خواہش کی پیروی نہ کرنا ۔ وہ تجھے ’’اللہ‘‘ کی راہ سے بھٹکا دے گی جو لوگ ’’اللہ ‘‘کی راہ سے بھٹک گئے ان کو سخت عذاب ہو گا کیونکہ انہوں نے آخرت کے حساب کو فراموش کر دیا ہے۔‘‘

﴿وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِيْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَيْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَ﴾ (المؤمنون: ۷۱)

’’اور اگر حق ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین ،آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا سب تباہ ہو جاتا ،بلکہ ہم ان کو نصیحت کرتے ہیں اور وہ اپنی نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں۔‘‘

عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ، حِبُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ؟» ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ، فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمِ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمِ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَايْمُ اللهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا» (صحيح مسلم، باب قطع السارق الشريف وغيره، والنهي عن الشفاعة في الحدود)

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیںکہ ایک مخزومی عورت نے چوری کی اس صورت حال پر قریش کے لوگ پریشان ہوئے ۔ انہوںنے آپس میں مشورہ کیا کہ اس عورت کے بارے میں اللہ کے رسولe کی خدمت میں کس سے سفارش کروائی جائے انہوں نے سوچا کہ اسامہ بن زید t نبیe کےپیارے ہیں‘ اس کے سوا یہ جرأت کوئی نہیں کر سکتا۔ چنانچہ اسامہt نے آپ سے عرض کی۔ اللہ کے رسولe نے اسامہ t سے فرمایا: کیا تو اللہ کی حدوں میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر تاہے؟ آپ کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ تم سے پہلے لوگ اسی لیے ہلاک ہو ئےکہ ان میں کوئی بڑے طبقے کا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے ۔جب کوئی چھوٹا آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے۔ اللہ کی قسم! اگر محمدe کی بیٹی فاطمہ چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔‘‘

ذمہ دار لوگوں کے ساتھ اختلاف ہو جائے تو

﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِيْلًا﴾ (النساء: ۵۹)

’’اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور ان کی بھی جو تم میں صاحبِ امر ہوں ۔ اگر ان سے کسی معاملے میں اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹائو اگر ’’اللہ ‘‘اور قیامت کے دن پر تمہارا ایمان ہے یہ نتائج کے اعتبار سے بہتر اور بہت اچھا طریقہ ہے۔ ‘‘

﴿وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا﴾ ( الأحزاب: ۳۶)

’’کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں فیصلہ کر دیں تو پھر اُسے اس معاملے میں فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں پڑ جائے گا۔‘‘

﴿اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآىِٕنِيْنَ خَصِيْمًا﴾ ( النساء: ۱۰۵)

’’یقیناً ہم نے آپ کی طرف برحق کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ جو آپ کو ’’اللہ‘‘ نے سیدھا راستہ دکھایا ہے اس کے مطابق فیصلے کریں اور خیانت کرنے والوں کی حمایت کر نے والے نہ ہوجانا۔ ‘‘

﴿اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَحَاكَمُوْۤا۠ اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ يَّكْفُرُوْا بِهٖ١ؕ وَ يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَيْتَ الْمُنٰفِقِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًا﴾ (النساء: ۶۰، ۶۱)

 ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کا دعویٰ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور آپ سے پہلے اُتارا گیا اس کو مانتے ہیں، لیکن وہ اپنے فیصلے طاغوت کے پاس لے جانا چاہتے ہیں حالانکہ انہیں طاغوت کا انکار کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ شیطان چاہتا ہے کہ انہیں دور کی گمراہی میں مبتلا کر دے۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ’’اللہ‘‘ کے نازل کر دہ حکم اور رسول کی طرف آئو تو آپ دیکھیں گے کہ منافق آپ سے کنی کتراتے ہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ کے حکم کو نافذ نہ کرنے والے درجہ بدرجہ مجرم ہوں گے:

﴿وَ مَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ﴾ (المائدة:۴۴)

’’جو ’’اللہ‘‘ کے نازل شدہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں۔ ‘‘

﴿وَ مَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ﴾ (المائدة:۴۷)

’’جو ’’اللہ‘‘ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہ نافرمان ہیں۔‘‘

﴿وَ كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴾

’’ہم نے تورات میں ان کے لیے لازم کردیاتھا کہ جان کے بدلے جان ،آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک ،کان کے بدلے کان ،دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بدلہ ہے،جسے قصاص معاف کر دیا جائے وہ اس کے لیے کفارہ ہے۔ جو ’’اللہ ‘‘ نے نازل کیا ہے اس کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے ظالم ہیں۔ ‘‘(المائدة:۴۵)

قانونِ الٰہی کی برکات:

﴿وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِيْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا يَعْمَلُوْنَ﴾ (المائدة: ۶۶)

’’اگر وہ واقعی تورات اور انجیل نافذ کرتے اور جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے نازل کیاگیا ہے تو ضرور اپنے اوپر سے اوراپنے پائوں کے نیچے سے کھاتے، ان میں سے ایک جماعت سیدھے راستے پر ہے اور بہت سے ان میں بُرے کام کر نے والے ہیں ۔‘‘

﴿وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ﴾ ( الأعراف: ۹۶)

’’اوراگر بستیوں والے صحیح طور پر ایمان لے آتے اور’’اللہ‘‘ سے ڈرتے تو ان پر ہم ضرور آسمان اور زمین سے برکات نازل کرتے، لیکن انہوں نے جھٹلا دیا، ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے انہیں پکڑ لیا کیونکہ وہ بُرے کام کرتے تھے۔ ‘‘

برکت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کسی کی عمر میں برکت پیدا کر دی جائے تو وہ تھوڑی مدت میں ایسے کار ہائے نمایاں سر انجام دے پاتا ہے کہ جس سے لوگ مدت تک استفادہ کرنے کے ساتھ اسے یاد رکھتے ہیں۔ خورد و نوش میں برکت پیدا ہو جائے تو آدمی کے لیے پانی کے چند گھونٹ اور خوراک کے چند لقمے ہی کافی ہو جاتے ہیں۔ اگر برکت اٹھالی جائے تو سب کچھ ہونے کے باوجود آنکھیں سیر نہیں ہوتیں اور پیٹ بھر کر کھانے کے باوجود طبیعت مطمئن نہیں ہوتی اور انواع و اقسام کے کھانے اس کی قوت و توانائی میں اضافہ نہیں کرتے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ الغِنَى عَنْ كَثْرَةِ العَرَضِ، وَلَكِنَّ الغِنَى غِنَى النَّفْسِ (صحيح البخاري، باب الْغِنَی غِنَی النَّفْسِ)

’’سیدنا ابوہریرہtنبیeسے بیان کرتے ہیں کہ آپe نے فرمایا کہ دولت مندی مال کی کثرت سے نہیں بلکہ غنا دل کے استغنا سے حاصل ہو تی ہے۔‘‘

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِقَامَةُ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ، خَيْرٌ مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فِي بِلَادِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ» (رواہ ابن ماجه: باب إقامة الحدود[صحیح])

’’سیدنا عبداللہ بن عمرw بیان کرتے ہیںکہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ‘‘ کی حدود میں سے کسی ایک حد کونافذ کرنا چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے۔‘‘

یاد رہے کہ فصلوں میں سب سے زیادہ چاول کی فصل کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے یہ فصل بھی دس، گیارہ مرتبہ پانی ملنے سے تیار ہو جاتی ہے، چالیس مرتبہ بارش کو اس پر تقسیم کریں اگر ہر موسم میں اتنی بارشیں ہوں تو ملک کی زراعت کس قدر مضبوط اور بجلی کی کتنی بچت ہو گی کہ جس کا اندازہ کرنامشکل ہوجائے۔

سر پر تین بار پانی بہانا

غسل کے بارے بیان

بَاب مَنْ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا .

اس شخص کا بیان جس نے اپنے سر پر تین بار پانی بہایا

34-256- حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَامٍ حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ قَالَ قَالَ لِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِاللهِ وَأَتَانِي ابْنُ عَمِّكَ يُعَرِّضُ بِالْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ كَيْفَ الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَقُلْتُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ ثَلَاثَةَ أَكُفٍّ وَيُفِيضُهَا عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ فَقَالَ لِيَ الْحَسَنُ إِنِّي رَجُلٌ كَثِيرُ الشَّعَرِ فَقُلْتُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْكَ شَعَرًا .

ابونعیم، معمربن یحیی بن سلم، ابوجعفر یعنی امام باقر کہتے ہیں کہ مجھ سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے پاس تمہارے چچا کے بیٹے (حسن بن محمد بن حنفیہ) آئے اور مجھ سے کہا کہ جنابت سے غسل کس طرح (کیا جاتا)؟ میں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ تین چلو لیتے تھے اور اس کو اپنے سر پر ڈالتے تھے پھر اپنے باقی بدن پر بہاتے تھے، تو مجھ سے حسن نے کہا کہ میں بہت بالوں والا آدمی ہوں (مجھے اس قدر قلیل پانی کافی نہ ہوگا) میں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کے بال تم سے زیادہ تھے۔

Narrated Abu Ja›far: Jabir bin Abdullah said to me, Your cousin (Hasan bin Muhammad bin Al-Hanafiya) came to me and asked about the bath of Janaba. I replied, ‘The Prophet uses to take three handfuls of water, pour them on his head and then pour more water over his body. Al-Hasan said to me, ‘I am a hairy man.› I replied, ‘The Prophet had more hair than you

معانی الکلمات

الْجَنَابَةِناپاکی کی حالت میں پیدا ہونے والی ضرورت کو جنابت کہتے ہیں۔
أَكُفٍّکَفٌّ کی جمع معنی ہتھیلی، چلو
يُفِيضُوہ ایک آدمی (پانی) بہاتاہے یا بہائے گا
سَائِرِ جَسَدِهِمکمل جسم، پورا بدن
الشَّعَرِبال

تراجم الرواۃ

1۔نام ونسب:  أبو نعيم، الفضل بن دُكين یہ ان کا لقب ہے جبکہ ان کا نام: عمرو بن حماد بن زهير بن درهم القرشي التيمي الطلحي

کنیت: أبو نعيم الملائي الكوفي

محدثین کے ہاں مقام ومرتبہ:امام ابن حجررحمہ اللہ کے ہاں ثقہ،ثبت اور امام ذہبی کے ہاں الحافظ تھے۔

پیدائش ووفات:130 ہجری میں پیدائش ہوئی اور 218 یا 219ہجری میں کوفہ فوت ہوئے۔

2۔نام ونسب: معمر بن یحی بن سام بن موسی الضبی الکوفی

محدثین کے ہاں مقام ومرتبہ:امام ابن حجر رحمہ اللہ کے ہاں مقبول، امام ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی توثیق کی ہے اور امام ابو زرعہ رحمہ اللہ کے ہاں ثقہ تھے۔

3۔نام ونسب: ابو جعفر محمد الباقر بن علی زین العابدین بن الحسین بن علی بن أبی طالب القرشی الھاشمی المدنی

کنیت: ابو جعفر الباقر

محدثین کے ہاں مقام ومرتبہ:امام ابن حجر رحمہ اللہ کے ہاں ثقہ تھے، امام دارقطنی رحمہ اللہ نے بھی انہیں ثقات میں ذکر کیا ہے۔

پیدائش ووفات:57 ہجری میںپیدائش ہوئی اور 114 ہجری میں فوت ہوئے۔

4۔نام ونسب:  جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کا ترجمہ حدیث نمبر 28 میں ملاحظہ فرمائیں۔

تشریح

اس حدیث سے ثابت ہوتاہے کہ طہارت کم از کم پانی سے حاصل کی جاسکتی ہےجیسا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب رسول الله ﷺ تم سے زیادہ بالوں والے اور زیادہ نظافت پسند بھی تھے، پھر بھی انھوں نے تین دفعہ سر پر پانی ڈالا اور پھر پورے بدن پر پانی بہانا اور اسی مقدار پر اکتفا کیا تو اس سے معلوم ہوا کہ صفائی اور طہارت اتنی مقدار سے ضرور حاصل ہو جاتی ہے۔ اس سے زیادہ پانی پرصفائی کا دارومدار خیال کرنا خود پسندی کی علامت ہے، یا وہم و وسوسہ کی وجہ سے ہے جس کو اہمیت دینا مناسب نہیں۔ (فتح الباري:478/1)

 اس سے معلوم ہوا کہ اموردین کے متعلق واقفیت حاصل کرنے کے لیے علماء سے سوال کرنا چاہیے اور عالم کو چاہیے کہ جواب دینے میں بخل سے کام نہ لے نیز طالب حق کا شیوه یہ ہونا چاہیے کہ جب حق واضح ہو جائے تو اسے قبول کرنے میں حیل و حجت نہ کرے۔ (عمدة القاري:24/3)

 سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا حسن بن محمد کو ابو جعفر کا چچا زاد بھائی کہنا بطور مجاز ہے، کیونکہ وہ دراصل ابو جعفر باقر کے والد زین العابدین کے چچا زاد بھائی ہیں، وہ اس بنا پر کہ زین العابدین سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں۔ اورحسن محمد ابن حنفیہ کے صاحبزادے ہیں اور محمد ابن حنفیہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں گویا سیدنا حسین اور محمد ابن حنفیہ آپس میں پدری بھائی ہیں۔ لہٰذا سیدنا حسن ابو جعفر کے نہیں بلکہ ان کے والد زین العابدین کے چچا زاد بھائی ہیں اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے مجازی طور پر انھیں ابو جعفر کا چچا زاد کہا ہے۔ (فتح الباري:478/1)

 حنفیہ نامی عورت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں جو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد آپ کے عقد میں آئیں، ان کے بطن سے محمد نامی بچہ پیدا ہوا اور وہ بجائے باپ کے ماں ہی کے نام سے زیادہ مشہور ہوا۔ کہتے ہیں کہ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ یزید بن معاویہ کے پاس گزرا، اس بنا پر یا لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کرنا اچھا خیال نہیں کیا تاکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاندانی رقابت قائم رہے۔ واللہ أعلم۔ انہی محمد کے بیٹے حسن ہیں جو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے غسل کے متعلق بحث و تحصیص کرتے ہیں۔

بچوں کا صفحہ

بچوں کا صفحہ

 پیارے بچو!

کیسے ہو امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گےجیسا کہ پچھلی مرتبہ ہم نے پڑھا تھا کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام عراق سے ہجرت کر کے ملک شام اور پھر فلسطین چلے گئے اور وہیں سے لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے لگے ۔

پیارے بچو !اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کا امتحان لیتے ہیں انہیں آزمائش میں ڈالتے ہیں اور جو صبر وشکر سے اس امتحان میں کامیاب ہوجاتے ہیں،وہ اللہ کے مزید قریب ہوجاتے ہیں تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنی بیوی سیدہ ہاجرہ علیہا السلام اور اپنے اکلوتے بیٹے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو مکہ چھوڑ کر آئیں ۔

پیارے بچو اس وقت مکہ بالکل بیابان اور ویران ہوا کرتا تھا جہاں نہ پینے کیلئے پانی دستیاب تھا اور نہ ہی کھانے کیلئے کچھ ہوتا تھا ۔جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی اور بچےکو وادی مکہ میں چھوڑ کر جانے لگے تو ان کی زوجہ محترمہ سیدہ ہاجرہ علیہا السلام نے سوال کیا کہ کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے؟تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جواب میں فرمایا:جی ہاں ،تو سیدہ ہاجرہ علیہا السلام نے کہا پھر ہمیں یقین ہے اللہ ہمیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔باوجود یہ کہ اس وقت وادی مکہ میں نہ کھانا پینا تھا اور اسماعیل علیہ السلام بالکل شیر خوار بچے تھے سیدہ ہاجرہ علیہا السلام کا اللہ تعالیٰ پر مکمل ایمان تھا کہ وہ ہماری حفاظت فرمائیں گے۔

جیسا کہ آپ نے پڑھا کہ اسماعیل علیہ السلام بالکل چھوٹے بچے تھے تو انہوں نے پیاس کی شدت سے رونا شروع کردیا ۔ سیدہ ہاجرہ علیہا السلام سے اپنے بیٹے کا رونا نہ دیکھا گیا اور انہوں نے پانی کی تلاش میں دو پہاڑیوں صفا و مروہ کے چکر لگانے شروع کردیے کہ شاید دور کہیں پانی یا کوئی لوگ نظر آئیں جن سے پانی اور کھانے پینے کیلئے کچھ مل سکے ۔اللہ تعالیٰ کو سیدہ ہاجرہ علیہا السلام کا یہ عمل اتنا پسند آیا کہ سعی صفا و مروہ کو عمرے کا رکن بنا دیا۔

پیارے بچو !اللہ کا خاص کرم ہوا اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی ایڑی کی چوٹ سے زمین سے چشمہ بہہ نکلا جب سیدہ ہاجرہ علیہا السلام نے یہ دیکھا تو وہ بھاگتی ہوئیں آئیں اور پانی کے گرد حلقہ بنا کر کہنے لگیں زمزم زمزم یعنی رک جا رک جا ۔اور تب سے آج تک اس چشمے کو زمزم کہا جاتا ہےپھر پانی دیکھ کر کچھ اور قبائل بھی وادی مکہ میں آگئے اور سیدہ ہاجرہ علیہا السلام کی اجازت سے وہاں رہنے لگے ۔

پھر کچھ عرصہ بعد سیدنا ابراہیم علیہ السلام واپس تشریف لائے اور اللہ کے حکم سے انہوں نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر کعبۃ اللہ کی تعمیر کی۔

پیارے بچو !انبیاء علیہم السلام کے خواب سچے ہوتے ہیں۔ہوا یوں کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کررہے ہیں انہوں نے جب سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو یہ خواب بتایا تو انہوں نے کہا کہ اے پیارے ابا جان جس چیز کا آپ کو حکم دیا جارہا ہے آپ وہ کریں آپ مجھے ان شاءاللہ صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے ۔یعنی اللہ تعالیٰ نے اگر آپ کو مجھے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے تو آپ مجھے ذبح کردیں ۔سیدنا ابراہیم علیہ السلام انہیں گھر سے لے کر چلے اور راستے میں کئی بار شیطان نے بہکانے کی کوشش کی کہ اے ابراہیم تم اپنی اولاد کو یوں ذبح کردوگے جو تمہیں اتنی عزیز ہے مگر شیطان کو ہمیشہ ناکامی ہوئی ۔اور جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کیلئے لٹایا اور چھری چلانے لگے تو اللہ کے حکم سے اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ایک مینڈھا آگیا  اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْيَا اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ۰۰۱۰۵

بلاشبہ تونے خواب کو سچ کر دکھایا ہے….الخ (الصافات:105)

اور ہم اسی واقعے کی یاد میں عید الاضحیٰ کے موقع پر اللہ کی راہ میں جانور قربان کرتے ہیں۔

پیارے بچو !سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سیرت کا جتنا مطالعہ کیا جائے ہمیں توحید اللہ پر مکمل ایمان اور شرک سے بیزاری کی تعلیمات ملتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں شرک سے بچے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور توحید کی محبت عطا فرمائے تاکہ ہم بھی اللہ کے دوستوں میں شامل ہوجائیں۔

سوالات

کیا انبیاء کے خواب سچے ہوتے ہیں ؟

سیدنا ابراہیم علیہ السلام شیطان کے جھانسے میں کیوں نہ آئے؟

صفا و مروہ کہاں واقع ہیں؟

ہمیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سیرت سے کیا سمجھنے کو ملا؟

پاکستان اسٹڈیز سینٹر جامعہ کراچی کے تاثرات

پاکستان اسٹڈیز سینٹر جامعہ کراچی کے تأثرات

جامعہ کراچی کے اسٹوڈنٹس کا پروجیکٹ سپروائزر سینئر استاذ پروفیسر جناب محمد عمار صاحب کے ہمراہ 7 نومبر 2022ء بروز پیر کو کراچی شہر کے معروف دینی علمی، دعوتی اور اصلاحی ادارے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کا وزٹ ہوا۔ جامعہ کراچی کے اسٹوڈنٹس (محمد عالمگیر، امامہ، ام لیلیٰ ، صائمہ، حنا بتول) نے یونیورسٹی کی طرف سے دیئے گئے پروجیکٹ بعنوان’’ کراچی کی تعلیمی،معاشرتی وسماجی، معاشی اور سیاسی ڈیویلپمنٹ میں مدارس کا کردار‘‘ پر ریسرچ اور تحقیق کے سلسلے میں کراچی شہر کے معروف دینی ادارے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کا وزٹ کیا جو کہ بین المسالک ہم آہنگی کے سلسلے میں مختلف مکاتب فکر کے مدارس کا وزٹ کرنے کی ایک کڑی ہے۔اس سلسلے میں کراچی یونیورسٹی کی طرف سے چند منتخب مدارس کی خدمات کا تحقیقی وعلمی جائزہ لینے کے لیے طلبہ کو یہ پروجیکٹ دیاگیا جس میں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی بھی شامل ہے۔ منتخب اداروں پر ریسرچ ورک مکمل کرکے HECمیں مقالے کی صورت میں پیش کیا جائے گا۔ نیز اس پروجیکٹ میں مدارس کی خدمات وکردار کو اُجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ مدارس پر اٹھنے والے اعتراضات کے ممکنہ جوابات کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگی۔ ان شاء اللہ

اس وزٹ کے فیڈ بیک میں شرکاء کے تأثرات:

ہماری توقعات سے بڑھ کر جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے حضرات کی جانب سے تعاون شامل حال رہا ہے، مطالعاتی دورے کی اجازت مرحمت فرمانے اور پینل ڈسکشن میں مدعو ادارے کی نامور علمی شخصیات کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنے کا موقع عنایت فرمانے پر ہم مدیر الجامعہ فضیلۃ الشیخ جنا ب ضیاء الرحمن المدنی صاحب اور دیگر معزز اراکین ( ڈاکٹر مقبول احمد مکی صاحب، ڈاکٹر محمد طاہر آصف صاحب، ڈاکٹر محمد افتخار شاہد صاحب ، ڈاکٹر فضل الرحمن صاحب ،الشیخ خالد حسین صاحب) اور اساتذہ کرام بالخصوص محترم ومکرم شیخ الحدیث ابو عمر محمد یوسف صاحب اور مؤسس الجامعہ فضیلۃ الشیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ کے دیرینہ رفیق کار محترم قاری عبد الرشید صاحب مدظلہ کے تہہ دل سے شاکر وممنون ہیں جنہوں نے اپنا قیمتی وقت نکال کر ہمارے بہت سے تنقیدی اور چبھتے ہوئے سوالات کے انتہائی احسن پیرائے میں تسلی بخش جوابات دیئے اور اپنی صحبت میں بیٹھنے کا موقع عنایت فرمایا۔ باہم مل بیٹھ کر بات چیت کرنے سے بہت سارے اشکالات الحمد للہ رفع ہوگئے، ان حضرات کی شفقت اور محبت کی وجہ سے ہماری خوشیوں کی انتہا نہ رہی، ہمارے لیے خاطر تواضع اور ریفریشمنٹ کا بہترین انتظام تھا۔

وزٹ کے حوالے سے جتنے بھی انتظامات اور کمیونیکیشن کا سلسلہ تھا اس میں مولانا ڈاکٹر مقبول احمد مکی صاحب کا شروع سے آخر تک بھرپور تعاون رہا۔

جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کی انتہائی معزز اور علمی شخصیت ڈاکٹر محمد طاہر آصف صاحب نے بھی ابتداء ہی میں پریزنٹیشن دی جس میں ادارے کے اغراض ومقاصد اور خدمات پر بہترین انداز میں روشنی ڈالی گئی۔

ڈاکٹر صاحب کا انداز بیان اس قدر جامع تھا کہ ہم طلبہ کے 90 فیصد سوالات پریزنٹیشن کے ذریعے سے ہی حل ہوگئے تھے۔

پریزنٹیشن کے اختتام پر طلبہ کے سوالات کے جوابات بھی بہت عمدہ انداز سے دیئے۔ ہم ڈاکٹر صاحب کی علمی صلاحیتوں اورخدمات سے بہت مستفید ہوئے۔

ادارے کی معزز شخصیات نے ہماری ٹیم کو پورے ادارے کا وزٹ کروایا اور ساتھ ساتھ تعلیمی وانتظامی شعبوں کا تعارف بھی پیش کیا۔ ہمیں صفائی ستھرائی اور نظم ونسق کے حوالے سے ادارے کا ماحول بہت پسند آیا، یہاں کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں کے اساتذہ کرام میں 9 عدد اعلیٰ تعلیم یافتہ Ph.D پانچ(5) عدد اساتذہ کرام ایم فل کرکے Ph.D میں انرولڈ ہوچکے ہیں جو کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں ۔اسی طرح سے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے ایک اسکول میں دو Ph.D اساتذہ کرام خدمات سرانجام دے رہے ہیں حالانکہ اسکولوں میں عموماً Ph.D اساتذہ نہیں ہوتے۔

دوسری اہم بات یہ کہ اس ادارے کی تأسیس عرب ممالک کے جامعات کے طرز پر ہے جس کی وجہ سے جامعہ ہذا میں پڑھنے والے طلبہ کو مکمل عربی زبان کا ماحول فراہم کیاجاتاہے مکمل نصاب عربی زبان میں پڑھایا جاتاہے۔جس نہج پر مدرسہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے بانی مبانی فضیلۃ الشیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے قائم کیا تھا انہی بنیادوں پر یہ تحریک ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ پاکستان میں عربی زبان کو ترقی دینے میں اس ادارے کا اہم کردار ہے جس کی وجہ سے یہاں کے فارغ التحصیل فضلاء کے لیے عرب ممالک میں خدمات کے مواقع کہیں زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ (اللہ تعالیٰ اس ادارے کے بانی کو غریق رحمت کرے، درجات بلند فرمائےاور ان کے ادارے کی خدمات کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین)

تیسری اہم بات یہ ہے کہ مدرسہ ہذا میں رنگ ونسل،قوم قبیلہ، مختلف مسالک کے طلبہ اور عام وخاص کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہے۔ مدرسہ میں دینی ودنیوی تعلیم مفت دی جاتی ہے اور مزید برآں کہ اپنے فضلاء کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے مدینہ یونیورسٹی ودیگر جامعات میں اسکالر شپ پر بیرون ملک بھی بھیجا جاتاہے۔

دور دراز کے بچوں کے لیے بہترین ہاسٹل کا انتظام ہے جہاں رہ کر وہ بآسانی اپنی تعلیم مکمل کر سکتے ہیں۔ عظیم الشان لائبریری بھی قائم ہے، جس میں جدید وقدیم علوم وفنون جن میں تفسیر،اصول تفسیر، حدیث، اصول حدیث، اسماء الرجال، فقہ، اصول فقہ، تاریخ وسیر وغیرہ دیگر موضوعات پر مشتمل الحمد للہ ساٹھ (60) ہزار سے زیادہ کتب کا علمی خزانہ موجود ہے۔ یہ عظیم الشان مکتبہ علوم وفنون کا ایک بحر ذخّار ہے۔ لائبریری تک طلبہ اور عام خواتین کی رسائی کا بھی بہترین اور باپردہ انتظام ہے۔

جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے بہت سارے رفاہی کام بھی ہیں، مثلاً: سیلاب زدگان کی خدمات کے حوالے سے،مساکین وبیوہ گان ودیگر مستحقین افراد کی مدد کرنے میں بھی جامعہ ابی بکر الاسلامیہ پیش پیش ہے۔

ڈاکٹر مقبول احمد مکی صاحب کا دل جیت لینے والا بیان

یہاں دیگر مسالک کے ساتھ کوئی تصادم کی کیفیت نہیں ہے، کوئی زبردستی نہیں بلکہ ایک قومی وملی جذبہ کے تحت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لائے ہوئے دین پر عمل کرنا ہی ایک مسلمان کے شایان شان ہے۔ ایک قومی وملی جذبہ کے تحت ملک اور خاص کر شہر کراچی کی تعمیر وترقی چاہتے ہیں۔ چاہے وہ تعلیمی ہو،معاشی ہو، معاشرتی ہو یا سیاسی۔ حکومت وقت کی تائید اور ان کے اچھے کاموں کی تعریف وحوصلہ افزائی اور خامیوں پر ان کی احسن طریقے سے اصلاح اور حکمرانوں کے لیے خیرخواہی، نیک تمنائیں اور ریاست کے قوانین کی پاسداری، ملکی وقومی امن وامان اس ادارے کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔

اللہ تعالیٰ انتظامیہ اور اساتذہ کرام جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کی دینی علوم، رفاہی اورملی وقومی خدمات کو قبول فرمائے، مقاصد حسنہ میں کامیاب فرمائے اور روزافزوں ترقی عطا فرمائے اور دین اسلام کی سربلندی،نشرواشاعت اور اعزاز کا ذریعہ بنائے ۔ جامعہ ہذا کے مؤسس اور اساتذۂ عظام کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین

15 قرآنِ کریم کی اُصولی باتیں قسط

ستائیسواں اصول:

وَمَنْ تَزَکّٰی فَاِنَّمَا یَتَزَکّٰی لِنَفْسِہٖ (فاطر:۱۸)

’’اور جو بھی پاک ہو جائے وہ اپنے ہی نفع کے لیے پاک ہو گا ۔‘‘
قرآن حکیم کے اس اصول کا بہت اونچا مقام ہے‘ کیونکہ اس کا بندے کی زندگی پر گہرا اثر ہے‘ اور اِس کاجسم کے اُس ٹکڑے (دل ) کے ساتھ بھی گہرا تعلق ہے‘ جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایاہے کہ اس ٹکڑے کا ٹھیک ہونا سارے جسم کا ٹھیک ہونا ہے اور اس کی خرابی سارے جسم کی خرابی ہے ۔
جب لفظ ’’تزکیہ‘‘ عمومی طور پر بولا جائے تو اس سے دو معنیٰ مراد لیے جاتے ہیں :
پہلا معنیٰ: دونوں قسم کی طہارت ہے‘ ظاہری اور معنوی۔ ظاہری طہارت سے مراد ہے مثلاًکپڑے کی میل کچیل سے پاکیزگی ‘اور معنوی طہارت سے مراد ہے مثلاًقلبِ ایمان اور نیک اعمال کے ذریعے پاکیزگی۔
دوسرا معنیٰ: مراد ہوتاہے اضافہ‘ یعنی جب مال میں اضافہ ہو تو اسے مال میں ’’زکاۃ‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔
یہ دونوں لغوی معنیٰ شریعت کا منشا ہیں۔ اس لیے کہ’’ تزکیہ نفس‘‘سے یہ دونوں معنیٰ مراد ہیں‘ یعنی بندے کو ظاہری اور معنوی ہر طرح کی میل کچیل اورنجاست سے پاک کرنا اور اسے قابلِ تعریف اور فاضل اخلاق کے ذریعے ترقی دینا اور مزین کرنا۔ چنانچہ مؤمن کو حکم ہے کہ اپنے آپ کو برے اخلاق مثلاًریاکاری‘ تکبر ‘ جھوٹ ‘ ملاوٹ‘ دھوکہ بازی‘ چکربازی‘ نفاق اور اس طرح کے دوسرے گھٹیا اخلاق سے محفوظ رکھے۔اور یہ بھی حکم ہے کہ اچھے اخلاق مثلاًسچ‘ اخلاص ‘تواضع‘ نرم خوئی اوربندوں کے حق میں خیر خواہی جیسے اخلاق کو اپنائے ‘ نیز دل کو کینہ‘ بغض اورحسد جیسے رذائل اخلاق سے پاک رکھے‘ کیونکہ دل کی پاکیزگی کا فائدہ اسی کو ہو گا ۔ انجام کار کابھی اسی کو فائدہ پہنچے گا اور اس کا کوئی عمل ضائع نہیں ہوگا۔
اسی معنی کو بیان کرنے کی خاطرقرآنِ کریم کی وہ آیات نازل ہوئی ہیں جن میں نفس کی پاکیزگی اور اسے سنوارنے کاحکم دیا گیا ہے‘ فرمایا:

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی وَذَکَرَاسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی (الاعلیٰ14۔15)

’’بے شک اُس نے فلاح پا لی جو پاک ہو گیا‘ اور جس نے اپنے رب کانام یادرکھا اور نماز پڑھتا رہا‘‘۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا(الشمس9۔10)

’’اور جس نے اسے (اپنے نفس کو)پاک کر لیا وہ کامیاب ہوگیا۔ اور جس نے اسے خاک میں ملا دیا وہ ناکام ہوا‘‘۔ اور جس اصول پر ہم گفتگو کر رہے ہیں اس میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے۔فرمایا:

وَمَنْ تَزَکّٰی فَاِنَّمَا یَتَزَکّٰی لِنَفْسِہٖ  (فاطر:۱۸)

’’اور جو بھی پاک ہو جائے وہ اپنے ہی نفع کے لیے پاک ہو گا‘‘۔ جو شخص بھی قرآنِ کریم کی آیات پر غور کرے گااُسے معلوم ہو گا کہ قرآنِ کریم میں تزکیہ نفس کے موضوع کو بڑا خاص مقام دیا گیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ قرآن ِ کریم میں ایک جگہ پر سب سے زیادہ قسموں کی تعداد گیارہ ہے اور اُن سب کا موضوع تزکیہ نفس ہے۔ اور یہ بات ’’سورۃ الشمس‘‘ کے شروع میں آئی ہے ۔
قرنِ کریم کا یہ اصول: وَمَنْ تَزَکّٰی فَاِنَّمَا یَتَزَکّٰی لِنَفْسِہٖ (فاطر:۱۸) ’’اور جو بھی پاک ہو جائے وہ اپنے ہی نفع کے لیے پاک ہو گا ۔‘‘ کھلے لفظوں میں کہہ رہا ہے کہ تزکیہ کا سب سے پہلا فائدہ خود تزکیہ کرنے والے کو ہے اور اس آیت کے مفہوم میں ایک دھمکی بھی شامل ہے کہ اے اللہ کے بندے!اگر تو تزکیہ نہیں کرتا تو تزکیہ نہ کرنے کا سب سے بڑا نقصان بھی تجھی کو ہو گا۔
اگرچہ اس اصول کا مخاطب ہر وہ مسلمان ہے جو اِسے سن رہا ہے ‘ البتہ ایک عالم وواعظ اور طالب علم کا حصہ زیادہ اوربڑا ہے ‘ اس لیے کہ لوگوں کی نظر یں جلد ہی اُس کی طرف اٹھ جاتی ہیں‘ اسے غلطی کرنے کا نقصان زیادہ ہوتا ہے اور اس پر تنقید بھی سخت ہوتی ہے۔ واجب تو یہ ہے کہ عالم کی گفتگو اورخطاب سے پہلے اُس کی سیرت وکردارہی لوگوں کو عمل کی دعوت دے ۔
دین میں تزکیۂ نفس کے عظیم مقام کی وجہ سے جن ائمہ اور علماء نے عقائد کے موضوع پر لکھا ہے‘ انہوں نے مختلف عبارتوں کے ذریعے تزکیہ نفس پر بڑا زور دیا ہے۔ ائمہ دین نے اس بات کو بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے‘ اس لیے کہ اعتقاد اور کردار کے درمیان بڑا گہرارشتہ ہے ‘ کیونکہ ظاہری کردار باطنی اعتقاد کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ظاہری کردار میں کسی قسم کا ٹیڑھ باطنی ایمان میں کمی کی دلیل ہوا کرتا ہے۔ ثابت ہوا کہ کردار اور اعتقاد آپس میں لازم وملزوم ہیں۔ اسی لیے اخلاق وکردار کی بہت ساری باتیں ایمان کے شعبوں میں داخل ہیں۔
جب لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ تزکیہ نفس کا معاملہ آسان اور ہلکا ہے توبہت ساری متضاد شکلیں سامنے آئیں اور علم وعمل میں دوری پیدا ہو گئی۔
اس قرآنی اصول پرگفتگو کرتے ہوئے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے آپ کا تزکیہ کیسے کریں؟اس سوال کا جواب تو بہت طویل ہے‘ لیکن میں اختصار کے ساتھ تزکیہ نفس کے اہم ذرائع کا ذکر کیے دیتا ہوں:
٭اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لانا اور اس کے ساتھ گہرا لگاؤ پیدا کرنا۔
٭اہتمام کے ساتھ قرآنِ حکیم کی تلاوت کرنا اوراس پر غور وفکر کرنا۔
٭کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا۔
٭فرض نمازوں کی پابندی کرنا‘ نیزنمازِ تہجد کا اہتمام کرنا‘ خواہ تھوڑا ہی ہو سکے۔
٭گاہے بگاہے اپنی ذات کا خود محاسبہ کرنا۔
٭بندے کے دل میں آخرت کی یاد کا زندہ رہنا۔
٭موت کو یادرکھنااور قبرستان کی زیارت کو جانا۔
٭نیک لوگوں کی سیرت کا مطالعہ کرنا۔
دوسری طرف یہ بھی دھیان رہے کہ عقل مند وہ ہے جو اُن راستوں کو بند رکھتا ہے جہاں سے مذکورہ بالا وسائل ِ اصلاح کے نتائج کو نقصان ہوتا ہو۔اس لیے کہ دل کے مقام پر جاکر وسائل ِ اصلاح اور وسائل ِ فساد اکٹھے ہو جاتے ہیں اور اُن کوعلیحدہ علیحد ہ رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ لہٰذا اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ انسان وسائل ِ اصلاح کا اہتمام کرے‘ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وسائل ِ فساد سے بھی بچتا رہے‘ مثلاً:حرام چیزوں کی طرف دیکھنا‘ حرام مواد سننا‘ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ باتیں تو دور کی بات ہے‘ غیر متعلقہ‘ لغوباتوں سے بھی اپنی زبان کو محفوظ رکھنا۔

دین اور مذہب میں تفریق

اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر ﷺ کو دین اسلام دے کر اس دنیا کی طرف بھیجا اسلام وہ دین ہے جو کامل اور مکمل ہے، جس کی ہر آیت اور ہر حکم روز روشن کی طرح واضح ہے اس دین میں کسی قسم کی کوئی کجی نہیں ہے۔
یہ دین دنیاکے تمام ادیان پر غالب ہونے کے لیے بھیجاگیا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ:

لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ (الصف:9)

’’تاکہ اسے اور تمام مذاہب پر غالب کر دے ‘‘
الدین: کے معنی ہے ملت، حالت، عادت اور سیرت۔کسی خاص ملت، حالت، عادت اور سیرت اختیار کرنے کو دین کہا جاتاہے۔امام الجرجانی رحمہ اللہ نے دین، ملت اور مذہب کے یہ معنی بیان کیے ہیں:

أن الدين منسوب إلى الله تعالى، والملة منسوبة إلى الرسول، والمذهب منسوب إلى المجتهد(التعريفات (ص: 106)

’’دین کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کی جاتی ہے ، ملت کی نسبت رسول اللہ کی طرف اور مذہب کی نسبت مجتہد کی طرف ہوتی ہے‘‘
اللہ تعالی کا قرآن مجید میں ارشاد ہے:

اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ(آل عمران:19)

’’بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہے ‘‘
اس دین اسلام کو آپ ﷺ نے سراسر خیر خواہی کانام دیا ہے۔
الدین النصیحۃ(مسلم)دین سراسر خیر خواہی ہے۔
دین اسلام پر عمل کرنا اور اس کے احکام کے مطابق اپنی زندگی گزارنا ہم سب مسلمانوں کے لیے لازمی ہے ،کہ اللہ اور اس کے رسول کے دین پر عمل پیر اہوںاور اللہ تعالی اس دین کے علاوہ دوسرے ادیان پر عمل کرنے والوں کا کوئی بھی عمل قبول نہیں فرمائےگا اور جولوگ اس دین اسلام کو چھوڑ کر دوسرے ادیان پر عمل کرتے ہیں اور دوسرے ادیا ن کے مطابق زندگی بسر کرنے والے لوگ آخرت میں ناکام اور نامراد ہوں گے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ:

وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ ۚ وَھُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ(آل عمران:85)

’’جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ

کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا‘‘
آپ ﷺ کا فرمان ہے:

تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ، لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ(موطأ مالك ت عبد الباقي (2/ 899)

’’میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جب تک ان دونوں کو تھامے رہو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری سنت ‘‘
ہمیں چاہیے کہ ہم دین اسلام پر ثابت قدمی سے عمل کریں۔مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے مذہب کو وہ اہمیت اور حیثیت دے دی ہے جو دین کو دینی چاہیے تھی جب کہ مذہب صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی مگر دین اسلام ہر حال میں صحیح اور باعث اجرو ثواب ہی ہوتا ہے۔
حق اور سچ کی راہ ایک ہی ہوتی ہے اکثر اسلامی ممالک میں یہ مذاہب رائج ہیں شافعی مذہب ، مالکی مذہب، حنبلی مذہب، حنفی مذہب اور اہل تشیع۔
ان مذاہب کے علاوہ کچھ دوسرے مذاہب بھی تھے جیسے سفیان الثوری کا مذہب، سفیان بن عیینہ کا مذہب، امام اوزاعی کا مذہب، اور ابو داؤد الظاہری کا مذہب۔ان مذاہب میں سے اول الذکر مذاہب اب تک اس دنیا میں رائج ہیں، ان مذاہب کو عوام اور علماء نے نجات کا ذریعہ سمجھا ہوا ہے اس لیے ان مذاہب کے پیرو کاروں نے اپنے اپنے مذہب کو مضبوطی سے تھام لیا ہے اور مؤخر الذکر مذاہب اس دنیا میں رائج نہیں ہیں کیونکہ ان کو کسی حاکم کی سرپرستی نصیب نہیںہوئی اس لیے یہ مذاہب قصہ پارینہ ہوگئے۔اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا حق چار یا پانچ ہوسکتے ہیں یا حق ایک ہی ہوتاہے؟؟؟
اگر حق ایک ہی ہوتا ہے تو باقی مذاہب کے متعلق کیا کہا جاسکتا ہے؟ اگر حق چارہویا پانچ ہوسکتے ہیں تو پھر ایک مسئلہ ایک مذہب کے نزدیک سنت کیوں اور وہی مسئلہ دوسرے مذہب کے نزدیک خلاف سنت کیوں ہوتاہے؟ اس کی مثال ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک تصور کی جاتی ہیں، کیا دین اتنا متضاد ہوسکتاہے؟ جب کہ دین اسلام کامل اور مکمل ہونے کی گواہی خود اللہ تعالی نے دی ہےکہ

اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا(المائدہ:3)

’’ آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپناانعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔ ‘‘
مذہب نقص اور عیب سے پاک نہیں ہوتا اور نہ ہی مذہب دین کی طرح کامل اور مکمل ہوتاہے، اس کی مثال یہ ہے کہ مذہب حنفی بینکنگ کے نظام کے متعلق ہماری رہنمائی نہیں کرتا بلکہ احناف نے بینکنگ کا نظام حنبلی مذہب سے لیا ہے اس سے دین اور مذہب کا فرق واضح ہوجاتا ہے۔دین مکمل اس لیے ہےکہ یہ اللہ تعالی کا بھیجا ہوا ہے اس لیے نقص اور عیب سے پاک ہے اور مذہب وقت کے علماء اور مجتہدین کے اجتہاد کا نام ہے۔مجتہدین کا اجتہاد کبھی صحیح بھی ہوتا ہے اور کبھی غلط بھی،اور ایک مجتہد کی رائےدوسرے مجتہد کی رائے کے برعکس بھی ہوتی ہے۔کیونکہ ہر ایک کی سوچ اور فکر کا زاویہ مختلف ہوتاہے۔
اور علم تک رسائی میں بھی فرق پایا جاتا ہے ان باتوں کا عملی ثبوت یہ مذاہب اور مختلف آراء ہیں جوہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں اور اسی طرح ہمارے لیے مذاہب پر عمل کرنا لازمی نہیں ہے بلکہ ہمارے لیے یہ لازمی ہے کہ ہم اسلام پر عمل کریں۔اگر احناف بینکاری کا نظام حنبلی مذہب سے لیتے ہوئے گناہ گار نہیں ہوتے تو اس کے علاوہ دوسرے مسائل لیتے ہوئے کیوں کر گناہ گار ہوسکتے ہیں؟اگر کوئی شخص حنفی مذہب چھوڑ کر شافعی مذہب اختیار کرتاہے تو ایسا کرنا دلیل کی بنیاد پر اس کے لیے نہ صر ف جائز ہے بالکل یہی مطلوب ہے۔
شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’الانصاف‘‘ میں لکھتے ہیںکہ:’’یہ جان لیں کہ پہلی اور دوسری صدی میں لوگ کسی معین مذہب کے مقلد نہیں تھے‘‘
مذاہب کو لازمی پکڑنا اس امت کے کسی امام سے ثابت نہیں بلکہ چاروں مذاہب کے ائمہ نے کسی مذہب کو مضبوطی سے پکڑلینے اور اس پر عمل کرنے سے منع کیا ہے۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’کسی بھی شخص کے لیے ہمارے قول سے استدلال کرنا جائز نہیں جب تک وہ یہ نہ جانتاہوکہ ہم نے اسے کہاں سےلیا ہے؟ ایک اور روایت میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیںکہ :’’جو شخص میری دلیل نہ جانتا ہواس پر میرے کلام سےفتوی دیناحرام ہےکیونکہ ہم انسان ہیں آج ایک بات کہتے ہیں توکل اس سے رجوع کر لیتے ہیں‘‘
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیںکہ:’’میں انسان ہوں کبھی صحیح کو پہنچتاہوں تو کبھی خطا کرجاتاہوں اس لیے میری بات پر نظر ڈالو اور اس میں سے جو بھی کتاب وسنت کے موافق ہو اسے لے لو اور جوبھی کتاب وسنت کے موافق نہ ہو اسے چھوڑدو‘‘
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیںکہ: ’’تمام مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ جسے رسول اللہ ﷺ کی کوئی سنت معلوم ہوگئی تو اس کے لیے جائز نہیں ہےکہ وہ کسی قول کی وجہ سے سنت کو چھوڑ دے‘‘ اور فرمایاکہ:’’اگرمحدثین کے یہاں کوئی حدیث صحیح سند سے ثابت ہواور میری بات کےمخالف ہو تو میں اپنی بات سے زندگی میں اور موت کے بعد رجوع کررہا ہوں‘‘
امام احمدبن حنبلhفرماتے ہیںکہ:’’تم لوگ میری تقلیدکرو نہ مالک کی نہ شافعی کی نہ اوزاعی کی اور نہ ثوری کی بلکہ تم بھی اس جگہ سے لو جہاں سے انہوں نےلیا ہے‘‘
ائمہ مذاہب کے اقوال سے یہ ثابت ہوتا ہےکہ کسی خاص مذہب اور کسی خاص امام کی تقلید کرنا جائز نہیں ہے۔ان ائمہ کے اقوال کے ہوتے ہوئے بھی احناف ، شافعیہ ، مالکیہ نے کس دلیل کی بنیاد پر ان ائمہ کے اقوال اور فتوی کو مذہب بنالیاہے۔ان کے مذہب بنانے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ مذکورہ اقوال ان ائمہ کے نہیں ہیں بلکہ ان کی طرف منسوب کردیے گئے ہیں اگر یہ اقوال ان ائمہ کے ہیں تو یہ مذاہب کیسے وجود میں آئے؟
’’مذہب‘‘ دین اسلام کے ماہر علماء اور فقہاء کی فکر اور رائے کا نام ہے۔ان علماء اور فقہاء نے کسی دینی مسئلے میں غور وفکر کے بعد جو رائے پیش کی ہے یہی رائے آگے جاکر ایک مستقل مذہب بن گیا۔اسی لیے مذاہب اربع کی اصطلاح عام ہوگئی۔ہر مذہب اپنا فقہی مسئلہ بتاتے وقت یہ کہنے لگا کہ اس مسئلے میں ہمارا مذہب یہ ہے۔اگر نیک نیتی سے غور کیا جائےتو یہ صرف ایک رائے تھی جو کسی امام نے دی ہے۔بعد میں یہ رائے ایک مستقل مذہب بن گیا اور امام کی طرف اس رائے کو منسوب کرکے اس پر سختی سے عمل کرنا ، کیا یہ معقول بات ہے؟اور کیا یہ اس امت کے حق میں فائدہ مند عمل ہے؟دین اللہ تعالی کا دیا ہوازندگی گزارنے کا ایک طریقہ ہے اور مذہب کسی مجتہد کی رائے اور فکر اپنا نے کا نام ہے دین ایک مقد س شے ہے اور مذہب میں بہر حال معصومیت نہیں ہے اس میں کہیں نہ کہیں خطا اور غلطی کا امکان ضرور پایا جاتا ہے۔
دین کی طرف نسبت کرنا قرآن اور سنت کا مطالبہ ہے اور مذہب کی طرف نسبت کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ اکابرین کے نظریہ اور رائے میں غلو کرنا یا ان کی آراء پر سختی سے عمل کرنا ’’مذہب‘‘ کہلاتاہے۔دین کی پیروی کرنا فرض ہے اور اس کی پیروی سے انکار یا روگردانی کرنا کفر ہے اور اگر کوئی شخص کسی مذہب کا انکار کرتاہے یا مذہب کی کسی رائے پر عمل نہیں کرتاتو بہر حال مسلمان ہی رہے گا کیونکہ مذہب ایک فرد کی رائے اور سوچ پر سختی سے چمٹ جانے کا نام ہے اور مسلمان سے یہ مطلوب نہیں ہے۔انسان جب پیدا ہوتاہے تو وہ اپنی فطرت کے مطابق آزاد پیدا ہوتاہے یہ کسی مذہب اور مسلک پر پیدا نہیں ہوتا بلکہ پیدائشی طور پر انسان مؤحد اور توحیدپرست پیدا ہوتا ہےکیونکہ اللہ تعالی نے اس انسان کو پیدا کرنے کے بعد اس سے اپنے رب ہونے پر عہد لیا تھاکہ :

أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا(الأعراف: 172)

’’ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ‘‘
اللہ تعالی نے تمام انسانوں سے یہ عہد لیا تھا اور سب نے مل کر یہ اقرار کیا تھا یہ اقرار توحید کا اقرار اور اپنے بندے ہونے کا اقرار تھا۔انسان اس دنیا میں آخر کسی خاص مذہب اور کسی خاص مسلک کا پیروکار بننے پر مجبور ہوجاتا ہے اس کا معاشرہ اس کو ایساکرنے پر مجبور کرتاہے، کیونکہ اس کے آس پاس رہنے والے کسی نہ کسی مسلک کے پیروکار ہوتے ہیں اس کے گھر والے اس کے والدین اس کے دوست احباب اس کے اساتذہ اس کے محلے کی مسجد کا امام اس لیے اس کو ان تمام لوگوں کامذہب اور مسلک ، اصل دین معلوم ہوتاہے۔مسجد میں اس کو جو پہلا درس دیا جاتاہے وہ بھی کسی نہ کسی مذہب اور مسلک کا درس ہوتاہے اس لیے یہ اس سے زیادہ سوچنا بھی گوارہ نہیں کرتااور یہ مذہت کے متعلق سوال وجواب کو گنا ہ تصور کرتاہے کیونکہ اس کو اس معاشرے نے یہی سکھایا اور جو معاشرے نے اس کو سکھایا ہے یہ اسی کو دین سمجھ بیٹھاہے۔
نبی کریم ﷺ فرمایا:

كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ(صحيح البخاري (2/ 100)

’’ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پس اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں‘‘
فطرت سے مراد یہ ہے کہ یہ انسان پیدا ہونے سے پہلے جو اللہ تعالی سے وعدہ کرکے آیا تھا ، اس وعدے پر کاربند رہتا مگر اس کا معاشرہ اور اس کے والدین وہ وعدہ وفا کرنے میں حائل ہیں اور یہ اس معاشرے کا جو مذہب اور مسلک ہے وہی اس کا مسلک اور مذہب بن جا تا ہے۔فقہاء کا یہ اصول ہے کہ:’’عام آدمی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اس کا مذہب وہی ہوتاہے جو ا س کو فتویٰ دیتا ہے‘‘ اگر فتوی دینے والاحنفی ہے تو یہ بھی حنفی ، شافعی ہے تو یہ بھی شافعی ، مالکی ہے تو یہ بھی مالکی اور اگر حنبلی ہے تو یہ بھی حنبلی بن جاتاہے۔جبکہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ اور ہمارا ملک حنفی ہے جوکہ حقیقت کے برخلاف ہے۔کیونکہ کسی شخص نے ان مذاہب میں سے کسی ایک مذہب میں اپنی رجسٹری نہیں کروائی بلکہ ایک عام آدمی کا مذہب وہ ہے جو مسجد کے مولوی صاحب کا مذہب ہے اور یہ بات بھی سراسرانا انصافی پر مبنی ہے کہ کوئی یہ کہے کہ یہ ملک ہمارے مذہب کا پیروکار ہےجبکہ ہمیں دین اسلام ، قرآن اور رسول اللہ ﷺ اور ائمہ اربعہ نے کسی خاص امام کے مذہب کی تقلید اور پیروی سے منع کیاہے۔اللہ تعالی نے ہمیں واضح الفاظ میں یہ تعلیم اور تلقین کی ہےکہ :

فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا(النساء59)

’’ پھر اگر کسی چیز پر اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے‘‘
مگرافسوس ان علماء ، فقہاء اور مفتیان کرام پر ہے جو مسائل کو حل کرنے کے بجائے الجھا دیتے ہیں مسائل کو اللہ تعالی اور اس کے رسولﷺ سے حل کرانے کے بجائے ان سے حل کروائے جاتے ہیں جہاں سے یہ مسائل اختلافی بنے ہیں اور مذہب کو مذہب تب ہی کہا جاتاہے جب کس خاص امام کی سوچ اور فکر پر مضبوطی سے عمل کیا جاتاہے تب یہ عمل مذہب کا روپ اختیار کر لیتاہےاور مذہب کی بنیاد کسی خاص فقہ پر رکھی جاتی ہے یہ ایک مذہب کا پیروکار اپنے مذہب کو چھوڑکر کسی دوسرے مذہب پر عمل نہیں کرسکتاہے۔
اس کے لیے یہ اصول نہ اللہ تعالی نے بنایا ہے اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ نے اور نہ ائمہ اربعہ میں سے کسی نے جس کی طرف یہ مذاہب منسوب کیے جاتے ہیں بلکہ یہ اصول دوسرے اور تیسرے درجہ کے علماء اور مفتیان کرام نے اپنی طرف سے گھڑ لیاہے۔مذہب کی بنیاد فقہ پر ہوتی ہے اور موجودہ فقہ عباسی دور میں وجود میں آئی ہے۔
اس موجودہ فقہ میں مسلمان حکمرانوں کے متعلق کئی ابواب ملیں گے۔اگر اس فقہ سے یہ معلوم کرنا چاہیں کہ جب مسلمان حاکم کی حیثیت میں نہ ہوتو پھر ان مسلمانوں کے لیے شرعی حکم کیا ہے؟ اس سوال کا واضح جواب آپ کو اس فقہ میں نہیں ملے گا۔جب یہ فقہ مدون کی گئی تو اس وقت سلطانی خلافت کا زمانہ تھا اور موجودہ دور کی عوامی جمہوریت اس وقت قائم نہیں ہوئی تھی۔اس لیے اس فقہ میں خلیفہ اور بادشاہ کے متعلق احکام ملیں گے۔مگر جب آپ موجودہ فقہ سے یہ معلوم کرنا چاہیں کہ مسلمان کسی ملک میں اکیلے حکمران نہیں ہیں مگر جمہوری نظام کے تحت دوسری اقوام کے ساتھ مل کر حکومت قائم کریں تو ان حالات میں شریعت کا کیا حکم ہے؟تو اس سوال کا جواب آپ کو اس موجودہ فقہ میں نہیں ملے گااور نہ ہی ایسی جمہوری حکومت کے متعلق اس فقہ میں کوئی رہنمائی ملےگی جو دوسرے شریکوں کے ساتھ مل کر قائم کی جائے۔یہ مسئلہ دارالاسلام ، دارالحرب یا دارالکفر کا ہے؟ کیا موجودہ دور میں یہ اصطلاحیں استعمال ہوسکتی ہیں؟ یہ کمی صرف اور صرف موجودہ مدون فقہ میں ملے گی۔اگر ہم فقہ سے آگے بڑھ کر قرآن وسنت کی طرف آئیں گے تو قرآن وسنت میں ہمیں ہر صورت حال اور ہر قسم کے مسائل کی رہنمائی ملے گی۔یہی اصل فرق ہے دین اورمذہب میں ، دین کامل اور مکمل اللہ تعالی کی طرف سے آیا ہے اور مذہب کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہوبہر حال اس میں نقص اور کمی ضرور پائی جائے گی کیونکہ یہ ایک انسان کی سوچ فکر اور رائے پر مبنی ہوتا ہے اور انسان کی رائے میں غلطی کا امکان بہر حال رہتا ہے ایک امام کی رائے سے دوسرے امام کا اختلاف بھی اس لیے ہوتا ہےکہ دوسرے امام کی نظرمیں پہلے امام کی رائے کمزور ہوتی ہے۔اس لیے دوسرا امام پہلے کی رائے سے اختلاف رکھتے ہوئے اپنی رائے پیش کرتاہے۔مگر قرآن اور سنت کی موجودگی میں کسی بھی امام کو اختلاف رائے رکھنے کا کوئی خیال بھی دل میں نہیں آئے گا۔اس لیے امام شافعی رحمہ اللہ نے مسلمانوں کا یہ اجماع ذکر کیا ہے کہ :’’تمام مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس شخص کو آپ ﷺ کی کوئی سنت معلوم ہوجائےتو پھر اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی کےقول کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کی سنت ترک کردے۔مولانا انور شاہ کاشمیری رحمہ اللہ اپنے علمی کارنامے کو اس طرح ذکر کرتے ہیں کہ ہمارا علمی کارنامہ یہ ہے کہ حنفی مسلک کی دوسرے مسالک پر فوقیت ثابت کریں۔ ا س قول کے بعد مولاناانور شاہ کاشمیری رحمہ اللہ نے آخری عمر میں افسوس کا اظہار کیا جس کے راوی مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ ہیں، ذکر کرتے ہیںکہ مولانا انور شاہ کاشمیری رحمہ اللہ نے اپنی آخری عمر میں افسوس اور حسرت کے انداز میں کہہ دیا کہ:’’ہم نے اپنی ساری عمر کس بیکار مشغلے میں کھپا دی‘‘ یعنی حنفی مسلک کو دوسرے مسالک پر فوقیت دینا اگر کوئی خاص مذہب و مسلک دین اور حق ہوتا تو پھر مولانا انور شاہ کاشمیری رحمہ اللہ کو اپنی زندگی پر افسوس نہ ہوتا۔اس سے دین اور مذہب میں فرق واضح ہوگیا ہے۔ہمیں بھی دین اسلام کی خدمت کرنی چاہیے نہ کہ مذہب کی۔دین قرآن اور سنت کا نام ہے اور مذاہب امام کی رائے اور فکر کانام ہے۔
————–

مولانا میاں محمود عباس رحمہ اللہ

میاں محمود عباس بن میاں قطب الدین جھجہ کے گھر 1964ء کو جھجہ کلاں تحصیل دیپال پور ضلع اوکاڑہ میں پیدا ہوئے۔

تعلیم : 

ابتدائی تعلیم گورنمنٹ مڈل اسکول جھجہ کلاں سے حاصل کی ، ناظرہ قرآن مجید اپنے گاؤں کی مسجد میں حافظ محمد یوسف مرحوم اور مولانا عبد المجید مرحوم سے پڑھا۔

اس کے بعد آپ کے والد گرامی درس نظامی کی تعلیم کے حصول کے لیے مولانا مفتی محمد یوسف قصوری حفظہ اللہ امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث صوبہ سندھ کے ساتھ جامعہ دار الحدیث راجووال میں چھوڑ آئے۔ ایک سال زیر تعلیم رہنے کے بعد جھجہ خاندان کے نامور بزرگ استاذ الاساتذہ شیخ الحدیث مولانا محمد رفیق سلفی صاحب حفظہ اللہ آپ کو جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ لے گئے وہاں پر چار سال زیر تعلیم رہنے کے بعد فاضل عربی اور درس بخاری کے لیے جامعہ محمدیہ اوکاڑہ میں داخلہ لے لیا۔ جامعہ محمدیہ اوکاڑہ ہی سے فاضل عربی کا امتحان پاس کیا اور بخاری شریف شیخ الحدیث والتفسیرمولانا محمد عبد اللہ امجد چھتوی رحمہ اللہ سے پڑھی۔ جامعہ سے فراغت حاصل کرنے کے بعد جامعہ دار الحدیث رحمانیہ کراچی میں عربی لینگویج کا کورس کرنے کے لیے فضیلۃ الشیخ عبد اللہ سالم الدوسری پروفیسر جامعہ ملک ریاض سعودی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے استفادہ کیا۔ جامعہ دار الحدیث رحمانیہ کراچی میں ہی محقق عالم دین شیخ الحدیث مولانا کرم الدین السلفی سے دوبارہ بخاری شریف پڑھی۔

خطابت :

مولانا میاں محمود عباس دوران تعلیم ہی جامع مسجد بیت السلام لیاقت آباد کراچی میں خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ جامعہ سے فارغ ہونے کے بعد دو سال تک کراچی میں بطور خطیب رہے اس کے بعد بطورمدرس جامعہ تقویۃ الاسلام شیش محل روڈ لاہور میں درسی کتب چند سال تک پڑھاتے رہے ۔ تدریس کے ساتھ ساتھ جامع مسجد توحید المعروف لال مسجد قلعہ لچھمن سنگھ لاہور میں بطور خطیب خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اس کے بعد جامع مسجد مبارک اہل حدیث پتوکی میں خطبہ جمعہ کا آغاز کیا آپ سے قبل مفکر اسلام مولانا محمد ابراہیم کمیرپوری رحمہ اللہ یہاں پر خطیب تھے۔ آپ نے ان کی زندگی میں ہی یہاں خطبہ جمعہ کا آغاز کیا۔

اساتذہ کرام : 

مولانا میاں محمود عباس صاحب نے وقت کے جن اساطین علم سے استفادہ کیا ان کے اسماء گرامی یہ ہیں:

محدث زمان حافظ محمد محدث گوندلوی ، مفکر اسلام مولانا معین الدین لکھوی ، شیخ الحدیث مولانا عبد اللہ امجد چھتوی، شیخ الحدیث مولانا عبد المنان نورپوری، شیخ الحدیث مولانا الحلیم برادر مولانا حافظ عبد العلیم یزدانی، مولانا عبد الرشید،شیخ الحدیث مولانا حافظ محمد لکھوی بن ولی کامل مولانا محی الدین لکھوی رحمہم اللہ علیہم اجمعین اور مولانا عبد الحمید ہزاروی اور مولانا محمد رفیق سلفی حفظہما اللہ

تنظیمی وابستگی وذمہ داری :

میاں محمود عباس صاحب تنظیمی ذہن رکھنے کی وجہ سے

شروع سے ہی اہل حدیث کی کسی نہ کسی تنظیم سے وابستہ

رہے۔ آپ نے اپنی تنظیمی زندگی کا آغاز جمعیت طلبہ اہل حدیث سے کیا اس کے بعد آپ جمعیت شبان اہل حدیث پاکستان کے مرکزی صدر بھی رہے ہیں ۔ جب مسلک اہل حدیث کی دوبڑی جماعتوں مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان وجمعیت اہل حدیث پاکستان کا اتحاد ہوا اور نوجوانوں کی تنظیم اہل حدیث یوتھ فورس پاکستان کو بنایاگیا تو آپ کو اہل حدیث یوتھ فورس پاکستان کا ڈپٹی سیکریٹری جنرل بنایاگیا اور آپ یہ ذمہ داری نبھاتے رہے۔ 2011ء میں آپ کو مرکزی جمعیت اہل حدیث صوبہ پنجاب کا ناظم اعلی مقرر کیاگیا اور آپ تاحال 2018ء یہ ذمہ داری نبھا رہےتھے۔

جامعہ مدینہ کا قیام :

میاں محمود عباس نے 1996ء کو جی ٹی روڈ پتوکی میں 4 کنال اراضی خرید کر جامعہ مدینہ کی بنیاد رکھی اور اب تک اس جامعہ کے انتظام وانصرام آپ کے ذمہ تھا۔ بحمد اللہ اس جامعہ سے 250 حفاظ کرام اور تقریباً 65 علماء کرام سندفراغت حاصل کرچکے ہیں یہاں سے فراغت حاصل کرنے والوں میں جماعت کے مشہور خطیب قاری حافظ محمد اقبال قصوری جو کہ حال ہی میں اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں وہ بھی شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی دین حنیف کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔

تبلیغی سفر :

میاں محمود عباس صاحب نے جماعت کی ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ اندرون وبیرون ملک تبلیغی سفر بھی کیئے ،آپ دین اسلام کی تبلیغ واشاعت کے لیے سعودی عرب، بحرین ، کویت ، قطر، متحدہ عرب امارات وغیرہ بھی کئی بار تشریف لے جاتے رہے۔

شادی واولاد :

میاں محمود عباس صاحب نے ایک شادی کی ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں عطا کی ۔

وفات :

میاں محمود عباس صاحب 26 اکتوبر 2018ء کو احرام پہنے عمرے کی نیت سے مکہ مکرمہ پہنچے اور سستانے کی غرض سے لیٹ گئے آپ کے ساتھ مولانا محمد ابراہیم طارق صاحب ناظم اعلیٰ صوبہ سندھ ، عبد الحسیب حسن ذوالفقار علی جوئیہ وغیرہ بھی تھے۔ خطبہ جمعہ کے لیے جب اذان ہوئی تو آپ کو اُٹھانے کی کوشش کی تو دیکھا کہ آپ اپنے رب کے حضور پہنچ چکے ہیں۔ انا للہ وانا إلیہ راجعون

اگلے دن بعد نماز عشاء حرم مکی میں آپ کی نماز جنارہ امام کعبہ جناب فیصل الغزاوی صاحب حفظہ اللہ نے پڑھائی اور آپ کو بلدالامین مکہ مکرمہ میں دفن کر دیاگیا۔

اللہم اغفر لہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ . … 

تبصرۂ کتب

کتاب کا نام : نماز جنازہ میں ایک طرف سلام پھیرنا مسنون ہے ۔

مؤلف : ابو زبير محمد ابراهيم رباني

ناشر : دارالاسلاف سندھ                        كل صفحات : 96

تبصره نگار : شیخ عبدالوکیل ناصر

کسی بھی مسلمان کے جنازے میں شرکت اس کے آخری حق کی ادائیگی ہے جو کہ شرعا ایک مسلمان پر عائد ہوتی ہے۔ “الموت قدح کل نفس شاربوھا” کے مصداق مخلوق میں سے ہر ایک نے موت سے ہمکنار ہونا ہے ۔

اور پھر یقینا فوت شدہ مسلمان کا جنازہ بھی ہوناہےلہٰذا دیگر فقہی مسائل کی تفہیم کے ساتھ ساتھ جنازہ ، نماز جنازہ اور اس کے تمام تر متعلقات کا علم اور فہم بھی ضروری ہے ۔

اسی غرض سے تقریبا تمام محدثین نے اپنی اپنی تالیفات اور سنن میں کتاب الجنائز یا ابواب الجنائز کے عنوان سے احادیث و آثار ذکر کیے ہیں ۔كما لا يخفي علی اهل العلم

اور پھر بعض اہل علم نے مکمل تصنیف ہی اس عنوان سے مرتب کی ہے اور اس موضوع کو اس کے متعلقات کے ساتھ سمیٹ کر ایک ہی جگہ رکھ دیا ہے ۔

جیسے امام و محدث عبدالرحمان مبارکپوری اور شیخ ناصر الدین البانی رحمہما اللہ وغیرہ کی تصانیف اس پر شاہد ہیں ۔ اللہ تعالی ان تمام اہل علم کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے ہم کوتاہ نظروں کے لیے اس مسئلہ کی تفہیم کو آسان بنایا ۔

دیگر عناوین کی طرح اس عنوان پر بھی تا حال لکھنے کا سلسلہ جاری ہے اور رہے گا ۔ ان شاء اللہ

زیر نظر و زیر تبصرہ تالیف لطیف اس سلسلے کی ایک ذھبی کڑی اور لڑی ہے کہ جس میں فاضل مؤلف مولانا ابوزبیر محمد ابراہیم ربانی حفظہ اللہ نے نماز جنازہ میں اختتام نماز پر سلام سے متعلق سیر حاصل گفتگو فرمائی ہے۔

کتاب کے سرورق پر تقدیم و نظر ثانی کے تذکرے میں عالم باعمل شیخنا ذوالفقار علی طاہر رحمہ اللہ ، محقق دوراں غیرت اہل حدیث ڈاکٹر عبدالحفیظ سموں حفظہ اللہ اور میدان تحقیق و تخریج کے شہسوار حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ کے اسماء کا آ جانا ہی کتاب کے منھجی صلابت كے لیے کافی ہے ۔ جزاھم اللہ خیرالجزاء

کچھ کہنے اور لکھنے کی حاجت ہی نہیں ہے البتہ الامر فوق الادب کے تحت فاضل دوست صاحب علم و فضیلة الشیخ محمد سلیمان جمالی حفظہ اللہ کے حکم پر یہ چند ٹوٹے جملے سپرد قرطاس کر رہا ہوں ۔

أحب الصالحين ولست منهم
لعل الله يرزقني صلاحا

اس دعا کے بعد عرض ہے کہ یہ کتاب بحمد اللہ تعالی احادیث مبارکہ ، آثار صحابہ ، اقوال سلف اور اجماع کے دلائل سے مزین و معمور اور مملوء ہے ۔

تحقیق و تخریج اور رجال و رواة کے ایسے مباحث کہ نہ صرف طلبة العلم بلکہ اصحاب علم و فضل بھی سیرابی حاصل کرلیں ۔ انداز افہام و تفہیم کا اختیار کیا گیا ہے نہ کہ تحکم و تسلط کا ۔ نیز الزامی حوالہ جات اور جوابات کا بھی خوب اہتمام کیا گیا ہے ۔

نماز جنازہ میں ایک ہی سلام کے مسنون ہونے پر ایک جامع اور مانع تحریر ہے ۔ اہل علم و دانش امید ہے ، بنظر تحسین و تائید دیکھیں گے ۔

کتاب میں محترم فاضل دوست اور میرے ہم مکتب الشیخ انور شاہ راشدی حفظہ اللہ کی داد شجاعت ہی دیکھنے کو ملی ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ رؤوف و رحیم اس کتاب کو عوام الناس کے لیے باعث منفعت بنا دے اور مؤلف و مقدم اور ناشر اور دیگر رفقاء کے لیے ذخیرہ آخرت بنا دے ۔

وما ذلك علي الله بعزيز

۔۔۔

نام کتاب : توضیح الفرقان

تالیف : فضیلۃ الشیخ حافظ عبد الوہاب روپڑی حفظہ اللہ

صفحات : 978 بڑا سائز عمدہ رنگین کاغذ مجلد

ناشر : محدث روپڑی اکیڈمی جامع القدس

قیمت : درج نہیں

تبصرہ نگار : محمد انس اقبال

زیر تبصرہ کتاب اردو زبان میں قرآن پاک کی ایک عمدہ تفسیر ہے۔ تفسیر کا مطلب وضاحت کرنا ہے اور اصطلاحی طور پر اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے فرامین کی توضیح ہے کہ وہ اپنے بندوں سے کیا مطالب فرماتا ہے؟ کس بات کا حکم دیتاہے اور کس سے منع فرماتاہے؟ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے قرآن پاک نازل فرمایا اور اس کی تفسیر اور توضیح رسول اکرم کا منصب قرار دیا۔

آپ  نے اپنے فرامین اور عمل مبارک سے کتاب اللہ کی تفسیر فرمائی ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی تفسیر سکھائی اور سمجھائی۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تفسیر قرآن کریم کی تعلیم کا سلسلہ جاری فرمایا تو تابعین عظام کے ساتھ ساتھ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی ان سے یہ مقدس علم سیکھا۔ امام مجاہد وعکرمہ رحمہما اللہ وغیرہ اس سلسلے میں بہت نامور ہوئے پھر ان سے آگے یہ سلسلہ چلتا گیا۔ قرآن پاک چونکہ علوم ومعارف کا خزانہ اور ناپید کنار سمندر ہے۔ اس لیے بڑے بڑے علماء کرام اورمفکرین عظام نے اس شناوری کو سعادت جانا اور اس کے لیے اپنی زندگیاں کھپا دیں ، امام طبری، امام قرطبی اور حافظ ابن کثیر رحمہم اللہ وغیرہ نے تفسیر میں شاندار تصانیف پیش کیں۔

اس علم عظیم کے خدمت گزاروں اور اس سے تعلق رکھنے والے سعادت مندوں میں ایک نام فضیلۃ الشیخ حافظ عبد الوہاب روپڑی حفظہ اللہ فاضل ام القریٰ یونیورسٹی مکہ مکرمہ کا بھی ہے جنہوں نے تفسیر بالماثور اور منہج سلف کے عین مطابق توضیح الفرقان کے نام سے قرآن پاک کی تین سورتوں (الفاتحہ، البقرۃ اور آل عمران) کی تفسیر لکھی ہے۔ یہ تفسیر اپنی مثال آپ ہے اس تفسیر کی خوبیاں یہ ہیں کہ شیخ محترم نے تفسیر کرتے وقت چند اہم چیزوں کا خاص خیال رکھا ہے جو قابل تحسین وستائش ہے۔

1 قرآنی آیات کی تفسیر آیات قرآنیہ کے ساتھ کی یعنی (تفسیر القرآن بالقرآن) کا اہتمام خاص کیا ہے۔ جیسا کہ انہوں نے أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی تفسیر میں فرمایا کہ انعام یافتہ وہ لوگ ہیں جو انبیائے کرام ،صدیقین،شہداء اور صالحین ہیں۔

2 تفسیر کرتے ہوئے مستند احادیث کاالتزام کیا۔جیسا کہ انہوں نے آمین کے حکم میں ذکر فرمایا کہ سورئہ فاتحہ کے اختتام پر بلند آواز سے آمین کہنا مسنون ہے جیسا کہ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ  جب وَلَا الضَّالِّينَ پڑھتے قال آمین رَفَعَ بِهَا صَوْتَهُتو بلند آواز سے آمین کہتے۔

3 حسب ضرورت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام کے فرامین کو قلمبند کیاگیاہے۔حضرت بجالہ بن عبید رحمہ اللہ فرماتےہیں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ہر جادوگر(مردوعورت) کو قتل کرنے کا فرمان جاری فرمایا تھا چنانچہ ہم نے تین جادوگروں کو قتل کیا تھا۔

4 ضعیف اور من گھڑت روایات سے کلی اجتناب برتا گیاہے۔ جالوت کا قتل سیدنا داؤد علیہ السلام کے ہاتھوں ہونے کی تین وجوہات ہیں :

۱) سیدنا داؤد علیہ السلام اس وقت نوعمر اور جنگی امور سے بالکل ناآشنا تھے ان کے ہاتھوں جالوت جیسے جابر اور ظالم بادشاہ کو قتل کرواکر لوگوں کے دلوں سے ایسے حکمرانوں کا خوف اور ڈر زائل کرنا مقصود تھا کہ جن کو تم بڑے طاقتور اور جابر سمجھ کر خوف زدہ ہوتے ہو وہ تو بڑے کمزور اور ناتواں ہیں۔

۲) اللہ تعالیٰ سلطنت طالوتی کا وارث سیدنا داؤو علیہ السلام اور ان کے بعد سیدنا سلیمان علیہ السلام کو بنانا چاہتے تھے اسی لیے جالوت کے قتل کے بعد اللہ تعالیٰ نے نبوت اور حکومت سیدنا داؤد علیہ السلام کو عطا فرمادی۔

۳) بنی اسرائیل کے عقیدے میں پیدا ہونے والی بیداری کے صلہ میں اللہ تعالیٰ ان کو ایسی سلطنت دینا چاہتے تھے جو بنی اسرائیل کی ساری تاریخ کا عہدزریں ہو۔

5 تفسیر بالرائے کے بجائے تفسیر بالماثور کو ترجیح دی ۔

اس کے علاوہ شیخ محترم نے اس کتاب میں ہر آیت کا ترجمہ پھر توضیح، مشکل الفاظ کے معانی ، ہر توضیح کے بعد اخذ شدہ مسائل اور آیات کا باہمی ربط ومناسبت بھی ذکر کی ہے۔

اس کتاب میں تاریخی مباحث کو (جالوت) بھی عمدگی سے سمویاگیا ہے، تفسیر میں مروج کمزور روایات سے اجتناب کیاگیاہے، مفسر کا انداز خیر الکلام ما قل ودل کا مصداق ہے۔ مختصر مگر جامع بات کرتے ہیں۔

تفسیر قرآن کے لیے قابل احترام مفسر نے زبان نہایت سادہ وآسان استعمال کی ہے تاکہ عام لوگوں کے لیے فہم قرآن میں آسانی ہو ، عبارت رواں اور نہایت سلیس ہے۔

تفسیر قرآن کا یہ سلسلہ انتہائی مبارک سلسلہ ہےباری تعالیٰ سے دعا ہے کہ اسی نہج پرتکمیل کرنے کی توفیق فرمائے ۔آمین

طلبہ ، اساتذہ،علماء، عوام الناس الغرض زندگی کے ہرشعبہ سے متعلق افراد کے لیے تفسیر کے حوالے سے یہ کتاب نہایت مفید ہے۔

اللہ تعالیٰ اس کتاب کو مؤلف وناشرکے میزان حسنات میں شامل کرکے ان کے حق میں صدقہ جاریہ بنا ئے۔

۔۔۔

نیک اولاد کے والدین کو فائدے

اگر والدین اپنی اولاد کی اچھی طرح تربیت کریں گے اور اولاد کو نیکوکار بنائیں گے تو اس پر والدین کو دنیا و آخرت کے بہت سارے فائدے حاصل ہوں گے ۔

نیک اولاد جو بھی نیک عمل سرانجام دے گی اس کا اجر اس کے والدین کو ضرور ملے گا اگرچہ اولاد نے اس کی نیت ہی نہ کی ہو جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ tسے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا :

إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ (صحیح مسلم : 4223 )

 جب انسان فوت ہو جائے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین اعمال کے ( وہ منقطع نہیں ہوتے)صدقہ جاریہ یا ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے یا نیک بیٹا جو اس کے لیے دعا کرے ۔یعنی جب بندہ فوت ہوجاتا ہے اور پیچھے نیک اولاد چھوڑ جاتا ہے تو اس کے ہر نیک عمل کا ثواب اس کے والدین کو ملے گا اور اس کی دعائوں کی بدولت والدین کا قبر حشر بھی آسان ہوجائے گا۔

سیدنا ابوہریرہ tسے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا

إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَیَرْفَعُ الدَّرَجَۃَ لِلْعَبْدِ الصَّالِحِ فِی الْجَنَّۃِ، فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ اَنّٰی لِیْ ھٰذِہِ؟ فَیَقُوْلُ: بِاِ سْتِغْفَارِ وَلَدِکَ لَکَ (مسند احمد: 3636 )

جب اللہ تعالیٰ کسی نیک بندے کا جنت میں درجہ بلند کرے گا، تو وہ پوچھے گا:اے میرے رب! یہ درجہ میرے لیے کہاں سے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تمہارے حق میں تمہارے بیٹے کی دعائے مغفرت کی وجہ سے۔

اور اسی طرح سیدنا ابوھریرہ t سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ :

مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَتَعَلَّمَهُ وَعَمِلَ بِهِ أُلْبِسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَاجًا مِنْ نُورٍ ضَوْءُهُ مِثْلُ ضَوْءِ الشَّمْسِ

 جس نے قرآن مجید پڑھا سیکھا اور اسکے مطابق عمل کیا تو روز قیامت اس کو نور کا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج کی روشنی جیسی ہوگی ۔

آپ نے فرمایا کہ :

وَيُكْسَى وَالِدَيْهِ حُلَّتَانِ لَا يَقُومُ بِهِمَا الدُّنْيَا

اور اس کے والدین کو دو عبائیں پہنائیں جائیں گی کہ تمام دنیا بھی اس کا بدل نہ ہوسکے گا وہ دونوں ماں باپ کہیں گے

بِمَا كُسِينَا؟ فَيُقَالُ: بِأَخْذِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ

 ہمیں یہ کیوں پہنائی گئیں ؟ کہا جائے گا  : آپ کے بیٹے کے قرآن پڑھنے ( یعنی حفظ کرنے کی وجہ سے ) ۔

( صحیح الترغیب الترھیب : 1434 )

لہذا والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی دینی تربیت کریں اور انہیں دینی علوم کی طرف مائل کریں اس سے ہی والدین اور اولاد کی کامیابی وکامرانی ہے اور والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو صدقات و خیرات کی ترغیب دیا کریں تاکہ والدین کے فوت ہونے کے بعد وہ( ان کے حق میں ) صدقہ و خیرات کرتے رہیں اور والدین کو اس کا اجر ثواب حاصل ملتا رہے ۔ سیدنا سعد بن عبادہ t سے مروی ہے کہ :

قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّق ُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏  نَعَمْ ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏  سَقْيُ الْمَاءِ (سنن نسائی : 3694 )

 میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں مر گئیں ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“ میں نے پوچھا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ( پیاسوں کوپانی پلانا۔

یہ بات یاد رہے کہ رواج کے مطابق خیرات رواج ہی رہ جائے گی اس کا والدین کو کوئی اجر نہیں ملے گا سنت کے مطابق کوئی بھی نیکی کی جائے اس کا والدین کو اجر ضرور ملے گا بعض لوگ جمعرات چوبیسواں وغیرہ کرکے سمجھتے

ہیں کہ بابا جی کی نجات ہوگئی ایسے ہرگز نہیں ہے یہ فقط

پیٹ پیچھے بھاگنے والے مولویوں کا کھانا ہی ہے ۔

سیدنا سعد بن عبادہ t نے جب رسول اللہ سے یہ سنا تو اپنی والدہ کےلیے ایک کنواں کھدوا دیا تھا اور اس پر یہ بھی لکھ دیا کہ

هَذِهِ لِأُمِّ سَعْد

یہ سعد کی ماں کےلیے ہے یعنی اب جو بھی جب بھی اس سے پانی پیئے گا سعد کی ماں کو اجر ملتا رہے گا ۔

 ( سنن ابی داود : 1681 )

اور اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ : ا

أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا، وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ (صحیح البخاری:1388)

ایک شخص نے نبی کریم سے پوچھا کہ میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا اور میرا خیال ہے کہ اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ کچھ نہ کچھ صدقات کرتیں۔ اگر میں ان کی طرف سے کچھ صدقات کر دوں تو کیا انہیں اس کا ثواب ملے گا؟ آپ نے فرمایا ہاں ملے گا۔

اور ہاں ! والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو صلہ رحمی باہمی محبت اور رشتہ داری جوڑنے کی ترغیب دیا کریں تاکہ وہ والدین کے رشتوں کو قائم رکھیں اس پر بھی والدین کےلیے اجر وثواب ہے جو اسے تب تک ملتا رہے گا جب تک اس کی اولاد رشتے کو قائم رکھے گی ۔ ہمارے ہاں اکثر ایسے دیکھنے کو ملتا ہے کہ والدین کی وفات کے بعد اس کے دوستوں سے یہ کہہ کر تعلق توڑا جاتا ہے کہ وہ بابا کے دوست تھے وہ فوت ہوگئے اب ہمارا اس سے کیا تعلق ہے ؟!! 

ولید بن ولید نے عبداللہ بن دینار سے ،  انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ :

أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ لَقِيَهُ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللهِ، وَحَمَلَهُ عَلَى حِمَارٍ كَانَ يَرْكَبُهُ. وَأَعْطَاهُ عِمَامَةً، كَانَتْ عَلَى رَأْسِهِ فَقَالَ ابْنُ دِينَارٍ: فَقُلْنَا لَهُ: أَصْلَحَكَ اللهُ إِنَّهُمُ الْأَعْرَابُ وَإِنَّهُمْ يَرْضَوْنَ بِالْيَسِيرِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: إِنَّ أَبَا هَذَا كَانَ وُدًّا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْوَلَدِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ 

ان کو مکہ مکرمہ کے راستے میں ایک بدو شخص ملا ،سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کو سلام کیا اور جس گدھے پر خود سوار ہوتے تھے اس پر اسے بھی سوار کر لیا اور اپنے سر پر جو عمامہ تھا وہ اتار کر اس کے حوالے کر دیا ۔  ابن دینار نے کہا :  ہم نے ان سے عرض کی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر نیکی کی توفیق عطا فرمائے! یہ بدو لوگ تھوڑے دیے پر راضی ہو جاتے ہیں ۔ تو سیدنا عبداللہ ( بن عمر ) رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس شخص کا والد ( میرے والد ) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا محبوب دوست تھا اور میں نے رسول اللہ سے سنا،آپ فرما رہے تھے : والدین کے ساتھ بہترین سلوک ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک ہے جن کے ساتھ اس کے والد کو محبت تھی ۔ (صحیح مسلم : 6513 )

 اور ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا تو میرے پاس سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے : کیا تم جانتے ہو میں تمہارے ہاں کیوں آیا ہوں ؟ میں نےکہا : نہیں تو انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ :

من احب ان یصل اباہ فی قبرہ فلیصل اخوان ابیہ 

جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے والد کے ساتھ ( اس کے مرنے کے بعد ) قبر میں اس کے ساتھ حسن سلوک کرے تو وہ اس کے دوستوں سے حسن سلوک کرے اور میرے باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور تیرے باپ کے درمیان دوستانہ تعلقات تھے تو میں نے اپنے والد کے ساتھ حسن سلوک کیا ہے ۔( صحیح ابن حبان : 432 )

والدین کو چاہیے کہ ہر نیکی کی طرح اپنی اولاد کو حج کی نیکی کا بھی ترغیب دیا کریں تاکہ وہ انکے مرنے کے بعد ان کے حق میں حج کرے اور بیت اللہ و ریاض الجنہ جیسی جگہوں پہ جاکے ان کے حق میں دعائیں کرے تاکہ وہ نجات حاصل کر سکیں ۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ

 أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِيهَا مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏  حُجِّي عَنْ أَبِيكِ (سنن النسائی : 2635 )

ایک عورت نے نبی اکرم سے اپنے والد کے بارے میں جو مر گئے تھے اور حج نہیں کیا تھا پوچھا: آپ نے فرمایا: تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو“۔

ذرا غور کریں کہ صحابہ کرام y نے اپنی اولاد کی کیسی خوب تربیت کی کہ والدین کی وفات کے بعد والدین کی چھوڑی گئی ذمہ داریوں کو سرانجام دیتے رہے !!نبی علیہ السلام کے پیارے صحابی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے پیارے بیٹے سیدنا جابر t کی کیا  خوب تربیت کی تھی کہ جب سیدنا عبداللہt شہید ہوئے تو اپنے پیچھے نو بیٹیاں چھوڑیں اور بہت سارا قرضہ بھی چھوڑا ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اپنے والد کا قرضہ بھی ادا کیا اور بہنوں کی پرورش کا ذمہ بھی اپنے کندھوں اٹھایا ۔ ( صحیح بخاری : 1984 )

قرض کی ادائیگی نہ کرنا ایک خطرناک گناہ اور وعید کا حامل ہے سیدنا سہل بن حنیف tسے مرفوعاً مروی ہے کہ:

أَوَّلُ مَا يُهَرَاقُ من دَمِ الشَّهِيدِ يُغْفَرُ لَهُ ذَنْبُهُ كُلُّهُ إِلا الدَّيْنَ. (المعجم الکبیر للطبرانی : 5419 )

شہید کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کے سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، سوائے قرض کے۔

گویا ایک والد کے نیک بیٹے نے اپنے والد کا قرضہ ادا کرکے اسے خطرناک وعید سے نجات دلادی ۔محترم قارئین ! اگر قبر حشر کے عذاب سے بچنا چاہتے ہیں تو یہ ایک بہترین ذریعہ ہے کہ اپنی اولاد کی نیک تربیت کریں تاکہ نیک اولاد کے نیک اعمال کے فائدے آپ کو پہنچتے رہیں اور آپ نجات پاسکیں ۔

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (البقرۃ:128)

اے ہمارے رب !ہمیں اپنا فرمانبردار بنا لے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنی اطاعت گزار رکھ اور ہمیں اپنی عبادتیں سکھا اور ہماری توبہ قبول فرما تُو توبہ قبول فرمانے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے ۔

۔۔۔

بچپن کی محبت(قاری عبد الوکیل صدیقی، الشیخ عبد الحلیم یزدانی رحمہما اللہ)

اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں محبت کے جذبات رکھے ہیں لیکن اس کے اسباب مختلف ہیں جن کی وجہ سے انسان ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں کوئی مال کی وجہ سے ‘تو کوئی حسن و جمال کے سبب ‘ کوئی کسی کی قوت و طاقت یا عہدے اور منصب کی بنا پر یا پھر رشتے داریوں کی وجہ سے محبت ہوتی ہے بعض اوقات شعوری یا غیر شعوری طور پر خود بخود ہی محبت ہو جاتی ہے اور اگر یہ محبت چھوٹے کی بڑے سے ہو تو یقینا اسے ’’عقیدت‘‘ سے ہی تعبیر کیا جا سکے گا۔ ایسا ہی کچھ حال اپنا ہے کہ کسی بھی دوسرے سے محبت کا معیار ’’مسلک اہل حدیث‘‘ ہے وہ عقیدہ بھی ہو سکتا ہے یا پھر اس کی مسلکی خدمات ۔ ایسے بہت سے لوگ مرحومین اور موجودین شعوری طور پر زندگی میں آئے جن کی مسلکی خدمات تقریری یا تحریری اور بحث ومباحثے یعنی مناظرے کی وجہ سے دل و جان سے محبت کی اور رکھی ان میں بعض ایسی ہستیاں بھی ہیں جن سے ملاقات تو درکنار زندگی بھر ان کی زیارت بھی نصیب نہ ہو سکی۔ لیکن میں نے  اپنے بچپن میں شعوری طور پر تین شخصیات سے غائبانہ محبت کی ۔ان میں ایک میرے محبوب ‘جرنیل اہل حدیث مولانا قاری عبدالوکیل صدیقی خان پوری رحمہ اللہ ہیں جنہوں نے خان پور ضلع رحیم یار خان جیسے پسماندہ علاقے میں تبلیغی‘ تعلیمی‘ تدریسی اور تنظیمی خدمات ایسی جانفشانی اور مجاہدانہ طریقے سے سرانجام دیں کہ اس علاقے میں  مقلدین حضرات کی بڑی بڑی کئی ایک گدیاں تھیں مگر قاری صاحب رحمہ اللہ نے اپنی پُرخلوص محنت کے باوصف ان کے مسند نشینوں کی ’’ناک رگڑدی‘‘ اور علاقے بھر میں شرک و بدعات کی بیخ کنی کر کے توحید و سنت کا خالص بیج بویا

۔ فجزاہ اللہ تعالیٰ عن سائر اھل الحدیث ۔ مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آگے بڑھ کر ذاتی تعلق بنانے کے لئے یا اپنے آپ کو نمایاں کرنے کے لیے اپنا تعارف کروانا اور جائز ‘ناجائز تعریفیں کرنا نہ تو اچھا لگتا ہے اور نا ہی کبھی مجھے اس کا حوصلہ ہوا ہے البتہ کسی کی محبت کی قدر کرنے اور اس کا حق ادا کرنے کی حتی المقدور کوشش کی جاتی ہے۔

اپنی اسی عادت کی بنا پر میں کبھی بھی قاری صاحب رحمہ اللہ سے نہ مل سکا البتہ ان کی تقاریر سننے اور زیارت کرنے کا شرف کئی بار حاصل کیا جہاں تک مجھے یاد ہے آپ سے صرف ایک بارمصافحہ کرنے کا موقعہ ملا۔ وہ بھی کچھ اس طرح ہو ا کہ آل پاکستان اہل حدیث کا نفرنس لاہور منعقدہ 76نومبر 2008ء کے موقعہ پر کانفرنس کے اختتام پر جامعہ سلفیہ کے کیمپ میں مشائخ جامعہ  حافظ عبدالعزیز علوی‘ حافظ مسعود عالم‘ مولانا محمد یونس ‘ چودھری محمد یٰسین ظفر حفظہم اللہ تعالیٰ و دیگر اساتذہ و طلباء کے ساتھ موجود تھا کہ قاری صاحب رحمہ اللہ اچانک تشریف لائے تو انہیں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی اور انہیں سلام عرض کرنے کی سعادت حاصل کی۔ لیکن قاری صاحب کی خدمات جلیلہ کی وجہ سے آج بھی ان کی مغفرت اور بلندی درجات اور ان کے ادارے اور مشن کی کامیابی کے لیے دعا گو رہتا ہوں اللہ تعالیٰ ان کے لیے صدقہ جاریہ کے ان چشموں کو ہمیشہ جاری و ساری رکھے تاکہ ان کی حسنات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے…۔ اللہم اغفرلہ وارحمہ

دوسری ہستی جو میرے بچپن میں شعوری طور پر میری محبوب ٹھہری وہ شہزادہ خطابت‘ مبلغ اسلام ‘ داعی کتاب و سنت مولانا حافظ عبدالعلیم یزدانی جھنگوی رحمہ اللہ ہیں۔ آپ سے محبت کا سبب بھی آپ کی جماعتی و مسلکی ترویج و اشاعت کے لیے تگ و تاز جاودانہ ہے۔ حافظ صاحب کی پہلی دفعہ زیارت کرنے کا شرف 1983ء کے آخر یا

1984ء کے شروع میں دارالعلوم رحمانیہ منڈی فاروق

آباد میں حاصل ہوا۔ استاذی المکرم حکیم حافظ عبدالرزاق سعیدی رحمہ اللہ کا ذوق بھی تھا اور مستقبل کی پیش بندی بھی کہ آپ اپنے اسٹیج اور منبر سے نوجوان خطباء کو متعارف کرواتے تھے آپ کے اس ذوق کی بدولت ہی خطباء کی ایک کھیپ اس وقت تبلیغ دین کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔ سعیدی رحمہ اللہ کا طریقہ تھا کہ جس نوجوان کی خطابت سے مطمئن ہوتے تو اس کو دارالعلوم رحمانیہ میں خطبہ جمعہ کے لیے دعوت دیتے پھر علاقے بھر میں اپنی سرپرستی اور نگرانی میں اس کے پروگرام کرواتے اس طرح اس کا علاقہ میں اچھا خاصا تعارف ہو جاتا اور یوں وہ مرکزی خطباء کی کھیپ میں شامل ہو جاتا اسی طرح حافظ صاحب رحمہ اللہ نے یزدانی صاحب رحمہ اللہ کا جمعہ رکھا جو آپ نے’’ اطاعت رسول ‘‘کے موضوع پر ارشاد فرمایا۔ اس کے کچھ اقتباسات مجھے ابھی یاد ہیں۔ بحمد اللہ تعالیٰ۔ لیکن ان کا یہاں محل نہیں ہے۔ آپ کی گفتگو اور انداز خطابت نے متاثر کیا حتی کہ میں اور میرے ایک کلاس فیلو قاری محمد عبداللہ بلوچ حفظہ اللہ تعالیٰ نے پروگرام بنایا کہ کوئی ایک جمعہ جھنگ میں آپ کی اقتداء میں پڑھا جائے اس کے لیے کرائے کا بھی بندوبست کر لیا لیکن کم عمری کی وجہ سے ہم دونوں ہی خوف زدہ تھے کہ اتنا لمبا سفر اور پسماندہ علاقہ ہے کہیں ہم گم ہی نہ ہو جائیں چنانچہ یہ منصوبہ ترک کر دیا گیا۔

اس کے بعد شہر فاروق آباد جامعہ دارالسلام محمدیہ میں آپ نے1985ء میں جمعہ کا خطبہ ارشاد فرمایا۔

بعد ازاں 21مارچ 1986ء چنیوٹ میں پہلی سالانہ خاتم النبیین کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تو اس کا کنوینئر ہمارے ممدوح اور میرے محبوب حافظ عبدالعلیم یزدانی رحمہ اللہ کو بنایا گیا آپ نے اس کے لیے بھرپور کوشش کی۔ تآنکہ یہ کانفرنس بڑی بھرپور‘ کامیاب اور چنیوٹ کی تاریخی کانفرنس تھی جس میں شہید اسلام علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ بیرون ملک ہونے کی وجہ سے تشریف نہ لا سکے اور آخری خطاب شہید اسلام مولانا حبیب الرحمن یزدانی شہید رحمہ اللہ نے فرمایا تھا بعد ازاں آئندہ سال دوسری سالانہ کانفرنس 20مارچ 1987ء بروز جمعہ کو ہوئی جو پچھلے سال کی نسبت زیادہ کامیاب تھی اور اس میں آخری خطاب علامہ شہید رحمہ اللہ نے موسلا دھار برستی بارش میں فرمایا تھا پھر اس کے تین دن بعد 23مارچ کو لاہور کے سانحہ میں زخمی ہو کر 30مارچ کو ریاض سعودی عرب میں جام شہادت نوش فرما گئے۔ یوں اہل حدیث کی ایک تاریخ تہہ خاک چلی گئی اور چنیوٹ کی کانفرنس بھی وہ اپنی آب و تاب برقرار نہ رکھ سکی۔ حتی کہ بالکل ہی ’’مرحوم‘ ‘ہو گئی… انا للہ وانا الیہ راجعون

لیکن مجھے یہاں یہ عرض کرنا ہے کہ اس پہلی کانفرنس کے لیے یزدانی صاحب رحمہ اللہ کی محنت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ 12مارچ 1986ء کو جامعہ دارالسلام محمدیہ فاروق آباد کی دو روزہ سالانہ کانفرنس تھی جس میں حافظ عبدالعلیم یزدانی صاحب کا بھی خطاب تھا اور آپ کا نام مرکزی خطباء میں لکھا ہوا تھا۔ اور آپ نے سیکنڈ لاسٹ تقریر کی تھی آپ کے بعد پھر خطیب اسلام حافظ محمد عبداللہ شیخوپوری رحمۃ اللہ نے خطاب فرمایا تھا۔ لیکن جب آپ کانفرنس میں تشریف لائے تو اپنی بغل میں چنیوٹ کانفرنس کے اشتہارات کا بنڈل دبائے ہوئے تھے اور خود ایک ایک اشتہار نکال کر لڑکوں سے مختلف جگہوں پر چسپاں کروا رہے تھے بعد ازاں کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے اعلان بھی کیا اور سامعین سے چنیوٹ کانفرنس میں شرکت کا وعدہ بھی لیا جس کا پورا منظر اس وقت بھی میری نگاہوں کے سامنے تازہ ہے بعد ازاں جب کانفرنس میں شریک ہو کر آپ کی جدوجہد کا ثمرہ بچشم خود دیکھا تو حافظ صاحب رحمہ اللہ کا گرویدہ ہو گیا کہ آپ ایک ورکر آدمی ہیںجو کسی قسم کے پروٹوکول کی پرواہ کیے بغیر ذمہ داری کے ساتھ خود چھوٹے موٹے کام کر رہے ہیں بس میرے بچپن میں حافظ صاحب کی محبت دل میں گھر کر گئی پھر وہ دن کہ آج کادن اس میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اضافہ ہی ہوا اور پختگی ہی آئی کمی نہیں آئی۔ بعد ازاں شہدائے اہل حدیث کے قاتلوں کی گرفتاری کے سلسلہ میں احتجاجی تحریک میں آپ کی صلاحیتیں دیکھنے کا موقعہ ملا نیز آپ کی خطابت میں بھی مزید نکھار پیدا ہوتا چلا گیا۔

آپ جہاں ایک بہترین خطیب تھے وہاں ایک مدبر منتظم بھی ۔ آپ جہاں ایک بے لوث اور مخلص ورکر تھے وہاں باصلاحیت قائد بھی ۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا اس کے باوجود آپ بہت سادہ اور ہمدرد انسان تھے۔ تبلیغی میدان میں کوئی تکلفات نہیں تھے نہ کوئی نخرہ اور نہ ہی کوئی بے جامطالبہ۔ ان کی کوشش ہوتی کہ مقامی جماعت پر زیادہ بوجھ نہ پڑے چنانچہ جہاں کہیں پروگرام ہوتا جھنگ سے پبلک سروس کے ذریعے ہی چلے جاتے اگر روڈ سے کہیں دور کوئی گاؤں وغیرہ ہوتا تو قریبی شہر تک بس پہ سفر کرتے اور وہاں سے ٹیکسی لے لیتے تاکہ واپسی میں آسانی رہے۔ ایک دفعہ میں نے عرض کیا حافظ صاحب اس طرح تو بہت سا وقت ضائع ہوتا ہے آپ جھنگ سے ٹیکسی کیوں نہیں لیتے ۔تو فرمانے لگے فاروق بھائی! ساری جماعتیں یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتیں اس لیے جتنا ممکن ہو سکے کم از کم جماعت پر بوجھ ڈالنا چاہیے… کیونکہ حافظ صاحب کی یہ روٹین تھی کہ تقریر کے بعدواپس جھنگ تشریف لے جاتے پھر دوسرے دن پروگرام کے لیے نکلتے اگرچہ اسی علاقہ میں ہی کیوں نہ جانا ہو ۔ بطور مثال صرف ایک واقعہ عرض کرتا ہوں مورخہ 4اکتوبر 1992ء کو ہم نے اپنے گاؤں جید چک نمبر 16 ضلع شیخوپورہ میں سالانہ اہل حدیث کانفرنس کا انعقاد کیا اس سے ایک دن پہلے تتلے عالی ضلع گوجرانوالہ کے قریب ایک گاؤں میں آپ کا پروگرام تھا اور اس سے ایک دن پہلے مرالی والا ضلع گوجرانوالہ میں آپ نے خطاب فرمایا۔ مرالی والا کے جلسہ میں میں بھی شریک تھا آپ کی طبیعت خراب تھی بخار اور زکام نے برا حال کررکھا تھا لیکن آپ مرالی والا سے تقریر کر کے جھنگ تشریف لے گئے دوسرے دن تتلے عالی کے قریب جلسہ میں شریک ہوئے پھر واپس جھنگ چلے گئے اور تیسرے دن ہمارے ہاں جید چک نمبر 16ضلع شیخوپورہ میں تشریف لائے تین دن مسلسل قریب قریب ہی پروگرام تھے۔ حتی کہ مرالی والا اور تتلے عالی کے پروگرام تو بالکل پڑوس میں۔ لیکن ہر روز جھنگ جاتے اور دوسرے پروگرام کے لیے پھر واپس تشریف لاتے۔بلکہ اسے اتفاق ہی سمجھیے کہ آئندہ سال 1998میں ہم نے 18اکتوبر کو کانفرنس رکھی تو آپ اس سے ایک دن پہلے 17اکتوبر کو ’’پل ایک ‘‘سیالکوٹ کی سالانہ کانفرنس میں آخری خطاب کرنے کے بعد جھنگ واپس گئے۔ ظہر کے وقت آپ گھر پہنچے اور عصر کے بعد ہمارے ہاں آنے کے لیے روانہ ہوئے اور بعد عشاء آخری خطاب فرمایا۔ تو مقصد یہ ہے کہ آپ رحمہ اللہ تعالیٰ بڑے جفاکش تھے۔

میں نے عرض کیا کہ حافظ صاحب آپ اسی علاقہ میں کیوں نہیں ٹھہر جاتے تاکہ بار بار سفر کی صعوبت اور خرچے سے بچ جائیں تو فرمانے لگے جھنگ میں کئی لوگ اپنے ذاتی یا جماعتی کاموں کے لیے آئے ہوئے ہوتے ہیں۔ اگر میں وہاں موجود نہ ہوں تو ان کو پریشانی ہوتی ہے اس لیے میں نے ہر روز صبح 9بجے سے ظہر کی نماز تک کا وقت عام لوگوں کی ملاقات اور کاموں کے لیے رکھا ہوا ہے لہٰذا مجھے ہر روز جھنگ جانا ضروری ہوتا ہے۔

یہ ہے ہمدردی خیر خواہی اور جذبہ خدمت خلق ۔کہ اپنے آپ کو مشقت میں ڈال کر دوسروں کو فائدہ پہنچانا اور یہی عملی تفسیر ہے۔ وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌکی ورنہ آج کل تو ہم دیکھتے ہیں کہ بعض خطباء حضرات ایک ہی علاقے بلکہ بعض اوقات ایک ہی شہر میں دو تین پروگرام ایک رات میں ہی رکھ لیتے ہیں کہ ایک سفر میں زیادہ پروگرام کر لیے جائیں حالانکہ وہ سارے پروگرام ہی حاضری کے اعتبار سے ناکام ہو جاتے ہیں کہ ایک محلے کے لوگ دوسرے محلے میں نہیں جاتے مجمع ناقابل ذکر ہوتا ہے جس سے جماعت کو فائدہ پہنچنے کی بجائے ان کی سبکی ہوتی ہے۔ لیکن ’’مولانا صاحب‘‘ اپنے لالچ میں اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ اگر میری یہ سطور جماعتی ذمہ داران یا مساجد کے منتظمین پڑھ رہے ہوں توانہیں بھی میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنے قریب کسی دوسرے پروگرام کے ساتھ اپنا پروگرام نہ رکھا کریں بلکہ پورے علاقے کے لوگ مل کر ایک پروگرام کو کامیاب کریں اور اسے مثالی بنائیں اس میں جماعت کی عزت ہے اور مقامی طور پر سیاسی و مذہبی فائدہ بھی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ سوچ اور تڑپ نصیب فرمائے (آمین)

آپ نے کبھی بھی کسی تبلیغی پروگرام میںکرائے وغیرہ کے معاملے پرتکرار جھگڑا تو درکنار (جیسا کہ بعض خطباء کے متعلق معلوم ومعروف ہے) کبھی مطالبہ بھی نہیں کیا تھا اور نہ ہی کبھی وقت کے لیے پروگرام کی انتظامیہ کو مجبور کیا بلکہ انتظامیہ اپنی سہولت کے ساتھ جب بھی وقت دے دیتی تو آپ اپنا بیان فرماتے اور وعظ کرتے۔

کارکنوں کا بڑا خیال رکھتے اور ان کی حوصلہ افزائی فرماتے ایک مرتبہ آپ ایک معروف جماعت سے کسی وجہ سے ناراض ہو گئے۔ اور اس کے سبب ان کو پروگرام نہیں دے رہے تھے انہوں نے بعض قائدین کی سفارش بھی کروائی لیکن حافظ صاحب نہ مانے مجھے جب یہ بات معلوم ہوئی تو میں نے اسی جماعت کے اہل حدیث یوتھ فورس کے  ذمہ داران سے کہا کہ اگر آپ پروگرام کرنا چاہتے ہیں تو میں حافظ صاحب سے آپ کو وعدہ لے دیتا ہوں وہ کہنے لگے یزدانی صاحب تو فلاں فلاں کے کہنے پر بھی آمادہ نہیں آپ کیسے ان کا وقت لیں گے میں نے کہا کہ اگر آپ ان کا پروگرام کروانا چاہتے ہیں تو آپ کے دو آدمی میرے ساتھ جھنگ چلیں میں آپ کی صلح کروا دیتا ہوں چنانچہ ان میں ایک میرا قریبی عزیز بھی تھا (نام اس لیے نہیں لکھ رہا کہ میں اس جماعت کی نشاندہی نہیں کرنا چاہتا) ہم تین آدمی جمعہ کے دن فجر کی نماز کے وقت جھنگ پہنچے فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد آپ سے گھر میں ملاقات کے لیے حاضر ہوئے مدعا بیان کیا تو فرمانے لگے اس کے لیے اتنا لمبا سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی فون کر لیتے تو میں نے عرض کیا کہ آپ جوان سے نارض تھے اس لیے خود حاضر ہونا ہی مناسب تھا کیونکہ مجھے معلوم ہوا تھا کہ آپ نے بعض بزرگوں کی سفارش بھی قبول نہیں کی تو آپ نے فرمایا کہ پروگرام کے بارے بات بعد میں کریں گے پہلے بتائیں آپ نے ناشتہ کیا کرنا ہے میں نے عرض کیا جی آپ ڈائری مجھے دے دیں میں مناسب تاریخ تلاش کرتا ہوں اور آپ لسی بنوا کر لائیں چنانچہ آپ نے ڈائری مجھے پکڑا دی اور خود لسی لینے چلے گئے آپ کے بعد ہم نے اپنے طور پر وقت طے کر لیا تھوڑی دیر بعد آپ تشریف لائے اور ہمیں ٹھنڈی میٹھی لسی پلائی تو میں نے ڈائری سامنے رکھ دی کہ اس تاریخ میں آپ یہ پروگرام نوٹ فرما لیں چونکہ پروگرام کا مقام پہلے ہی بتایا جا چکا تھا حافظ صاحب فرمانے لگے کہ آپ خود ہی لکھ دیں لیکن میرا اصرار تھا کہ آپ نوٹ فرمائیں ۔ چنا نچہ حافظ صاحب رحمہ اللہ نے جگہ اور وقت تحریر فرما لیا تو میں نے ڈائری بند کرتے ہوئے عرض کیا حافظ صاحب یہ میرے ساتھ دونوں ساتھی اس جماعت کے نمائندے اور ذمہ دار ہیں اگر آپ نے کوئی بات کرنی ہے کوئی گلہ شکوہ ہے تو ابھی کر لیں لیکن پروگرام میں ضرور آنا ہے۔

تو حافظ صاحب رحمہ اللہ نے جو جواب دیا اس نے مجھے انکا مزید گرویدہ کر دیا اور میں سمجھا کہ آج میری محبت کا صلہ مجھے مل گیا ہے کیونکہ آج تک تو میں یہ محبت یکطرفہ ہی کرتا رہا ہوں آپ نے فرمایا۔ ’’درویشا‘‘ (یہ ان کا اس وقت تکیہ کلام تھا) توں آ گیا ایں تے ہن کیہہ گل کرنی اے‘‘ یعنی آپ آ گئے ہیں تو کوئی گلہ شکوہ نہیں یہ بہت بڑی حوصلہ افزائی تھی جو حافظ یزدانی صاحب مرحوم نے فرمائی۔ اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے (آمین)

جب ہم جید چک نمبر16 ضلع شیخوپورہ میں اہل حدیث مسجد کا قیام عمل میں لائے تو اس کی افتتاحی تقریب اور سالانہ کانفرنس میں حافظ صاحب بھی تشریف لائے بلکہ اس سے بھی پہلے جب ہم دیو بندیوں کی مسجد میں سالانہ کانفرنس منعقد کیا کرتے تھے تو آپ سالانہ کانفرنس کے موقعہ پر ہر سال تشریف لایا کرتے تھے۔  اس لیے آپ کو ہمارے گاؤں کے حالات سے مکمل آگاہی تھی بعض لوگوں نے جب مسجد بنانے کی مخالفت کی اور عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا تو اس دوران آپ لدھیوالہ ورکاں سالانہ کانفرنس میں تشریف لائے وہاں آپ سے میرے بھائیوں عبدالغفور تبسم‘ کامران حمید اور حسان حمید کی ملاقات ہوئی تو یزدانی صاحب نے میرے متعلق استفسار کیا تو بھائیوں نے تمام صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ صبح سیشن عدالت میں مقدمے کی تاریخ تھی اس لیے نہیں آ سکا تو آپ نے پیغام دیا کہ وہ (فاروق الرحمن یزدانی) مجھے ملے چنانچہ میں پیغام ملتے ہی دوسرے دن جھنگ روانہ ہو گیا ملاقات ہوئی تو آپ نے مجھے جناب عمر فاروق بھٹی مرحوم جو اس وقت شیخوپورہ میں سی ۔ اے سٹاف میں D.S.Pتھے کے نام پیغام دیا جب میں بھٹی صاحب سے ملا تو معلو م ہوا کہ آپ بڑے دبنگ قسم کے افسر اور اہل حدیث ہیں جس کا اظہار انہوں نے وہاں دفتر میں موجود تمام لوگوں کے سامنے کیا اور مجھے پیغام دیا کہ ’’یزدانی صاحب ‘‘کو میرا سلام کہنا اور انہیں بتانا کہ اگر ہم نے جماعت کا کام نہیں کرنا تو پھر ہمیں اس عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں اور ساتھ ہی یزدانی صاحب سے اپنے تعلق کے بارے میں بتایا۔ آپ نے جو ممکن تعاون تھا وہ کیا اور مزید رابطہ رکھنے کی تاکید کی۔ اللہ تعالیٰ نے فضل و کرم فرمایا کہ ہمارا وہ مسئلہ حل ہو گیا پھر جب شیخوپورہ ضلع کی کوکھ سے ضلع ننکانہ نے جنم لیا تو یہی عمر فاروق بھٹی پہلے D.P.Oکی حیثیت سے ننکانہ میں تعینات ہوئے میرا رابطہ ہوا میں نے عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی اور کسی وقت حاضر ہونے کا وعدہ کیا لیکن افسوس کہ آپ چند دنوں بعد ہی اچانک وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے اور آپ کی بشری لغزشوں سے درگزر کرتے ہوئے ان کی حسنات کو قبول فرمائے۔ آمین

اس قسم کے کئی ایک واقعات کئی لوگوں کے ساتھ پیش آئے ہونگے کہ جب انہوں نے اپنے کارکنوں کی حوصلہ افزائی کی ہو گی کیونکہ جھنگ جیسے فساد زدہ شہر میںجس عزت و آبرو اور شان و شوکت سے انہوں نے زندگی بسر کی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور مخلص کارکنوں کی ٹیم کے بغیر ممکن نہیں۔ آپ کی وفات کے بعد جب میں تعزیت کے لیے جھنگ گیا تو مولانا عبدالمنان صاحب بتارہے تھے کہ ایک دفعہ کچھ نوجوانوں نے عید میلاد النبی کے جشن و جلوس کی شرعی حیثیت بارے کچھ اشتہار ات جھنگ میں لگائے تو ان نوجوانوں کو پولیس پکڑ کر لے گئی جب حافظ عبدالعلیم یزدانی صاحب کو معلوم ہوا تو فوری طور پر ضلعی افسران کے پاس گئے اور فرمانے لگے نہیں گزرنے دونگا چنانچہ تمام کارکنوں کو اسی دن فوری رہا کر دیا گیا اس سے شہر میں ان کی قوت اور انتظامیہ میں ان کے اثر و رسوخ کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور کارکنوں سے محبت اور تعلق کا بھی پتہ چلتا ہے۔ یزدانی صاحب کی اپنے کارکنوں سے محبت اور جماعتی احباب کے احترام اورایثار و قربانی کے متعلق شیخ محمد عارف صدر اہل حدیث یوتھ فورس تحصیل جھنگ نے بتایا کہ جب 18اپریل 1986ء کولاہور کے موچی دروازہ میں جلسہ ہوا تو جھنگ سے یزدانی  صاحب نے ایک بس کا انتظام کیا میری عمر اس وقت چھوٹی تھی لیکن میں نے یہ منظر دیکھا کہ جب روانگی کا وقت آیا تو بس بھر گئی اب یزدانی مرحوم کے لیے کوئی سیٹ خالی نہ رہی تو آپ نے گیٹ کے ساتھ کنڈیکٹر کے لیے پائپ پر جو چھوٹی سی سیٹ بنی ہوئی ہوتی ہے اسی پر جھنگ سے لاہور تک کا سفر کیا جماعتی احباب بھی آپ کو سیٹ کی آفر کرتے رہے ہم چھوٹے بچے بھی اصرار کرتے رہے کہ ہم کھڑے ہو جاتے ہیں آپ بیٹھ جائیں لیکن حافظ صاحب فرماتے ۔نہیں آپ بیٹھ گئے ہیں اب آپ کو اٹھانا مناسب نہیں میں تو ایک کارکن ہوں لہٰذا میری ذمہ داری ہے کہ آپ کے آرام و سکون کی خاطر قربانی دوں ۔یہ ہوتی ہیں قیادتیں اور یہ ہوتے ہیں لیڈر۔

اور اب … ؟؟ الاماشاء اللہ بعض قائدین تو سیدھے منہ اور پورے ہاتھ کے ساتھ اپنے کارکن سے سلام لینا گوارہ نہیں کرتے اور اگر کسی کو حالات کے پیش نظر قیادت کا موقعہ مل ہی جائے تو وہ بس اپنا مفاد ہی سامنے رکھتے ہیں۔

آج تو لوگ اپنی سیٹ بزنس کلاس کی لیتے ہیں اور کارکنوں کو اکانومی میں چھوڑ دیتے ہیں وہ بھی دھوکے سے ۔ پھر توقع رکھتے ہیں سمع واطاعت کی؟

انا للہ وانا الیہ راجعون

قیادت کرنے کا شوق ہو تو پھر جذبہ ایثار بدرجہ اتم موجود ہونا چاہیے ۔

حافظ عبدالعلیم یزدانی رحمہ اللہ میں مسلکی عزت و وقار اور کارکنوں کی حوصلہ افزائی کا جذبہ میں نے خود مشاہدہ کیا ہے۔ یہ آج سے اکتیس سال پہلے 23محرم الحرام 1409ھ بمطابق 1987ء کی بات ہے کہ چوک  بیگم کوٹ لاہور میں سالانہ فضائل صحابہ کانفرنس کے موقعہ پر ایک کارکن ’’محمد رفیق‘‘ ایک پولیس انسپکٹر کے ہاتھوں قتل ہو گیا اس وقت مولانا منیر قاسم صاحب آف برطانیہ خطاب فرما رہے تھے۔ چنانچہ جب یہ خبر اسٹیج پر پہنچی تو تقریر ختم کر دی گئی اور اس سانحہ کی اطلاع دیتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ تمام لوگ چوک میں جمع ہو کر روڈ بلاک کر دیں جب تک ہمارے کارکن کا قاتل پولیس والا گرفتار نہیں ہوتا اس وقت تک احتجاج جاری رہے گا۔ ابھی سانحہ لاہور تازہ تھا اہل حدیث کے جذبات تو پہلے ہی بپھرے ہوئے تھے اس واقعہ نے جلتی پر تیل کا کام کیا جو لوگ گھروں میں جا چکے تھے وہ بھی اعلان سن کر واپس آ گئے اس موقعہ پر پولیس نے اپنے روایتی انداز کو اپناتے ہوئے دھمکیاں وغیرہ دیں کہ روڈ ابھی ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے ورنہ …… بس پھر کیا تھا اس کے بعد حافظ عبدالعلیم یزدانی رحمہ اللہ نے ایک دھواں دھار تقریر کر دی اور کارکنوں کے جذبات کو گرما دیا ۔ اب صورت حال دیکھ کر پولیس افسران نے مذاکرات کی میز سجائی لیکن یزدانی صاحب کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ پہلے قاتل کو گرفتار کیا جائے اس کے خلاف F.I.Rدرج کی جائے اور اس کی وردی اتروائی جائے تب یہ احتجاج ختم ہو گا۔ اب یہ صورتحال کئی قسم کے نشیب و فراز سے دو چار ہوتی رہی لیکن یزدانی صاحب پوری جماعت کی قیادت کرتے ہوئے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے تھے یہاں یہ یاد رہے کہ وہ جمعرات کا دن تھا اور صبح جمعۃ المبارک ۔ مجھے آج بھی وہ لمحات اس طرح یاد ہیں کہ جیسے ابھی یہ واقعہ ہو رہا ہو۔ یزدانی صاحب عام لوگوں کے ساتھ سڑک کے فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوئے تھے کہ انہیں کرسی لا کر دی گئی تو آپ شاہدرہ کی طرف منہ کر کے کرسی پربیٹھے ابھی بھی نظر آ رہے ہیں بعد ازاں ایک آدمی نے آ کر کہا کہ آپ تھوڑی دیر آرام کر لیں لیکن آپ نے انکار کر دیا تو وہ آدمی کہنے لگا کہ صبح جمعہ ہے اور آپ نے سفر بھی کرنا ہے اور جمعہ بھی پڑھانا ہے تو حافظ صاحب رحمہ اللہ فرمانے لگے کہ شاید ہمیں جمعہ اسی چوک میں ہی پڑھنا پڑے اس لیے میری فکر چھوڑیں اب اس بات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے ۔ چنانچہ اس دور ان پولیس افسران نے پھر آ کر اطلاع دی کہ ہم نے وہ پولیس والا ملزم گرفتار کر لیا ہے لہٰذا آپ احتجاج ختم کر دیں لیکن حافظ صاحب فرمانے لگے کہ نہیں ہمیں آپ پر اعتبار نہیں ہمارے بندے جائیں گے اور دیکھ کر آئیں گے پھر ہم کوئی اعلان کریں گے چنانچہ جماعتی احباب گئے جب واپس آئے تو انہوں نے بتایا کہ ملزم تو وہی ہے لیکن حوالات میں بند نہیں بلکہ کمرے میں بیٹھا ہوا ہے اور یہ کہتے ہیں کہ ہم نے گرفتار کر لیا ہے تو حافظ صاحب فرمانے لگے کہ پہلے اسے حوالات میں بند کیا جائے پھر ہم احتجاج ختم کریں گے۔ لہٰذا وہ پولیس والے ان جماعتی ساتھیوں کو ساتھ لے کر دوبارہ گئے اور مذکورہ پولیس والے کو حوالات میں بند کیا۔ اور واپس آ کر اطلاع دی تو حافظ صاحب نے ان سے سوال کیا کہ کیا اس نے وردی اتار کر سادہ لباس پہنا ہے یا ابھی وردی میں ہے تو جماعتی ساتھیوں نے بتایا کہ وردی میں ہے تو حافظ صاحب فرمانے لگے کہ ابھی بھی ہم نے یہ ’’دھرنا‘‘ ختم نہیں کرنا پہلے اس کی وردی اتروائی جائے۔ چنانچہ اس کی وردی اتروائی گئی اسے حوالات میں بند کیا گیا تو جماعتی ساتھیوں نے آ کر اطلاع دی میرے کانوں میں اب بھی حافظ صاحب کی آواز سنائی دے رہی ہے اور آپ کا وہ انداز نظر آ رہا ہے آپ پوچھ رہے ہیں تم ملزم کو پہنچانتے ہو‘ وہی ہے یا کوئی اور بندہ؟ کیا وہ حوالات میں بند ہے۔ کیا وہ وردی اتار کر سادہ لباس پہن چکا ہے۔ ؟ اور آخری سوال تھا کہ کیا آپ مطمئن ہیں اگر احتجاج ختم کر دیا جائے تو ……؟ جب مقامی جماعت کے احباب نے ہر سوال کا جواب ہاں میں دیا تو پھر آپ نے مجمع میں ساری صورتحال واضح کر کے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں دعاؤں سے نوازا۔

یہ زندگی میں پہلا ’’دھرنا‘‘ تھا جو یزدانی رحمہ اللہ کی قیادت میں چوک بیگم کوٹ میں دیا گیا اور وہ سو فیصد کامیاب رہا۔ اس وقت تک ابھی لوگوں نے ’’دھرنے ‘‘ کا نام ہی نہیں سنا تھا۔یہ تھی حافظ صاحب رحمہ اللہ میں جرأت و بہادری اور قائدانہ صلاحیتیں کہ جن کی بدولت ہر چھوٹا بڑا ان سے بہت محبت کرتا تھا اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنے بندے سے محبت والا معاملہ فرمائیں (آمین)

حافظ صاحب رحمہ اللہ بڑے بے باک‘ جرأتمند اور نڈر خطیب تھے۔ اپنا مسلک و موقف بڑی وضاحت سے بیان فرماتے۔ عقیدے اور نظریے میں کسی قسم کی مداہنت کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ مسلک اہل حدیث کی عزت و آبرو اور مقام ومرتبہ ان کے پیش نظر رہتا۔ گوجرانوالہ میں اہل حدیث‘ دیو بندی اور بریلوی مکتبہ فکر کی مشترکہ کانفرنس ’’عظمت صحابہ کرام و اہل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم‘‘ کے نام سے محرم الحرام کے مہینے میں منعقد ہوتی ہے۔ پہلی کانفرنس 1986ء میں ہوئی جس میں اہل حدیث کی نمائندگی شہید اسلام علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ اور خطیب ایشیاء قاری عبدالحفیظ فیصل آباد ی حفظہ اللہ تعالیٰ نے فرمائی قاری صاحب نے وہاں پہلی دفعہ ’’تیرا علی ‘ میرا علی‘‘کے موضوع پر خطاب فرمایا۔ جو اپنی مثال آپ ہی تھا لیکن علامہ صاحب رحمہ اللہ کی تقریر پوری کانفرنس کی روح رواں تھی یوں اس سال یہ کانفرنس اہل حدیث کے نام رہی۔ آئندہ سال 1987ء میں پھر اس کانفرنس میں اہل حدیث کی نمائندگی کے لیے قرعہ فال مذکورہ شخصیات کے نام ہی نکلا۔ اشتہار چھپ چکے بلکہ دیواروں پر لگا دیئے گئے کہ 23مارچ 1987کو سانحہ لاہور رونما ہو گیا اور اس کانفرنس سے پہلے ہی شہید اسلام علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ خلعت شہادت سے نواز دیئے گئے۔ چنانچہ جماعت نے موقعہ پر فیصلہ کیا اور علامہ شہید رحمہ اللہ کے متبادل حضرت حافظ عبدالعلیم یزدانی رحمہ اللہ کا انتخاب کیا گیا آپ کی بھرپور جوانی کا دور تھا نوجوانوں کے جذبات تھے کہ آپ کا شاندار اور فقید المثال استقبال کیا گیا گوجرانوالہ کی جس مسجد ’’کھیالی گیٹ‘‘ میں یہ پروگرام ہوتا ہے وہ بہت چھوٹی ہے اس میں صرف چند ایک لوگ ہی سما سکتے ہیں البتہ چوک بہت وسیع اور تین اطراف میں روڈ بہت کھلے ہیں نیز مسجد سے باہر اس وقت ٹیلی ویژن لگا کر سامعین کو خطباء کے ساتھ شریک کر لیا جاتا تھا اب تو ٹیکنالوجی نے بہت ترقی کر لی ہے اس لیے ہو سکتا ہے مزید بہتر انتظام کرلیا گیا ہو۔ علامہ شہید رحمہ اللہ کی گذشتہ سال کی تقریر کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ اسے ٹی وی پر دوبارہ لگا کر لاؤڈ سپیکر میں سنایا جا رہا تھا لوگ اسی طرح ٹیلی ویژنوں کے سامنے ہمہ تن گوش ہو کر تقریر سن رہے تھے جیسے علامہ صاحب کے سامنے بیٹھ کر سنتے تھے آپ کو داد بھی دیتے ‘ نعرے بازی بھی کرتے اور زاروقطار روتے بھی تھے عجیب سا ماحول تھا کہ حافظ صاحب مرحوم کو ایک جلوس کی شکل میں جلسہ گاہ لایا گیا مجھے پتہ نہیں کیوں اور کیسے خیال آ گیا کہ حافظ صاحب کو کوئی مشورہ دینا چاہیے لیکن میری آپ تک رسائی نہیں تھی اور نہ ہی مجھے کوئی کاغذ میسر تھا چنانچہ میری جیب میں ایک چھوٹی ڈائری تھی میں نے اس کی ایک سائڈ کا گتہ پھاڑ کر کچھ اس قسم کے الفاظ لکھے’’السلام علیکم حافظ صاحب آپ جانتے ہیں یہ مشترکہ پروگرام ہے اور گذشتہ سال علامہ صاحب کی تقریر کی ابھی تک دھوم مچی ہوئی ہے لہٰذا اس قسم کی تقریر ہونی چاہیے کہ جماعت کا مقام بلند ہو اور لو گ دیر تک آپ کو یاد رکھیں۔ ’’یعنی اس عبارت کا مضمون یہی تھا پھر اس جلوس کے رش میں بڑی مشکل سے حافظ صاحب سے ہاتھ ملانے میں کامیاب ہو سکا اسی دوران میں نے آپ کو وہ رقعہ بھی تھما دیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ حافظ صاحب نے وہ پڑھا یا نہیں لیکن واقعی حافظ صاحب نے ایسی لا جواب اور پُرجوش تقریر کی کہ سالوں لوگ اس کا تذکرہ کرتے رہے۔

آپ نے سورہ حجرات کی آیت

أُولَئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى

  تلاوت کی اس تقریر کے بعض اقتباسات مجھے اب بھی یاد ہیں بحمد اللہ تعالیٰ ۔عرض کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ بہترین خطیب تھے اور اپنے مسلک کو ہر اسٹیج پر بڑی جرات سے بیان فرماتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی تبلیغی مساعی کو ان کی حسنات میں شمار فرمائے (آمین ثم آمین) حافظ بدر نصیر صاحب نے بتایا کہ ایک مرتبہ جھنگ میں دیو بندیوں کی مسجد کو شیعوں نے آگ لگا دی تو شہر کے حالات کشید ہ ہو گئے اور جائے وقوعہ پر زبردست فائرنگ ہونے لگی جب حافظ صاحب کو معلوم ہوا تو آپ وہاں جانے کے لیے نکلے احباب جماعت نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے آپ سے نہ جانے کی اپیل کی لیکن آپ نے کمال جرات و بہادری سے برستی گولیوں میں وہاں پہنچ کر نہ صرف جماعت کی نمائندگی کی بلکہ حق ادا کر دیا حتی کہ جھنگ میں عظمت صحابہ کرام اور دفاع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے آپ کی جرات ‘ بہادری اور ایثار و قربانی اور حکمت عملی کے اپنے ‘بیگانے معترف ہیں کہ آپ ہمیشہ ہراول دستہ میں قیادت کرتے ہوئے نظر آئے۔

حافظ عبدالعلیم یزدانی رحمہ اللہ بڑے مستقل مزاج آدمی تھے آپ تقریباً 1976ء میں رمضان المبارک میں تراویح کی امامت کے لیے جھنگ تشریف لائے آپ کی خوبصورت آواز‘ نماز تراویح کے بعد درس قرآن مجید اور آپ کی خوش اخلاقی اور ملنساری کی وجہ سے آئندہ سال نماز تراویح پڑھانے کے لیے دوبارہ تشریف لائے حتی کہ جمعۃ المبارک کا خطبہ شروع کر دیا پھر جامعہ سلفیہ سے تعلیمی مراحل طے کرنے کے بعد مستقل طور پر جھنگ کو اپنا مسکن بنا لیا شادی بھی وہی کی اور مدفون بھی وہی ہوئے آپ نے شہرت و عروج کی بلندیوں کو چھو ا کئی ایک شہروں سے بڑی بڑی پیش کشیں ہوئی لیکن انہوں نے یہ کہہ کر ہر آفر کو ٹھکرا دیا کہ میں نے جھنگ میں محنت کی ہوئی ہے اب اس کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتا۔ حالانکہ جھنگ میں آپ نے عسر یُسر ہر قسم کے حالات دیکھے مگر آپ کے پایہ استقلال میں لرزش نہیں آئی۔

آپ نے 1956ء کو پتوکی میں مولانا عبدالرحیم رحمہ اللہ کے ہاں ولادت پائی آپ کے والد محترم بڑے ثقہ عالم دین ‘بہترین خطیب اور کامیاب مناظر تھے آپ نے مولوی عمر اچھروی سے مباہلہ بھی کیا تھا جس میں آپ کو اللہ تعالیٰ نے کامیابی سے سرفراز فرمایا۔

حافظ عبدالعلیم مرحوم نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کرنے کے بعد جامعہ سلفیہ فیصل آبادمیں داخلہ لیا۔ جہاں مولانا محمد صدیق کرپالوی ‘ حافظ احمد اللہ بڈھیمالوی رحمۃ اللہ علیہماجیسے اساطین علم سے کسب فیض کیا مولانا محمد یونس بٹ حفظہ اللہ تعالیٰ وفاق المدارس السلفیہ پاکستان اور چوہدری محمد یٰسین ظفر حفظہ اللہ تعالیٰ پرنسپل جامعہ سلفیہ کے کلاس فیلو تھے تقریر کا شوق زمانہ طالب علمی سے ہی تھا جامعہ میں بھی تقریری مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہر جمعرات کو کسی قریبی مسجد اہل حدیث یا گاؤں میں تشریف لے جاتے اور وہاں درس و خطاب سے سامعین کو مستفید فرماتے۔ آپ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے مرکزی راہنما تھے آپ نے امیر کی سمع واطاعت کی ایک مثال قائم کی۔ جماعتی پلیٹ فارم پر اپنے موقف اور نقطہ نظر کا برملا اظہار فرماتے لیکن جماعت کی طرف سے جوپالیسی بن جاتی پھر حتی المقدور اس کی پابندی فرماتے۔ آپ نے ضلع جھنگ میں جماعت اہل حدیث کو نہ صرف کہ ایک مقام دلایا بلکہ ان کی طاقت و قوت کو بھی منوایا ۔ تقریباً آپ نے بیالیس سال کا عرصہ جھنگ کی سرزمین پر گزارا۔ محترم حافظ بدر نصیر صاحب ناظم مرکزی جمعیت اہل حدیث تحصیل جھنگ بتا رہے تھے کہ 24اگست 2018ء کا جمعہ آپ نے ان کی مسجد جھنگ سٹی میں پڑھایا جمعہ کے بعد بیٹھے ہوئے تھے تو میں نے کہا حافظ صاحب آپ کا جمعہ بڑا کامیاب ہوا ہے لہٰذا ہر سال ایک جمعہ ارشاد فرمایا کریں تو میرے گھٹنے پر ہاتھ مار کر فرمانے لگے ’’نہیں او بچیا ‘اے پہلا وی اے تے آخری وی‘‘ یعنی آئندہ میں نے آپ کے پاس جمعہ نہیں پڑھانا یہ میں نے آخری جمعہ پڑھا دیا ہے اس کے بعد 26اگست 2018ء بروز اتوار کو لاہور مرکزی مجلس عامہ کے اجلاس میں انہیں ہارٹ اٹیک ہوتا ہے اور پھر 6ستمبر 2018ء کو ان کی میت ہی جھنگ میں آئی اور ان کے یہ الفاظ الہامی ثابت ہوئے کہ ’’یہ میرا آخری جمعہ ہے‘‘۔

آپ نے خطابت کا آغاز بھی جھنگ سٹی سے کیا اور زندگی کا آخری جمعہ بھی جھنگ سٹی میں پڑھایا اور جھنگ سٹی کے قبرستان میں ہی دفن کیے گئے۔ اللہم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ

یہ میری بچپن کی دو محبتیں تھیں (قاری عبدالوکیل صدیقی رحمہ اللہ اور حافظ عبدالعلیم یزدانی رحمہ اللہ) تیسری محبت کے لیے میں پہلے سے زیادہ دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و عافیت کے ساتھ ایمان و اعمال صالحہ سے مزین لمبی زندگی عطا فرمائے۔ اگرچہ اب ان سے تعارف اور تعلق خاطر بھی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بچپن میں ان سے کوئی تعارف نہ تھا فقط ان کے اوصاف حمیدہ کی وجہ سے لوجہ اللہ ان سے غائبانہ محبت تھی اور ہے بھی ۔دعاہے کہ اللہ تعالیٰ قائم رکھے۔ (آمین)

نام اس لیے نہیں لکھ رہا کہ ’’نظر‘‘ نہ لگے۔ آپ بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ میرے محبوب کو دنیا و آخرت کی خوشیاں نصیب فرمائے ۔( آمین ثم آمین)

وما اغنی عنکم من اللہ من شئی ان الحکم الا للہ علیہ توکلت وعلیہ فلیتوکل المتوکلون

مصافحہ کے آداب

دین اسلام تہذیب اور معاشرتی آداب کا کامل نمونہ ہے وہ اپنے ماننے والوں کی نہ صرف اصلاح کرتاہے بلکہ ان کی جہالت بھی دور کرتاہے انہیں صلح وایمان، سلامتی واطاعت ،فرمانبرداری،اخوت وبھائی چارے کی تعلیم دیتاہے۔پیدائش سے لے کر موت تک الغرض ہرموقعے کے لیے آداب زندگی مقرر کر دیئے گئے ہیں۔

مسلمانوں کی ملاقات کے وقت محبت اور احترام کا اظہار کے لیے سلام کے علاوہ مصافحہ بھی مسنون ہےجو عموماً سلام کے ساتھ یا اس کے بعد ہوتاہے۔ اہل لغت نے مصافحہ کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے ۔ مصافحہ’’باب مفاعلہ‘‘ سے ہے اس سے مرادایک شخص کی ہتھیلی کا اندرونی حصہ دوسرے کی ہتھیلی کے اندرونی حصہ سے ملانا۔(النہایۃ 3/43)

مصافحہ کرنے کا طریقہ یمن میں رائج تھا انہوں نے اس کا اظہار کیا جسے نبی کریم نے بھی پسند فرمایا۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ جب یمن والے آئے تو نبی کریم نے فرمایا ’’یمن والے آئے ہیں اور تم لوگوں سے زیادہ نرم دل ہیں۔‘‘ (مسند احمد :12610)

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہی لوگ وہ ہیں جو پہلے مصافحہ لائے ہیں۔

دین اسلام نے قبل از اسلام جو اچھے طریقے مروج تھے وہ اسی طرح رہنے دیئے جیسا کہ مصافحہ اور جوبرے طریقے تھے وہ بدل دیئے جیسا کہ قبل از اسلام زمانہ جاہلیت میں عرب معاشرے کی یہ عادت تھی کہ جب آپس میں ملتے تو ایک دوسرے کو سلام ودعا اس طرح دیتے ’’صبح بخیر‘‘ سامنے والا اس طرح جواب دیتا’’تمہاری صبح خوشگوار ہو، اللہ تمہیں زندہ رکھے اور اللہ تعالیٰ تمہیں آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب کرے‘‘ دین اسلام نے اس طرز کو بدل کر اس کی جگہ ’’السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ‘‘ کہنے کی تعلیم دی۔

مہمان کے آنے پر خوشی اورمحبت کا اظہار کریں ، آگے بڑھ کر استقبال کریں، سلام دعا کریں اورمصافحہ کریں ، مصافحہ کی برکت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش کا ذریعہ ہے۔ مصافحہ ایک مسنون اور مستحب عمل ہے۔سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا :’’ جو کوئی دو مسلمان ملاقات کریں اور پھر مصافحہ کرتے ہیں تو جدا ہونے سے پہلے ہی ان دونوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ (ابوداؤد : 5212)

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم  نے فرمایا :’’ جب دو مسلمان ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور ان میں سے ایک دوسرے کے ہاتھ کو پکڑتاہے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ ان کی دعاؤں کے وقت موجود رہے اور ان دونوں کے ہاتھوں کے جدا ہونے سے قبل ان کی مغفرت کر دے۔ (مسند احمد : 12478)

جناب قتادہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں مصافحہ کرنے کا دستور تھا؟ انہوں نے فرمایا ’’ہاں‘‘۔ (صحیح بخاری : 6263)

مصافحہ چونکہ سلام کی تکمیل ہے اس لیے پہلے سلام پھر مصافحہ کرنا چاہیے ۔ عموماً یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ مصافحہ کا تو خوب اہتمام ہوتاہے لیکن سلام کا نہیں ہوتا یا مصافحہ کے بعد سلام ہوتاہے، یہ دونوں طریقے خلاف سنت ہیں، سنت طریقہ یہ ہے کہ پہلے سلام پھر مصافحہ کیا جائے آپ  اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مصافحہ کے بغیر سلام ثابت نہیں۔

مصافحہ ایک ہاتھ سے کرنا احادیث صحیحہ اور آثار صحابہ سے

نہایت واضح طور پر ثابت ہے اس کے ثبوت میں ذرا بھی

شک نہیں ۔سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنی اس ایک ہتھیلی سے مصافحہ کیا ،میں نے رسول اللہ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم نہ کسی چیز کو اور نہ کسی ریشمی کپڑے کو پایا۔ (مسلم:6053)

بعض لوگ کہتے ہیں کہ نصاریٰ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرتے ہیں پس ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے میں ان کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے اور نصاریٰ اور یہود کی مخالفت کرنے کا حکم ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم سے ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے کا مسنون ہونا ثابت اور کسی حدیث سے ایک ہاتھ سے مصافحہ کے بارے میں نصاری کی مخالفت کرنے کا حکم ہرگز ثابت نہیں ہے تو ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا نہ کسی قوم سے مشابہت سے ناجائز ہوسکتاہے اور نہ کسی قول وفعل سے مکروہ ٹھہر سکتاہے بلکہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مسنون ہی رہے گا۔

اگر کوئی کہے کہ صحیح بخاری سے دونوں ہاتھوں کا مصافحہ ثابت ہے تو یہ محض جھوٹ ہے اور اہل اسلام کو صاف دھوکا دینا اور لوگوں کو مغالطہ میں ڈالنا ہے۔

ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا جس طرح اہل دین اور اہل عرب مصافحہ کرتے ہیں احادیث صحیحہ صریحہ اور آثار صحابہ رضی اللہ عنہم سے نہایت واضح طور پر ثابت ہے۔ اس کے ثبوت میں ذرا بھی شک نہیں اور دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا جس طرح اس زمانے کے بعض لوگوں میں رائج ہے کسی صحیح حدیث سے ثابت ہے اور نہ کسی صحابی کے اثر سے اور نہ کسی تابعی کے قول وفعل سے اور ائمہ اربعہ سے بھی کسی امام محترم کا دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا یا اس کا فتویٰ دینا سنداً منقول نہیں۔

درِ مختار فقہ کی ایک مشہور ومعروف کتاب ہے اور اس میں لکھا ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا سنت ہے۔ کسی کتاب کا مشہور ومعروف ہونا اور بات ہے اور اس کا مستند اور معتبر ہونا اور بات ہے ۔ (ماخوذ از المقالۃ الحسنی فی سنۃ المصافحۃبالید الیمنی)

مصافحہ ایک ہاتھ سے مسنون ہے یا دونوں ہاتھوں سے ۔ اس کی مزید تفصیل کے لیے مولانا عبد الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کا مذکورہ رسالہ مطالعہ کیاجائے۔

شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کا قول غنیۃ الطالبین فصل ان امور کے بیان میں ہے کہ جن کا داہنے ہاتھ سے کرنا مستحب ہے ’’مسلمانوں کے لیے چیزوں کو لینا اوردینا، کھانا اور پینا اور مصافحہ کرنا داہنے ہاتھ سے مستحب ہے اور وضو کرنے میں اور جوتے اورکپڑے پہننے میں داہنی طرف سے شروع کرنا مستحب ہے۔

مصافحہ مندرجہ ذیل چند مواقع پر نہ کیا جائے:

1کفار ومشرک اور بدعت کرنے والے اور اس کی دعوت دینے والا سے ملاقات کے موقع پر ان کی خاص عزت وتکریم کے لیے مصافحہ ہرگز نہ کیاجائے۔

2 اگر کوئی شخص گفتگو میں یا کسی کام میں یا کھانا کھانے میں مشغول ہو تو اسے سلام کا جواب دینے کے ساتھ مصافحہ کیلئے مجبور نہ کیاجائے۔

3 اگر کوئی شخص جلدی میں ہو یا تیزی سے جارہا ہو تو اسے سلام کے ساتھ مصافحہ کے لیے نہ روکا جائے۔

4 بعض لوگ مصافحہ کرنے کے بعد سینے پر ہاتھ رکھتے ہیں یا مصافحہ تو ایک ہاتھ سے کرتے ہیں لیکن دوسرے ہاتھ سے سامنے والےکی کہنی یا بازو تھام لیتے ہیں ، اس عمل کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں لہذا اس عمل سے اجتناب کیا جائے۔

5 باہم ملاقات کے وقت سلام کے بعد مصافحہ کرتے ہوئے جھکنا شرعاً منع ہے۔

6 بعض مسلمان قوموں میں یہ رواج عام ہے کہ مصافحہ کے بعد ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یہ عمل شریعت کی تعلیم نہیں لہذا اس سے بھی گریز کیاجائے۔

7 لوگوں سے مصافحہ کرنا ہو تو دائیں طرف کو مقدم رکھتے ہوئے بائیں طرف کے لوگوں سے مصافحہ میں پہل کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

جب سے ہمارے معاشرے میں روشن خیالی اور جدت پسندی آئی ہے ، مغربی تہذیب کی اندھی تقلید نے ہمارے معاشرے کو تباہ وبرباد کردیا ہے۔مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ آج ہماری تہذیب وتمدن، ثقافت، عادات وبودوباش کے تمام طریقوں میں مغرب کی نقالی ہے۔ مخلوط تعلیمی نظام میں نوجوان طلباء وطالبات آپس میں ایک دوسرے سے اور نامحرم اساتذہ سے مصافحہ کرتے نظر آتے ہیں اسی طرح نامحرم رشتہ داروں سے بھی مصافحہ کرنا جو کہ شرعاً ناجائز ہے۔

سیدہ امیمہ بنت رقیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں کچھ انصاری عورتوں کی معیت میں نبی کریم  کی خدمت میں حاضر ہوئی ہم آپ  سے بیعت ہونا چاہتی تھیں ہم نے عرض کی ، اے اللہ کے رسول ہم آپ سے بیعت کرتی ہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی طرف سے جھوٹ گھڑ کر کسی پر بہتان طرازی نہیں کریں گی اور کسی نیک کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔ آپ  نے فرمایا اپنی طاقت اور وسعت کے مطابق( تم پابندہوگی) ہم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہم پر ہم سے بھی زیادہ مہربان اور رحم فرمانے والے ہیں۔ اے اللہ کے رسول اجازت دیجیے کہ ہم آپ کے دست مبارک پر بیعت کریں۔ رسول اللہ  نے فرمایا میں عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتا ، میرا زبانی طور پر سوعورتوں سے بات چیت کرنا ایسا ہی ہے جیسے ہر عورت سے الگ طور پر بات چیت کروں۔ (سنن نسائی : 4186)

رسول اللہ  غیر محرم عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتے تھے اگرچہ ضرورت کا تقاضا بھی ہوتا جیسے کہ نبی کریم نے عورتوں سے بیعت لیتے وقت صرف زبان سے بیعت لینے پر اکتفاء فرمایا۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جو مسلمان عورت ان شرائط کا اقرار کر لیتی تو رسول اللہ زبانی طور پر اس سے فرماتے ’’میں نے تمہاری بیعت قبول کر لی ہے‘‘۔ اللہ کی قسم! ایسا کبھی نہیں ہوا کہ نبی کریم   کے ہاتھ سے بیعت لیتے وقت کسی عورت کا ہاتھ چھوا ہو ، نبی مکرم ان سے صرف زبانی بیعت لیتے تھے تم ان مذکورہ باتوں پر قائم رہنا۔ (صحیح بخاری : 4891)

نبی معظم نے فرمایا ’’ تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی کیل گاڑ دی جائے یہ اس بات سے بہتر ہے کہ وہ کسی غیر محرم عورت کو چھوئے ۔(صحیح الترغیب والترھیب : 1915)

شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ عورت سے مصافحہ کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

غیر محرم عورتوں سے مصافحہ کرنا مطلقاً ناجائز ہے خواہ وہ جوان ہوں یا بوڑھی اور خواہ مصافحہ کرنے والا مرد جوان ہو یا بوڑھا۔ کیونکہ اس میں ہر ایک کے لیے فتنے کا خطرہ ہے۔ اس اعتبار سے بھی کوئی فرق نہیں کہ عورت نے دستانے وغیرہ پہننے ہیں یا نہیں کیونکہ دلائل کے عموم اور فتنے کے سدباب کا یہی تقاضا ہے۔(فتاوی اسلامیہ 3/89)

آپس میں ملاقات کے وقت دین جو ہمیں شعور وتہذیب سکھاتا ہے وہ یہی ہے کہ ایک مسلمان جب دوسرے مسلمان بھائی سے ملے پہلے سلام کہے پھر ایک ہاتھ سے مصافحہ کر ے۔مصافحہ مسلمان کا ملاقاتی شعار ہے جو آج بری طرح سر کے اشاروں اور چہروں کے انداز اور اشاروں کی نذر ہوچکا ہے۔ ایک ہاتھ سے مصافحہ سنت ہے۔ رسول اللہ  بنی نوع انسان کے لیے ہر طرح سے نمونہ تھے۔ بشری تقاضوں کے تحت نبی کریم کی حیات مبارکہ میں بشری زندگی کے تمام پہلو موجود تھے کہ جن کو دیکھ کر ہر انسان اپنی زندگی کا ہر گوشہ نبی مکرم کے عمل کے مطابق گزار سکتاہے۔

سنت کی عظمت كو جان كر اور اس پر عمل کرکے دنیا وآخرت میں لا تعداد فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں ایک ہاتھ سے مصافحہ سبب انس ومحبت ہے۔ ایک دوسرے سے کینہ،بغض وحسد کی صفائی میں مؤثر ہے۔ اتفاق واتحاد کا نسخۂ اکسیر ہے ، گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے۔ میری آپ تمام قارئین سے التماس ہے کہ آپ اپنے عام وخاص،دنیاوی وشرعی مسائل صحیح احادیث کی روشنی میں خود بھی سمجھنے کی کوشش کریں اور اپنے دوست احباب کو بھی احادیث صحیحہ کی طرف متوجہ کرائیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم   کے ہر طریقے پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

شائستہ، پُروقار اندازِ گُفتگو

ہمیں آپس میں دھیمی ،پرُوقار اور شائستہ لہجہ میں بات کرنی چاہیے،چونکہ نرم لہجہ اور نرمی سے گفتگو کرنے سے ہمارے دل میںاچھا اثر پیدا ہوتا ہے،اگر دل میں غصّہ اور نفرت ہو تو قریب بیٹھا ہو ا شخص بھی دور جاکر بیٹھنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔غُصّہ،غضب، تعصب، حسد،بغض ، عناد و نفرت کی وجہ سے دلوں میں مزید فاصلے بڑہ جاتے ہیں جبکہ محبت بھرا رویّہ نرم گفتار دل و دماغ پر انتہائی خوشگوار اثر چھوڑتے ہیں، اس لیٔے اگر آپ کسی کے دل میں جگہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پُر تشددشور و غل بھیانک اور غصّے بھری آواز سے نہیں بلکہ نرم گفُتاری شائستہ باوقار دھیمی گفتگو سے بات کرنی چاہیے ،چونکہ بادلوں کی ہولناک گرج و چمک سے دل تو دھل جاتے ہیں جبکہ نرم بارش کی باوقار بوندوں سے جسم پر پڑنے والے ٹھنڈے قطرے سکون قلب عطا کرتے ہیں غصّے کو ’لمحاتی پاگل پن ‘بھی کہا جاتا ہے، چونکہ تجربہ شاھد ہے کہ غصّہ و غضب سے مغلوب الغضب ہوجانا اور قابو سے باہر ہوئے جذبات ایک ایسی خوفناک آندھی اور طاقت کی مانند ہوتے ہیں جو پہلے اپنے آپ کو پھر آس پاس والوں کو تباہ وبرباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، کبھی تو غصّہ میں کیے ہوئے چند لمحات کے فیصلے برسوں تک بھگتنا پڑتے ہیں، کبھی چند لمحات کے جذباتی فیصلوں کے باعث مردوزن میں قتل وغارت جیسے سنگین جرائم وقوع پذیر ہوجاتے ہیں۔تجربہ شاھد ہے کہ فورا ً غصّہ میں بے قابو ہوکر طلاق دے دینا پھر پچھتاوے کے بعد مُفتی صاحبان کی حاضریاں دیتے رہنا کوئی اچھا کام نہیں ، کبھی غضبناک ہونے سے، بلڈپریشر،دماغی فالج اور ہارٹ اٹیک جیسے موذی امراض جسم و جان سے چمٹ پڑتے ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ’کہ بے قابو غصّہ ہاتھ میں پکڑے ایسے جلتے کوئلے کے ماند ہے جس سے بیک وقت پورا گھرانہ خاکستر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے، سچ تو یہ ہے کہ بلاشبہ غُصّہ و غضب دوسرے کی خطا کی سزا اپنے آپ کو دینے کے برابر ہے، مثلاً خود اپنے گھر میں ہر وقت خوف و دہشت کی علامت بنے رہنا ، گھر میں داخل ہوتے ہی گھر والوں کے پسینے چھوٹ جانا ،کلیجہ منہ کو آجانا ، ہرگز معیاری و متوازی زندگی نہیں، ایک جہاندیدہ دانا ہستی کا قول کتنا سچ ہے کہ ’ اپنے جذبات پر خود حکومت کرو نہ کہ تمہارے جذبات تم پر حکومت کرنے لگیں، اور تم بے بس ہو جاؤ‘ مشتعل دماغ مصائب و مسائل میں بے پناہ اضافے کا باعث بنتا ہے۔ غُصّہ ایک ایسی خوفناک چنگاری ہوتی ہے جو ابتدائی مراحل میں اگر بجھائی نہ جائے تو آگ کی صورت اختیار کر لیتی ہے، غُصّہ ہماری سوچ سمجھ عقل و شعُور کے دروازے تک بند کردیتا ہے ،غُصّہ جہالت سے شروع ہوکر پشیمانی اور ندامت پر جاکر اختتام پذیر ہوتا ہے، غُصّہ ایک نفسیاتی بیماری ہے جس کی علامات تکبر ، غُروراور احساس برتری ہوا کرتے ہیں جو مذہبی و اخلاقی لحاظ سے انتہائی مذموم عمل ہے۔ دیکھا جائے تو غُصّہ کی حالت میں انسان کی آنکھیں،کان اور چہرے سُرخ ہوجایا کرتے ہیں، گردن کی رگیں پھول جاتی ہیں، زبان قینچی کی صورت اختیار کر لیتی ہے دماغ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے یکسر محروم ہوجاتا ہے پھر بدحواسی کے عالم میں گالم گلوچ،الزام تراشی،ہاتھاپائی،مارپیٹ،طلاق، قتل و غارت حتیٰ کہ کبھی تو ’خودکشی‘ کی نوبت بھی آجاتی ہے، غصیلے لوگ پورے معاشرے سے کٹ کر اپنی ضد، انا،لایعنی مباحث اور شکوک و شبہات کے مکمل مریض بن جاتے ہیں، پھر تنہائی، مایوسی، ناامیدی اور قنوطیت ان کا مقدر بن جاتی ہے، آئے دن ہمارے ہاں جرایٔم و تشدد

پر مبنی ڈرا مے اور فلمیں دیکھتے ہوئے ہماری تحریروں،

تقریروں،محاضرات علمیّہ، مجالس اور عدلیہ کے فیصلوں میں بھی غُصّہ جھلکتا ہوا نظر آتا ہے، سیاسی لیڈر جس بے رحمی شقاوت قلبی سے حریف مخالف کو نیچا دِکھانے کے درپے ہوتے ہوئے جس بدتمیزی اور سفاکی سے ایک دوسرے کی کردار کُشی کرتے ہیں، تقاریر میں گلہ پھاڑتے ہوئے بدترین اخلاقی گراوٹ کے مظاہرے کرتے نظر آتے ہیںوہ کسی سے مخفی نہیں اور نہ ہی کسی مہذب قوم کا یہ شیوہ ہے ،جبکہ دیگر باوقار زیورِ تعلیم سے آراستہ زیرک و ذہین قومیں آپس کے اختلافات،تنازعات کا ہر وقت جایٔزہ لیتے ہوئے گھمبیر مسائل کا حل نکال کر اعتدال کی راہ اختیار کر تے ہیں تاکہ کسی صورت میںشدید تنازعات لڑائی جھگڑے اور قتل وغارت کی کبھی نوبت تک نہ آئے بلاشبہ زندہ معاشروں میں بعض اوقات اختلافات اور تنازعات بھی جنم لیتے ہیں مگر وہ پیہم رواں دواں زندگیوں پر اثرات نہیں ہوتے، قوم کے باشعور ذھین و ذیرک افراد ان کا ڈٹ کر خوبصورت حل بھی تلاش کر لیتے ہیں جس کے باعث سفاکی انارکی انتشار و افتراق اور خونریزی کی نوبت نہیں آتی بلکہ باشعور اَقوام و ملّل اختلافات تنازعات بڑے شان ،شعّور اور شائستگی سے برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں،بلکہ وہ تنقید کے باعث بھی آپے سے باہر ہونے کے بجائے اسے مناسب اہمیت دیتے ہوئے اختلاف کرنے والوں سے خوشگوار ماحول میں مذاکرات افہام وتفہیم سے محبت کی راہ پالیتے ہیں، اس طرح یہ معاشرہ زعفران بن کر فکر و فہم شعور و آگھی کی معطر لہریں اٹھتی نظر آتی ہیں، پھر یہ سماج افکار نُو کے تازہ پھولوں سے معطر ہوجاتا ہے اور محبت و خُلوص اور وُسّعت قلبی کی دلرُبا خوشبو سے پورا معاشرہ مہک اٹھتا ہے لیکن افسوس ہمارے مزاجوں میں اعتدال ،بردباری، سنجیدگی کے بجائے اشتعال ،انتقام اور تصادم کے اجزاء طاقت ور ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

مثلاًبعض حضرات غُصّے میں اتنے لال پیلے ہوجاتے ہیں کہ اگر ان لوگوں کو انکی وہ ’وڈیوز‘ نارمل حال میں دکھائی جائیں تو یہ حضرات یقینا شرم کے مارے پانی پانی ہوکر آپکے سامنے آنے کی بھی ہمت نہیں کریں گے ویسے دیکھا جائے تو غُصّے غضب اور چڑچڑاپن کی کئی وجوہات جن میں تعلیم و تربیت کی کمی،خوفِ الٰہی کا فقدان، بے روزگاری،ناانصافی،خاندانی رقابتیں،رنجشیں،تلخ مزاجی، تکبر و غرور، جھوٹی اناپرستی، عدم برداشت اورکسی ذات کے خلاف منفی جذبات کی فراوانی نمایاں نظر آتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے سچے مخلص بندے اور حقیقی متقین ہمیشہ عاجزی،انکساری،تواضع اور خاکساری اپنائے ہوئے تکبر اور غُرور کے مرض سے ہمیشہ کلیۃً محفوظ رہتے ہیںچونکہ خود غُصّہ بیج ہے تکبر اور اناپرستی کا۔

اپنی ذات،نفس ،مقام و مرتبہ، خاندان و جاہت، رنگ و نسل اور قوّت و اقتدار پر فخر کرنے والااپنے آپ کو دوسری مخلوق سے ہمیشہ بالاتر سمجھتے ہوئے حق کو پامال کرتے ہوئے اپنے آپ کو دوسروں سے ہر لحاظ بلند و بالا تصور کرتا ہے، جبکہ انسان کو غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کتنا رؤف و رحیم، حلیم و کریم ہے کہ ہم جیسے لاتعدادانسانوں کی نافرمانیاںاور قصور ہمیشہ سے معاف کرتا رہتا ہے۔ لِھٰذا فقط رضائے الٰہی کے خاطر دوسروں کی خطاؤںسے درگذر کرنا نظر عفّو سے نوازنا رحمان الرحیم کا بیحد پسند یدہ فعل ہے، ایسے حالات و واقعات میں دینی، سیاسی اور سماجی باوقار قائدین کرام کا فریضہ بنتا ہے کہ وہ ہمیشہ شیرین اور ملائم لہجہ اپنائیں نرم گُفتاری کو سماج میں فروغ دیں۔

ہمیشہ الزام تراشی،دشنام بازی،گالم گلوچ، بغض و عناد اور تَعصّب و تکبر سے بچتے ہوئے آپس میں مل جل کر گفت و شنید سے مسائل کا حل ڈھونڈیں شائستہ اور باوقار لہجہ اپنائیں، اور اپنے سماج میں قوت برداشت پیدا کریں اس طرح افتراق و انتشار غُصّہ و غضب کے ساتھ و ہیجاں میں بھی کمی واقع ہوگی، باہمی اعتماد اور اسلامی رشتے اور اخوۃ کے بندھن میں سب لوگ یکجاں ہوجائیں گے۔

ایسے میں ہمیں براہ راست قرآن و سنت اور آپ کی سیرت و سوانح سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ جیسا کہ ’نفسیات‘ ایک وسیع قابل ذکر اور اہم علم ہے جس کی بنیاد آج سے ۱۴۰۰ سال قبل رسول مکرم نے رکھی۔آیاتِ ربانی اور احادیث رسول نفسیاتِ انسانی کے مبادی اُصول وضع کرنے میںکلیدی کردار ادا کرتے ہیں جس سے تعمیر انسانیت ہوئی ، چونکہ مہذب گُفتگو کرنا اسلام کا ایک زرین اُصول ہے ، اگر تاریخ کا بغائیر مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مہذب گُفتگو ہی نے اقوام و افراد کو اسلام کا گرویدہ بنایا، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ سے واضح ہوتا ہے کہ لوگوں سے اچھے انداز میں گُفتگو کرو۔

تم فرعون کے پاس جاؤ تو اس سرکش سے بھی ’نرمی‘ سے بات کرو شاید وہ سمجھ لے یاڈر جائے ۔( طٰہٰ۴۳،۴۴)

اور یہ کہ مسلمان جب غضبناک ہوتے ہیں تو وہ معاف کرتے ہیں۔(الشوریٰ)

ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا پھر وہ صریح جھگڑالو بن گیا۔(یس۷۷)

ایسے ہی احادیث نبویہ سے بھی مہذب متمدن شائستہ گفتگو کرنے کی تاکید فرمائی گئی ہے، سیدناعبداللہ  رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول مکرم نے فرمایا: مسلمانوں کو گالی دینا فسق اور جنگ کرنا کفر ہے ۔ (بخاری۴۸)

 ایک اور جگہ جہنم میں جانے والے گناہوں میں ایک گناہ زبان کی بدکلامی شرم گاہ کی خباثتوں کو قرار دیا گیا ہے ۔

(ابن ماجہ۴۲۴۶)

مزید یہ کہ سیدنا جریررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جو کوئی نرمی اور مہذب انداز سے محروم کردیا گیا وہ خیرکثیر سے محروم کر دیا گیا ۔

(مسلم۱۶۵۹۸)

سب سے افضل اس کا اسلام ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان سلامت رہیں۔(بخاری)

قرآن و سنت سے جو بات واضح ہو کے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ امت مسلّمہ کی شناخت نرم شائستہ اور مہذب گفتگو سے ہے، چونکہ عظیم قومیں تہذیب ،شائستگی اور وقاراپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑتی لِھٰذا ہم پر لازم ہے کہ ہر لمحہ مہذب او رشاندارشائستہ گفتگو کی عادت اختیار کریں، سورۃ احزاب میں ارشاد ربانی ہے کہ ’اے ایمان والو اللہ سے ڈرو سیدھی بات یعنی مہذب اور شائستہ گفتگو کیا کرو اللہ تعالیٰ تمہارے تمام امور کو سنوار دے گا اور تمہارے تمام گناہ معاف کرے گا‘۔ مزید یہ کہ سورۃ البقرہ میں ارشاد الٰہی ہے کہ ’قول معروف ‘یعنی مہذب گفتگو اور درگذر کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دل آزاری ہو۔ صحیح مسلم میں ایک جگہ ارشاد نبوی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ مہذب گفتگو کرے یا خاموش رہے۔ اسلام میں جہاں مہذب گفتگو کا حکم آیا ہے وہیں فضول لغو لایعنی باتون سے باز رہنے کی بھی تاکید آئی ہے، قرآن عظیم کی روشنی میں کسی نادان کا بھی جواب تلخی سے نہ دیا جائے بلکہ ہر حال میں سلامت روی کو ملحوظ خاطر رکھا جائے، دراصل یہ نرم باوقار شائستہ کلام مخاطب کے قلب پر اثر انداز ہوتا ہے اور لوگوں کے درمیاں لڑائی جھگڑا اور فساد پیدا نہیں ہوتا، مقصد کہ ایسے فقرے جن میں لَعن، طَعن ، تَحقیر و تذلیل تُرش روئی کا پہلو نمایاں نظر آتا ہو اُن سے محفوظ رہنا چاہیے بے تکی لَغو باتوں سے حتیٰ المقدور بچنا چاہیے، انسان کی زبان اس کا ذریعہ ’اظہارمافی الضمیر‘ ہے پھر اس کا اظہار بھی خوشگوار و خوبصورت ہی ہونا چاہیے تویقیناً یہ سلگتی ہوئی دنیا بھی جنت نظیر بن جائے گی۔انسان کی زبان ایسی باوقار اور قیمتی متاع ہے کہ شیرین شائیستہ اور مہذب ہو تو کائنات میں دوستی اور محبت کی خوشگوار فضا قائم ہو گی ، اگر یہ تیز تلخ ،تُرش، طعن وتشنیع کی حامل ہو تودشمنیاں اور عداوتیں ہی جنم لیتی ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول کیا خوبصورت ہے کہ ’تلوار کا زخم تو وقت کے ساتھ بھر سکتا ہے، مگر زبان کا دیا ہوا زخم ہمیشہ تر و تازہ ہی رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن عظیم، احادیث رسول اور سیرت النبی سے کما حقہ استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ زندگی کے ہر شعبہ حیات میں انفرادی، اجتماعی،معاشی و معاشرتی،مادی و روحانی، سیاسی و سماجی، قومی و بین الاقوامی مواقع پر باوقار، مہذب، شائستہ اور شیرین گفتگو کو اپنا شعار بنا سکیں۔آمین یا ربَ العالمين

بنی اسرائیل کے تین بندوں کی کہانی رسول اللہ ﷺ کی زبانی – قسط 2

پیارے بچو ! رسول اللہ‌ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے۔ کوڑھی، گنجا اور نابینا، اللہ تعالیٰ نے انہیں آزمانے کا ارادہ کیا اور ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا ، فرشتہ کوڑھی کے پاس آیا اور کہنے لگا : تمہیں کون سی چیز سب سے پیاری ہے؟ وہ کہنے لگا: اچھا رنگ اور اچھی کھال اور مجھ سے یہ بیماری ختم ہو جائے جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے گھن کھاتے ہیں۔ فرشتے نے اسے چھوا تو اس کی تکلیف دور ہو گئی اور اسے اچھی جلد مل گئی۔فرشتہ کہنے لگا: تمہیں کونسا مال پسند ہے ؟ وہ کہنے لگا : اونٹ یا گائے (اسحاق کو شک ہے) لیکن کوڑھی یا گنجے میں سے کسی ایک نے اونٹ اور دوسرے نے گائے کہا تھا۔ اس فرشتے نے اسے حاملہ اونٹنی دے دی اور دعا کی کہ: اللہ تمہارے لئے اس میں برکت دے۔ پھر وہ گنجے کے پاس آیا اور کہنے لگا: تمہیں کونسی چیز پیاری ہے؟ وہ کہنے لگا: اچھے بال اور مجھ سے یہ تکلیف دور ہو جائے جس کی وجہ سے لوگ مجھے حقیر سمجھتے ہیں۔ فرشتے نے اسے چھوا تو اس کی تکلیف دور ہو گئی اور اسے خوب صورت بال مل گئے، پھر فرشتے نے کہا: تمہیں کونسا مال پسند ہے ؟اس نے کہا: گائے ، اسے ایک حاملہ گائے دے دی گئی اور اس کے لئے دعا کی: اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اس میں برکت دے۔ پھر وہ نابینا کے پاس آیا اور کہنے لگا: تمہیں کونسی چیز سب سے پیاری ہے؟وہ کہنے لگا: اللہ مجھے میری بصارت واپس لوٹا دے تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں، فرشتے نے اسے چھوا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی لوٹا دی، پھر فرشتے نے کہا: کونسا مال تمہیں زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا: بکری، اسے ایک حاملہ بکری دے دی گئی، اونٹنی اور گائے نے بھی بچے دئیے اور اس بکری نے بھی ۔ ایک کی اونٹوں کی وادی ہوگئی، دوسرے کی گائے بیل کی وادی ہوگئی اور تیسرے کی بکریوں کی وادی ہوگئی۔ پھر وہ کوڑھی کے پاس اس کی صورت اور حالت میں آیا اور کہنے لگا: میں ایک مسکین آدمی ہوں ،سفر میں میرا سامان ختم ہوگیا ہے،آج میں اپنی منزل پر سوائے اللہ، پھر تمہاری مدد کے نہیں پہنچ سکتا۔ میں تمہیں اس ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں اچھا رنگ اچھی جلد اور مال عطا کیا، ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں جس پر بیٹھ کر میں اپنا سفر مکمل کر سکوں۔ وہ کہنے لگا: حقوق بہت زیادہ ہیں۔ فرشتہ اس سے کہنے لگا: شاید میں تمہیں جانتا ہوں، کیا تم کوڑھی نہیں تھے جس سے لوگ گھن کیا کرتے تھے؟پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کیا؟ وہ کہنے لگا: نہیں مجھے تو یہ مال باپ دادا سے ورثے میں ملا ہے ۔فرشتے نے کہا: اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں ایسی صورت میں لوٹا دے جس میں تم تھے ۔پھر وہ گنجے کے پاس اسی کی صورت میں آیا اور اسے بھی وہی بات کہی۔ گنجے نے بھی وہی بات کہی جو کوڑھی نے کہی تھی۔ فرشتہ کہنے لگا: اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اسی حالت کی طرف لوٹا دے۔ پھر وہ نابینا کے پاس اس کی صورت اور حالت میں آیا،کہنے لگا: ایک مسکین اور مسافر آدمی ہوں ،سفر میں میرا سامان ختم ہوگیا ہے، اللہ، پھر تمہاری مدد کے بغیر میں

اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکتا۔ میں اس ذات کا واسطہ دے

کر جس نے تمہیں بینائی لوٹائی ، ایک بکری کا سوال کرتا ہوں جس کے ذریعے میں اپنا سفر مکمل کر سکوں ،وہ کہنے لگا: میں نابینا تھا، اللہ تعالیٰ نے مجھے میری بینائی لوٹائی ،جو چاہو لے لو، جسے چاہو چھوڑ دو، واللہ! آج تم جو بھی اللہ کے لئے لو گے میں تمہیں منع نہیں کروں گا۔ فرشتہ کہنے لگا: اپنا مال سنبھال کر رکھو، کیونکہ تمہاری آزمائش کی گئی تھی (اللہ تعالی) تم سے خوش ہوگیا جب کہ تمہارے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہوگیا۔

پیارے بچو ! مذکورہ قصے سے ہمیں بہت ساری نصیحتیں حاصل ہوئی ہیں جن میں سے چند یہ ہیں ۔

1بیماری بھی اللہ عزوجل کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے ۔

2  اللہ عزوجل اپنے ہر بندے کو آزماتا ہے ۔

3 آزمائش الہی پر صبر کرنے والے کے لیے بہت سارے انعامات کا اعلان کیا گیا ہے ۔

4 آزمائش الہی پر صبر نہ کرنے والے کےلیے خسارہ ہے۔

5  فقیر کو خالی ہاتھ نہیں لوٹایا جائے ۔

6  ہر نعمت اللہ تعالی کی جانب سے ہے بندے کا اپنا کچھ بھی نہیں ۔

7  اللہ تعالی کے راہ میں خرچ کرنا مال میں اضافہ کا سبب ہے ۔

8  بخل اور کنجوسی مال میں کمی کا سبب ہے ۔

9  اللہ تعالی کے راہ میں خرچ نہ کرنے سے اللہ عزوجل ناراض ہوتا ہے ۔

0  مسافر کا خیال کیا جائے اس پہ اللہ راضی ہوتا ہے ۔

۔۔۔

 

وہ اشیاء جن میں شفا ہے

قارئین کرام ! رسول اللہ کا فرمان ہے کہ : اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی دوا بھی نازل نہ کی ہو۔

اللہ تعالی کن چیزوں میں شفا رکھی ہے ؟

آئیں ملاحظہ فرمائیں اور ان چیزوں سے اپنی بیماریوں کا علاج کریں ۔

1 قرآن کریم میں شفا ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

وَنُنَزِّلُ مِنَ القُرآنِ ما هُوَ شِفاءٌ وَرَحمَةٌ لِلمُؤمِنينَ وَلا يَزيدُ الظّالِمينَ إِلّا خَسارًا .

یہ قرآن جو ہم نازل کر رہے ہیں مومنوں کے لئے تو سراسر شفا اور رحمت ہے ۔ ہاں ظالموں کو بجز نقصان کے اور کوئی زیادتی نہیں ہوتی ۔ (سورة الاسراء : 82)

2 شہد میں شفا ہے

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

يَخرُجُ مِن بُطونِها شَرابٌ مُختَلِفٌ أَلوانُهُ فيهِ شِفاءٌ لِلنّاسِ إِنَّ في ذلِكَ لَآيَةً لِقَومٍ يَتَفَكَّرونَ .

ان ( شہد ) کے پیٹ سے رنگ برنگ کا مشروب نکلتا ہے ، جس کے رنگ مختلف ہیں اور جس میں لوگوں کے لئے شفا ہے غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت بڑی نشانی ہے ۔ (سورة النحل : 69)

صحیح بخاری میں ہے کہ : ایک صاحب نبی اكرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : میرا بھائی پیٹ کی تکلیف میں مبتلا ہے۔ نبی معظم نے فرمایا : انہیں شہد پلا پھر دوسری مرتبہ وہی صحابی حاضر ہوئے۔ آپ نے اسے اس مرتبہ بھی شہد پلانے کے لیے کہا وہ پھر تیسری مرتبہ آیا اور عرض کیا کہ ( حکم کے مطابق ) میں نے عمل کیا ( لیکن شفا نہیں ہوئی ) ۔ نبی کریم نے فرمایا:

صَدَقَ الله وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ، ‏‏‏‏‏‏اسْقِهِ عَسَلًا، ‏‏‏‏‏‏فَسَقَاهُ فَبَرَأَ .

 نبی اكرم نے فرمایا : اللہ تعالی سچا ہے اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے ، انہیں پھر شہد پلا۔ چنانچہ انہوں نے پھر شہد پلایا اور اسی سے وہ تندرست ہو گیا۔ (صحیح بخاری : 5684)

3 زمزم میں شفا ہے

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے  :

خَيْرُ مَاءٍ عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ مَاءُ زَمْزَمَ فِيهِ طَعَامٌ مِنَ الطُّعْمِ وَشِفَاءٌ مِنَ السُّقْمِ .

روئے زمین پر بہترین پانی آبِ زم زم ہے، اس میں كھانے كی قوت اور بیماری سے شفا ہے۔(سلسلة الاحاديث الصحيحة : 1056)

4 کھنبی میں شفا ہے

سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم نے فرمایا :

الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَاؤُهَا شِفَاءُ الْعَيْنِ .

کھنبی ( من ) میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفاء ہے ۔ (صحیح بخاری : 4639)

5 کلونجی میں شفا ہے

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ نے فرمایا :

فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا السَّامَ .

سیاہ دانوں ( کلونجی ) میں ہر بیماری سے شفاء ہے سوائے سام ( موت ) کے۔(صحیح بخاری : 5688)

6 عجوہ میں شفا ہے

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ نے فرمایا :

الْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِيهَا شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ .

عجوہ ( کھجور ) جنت کا پھل ہے، اس میں زہر سے شفاء موجود ہے ۔(سنن ترمذی : 2066)

ايک روایت کے لفظ ہیں :

فِي عَجْوَةِ الْعَالِيَةِ أَوَّلَ الْبُكْرَةِ عَلَى رِيقِ النَّفْسِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ سِحْرٍ أَوْ سُمٍّ .

صبح کے اول وقت نہار منہ عجوہ كھانا ہر جادو یا زہر سے شفاء ہے ۔(مسند احمد : 24484)

7 مکھی کے ایک پر میں شفا ہے

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی معظم نے فرمایا :

إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ لِيَنْزِعْهُ فَإِنَّ فِي إِحْدَى جَنَاحَيْهِ دَاءً وَالْأُخْرَى شِفَاءً .

جب مکھی کسی کے پینے ( یا کھانے کی چیز ) میں پڑ جائے تو اسے ڈبو دے اور پھر نکال کر پھینک دے۔ کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہے جبکہدوسرے پر میں شفاء ہوتی ہے۔ (صحیح بخاری : 3320)

8 گائے کے دودھ میں شفا ہے

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے

عَلَيْكُم بِأَلْبَانِ الْبَقَرِ فَإِنَّهَا تَرُمُّ مِنْ كُلِّ شَجَرٍ ، وَهُوَ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ .

گائے كا دودھ لازم كر لو كیونكہ یہ ہر درخت سے چرتی ہے اور یہ دودھ ہر بیماری سے شفا ہے ۔(سلسلة الاحاديث الصحيحة : 1943)

9 پچھنا لگوانے میں شفا ہے

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی معظم نے فرمایا :

الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثَةٍ :‏‏‏‏ فِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ كَيَّةٍ بِنَارٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا أَنْهَى أُمَّتِي عَنِ الْكَيِّ .

تین چیزوں میں شفاء ہے ۔ پچھنا لگوانے میں، شہد پینے میں اور آگ سے داغنے میں مگر میں اپنی امت کو آگ سے داغنے سے منع کرتا ہوں۔ (صحیح بخاری : 5681)

ایک روایت کے لفظ ہیں :

مَنِ احْتَجَمَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَتِسْعَ عَشْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ  .

جو سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو پچھنا لگوائے تو اسے ہر بیماری سے شفاء ہو گی ۔ (سنن ابی داؤد : 3861)

0 عود ہندی میں شفا ہے

سیدہ ام قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے :

دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ عَلَى مَا تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ، ‏‏‏‏‏‏عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ:‏‏‏‏ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ، ‏‏‏‏‏‏يُسْعَطُ مِنَ الْعُذْرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ .

میں اپنے ایک لڑکے کو لے کر رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ میں نے اس کی ناک میں بتی ڈالی تھی، اس کا حلق دبایا تھا چونکہ اس کو گلے کی بیماری ہو گئی تھی آپ نے فرمایا : تم اپنے بچوں کو انگلی سے حلق دبا کر کیوں تکلیف دیتی ہو یہ عود ہندی لو اس میں سات بیماریوں کی شفاء ہے ان میں ایک ذات الجنب ( پسلی کا ورم بھی ہے ) اگر حلق کی بیماری ہو تو اس کو ناک میں ڈالو اگر ذات الجنب ہو تو حلق میں ڈالو ۔(صحیح بخاری : 5713)

! صدقہ میں شفا ہے

رسول اللہ کا فرمان ہے :

دَاوُوا مَرْضَاكُمْ بِالصَّدَقَةِ (صحیح الجامع : 3358)

اپنے مریضوں کا صدقہ سے علاج کرو ۔

قارئین کرام ! مندرجہ بالا حدیث اور صدقے سے شفا حاصل ہونے کے متعلق ممتاز اہل حدیث عالم شیخ عبدالمالک مجاہد اپنی کتاب ’’سنہرے اوراق‘‘ میں ایک حیرت انگیز واقعہ نقل کرتے ہیں جو ہم آپ کی دلچسپی کے لیے یہاں پیش کرتے ہیں شیخ حفظہ اللہ نقل کرتے ہیں : اس کا نام ڈاکٹر عیسی مرزوقی تھا ۔ شام کا رہنے والا عیسی پیشے کے اعتبار سے طبیب تھا اور دمشق کے ایک ہسپتال میں کام کرتا تھا ۔ اچانک اس کی طبیعت خراب ہوگئی اور اس کو ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ۔ چیک اپ کے دوران معلوم ہوا کہ اسے کینسر کا موذی مرض لگ گیا ہے ۔ اس کے ساتھی ڈاکٹروں نے علاج شروع کیا ۔ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے اس کیس پر پوری توجہ دی ۔

اس کی طبی رپوٹیں ان کے سامنے تھیں ، مرض مسلسل بڑھ رہا تھا ۔ بورڈ کی رائے کے مطابق وہ محض چند ہفتوں کا مہمان تھا ۔ ڈاکٹر عیسی خود نوجوان تھا ۔ اس کی ابھی شادی بھی نہیں ہوئی تھی ، تاہم منگنی ہو چکی تھی ۔ اس کی منگیتر سے لوگوں نے کہا : تمہیں منگنی توڑ دینی چاہیے ، کیونکہ تمہارا ہونے والا خاوند کینسر کا مریض ہے ۔ مگر اس نے سختی سے انکار کر دیا ۔ ڈاکٹر عیسی نے نبی کریم کی حدیث پڑھ رکھی تھی :

دَاوُوا مَرْضَاكُمْ بِالصَّدَقَةِ .

اپنے مریضوں کا علاج صدقہ سے کرو ۔

ایک دن وہ مایوسی کے عالم میں بیٹھا تھا کہ اسے اچانک مذکورہ حدیث یاد آ گئی ۔ وہ اس کے الفاظ پر غور کرتا رہا ، سوچتا رہا ، پھر اچانک اس نے سر ہلایا اور بول اٹھا : کیا یہ حدیث صحیح ہے ؟ اگر صحیح ہے تو پھر مجھے اپنے مرض کا علاج صدقے کے ذریعے ہی کرنا چاہیے ، کیونکہ دنیاوی علاج بہت کر چکا ہوں اور بہت ہو چکا ہے ۔

اس کو ایک ایسے گھرانے کا علم تھا جس کا سربراہ وفات پا چکا تھا اور نہایت کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے ۔ بیماری کے دوران اس کی جمع شدہ پونجی بھی خرچ ہو چکی تھی  تاہم جو معمولی رقم موجود تھی اس نے اپنے ایک قریبی دوست کی وساطت سے اس گھرانے کو ارسال کر دی ۔ ان پر سارے قصے کو واضح کر دیا کہ وہ اس صدقے کے ذریعے اپنے مرض کا علاج کرنا چاہتا ہے لہذا مریض کے لیے شفا کی دعا کریں ۔ چنانچہ اللہ کے رسول کی حدیث سچ ثابت ہوئی اور وہ بتدریج تندرست ہو گیا ۔

ایک دن وہ ڈاکٹروں کے بورڈ کے سامنے دوبارہ پیش ہوا۔ اس کے علاج پر مامور ڈاکٹر حیران و ششدر رہ گئے کہ اس کی رپوٹیں اس کی مکمل صحت یابی کا اعلان کر رہی تھیں۔ اس نے بورڈ کو بتایا کہ میں نے رسول اللہ کی ہدایت کے مطابق علاج کیا ہے ۔ وہ اب مکمل طور پر تندرست تھا ۔ اس نے ڈاکٹروں کو بتایا کہ بلاشبہ تقدیر پر یقین رکھتا ہوں اور اس کا یہ بھی مفہوم نہیں کہ ظاہری اسباب اختیار نہ کیے جائیں اور ڈاکٹروں سے بیماری کی صورت میں رجوع نہ کیا جائے ۔ مگر حدیث رسول درست ہے ۔ بلاشبہ ایک ایسی ذات موجود ہے جو بغیر کسی دوا کے بھی بیماروں کو صحت عطا کر سکتی ہے ۔

(ہفت روزہ المسلمون لنڈن شمارہ نمبر : 181)

۔۔۔

کیا”التحیات للہ والصلوات والطیبات..“ کے کلمات معراج کے موقع پر دیئے گئے؟

کیا”التحیات للہ والصلوات والطیبات..الخ“ کے کلمات معراج کے موقع پر دیئے گئے؟

مدثر احمد عفی عنہ

زمانہ ماضی کی نسبت دور حاضر میں ذرائع ابلاغ بہت ہی تیز ہیں ،ہر خبر ،ہر بات، ہر میسج،آناً فاناً دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتاہے اور پھیل جاتا ہےاور صرف تیز ہی نہیںبلکہ ہر فرد کے تصرف میں بھی ہیں۔

 اس صورت حال کے جہاں کچھ فوائد ہیں تو بہت سے نقصانات بھی ہیں،انہی میں سے ایک نقصان بلکہ سب سے بڑا نقصان ،جسکے مضر اثرات چند افراد تک محدود نہیں بلکہ لامتناہی ہیں،اور صرف دنیا کا نقصان نہیں بلکہ دنیا و آخرت دونوں کا نقصان ہے،وہ نقصان ،”جھوٹی احادیث کی بھرپور نشر و اشاعت“ہے۔

اگرچہ یہ مسلم حُکّام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اسکے روک تھام کے لئے قانون سازی کا راستہ اختیار کریں،اور قانون شکنوں کے ساتھ سختی سے پیش آئیں۔

تاکہ دین اسلام کے نام پر پھیلایا جانے والا جھوٹ نہ صرف پکڑا جائے،بلکہ اس مذموم عمل کی حوصلہ شکنی ہو،اور اس کے پیچھے پوشیدہ دشمنان اسلام کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیا جائے۔

لیکن چونکہ حکومتی سطح پر ایسا کوئی ایکشن دیکھنے کو نہیں ملتاتو اب تاریخ کےہر دور کی طرح اس دور میں بھی ”علماء حق“ کو یہ ذمہ داری نبھانی پڑیگی،حدیث رسول کے دفاع کا اس سے اچھا طریقہ دور حاضر میں شاید کوئی اور نہیں۔

وباللہ التوفیق وھو المستعان و علیہ وحدہ التکلان

سوشل میڈیا پر ایک میسج گردش کرتار ہتا ہے ،جس میں یہ کہا جاتا ہے کہ ”التحیات للہ والصلوات والطیبات… الخ“کے الفاظ معراج کے موقع پر آپ کو عطاء کئے گئے۔

اور عام طور پر علم حدیث سے شغف رکھنے والےبہت سے علماء کرام اور عوام الناس کی زبانی بھی یہی سننے کو ملا کہ یہ کلمات معراج کے موقع پر دیئے گئے۔

لہذاہم نے اس سلسلے میں حدیث رسول کی مشہور ومعروف کتب کا باریک بینی سے جائزہ لیا،بہت تلاش کے باوجودذخیرہ احادیث میں (صحت و ضعف سے قطع نظر)ایسی کوئی روایت نہ مل سکی،جسکے مطابق ”التحیات ..الخ“کے کلمات معراج کے موقع پر دیئےگئے ہوں۔

پھر کتب احادیث سے ہٹ کر جب ہر فن کی کتب میں تلاش شروع کی تو ایک روایت اور چند حوالے ملے،جن کے مطابق ”التحیات . . الخ“کے کلمات معراج کے موقع پر اس وقت عطاء کئے جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور رسول اللہ کی ایک دوسرے سے ملاقات ہوئی۔

لیکن جب اس روایت کی اسانید کو ملاحظہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ تو اندھیروں سے پُر ہیں،لہذا ذیل میں اس عنوان پر ہماری تحقیق ملاحظہ فرمائیں:

پہلی سند:

 احمد بن محمد بن ابراہيم الثعلبی، ابو اسحاق (المتوفیٰ: 427ھ)نے کہا:

روى الزهري عن ابی سلمة بن عبد الرحمن قال: سمعت جابر بن عبد الله يقول: قال رسول الله صلّى الله عليه وسلّم.

امام محمد بن مسلم بن عبداللہ بن شہاب زہری (متوفی:124ھ)نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن (متوفی: 94 یا104ھ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا:میں نے

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما (متوفی:70ھ)سے

سنا وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ نے فرمایا:

دوسری سند:

وحدّثنا أبو القاسم الحسن بن محمد بن جعفر (النیسابوری) قال: أخبرنا أبو علي الحسين بن محمد بن هارون الفرمی قال:أخبرنا أحمد بن محمد بن نصر اللبّاد النیسابوری قال: حدّثنا يوسف بن بلال السعدي قال: حدّثنا محمد بن مروان السدّي عن محمد بن السائب الكلبي  عن أبي صالح عن ابن عباس (رضي الله عنه)

ہمیں بیان کیا ابو القاسم الحسن بن محمد بن جعفر نے انہوں نے کہا:ہمیں خبر دی ابو علی الحسین بن محمد بن ہارون نے انہوں نے کہا:ہمیں خبر دی احمد بن محمد بن نصر اللباد نے انہوں نے کہا:ہمیں بیان کیا یوسف بن بلال السعدی نے انہوں نے کہا کہ:ہمیں بیان کیا محمد بن مروان السدی نےاور السدی(محمد بن مروان السدی، المتوفیٰ: 181 یا 190 ھ) نے روایت کی، محمد بن السائب الکلبی (المتوفیٰ:146ھ)سے، انہوں نے روایت کی باذان ابو صالح ، مولیٰ ام ہانی (المتوفیٰ:150ھ)سے،انہوں نے روایت کی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما (المتوفیٰ: 68ھ)سے،انہوں نے روایت کی نبی سے :

تنبیہ:

مذکورہ دونوں سندیں بیان کرنے کے بعد اور متن بیان کرنے سے پہلے ثعلبی نے ان سندوں سے مروی متن کے متعلق کہا:

ثعلبی کا تبصرہ:

دخل كلام بعضهم في بعض قالوا:

’’ان (رواۃ)میں سے کچھ کا کلام بعض دیگر(رواۃ)کے کلام میں شامل ہوگیا ہے۔‘‘

متن:

لما رأيت العرش، اتضع عندي كل شيء، فقربني الله وأدناني إلى سند العرش، ووقعت على لساني قطرة من العرش فما ذاق الذائقون أحلى منها، فأنبأني الله نبأ الأولين والآخرين، وأطلق الله لساني بعد ما كَلَّ من هيبة الرحمن، فقلت: التحيات لله والصلوات الطيبات، فقال الله: سلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته فقلت: السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين…….الخ

جب میں نے عرش باری تعالیٰ دیکھا تو ہر شے میرے لئے حقیر ہوگئی ، پس اللہ نے مجھے عرش کے پائے تک قریب کیا اور میری زبان پر عرش سے ایک قطرہ ٹپکا ، کسی بھی چکھنے والے نے اس سے شیریں کبھی نہیں چکھا،پس اللہ نے مجھے پہلوں اور پچھلوں کی خبریں دیں، اور اللہ نے میری زبان رواں کردی جبکہ وہ رحمٰن کی ہیبت سے بوجھل ہوچکی تھی،پس میں نے کہا:(التحیات للہ والصلوات والطیبات )تمام زبانی تعریفات اور جسمانی عبادات اور مالی صدقات اللہ کے لئے ہی ہیں،تواللہ نے کہا:(سلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ) سلامتی ہو تجھ پر اے نبی اور اللہ کی رحمت اور اسکی برکتیں،تو میں نےکہا: السلام علینا و علیٰ عباد اللہ الصالحین. ..الخ)سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر….۔

حوالہ و تخریج و تاریخ:

1-اسے سب سے پہلے مفسر قرآن علامہ احمد بن محمد بن ابراہيم الثعلبی، ابو اسحاق (المتوفیٰ: 427ھ)نے اپنی تفسیر ”الکشف والبيان عن تفسير القرآن“ (6/55 56)میں ذکر کیا،اور اسے امام زہری (المتوفیٰ: 242ھ) اور السدی(المتوفیٰ:181یا 190ھ) کی جانب منسوب کیا،لیکن ان میں سے زہری تک اپنی سند بیان نہیں کی ، نہ ہی کسی محدث کی کتاب کا حوالہ دیا،لہذا وہ منقطع ہے جبکہ السدی تک اپنی سند بیان کی ہے،لیکن وہ ضعفاء سے پر ہے۔

2-نیز علامہ ابو القاسم عبد الرحمن بن عبد الله بن احمد السہيلی (المتوفیٰ: 581هھـ)نے اپنی کتاب ”الروض الانف في شرح السيرۃ النبويۃ لابن هشام“ (4/186) میں کہا کہ:

رُوِيَ أَيْضًا أَنّهُ مَرّ وَهُوَ عَلَى الْبُرَاقِ بِمَلَائِكَةِ قِيَامٍ وَمَلَائِكَةٍ رُكُوعٍ وَمَلَائِكَةٍ سُجُودٍ وَمَلَائِكَةٍ جُلُوسٍ وَالْكُلّ يُصَلّونَ لِلّهِ فَجُمِعَتْ لَهُ هَذِهِ الْأَحْوَالُ فِي صَلَاتِهِ وَحِينَ مَثَلَ بِالْمَقَامِ الْأَعْلَى، وَدَنَا فَتَدَلّى أُلْهِمَ أَنْ يَقُولَ التّحِيّاتُ لِلّهِ إلَى قَوْلِهِ الصّلَوَاتُ لِلّهِ فَقَالَتْ الْمَلَائِكَةُ السّلَامُ عَلَيْك أَيّهَا النّبِيّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ فَقَالَ السّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصّالِحِينَ فَقَالَتْ الْمَلَائِكَةُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إلَهَ إلّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنّ مُحَمّدًا رَسُولُ اللهِ .

روایت کی گئی ہے کہ نبی  اکرم براق پر سوار ہوکر فرشتوں کے پاس سے گذرے،جن میں سے کچھ قیام میں تھے کچھ رکوع میں کچھ سجود میں کچھ بیٹھے تھے اور سب ہی نماز میں مشغول تھے ، پس یہ تمام حالتیں آپ کی نماز میں شامل کردی گئیںاور جب آپ مقام اعلیٰ پر پہنچے اور قریب ہوئے تو آپ پر وحی کی گئی کہ آپ اس طرح کہیں:”التحیات للہ ..الخ“تو فرشتوں نے کہا:السلام علیک ایھا النبی ..الخ“تو آپ نے کہا:”السلام علینا و علیٰ …الخ“تو فرشتوں نے کہا:”اشھد ان لا الہ الا اللہ..الخ“۔

3-اسکے بعد اسے امام ابو الحسن علی بن ابی الکرم محمد بن محمد بن عبد الکريم بن عبد الواحد الشيبانی الجزری، عز الدين ابن الاثير (المتوفیٰ: 630هھ)نے اپنی کتاب” الکامل فی التاریخ“(1/652653)میں ذکر کیا،اور اسےکسی کی جانب منسوب نہیںکیا،بلکہ صرف اتنا کہا کہ:

وَقَدْ رَوَى حَدِيثَ الْمِعْرَاجِ جَمَاعَةٌ مِنَ الصَّحَابَةِ بِأَسَانِيدَ صَحِيحَةٍ.

بہت سے صحابہ نے معراج کی حدیث روایت کی ہےصحیح سندوں کے ساتھ۔

لیکن نہ تو وہ اسانید ذکر کیں جنہیں وہ صحیح قرار دے رہے ہیں نہ ہی صحابہ کرام کے نام لئے کے جن سے واقعہ معراج منقول ہے ، نہ ہی کسی محدث کا حوالہ دیا کہ فلاں محدث نے یہ روایت نقل کی ہے۔

اس کے بعد واقعہ معراج بیان کرتے ہوئےانہوں نےیہ الفاظ ذکر کئے:

فَلَمْ أَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى وَصَلْتُ إِلَى الْعَرْشِ، فَاتَّضَحَ كُلُّ شَيْءٍ عِنْدَ الْعَرْشِ، وَكَلَّ لِسَانِي مِنْ هَيْبَةِ الرَّحْمَنِ، ثُمَّ أَنْطَقَ اللَّهُ لِسَانِي فَقُلْتُ: التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ وَالصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، وَفَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ وَعَلَى أُمَّتِي فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَمْسِينَ صَلَاةً. وَرَجَعْتُ إِلَى جِبْرَائِيلَ..

میں عرش تک پہنچا تو عرش کے پاس ہر شے واضح ہوگئی اور میری زبان رحمٰن کی ہیبت سے بوجھل ہوچکی تھی پھر اللہ نے میری زبان جاری کی تو میں نے کہا:”التحیات المبارکات والصلوات الطیبات للہ“اور اللہ نے مجھ پر اور میری امت پر ہر دن و رات میں پانچ نمازیں فرض کیں،اور میں جبریل کے پاس لوٹ آیا۔

4-اسکے بعد اسے امام شمس الدين ابو المظفر يوسف بن قِزْأُوغلی بن عبد الله المعروف بـسبط ابن الجوزی (المتوفیٰ: 654 ھـ)نے اپنی کتاب ”مرآۃ الزمان فی تواریخ الاعیان“(3/140)میں ذکر کیا اور اسےثعلبی کی جانب منسوب کیا۔

5-اسکے بعد اسے امام  جمال الدين السرمری (المتوفیٰ:776ھ)نے اپنی کتاب ”خصائص سيد العالمين وما لہ من المناقب العجائب علی جميع الانبياء عليہم السلام“(ص:525)میں ذکر کیا اور اسے ثعلبی کی جانب منسوب کرتے ہوئے کہا:

وقد رواه الإمام أبو إسحاق الثّعلبي في تفسيره وساق طرقه ولخّص المتن تلخيصاً حسناً أدخل حديث بعض الرواة في بعض.

اسے امام ابو اسحاق الثعلبی نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے، اور انہوں نے اسکے مختلف طرق بھی بیان کئے ہیں،اور متن کی خوبصورت تلخیص کی ہے،اور بعض رواۃ کی حدیث کو دیگر بعض رواۃ کی حدیث میں داخل کردیا ہے۔

6-امام محمد بن عبد اللطيف بن عبد العزيز، ابن فرشتا، المعروف بابن الملک الکرمانی (المتوفیٰ: 854 ھـ)نے اپنی کتاب ”شرح مصابيح السنۃ للامام البغوی“ (2/24،رقم:644)میںکہا:

رُوي: أن النبي صلى الله تعالى عليه وسلم لمَّا عرج إلى السماء أَثْنَى على الله بهذه الكلمات، فقال الله تعالى: السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، فقال عليه الصلاة والسلام: “السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين”، فقال جبرائيل: أشهد أن لا إله إلا الله. . . إلخ.

روایت کی گئی ہے کہ نبی کو جب معراج کروائی گئی تو آپ نے ان کلمات کے ساتھ اللہ کی ثناء بیان کی،”التحیات للہ …الخ“تو اسکے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:،”السلام علیک ایھا النبی ….الخ“پھر جبریل نے کہا:”اشھد ان لا الہ الا اللہ…الخ“۔

7-عبد الرحمن بن عبد السلام بن عبد الرحمن بن عثمان الصفوري الشافعي(المتوفیٰ:894 ھ)نے اپنی کتاب ”نزہۃ المجالس ومنتخب النفائس“ (2/117)میں کہا:

قال العلائي…..وقلت التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله فقال السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته فقلت السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين فقال جبريل أشهد أن إله إلا الله وأشهد أن محمد رسول الله.

صلاح الدین العلائی(المتوفیٰ:761ھ)نے کہاکہ:نبی نے فرمایا:میں نے کہا:التحیات المبارکات الوصلوات الطیبات للہ“تو اللہ تعالیٰ نے کہا:”السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ“ تو میں نے کہا:”السلام علینا و علی عباد الللہ الصالحین“ تو جبریل نے کہا:”اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ“۔

8-ملا علی القاری الہروی (المتوفیٰ:1014ھ)نے اپنی کتاب ”شرح الشفا“(1/347)میں کہا:

كما روي أنه صلى الله تعالى عليه وسلم ليلة الإسراء لما وصل إلى مقام الانتهاء وقال التحيات لله والصلوات والطيبات وبالغ في الثناء قال الله تعالى السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ فأجابه صلى الله تعالى عليه وسلم بقوله اللهم أنت السلام ومنك السلام وإليك يرجع السلام السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين فقالت الملائكة أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله.

جیسا کہ روایت کی گئی ہے کہ نبی شب معراج جب مقام انتہاء کو پہنچے تو کہا:التحیات للہ ..الخ“اور خوب ثناء بیان کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”السلام علیک..الخ“تو نبی نے اسکے جواب میں کہا: السلام علینا …الخ“تو فرشتوں نے کہا:”اشھد ان لا الہ الا اللہ …الخ“۔

تحقیق:

سند و متن دونوں اعتبار سے یہ روایت موضوع و من گھڑت ہے۔

سند کے اعتبار سےپہلی سند کی تحقیق:

ثعلبی سے پہلے اسے کسی نے ذکر نہیں کیا ، اور ثعلبی کے بعد اسے جس نے بھی ذکر کیا اس نے اسے ثعلبی کی جانب ہی منسوب کیا،یا کسی کی بھی جانب منسوب نہیں کیا۔

نیزہم نے اس روایت کے جسقدر مخرجین کے نام ذکر کئے ہیں ان میں سے ثعلبی کے علاوہ کسی نے بھی اسکی سند ذکر نہیں کی۔

اسکی پہلی علت:

ثعلبی نے اسکی دو سندیں ذکر کی ہیں،پہلی سند امام زہری سے شروع ہوتی ہے جنکی وفات 242 ہجری ہےجبکہ خود ثعلبی کی وفات427 ہجری ہے،جبکہ اسکا سن پیدائش معلوم نہ ہوسکا،اگر ہم ثعلبی کی عمر120 سال فرض کرلیں تو سن پیدائش 307 ہجری بنتا ہے،اس حساب سے ثعلبی اور امام زہری کے درمیان تقریباً 70 سال کا فرق آجاتا ہے،جبکہ درمیان کی سند غائب ہے۔

ثعلبی نے اپنی تفسیر میں روایت حدیث کا جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی تفسیر کے آغاز میں ہی اپنی تمام اسانید ذکر کردی ہیں ، پھر پوری تفسیر میں ان اسانید کی جانب اشارے دیئے ہیں  اور جن روایات کی اسانید شروع میں ذکر نہیں کیں،انکے مخرجین کا نام لےدیا ہے،یا اسی مقام پر مکمل سند ذکر کردی ہے۔

لیکن ہماری زیر بحث روایت کی جانب فقط اشارہ کیا کہ اسے امام زہری نے روایت کیا ہے،اور آگے کی سند ذکرکردی لیکن امام زہری تک اپنی سند ذکر نہیں کی،جبکہ دیگر بہت سے مقامات پر زہری تک اپنی اسانید ذکر کی ہیں۔

اسکی دوسری علت:

ثعلبی نے مختلف رواۃ کی احادیث کو خلط ملط کردیا ہے ، جیسا کہ خودثعلبی نے روایت سے پہلے کہا،اور علامہ جمال الدین السرمری نے ثعلبی کے اس بیان کی وضاحت میں کہا،لہذا یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ ”التحیات للہ … الخ“والے الفاظ کس روایت کے ہیں،اسکی سند کونسی ہے،جو دو اسانید انہوں نے ذکر کی ہیں انہی میں سے کوئی ایک سند ہے یا ان میں سے کوئی بھی ان الفاظ کی سندنہیں بلکہ ان دو کے علاوہ کوئی اور ہی سند ہے جو ثعلبی نے سرے سے ذکر ہی نہیں کی۔

دوسری سند کی تحقیق:

ثعلبی نے جس جگہ متن نقل کیا ہے وہاں سند کی جانب محض اشارہ کیا ہے کہ ”روی السدی عن محمّد بن السائب عن باذان عن ابن عبّاس عن النبي صلّی الله عليہ وسلّم“لیکن  اپنی تفسیر کے شروع میں اسکی مکمل سند ذکر کی ہے جو ہم نقل کرآئے ہیں،ثعلبی کی بیان کردہ یہ سند بھی مجاہیل اور ضعفاء سے پر ہے،لہذا ،یہ سند ہی اس روایت کے من گھڑت ہونے کی کافی دلیل ہے،اختصار کے پیش نظر ہم صرف اسکی تین علتیں بیان کریں گے۔

اسکی پہلی علت:

محمد بن مروان السدی  (المتوفیٰ:186ھ)ہے، اسکے متعلق ائمہ جرح و تعدیل کے اقوال ملاحظہ ہوں:

 جریر بن عبدالحمید نے کہا:کذاب

یحیی بن معین نے کہا:لیس بشیء یعنی کچھ بھی نہیں ہے۔

محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا :کچھ بھی نہیں ہے۔

یعقوب بن سفیان الفارسی نے کہا:ضعیف ہے ، غیر ثقہ ہے۔

صالح بن محمد الحافظ البغدادی نے کہا:ضعیف ہے ، حدیث گڑھتا تھا۔

ابو حاتم الرازی نے کہا:ذاہب الحدیث ہے،متروک الحدیث ہے،اسکی حدیث بالکل نہ لکھی جائے۔

بخاری نے کہا:اسکی حدیث بالکل نہیںلکھی جائے۔

نسائی نے کہا:متروک الحدیث،ثقہ نہیں ہے،نہ ہی اسکی حدیث لکھی جائے۔(تہذیب الکمال :26/393)

یہ جرح صرف ایک جھلک ہے،اگر مزید نقل کیا جائے تو اسکے لئے کئی صفحات درکار ہیں۔

دوسری علت:

 محمد بن السائب الکلبی(المتوفیٰ:246ھ) سلیمان بن طرخان نے کہا:کوفہ میں دو جھوٹے تھے،ان میں سے ایک الکلبی ہے۔

لیث بن ابی سلیم نے کہا:کوفہ میں دو کذاب تھے ،کلبی اور سدی یعنی محمد بن مروان۔

یحیی بن معین نے کہا:کچھ بھی نہیں ہے،ضعیف ہے۔

بقول سفیان الثوری خود کلبی نے کہا:میں نے جو بھی ابو صالح عن ابن عباس روایت کیا وہ جھوٹ ہے تم اسے روایت نہ کرو۔

قرۃ بن خالد نے کہا:وہ(یعنی ائمہ جرح و تعدیل)کہتے تھے کہ کلبی جھوٹ کہتا ہے۔

ابو حاتم نے کہا:سب لوگ اسکی حدیث کو  ترک کردینے پر متفق ہیں ، اس کے ساتھ مشغول نہ ہوا جائے ،ذاہب الحدیث ہے۔(تہذیب الکمال :25/248)

یہ بھی اس پر جرح کی صرف جھلک ہے مکمل جرح کے لئے کئی صفحات درکار ہیں۔

اسکی تیسری علت:

ابو صالح مولیٰ ام ہانی ہے ، جسے باذان لکھا جاتا ہے ، کبھی باذام اور کبھی ذکوان۔(تہذیب الکمال :4/6”نیز“33/423)

امام حمد نے کہا:ابن مہدی نے ابو صالح کی حدیث کو ترک کردیا تھا۔

یحیی بن معین نے کہا:اس میں کوئی حرج نہیں، اور جب اس سے کلبی روایت کرے تو وہ کچھ بھی نہیں۔

ابو حاتم نے کہا: اسکی حدیث لکھی جائے لیکن اس سے دلیل نہ لی جائے۔

نسائی نے کہا:ثقہ نہیں ہے۔

ابن عدی نے کہا:عام طور پر تفسیر روایت کرتا ہے،اور اسکی مرفوع روایات بہت کم ہیں،ابن ابی خالد نے اس سے ایک جزء کے بقدر تفسیر روایت کی ہے،جس پر دیگر مفسرین نے اسکی متابعت نہیں کی، نہ ہی میں متقدمین میں سے کسی کو جانتا ہوں جو اس سے راضی ہو۔(تہذیب الکمال:4/7)

علی بن مسہر نے ابوجناب سے نقل کرتے ہوئے کہا:ابو صالح نے قسم اٹھا کر کہا کہ میں نے کلبی پر ذرہ بھی تفسیر نہیں پڑھی۔(الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم:7/271)

اس روایت کے متعلق علماء کرام کے تبصرے:

بقول علامہ سیوطی حافظ ابن حجر نے اپنی کتاب ”اسباب النزول“(1/209210)میں (السدی عن الکلبی عن ابی صالح عن ابن عباس)اس سند پر تبصرہ کرتے ہوئےکہا:

أبو صالح ضعيف والكلبي متّهم، ومحمد بن مروان السدّي الصغير كذّاب ..قال: وهذا الإسناد سلسلة الكذب لا سلسلة الذهب.

ابو صالح ضعیف ہے،اور کلبی متہم ہے اور محمد بن مروان السدی الصغیر کذاب ہے ..اور یہ سلسلہ کذب ہے نہ کہ سلسلہ ذہب۔(الزیادات علی الموضوعات للسیوطی:2/767 تدریب الراوی:1/198)

نیز خود علامہ سیوطی نے اس سند کو” اوھیٰ الاسانید “یعنی سب سے کمزور سند قرقر دیا ہے۔(ایضاً)

نیز علامہ زین الدین المناوی نے بھی اسے سب سے کمزور سند قرار دیا ہے۔(اليواقيت والدرر فی شرح نخبۃ ابن حجر:2/62)

علامہ انور شاہ کشمیری نے کہا:

وذكر بعض الأحناف قال رسول الله – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – في ليلة الإسراء: التحيات لله إلخ، قال الله تعالى: السلام عليك أيها النبي إلخ، قال رسول الله – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: السلام علينا وعلى عباد: الله، إلخ، ولكني لم أجد سند هذه الرواية.

بعض احناف نے ذکر کیا کہ رسول اللہ نے شب معراج میں کہا:”التحیات للہ ..الخ“تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”السلام علیک ..الخ“تو رسول اللہ نے کہا:السلام علینا وعلی عبا اللہ ..الخ“لیکن مجھے اس روایت کی سند نہیں مل سکی ۔(العَرف الشذي شرح سنن الترمذي:1/283)

التحیات ….کے کلمات کا صحیح پس منظر

صحیح ترین روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ التحیات کے کلمات رسول اللہ نے صحابہ کرام کو اسوقت سکھائے جب آپ نے دیکھا کہ وہ نماز کے دوران فرشتوں کا نام لے کر ان پر سلام پڑھتے ہیں اور ساتھ ہی ”السلام علی اللہ“یعنی ”اللہ تعالیٰ پر سلامتی ہو“بھی کہتے ہیں تو آپ نے ان کی اصلاح کی اور انہیں التحیات سکھائی،چنانچہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا:

كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلاَمُ عَلَى اللَّهِ قَبْلَ عِبَادِهِ، السَّلاَمُ عَلَى جِبْرِيلَ، السَّلاَمُ عَلَى مِيكَائِيلَ، السَّلاَمُ عَلَى فُلاَنٍ وَفُلاَنٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ”إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلاَمُ، فَإِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاَةِ فَلْيَقُلْ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ، وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، فَإِنَّهُ إِذَا قَالَ ذَلِكَ أَصَابَ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَتَخَيَّرْ بَعْدُ مِنَ الكَلاَمِ مَا شَاءَ “

جب ہم نبی کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم اس طرح کہتے تھے:اللہ پر سلام ہواسکے بندوں سے پہلے،جبریل پر سلام ہو،میکائیل پر سلام ہو ، فلاں ،فلاں پر سلام ہو،پھر جب نبی نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ہماری جانب متوجہ ہوکر فرمانے لگے:اللہ خود سلام ہے،جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھا ہو تو اس طرح کہے:”التحیات للہالصالحین“جب وہ اس طرح کہے گا تو اس نے آسمان و زمین میں موجود ہر نیک بندے پر سلام بھیج دیا،”اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ“پھر وہ جو چاہے دعا کرے۔(صحیح بخاری:6230)

ایک روایت میں مزید صراحت ہے کہ التحیات کے الفاظ کس موقع پر پڑھنے ہیں ،چنانچہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا:

كُنَّا لَا نَدْرِي مَا نَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ غَيْرَ أَنْ نُسَبِّحَ وَنُكَبِّرَ وَنَحْمَدَ رَبَّنَا، وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَخَوَاتِمَهُ، فَقَالَ: ” إِذَا قَعَدْتُمْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، فَقُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَلْيَتَخَيَّرْ أَحَدُكُمْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَلْيَدْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ .

ہم نہیں جانتے تھے کہ ہر دورکعات میں ہم کیا کہیں سوائے اس کے کہ ہم اپنے رب کی تسبیح و تکبیر اور حمد بیان کرتے تھے،اور محمد کو خیر کی کنجیاں اور خیر کے بند عطفا کئے گئے ،تو آپ نے فرمایا:جب تم دو رکعت پڑھ کر بیٹھو تو اس طرح کہو:”التحیات للہ …….ورسولہ“اور جو دعا اسے پسند ہو اللہ عز و جل سے وہی دعا کرے۔(سنن نسائی:1163،علامہ البانی نے اسے صحیح کہا)

نیز ایک حدیث میں اس بات کی بھی صراحت ہے کہ تشہد میں بیٹھنے کے بعد سب سے پہلے التحیات …الخ کے کلمات پڑھنے ہیں ، چنانچہ سیدنا ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ:

إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا. فَقَالَ: ” إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثُمَّ لْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذْ قَالَ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} فَقُولُوا: آمِينَ، يُجِبْكُمُ اللهُ فَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ، وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ “، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” فَتِلْكَ بِتِلْكَ وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعُ اللهُ لَكُمْ، فَإِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ ” فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” فَتِلْكَ بِتِلْكَ، وَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ.

رسول اللہ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا،پس آپ نے ہمیں ہماری نماز کی ترکیب کی تعلیم دی،ارشاد فرمایا:جب تم نماز پڑھنا چاہو تو اپنی صفیں باندھ لو پھر ایک شخص تمہاری امامت کروائے،جب وہ تکبیر کہہ دے پھر تم تکبیر کہو،اور جب وہ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین کہے تو تم آمین کہو،اللہ تمہاری دعا قبول کرے گا،پھر جب وہ تکبیر کہے اور رکوع میں جائے تو پھر تم تکبیر کہو اور رکوع میں جاؤ،کیونکہ امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا،اور تم سے پہلے اٹھے گا،پس رسول اللہ نے فرمایا:یہ اس کے بدلے ہے،اور جب وہ کہے :سمع اللہ لمن حمدہ، تو تم کہو:ربنا ولک الحمد،اور جب وہ تکبیر کہے اور سجدے میں چلا جائے پھر تم تکبیر کہو اور سجدے میں جاؤ،کیونکہ امام تم سے پہلے سجدے میں جائے گا اور تم سے پہلے اٹھے گا،پس رسول اللہ نے فرمایا:اور جب وہ قعدہ میں بیٹھا ہو تو سب سے پہلے تم یہ کہو :التحیات للہ….رسولہ۔(صحیح مسلم،باب التشہد فی الصلاۃ)

نیز رسول اللہ وقتاً فوقتاً ان کلمات کی باقاعدہ تعلیم دیا کرتے تھےجیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ:

كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ فَكَانَ يَقُولُ: التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ، الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ.

رسول اللہ ہمیں تشہد سکھاتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی کوئی سورت سکھاتے ،آپ فرماتے:

التحیات للہ … رسول اللہ۔(صحیح مسلم،باب التشہد فی الصلاۃ)

معراج کے موقع پر کیا کچھ عطاء کیا گیا؟

نبی کریم کو جب معراج پر لے جایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت سی کرامتوں سے نوازا جن کا شمار  ناممکن ہے،لیکن اللہ تعالیٰ نے آپکو آپ کی امت کے لئے جو تحفے دیئے انکی فہرست درج ذیل ہے:

1-ہر دن و رات میں پانچ نمازیں فرض کی گئیں۔

2-ہر ایک نماز کا ثواب کم ازکم دس گنا رکھا گیا۔

3-سورۃ البقرۃ کی آخری آیات میں جو مناجات ہیں انہیں قبول کرلیا گیا۔

4-جس شخص کا خاتمہ شرک سے برائت پر اور عقیدہ توحید پر ہوا اسکی بخشش کا وعدہ کیا گیا۔

5-نیکی کا ہر ارادہ بھی ایک نیکی لکھا جائے گا۔

6-ہر نیکی کا اجر کم از کم دس گنا دینے کا وعدہ کیا۔

7-گناہ کا ہر ارادہ گناہ نہیں لکھا جائے گا۔

8-ہر گناہ صرف ایک گناہ ہی لکھا جائے گا۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا:

فَأُعْطِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا: أُعْطِيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وَأُعْطِيَ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، وَغُفِرَ لِمَنْ لَمْ يُشْرِكْ بِاللهِ مِنْ أُمَّتِهِ شَيْئًا، الْمُقْحِمَاتُ.

پس رسول اللہ کو تین چیزیں دی گئیں:پانچ نمازیں دی گئیں،اور سورۃ البقرۃ کی آخری آیات دی گئیں، اور آپ کی امت کے ہر اس شخص کے کبیرہ گناہوں کی بخشش کردی گئی جس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا۔(صحیح مسلم)

نیز سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا ،کہ رسول اللہ نمازوں میں تخفیف کے لئے اللہ عَزَّ وَ جَلَّ کے پا س آتے جاتے رہے ،چنانچہ آپ نے ارشاد فرمایا:

فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَيْنَ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَبَيْنَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّهُنَّ خَمْسُ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، لِكُلِّ صَلَاةٍ عَشْرٌ، فَذَلِكَ خَمْسُونَ صَلَاةً، وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ شَيْئًا، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً وَاحِدَةً.

میں مسلسل اپنے رب تبارک و تعالیٰ اور موسی علیہ السلام کے درمیان آتا جاتا رہا حتی کہ اللہ نے فرمایا:اے محمد ، ہر دن و رات میں یہ نمازیں پانچ ہیں ، اور ہر نماز کے بدلے دس نمازیں ہیں ، پس یہ پچاس نمازیں ہوئیں ،اور جو کسی نیکی کا ارادہ کرے گا لیکن اس پر عمل نہیں کرے گا تواسکی ایک نیکی لکھی جائیگی ، پھر اگر وہ اس پر عمل کرلیتا ہے تو اسکی دس نیکیاں لکھی جائیں گی ، اور جو کسی گناہ کا ارادہ کرے گا لیکن اس پر عمل نہیں کرے گا اسکا کوئی گناہ نہیں لکھا جائے گا ،پھر اگر وہ اس پر عمل کرلیتا ہے تو اسکا صرف ایک گناہ لکھا جائے گا۔(صحیح مسلم،باب الاسراء برسول اللہ و فرض الصلوات)

۔۔۔

پتھروں سے استنجاء کرنے کا بیان

21155– حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو الْمَكِّيُّ عَنْ جَدِّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ اتَّبَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجَ لِحَاجَتِهِ فَكَانَ لَا يَلْتَفِتُ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقَالَ ابْغِنِي أَحْجَارًا أَسْتَنْفِضْ بِهَا أَوْ نَحْوَهُ وَلَا تَأْتِنِي بِعَظْمٍ وَلَا رَوْثٍ فَأَتَيْتُهُ بِأَحْجَارٍ بِطَرَفِ ثِيَابِي فَوَضَعْتُهَا إِلَى جَنْبِهِ وَأَعْرَضْتُ عَنْهُ فَلَمَّا قَضَى أَتْبَعَهُ بِهِنَّ .

احمد بن محمد مکی، عمرو بن یحیی بن سعید بن عمرو مکی، سعید بن عمرو، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دن نبی کریم قضائے حاجت کے لیے باہر گئے تو میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا۔ آپ (کی عادت مبارکہ تھی کہ چلتے وقت) دائیں بائیں نہ دیکھتے تھے۔ جب میں آپ کے قریب پہنچا تو آپ نے فرمایا: “مجھے ڈھیلے تلاش کر دو، میں ان سے استنجا کروں گا ۔۔ یا اس کی مثل کوئی اور لفظ استعمال فرمایا  ۔۔ لیکن ہڈی اور گوبر نہ لانا۔” چنانچہ میں اپنے کپڑے کے کنارے میں کئی ڈھیلے لے کر آیا اور انہیں آپ کے پاس رکھ دیا اور خود ایک طرف ہٹ گیا۔ پھر جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو ڈھیلوں سے استنجا فرمایا۔

Narrated Abu Hurairah: I followed the Prophet while he was going out to answer the call of nature. He used not to look this way or that. So, when I approached near him he said to me, “Fetch for me some stones for ‘ cleaning the privates parts (or said something similar), and do not bring a bone or a piece of dung.” So I brought the stones in the corner of my garment and placed them by his side and I then went away from him. When he finished (from answering the call of nature) he used, them.

وروي بسند آخرحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي جَدِّي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِي اللَّه عَنْه أَنَّهُ كَانَ يَحْمِلُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِدَاوَةً لِوَضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ فَبَيْنَمَا هُوَ يَتْبَعُهُ بِهَا فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقَالَ أَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ ابْغِنِي أَحْجَارًا أَسْتَنْفِضْ بِهَا وَلَا تَأْتِنِي بِعَظْمٍ وَلَا بِرَوْثَةٍ فَأَتَيْتُهُ بِأَحْجَارٍ أَحْمِلُهَا فِي طَرَفِ ثَوْبِي حَتَّى وَضَعْتُهَا إِلَى جَنْبِهِ ثُمَّ انْصَرَفْتُ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مَشَيْتُ فَقُلْتُ مَا بَالُ الْعَظْمِ وَالرَّوْثَةِ قَالَ هُمَا مِنْ طَعَامِ الْجِنِّ وَإِنَّهُ أَتَانِي وَفْدُ جِنِّ نَصِيبِينَ وَنِعْمَ الْجِنُّ فَسَأَلُونِي الزَّادَ فَدَعَوْتُ اللَّهَ لَهُمْ أَنْ لَا يَمُرُّوا بِعَظْمٍ وَلَا بِرَوْثَةٍ إِلَّا وَجَدُوا عَلَيْهَا طَعَامًا   (رقمه  : 3860 )

شرح الکلمات : 

اتَّبَعْتُ

میں پیچھے چلا

لَا يَلْتَفِتُ

وه ادھر اُدھر توجہ نہیں کرتے تھے

فَدَنَوْتُ

میں قریب ہوا

ابْغِنِي

میرے لیے تلاش کرو

أَسْتَنْفِضْ

میں پاکی حاصل کروں

عَظْم

ہڈی 

رَوْثٍ

گوبر

بِطَرَفِ ثِيَابِي

میرے کپڑے کا کنارہ

فَوَضَعْتُ

میں نے رکھ دیا

جَنْبِهِ

اس کا پہلو

أَعْرَضْتُ

میں ہٹ گیا

قَضَى

اس نے حاجت پوری کی

أَتْبَعَهُ

 اس کے بعد (پتھروں سے) انہوں نے استنجاء کیا

تراجم الرواۃ : 

نام ونسب : احمد بن محمد بن الولید بن عقبۃ بن الأزرق بن عمرو بن الحارث بن أبی شمر الفسانی الأزرقی المکی

کنیت : ابو الولید

محدثین کے ہاں رتبہ : امام ابو حاتم رازی اور ابو عوانہ وابن حجر والذہبی کے ہاں ثقہ تھے۔

وفات : 222 ہجری کو فوت ہوئے ۔

نام ونسب : عمرو بن یحیی بن سعید بن عمرو بن سعید بن العاص القرشی الاموی

کنیت : ابو امیۃ السعیدی المکی

محدثین کے ہاں رتبہ : امام دارقطنی وابن حجر کے ہاں ثقہ جبکہ امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ابن معین کے ہاں صالح تھے۔

نام ونسب : جدہ یعنی سعید بن عمرو بن سعید بن العاص بن امیۃ القرشی الأموی الدمشقی الکوفی

کنیت : ابو عثمان جبکہ بعض کے ہاں ابو عنبسہ تھی۔

محدثین کے ہاں رتبہ :امام ابن حجر کے ہاں ثقہ تھے۔

وفات : 120 ہجری میں وفات پائی۔

نام ونسب : ابو ھریرہ عبد الرحمٰن رضی اللہ عنہ بن عامر بن عبد ذی الشّریٰ بن طریف بن غیاث بن ھنیہ بن سعد بن ثعلبہ بن سلیم بن فہم بن غنم بن دوس

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا نام راجح قول کے مطابق عبد الرحمن بن صخر ہے ۔

کنیت: ”ابوہریرہ“ آپ کی کنیت ہے اور ”ابوہریرہ“ کنیت رکھنے کی و جہ یہ ہے کہ ان کے پاس ایک بلی تھی جس کو وہ اپنے ساتھ رکھتے تھے اسی لیے آپ کی کنیت ابوہریرہ پڑگئی، واضح رہے کہ جس طرح ”اب“ کے معنی باپ کے آتے ہیں اسی طرح ”والے“ ”والا“ کے بھی آتے ہیں اس اعتبار سے ابوہریرہ کا مطلب ہوا ”بلی والے“۔

زمانۂ جاہلیت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اصل نام کیا تھا؟ اس بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ بعض روایات میں ان کا نام عبدِ شمس (عبد الشمس) آیا ہے، بعض میں عبد ِنہم، عبدِ غنم ، بعض عبد اللہ اور کسی میں عمیر آیا ہے۔ بعض نے کچھ اور نا م بھی لیے ہیں۔ لیکن قول راجح کے مطابق ان کا خاندانی نام عبد ِ شمس (عبد الشمس) تھا۔ قبول اسلام کے چند سال بعد جب وہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ نے ان کا جاہلی نام بدل کر اسلامی نام عبد الرحمٰن رکھا۔ بعض روایتوں میں ان کا اسلامی نام عمیر اور عبد اللہ بھی بتایا گیا ہے ، لیکن انہوں نے اپنی کنیت “ابوہریرہ” سے شہرت پائی اور ان کا اصل نام نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ کنیت ” ابوہریرہ ” پر سب کا اتفاق ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْمَعُ مِنْكَ حَدِيثًا كَثِيرًا أَنْسَاهُ قَالَ: ابْسُطْ رِدَاءَكَ فَبَسَطْتُهُ قَالَ: فَغَرَفَ بِيَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ ضُمَّهُ فَضَمَمْتُهُ فَمَا نَسِيتُ شَيْئًا بَعْدَهُ (صحیح البخاری:119)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ سے بہت سی حدیثیں سنتا ہوں لیکن بھول جاتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: “اپنی چادر پھیلاؤ۔” میں نے چادر پھیلائی تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے چلو سا بنایا (اور چادر میں ڈال دیا)، پھر فرمایا: “اسے اپنے اوپر لپیٹ لو۔” میں نے اسے لپیٹ لیا، اس کے بعد میں کوئی چیز نہیں بھولا۔

اسی دعا کی برکت سے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ حدیثیں روایت کرنے والے بن گئے اور ان کی مرویات کی تعداد  5374  ہے۔

وفات : 57 ہجری

تشریح: 

اس حدیث مبارکہ میں رسول اکرم کا قضائے حاجت کے بعد مٹی کے استعمال کی وضاحت کی جارہی ہے جبکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصود ان لوگوں کی تردید کرنا ہے جو(مٹی) ڈھیلوں سے استنجا کرنے کو ناجائز کہتے ہیں ،یا پانی کی موجودگی میں ان کے استعمال کوصحیح نہیں سمجھتے۔اس سلسلے میں امام بخاری رحمہ اللہ نے رسول اللہ کا عمل پیش فرمایا ہے۔آپ نے سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہدایت فرمائی کہ ہڈی اور گوبرمت لانا۔اس سے معلوم ہوا کہ ہڈی اورگوبر کے علاوہ ہرجذب کرنے والی چیز جو کسی جاندار کی غذا نہ ہو،استنجا میں استعمال کی جاسکتی ہے۔مٹی کے ڈھیلوں میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ ان میں رطوبت جذب ہوجاتی ہے۔( فتح الباری 335/1) آج کل ٹشو پیپر صفائی کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔یہ بھی جاذب ہونے کی وجہ سے اس مقصد کو پورا کرسکتے ہیں۔

ہڈی اور گوبر سے طہارت نہ کرنے کی دو وجوہات بیان ہوئی ہیں:

(الف)ان دونوں سے پاکی حاصل نہیں ہوتی بعض روایات میں اس کی وضاحت ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ہڈی اور گوبر کی خصوصیت نہیں بلکہ ہروہ چیز جو تطہیر کے قابل نہ ہو،استنجا کے لیے بے کار ہے۔لید کی نجاست تو ظاہر ہے ۔اس سے طہارت حاصل نہیں ہوتی بلکہ رطوبت کے ملنے سے اس کی نجاست دوچند ہوجائے گی۔ہڈی سے بھی تطہیر کا مقصد حاصل نہیں ہوتا کیونکہ اس میں جذب کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی بلکہ چکنی ہونے کی وجہ سے نجاست کا ازالہ نہیں کرسکتی۔

(ب)بعض روایات سے معلوم ہوتاہے کہ یہ دونوں جنات کی غذا ہیں۔سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:”میرے پاس جن آئےاور انھوں نے زاد سفر کی درخواست کی تو میں نے انھیں ہڈی اور گوبر کازاد دیا۔وہ انھیں کھاتے نہیں بلکہ ان پر گوشت اور چارہ پیدا کردیا جاتا ہے،یعنی ان کے ساتھ جنات کی غذا کا تعلق ہے۔آپ نے اس لیے منع فرمایا تاکہ انھیں استنجا سے خراب نہ کیاجائے۔( فتح الباری 336/1)

بعض روایات میں ہے کہ جنات نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ آپ اپنی اُمت کو فرمادیں کہ وہ ہڈی،گوبر اور کوئلے سے استنجا نہ کیا کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں میں ہمارے لیے غذا رکھی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ استنجا میں کھانے والی اشیاء کا استعمال درست نہیں ہے اور یہ غذا کے احترام کی وجہ سے ہے لہذا ہر وہ چیز جو کسی بھی حیثیت سے قابل احترام ہو،استنجا میں استعمال نہیں ہوگی۔الغرض ہروہ غیر محترم پاک چیز جو نجاست کے ازالے کی صلاحیت رکھتی ہو،استنجا کے لیے استعمال ہوسکتی ہے اور جس چیز میں جذب کی صلاحیت نہ ہو خواہ وہ بے ضرر ہو اور قابل احترام بھی ہو،اسے استنجا کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا،جیسے شیشہ وغیرہ کیونکہ اس سے نجاست کا ازالہ نہیں ہوتا۔( فتح الباری 336/1)

رسول اللہ کی یہ بھی عادت مبارکہ تھی کہ قضائے حاجت کے لیے کچی اور نرم زمین کا انتخاب فرماتے تھے ۔ اس میں بھی بہت زیادہ حکمتیں پنہاں ہیں کہ

” انسانیت کی ابتداء مٹی سے ہے اور فنا بھی مٹی ہے ۔جب سے مٹی پر قضائے حاجت چھوڑ کر ہم نے سخت زمین (فلش،کموڈ اور ڈبلیو سی وغیرہ)استعمال کرنا شروع کی ہے ، اس وقت سے اب تک مردوں میں اعصابی کمزوری اور پتھری کا رجحان بڑھ گیا ہے اور اس کے اثرات پیشاب کے غدود پرپڑتے ہیں “۔

دراصل جب آدمی کے جسم سے فضلات نکلتے ہیں تو مٹی ان کے جراثیم اور تیزابی اثرات جذب کرلیتی ہے ۔ جبکہ کموڈ وغیرہ اس کیفیت سے عاری ہیں ۔ اس لیے وہ تیزابی اور جراثیمی اثرات دوبارہ ہمارے جسم پر براہ راست پڑتے ہیں اور جسم تندرسی سے بیماری کی طرف مائل ہونے لگتا ہے ۔ ایک ماہر طب لکھتےہیں:

“نرم اور بھربھری زمین ہر چیز کو جذب کرلیتی ہے چونکہ پیشاب اور پاخانہ جراثیمی فضلہ ہے اس لیےایسی زمین چاہیے جو کہ اس کو جذب کرنےا ور اس کے چھینٹے اُڑ کر بدن اور کپڑوں پر پڑنے کوروکے”۔

جبکہ یہ کیفیت ٹائلٹ میں نہیں ہوتی ۔ وہاں بھی چھینٹوں کا احتمال رہتا ہے اور مزیدیہ کہ فضلے کو جذب کرنے کی صلاحیت اس میں نہیں ۔فلش میں پیشاب کرنے کی وجہ سے فضلے کے بخارات جذب نہیں ہوپاتے اور فضلے سے اُٹھنے والے یہ بخارات صحت کے لیے مضر ثابت ہوتے ہیں۔

دور حاضر کی میڈیکل سائنس رسول اکرم کے قضائے حاجت کے طریقے پرمسلسل ریسرچ کر رہی ہے اور اب تو غیر مسلم سائنسدان بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ:

” صحت وزندگی کی بقا اور خوشحالی کے لیے پیغمبر اسلام کے قضائے حاجت والے طریقے سے بڑھ کر کوئی طریقہ نہیں ۔ رسول مکرم کے اس طریقے پر عمل کرنے سے گیس ،تبخیر،بدہضمی ،قبض او ر گردوں کے امراض واقعی کم ہوجاتے ہیں اور مستقل آپ والا طریقہ اپنا کر اِن امراض کو ختم بھی کیا جاسکتا ہے

رسول اللہ استنجاء کے لیے پہلے ڈھیلے استعمال فرماتے اور ڈھیلے طاق عدد میں استعمال فرماتے تھے۔ اس سنت مبارکہ میں بھی کئی سائنسی اور طبی فوائد ہیں ۔ ان میں سے چند ملاحظہ فرمائیں:

جدید سائنس کی ریسرچ کے مطابق مٹی میں نوشادر اور اعلی درجےکے دافعِ تعفن اجزاء موجود ہیں ۔چونکہ پاخانہ اور پیشاب سارے کا سارا فضلہ ہوتا ہے اور جراثیموں سے بھرا ہوتا ہے اس لیے اس کا جلد ِ انسانی کولگنا انتہائی نقصان دہ ہے ۔ اگر اس کے کچھ اجزاء جلد پر چپک جائیں یا ہاتھ پر ر ہ جائیں تو بے شمار امراض کے پھیلنے کا اندیشہ رہتا ہے ۔ڈاکٹر ہلوک لکھتے ہیں:

“ڈھیلےکے استعمال نے سائنسی اور تحقیقی دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال رکھا تھا لیکن اب یہ حقیقت سامنے آگئی ہے کہ مٹی کے تمام اجزاء جراثیموں کے قاتل ہیں۔ جب ڈھیلے کا استعمال ہوگا تو پوشیدہ اجزاء پر مٹی لگنے کی وجہ سے ان پر بیرونی طور پر چمٹے ہوئے تمام جراثیم مرجائیں گے۔بلکہ تحقیقات نے تو یہ بھی ثابت کردکھایا ہے کہ مٹی کا استعمال شرمگاہ کو کینسر سے بچاتا ہے ۔میں نے ایسے مریضوں کو جن کی شرمگاہ پر زخم تھے اور خراش بھی پڑگئی تھی ،مستقل مٹی استعمال کرائی اور انہیں مٹی سے استنجاء کرنے کو کہا تو مریض حیرت انگیز طریقے سے صحت مند ہو گئے”

الغرض میرا ، تمام محقق سائنسدانوں اور اطباء کا یہ فیصلہ ہے کہ یہ مٹی سے بنا ہوا انسان پھر مٹی سے عافیت پائے گا۔چاہے دنیا کے تمام فارمولے استعما ل کرلے اس کو فقط پیغمبر اسلام کے طریقوں ہی سے بیماریوں سے تحفظ ملے گا۔

نبی کریم نے لید اور ہڈی سے استنجاء کرنے سے اس لیے منع فرمایا ہے کہ لید میں بے شمار مہلک جراثیم ہوتے ہیں کیونکہ یہ ایک جانور کا فضلہ (پاخانہ ) ہے اور ہر پاخانہ جراثیموں سے پُر ہوتا ہے ۔لید میں تشنج اور تپِ محرقہ کے جراثیم بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔اگرلید سے استنجاء کیا جائے تو وہ جراثیم جسم میں منتقل ہو کر بیمار کرسکتےہیں ۔ اس کے علاوہ اس سے شرمگاہ کو بھی بہت سی بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں ۔جیسے خارش ،جلن،پیپ کا پڑھنا اور شرمگاہ کا کینسر وغیرہ۔

ہڈی سے جب گوشت کھا کر پھینک دیا جاتاہے تو اس کوجانور کھاتے ہیں ۔بعض جانوروں کے لعاب میں خطرناک جراثیم ہوتے ہیں مثلاً کتے کے لعاب میں ایک خاص جرثومہ ہوتا ہے جو اس کی کھائی ہوئی ہڈی پر لعاب کے ساتھ منتقل ہوجاتا ہے ۔مزید یہ کہ ہڈی پر مٹی ، گردوغبار او ر گندگی وغیرہ جم جاتی ہے اس گردوغبار میں گوناگوں جراثیم پائے جاتے ہیں ۔ اب اگر یہ ہڈی استنجاء کےلیے استعمال کی جائے گی تو دیگر جراثیموں کے ساتھ ساتھ کتے کا خاص جرثومہ بھی جسم میں منتقل ہو جائے گا جس سے فسادِ خون ،دل ،جگر،پتا،انتڑیوں اور معدے کے امراض لاحق ہوسکتے ہیں۔اس لیے رسول اکرم  استنجاء فرماتے ہوئے ہڈی ،گوبر اور ناپاک اشیاء سے خود بھی بچتے اور مسلمانوں کو بھی بچنے کا حکم صادر فرماتے تھے۔

اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ خاص طور پر ہمہ وقت رسول مکرم کی خدمت کیلئے تیار رہتے تھے بلکہ اپنے لیے آپ  کی خدمت بہت بڑی سعادت مندی سمجھتے تھے۔

اس سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ علماء کرام ،اساتذہ عظام اور خاندان کے بزرگوں کی خدمت کرنا باعث اجر وثواب ہے۔

۔۔۔

توقیر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں مضمر ہے ہماری بقاء

وقت بڑی تیزی سے گزررہا ہے میلادی سن 2018ء چند دنوں میں اختتام پذیر ہونے والا ہے اور پھر نیاسال 2019ء شروع ہوجائے گا۔ ماہ وسال کا یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے کتنے ہی لوگ آئے اورگزرگئے ۔ انسانوں کی آمدورفت اسی ماہ وسال کے سلسلہ میں گم ہوتی رہی اورمالک ارض وسماء کا یہ فرمان : يٰٓاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِيْهِ   (الانشقاق:6) ’’اے انسان! تو نے اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کر کے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘

انسان کو متنبہ کر رہا ہے کہ ایک دن اسے اپنی ساری کوششیں لے کر اپنے خالق ومالک کے سامنے حاضر ہونا ہے سو اِس زندگی اور وقت کو غنیمت جان لو ویسے اَب قیامت کی نشانیاں پے درپہ ظاہر ہورہی ہیں ۔ اَب دین کا درس وہ دے رہے ہیں جو خود دین سے کوسوں دور ہیں اور ہماری سادگی یہ ہے کہ

ہم کو ان سے وفا کی ہے امید                        جو نہیں جانتے وفا کیا ہے؟

گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں ایک خاتون عاصمہ حدید نے بڑے درد مندانہ انداز میں تقریر کی اور اہل نظر کو دعوت فکردی ، کچھ قرآن کا حوالہ دیا، کچھ تاریخ دھرائی ، کچھ سیرت پہ طبع آزمائی کی خلاصہ تقریر کچھ یوں بنا ،قرار داد کچھ یوں آئی کہ آپ  کا بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنا ،یہودیوں کو خوش کرنے کے لیے تھا اور بعد میں جب تحویل قبلہ ہوا تو گویا خود اللہ نے فیصلہ کر دیا کہ بیت المقدس یہودیوں کو دے دیا اور بیت اللہ مسلمانوں کو لہذا اب جھگڑے کی کوئی بات ہی نہیں رہی کس قدر جہالت کی بات ہے۔ نبی کریم بیت اللہ کو اپنے باپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا قبلہ ہونے کی وجہ سے قبلہ دیکھنا چاہتے تھے پھر یہود سے مخالفت بھی مطلوب تھی ورنہ بیت المقدس پہ بھی یہودیوں کا نہیں مسلمانوں کا حق تھا جسے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہودیوں سے چھین کر ثابت کیا جس کےلیے سیدنا ابو عبیدہ ابن الجراح اورخالدبن ولید رضی اللہ عنہما نے خونریز معرکے سرکیے اور یہودی مجبور ہوئے کے بیت المقدس کی چابیاں امیر المؤمنین کے حوالے کریں تو گویا یہ سب فیصلہ خداوندی کے خلاف اقدام تھے۔(نعوذ باللہ)لگتا یہ ہے کہ بادی النظر میں یہ باور کروانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب بیت المقدس ان کو دے دیا تو پھر یہود کا قبضہ وہاں جائز ٹھہرا جس کے تناظر میں اسرائیلی ریاست بھی صحیح ہوئی ۔ ان کا غاصبانہ قبضہ درست ہوا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور سے اب تک وہاں آباد مسلمان گنہگار ٹھہرے لہٰذا یہودیوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عام ، بچوں ،بوڑھوں اور نوجوانوں کے گرتے ہوئے لاشے ظلم وبربریت یہ سب ٹھیک ہے اور اس سے نجات کا واحد راستہ ان سے دوستی کا راستہ ہے۔غزہ پٹی کےدڑبے میں بند مظلوم فلسطینیوں کو اپنے حق حریت کے لیے مزاحمت چھوڑ کر بانی پاکستان محمد علی جناح نے جسے یورپ کا ناجائز بچہ کہا تھا اسے ہولی مان لینا چاہیے اور تحت اللفظ ہمیں بھی اسے یعنی اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے۔پھر رسول اللہ پر اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پہ افتراءپردازی کرتے ہوئے گویا ہوئیں کہ آپ کا فرمان ہے : دشمن کو دوست بنالو یہ سب جھوٹ ہے اور آپ علیہ السلام پہ جھوٹ باندھنے کی سزا سے آپ علیہ السلام خود ڈراتے ہوئے فرمایا

: مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ (صحیح البخاری ، حدیث: 1291 )

’جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔‘‘ قرآن پاک میں واضح طور پر رب تعالیٰ کا فرمان ہے : 

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ (المائدة: 51)

اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بیشک انہی میں سے ہے۔‘‘ اور فرمایا :

  لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا (المائدۃ:82)

’’یقیناً آپ ایمان والوں کا سب سے زیادہ دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے۔‘‘ پیغمبر علیہ السلام کے ارشادات گرامی ہیں کہ :  خَالِفُوا الْيَهُودَ (سنن ابی داود،حدیث:652 ) ’’یہود کی مخالفت کرو۔‘‘

آپ نے عبادات میں بھی ان کی مخالفت فرمائی ۔ آپ نے دیکھا یہودی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل کے فرعون سے نجات پانے کے دن خوشی مناتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں تو آپ  نے فرمایا : خوشی ہمیں بھی ہے لیکن ہم دوروزے رکھیں گے ، یہ روزہ رکھتے ہوئے سحری تنازل نہیں کرتے تم سحری تنازل کرو ، یہ سفید بال  رنگتے نہیں ہیں تم ان کی مخالفت کرکے بالوں کو رنگ دو نیز بال بالکل کالے کرنے سے منع فرمایا ، پھر مزید فرماتےہوئےمحترمہ نے بتایا کہ آپ علیہ السلام نے یہودیوں کے ساتھ مل کر کام کیا ، نہیں‘‘ ۔ بلکہ آپ نے مدینہ پہنچ کر یہودیوں کے ساتھ معاہدہ کیا انہیں مکمل آزادی اور حقوق دیئے جس کے بدلے میں یہودیوں نے ایفائے عہد کی بجائے غدر وایذاء کی روش اپنائی جس کے نتیجہ میں آپ علیہ السلام بنوقینقاع اور بنو نضیر کو مدینہ سے نکال دیا اور بنو قریظہ کے چھ سے سات سو یہودیوں کو غزوہ خندق کے بعد قتل کروا کر غدر وخیانت کے ان سانپوں کوعبرت کا نشان بنایا ، پھر درود پڑھنے سے یہ دلیل بنالی کہ ہم یہودیوں کے لیے دعا کرتے ہیں جبکہ یہ بات بھی درست نہیں یہودی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں دعویٰ کرتے تھے کہ وہ یہودی تھے جس کی اللہ تعالیٰ نے سختی سے تردید فرمائی ۔

مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَكِنْ كَانَ حَنِيفًا مُسْلِمًا (آل عمران: 67)

ابراہیم تو نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ وہ تو ایک طرفہ (خالص) مسلمان تھے ۔‘‘ خود قرآن پاک میں یہود پہ لعنت فرمائی گئی :

لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ (المائدة: 78)

بنی اسرائیل کے کافروں پر سیدنا داؤد و عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کی زبانی لعنت کی گئی اس وجہ سے کہ وہ نافرمانیاں کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھ جاتے تھے ۔ نیز رسول مقبول نے فرمایا

لَعَنَ اللَّهُ اليَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسْجِدًا (صحیح البخاری ، حدیث:1330)

’’اللہ تعالیٰ یہودو نصاری پر لعنت کرے کہ انھوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔‘‘ مزاروں پہ جاکر سجدے کرنے والوں کو بھی جو محبت رسول کا دم بھرتے ہیں سوچنا چاہیے۔ نماز میں درود شریف ایک دفعہ پڑھا جاتاہے جبکہ سورئہ فاتحہ ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے جس میں مغضوب علیہم (یعنی جن پہ رب کا غضب ہوا اور وہ یہودی ہیں ان کی راہ سے پناہ مانگی جاتی ہے) پھر سیرت پہ محترمہ نے لب کشائی فرمائی اور امام الانبیاء کا سلسلہ نسب بنواسرائیل سے جوڑ دیا حالانکہ یہ بات یہودی بھی نہیں کہتے اسی نسلی تعصب کی وجہ سے تو وہ آپ پر ایمان نہیں لائے کہ آپ بنواسماعیل سے آئے ، بنواسرائیل سے نہیں یہ سب کس لیے کیاجارہاہے ایک طرف عرب میں ہلچل مچی ہوئی ہے ، عمان میں اسرائیل آکر بیٹھ گیا ہے ، گوادر بندرگاہ کی نگرانی کے لیے یہاں مہم چلائی جارہی ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کر لیا جائے۔ افغانستان ،ایران ، انڈیا اور لندن میں بیٹھے ہوئے را کے ایجنٹ اور کالعدم تحریکوں کے نمائندے پاکستان کے خلاف سازشیں کررہے ہیں حالیہ چینی قونصلیٹ کراچی پہ حملہ اس کا واضح ثبوت ہے ، کلب،ھوشن کی دی ہوئی معلومات کے تناظر میں انڈیا ان سازشوں کا مرکز ہے ان حالات میں جبکہ افواج پاکستان اور تمام دفاعی ادارے ملک کی حفاظت میں چومکھی لڑائی لڑرہے ہیں حکومت کو دانشمندی کامظاہرہ کرنا چاہیے ایسے افعال واقوال سے باز رہنا چاہیے جو قوم میں انتشار کا سبب بنیں آسیہ کا معاملہ معلق ہے ایسا لگتا ہے کہ حکومت اسے جلد از جلد باہر بھیج کر اغیار کی نظروں میں سرخرو ہونا چاہتی ہے ۔ ختم المرتبت سید المرسلین نبی رحمت فداہ أبی وأمی کی توقیر ومحبت ہی ہماری بقا کی ضامن ہے اغیار کو خوش کرنے کے لیے اگر اس معاملہ میں مداہنت اختیار کی گئی تو یہ چیز ہمارے لیے عذاب وانتشار کے ساتھ نحوست وبےبرکتی لے کر آئے گی اور یہ حکومت بھی پھر جائے گی محبت کا تقاضا نبی علیہ السلام کی مکمل اتباع ہے۔ علماء کرام علماء حق ہی اس دین کے وارث ہیں یہ میرے نبی کا فرمان ہے آپ انہیں ٹھیکیدار کہیں یا جونام بھی دے دیں بہرحال خود ٹھیکیدار بننے کی بجائے اہل علم سے رجوع آپ کے لیے بہتر ہوگا ۔

بنتے ہو وفادار تو وفا کرکے دکھاؤ                   کہنے کی وفا اور ہے کرنے کی وفا اور

علماء کے نام پر هاں ایسے لوگ دھبہ ہیں جن کا جبہ ودستار لوگوں کو غلام بنانے کا کام کرتاہے دین کی غلط تعبیر یں کرتے ہیں فساد فی الارض کہ ذمہ دار بن کر اقتصادی طور پر مشکلات سے دوچار اپنے ملک کو مزید مسائل سے دوچار کرنا چاہتے ہیں اور وہ جو ٹی وی چینلز پہ بیٹھ کر بے پرکی اڑاتے ہیں علم کے نام پر جہالت کا پرچار کرتے ہیں ۔ رب العالمین سے متعلق مثالیں لاتے ہیں فرمان باری تعالیٰ ہے : فَلَا تَضْرِبُوا لِلهِ الْأَمْثَالَ (النحل: 74) ’’پس اللہ تعالیٰ کے لئے مثالیں مت بناؤ ‘‘۔وہ ارشاد فرماتاہے :  

الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى  (طه: 5)

’ وہ نہایت مہربان عرش پر مستوی ہے۔‘‘ یہ آیت کا انکار کرتے ہوئے (نقل کفر کفر نہ باشد) موبائل کے ڈبے پہ موبائل رکھ کر پوچھتے ہیں بتاؤ عرش بڑا ہے یا اللہ تعالیٰ (نعوذ باللہ) یہ تو واقعی ٹھیکیدار ہیں اور ان کو بند ہونا چاہیے پھر وہ قوم جو دیوالی کی نقل میں دیئے جلا کر جشن میلاد منائے ہولی کی نقل میں کلرڈے منائے جشن میلاد کی دلیل میں عیسائیوں کے ہاں میلاد مسیح منانے کا حوالہ لائے اسے آپ بھی یہ درس دیں کہ یہودیوں سے قریب ہو جاؤ جنہیں اقبال بہت پہلے کہہ گئے ہیں

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تَمَدُّن میں ہُنُود     یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

تذکرۂ اقبال سے یاد آیا توقع تھی کہ اس سال 9 نومبر پہ شاید یوم اقبال کی چھٹی بحال کرکے حکومت کوئی مفت کی نیک نامی حاصل کرے گی مگر لگتاہے ایسی تمام چیزوں میں وہ سابقہ حکومت کی پیرو ہے بلکہ اس سے بھی کچھ آگے بڑھنا چاہتی ہے لوگ آئندہ سال کے لیے بہت بری بری پیش گوئیاں کررہے ہیں مگر ہم رب تعالیٰ سے اس ملک وقوم کے لیے خیرہی کی امید رکھتے ہیں

وَلَا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللهِ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِنْ رَوْحِ اللهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ (يوسف: 87)    ’’

اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو ۔ یقیناً رب کی رحمت سے ناامید وہی ہوتے ہیں جو کافر ہوتے ہیں ۔‘‘

تبصرۂ کتب

تبصرۂ کتب

الشيخ عبد الوكيل ناصر / محمد انس اقبال

کتاب کا نام : نماز جنازہ میں ایک طرف سلام پھیرنا مسنون ہے ۔

مؤلف : ابو زبير محمد ابراهيم رباني

ناشر : دارالاسلاف سندھ          كل صفحات : 96

تبصره نگار : شیخ عبدالوکیل ناصر

کسی بھی مسلمان کے جنازے میں شرکت اس کے آخری حق کی ادائیگی ہے جو کہ شرعا ایک مسلمان پر عائد ہوتی ہے۔ “الموت قدح کل نفس شاربوھا” کے مصداق مخلوق میں سے ہر ایک نے موت سے ہمکنار ہونا ہے ۔

اور پھر یقینا فوت شدہ مسلمان کا جنازہ بھی ہوناہےلہٰذا دیگر فقہی مسائل کی تفہیم کے ساتھ ساتھ جنازہ ، نماز جنازہ اور اس کے تمام تر متعلقات کا علم اور فہم بھی ضروری ہے ۔

اسی غرض سے تقریبا تمام محدثین نے اپنی اپنی تالیفات اور سنن میں کتاب الجنائز یا ابواب الجنائز کے عنوان سے احادیث و آثار ذکر کیے ہیں ۔كما لا يخفي علی اهل العلم

اور پھر بعض اہل علم نے مکمل تصنیف ہی اس عنوان سے مرتب کی ہے اور اس موضوع کو اس کے متعلقات کے ساتھ سمیٹ کر ایک ہی جگہ رکھ دیا ہے ۔

جیسے امام و محدث عبدالرحمان مبارکپوری اور شیخ ناصر الدین البانی رحمہما اللہ وغیرہ کی تصانیف اس پر شاہد ہیں ۔ اللہ تعالی ان تمام اہل علم کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے ہم کوتاہ نظروں کے لیے اس مسئلہ کی تفہیم کو آسان بنایا ۔

دیگر عناوین کی طرح اس عنوان پر بھی تا حال لکھنے کا سلسلہ جاری ہے اور رہے گا ۔ ان شاء اللہ

زیر نظر و زیر تبصرہ تالیف لطیف اس سلسلے کی ایک ذھبی کڑی اور لڑی ہے کہ جس میں فاضل مؤلف مولانا ابوزبیر محمد ابراہیم ربانی حفظہ اللہ نے نماز جنازہ میں اختتام نماز پر سلام سے متعلق سیر حاصل گفتگو فرمائی ہے۔

کتاب کے سرورق پر تقدیم و نظر ثانی کے تذکرے میں عالم باعمل شیخنا ذوالفقار علی طاہر رحمہ اللہ ، محقق دوراں غیرت اہل حدیث ڈاکٹر عبدالحفیظ سموں حفظہ اللہ اور میدان تحقیق و تخریج کے شہسوار حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ کے اسماء کا آ جانا ہی کتاب کے منھجی صلابت كے لیے کافی ہے ۔ جزاھم اللہ خیرالجزاء

کچھ کہنے اور لکھنے کی حاجت ہی نہیں ہے البتہ الامر فوق الادب کے تحت فاضل دوست صاحب علم و فضیلة الشیخ محمد سلیمان جمالی حفظہ اللہ کے حکم پر یہ چند ٹوٹے جملے سپرد قرطاس کر رہا ہوں ۔

أحب الصالحين ولست منهم
لعل الله يرزقني صلاحا

اس دعا کے بعد عرض ہے کہ یہ کتاب بحمد اللہ تعالی احادیث مبارکہ ، آثار صحابہ ، اقوال سلف اور اجماع کے دلائل سے مزین و معمور اور مملوء ہے ۔

تحقیق و تخریج اور رجال و رواة کے ایسے مباحث کہ نہ صرف طلبة العلم بلکہ اصحاب علم و فضل بھی سیرابی حاصل کرلیں ۔ انداز افہام و تفہیم کا اختیار کیا گیا ہے نہ کہ تحکم و تسلط کا ۔ نیز الزامی حوالہ جات اور جوابات کا بھی خوب اہتمام کیا گیا ہے ۔

نماز جنازہ میں ایک ہی سلام کے مسنون ہونے پر ایک جامع اور مانع تحریر ہے ۔ اہل علم و دانش امید ہے ، بنظر تحسین و تائید دیکھیں گے ۔

کتاب میں محترم فاضل دوست اور میرے ہم مکتب الشیخ انور شاہ راشدی حفظہ اللہ کی داد شجاعت ہی دیکھنے کو ملی ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ رؤوف و رحیم اس کتاب کو عوام الناس کے لیے باعث منفعت بنا دے اور مؤلف و مقدم اور ناشر اور دیگر رفقاء کے لیے ذخیرہ آخرت بنا دے ۔

وما ذلك علي الله بعزيز

۔۔۔

نام کتاب : توضیح الفرقان

تالیف : فضیلۃ الشیخ حافظ عبد الوہاب روپڑی حفظہ اللہ

صفحات : 978 بڑا سائز عمدہ رنگین کاغذ مجلد

ناشر : محدث روپڑی اکیڈمی جامع القدس

قیمت : درج نہیں

تبصرہ نگار : محمد انس اقبال

زیر تبصرہ کتاب اردو زبان میں قرآن پاک کی ایک عمدہ تفسیر ہے۔ تفسیر کا مطلب وضاحت کرنا ہے اور اصطلاحی طور پر اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے فرامین کی توضیح ہے کہ وہ اپنے بندوں سے کیا مطالب فرماتا ہے؟ کس بات کا حکم دیتاہے اور کس سے منع فرماتاہے؟ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے قرآن پاک نازل فرمایا اور اس کی تفسیر اور توضیح رسول اکرم ﷺ کا منصب قرار دیا۔

آپ ﷺ نے اپنے فرامین اور عمل مبارک سے کتاب اللہ کی تفسیر فرمائی ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی تفسیر سکھائی اور سمجھائی۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تفسیر قرآن کریم کی تعلیم کا سلسلہ جاری فرمایا تو تابعین عظام کے ساتھ ساتھ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی ان سے یہ مقدس علم سیکھا۔ امام مجاہد وعکرمہ رحمہما اللہ وغیرہ اس سلسلے میں بہت نامور ہوئے پھر ان سے آگے یہ سلسلہ چلتا گیا۔ قرآن پاک چونکہ علوم ومعارف کا خزانہ اور ناپید کنار سمندر ہے۔ اس لیے بڑے بڑے علماء کرام اورمفکرین عظام نے اس شناوری کو سعادت جانا اور اس کے لیے اپنی زندگیاں کھپا دیں ، امام طبری، امام قرطبی اور حافظ ابن کثیر رحمہم اللہ وغیرہ نے تفسیر میں شاندار تصانیف پیش کیں۔

اس علم عظیم کے خدمت گزاروں اور اس سے تعلق رکھنے والے سعادت مندوں میں ایک نام فضیلۃ الشیخ حافظ عبد الوہاب روپڑی حفظہ اللہ فاضل ام القریٰ یونیورسٹی مکہ مکرمہ کا بھی ہے جنہوں نے تفسیر بالماثور اور منہج سلف کے عین مطابق توضیح الفرقان کے نام سے قرآن پاک کی تین سورتوں (الفاتحہ، البقرۃ اور آل عمران) کی تفسیر لکھی ہے۔ یہ تفسیر اپنی مثال آپ ہے اس تفسیر کی خوبیاں یہ ہیں کہ شیخ محترم نے تفسیر کرتے وقت چند اہم چیزوں کا خاص خیال رکھا ہے جو قابل تحسین وستائش ہے۔

1 قرآنی آیات کی تفسیر آیات قرآنیہ کے ساتھ کی یعنی (تفسیر القرآن بالقرآن) کا اہتمام خاص کیا ہے۔ جیسا کہ انہوں نے أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی تفسیر میں فرمایا کہ انعام یافتہ وہ لوگ ہیں جو انبیائے کرام ،صدیقین،شہداء اور صالحین ہیں۔

2 تفسیر کرتے ہوئے مستند احادیث کاالتزام کیا۔جیسا کہ انہوں نے آمین کے حکم میں ذکر فرمایا کہ سورئہ فاتحہ کے اختتام پر بلند آواز سے آمین کہنا مسنون ہے جیسا کہ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب وَلَا الضَّالِّينَ پڑھتے قال آمین رَفَعَ بِهَا صَوْتَهُتو بلند آواز سے آمین کہتے۔

3 حسب ضرورت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام کے فرامین کو قلمبند کیاگیاہے۔حضرت بجالہ بن عبید رحمہ اللہ فرماتےہیں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ہر جادوگر(مردوعورت) کو قتل کرنے کا فرمان جاری فرمایا تھا چنانچہ ہم نے تین جادوگروں کو قتل کیا تھا۔

4 ضعیف اور من گھڑت روایات سے کلی اجتناب برتا گیاہے۔ جالوت کا قتل سیدنا داؤد علیہ السلام کے ہاتھوں ہونے کی تین وجوہات ہیں :

۱) سیدنا داؤد علیہ السلام اس وقت نوعمر اور جنگی امور سے بالکل ناآشنا تھے ان کے ہاتھوں جالوت جیسے جابر اور ظالم بادشاہ کو قتل کرواکر لوگوں کے دلوں سے ایسے حکمرانوں کا خوف اور ڈر زائل کرنا مقصود تھا کہ جن کو تم بڑے طاقتور اور جابر سمجھ کر خوف زدہ ہوتے ہو وہ تو بڑے کمزور اور ناتواں ہیں۔

۲) اللہ تعالیٰ سلطنت طالوتی کا وارث سیدنا داؤو علیہ السلام اور ان کے بعد سیدنا سلیمان علیہ السلام کو بنانا چاہتے تھے اسی لیے جالوت کے قتل کے بعد اللہ تعالیٰ نے نبوت اور حکومت سیدنا داؤد علیہ السلام کو عطا فرمادی۔

۳) بنی اسرائیل کے عقیدے میں پیدا ہونے والی بیداری کے صلہ میں اللہ تعالیٰ ان کو ایسی سلطنت دینا چاہتے تھے جو بنی اسرائیل کی ساری تاریخ کا عہدزریں ہو۔

5 تفسیر بالرائے کے بجائے تفسیر بالماثور کو ترجیح دی ۔

اس کے علاوہ شیخ محترم نے اس کتاب میں ہر آیت کا ترجمہ پھر توضیح، مشکل الفاظ کے معانی ، ہر توضیح کے بعد اخذ شدہ مسائل اور آیات کا باہمی ربط ومناسبت بھی ذکر کی ہے۔

اس کتاب میں تاریخی مباحث کو (جالوت) بھی عمدگی سے سمویاگیا ہے، تفسیر میں مروج کمزور روایات سے اجتناب کیاگیاہے، مفسر کا انداز خیر الکلام ما قل ودل کا مصداق ہے۔ مختصر مگر جامع بات کرتے ہیں۔

تفسیر قرآن کے لیے قابل احترام مفسر نے زبان نہایت سادہ وآسان استعمال کی ہے تاکہ عام لوگوں کے لیے فہم قرآن میں آسانی ہو ، عبارت رواں اور نہایت سلیس ہے۔

تفسیر قرآن کا یہ سلسلہ انتہائی مبارک سلسلہ ہےباری تعالیٰ سے دعا ہے کہ اسی نہج پرتکمیل کرنے کی توفیق فرمائے ۔آمین

طلبہ ، اساتذہ،علماء، عوام الناس الغرض زندگی کے ہرشعبہ سے متعلق افراد کے لیے تفسیر کے حوالے سے یہ کتاب نہایت مفید ہے۔

اللہ تعالیٰ اس کتاب کو مؤلف وناشرکے میزان حسنات میں شامل کرکے ان کے حق میں صدقہ جاریہ بنا ئے۔

۔۔۔

 

بنی اسرائیل کے تین بندوں کی کہانی رسول اللہ ﷺکی زبانی

پیارے بچو ! رسول کریم اللہ نے فرمایا : پچھلے زمانے میں ( بنی اسرائیل میں سے ) تین آدمی کہیں سفر پر جا رہے تھے کہ اچانک انھیں بارش نے آلیا تو وہ ایک غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ اس دوران میں ان پر غار کا منہ بند ہو گیا، تووہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ اللہ کی قسم!ہمیں اس مصیبت سے صرف سچائی نجات دلائے گی۔ اب ہر شخص اپنے کسی ایسے عمل کو بیان کر کے دعا کرے جسے وہ جانتا ہو کہ اس میں وہ سچا ہے، چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ! تو خوب جانتا ہے کہ میں نے ایک مزدور رکھا تھا، جس نے ایک فَرَق(تین صاع) چاول کے عوض میرا کام کیا، وہ(غصے کی وجہ سے) چلا گیا اور اپنے چاول چھوڑگیا میں نے ان چاولوں کو کاشت کیا اور اس کی پیداوار سے گائے بیل خرید لیے۔ ایک دن وہی شخص میرے پاس آیا اور اپنی مزدوری طلب کی تو میں نے کہا: یہ گائے بیل تیرے ہیں، انھیں ہانک کر لے جاؤ۔ اس نے کہا کہ تمھارے پاس میری اجرت صرف ایک فرق (تین صاع)چاول ہیں۔ میں نے اسے کہا: یہ سب گائے بیل لے جاؤ کیونکہ یہ اسی ایک فَرَق(چاولوں)کی آمدنی ہے۔ آخر وہ گائے بیل لے کر چلا گیا۔ (اے اللہ!)اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ عمل تیرے ڈر سے کیا تھا تو ہم سے یہ پتھر ہٹا دے، چنانچہ اسی وقت وہ پتھر اپنی جگہ سے تھوڑا سا ہٹ گیا۔ پھر دوسرےشخص نے کہا: اے اللہ !تو جانتا ہے کہ میرے ماں باپ بوڑھے تھے۔ میں ہر رات ان کے لیے بکریاں کا دودھ لے کر جاتا تھا۔ ایک رات اتفاق سے مجھے دیر ہو گئی۔ جب میں آیا تو وہ سوچکے تھے۔ ادھرمیرے بیوی بچے بھوک کی وجہ سے بلبلا رہے تھے۔ اور میری عادت تھی کہ میں جب تک والدین کو دودھ نہ پلا لیتا، بیوی بچوں کو نہیں دیتا تھا۔ اب انھیں بیدار کرنا بھی مجھے گوارانہ تھا اور انھیں اسی طرح چھوڑدینا بھی مجھے پسند نہ تھا کہ وہ دونوں دودھ نہ پینے کی وجہ سے کم زور ہو جاتے، اس لیے میں ان کے بیدار ہونے کا انتظار کرتا رہایہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ اے اللہ!اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام تیرے خوف کی وجہ سے کیا تھا تو ہماری مشکل دور کردے، چنانچہ اسی وقت پتھر کچھ مزید ہٹ گیا، جس سے انھیں آسمان نظر آنے لگا۔ پھر تیسرے شخص نے کہا: اے اللہ!تو جانتا ہے کہ میری ایک چچا زاد تھی جو مجھےسب سے زیادہ محبوب تھی۔ میں نے ایک دفعہ اس سے اپنی خواہش کو پورا کرنا چاہا مگر اس نے انکار کردیا لیکن اس شرط پر کہ میں اسے سو دیناردوں۔ میں نے مطلوبہ رقم حاصل کرنے کے لیے کو شش کی تو وہ مجھے مل گئی، چنانچہ میں اس کے پاس آیا اور وہ رقم اس کے حوالے کردی۔ اس نے خود کو میرے حوالے کردیا۔ جب میں اس کی دونوں رانوں کے درمیان بیٹھ گیا تو کہنے لگی:

اللہ سے ڈراور اس مہر کو ناحق نہ توڑ۔ میں یہ سنتے ہی اٹھ

کھڑا ہوا اور سودینار بھی واپس نہ لیے۔ اے اللہ!اگر توجانتا ہے کہ میں نے یہ کام تیرے خوف کی وجہ سے کیا تھا تو ہماری مشکل آسان کردے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان سے پتھر ہٹا دیا، اس طرح وہ تینوں باہر نکل آئے۔

( صحیح بخاری ؛ 3465 )

پیارے بچو ! مذکورہ واقعے سے ہمیں چند اہم نصیحتیں حاصل ہوتی ہیں :

1  مصیبت میں اللہ تعالی کو ہی پکارنا چاہیے ۔

2 ہر نیک عمل خاص اللہ کی رضامندی کےلیے کرنی چاہیے ۔

3 ہر مصیبت میں دعا کا سہارا لینا چاہیے ۔

4 مزدور کو اپنا حق ادا کردینے سے اللہ خوش ہوتا ہے ۔

5 امانت میں خیانت نہیں کرنی چاہیے۔

6  والدین کی فرمانبرداری پر اللہ راضی ہوتا ہے ۔

7 اللہ کےلیے گناہ کو ترک کرنا بھی نیکی ہے ۔

8 نیکیاں مصیبت ٹال دیتی ہیں ۔

9 دیانتدار بندہ کو باری تعالیٰ کی طرف سے اچھا صلہ دیا جاتاہے۔

0اللہ تعالی کو اپنی نیکیوں کا وسیلہ دینا جائز ہے ۔

محترمہ! آپ صرف کھانا گرم کرنیوالی نہیں ، زندگی کا حصہ ہو

اسلام آباد میں عالمی یوم خواتین کے حوالے سے نکالی جانیوالی ایک ریلی میں لہرائے گئے مختلف پلے کارڈز نے سوشل میڈیا پر خوب دھوم مچائی ہے ۔ ” کھانا خود گرم کر لو”اور ایسے ہی دیگر جملوں پر ہر طبقے کے افراد طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہیں ۔ کچھ حلقوں کو یہ جملہ معاشرتی نظام سے بغاوت لگا تو کسی نے اسے حقوق نسواں کی آواز قرار دیا ۔  مجھے یہ بحث کچھ انجان سی لگی ۔ایسے جملے لہرانے والی خواتین کو شائد ہمارے معاشرے کے بارے کچھ بھول ہوئی ہے ۔ انہیں شائد اندازہ ہی نہیں کہ دین اور روایات کے بندھن سے جڑے رشتے کس قدر اہمیت رکھتے ہیں ۔ عورت سے تقابل ، مرد کی برتری کی باتیں یہ سب انجان سی لگتی ہیں ۔ بھلا جو زندگی کا حصہ ہو اس سے مقابلہ کیسا؟؟ جی ہاں اسلامی طرز معاشرت میں تو عورت کو کو کہیں مقابل سمجھا ہی نہیں جاتا تو برتری ، کمتری کا سوال کیسا؟؟ایک ایسے معاشرے میں جہاں مرد کو سرتاج کہا جائے وہاں کی عورت بھی تو گھر کی ملکہ ہی کہلاتی ہے۔دراصل دونوں کے درمیان مقابلےکی غلط فہمی پھیلانے والے خود کسی فریب کا شکار ہیں ۔ کتنا خوبصورت رشتہ ہے جو نکاح سے جڑ تا ہے۔ جو مرد اپنے نصف ایمان کے لئے عورت کا محتاج ہو وہ برتری کا دعوی کیسے کر سکتا ہے۔ ایک خاوند کے طور پر کیا کوئی اللہ تعالی کی طرف سے عنائیت کردہ اپنی بیوی کے قدموں تلے اولاد کی جنت کا اعزاز چھین سکتا ہے ۔ کیسا مقابلہ؟؟ نبی اکرم ﷺنے تین بار ماں کا حق کہا اور چوتھی بار باپ کا ۔ کیا کوئی خاوند اس ترتیب کو بدل سکتا ہے؟ ؟ اس سے بڑھ کر اور کیا اعزاز ہوگا۔ کیا ایک خاوند کو شکر گزار نہیں ہونا چاہیے کہ اس کی بیوی اسے خاندان جیسی نعمت سے نوازتی ہے ۔ جی ہاں اولاد کی وہ نعمت کہ جو زندگی کا سہارا بنتی ہے ۔ جو خونی رشتوں کو بھلا کر کسی انجان کے گھر میں زندگی بنانے آجاتی ہے ۔ اس گھر کو پھر اپنے ہاتھوں سےجنت بناتی ہے ۔ جس میں آپ کے لئے خوشیاں ہوتی ہیں ۔جو بڑھاپے میں ڈھلتے آپ کے ماں باپ کی خدمت کرنے میں عار محسوس نہیں کرتی۔یہ سب اس پر فرض تو نہیں لیکن وہ رشتوں کی مٹھاس کی خاطر کرتی ہے۔ کیا خاوند کو شکریہ ادا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ جیسے اور جس حال میں رکھا جائے خوشی سے رہتی ہے ، کم سہولیات اور محدودآمدن میں بھی چہرے پر مسکراہٹ سجائے گزارہ کرتی ہے ۔ آپ کی گھر سے دوری ، اولاد اور گھریلو کام کاج کو وقت نہ دینے کے باوجود اپنی سلطنت کو خوشحال رکھتی ہے ۔ یہ اچھی اور سمجھدار بیوی ہی ہوتی ہے کہ جو خاوند کے بھائی بہن اور قریبی رشتہ داروں سے تعلقات کو قائم اور مضبوط بناتی ہے ۔ ہر تہوار ، خوشی غمی کو نبھانے کا ہنر جانتی ہے ، مردوں پر ہوتو وہ اپنے کام کاج میں قریبی رشتہ داروں سے ہی ہاتھ دھو بیٹھیں، ایک بیوی کے لئے کتنا اہمیت رکھتا ہے کہ اس کے خاوند کی ہر جگہ عزت کی جائے ۔وہ ماں کے گھر جانے سے پہلے کتنی ہی ہدایات دیتی ہے کہ “وہ” بھی آ رہے ہیں ۔ جو اتنی عزت دے کیا اس سے مقابلہ کیا جاتا ہے ؟؟ کتنا عجیب لگتا ہے جب کچھ لوگ دین پر عمل پیرا ہونےسےخواتین کے حقوق صلب کرنے کا پروپیگنڈا کرتے ہیں ۔ کیا آپ کو پتہ ہے سیرت النبی کی روشنی میں خاوند کیسا ہوتا ہے۔ جی اسے بیوی کے کھیل کا خیال رکھنا ہوتا ہے ۔ اگر وہ بیوی کے چہرے کی مسکراہٹ کی خاطر اس کے ساتھ دوڑ نہیں لگاسکا تو اسے معذرت کرنی چاہیے اور پہلی فرصت میں اس سنت نبوی پر عمل کرے ۔ جی کبھی کبھی اپنے ہاتھوں سے نوالے منہ میں بھی ڈالا کرے کیونکہ نبی اکرمﷺ تو بخوشی ایسا کرتے اور صحابہ کرام کو تلقین بھی کرتے۔ اگر آپ بیوی کے لئے مناسب سہولیات فراہم نہیں کر پائے یا کمائی کا بڑا حصہ گھر پر خرچ نہیں کرتے تو اپنی اصلاح کر لیں کیونکہ بیوی بچوں پر خرچ کرنے کو باعث ثواب قرار دیا گیا ہے۔ نبی اکرم کی حیات طیبہ کی روشنی میں بہترین مومن وہ ہے جو اپنے بیوی بچوں کے لئے بہترین ہے ۔خاوند کو بیوی کے لئے سجاوٹ کا حکم ہے ۔کئی احادیث میں عورتوں کے حقوق کا خیال رکھنے میں غفلت پرسخت وعید سنائی گئی ۔ یہ تعلیمات نبوی گواہ ہیں کہ محسن انسانیت کسی خاوند کی جانب سے اپنی بیوی کے لئے ذرا سی بھی سختی گوارا نہیں کر سکتے ۔حقوق نسواں کے نعرے لگاتی چند خواتین پتہ نہیں کن غلط فہمیوں کا شکار ہیں ۔ ہمارے پاس تو عائلی زندگی کی شاندار روایات ہیں اور رشتوں کی مضبوطی اور توازن قائم رکھنے کے لئے سنہری تعلیمات۔ یہ بیوی کا اپنائیت کا احساس ہی ہوتا ہے کہ جو دن بھر کے تھکے ہارے خاوند کے چہرے پر خوشی و مسرت کا احساس بکھیر دیتا ہے۔ جو پریشانیوں میں غمخوار بنتی ہے ، حوصلہ ٹوٹے تو صبر و ہمت کی چٹان بن جاتی ہے ، مشکل وقت آئے تو قدم ساتھ ملا کر چلتی ہے ، کچھ چھن جائے ، محرومی کا سامنا ہو تو دکھ بانٹ لیتی ہے ۔ جی ہاں یہ سب ایک عورت ہی کرتی ہے کیونکہ وہ گھر میں کمتر یا برتر نہیں بلکہ زندگی کا حصہ ہے ۔ یہ رشتہ دونوں کو شامل کرکے ہی تکمیل پاتہ ہے ۔ جب کسی کے بغیر آپ کچھ بھی نہیں تو اس سے مقابلہ کیسا ؟؟ کونسی برتری اور کمتری کا سوال ؟؟ہم کیوں اپنے ہاں “کھانا خود گرم کر لو والی” اور” میرا جسم میری مرضی “والی غلط فہمیوں کا شکار خواتین کی باتوں کو ڈسکس کرکے وقت ضائع کریں۔ جہاں خاوند اپنی خواہشات ، آرام ، سکون حتی کہ صحت تک کی قربانی دیکر بیوی کی خوشیوں کا سامان کرتا ہو ، اس کے چہرے کی مسکراہٹ کی خاطر ہر مشکل و مصیبت کو جھیل جائے تو اس گھرانے کی ملکہ اپنے سرتاج کے لئے کھانا شوق سے پکاتی بھی ہے اور گرم بھی کر دیتی ہے ۔ اور اگر کبھی تھکن ، بیماری یا کسی بھی اور وجہ سے نہ بھی کر سکے توخاوند کے خود کھانا گرم کرنے میں حرج ہی کیا ہے جب بیوی بھی ہر قربانی کے لئے تیار رہتی ہو تو اتنا سا کام تو کر ہی لینا چاہیے ۔ دراصل یہ بحث تو ہماری ہے ہی نہیں کسی نے ایویں ہی کسی بھولی خاتون کو مغالطے میں ڈال دیا ہے۔ جو زندگی کا حصہ ہو ، خوشی کا باعث ہو ، دکھ سکھ کی ساتھی ہو اسکے ساتھ ایسے مقابلے نہیں کئے جاتے ۔ وہ کھانا گرم کر کے دے یا کبھی خود کرنا پڑ جائے ۔ یہ بھی زندگی کاایک دلکش پہلو ہی ہوتا ہے جو انمول یادیں جنم دیتا ہے۔

 

بیکن ہاؤس سکول سسٹم دی ایجوکیٹرز اور نظریاتی زوال!!!

کہتے ہیں اگر کسی قوم کو تباہ و برباد کرنا ہو تو اس کی نئی نسل کے ہاتھ سے کتابیں اور قلم چھین لو اور ان کو خواب اور موسیقی کے آلات تھمادو ساری عمر پھر وہ نئی نسل ان خوابوں اور سرابوں کے دھوکے میں غرق خود اپنے آباؤ اجداد کے مذہب اور نظریات کا قلع قمع کرتے رہیں گے جبکہ دشمنوں کو اپنے تیر و تلوار استعمال کرنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔

اوائل اسلام سے اگلے ایک ہزار سال تک مسلمان گرتے پڑتے سنبھلتے بنتے اس دنیا کے آدھے حصے پر محکم رہے لیکن گزشتہ چار سو سال سے مسلمان محکوم بنتے بنتے اب مظلوم بن گئے ہیں کیونکہ ان کی نئی نسل کو ایسے خوابوں اور سرابوں میں دشمنوں کے خفیہ آلہ کاروں نے جکڑا ہے جن سے جان چھڑانا تقریباً ناممکن ہوچکا ہے۔

تعلیم نصاب تعلیم معلمین اور طلباء وطالبات وہ رخنے ثابت ہوئے ہماری لاپرواہی اور لاغرضی کی بدولت کہ اب یہ ایک طاقتور مافیا بن کر ابھرے ہیں اور ان کی بدولت دشمن و طاغوت اسلام اور پاکستان پر بیک وقت حملہ آور ہوکر بہت بھیانک نقصان پہنچا رہے ہیں۔

زمین دوز منفی تعلیمی سرگرمیاں یا یوں کہہ لیں کہ اسلام کو دیمک لگانے والی تعلیم اور باطل نظریات کی تدریس اور ترویج کا محفوظ اور محدود سلسلہ مدرسہ نظام المک طوسی کے مقابلے حسن بن سباح نے متعارف کروایا باقاعدہ منظم انداز میں تاکہ نئی مسلمان نسل میں اسلام اپنی اصلیت کھودے توحید اور ختم نبوت ﷺرگیدی جائے اور مسلم غیرت و حمیت کا ایسا جنازہ نکلے کہ جس کو قبر میسر نہ آئے اور طاغوت کو کھل کر اس زندہ لاش کا مثلہ کرنے کا موقع ملے۔

وہی حسن بن سباح کے روحانی چیلے چپاٹے آج بھی کسی نہ کسی شکل اور کردار میں زندہ ہیں اور وہی انداز سباحی اپنا کر اسلام اور پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں مصروف ہیں۔

ستر سال قبل اسلام کے نام پر بننے والی ایک نظریاتی ریاست پاکستان کو بننے سے روکنا جب ناممکن ہوگیا تو طاغوت نے نظاموں اور رویوں کی چال چلی۔

خود عمر لاء اور اسلامی قوانین شہریت اپنانے والے غیر مسلم آقاؤں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ مسلمان بلخصوص یہ نئی نظریاتی ریاست پاکستان کسی صورت ان اسلامی قوانین شہریت اور عمر لاء سے واقف نہ ہو جن کی بدولت یہ غیر مسلم آقا ترقی تعلیم اور انصاف کی راہوں پر گامزن ہیں اور اگر پاکستانی مسلمان واقف ہو بھی جائیں تو چاہتے ہوئے بھی یہ ہمارے مجوزہ نظاموں کی گرفت سے نہ نکل پائیں۔

سرکاری سکولز اور درسگاہوں کی بات کریں تو وہاں لارڈ میکالے کا نظام تعلیم اور ملغوبہ نصاب تعلیم کی بدولت بس لکیر کے فقیر اور کلرک بادشاہ ہی پیدا ہوئے اور جب اگلی انتہا جدت و ترقی کی جانب یہ نئی ریاست کے باسی متوجہ ہوئے تو ان کے سابقہ اور موجودہ آقاؤں کو فکر لاحق ہوگئی کہ اگر یہ تعلیم اور نصاب تعلیم میں آزادی اور انقلاب اپنے اسلامی اصولوں کے مطابق لے آئے تو پھر ہمارے آگے کون جھکے گا اور کس طرح ہم اسلام اور صلیب کی جنگ میں اسلام کو نظریاتی و انقلابی شکست دیکر فتحیاب ہوسکیں گے صرف اپنی فوج اور ہتھیاروں اور باطل نظریات کی بدولت؟

لہذا پھر مشرف دور حکومت میں نصاب تعلیم پر مشق ستم شروع کی گئی جو پوری طرح کامیاب نہ ہوسکی تو نجی درسگاہوں کی زنجیر کی داغ بیل ڈالی گئی جس سے سرکاری نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کو نکال باہر کرنا آسان ہدف ثابت ہوا اور یہ آگے چل کر طاغوت کو ایک انقلابی و مہلک ہتھیار کی صورت کام آیا۔

بیکن ہاؤس سکولز سسٹم اور بعد از کامیابی دی ایجوکیٹرز کی بنیاد ڈالی گئی جس نے آہستہ آہستہ نظریہ پاکستان عقیدہ توحید اور ختم نبوت ﷺکی بنیادیں ہلا ڈالیں ہماری نئی نسل کے اذہان میں۔

آج ان دو اور ان جیسے دیگر ملتے جلتے ناموں والی درسگاہوں کی زنجیر میں ہماری نئی نسل کا 75% فیصد معاشرتی حصہ جکڑا ہوا ہے والدین کی رضا و رغبت سے۔

یہاں سے فارغ التحصیل طلباء کو بغیر تعارف پہچاننے کی چند نشانیاں ہیں۔

— اسلام و پاکستان بیزار ہونگے۔

— قرآن و حدیث کے منکر ہونگے۔

— نظریہ الحاد و لبرل ازم کے دلدادہ ہونگے۔

— سوال کا ہتھیار ہاتھ میں لیکر ہر اسلامی شعار اور پاکستانی روایت کا قلع قمع کرتے ہوئے پائے جائینگے۔

— بظاہر فریڈم آف سپیچ اینڈ ایکسپریشن کے علمبردار جبکہ دراصل ہیٹ سپیچ کے علمبردار ہونگے۔

— تمیز اور تہذیب سے کوسوں دور اور اڑیل ٹٹو ہونگے۔

— جہاد نظریہ پاکستان اور افواج پاکستان کے شدید ناقد ہونگے بناء دلیل۔

— موسیقی رومانس مخلوط میل جول کھیل کود سیکیولرزم اور پیس فار ورلڈ کے رسیا ہونگے۔

غرض ایسی اور بہت سی منفی اور تابناک نشانیاں اپنے مشاہدے اور تجربے میں آپ کو دیکھنے اور سننے کو ملیں گی جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ موجودہ دور کے حسن بن سباح اور لارڈ میکالے کس قدر کامیاب ہیں۔

میری نظر میں یہ بیکن ہاؤس سکول سسٹم تب کَھلا جب 2005ء میں میرے ایک کزن نے یہاں داخلہ لیا اور اسکی زبانی مجھے جو باتیں پتہ چلیں انہوں نے مجھے بے چین کیا۔

ایک تو اردو کو حقیر اور کمتر زبان کے طور پر وہاں بات بات پر ذلیل کیا جاتا ہے طلباء کو اس کے استعمال سے بزور سختی روکا جاتا ہے۔

دوم اسلام اور تاریخ اسلام کا مثبت ذکر وہاں کے پالیسی سازوں اور احساس کمتری کے شکار معلمین کو ناگوار گزرتا ہے۔

سوم نظریہ پاکستان اور تاریخ پاکستان کو وہاں مسخ کرنا اولین مقاصد میں شامل ہے یہی وجہ ہے کہ وہاں کا فارغ التحصیل طالبعلم محمد علی جناح و دیگر بانیان پاکستان کے متعلق بری طرح کنفیوز ہے کہ وہ مسلمان ریاست کے خواہاں تھے یا سیکیولر؟

اس سکول سسٹم میں موسیقی ڈانس مصوری اور مخلوط طرز تعلیم نچلے درجے سے اوپری درجے تک اس طرح لازم ہے جیسے اسلام میں کلمہ ،نماز ،روزہ ،زکاۃ،حج اور جہاد۔

پھر جیو نیوز کی طرح اس سکول کا بھی “امن کی آشا” اور “سیفما” نامی کیمپینز سے چولی دامن کا تعلق ہے۔

جو کام جیو نیوز “ذرا سوچئے” کہہ کر عوام کی رائے عامہ خراب اور مرضی کی سمت میں استوار کرتا ہے وہی کام یہ سکول سسٹم بڑے دھڑلے اور ہٹ دھرمی سے اپنے معلمین اور نصاب تعلیم کے ذریعے اپنے طلباء و طالبات بلخصوص نئے طلباء و طالبات میں کرتا ہے۔

آپ کو ذرا سی تحقیق اور تگ و دو اس سکول سسٹم کی ان اندھیری وادیوں میں لا کر چھوڑے گی جہاں آپ کو فقط بغاوت اور نفرت ہی ملے گی۔

— اسلام خالق و پیغمبر سے بغاوت اور نفرت۔

— پاکستان نظریہ پاکستان اور تاریخ پاکستان سے بغاوت اور نفرت۔

— معاشرتی روایات اور تہذیب و اخلاقیات سے بغاوت اور نفرت۔

جدت و ترقی آزادی رائے اظہار اور سائنس و فن کے نام پر آپ کو یہاں ایک ایسی شتر بے مہار نسل نظر آئے گی جن کا اوڑھنا بچھونا تین وہ چیزیں وہ طریقہ کار وہ نظریات اور وہ معمولات بن چکی ہیں جو ایک منظم پروگرام کے تحت باقاعدہ داخل کی گئیں ٹرپل ایس پروگرام کے نام سے اور جس کی خبر راقم 2006 سے ببانگ دہل دے رہا ہے پر نقار خانے میں طوطی کی صدا والی بات ہورہی ہے۔

جی ہاں بیکن ہاؤس سکول سسٹم اور دی ایجوکیٹر دراصل عالمی صہیونی خفیہ معاشرے فری میسن کے اس ایجنڈے اس پروگرام کے تحت چلائے جارہے ہیں جس کی بدولت ہماری نئی نسل اس دلدل میں ناک ناک دھنس چکی ہے اور جس کو نکال لانا تقریباً ناممکن ہوچکا ہے۔

نئے قارئین کی دلچسپی اور معلومات برقرار رکھنے کو بتادوں کہ ٹرپل ایس پروگرام دراصل ہے کیا؟

ٹرپل ایس پروگرام SSS Program دراصل یہودی پروٹوکولز اور فری میسنری ایجنڈے کا نچوڑ ہے۔

ان تین ایس کی کہانی یہ ہے کہ

اول S ایس مخفف ہے سپورٹس مطلب کھیل کود ناچ گانے اور ہلے گلے کا۔

دوسرا S ایس مخفف ہے سیکس مطلب مخلوط تعلیم میل جول اور آزاد جنسی آسودگی کا۔

اور تیسرا S ایس مخفف ہے سیکیولرزم مطلب لادینیت ترک نظریات اور آزادی رائے اظہار کا۔

اب آپ خود ہی اندازہ کرلیں کہ کیا بیکن ہاؤس سکول سسٹم اور اس کا ذیلی ادارہ دی ایجوکیٹرز اور ان کی اعلی تعلیمی درسگاہیں کیا اسی ایجنڈے اسی پروگرام کی پروردہ اور فیکٹریاں نہیں؟

جو لوگ آج اس سب کو دیکھ کر فکر مند ہورہے ہیں جو کہ اچھی بات ہے لیکن اگر تب ہی میرے جیسوں کی کوہار پر لبیک کہتے تو آج ہم ایک نسل کی خراب فصل نہ کاٹ رہے ہوتے جو اب ہمارے ہاتھ سے نکل چکی ہے اور ہم ان کو واپس شاید اب نہیں لاسکتے لیکن ہم اگلی اور نئی نسل کو اس خطرناک پروگرام اور زمین دوز تعلیمی دہشتگردی سے بچا سکتے ہیں۔

المختصر یہ کہ بیکن ہاؤس سکول سسٹم اور دی ایجوکیٹرز جیسی تعلیمی دہشتگرد درسگاہیں فقط غدار وطن ملحد اور گستاخ رسول ہی پیدا کررہی ہیں جن سے ہمارا روز ادھر سوشل میڈیا اور عام معاشرے میں واسطہ پڑتا ہے۔

اب ہم کتنے غدار وطن مرتد اور گستاخ رسول ﷺسولی لٹکا لیں گے چاہ کر بھی لہذا اس فتنے کی جڑ ہی کاٹ دو جو ان کو پیدا کررہی ہے۔

میں اور میرے رفقاء ملکر اب اسی لیئے باجماعت اس فتنے کی سرکوبی میں جت گئے ہیں کہ ہماری ایک نئی نسل اب پروان چڑھ رہی ہے وہ تو کم از کم اس فتنے سے دور رہ کر بچ سکے لہذا آپ سب قارئین سے ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ آئیے اور ہر فورم پر اپنی اولادوں کی خاطرہمارا بھرپور ساتھ دیں۔شکریہ

رسول اللہ ﷺ کی جدائی اور صحابہ کرام کا غمناک عالم

محترم قارئین ! صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نبی کریم ﷺ سے بے تحاشا محبت کیا کرتے تھے نبی معظم علیہ السلام پر اپنی جان مال و دولت قربان کر دینا اپنے لیے بڑی سعادت سمجھتے تھے ۔ نبی کریم ﷺ کی وفات کے دن جیسے قریب آئے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بہت زياده اشكبارہوئے جیسا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ :

خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ خَيَّرَ عَبْدًا بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ فَاخْتَارَ مَا عِنْدَ اللَّهِ ‏‏‏‏‏‏فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ فِي نَفْسِي:‏‏‏‏ مَا يُبْكِي هَذَا الشَّيْخَ؟ إِنْ يَكُنِ اللَّهُ خَيَّرَ عَبْدًا بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ فَاخْتَارَ مَا عِنْدَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الْعَبْدَ ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا أَبَا بَكْرٍ لَا تَبْكِ ‏‏‏‏‏‏إِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا مِنْ أُمَّتِي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ وَمَوَدَّتُهُ لَا يَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ بَابٌ إِلَّا سُدَّ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا بَابُ أَبِي بَكْرٍ

ایک دفعہ رسول اللہ نے خطبہ میں فرمایا : بےشک اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو اختیار دیا ہے کہ وہ دنیا میں رہے یا جو اللہ کے پاس ہے اسے اختیار کرے۔ تو اس نے وہ پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے۔یہ سن کر سيدنا ابوبکر صدیق  رونے لگے۔میں نے اپنے دل میں کہا: یہ بوڑھا کس لیے روتا ہے؟بات تو صرف یہ ہے کہ اللہ نے اپنے ایک بندے کو دنیا یا آخرت دونوں میں سے جسے چاہے پسند کرنے کا اختیار دیا ہے اور اس نے آخرت کو پسند کیا ہے۔ (تو اس میں رونے کی کیا بات ہے)؟ مگر بعد میں یہ راز کھلا کہ بندے سے مراد خود رسول اللہ تھے اور سیدنا ابوبکر صدیق ہم سب سے زیادہ سمجھنے والے تھے۔ پھر رسول اللہ نے فرمایا: ابوبکر تم مت روؤ، میں لوگوں میں سے کسی کے مال اور صحبت کا اتنا زیر بار نہیں جتنا ابوبکر کا ہوں۔ اگر میں اپنی امت سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن اسلامی اخوت و محبت ضرور ہے۔ دیکھو! مسجد میں ابوبکر کے دروازے کے سوا سب کے دروازے بند کر دیے جائیں۔ (صحیح بخاری : 466 )

اور اسی طرح ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے متعلق فرماتی ہیں :

دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ فَبَكَتْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَعَاهَا فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ فَضَحِكَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ سَارَّنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَبَكَيْتُ ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ يَتْبَعُهُ فَضَحِكْتُ .

مرض الموت میں رسول اللہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور آہستہ سے کوئی بات ان سے کہی جس پر وہ رونے لگیں ، پھر دوبارہ آہستہ سے کوئی بات کہی جس پر وہ ہنسنے لگیں پھر ہم نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتلایا : نبی کریم نے مجھ سے فرمایا تھا : آپ کی وفات اسی مرض میں ہو جائے گی میں یہ سن کر رونے لگی دوسری مرتبہ آپ نے مجھ سے جب سرگوشی کی تو یہ فرمایا : آپ کے گھر کے آدمیوں میں سب سے پہلے میں آپ سے جا ملوں گی تو میں ہنسی تھی۔

 ( صحیح بخاری : 4433 )

جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نبی کریم ﷺکی جدائی کی خبر ملی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہر طرف تاریکی پھیل گئی جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے :

أَنَّ أَبَا بَكْرٍ خَرَجَ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُكَلِّمُ النَّاسَ ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اجْلِسْ يَا عُمَرُ ‏‏‏‏‏‏فَأَبَى عُمَرُ أَنْ يَجْلِسَ ‏‏‏‏‏‏فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ وَتَرَكُوا عُمَرَ ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ أَمَّا بَعْدُ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللَّهَ ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ ‏‏‏‏‏‏قَالَ اللَّهُ:‏‏‏‏ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ إِلَى قَوْلِهِ:‏‏‏‏ الشَّاكِرِينَ ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى تَلَاهَا أَبُو بَكْرٍ فَتَلَقَّاهَا مِنْهُ النَّاسُ كُلُّهُمْ ‏‏‏‏فَمَا أَسْمَعُ بَشَرًا مِنَ النَّاسِ إِلَّا يَتْلُوهَا ‏‏‏‏‏‏فَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ أَنَّ عُمَرَ ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ تَلَاهَا فَعَقِرْتُ حَتَّى مَا تُقِلُّنِي رِجْلَايَ وَحَتَّى أَهْوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ حِينَ سَمِعْتُهُ تَلَاهَا ‏‏‏‏‏‏عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ.

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے کچھ کہہ رہے تھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : عمر ! بیٹھ جاؤ ! لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے بیٹھنے سے انکار کیا اتنے میں لوگ عمر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے اور آپ نے خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا : امابعد ! تم میں جو بھی محمد کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ آپ اس دنیا فانی سے رخصت ہوچکے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو (اس کا معبود) اللہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اور اس کو کبھی موت نہیں آئے گی اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کہ محمد صرف رسول ہیں ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں ارشاد “الشَّاكِرِينَ ‏” تک ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا : اللہ کی قسم ! ایسا محسوس ہوا کہ جیسے پہلے سے لوگوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ہے اور جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تلاوت کی تو سب نے ان سے یہ آیت سیکھی اب یہ حال تھا کہ جو بھی سنتا تھا وہی اس کی تلاوت کرنے لگ جاتا تھا (زہری نے بیان کیا کہ) پھر مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے اس وقت ہوش آیا جب میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس آیت کی تلاوت کرتے سنا جس وقت میں نے انہیں تلاوت کرتے سنا کہ نبی کریم ﷺاس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں تو میں سکتے میں آگیا اور ایسا محسوس ہوا کہ میرے پاؤں میرا بوجھ نہیں اٹھا پائیں گے اور میں زمین پر گر جاؤں گا۔ (صحیح بخاری : 44)

اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :

مَرَّ أَبُو بَكْرٍ وَالْعَبَّاسُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِمَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الْأَنْصَارِ وَهُمْ يَبْكُونَ ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا يُبْكِيكُمْ ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ ذَكَرْنَا مَجْلِسَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَّا فَدَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ عَصَبَ عَلَى رَأْسِهِ حَاشِيَةَ بُرْدٍ ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ وَلَمْ يَصْعَدْهُ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ أُوصِيكُمْ بِالْأَنْصَارِ فَإِنَّهُمْ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَقَدْ قَضَوْا الَّذِي عَلَيْهِمْ وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ‏‏‏‏ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ .

سیدنا ابوبکر اور عباس رضی اللہ عنہما انصار کی ایک مجلس سے گزرے دیکھا کہ تمام اہل مجلس رو رہے ہیں پوچھا آپ لوگ کیوں رو رہے ہیں؟ مجلس والوں نے کہا : ابھی ہم رسول اللہ کی مجلس کو یاد کر رہے تھے جس میں ہم بیٹھا کرتے تھے (یہ آپ کے مرض الوفات کا واقعہ ہے) اس کے بعد یہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو واقعہ کی اطلاع دی بیان کیا کہ اس پر آپ باہر تشریف لائے سر مبارک پر کپڑے کی پٹی بندھی ہوئی تھی راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ منبر پر تشریف لائے اور اس کے بعد پھر کبھی منبر پر آپ تشریف نہ لا سکے آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ میرے جسم و جان ہیں انہوں نے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کی ہیں لیکن اس کا بدلہ جو انہیں ملنا چاہیے تھا وہ ملنا ابھی باقی ہے اس لیے تم لوگ بھی ان کے نیک لوگوں کی نیکیوں کی قدر کرنا اور ان کے خطا کاروں سے درگزر کرتے رہنا۔ (صحیح بخاری : 3799 )

 اور اسی طرح سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے

قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ نَزُورُهَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَكَتْ فَقَالَا لَهَا: مَا يُبْكِيكِ؟ مَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: مَا أَبْكِي أَنْ لَا أَكُونَ أَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ أَبْكِي أَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَاءِ فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ. فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ مَعَهَا   ( صحیح مسلم : 6318 )

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ کے انتقال کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمارے ساتھ ام ایمن کی ملاقات کے لئے چلو ہم اس سے ملیں گے جیسے رسول اللہ ان سے ملنے کو جایا کرتے تھے جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں دونوں ساتھیوں نے کہا : تم کیوں روتی ہو؟ اللہ جل جلالہ کے پاس اپنے رسول کے لئے جو سامان ہے وہ رسول اللہ کے لئے بہتر ہے ام ایمن رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں اس لئے نہیں روتی کہ یہ بات نہیں جانتی بلکہ اس وجہ سے روتی ہوں کہ اب آسمان سے وحی کا آنا بند ہو گیا ام ایمن کے اس کہنے سے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی رونا آیا پس وہ بھی ان کے ساتھ رونے لگے ۔

نبی كريم ﷺکی جدائی نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو انتہائی غمگین کردیا تھا سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کہیں گئے ہوئے تھے لیکن رحمة العالمین کے انتقال کی خبر ملنے کے فورا واپس مدینہ آئے آتے ہوئے ہی سیدنا رسول اللہ کے حجرہ مبارک میں داخل ہوئے سیدہ عائشہ ‌رضی اللہ عنہا سے مروی ہے :

أَنَّ أَبَا بَکْرٍ دَخَلَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ وَفَاتِہِ فَوَضَعَ فَمَہُ بَیْنَ عَیْنَیْہِ، وَوَضَعَ یَدَیْہِ عَلَی صُدْغَیْہِ وَقَالَ وَا نَبِیَّاہْ وَا خَلِیلَاہْ وَا صَفِیَّاہْ

نبی کریم ﷺکی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپﷺ کے پاس آئے اور اپنا منہ آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیان اور اپنے ہاتھ آپ ‌ﷺکی کنپٹیوں پر رکھے اور کہا: ہائے میرے نبی ! ہائے میرے خلیل ! ہائے اللہ کے منتخب نبی۔ ( مسند احمد : 11041 )

اوسط بن عمرو رحمہ اللہ سے مروی ہے :

قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِسَنَۃٍ، فَأَلْفَیْتُ أَبَا بَکْرٍ یَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ: قَامَ فِینَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَامَ الْأَوَّلِ فَخَنَقَتْہُ الْعَبْرَۃُ ثَلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ قَالَ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ! سَلُوا اللّٰہَ الْمُعَافَاۃَ فَإِنَّہُ لَمْ یُؤْتَ أَحَدٌ مِثْلَ یَقِینٍ بَعْدَ مُعَافَاۃٍ وَلَا أَشَدَّ مِنْ رِیبَۃٍ بَعْدَ کُفْرٍ وَعَلَیْکُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّہُ یَہْدِی إِلَی الْبِرِّ وَہُمَا فِی الْجَنَّۃِ وَإِیَّاکُمْ وَالْکَذِبَ فَإِنَّہُ یَہْدِی إِلَی الْفُجُورِ وَھمَا فِی النَّارِ

وہ کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺکی وفات سے ایک سال بعد میں مدینہ منورہ آیا میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ لوگوں سے خطاب کر رہے تھے انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺگزشتہ سال ہمارے درمیان کھڑے ہوئے یہ کہہ کر ان کی آواز آنسوؤں کی وجہ سے بند ہو گئی تین بار ایسے ہی ہوا بالآخر کہا لوگو ! اللہ سے عافیت کا سوال کرو عافیت کے بعد ایمان و ایقان جیسی کوئی نعمت نہیں جو بندے کو دی گئی ہو اور نہ کفر کے بعد شک و شبہ سے بڑھ کر کوئی سخت گناہ ہے تم صدق اور سچائی کو لازم پکڑو یہ انسان کو نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور صدق اور نیکی کا انجام جنت ہے اور تم جھوٹ سے بچ کر رہو یہ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے اور جھوٹ اور گناہ کا انجام جہنم ہے۔ ( مسند احمد : 12180 )

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :

قَالَتْ لِي فَاطِمَةُ :‏‏‏‏ يَا أَنَسُ كَيْفَ سَخَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا التُّرَابَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ (حديث موقوف) (حديث موقوف) وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا ثَابِتٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ ‏‏‏‏‏‏أَنَّ فَاطِمَةَ ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ حِينَ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَا أَبَتَاهُ إِلَى جِبْرَائِيلَ أَنْعَاهُ ‏‏‏‏‏‏وَا أَبَتَاهُ مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَا أَبَتَاهُ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَا أَبَتَاهُ أَجَابَ رَبًّا دَعَاهُ ‏‏‏‏‏‏قَالَ حَمَّادٌ:‏‏‏‏ فَرَأَيْتُ ثَابِتًا حِينَ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ بَكَى حَتَّى رَأَيْتُ أَضْلَاعَهُ تَخْتَلِفُ.

مجھ سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اے انس ! تمہارے دل کو کیسے گوارا ہوا کہ تم رسول اللہ پر مٹی ڈالو؟ انس رضی اللہ عنہ نے کہا : جب نبی اکرم کی وفات ہوئی تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہائے میرے والد، میں جبرائیل کو ان کے رخصت ہونے کی خبر دیتی ہوں ہائے میرے والد اپنے رب کے کتنے نزدیک ہو گئے ہائے میرے والد جنت الفردوس میں ان کا ٹھکانہ ہے ہائے میرے والد اپنے رب کا بلانا قبول کیا۔ حماد نے کہا: میں نے ثابت کو دیکھا کہ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد روئے یہاں تک کہ ان کی پسلیاں اوپر نیچے ہونے لگیں۔ ( سنن ابن ماجہ : 1630 )

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺکی وفات کا کس قدر غم اور دکھ تھا امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں:

دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِدِمَشْقَ وَهُوَ يَبْكِي ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَا يُبْكِيكَ؟ ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا أَعْرِفُ شَيْئًا مِمَّا أَدْرَكْتُ إِلَّا هَذِهِ الصَّلَاةَ ‏‏‏‏‏‏وَهَذِهِ الصَّلَاةُ قَدْ ضُيِّعَتْ

میں دمشق میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا آپ اس وقت رو رہے تھے میں نے عرض کیا : آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا : نبی کریم کے عہد کی کوئی چیز اس نماز کے علاوہ اب میں نہیں پاتا اور اب اس کو بھی ضائع کر دیا گیا ہے ۔(صحیح بخاری : 530)

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ جو نبی علیہ السلام کے یاران یار تھے کو نبی کریم کی جدائی کا اتنا دکھ وغم ہوا کرتا کہ آپ کسی کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا کرتے تھے حتی کہ لوگوں کہ سلام کا جواب دینا بھی آپ کےلیے مشکل ہوگیا تھا جیسا کہ مسند احمد کی روایت میں سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ:

أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَزِنُوا عَلَيْهِ، حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يُوَسْوِسُ، قَالَ عُثْمَانُ: وَكُنْتُ مِنْهُمْ فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي ظِلِّ أُطُمٍ مِنَ الْآطَامِ مَرَّ عَلَيَّ عُمَرُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَسَلَّمَ عَلَيَّ، فَلَمْ أَشْعُرْ أَنَّهُ مَرَّ وَلا سَلَّمَ، فَانْطَلَقَ عُمَرُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ: مَا يُعْجِبُكَ أَنِّي مَرَرْتُ عَلَى عُثْمَانَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلامَ؟ وَأَقْبَلَ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ فِي وِلايَةِ أَبِي بَكْرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَتَّى سَلَّمَا عَلَيَّ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: جَاءَنِي أَخُوكَ عُمَرُ، فَذَكَرَ أَنَّهُ مَرَّ عَلَيْكَ، فَسَلَّمَ فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلامَ، فَمَا الَّذِي حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَا فَعَلْتُ، فَقَالَ عُمَرُ: بَلَى وَاللَّهِ لَقَدْ فَعَلْتَ، وَلَكِنَّهَا عُبِّيَّتُكُمْ يَا بَنِي أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ: وَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ أَنَّكَ مَرَرْتَ بِي، وَلا سَلَّمْتَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: صَدَقَ عُثْمَانُ، وَقَدْ شَغَلَكَ عَنْ ذَلِكَ أَمْرٌ؟ فَقُلْتُ: أَجَلْ، قَالَ: مَا هُوَ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ: رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تَوَفَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ عَنْ نَجَاةِ هَذَا الْأَمْرِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَنْتَ أَحَقُّ بِهَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَجَاةُ هَذَا الْأَمْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَبِلَ مِنِّي الْكَلِمَةَ الَّتِي عَرَضْتُ عَلَى عَمِّي، فَرَدَّهَا عَلَيَّ، فَهِيَ لَهُ نَجَاةٌ

جب نبی کریم ﷺکا انتقال ہوا تو بعض صحابہ پر اس کا شدید اثر ہوا اور قریب تھا کہ ان میں سے بعض کی حالت غیر ہو جاتی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں بھی ایسے ہی لوگوں میں سے تھا میں ایک مکان کے سائے میں بیٹھا تھا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے انہوں نے مجھے سلام کہا لیکن مجھے ان سے گزرنے اور سلام کہنے کا علم ہی نہیں ہوا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جا کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے شکایت کی اور کہا: کیایہ بات آپ کے لیے تعجب انگیز نہیں کہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا میں نے انہیں سلام کہا لیکن انہوں نے سلام کا جواب تک نہیں دیا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہو چکے تھے وہ دونوں میرے پاس آئے دونوں نے مجھے سلام کہا اور پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا تمہارے بھائی عمر رضی اللہ عنہ نے میرے پاس آکر شکایت کی ہے کہ وہ تمہارے پاس سے گزرے اور سلام کہا مگر آپ نے انہیں سلام کا جواب نہیں دیا اس کی کیا وجہ تھی؟ میں نے عرض کیا : میں نے تو ایسا کیا ہی نہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کیوں نہیں؟ اللہ کی قسم! میں نے سلام کہا ہے اور آپ نے جواب نہیں دیا اے بنو امیہ! یہ تمہاری متکبرانہ عادت ہے میں نے عرض کیا اللہ کی قسم! مجھے تو پتہ ہی نہیں کہ آپ میرے پاس سے گزرے ہوں یا سلام کہا ہو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا عثمان رضی اللہ عنہ درست کہتے ہیں آپ کو رسول اللہ ﷺکی جدائی کا غم تھا اس لیے آپ ادھر توجہ نہیں دے سکے میں نے بھی کہا جی ہاں ایسے ہی ہے انہوں نے کہا کیا؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو موت دے دی اور ہم آپ سے یہ تو دریافت ہی نہیں کر سکے کہ قیامت کے دن اللہ کے عذاب سے نجات کیسے ہو گی؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں آپ ﷺسے اس بارے میں دریافت کر چکا ہوں پس میں اٹھ کر ان کی طرف گیا اور کہا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! واقعی آپ ہی اس بات کو دریافت کرنے کے زیادہ حق دار تھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے دریافت کیا تھا کہ اے اللہ کے رسول! قیامت کے دن اللہ کے عذاب سے نجات کیونکر ہوگی؟ رسول اللہ ﷺنے فرمایا تھا: میں نے جو کلمۂ اسلام اپنے چچا کے سامنے پیش کیا تھا مگر اس نے اسے قبول نہیں کیا تھا جو آدمی بھی میری طرف سے اس کلمہ کو قبول کر لے یعنی اس کا دلی طور پر اقرار کر لے تو یہی کلمہ(توحید) اس کی نجات کا ذریعہ ہو گا۔ ( مسند احمد : 11037 )

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانبی کریم کی جدائی کے دن یاد کرتے ہوئے بار بار رو پڑتے اور آنسو بہاتے رہتے سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا :

يَقُولُ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ثُمَّ بَكَى حَتَّى بَلَّ دَمْعُهُ الْحَصَى:‏‏‏‏ يَوْمُ الْخَمِيسِ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا أَبَا عَبَّاسٍ مَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ ائْتُونِي بِكَتِفٍ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا فَتَنَازَعُوا وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ مَا لَهُ أَهَجَرَ اسْتَفْهِمُوهُ ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ذَرُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ فَأَمَرَهُمْ بِثَلَاثٍ ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ وَالثَّالِثَةُ خَيْرٌ إِمَّا أَنْ سَكَتَ عَنْهَا وَإِمَّا أَنْ قَالَهَا فَنَسِيتُهَا ‏‏‏‏‏‏قَالَ سُفْيَانُ:‏‏‏‏ هَذَا مِنْ قَوْلِ سُلَيْمَانَ.

 جمعرات کا دن، آہ جمعرات کا دن کیسا(ہیبت ناک )تھا پھرروپڑےیہاںتک کہ آپ نے آنسوؤں سے کنکریاں  ترکردیں۔ میں نے عرض کیا: ابن عباس رضی اللہ عنہما ! جمعرات کا دن کیساتھا؟فرمایا: رسول اللہ کی بیماری سنگین ہوگئی تو آپ نے فرمایا: میرے پاس شانے کی کوئی ہڈی لاؤمیں تمہارے لیے کچھ تحریر کردوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔ اس کے بعدلوگ باہم جھگڑنے لگے، حالانکہ نبی کریم کے پاس جھگڑنا نہیں چاہیے تھا۔ لوگوں نے کہا: آپ کو کیاہوگیا ہے؟کیا آپ دنیا سے ہجرت فرمارہے ہیں؟اچھی طرح آپ کی بات سمجھو۔ آپ نے فرمایا: تم مجھے چھوڑ دو، میں جس حال میں ہوں وہ اس حال سے اچھا ہے جس کی طرف تم مجھے بلارہے ہو۔ پھر آپ نے انھیں تین امور کا حکم دیا۔ آپ نے فرمایا: مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو۔ اور دوسرے ممالک سے آنے والے وفد کو عطایا دو، جیسے میں انھیں عطا یاد کیا کرتا تھا۔ تیسری بات سے آپ نے سکوت فرمایا یاآپ نے بیان کی لیکن میں بھول گیا۔ سفیان فرماتے ہیں کہ یہ آخری مقولہ سلیمان راوی کاہے۔(صحیح بخاری : 3168)

رسول اللہ کی جدائی میں صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا جو عالم تھا وہ آپ قارئین پڑھ چکے ہیں اب ایک نظر ہمارے معاشرے پر بھی رکھیں کہ ان ایام میں ہم کیا سے کیا کیے جا رہے ہیں !!

۔۔۔

محبت رسول ْﷺ کے حقیقی تقاضے ، عملی زندگی میں سیرت کو اپنانے کی اہمیت

یہ بات تو بالکل اظهر من الشمس ہے کہ نبی معظم ہماری محبت کے محتاج نہیں ہم ان سے محبت کریں یا نہ کریں ان کی عزت،عظمت،مقام اور مرتبہ میں کوئی فرق نہیں آئے گالیکن اس کے برعکس رسول اللہ سے محبت کیے بغیر ہمارا گزارا نہیں ۔

نبی معظم سے محبت کے بغیر ہمارا اس دنیا میں آنے کا کوئی فائدہ نہیں جبکہ ایک مسلمان اور دشمن اسلام کی نشاندہی بھی اعمال کی وجہ سے ہوتی ہے ان اعمال میں بھی سب سے بڑ ارتبہ اور مقام نبی کو ہی حاصل ہے ۔

قارئین کرام! آپ یہ بات جانتے ہیں کہ محبت کرنے والا اپنے محبوب کےلئے کیا کچھ کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے محب اپنے محبوب کو ہر وقت اپنی آنکھوں کے سامنے اور حالت مسرت میں دیکھنا پسند کرتا ہے اور وقت آنے پر وہ اپنے محبوب کے اشارے پر جان کی بازی لگانے کے لئے تیار ہو جا تا ہے وہ اپنے محب کی کسی بات کو ٹھکرانا گوارہ نہیں کرتا بلکہ فورا ماننے کے لئے تیارہو جانا اس کی محبت کا دستور قرار پاتا ہےحالانکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے محبوب کے دل میں اس کے لئے کیا راز مخفی ہے وہ محبوب کا حال دل جانے بغیر بھی اس کو اتنا پسند کرتا ہے کہ دنیا میں اس کو اپنے محبوب کے بغیر ہر چیز دھندلی محسوس ہوتی ہے وہ محبت میں اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ وہ اپنے محبوب کی ہر چھوٹی بڑی عاد ت کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے بلکہ وہ اپنی زندگی کو ہر حال میں اسی طرح ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔

قارئین کرام!یہ تو ایک اس شخص کا معاملہ ہے جو دنیا کے محبوب کے لئے یہ سب اعمال کرتا ہے اور دوسری طرف ہم مسلمان ہیں جو ہر وقت نبی کریم سے محبت کے جھوٹے دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں اور بعض اوقات تو یہ گرم جوش نعروں کی آڑ میں حدوداللہ کو پامال کر بیٹھتے ہیں اور جب وہ یہ پامال کر بیٹھتا ہے تب وہ دین اسلام میں نئی ایجادات کا ادخال وادراج کرتا ہے جس کا دین اسلام سے اور نبی کریم کی ذات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

محترم قارئین کرام!پیغمبر آخر الزمان کے ساتھ محبت ایمان کا ایک جزءہے نبی کریم سے محبت اور نفرت میںہی ایک انسان کے ایمان اور نفاق کا راز مضمر ہے اسی طرح کئی احادیث میں بھی رسول اللہ نے ہمیں اپنے ساتھ محبت کی ترغیب دے کر محبت رسول کے انداز اور طریقہ کو واضح کیا ہے ۔

عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللہُ لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ کُلِّ شَيْءٍ إِلَّا مِنْ نَفْسِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:لاَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، حَتَّى أَکُونَ أَحَبَّ إِلَيْکَ مِنْ نَفْسِکَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: فَإِنَّهُ الآنَ، وَاللہِ لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الآنَ يَا عُمَرُ(صحیح البخاری:6632 )

سیدنا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم نبی کریم کے ہمراہ تھے جبکہ آپ نے سيدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا۔ سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ میری جان کے علاوہ مجھے ہر چیز سے زیادہ ہیں۔ نبی کریمﷺ نے انہیں فرمایا: نہیں نہیں،مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! (ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا) جب تک میری ذات تمہیں اپنی جان سے بھی ذیادہ عزیز نہ ہو۔ سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: اللہ کی قسم! اب آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ نبی نے فرمایا: ”اے عمر! اب (تیرا ایمان مکمل ہوا ہے)۔“

قارئین کرام ! یہ حدیث محبت رسو ل پر ایک واضح اور روشن دلیل ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی اکرمﷺ سے اپنی جان سے زیادہ محبت کرکے ہی انسان ایک کامل مسلمان بن سکتا ہے اور نبی اکرمﷺ سے محبت میں کچھ کمی ہے تو وہ اس کے ایمان کے نقص کی دلیل ہے۔

یہ بات بھی آپ سب کے علم میں ہے کہ محبوب کے اپنے محب سے کچھ محبت کے تقاضے ہوتے ہیں جس کو پورا کرنا محب پر اجباری (ضروری ) ہوتے ہیں۔

اسی طرح ایک مسلمان جو اپنے محبوب رسول اکرم سے محبت کرتا ہے اس پر بھی کچھ تقاضے وارد آتے ہیں ۔

.4نبی اکرم سے محبت کے تقاضے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:

1 اطاعت رسول اللہ :

سب سے پہلا اور بنیادی تقاضہ جو ہم پر وارد ہوتا ہے وہ اطاعت رسول ہی ہے،نبی کریمﷺ کی اطاعت کے بغیر نہ تو محبت رسولﷺ ممکن ہے اور نہ ہی اطاعت کے بغیر نجات ممکن ہے اطاعت رسول کی ترغیب اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں کی ہے ۔

مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللهَ (النساء:80)

’’ اس رسول کی جو اطاعت کرے اسی نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی ۔‘‘

اس آیت قرآنی سےاطاعت رسول کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے ۔دوسری جگہ ارشا د فرمایا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَکُمْ (محمد:33)

’’ اے ایما ن والو!اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی اور اپنے اعمال ضائع نہ کرو ۔‘‘

اس آیت سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ معصیت رسول سے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں،جس شخص نے رسول اکرمﷺ کی اطاعت نہ کی اس کے اعمال کا کوئی فائدہ نہیں اگرچہ وہ لاکھ محبت رسول کے دعوے کرتا پھرے۔

2 امر بالمعروف والنہی عن المنکر :

محبت رسول اکرم کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ جن کاموں کا اللہ کے نبی نے حکم دیا ہے اس کو بغیر تأویلات کے عمل میں لایا جائے اور جن کاموں سے منع کیا ہے ان سے بغیر کوئی راستہ ڈھونڈے رک جائے چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ

کُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ (آل عمران:110)

’’ تم بہترین امت ہو ، نکالے گئے ہو لوگوں کو بھلائی کی طرف بلانے اور برائی سے روکنے کے لئے ۔‘‘

اس آ یت کریمہ سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ امت محمدیہ کو بہترین امت کہنے کی وجہ امر باالمعروف و النہی عن المنکر ہے ۔ ایک اور جگہ ارشاد ربانی ہے :

وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ( الحشر:7)

’’جو رسول اکرم تم کو عطا کریں اسے لے لواور جس سے منع کریں اس سے منع رک جائو ۔‘‘

یعنی محمد رسول اللہ کے دئیے ہوئے طریقہ پر عمل کرنا ہی ان سے محبت کا حقیقی تقاضا ہےکیونکہ محب اپنے محبوب کے اقوال واعمال بلا چوں چراں قبول کرکے اس کی پاسداری کرتاہے۔

3سنت مصطفیٰ کی نصرت ، تائید اور شریعت اسلامیہ کا دفاع کرنا سب مسلمان جا نتے ہیں :

نبی کریم نے جس مشن کی خاطر اپنا جان و مال قربان کیا ان کے بعد ان کے پروانے ان کے مشن کو جاری رکھنے کے لئے ہمہ وقت جانیں لٹا نے کے لئے تیار رہتے تھے اس مشن کے لئے کسی قسم کی بھی قربانی ان کے لئے باعث سعادت اورسرمایہ افتخار ہوتا ہے ۔

ہمارے نبی اکرم کا مشن لوگوں کو کفرو شرک کی وادیوں سے نکال کر نور توحید کی راہ پر گامزن کرنا تھا ، لاکھوں خدائوں کی بندگی سے نکال کر ایک اللہ وحدہ لا شریک کی بندگی میں لاناتھا ۔

اس مقصد کے لئے نبی اکرم نے اپنا وطن ، مال اور صلاحیتیں قربان کیں ۔

ہمیں چاہیے کہ اعلائے کلمۃ اللہ کیلئے دعوت و تبلیغ اور دین حق کی بالا دستی کے لئے اپنی ساری زندگی لگادیں ۔

رسول اللہ کی زندگی پر عمل کریں اور کسی بھی چیز کے بدلے اپنے ایمان کا سودا نہ کریں اور ہمیشہ سنت نبویﷺ کی تائید کرتے رہیں ،اسلام دشمن عناصر کا بہادری اور جرأت مندی کے ساتھ دفاع کریں اس پر فتن دور میں بغیر کسی فتن کا شکار ہوئے کتاب و سنت سے اپنا رشتہ مضبوط بنا لیں ۔

قارئین کرام!جب عملی زندگی میں سیرت رسول کو اپنانے کی بات آتی ہے تب ہم اپنے آپ کو بہت ہی پیچھے محسوس کرتے ہیں محبت رسول کے کھوکھلے دعوے تو ہر مسلمان کرتا ہے لیکن عملی میدان میں بہت سست اور کاہلی کا شکار ہے۔

آج ہمیں رسول اللہ کی زندگی کو اپنی زندگیوں میں اپنانا بہت ضروری ہے۔

چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

’’بلا شبہ رسول اللہ کی زندگی تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے۔‘‘ (الاحزاب:21)

جب ہم سیرت رسول کو اپنائیں گے تو نصرتیں اور فتوحات ہمارے قدم چومیںگی جس طرح ہم سے پہلے صحا بہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے چوما کرتی تھی۔

آج ہماری زندگیوں میں سیرت رسول کو اپنانے کی شدید ضرورت در پیش ہے کیونکہ دور حاضر کے مسلمان مغلوب اورذلت و رسوائی کا مقدر بنتے جارہے ہیں ،ہر جگہ مسلمان ظلم و بربریت کا شکا ر ہیں ہر گھڑی ہر لمحہ مسلمانوں کی مصیبتیں بڑھتی جا رہی ہیں ان سب پریشانیوں کی بنیادی وجہ سیرت رسول اللہﷺ کا ہماری زندگیوں سے نکل جانا ہے تو آج ہمیں اپنی زندگیوںمیں سیرت رسول کو اپنانا لازم ہے جس کے بغیر نہ ترقی ممکن ہے اور نہ نجات ۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں حقیقی معنوں میںمحبت رسول کے تقاضے پورےکرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)

سیرتِ رسول ﷺبزبانِ خادمِ رسول

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب نو سال کی عمر کو پہنچے تو ان کی والدہ محترمہ نے ان کو نبی علیہ الصلاة والسلام کی خدمت میں ان کی خدمت کے لیے پیش کیا جیسا کہ خود سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میری والدہ مجھے رسول ﷲ کے پاس لے گئیں او کہا : اے اﷲ کے رسول !

خُوَيْدِمُكَ أَلَا تَدْعُو لَهُ؟ قَالَ: اللَّهُمَّ، أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَأَطِلْ حَيَاتَهُ، وَاغْفِرْ لَهُ . فَدَعَا لِي بِثَلَاثٍ، فَدَفَنْتُ مِائَةً وَثَلَاثَةً، وَإِنَّ ثَمَرَتِي لَتُطْعِمُ فِي السَّنَةِ مَرَّتَيْنِ، وَطَالَتْ حَيَاتِي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ مِنَ النَّاسِ، وَأَرْجُو الْمَغْفِرَةَ (أدب المفرد:653)

 آپ کا یہ چھوٹا سا خادم ہے اس کے لیے دعا کیجیے۔ آپ نے دعا فرمائی : اے اﷲ ! اس کے مال واولاد میں برکت فرما ، اسے لمبی عمر عطا کر اور اسے بخشش دے۔ سیدناانس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے لیے تین مرتبہ دعاکی پس میں نے 103 اشخاص کو (اپنے دستِ مبارک سے)دفن کیا، اور میرے پھل دار درخت سال میں دو مرتبہ پھل دیاکرتےاور میری عمر اتنی لمبی ہوئی ہے کہ میں اپنے گھر والوں سے شرم محسوس کرتا ہوں۔ اب صرف چوتھی دعا باقی رہ گئی ہے یعنی مغفرت۔

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہے کہ:

خَدَمْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ

(صحیح مسلم : 6011)

میں نے ( تقریباً ) دس سال تک رسول اللہ کی خدمت کی ۔کے مطابق دس سال کے عرصے میں امام الانبیاء علیہ السلام کی سیرت کو جو خادم رسول سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے دیکھا اور نوٹ کیا وہ آگے بیان کیا جن میں سے مختصر چند پہلو آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں !

خادم رسول سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کائنات علیہ السلام کے حسن جمال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

كَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ، ‏‏‏‏‏‏أَزْهَرَ اللَّوْنِ لَيْسَ بِأَبْيَضَ أَمْهَقَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا آدَمَ لَيْسَ بِجَعْدٍ قَطَطٍ وَلَا سَبْطٍ رَجِلٍ أُنْزِلَ عَلَيْهِ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ فَلَبِثَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ وَقُبِضَ وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَبِيعَةُ:‏‏‏‏ فَرَأَيْتُ شَعَرًا مِنْ شَعَرِهِ فَإِذَا هُوَ أَحْمَرُ فَسَأَلْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ:‏‏‏‏ احْمَرَّ مِنَ الطِّيبِ

آپ آدمیوں میں متوسط تھے، نہ درازقد اور نہ پست قامت آپ کا رنگ چمک دار تھا، نہ خالص سفید اور نہ نراگندمی۔ آپ کے بال بھی درمیانے درجے کے تھے، نہ سخت پیچ دار(گھنگریالے)اور نہ بہت سیدھے۔ چالیس سال کی عمر میں آپ پر وحی نازل ہوئی۔ آپ دس سال مکہ میں رہے وحی نازل ہوتی رہی اور دس برس مدینہ میں رہے۔ جس وقت آپ کی وفات ہوئی تو آپ کے سراور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔ (راوی حدیث ) کہتے ہیں کہ میں نے آپ کے بالوں میں سے ایک بال دیکھا تو وہ سرخ تھا۔ میں نے پوچھا تو کہا گیا کہ یہ بال خوشبو کے استعمال سے سرخ ہو گیا ہے۔(صحیح بخاری:3547) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے

كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ الْيَدَيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ حَسَنَ الْوَجْهِ لَمْ أَرَ بَعْدَهُ وَلَا قَبْلَهُ مِثْلَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ بَسِطَ الْكَفَّيْنِ. ( صحیح بخاری : 5907 )

 نبی کریم کی ہتھلیاں اور قدم مبارک گوشت سے پُر تھے۔ میں نے آپ جیسا (خوبصورت) کوئی نہ پہلے

دیکھا ہے اور نہ بعد میں۔ آپ کی ہتھیلیاں کشادہ تھیں۔

اور فرمایا:وَلَا مَسِسْتُ خَزَّةً وَلَا حَرِيرَةً أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا شَمِمْتُ مِسْكَةً وَلَا عَبِيرَةً أَطْيَبَ رَائِحَةً مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (صحیح بخاری : 1973 )

اور میں نے کوئی ریشم اور مخمل رسول اللہ کی

ہتھیلیوں سے زیادہ نرم نہیں دیکھا اور نہ میں نے کوئی

مشک اور عنبر رسول اللہ کے پسینے کی خوشبو سے زیادہ خوشبودار سونگھا۔

نبی کریم ﷺکے بالوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا :

كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجِلًا لَيْسَ بِالسَّبِطِ وَلَا الْجَعْدِ ‏‏‏‏‏‏بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ

رسول اللہ کے بال درمیانہ تھے نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے اور نہ گھونگھریالے اور وہ کانوں اور مونڈھوں کے بیچ تک تھے۔ (صحیح بخاری:5905)

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا کہنا ہےکہ :

فَخَدَمْتُهُ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏فَوَاللَّهِ مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا ( صحیح بخاری : 6911 )

میں نے نبی کریم کی خدمت سفر میں بھی کی اور گھر پر بھی۔ واللہ ! نبی کریم نے کبھی مجھ سے کسی کام کے متعلق جو میں نے کر دیا ہو یہ نہیں فرمایا کہ : یہ کام تم نے اس طرح کیوں کیا اور نہ کسی ایسی چیز کے متعلق جسے میں نے نہ کیا ہو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ : یہ کام تم نے اس طرح کیوں نہیں کیا۔

خادم رسول سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت سے نبیء کائنات کا اخلاق حسنہ واضح ہوتا ہے کہ آپ علیہ السلام کس قدر شفیق ومہربان تھے کبھی بھی اپنے خادم کو کوئی تکلیف نہیں دی حتی کہ اف تک نہیں کھا اور ہمارے معاشرے کی طرف نظر دوڑائی جائے تو بالکل اس کے الٹ ہی نظر آتا ہے، ہماری زبان کے شر کی وجہ سے بعض لوگ راستہ بدل لیتے ہوں، ہمارے برے کردار سے بچنے کے لیے ہی لوگوں نے ہم سے ملنا چھوڑدیا ہو خدارہ ! اپنے پیارے پیغمبر علیہ السلام کا اخلاق پڑھیں اور غور کریں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ؟! آپ علیہ السلام اگر کسی مسلمان بھائی کو نہیں دیکھتے تو اس کے متعلق پریشان ہوجاتے اور صحابہ سے ان کے متعلق پوچھا کرتے جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:‏

أَنَّ غُلَامًا مِنَ الْيَهُودِ كَانَ مَرِضَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏  أَسْلِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ:‏‏‏‏ أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَسْلَمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ يَقُولُ:‏‏‏‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ بِي مِنَ النَّارِ ( سنن ابی داود : 3095 )

 ایک یہودی لڑکا بیمار هوا تو نبی اکرم اس کے پاس عیادت کے لیے آئے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے پھر اس سے فرمایا : تم مسلمان ہو جاؤ ، اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے سرہانے تھا تو اس سے اس کے باپ نے کہا: ابوالقاسم کی اطاعت کرو ، تو وہ مسلمان ہو گیا، آپ یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے: تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے اس کو میری وجہ سے آگ سے نجات دی ۔

ہمارے پیارے پیغمبر علیہ السلام تو یہودیوں کے بچوں سے بھی خیرخواہی کرتے جیسا کہ خادم رسول کا کہنا ہے۔

اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :

أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَأَتَى قَوْمَهُ فَقَالَ: أَيْ قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَوَاللهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَاءً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ فَقَالَ أَنَسٌ: إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا، فَمَا يُسْلِمُ حَتَّى يَكُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا ( صحیح مسلم : 6020 )

ایک شخص نے نبی کریم سے دوپہاڑوں کے درمیان ( چرنے والی ) بکریاں مانگیں ، آپ نے وہ بکریاں اس کو عطا کر دیں پھر وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا : میری قوم اسلام لے آؤ ، کیونکہ اللہ کی قسم!بیشک محمد اتنا مال عطا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ بھی نہیں رکھتے ۔ سیدناانس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : بے شک کو ئی آدمی صرف دنیا کی طلب میں بھی مسلمان ہو جا تا تھا ، پھر جو نہی وہ اسلام لا تا تھا تو اسلام اسے دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بڑھ کر محبوب ہو جاتا تھا ۔ مذکورہ سیرت رسول پڑھیں باربارپڑھیں اور اپنا کردار بھی ایک دفعہ ضرور دیکھیں کافر مشرک یہودی دور کی بات ہے ہم مسلمان اور مسلمانوں کے بچوں سے کیا سلوک کیا کرتے ہیں ؟!

سیدنا انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں

مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌(صحیح مسلم : 4280)

رسول اللہ‌ سے زیادہ میں نے بچوں پر رحم كرنے والا كوئی نہیں دیكھا۔

ایک روایت میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ

مَرَّ عليْنَا رسول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  ونحنُ صِبْيانٌ فقال: السَّلامُ عليْكُم يا صِبْيانُ(صحیح ابن حبان : 6323)

رسول اللہ ہمارے پاس سے گزرے ،ہم بچے ہی تھے۔آپ نے فرمایا:اے بچو! السلام علیکم ۔

گویا آپ علیہ السلام بچوں سے بے تحاشا پیار کرتے اور ان کی اخلاقی تربیت بھی کرتے ۔آپ علیہ السلام اگر کسی مسلمان کو نہ دیکھتے تو پریشان ہوجاتے اور ان کے گھر عیادت کےلیے جاتے ہم مسلمان بھائی کو دیکھ کر پریشان ہوتے ہیں یعنی اپنے مسلمان بھائی کی آمد پر خوش نہیں ہوتے اس کی تکریم نہیں کرتے بلکہ اسے ایذاء و تکالیف دیتے ہیں !سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے

كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ أَبُو عُمَيْرٍ قَالَ:‏‏‏‏ أَحْسِبُهُ فَطِيمًا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَالَ:‏‏‏‏ يَا أَبَا عُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟ نُغَرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَرُبَّمَا حَضَرَ الصَّلَاةَ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا، ‏‏‏‏‏‏فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ وَيُنْضَحُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُومُ وَنَقُومُ خَلْفَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَيُصَلِّي بِنَا (صحیح بخاری : 6203 )

نبی کریم حسن اخلاق میں سب لوگوں سے بڑھ کر تھے، میرا ایک بھائی ابوعمیر نامی تھا۔ بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ بچپن کا دودھ چھوٹ چکا تھا۔ نبی کریم جب تشریف لاتے تو اس سے مزاحاً فرماتے ’’يا أبا عمير ما فعل النغير‘‘ اکثر ایسا ہوتا کہ نماز کا وقت ہو جاتا اور نبی کریم ہمارے گھر میں ہوتے۔ آپ اس بستر کو بچھانے کا حکم دیتے جس پر آپ بیٹھے ہوئے ہوتے، چنانچہ اسے جھاڑ کر اس پر پانی چھڑک دیا جاتا۔ پھر آپ کھڑے ہوتے اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے اور آپ ہمیں نماز پڑھاتے۔ یعنی نبی کریمﷺانتہائی اچھے اخلاق کے مالک تھے اپنے صحابہ سے بے تحاشا پیار کرتے اور ان کے ہاں جاتے ان سے مزاح کیا کرتے ان کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ان کی تربیت کرتے انہیں دینی امور میں ترغیب دلاتے ۔آپ علیہ السلام عدل انصاف کے پیکر تھے کبھی بھی کسی سے نا انصافی نہیں کی ہر چھوٹے اور بڑے کو اپنا حق ادا فرمایا جیسا کہ امام زھری رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ : مجھے خادم رسول سیدنا انس بن مالک نے بتایا :

‏‏‏‏أَنَّهَا حُلِبَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ دَاجِنٌ وَهِيَ فِي دَارِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَشِيبَ لَبَنُهَا بِمَاءٍ مِنَ الْبِئْرِ الَّتِي فِي دَارِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْطَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدَحَ، ‏‏‏‏‏‏فَشَرِبَ مِنْهُ حَتَّى إِذَا نَزَعَ الْقَدَحَ مِنْ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلَى يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ وَخَافَ أَنْ يُعْطِيَهُ الْأَعْرَابِيَّ، ‏‏‏‏‏‏أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْطَاهُ الْأَعْرَابِيَّ الَّذِي عَلَى يَمِينِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ

 رسول اللہ کے لیے گھر میں پلی ہوئی ایک بکری کا دودھ دوہا گیا، جو انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی کے گھر میں پلی تھی۔ پھر اس کے دودھ میں اس کنویں کا پانی ملا کر جو انس رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھا، نبی کریم کی خدمت میں اس کا پیالہ پیش کیا گیا۔ آپ نے اسے پیا۔ جب اپنے منہ سے پیالہ آپ نے جدا کیا تو بائیں طرف ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور دائیں طرف ایک دیہاتی تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ ڈرے کہ آپ یہ پیالہ دیہاتی کو نہ دے دیں۔ اس لیے انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ابوبکر (رضی اللہ عنہ ) کو دے دیجیے۔ آپ نے پیالہ اسی دیہاتی کو دیا جو آپ کی دائیں طرف تھا۔ اور فرمایا کہ دائیں طرف والا زیادہ حقدار ہے۔ پھر وہ جو اس کی داہنی طرف ہو۔(صحیح بخاری : 2352 )

 آپ علیہ السلام حقوق العباد اور حقوق اللہ کی ادائیگی کے پورے پابند تھے بلکہ آپ ﷺہمارے لیے اسوہ تھے اور ہیں حقوق اللہ یعنی صوم صلاة صدقات خیرات میں سب سے آگے اور خوب اہتمام کرنے والے تھے جیسا کہ خادم رسول سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :

مَا كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَرَاهُ مِنَ الشَّهْرِ صَائِمًا إِلَّا رَأَيْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا مُفْطِرًا إِلَّا رَأَيْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا مِنَ اللَّيْلِ قَائِمًا إِلَّا رَأَيْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْتُهُ “( صحیح بخاری : 1973 )

 جب بھی میرا دل چاہتا کہ آپ کو روزے سے دیکھوں تو میں آپ کو روزے سے ہی دیکھتا۔ اور بغیر روزے کے چاہتا تو بغیر روزے سے ہی دیکھتا۔ رات میں کھڑے (نماز پڑھتے) دیکھنا چاہتا تو اسی طرح نماز پڑھتے دیکھتا۔ اور سوتے ہوئے دیکھنا چاہتا تو اسی طرح دیکھتا۔

۔۔۔

فلسفہ خیر و شراور حیاتِ انسانی

اس دنیا میں خوشی اور غم کے پیمانے ہر شخص کے لیے الگ ہیں، اکثر ایک کی خوشی دوسرے کے لیے غم یا دکھ کا باعث بنتی ہے۔ اسی طرح ہر انسان کے نزدیک خیر اور شر کے پیمانے اور اس کے احساسات جدا جدا ہیں۔بظاہر تو خیر وہ ہے جو انسانوں کی اجتماعیت کے لیے پسندیدہ اور قابل قبول ہوجب کہ اس کی معکوس شکل سواد اعظم کے لیے ناقابل قبول اور کراہیت آمیز ہو۔در اصل انسان خیر و شر دونوں کی بیک وقت صلاحیتوں کا حامل ہے ،جو بلا واسطہ ربّ کا ئنات سے انسان کی طرف منتقل ہوئی ہے۔پس فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا اس کی دلیل ہے۔

اس دنیوی زندگی میں انسان کے افعال کی دو ہی صورتیں ہیں فطری اور اخلاقی یا دیگر الفاظ میں اعضاء کے افعال اور دل کے افعال، چنانچہ ہمارا عمل اسی صورت میں اخلاقی ہو سکتا ہے جب کہ ہم اسے حالت اختیار میں کریں نہ کہ کسی دباؤ کے زیر اثر ۔اخلاقی فعل انسان کی اکتسابی ملک ہے ، اس کے بر خلاف علم وہبی ہے، کچھ تو وحی کے ذریعے سے اور کچھ روشنی طبع سے عطا ہوا ہے اگرچہ نزول وحی سے پہلے بھی انسان پر یہ فرض تھا کہ وہ اپنے خالق و مالک کو پہچانے، خیر و شر میں تمیز کرے، نیک، سچائی اور عدل کی زندگی بسر کرے۔سمیع و بصیر ہونے کی صلاحیت نے انسان کوعبدیت و اطاعت کا مکلف بنا یا ہے۔

قدرت نے انسان کے وجود میں فجور و تقویٰ کا مادہ رکھ کر اور اسے ارادہ و اختیار کی آزادی دے کر دنیا میں بھیجا ہے۔ اب یہ انسان کے اپنے اوپر منحصر ہے کہ وہ اچھائی اور برائی میں سے کس راستے کا انتخاب کر تا ہے اور اپنی زندگی کس ڈھب اور اور کن طریقوں پر گزارتا ہے۔انسان کا طرز زندگی دراصل عکس ہوتا ہے اس کی فکر اور سوچ کا ۔ انسان کے کردار پراس کی سوچ کا گہرا اثر پڑتا ہے۔جس طرح کے عقائد و نظریات ہوں گے ، اعمال بھی اسی کے مطابق ہوں گے۔گویا انسان کا نظریۂ زندگی ہی اس کے تمام اعمال و افعا ل پر حکمرانی کرتا ہے۔

ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ انسانی سوچ ایک اندرونی و ذہنی عمل ہے جس میں چیزوں اور واقعات کو مختلف انداز میں ترتیب دیا جاتا ہے۔یعنی سوچ ایک داخلی عمل ہے جو فرد کے ماضی کے تجربات ، مو جودہ حالات اورانسان کی اندرونی کیفیات سے متعین ہوتا ہے۔انسان حیوانات سے اسی بنا پر فائق ہے کہ حیوانات میں شعور ہے ، عقل نہیں ہے۔ جبکہ انسان میں عقل بھی ہے اور شعور بھی، چنانچہ اسی عقل و شعور کے امتزاج سے انسان غور و فکر کے مراحل طے کر کے اپنے لیے ہدایت کا راستہ تلاش کر لیتا ہے۔ تاریخ انسانی میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام اس حقیقت کا  بہترین نمونہ ہیں ۔ آپ نے غور و فکر کے مدارج طے کر کے ہی ذاتِ باری تعالیٰ کی معرفت حاصل کی اور وہ بالآخر راہِ ہدایت سے فیضیاب ہوئے تھے۔

مذکورہ بالا تمام حقائق کے علاوہ ایک اور بھی حقیقت نفس الامری ہے کہ انسان کے افکار و اعمال میں خیر و شر پھیلانے میںمعاشرے کا بھی بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ ایک طرف جہاں معاشرہ کی کچھ سعید ہستیاں انسانوں میں اعلیٰ اخلاق اور مہذب طرز زندگی کی راہ دکھاتی ہیں ان کی دنیا و دین کی بھلائیوں سے ان کے دامن بھرتی رہتی ہیں ، وہاں دوسری طرف معاشرہ کے ناسور اپنی

خباثتوں اور مجرمانہ ذہنیت کے تحت ایک تناؤ، خلفشار اور

اخلاقی قدرو ں کی پامالی کا سبب بنتے ہیں۔ ان کے راہ و رسم اور طرز عمل میں حق تلفیاں، نا انصافیاں، جبرو استبداد اور عصبیت پسندی کی روش نمایاں ہوتی ہے جس سے سماج میں ایک ہیجان ، احساس محرومی کی تلخیوں کا زہر انسانیت کی رگوں میں سرایت کر رہا ہوتا ہے جو معاشرہ کی رگوں میں مایوسیوں اور منفی سوچوں کا اندھیرا پھیلا رہا ہوتا ہے۔ اور یہ سب انفردادی اور اجتماعی سطح دونوں پر ہوتا ہے۔

در اصل قوموں کی بقا اور ترقی ان کی تہذیب و تمدن کی نشوونما اور ان کے اعلیٰ اخلاق اور احترامِ آدمیت پر منحصر ہوتی ہے۔

پروفیسر خورشید احمد اپنی تالیف ’’ اسلامی نظریۂ حیات‘‘ میں لکھتے ہیں:’’ اخلاق کا تعلق خدا اور بندے کے باہمی رشتے سے نہیںبلکہ ان تعلقات سے ہے جو انسانوں اور انسانوں کے درمیان قائم ہوتے ہیں۔معاشی لین دین ہویا سیاسی معاملات ، سماجی برتاؤ ہو یا افراد خاندان سے سلوک، اسلام سب کو اخلاقی اصولوں کے مطابق انجام دینے کی تعلیم دیتا ہے۔قرآن و سنت میں معاملات و معاشرت سے متعلق با لتفصیل ان کی صفات کا ذکر ہے جو خدا کو پسند یا نا پسند ہیں۔‘‘

خیر و شر کی دو ممکنہ صورتیں ظہور پذیر ہوسکتی ہیں۔ ایک فاعلی صورت اور دوسری مفعولی۔ فاعلی صورت میں ہم کسی کو خیر مہیا کر رہے ہوتے ہیں اور مفعولی حالت میں ہم خود کسی ذریعے یا وسیلے سے خیر حاصل کرتے ہیں۔بعینہٖ شر اور فساد کو پھیلانے میں بھی ہم کبھی فاعل اور کبھی مفعول کا کردار ادا کرتے ہیں، دانستہ یا نا دانستہ دونوںکیفیات میں ہم سے یہ اعمال صادر ہوتے ہیں۔ اس بات کو ایک اور انداز میں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہم اس دنیا میں اپنے طرز عمل سے ارد گرد کے لوگوں کو تہذیب ، انسانیت اور اعلیٰ قدروں سے قریب کر رہے ہوتے ہیں یا انھیں ان سب سے دور، دراصل ایک تبلیغ خاموشی کی زبان سے بھی ہوتی ہے، جسے بدن بولی کہتے ہیں، جبکہ بسا اوقات بڑے بڑے علمی، ادبی ، مذہبی مباحث ، فکری مقالات اور مکالماتِ فلاطون بھی بے تاثیر ہوجاتے ہیں ۔اس لیے کہ تربیت پیدا شدہ حالات کے درمیان رہنمائی کے ذریعہ کی جاتی ہے نہ کہ مجرد قسم کی وعظ خوانی کے ذریعہ۔ بقول شاعر     ؎

واعِظ کے پند سے دل پہ اثر کیا خاک ہو

خواہش دل اور ہے طرز بیاں کچھ اور

فرانسیسی سرجن اور بائیلوجسٹ ڈاکٹر الیکسس کیلر(alexis Carrel)اپنی کتاب (The Unknown Man) میں لکھتے ہیں: ’’موجودہ زندگی انسان کو ترغیب دیتی ہے کہ وہ دولت کو ہر ممکن ذریعہ سے حاصل کرے۔ لیکن یہ ذرائع دولت کے مقصد تک نہیں پہنچاتے ، یہ انسان میں ایک دائمی ہیجان اور جنسی خواہشات کی تسکین کا ایک سطحی جذبہ پیدا کر تے ہیں۔ ان کے اثر سے انسان صبر و ضبط سے خالی ہوجاتا ہے۔اور ہر ایسے کام سے گریز کرتا ہے جو ذرا دشوار ہوتا ہے۔‘‘ عالم انسانیت کی دورِ حاضر کی حالت کا جائزہ لیتے ہوئے ایسا نظرآتا ہے کہ تہذیب ِ جدید ایسے انسان پیدا کرہی نہیں سکتی جن میں فنی تخلیق،ذکاوت و جرأت اور فراست و دانش ہو۔یہی وجہ ہے کہ ہرملک کے صاحب اقتدار طبقے میں جس کے ہاتھوں میں ملک کی باگ ڈور ہے، ذہنی اور اخلاقی قابلیت میں نمایاں انحطاط واضح نظر آتا ہے۔ اس صورتِ حال میں کہ تہذیب جدید نے ان بڑی بڑی اور ناگزیر ضرورتوں اور احتیا جات کو کما حقہ پورا نہیں کیا جو انسانیت نے اس سے وابستہ کر رکھی تھیں۔ اوریہ تہذیب ایسے لوگ پیدا کرنے میں ناکام رہی جو ذہانت و فطانت اور ہمت و جرأت کے مالک ہوں اور تہذیب کو ان دشوار گزار راستے پر سلامتی و آسودگی کے ساتھ لے جاسکیں ، جس پر آج انسانیت ٹھوکریں کھا رہی ہے اور احترام آدمیت دنیاسے بتدریج مٹتا جا رہا ہے۔

جب تک سماجی روایات نہ بدلیں، محض قانون بنا نے سے کوئی فرق واقع نہیں ہوگا۔اس قسم کی چیزیں کبھی قانون کے ذریعہ نافذ نہیں ہوسکتیں ،دنیا کا قانون طبیعی طور پر تو نتیجہ خیز ہوسکتا ہے مگر اخلاقی طور پر فکر اور نظریے کو بدلے بغیر ثمر ور نہیں ہوسکتا۔یہی وجہ ہے کہ ریاست مدینہ میں حرمت شرا ب کو تین مراحل میں طے کیا گیا۔کسی چیز پر عامل ہونے کے لیے اولین شے ذہن سازی ہوتی ہے۔مکہ کی ۱۳ برس کی ذہن سازی نے وہ غیو ر، شجاع اور دین کی حمیت میں ڈوبے وہ سپاہی اور مجاہدین تیار کیے جو دین کی آبرو اور اس کی آبیاری کے لیے جان ہتھیلی پر رکھے پھرتے تھے۔وسائل کی کمی کسی میدان میں بھی ان کے پیروں کی زنجیر نہیں بنی۔بقول علامہ اقبال    ؎

کافر ہے تو شمشیر پہ کر تا ہے بھروسہ

مؤمن  ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

اس حیاتِ دنیوی میں اکثر و بیشتر خلافِ مزاج باتیں پیش آتی رہتی ہیں،زندگی تو نام ہے ناموافق باتوں کاسامنا کرتے ہوئے سفرحیات طے کرنا ۔ جو انسان جتنا زیادہ بامقصداور با اصول ذہن کا حامل ہو اتنا ہی زیادہ اس کو اپنی پسند اور مرضی کے خلاف معاملات کو برداشت کر نا پڑے گا۔اس صفت کی ضرورت دنیوی معاملات میں بھی پیش آتی ہے اور دینی معاملات میں بھی۔

ہم جس دنیا میں بستے ہیں وہ اسباب و علل کی دنیا ہے۔دنیا میں پیش آنے والے واقعات اور حادثات کسی نہ کسی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔اس میں کچھ ہم انسانوں کا اور کچھ تکوینی مصلحتوں کا عمل دخل ہوتا ہے۔لیکن ہر انسان اپنے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار حالات کا ذمہ دار دوسروں کو ہی گردانتا ہے ۔اپنا محاسبہ کرنا اس کے حاشیہ خیال میں ہی نہیں ہوتا۔اور اگر کبھی خیال آبھی جائے تو اس کا برملا اظہار کرنے کی جرأت ہی اس میں نہیں ہوتی۔اور وہ حاالات کی گتھی کو کبھی سلجھا نہیں پاتا۔ بقول شاعر    ؎

الٰہی   خیر  ہو  الجھن  پہ  الجھن  پڑتی  جا  تی  ہے

نہ  میر ا  دم  نہ  ان  کے  گیسو  کا  خم  نکلتا  ہے

لیفٹینیٹ کرنل (ر) عادل اختر اپنی تصنیف ’’ چہ باید کرد‘‘ میں رقم طراز ہیں :’’ اخلاقی اقدار کا امین درمیانہ طبقہ ہوتا ہے۔ہمت، حکمت ، علم اور عقل اس طبقے کی میراث ہوتی ہے۔اس طبقے کے اندر لڑنے مرنے اور آگے بڑھنے کا جوش و جذبہ ہوتا ہے۔مگر اس طبقے کی تعداد اور طاقت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔‘‘

فطری حالت میں نفس انسانی علم سے خالی ہوتا ہے۔ ارشاد الٰہی ہے: 

وَاللَّهُ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

’’ اور اللہ ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا جبکہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔اوراس نے تم کو کان اور آنکھیں اور دل (اور ان کے علاوہ اور اعضاء ) بخشے تاکہ تم شکر ادا کرو۔‘‘ ( النحل ۷۸)

اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ پیدائش کے وقت بچے کا ذہن یکسر صاف ہوتا ہے، ما سوا اس کی جبلی ضرورتوں، بھوک ، نیند ،موت وغیرہ۔جبکہ ہر پیدا ہونے والا بچہ اپنے اندر استعداداتِ علم (Faculties of Knowkedge ) ، سماعت و بصارت اور سوچنے والا دل بھی لے کر اس دنیا میں آتا ہے۔ چنانچہ یہ جبلی صلاحیتیں اس کا جوہر ہوتی ہیں جبکہ استعدادات علم کو تصرف میں لاکر اس کی شخصیت پر وان چڑھتی ہے۔اور اس کے نظریات، عقائد اور اخلاقی تصورات تشکیل پاتے ہیں۔ آدمی کے ذہنی ارتقا کے لیے لازمی ہے کہ اس کا پیدائشی جوہر اور اس کی شخصیت بیک وقت ترقی کرتے رہیں اور ایک دوسرے کی ہم آہنگی میں ایک دوسرے کے اوپر اثر انداز ہوں۔لیکن اکثر ان دونوں کا متوازی سفر کرنا محال ہوتا ہے۔جوہر غالب آجائے تو شخصیت مضمحل ہونے لگتی ہے اور شخصیت فوقیت حاصل کرلے تو جوہر سسکنے لگتا ہے۔

ہر انسان کے اندر ایک آدمی بھی ہوتا ہے۔اس فرق کے ساتھ کہ کچھ لوگوں میںآدمیت کا غلبہ ہوتا ہے اور کچھ میں انسانیت کا ترفع۔شعور ذات(Self Consiouness) کا صحیح ادراک آدمی کو انسان کے درجہ پر فائز کرتا ہےاور پھر وہ اپنی بالقوہ (Potential ) استعدادات و صلاحیتو ںکی کشادہ پگڈنڈیوں پر اپنے لیے وہ راہ اختیار کر تا ہے جو اسے اپنے خالق اور پالن ہار تک پہنچنے کے لیے روشنی دکھا تی ہے۔جب کہ محض آدمیت کا رنگ انسانی شخصیت کو مادی لذتوں کا ہی اسیر بنادیتا ہے۔اس لیے ہر آدمی کو اپنے باطن میں جھانک کر اپنا مقصد زندگی کو سمجھنا نا گزیر ہوتاہے۔خیر و شر کا اصل پیمانہ عقل و خرد کی روشنی میں ہی واضح نظر آسکتا ہے۔ورنہ نفس کی خواہشات کے ابھرتے تقاضے آدمی کو انسان بننے ہی نہیں دیتے۔

مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی ؒ ’’ اخلاق اور فلسفہ اخلاق‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ انسان اپنے نفس کی گہرائی میں ایک قوت محسوس کرتا ہے جو اس کو برے کام سے اس وقت روکتی ہے جب وہ اس کو کرنے پر ترغیب دیا جاتا ہے، اور وہ برابر اس کے درپے رہتی ہے کہ کسی طرح وہ اُس کو وہ عمل نہ کرنے دے ،اور وہ جب اس عمل کے کرنے پر ہٹ کرنے لگتا ہے،اور اس کو شروع کر دیتا ہے تو وہ اثناء عمل میں محسوس کرتا ہے اس قوت کے اثر کو نہ ماننے کی وجہ سے اُس کو راحت و سکون ِ قلب حاصل نہیں ہے۔ٍٍ

اسی طرح یہ قوت اُس کو واجب اور ضروری اعمال کے کرنے کا حکم دیتی ہے ،اور اگر وہ حکم کے زیر اثر اس کام کو کرنے لگتا ہے تو اس عمل کے دوام و استمرار پر اُس کو بہادر بناتی ہے، اور جب وہ اس کو مکمل کر لیتا ہے تو اطمینان اور راحت پاتا ہے اور نفس کی رفعت و بلندی کو محسوس کرتا ہے۔ایسی آمر وناہی (حکم کرنے والی اور منع کرنے والی) قوت کا نام ’’وجدان یا ضمیر ہے۔‘‘

انسانی نفس کا صدور روحِ مطلق سے ہوا ہے اور تمام افراد کی روحیں مل کر ایک جوہر بناتی ہیں جسے انسان مطلق یا روحِ انسانیت کہہ سکتے ہیں۔ لیکن ہرایک روح مادے کے اندر شامل ہے اور بتدریج غیر مادی بنتی ہے۔اس کام کے لیے اس میں بہت سی صلاحیتیں اور قوتیں موجود ہیں ۔ ان میں نظری قوتیں سب سے برتر ہیں کیونکہ علم ہی روح کی جان ہے۔

انسان کے افعال نیک اس وقت کہلاتے ہیں جب وہ اپنی فطرت اصلی کی پیروی کر تاہے،جو قابل تحسین نفس کا آزاد عمل ہے۔ پسندیدہ وہ کام ہے جو عقلی غورو فکر کے بعد کیا جائے اور مستحق جزاء یعنی عالم افلاک میں پہنچا دینے والی کائنات کے ناموس الٰہی کی پابند ی ہے۔اس کے لیے ناگزیرہے کہ قلب انسانی میں روحانی ترقی کی طلب ہو اس لیے سب سے افضل نیکی محبت ہے جو محبوبِ حقیقی یعنی اللہ تعالیٰ سے وصل کی طالب ہے اور اس آرزو کے اثر کے تحت انسان اس دنیوی زندگی میں بھی مذہبی روا داری سے کام لیتا ہے،مخلوق کا درد اسے اپنا درد محسوس ہوتا ہے۔اور وہ ہر برائی کو احسن طریق پر دور کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔قرآن حکیم کے اس حکم کے بموجب:

وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ  ( حٰم السّجدہ 34۔35)

’’ اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی ۔تو(سخت کلامی کا) ایسے طریق سے جواب دوجو بہت اچھا ہو،(ایسا کرنے سے تم دیکھوگے)کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی وہ تمھارا گرم جوش دوست ہے۔اور یہ بات انھیں لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو برداشت کرنے والے ہیں۔ اور ان ہی کو نصیب ہوتی ہے جوبڑے نصیب والے ہیں۔‘‘

 پروفیسر محمد منور نے اپنی تصنیف ’ برہانِ اقبال‘‘ میں لکھا ہے:

’’ایک اور بات جو قرآنِ حکیم کے مطالعہ سے واضح ہوتی ہے ، و ہ یہ ہے کہ تاریخ ِآدم حیوانی جبلتوں اور روح کے مابین ایک مستقل کشمکش کا نام ہے۔بقول ِ برگساں، ارتقا زندگی کی اس جدوجہد کا نام ہے جو وہ مادے کے تسلط سے نجات پانے کی خاطر عمل میں لاتی ہے۔مادہ مادے کی طرف کھنچتا ہے اور ظاہر ہےانسانی وجود میں ٹھوس وزنی حصہ مادے ہی کا ہے اور وہی بالعموم حاوی رہتا ہے۔روح کی لطافت کو محنت سے تقویت دینا پڑتی ہے،جب کہیں وہ وجود کے مادی حصے کو مادے کی نذر ہونے سے بچا پاتی ہے۔ انسان ذرا غا فل ہو تو پستی میںچلا جاتا ہے۔‘‘

خیر و شرکے مسئلے کو اس کے اصل تناظر میں سمجھنے کے لیے مجرد ہمار ا فہم علم اور سطحی مشاہدہ کافی نہیں ہے۔انسان کو ودیعت کیے ہوئے حواس خمسہ نے بلاشبہ کائنات کی بہت ساری گتھیوں کو سلجھا کر اس کو زندگی کی سہولتیں اور محیر العقول ایجادات و اختراعات سے نوازا ہے اس لیے عقل کی اہمیت سے کلّی طور پر انکار ممکن نہیں۔تاہم اللہ کی تائید و نصرت ساتھ نہ ہو تو بہت سے عقدے نہیں کھل پاتے اور انسان لاعلمی کے اندھیروں میں بھٹکتا رہتا ہے۔اس لیے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو علم ملا ہے اس کی قلت اور محدودیت کا اعتراف تو انسان ہی نہیں فرشتوں نے بھی کیا ہے، قرآن حکیم میں ملائکہ کا یہ قول نقل ہوا ہے:

قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ

’’انھوں نے کہا تو پاک ہے جتنا علم تونے ہمیں بخشا ہے اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں۔بیشک تو دانا (اور) حکمت والا ہے۔‘‘ (البقرہ ۳۲)

چنانچہ اسلام کی تعلیمات کے بغور مطالعہ کے بنا ہم نیکی و بدی اور خیر و شر کا صحیح فہم حاصل نہیں کرسکتے۔مجرد علم ہر گتھی کو سلجھانے میں مددگار ثابت نہیں ہوتا جب تک اللہ کی ہدایت رہنمائی نہ فرمائے۔قرآن حکیم نے جو خیر و شر کا نظریہ پیش کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ معروف اور جانی پہچانی چیز کو خیر کہتے ہیں۔فطرت جسے قبول کرنے میں سوچ بچار نہیں کرتی، مانوسیت کا ایک لطیف احساس انسان کو اپنے قلب و ذہن میں اترتا محسوس ہوتا ہے۔اور شر وہ ہے جسے منکر کا نام دیا گیا ہے۔ اور ہر قسم کے منکرات سے اجتناب کر نے پر مذہب زور دیتا ہے۔اور نہ صرف یہ کہ انسان بذاتِ خود بھی معروف پر عمل پیرا ہو اور منکرات سے بچے بلکہ دوسروں کو بھی اس کا حکم  دے اور اس کو کرنے سے روکے۔ازروئے قرآن حکیم:

وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

’’ اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چا ہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دےاور برے کاموں سے منع کرے۔ یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں۔‘‘ ( آلِ عمران ۱۰۴)

نیکی جو اپنے حقیقی تقاضوں کے ساتھ کی جائے وہی دراصل خیر اعلیٰ ہے۔اور اس خیر اعلیٰ کے لیے انسان کو اپنی کئی خواہشات اور آرزؤںکو دبانا پڑتا ہے، بیج کو زمین کے سینے میں دبا کر اس کی آبیاری کی جائے تب ہی وہ پہلے پودا اور پھر درخت بنتا ہے۔اسی طرح اگر انسان خود کو خواہشات اور نفس کے حصار میں مقید کر دے تو نیکی اپناپھیلا ہوا دامن سمیٹ لیتی ہے۔اور یوں ایک انسان خیرسمیٹتے سمیٹتے شر و فساد کے اس جال میں جا گرتا ہے جو شیطانی قوتوں نے روز ازل سے ہی ابن آدم کے لیے بچھایا ہوا ہے۔

جرمن فلسفی کانٹ (Immanuel kant) کہتا ہے کہ :

’’انسان اپنی زندگی دو قسم کے محرکات کے تحت گزارتاہے۔ایک حسی(Sensual) اور دوسراخلاقی (Moral) اور دونوں محرکات کے مابین ایک معنوی ربط و تعلق قائم رہتا ہے۔حسی محرکات کا اخلا قی محرکات کے تابع ہونا نا گزیر ہے ، اگرچہ عام طور سے ایسا ہوتا نہیں ہے ، اخلاقی محرکات حسی محرکات کے تابع ہوجا تے ہیں۔اور جونہی حسی محرکات اخلاقی محرکات میں مزاحم ہوتے ہیں ، یہ ’’ شر‘‘   بن جاتے ہیں۔اس لیے انسان میں فطری طور پر’’ شر‘‘ کا رجحان پایا جاتا ہے۔‘‘( بحوالہ:  اسلام اور فلسفہ از خان محمد چاولہ)

  ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمیں خیرو شر کے فلسفے کو اسلام کے نقطہ نظر سے بھی دیکھنا چاہئے۔ خالق ارض و سماء نے ہر انسان میں اپنی حکمت و مصلحت اور تکوینی اسرار کے تحت خیر وشرکے داعیات رکھے ہیں۔اس کا ایک جواب تو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:

وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا

’’ اور (قسم ہے) انسانی جان کی اور اس کی جس نے اسے سنوارا، پھر اس کے دل میں وہ بات بھی ڈال دی جو اس کے لیے بدکاری ہے، اور وہ بھی جو اس کے لیے پرہیزگاری ہے، فلاح اسے ملے گی جو اس نفس کو پاکیزہ بنائے، اور نامراد وہ ہوگا جو اس کو (گناہ میں)دھنسا دے۔ ‘‘ ( الشّمس ۷،۸،۹،۱۰)

قرآنِ حکیم کی آیات پر غور کرنے سے یہ حقیقت آشکارہوتی ہے کہ وہ خیر اور بھلائی کو کئی معنوں میں بیان کرتا ہے مثلاً ایک جگہ ارشاد ہے کہ:

وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

’’ اور تمہارے درمیان ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جس کے افراد(لوگوں کو ) بھلائی کی طرف بلائیں ، نیکی کی تلقین کریں ، اور برائی سے روکیں۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ (آلِ عمران ۱۰۴)

دراصل ہمیں اس عالم رنگ و بو میں جو شرنظر آتا ہے اس میں بھی کوئی نہ کوئی خیر کا پہلوپوشیدہ ہوتا ہے ، یہ اور بات ہے کہ وہ ہمیں نظر نہیں آتا۔ اس لیے کہ زندگی کے اسرار و رموز کو سمجھنے کے لیے بصارت نہیں بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے جو ہر ایک کو حاصل نہیں۔ اس کی دلیل سورۃ البقرہ آیت ۲۱۶ میںبیان ہوئی ہے۔

’’ یہ عین ممکن ہے کہ ایک چیز کو تم برا سمجھو حالانکہ وہ تمھارے حق میں بہتر ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو،حالانکہ وہ تمھارے حق میں بری ہو( اصل حقیقت تو اللہ) جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘

الشیخ ابن العربی ؒ نے اپنی تصنیف ’’  فُصُوص الحکم‘‘  میں لکھا ہے:’’ اللہ تعالیٰ نے ہر بندے کی چشم ِ بصیرت ایسی نہیں کھولی کہ اشیاء کی فطرت اور ان کی حالت نفس الامری کو جانتا ہو کیونکہ بعض اقتضائے عین سے عالم ہیں اور بعض جاہل ۔ اسی لیے نہ سب کی ہدایت چاہی ، نہ سب کی ہدایت کی اور نہ سب کی ہدایت چاہے گا۔‘‘

قدرت کے ہر کام میں خیرپنہاں ہوتا ہے۔’الوجود خیر کلہ‘   تمام وجود اپنی ذات میں خیر ہی خیر ہیں۔برسات اگر کوٹھی بنگلوں اور مضبوط مکانوں کے مکینوں کے لیے بارانِ رحمت ، مسرت اور تفریح طبع کا باعث ہوتی ہے تو کچے پکے مکانوں اور جھگیوں میں رہنے والوں کے لیے یہی بارش زحمت، تکلیف اور پریشانیوں کا ذریعہ بنتی ہے۔ مگر بظاہریہی تکلیف دہ چیز زمین میں بوئے گئے بیجوں کی آبیاری کے لیے، سوکھی اور پیاسی زمینوں پر لہلہاتی کھیتیوں ، غلہ ، پھل اور میوہ جات جیسی نعمت خداوندی کے حصول کے لیے قدرت کی بے پایاں نعمت ہے ۔ علاوہ ازیںیہی برسات فضا میں پھیلی کثافتوں کو اپنے شفاف پانی سے دھونے اوربہت سارے جسمانی عوارض سے شفا یابی کا باعث بھی بنتی ہے ۔ گویا بظاہر نظر آنے والا شر انسانوں کے لیے خیر ، بھلائی اور خوشحالی کی نوید لے کر آتا ہے۔ثابت یہ ہوا کہ خیر ہو یا شر دونوں ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر ہی خیر ہیں۔اور اس پر ایمان لانا ایک مؤمن کے لیے لازمی ہے۔سرورِ کائنات نے فرمایا:’’ بندۂ مؤمن کا معاملہ بھی عجیب ہے اس کے ہر معاملے اور ہر حال میں خیر ہی خیر ہے، اگرا س کو خوشی اور راحت و آرام ملے تو وہ اپنے ربّ کا شکر ادا کرتا ہے، اور یہ اس کے لیے خیر ہی خیر ہے، اور اگر اسے کوئی دکھ اور رنج پہنچتا ہے تو وہ(اس کو بھی اپنے حکیم و کریم ربّ کا فیصلہ اور اس کی مشیت یقین کر تے ہوئے) اس پر صبر کر تا ہے تو یہ صبر بھی اس کے لیے سراسر خیراور موجب برکت ہے۔‘‘( مسلم)

عمل کے میدان میں انسان ایک عجیب تضاد میں مبتلا رہتا ہے۔جب وہ بے لوث اور بے غرض ہو کر سوچتا ہے تو انسانوںکے بنیادی حقوق اور ان کی فلاح کی ایک ایمان دارانہ فہرست اس کی ترجیحات میں ہوتی ہے، جس میں عدل و انصاف اور قوانین کی پیروی بھی شامل ہوتی ہے۔ لیکن جب ان سب پر عمل کی باری آتی ہے تو یہی انسان اپنے مسلمہ اصولوں اور ترجیحات کے خلاف ، مفاد پرستی کو حق و انصاف کے تقاضوں پر ترجیح دیتا ہے۔اور اس طرح اپنے کردار و عمل سے اپنی ہی عقل کے مسلمہ تقاضوں کی تکذیب کا مرتکب ہوتاہے۔ دراصل انسانی عقل یہ بتا نے سے با لکل قاصر ہے کہ کون سی قوت ، مفاد پرستی پر حق و انصاف کے تقا ضوں کو مقدم رکھنے کی ضامن ہو سکتی ہے۔چنانچہ یہ ضمانت بھی مذہب ہی فراہم کرتا ہے۔قادر مطلق اور روز محشر ، محاسبۂ اعمال پر ایمان و یقین ہی اس کا واحد ضامن ہے۔اور اس ایمان پر پختگی اور صلابت کے لیے بہترین نمونہ رسول مکرم کی ذات مبا رکہ میں بدیہی طور پر موجود ہے۔ارشاد باری  تعالیٰ ہے:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ

’’ بلا شبہ تم لوگوں کے لیے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت کا امید وار ہو۔‘‘( الاحزاب  ۲۱)

انسان نہ آزاد مطلق و کامل مختارہے اور نہ مجبور ِ محض! انسان کے نفس میں اس کی آزادی کی تکمیل ہوتی ہے، لیکن وہ خارجی حالا ت کی وجہ سے محدود رہتی ہے۔اس طرح ہمارے افعال کی علت مؤثرہ خود ہم میں موجود ہے۔البتہ علت عرضیہ ہم سے خارج ہے، کیونکہ جو قوت ہم کو اپنی طرف کھینچتی ہے وہ ایک علیحدہ مستقل وجود رکھتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کے افعال میں آزادی دی ہے،مگر خارجی اسباب سے اسے محدود کردیا ہے۔ (بحوالہ:  الکشف عن مناھج الاوّلۃ فی عقائد الملۃ، مصنف:  ابن رشد)

بندۂ مؤمن کا ایمان و یقین اس بات پر ہونا چاہئے کہ یہ دنیا او ر اس کی اپنی زندگی ابدی اور غیر فانی نہیں ہے۔ اس لیے یہاں کی   خیر و بھلائی ، عیش وآرام، دنیاوی نعمتوں کو ایک دن ختم ہوجانا ہے ۔ اور شر کا وجود اور اس کا پھیلاؤ بھی عارضی ہے، یہاں کی تکلیفیں ، اذیتیں،نا انصافیاں اور ظلم وستم بھی ایک دن فنا ہونے والا ہے۔ اور ان تمام کلفتوں ،محرومیوں اور تلخیوں کا بہترین بدل آخرت میں ملنا یقینی ہے۔  

 جس کو ان حقائق پر تیقن حاصل ہوگیا اس کے لیے اس دنیا میں نہ کوئی غم باقی رہے گا اور نہ کوئی خوف!دراصل آزمائش کی اساس ہی خیر و شر ہے۔آزمائش مقصود نہ ہوتی تو نہ شر ہوتا اورنہ خیر کا کوئی تصور، اور نہ موت و زندگی کا یہ سلسلہ تخلیق کیا جاتا ۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔

الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ

 ’’ اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا ہے تاکہ تمھاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے کام کر تا ہے۔اور وہ زبردست(اور) بخشنے والا ہے۔‘‘ (الملک :۲)

خیر ہو یا شر دونوں اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہیں، چنانچہ ایک بندۂ مؤمن کا کام اللہ کی رِضا اور اس کے فیصلوں پر سر تسلیم خم کردینا ہی بندگی کی شان ہے۔ شر کے پردے میںحکمت الٰہی کو سمجھنے کی جہد مسلسل انجام کار ایک دن ذہن کے پرت کھول کر حقیقت سے پردہ اٹھا ہی دیتی ہے۔ اور انسان حینِ حیات اس گردابِ ریب و تردد اور ورطہ ٔ  حیرت سے باہر نکل آتا ہے۔

تلاش  او  کنی  جز  خود  نہ  بینی

تلاش  خود  کنی  جز  او  نہ  یابی

علامہ سیّد بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ

علامہ سیّد بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ

 1926ء – 1996ء

درمیانہ قد، ہلکا پھلکا معتدل جسم، تیکھے نقوش، کشادہ جبیں پر علم و فضل کا آفتاب جلوہ گر،خوبصورت گنجان مسجّع چہرے پر پھیلی پوری داڑھی،بڑی بڑی جھیل سی جہاندیدہ ملّت مسلمہ کے دکھ میں متفکر آنکھیں،سفید شلوار قمیص اور سر پر ٹوپی،علم و ادب کا بحر ذخار، تقلید سے کوسوں دور ، کتاب و سنت کے شیدائی، علم و حلم کا مجسّمہ، دیکھنے میں تو دبلا پتلامگر ذات و صفات میں کسی کوہ گراں سے کم نہیں ‘ تکلفات و تصنعات سے ناآشنا، حاضر جواب، بذلہ سنج،معاملہ فہم،مہمان نواز، اور وضع دار یہ تھے شیخ العرب و العجم علامہ سیّد بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ (۱۹۲۶ ۔ ۱۹۹۶ء)

آپ کا نسب نامہ کچھ اس طرح ہے سیّد بدیعُ الدین شاہ بن سیّد احسانُ اللہ شاہ بن سیّد رُشدُ اللہ شاہ راشدی بن سیّد رشید الدین شاہ بن سیّد یاسین شاہ راشدی رحمھُم اللہ تعالیٰ بلاشبہ آپ فولادی اعصاب کے مالک تھے، مصائیب و آلام سے کبھی نہ گھبراتے، ملّت مسلمہ کے پاکیزہ ماضی کے امین تھے، آپ بلند پایہ مفسر قرآن، فن رجال کے ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بلند پایہ خطیبوں میں بھی شمار ہوتے تھے، ان کا انداز خطاب بڑا دلکش، دلنشین اور دل آویز ہوا کرتا تھا، ان کا ہر ہر جملہ کتاب و سنت کی تعلیمات عالیّہ سے مزیّن اور ادبی شہّ پارہ محسوس ہوتا تھا، میری خوش نصیبی کہیے کہ تقریباً ہر سال وادی ریگستان تھرپارکر کے تبلیغی دوروں میں اس ناچیز کو انکی معیّت حاصل ہوتی تھی، تھرپارکر کی رات بڑی پُر سکون اور ٹھنڈی ہوتی ہے ایسے میں دل چاہتا تھا کہ آپ پوری شب بولتے رہیں اور قرآن سنت پڑھتے جائیں حوالے دیتے جائیں ، توضیح و تشرح کرتے جائیں ، آپ قرآن عظیم پڑھتے وقت پارہ اور رکوع کا بالعموم حوالہ دیا کرتے تھے،جی چاہتا تھا کہ شاہ صاحب بولتے رہیں، اور انکی فصیح زبان سے ایک مخصوص انداز میں پھول جھڑتے رہیں اور ہم جیسے سامعین چُنتے رہیں، شاہ صاحب کے مزاج میں بے انتہا تنوّع تھا، آپ جب ملت مسلمہ کی بے اعمالی و بدحالی کا تذکرہ یا فکر آخرت کا نوحہ چھیڑتے تو لوگوں کی آنکھیں اشکبار، اور جذبات پر قابو پانا بڑا مشکل ہوتا ، کئی بار تقریر کرتے ہوئے رات کے دو بج جاتے تھے، شب کی تنہایوں میںمیں نے شاہ صاحب کو تقریر کرتے سنا پھر انکی اثر انگیزی سے زارو قطار لوگوں کو روتے ہوئے پایا۔ آہ

 از دل خیزد بر دل ریزد

انکی زبان شائستہ شسّتہ اور شگفتہ تھی، بعض اوقات جب وہ پیروں فقیروں ، صوفیوں اور سجادہ نشینوں کے کشف و کرامات کے زدہ عام محیّر العقول قصے چھیڑتے تو سامعین کے چہروں پر مسکراہٹ سج جاتی تھی، شاہ صاحب ساری زندگی صلہ ،ستائش اور شہرت سے بے نیاز ہوکر دور افتادہ گوٹھوں اور قصبوں میں اونٹوں گھوڑوں پرجاکر کتاب و سنت کی دعوت پیش کرتے، سوز و تڑپ کے ساتھ فکر عالم عقبیٰ کی باتیں کر کے لوگوں تک حق اور سچ پہنچایا کرتے تھے، مجھے کئی بار عزیزالقدر ڈاکٹر پروفیسر عبدالعزیز نہڑیو کے ساتھ انکو بار بار قریب سے دیکھنے اور سننے کے مواقع ملے پھر کبھی شا ہ صاحب سے خط و کتاب کا سلسلہ بھی باقائدہ نکل آتا ، میں نے انکو بلند ظرّف، وسیع القلب، حسّاس اور محبت کرنے والا شخص پایا،

 بنا کر دند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن

خدا رحمت کند این عاشقاں پاک طنیت را

آپ خورد نوازی، ہمت افزائی، نیک نیتی، دینداری اور

تقویٰ و طہارت جیسے کئی اوصاف حمیدہ کے مالک تھے، انہونے پوری زندگی شرک و بدعت کی بیخ کُنی، کتاب و سنت کی ترقی و ترویج میں کمی آنے نہ دی اور انہوں نے ہمیشہ فرقہائے باطلہ کا قرآن و سنت کی روشنی میں علمی تعاقب کیا، انکو تفسیر، حدیث، فن رجال اور مذاہب اربعہ کی فقہ میں مہارت تامہ تھی، آپ کا مطالعہ و مشاہدہ بے انتہا وسیع تھا، آپ انسان دوست مردم شناس بھی تھے، آپ بلند پایہ زود نویس مصنف تھے، انہوں نے عربی، اردو اور سندھی مین ایک سو سے زائد معیاری و مثالی تصانیف اپنے پیچھے یادگار چھوڑی ہیں جن میں عربی ’۶۰‘ سندھی ’۲۸‘ اور اردو ’۱۹‘ شامل ہیں، {جن میں کافی علمی کُتب فضیلۃ الشیخ مولانا افتخار احمد تاج الدین الازہری حفظہ اللہ کی مرتب کردہ کتاب ’مقالات راشدیہ کی گیارہ جلدوں میں اشاعت پذیر ہو چُکی ہیں} علامہ بدیع الدین شاہ راشدی نادر روزگار شخصیت کے مالک تھے، آپ کی تصانیف لطیف کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وفور معلومات، تبحر علمی، وسعت مطالعہ ومشاہدہ، تحقیق و تدقیق کے بادشاہ تھے، حق گوئی، حق شناسی اور حق پسندی کی علاوہ سنجیدگی وقار توسط واعتدال شاہ صاحب کی تصانیف کی سطر سطر سے پھوٹتا ہوا نظر آتا ہے، ویسے بھی جو وقت انکی قربت میں گذارا اُس میں آپ کی شخصیت عُلوّ ھمّت ، وسعت ظرف ذھانت و فراست کے ساتھ انکی بذلہ سنجی اور شگفتہ مزاجی میں میں نے انکو یکتا پایا، تحمل و برداشت کے ساتھ دلربا شخصیت کے مالک تھے، انکی فقیہانہ بلند نگاہی، اسماء والرجال پر عبور، متکلمانہ بصیرت، مناظرانہ اسلوب ، استدلال بیان جیسی سب چیزوں سے اللہ تعالیٰ نے انکو سرفراز کیا تھا، باقی کتب چھوڑ کر صرف انکی ایک تالیف ’بدیع التفاسیر‘ گیارہ جلدوں کا بغور مطالعہ کریں تو انکی بلند نگاہی اور جرّــأت گفتار و کردار میں آپ اپنے اور غیروں کی ماتھے کا جھومر نظر آتے ہیں۔

 ایسا کہاں سے لائوں کہ تجھ سا کہیں جِسے

علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی وادی سندھ کے سرسبز و شاداب خِطّہ ہالا کے قریب بمقام گوٹھ فضلُ اللہ پیر آف جھنڈو میں ۱۲ مئی ۱۹۲۶ء کو نابغہ روزگار علامہ سیّد احسانُ اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ(متوفی۱۹۳۸ء) کے گھر میں پیدا ہوئے جنہیں اپنے دور کا فن رجال کا امام کہا جاتاتھا۔(علامہ سیّد سلیمان ندوی، یاد رفتگان)گویا کہ قائدہ کُلیّہ نہیں چونکہ آئے دن اکثر دیکھنے میں یہ بھی آتا ہے کہ اکابرین علم و ادب کی اولاد اپنے والد کے کمالات عالیہ سے محروم بلکہ یکسر مخالف نظر آتی ہے، ایسے میں علامہ سیّد احسانُ اللہ شاہ راشدی کا یقینا خو ش نصیب گھرانہ ہے جس میں علامہ سیّد محبُ اللہ شاہ راشدی اور علامہ سیّد بدیع الدین شاہ راشدی جیسے علم و ادب کے باکمال بیٹے پیدا ہوئے ہوں یہ اللہ تعالی کی خاص مہربانی ہے ان کو اللہ تعالیٰ نے چار فرزندوں ۱۔ محمد شاہ راشدی ، ۲۔نور اللہ شاہ راشدی، ۳۔رشد اللہ شاہ راشدی اور ۴۔ خلیل اللہ شاہ راشدی سے نوازا تھا۔

انکی ابتدائی تعلیم انکے آبائی مدرسہ دارالرشاد پیر جھنڈو میں ہوئی، تین ماہ کی مختصر مدت میں آپ نے قرآن عظیم حفظ کر لیا، پھر تیرہ کے قریب بلند پایہ باوقاراساتذہ کرام سے تحصیل علم کیا، شاہ صاحب کا مزاج خالص علمی و تحقیقی تھا، آپ کی پوری زندگی علمی تلاش و جستجو تحقیق ، بحث و نظرسے عبارت تھی، بلاشبہ راشدی برادران علامہ سید محبُ اللہ شاہ راشدی رحمه الله(متوفی ۱۹۹۵ء) اور علامہ بدیع الدین شاہ راشدی صاحباں اس بے آب و گیاہ صحرا میں تن تنہاچل پڑے، پھر چشم فلک نے دیکھا کہ سرسبز و شاداب باغ و بہار کا پورا قافلہ عظیم اپنے ساتھ لائے، علامہ سید بدیع الدین شاہ بے مثال قوت حافظہ، پاکیزہ ذھن و فکر کے مالک تھے انہوں نے ساری زندگی کتاب و سنت کی آبیاری میں پوری طرح وقف کردی بڑی بات کہ ان کی طبیعت میں کسی کے لئے کبھی کینہ نہ آیا نسب نامہ کے لحاظ سے آپ چالیسویں پشت میں سیدنا حسین رضي الله عنه سے ملتے ہیں، آپ نے کے مختلف ممالک جن میں امریکا، برطانیہ اور ڈینمارک شامل ہیں ہزاروں مواعظ حسنہ اور محاظراتِ علمیہ پیش کیے۔

 خاک کوئے تو ہر گھ کہ دم زند حافظہ

نسیم گلشن جان در مشام افتد

آپ نے جن عُلماء سے علمی استفادہ کیا ان میں ابو الوفاء ثنائُ اللہ امرتسری رحمہ اللہ (م۱۹۴۸ء) حافظ محمد عبداللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ(م۱۹۶۴ء)شیخ عبدالحق ہاشمی رحمہ اللہ (م۱۹۷۰ء) علامہ ابو اسحٰق نیک محمدرحمہ اللہ (م۱۹۵۴ء) مولانا شرف الدین محدث دھلوی رحمہ اللہ (م۱۹۶۱ء)سیّد محبُ اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ(۱۹۹۵ء) وغیرھُم شامل تھے۔آپ نے اپنی علمی استعداد بڑھانے کی غرض سے اپنی خاندانی لائبریری میں ہزاروں نادر و نایاب قلمی مخطوطات اور شاہکار کتب کا اضافہ کیا یہ سب چیزیں انکی ذاتی دلچسپیوں، صلاحیتوں اور بلند نگاہی کا مظہر تھیں، انکی مجالس علمیّہ، پند و وعظ، تبلیغ و تلقین سننے کے لئے آج بھی دل اور آنکھیں ترستی ہیں۔

 ھنوز آرزم باشد کہ یکبار دگر بینم

مختصراً آپ رسوخ فی العلم، اخلاص عمل، جہد پیہم کے پیکر تھے، ہر لمحہ تحقیق و جستجو، مشغولیت و مصروفیت، استغناء و توکل کے بحر بے کنار تھے۔

 آں قدح بشکست و آں ساقی نماند

شاہ صاحب کے قریبی احباب شاہد ہیں کہ آپ کبھی حالات سے مرعوب نہ ہوئے، ان پر کبھی گبراہٹ طاری ہوتے نہیں دیکھی گئی، وہ ہر حال میں اپنے رب کے شکر گذار رہتے تھے، بلاشبہ شا ہ صاحب بھی گوشت پوشت کے انسان تھے، وہ فرشتہ نہیں تھے، بشری خطائوں سے کون مبّرأ؟ لیکن جب موجودہ ماحول میںایک اچھا ،سچا، مخلص، جادہ حق پر چلنے والا، مہربان انسان بننا بھی بڑی عظمت کی بات ہے، ایسے میںوہ کبھی حالات کے ہاتھون قدرے دکھی بھی ہو جایا کرتے تھے، لیکن ہم نے انکوروٹھے ہوں کو مناتے بھی دیکھا، انہوں نے غیروں کو اپنا بنانے کی کئی مثالیں بھی قائم کر دکھائیں، انکے انداز بیان میں کبھی ایک محبت بھری تیزی بھی آجاتی تھی جس سے انکا اندازِ بیان مزید مخلصانہ ہوجایا کرتا تھا، وہ بڑی سعادت مندقوم کے بیٹے تھے کہ انہوں نے اپنی حیات مستعار کے کئی سال ’حرمین شریفین‘ میں کتابُ اللہ و سنت رسولُ اللہ ﷺکی تبلیغ و تلقین میں گذارے جہاں خانہ کعبہ میں انکے چاہنے والوں کی کثیر تعدادآکر ان کے محاضرات علمیّہ سے استفادہ کرتی تھی، جس میں بے شمار علماء و مشاہیر بھی شامل تھے، انکو سعودی عرب میں بھی بفضل اللہ تعالیٰ محبت بھری پذیرائی ملی، برصغیر کے علاوہ عرب ممالک میںبھی انکے تلامذہ کی فہرست طویل ہے بہرحال شاہ صاحب نے ۷۲ سالہ زندگی کتاب و سنت کی دعوت دیتے ہوئے گذار دی انکی زندگی کے آخری لمحات بھی قابلِ رشک تھے جب وہ موسیٰ لین کراچی میں کسی تبلیغی کام کی غرض سے گئے ہوئے تھے ، عشا ء کی نماز سے فارغ ہوئے تھے کہ درد دل کے ہاتھوںرب کائنات کا حکم آیااور چند ہی منٹ میں دارِ فانی سے دارِ الخُلد کی جانب ۸ جنوری ۱۹۹۶ء کو مراجعت ہوئی اور علامہ فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کی امامت میں نمازہ جنازہ ادا کی گئی، پھر اپنے آبائی گائوں درگاہ شریف نزد نیو سعیدآباد میں اپنے والد مکرم اور بڑے بھائی علامہ سید محبُ اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ کے پہلو میں ابدی آرام ہوئے، اللہ تعالی انکی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرکے اعلی علیین میں مقام عطا فرمائے ، آپ عمر عزیز کے آخری حصّے میںمال و اسباب، دنیاوی امور سے کلیۃ دستکش و بے نیاز ہو چکے تھے اوربہت ہی تھکے تھکے نظر آتے تھے۔

 دامان نگھ تنگ و گل حسن تو بسیار

 گلچین بھارِ تو زد امان نگھ دارد

۔۔۔

امام البانی رحمہ اللہ اور قائل جشن میلاد النبی کے مابین مکالمے کی روداد

علامہ البانی رحمہ اللہ:جشن میلاد النبی شریف خیر ہے یا شر؟

میلادی ھداہ اللہ:خیر ہے۔

علامہ البانی رحمہ اللہ:کیا رسول اللہ اور آپکے صحابہ اس ’’خیر‘‘سے ناواقف تھے؟

میلادی ھداہ اللہ :نہیں۔

علامہ البانی رحمہ اللہ:صرف ”نہیں“ کہنا کافی نہیں، آپ کو اس سوال کا فوراً یہ جواب دینا چاہیے تھا کہ :یہ ممکن ہی نہیں کہ رسول اللہ اور آپ کے صحابہ اس ’’خیر‘‘سے لاعلم رہیں، حالانکہ اسلام و ایمان کی ساری باتیں ہمیں محمد کے ذریعے سے ہی معلوم ہوئی ہیں تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک کام کو ہم ’’خیر‘‘جانتے ہوں اور نبی کریم اس سے ناواقف ہوں؟ یہ ناممکن ہے۔

میلادی ھداہ اللہ:دراصل میلاد النبی آپ ﷺکے ذکر کا احیاء ہےاور اس میں آپکی تکریم ہے۔

علامہ البانی رحمہ اللہ:یہ فلسفہ ہم پہلے بھی سن چکے ہیں ،یہ بتائیں جب رسول نے لوگوں کو دعوت دینا شروع کی تو انہیں اسلام کے سبھی احکامات کی دعوت دی یا توحید کی؟

میلادی ھداہ اللہ:توحید کی۔

علامہ البانی رحمہ اللہ:سب سے پہلے توحید کی دعوت دی ، نماز ، روزہ ، حج وغیرہ اسکے بعد فرض کئے گئے ، لہذا آپ بھی قدم بقدم اسی طریقے پر چلیں ۔

اب تک ہم دونوں متفق ہیں کہ ایسی کوئی ’’خیر‘‘نہیں جو ہم جانتے ہوں لیکن رسول اللہ اس سے بے خبر ہوں، اس بارے میں کوئی بھی دو فرد اختلاف نہیں رکھتے ،

 اور میرا ماننا ہے کہ جو اس بات میں شک کرے گا وہ مسلمان نہیں ۔

اور رسول اللہ کی حدیث بھی اس بات کی تائید کرتی ہے ، ارشاد فرمایا:

ما تركتُ شيئاً يقربكم إلى الله إلا وأمرتكم به

میں نے کوئی ایسی بات نہیں چھوڑی جو تمہیں اللہ سے قریب کرتی ہو مگر میں نے تمہیں اسکا حکم دے دیا ہے۔

پس اگر میلاد منانا ایسی ’’خیر‘‘ہے جو ہمیں اللہ سے قریب کرتی ہے تو رسول اللہ نے ہمیں اسکے بارے میں ضرور بتایا ہوگا، صحیح یا غلط؟

کیا آپ میری اب تک کی گفتگو سے مکمل متفق ہیں؟

میلادی ھداہ اللہ:متفق ہوں۔

علامہ البانی رحمہ اللہ:جزاك اللہ خیراً

اب ہم میلاد کے قائلین سے پوچھتے ہیں :

تمہارے بقول میلاد منانا ’’خیر‘‘کا کام ہے تو رسول اللہ نے اس بارے میں ہمیں کچھ بتایا ہوگا یا نہیں بتایا ہوگا ، اگرتم کہو بتایا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ :

هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ

اپنی دلیل پیش کرو اگر تم سچے ہو۔

ہم اس بارے میں علوی کے کتابچے پڑھ چکے ہیں انکے پاس کوئی دلیل نہیں سوائے اس کے کہ یہ بدعت حسنہ ہے۔گویا میلاد منانے کو جائز کہنے والے اور اسکا انکار کرنے والے سب متفق ہیں کہ:

 یہ جشن رسول اللہ کے عہد مبارک میں نہیں تھا نہ ہی عہد صحابہ کرام میں نہ ہی عہد ائمہ اعلام میں ۔

 لیکن میلاد کے قائلین کہتے ہیں کہ :میلاد منانے میں کیا حرج ہے ؟ یہ رسول اللہ کا ذکر ہے اور اس میں آپ پر صلاۃ و سلام پڑھا جاتا ہے؟ہم جواب دیتے ہیں کہ اگر یہ کام ’’خیر‘‘کا ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے ہم سے پہلے کرچکے ہوتے۔

آپ کو حدیث کا علم ہے :

خير الناس قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم

سب سے بہترین زمانہ میرا ہے ، پھر میرے بعد والوں کا پھر انکے بعد والوں کا۔

آپ کا زمانہ وہ ہے جس میں آپﷺ اور آپکے صحابہ رضی اللہ عنہم جیتے رہے ، پھر تابعین کا زمانہ ہے پھر تبع تابعین کا زمانہ ہےرحمہم اللہ۔

اس بارے میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہے۔

تو کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ ایسی بھی ’’خیر‘‘ہے کہ ان سے پہلے جسکا علم ہمیں ہوگیا اور ہم اس پر عمل پیرا ہیں ۔

میلادی ھداہ اللہ: سائنس کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اگر رسول اللہ اپنے زمانے کے لوگوں کو بتاتے کہ زمین گھومتی ہے..۔

علامہ البانی رحمہ اللہ:معاف کیجیےگا ، مضمون سے مت ہٹیں، میں نے آپ سے دو چیزوں کے متعلق پوچھا ہے،’’علم اور عمل‘‘ علم سے میری مراد علم شرعی ہے ، کوئی اور علم نہیں ، مثلاً اگر کو ئی کہے کہ فلاں ڈاکٹر طب میں ابن سینا سے بڑا عالم ہے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ زمانہ خیر القرون سے آگے بڑھ گیا ، ہم علم شرعی کی بات کررہے ہیں ، نہ کہ جغرافیہ یا فلکیات یا کیمسٹری یا بائیولوجی کی ، فرض کریں اگر آج کا کو ئی کافر شخص ان علوم کو سب انسانوں سے زیادہ جانتا ہو تو کیا یہ چیز اسے اللہ کا مقرب بنادیگی ؟

میلادی ھداہ اللہ:نہیں۔

علامہ البانی رحمہ اللہ: لہذا اب ہم سائنس کی نہیں بلکہ اس علم کی بات کررہے ہیں جو اللہ تبارک و تعالیٰ سے قریب کرتا ہے ، ہماری گفتگو جشن میلاد کے متعلق چل رہی تھی ،

میں دوبارہ سوال کرتا ہوں اور واضح جواب کی امید کرتا ہوں:

کیا آپ اپنی عقل و فہم کے مطابق مانتے ہیں کہ ہم علم شرعی میں صحابہ ، تابعین ، اور ائمہ مجتہدین سے زیادہ ہیں ، خیر اور اللہ سے قریب کرنے والے اعمال میں ان سلف صالحین پر سبقت لے گئے ہیں؟

میلادی ھداہ اللہ:علم شرعی سے آپکی مراد علم تفسیر ہے ؟

علامہ البانی رحمہ اللہ:وہ ہم سے زیادہ علم والے تھے ، تفسیر قرآن کا علم ہو یا حدیث رسول کی تفسیر کا علم ہو یا شریعت اسلام کا علم ہو۔

میلادی ھداہ اللہ:تفسیر قرآن کا علم تو آج کے دور میں عہد رسول سے زیادہ ہے ، مثلاً، قرآن کی آیت:

وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ إِنَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَفْعَلُونَ (النمل:88)

آپ پہاڑوں کو ٹھہرا ہوا محسوس کریں گے حالانکہ وہ چلتے ہیں جیسے بادل چلتے ہیں ، اللہ کی کاریگری ہے ، جس نے ہر شے کو مستحکم کیا، تم جو کچھ کرتے ہو وہ اس سے باخبر ہے۔

اگر رسول اللہ اپنے زمانہ میں کسی سے کہتے کہ زمین گھومتی ہے تو کوئی بھی آپکی تصدیق نہیں کرسکتا تھا۔

علامہ البانی رحمہ اللہ:یعنی آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپکو دوبارہ یاد دلائیں کہ آپ موضوع سے ہٹ رہے ہیں ،

میرے بھائی میں آپ سے کُل کے متعلق پوچھ رہا ہوں نہ کہ جزء کے متعلق ، عام سوال ہے کہ اسلام کے متعلق سب سے زیادہ علم کس کے پاس تھا؟

میلادی ھداہ اللہ:لازمی سی بات ہے رسول اللہ اور آپکے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس۔

علامہ البانی رحمہ اللہ:ہم آپ سے اس جواب کی امید کررہے تھے۔نیز آپ جس تفسیر کی بات کررہے ہیں اسکا عمل سے کوئی تعلق نہیں ، بلکہ فکر و فہم سے ہے ،

 اور اس آیت سے جو لوگ زمین کے گھومنے کا اثبات کرتے ہیں وہ غلطی پر ہیں ،کیونکہ اس آیت کا تعلق روز قیامت سے ہے اور ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ممکن ہے کہ بعد میں آنے والا کوئی شخص علم سائنس یا علم فلکیات میں صحابہ یا تابعین سے زیادہ علم رکھتا ہو ، جس طرح کفار ان علوم میں مسلمانوں سےآگے ہیں لیکن اس سے انہیں کیا حاصل ہوا ؟

کچھ نہیں ، تو ہم اس بے فائدہ شے کے متعلق بات نہیں کرنا چاہتے بلکہ اس شے کے متعلق بات کررہے ہیں جو ہمیں اللہ سے قریب کردے ، ہم میلاد النبی شریف کے متعلق بات کررہے ہیں ، اور ہم متفق ہیں کہ اگر یہ ”خیر“کا کام ہوتا تو سلف صالحین اور ان کے سرداریعنی رسول اللہ اسے ہم سے زیادہ جانتے اور ہم سے پہلے اس پر عمل پیرا ہوتے،کیا اس میں کوئی شک ہے؟

میلادی ھداہ اللہ:نہیں ، کوئی شک نہیں۔

علامہ البانی رحمہ اللہ:اب آپ سائنسی علوم کی جانب متوجہ نہ ہونا جن کا عملی طور پراللہ تعالیٰ کے تقرب سے کوئی تعلق نہیں ، نیز سب ہی اس بات پر متفق ہیں کہ یہ میلاد نبی کریم کے زمانے میں نہیں تھا، گویا یہ ”خیر“ نبی کے زمانے میں اور صحابہ و تابعین و ائمہ مجتہدین کے زمانے میں نہیں تھی ۔ان پر یہ ”خیر“ کیسے مخفی رہی ؟

ہم دو میں سے ایک بات ہی کہہ سکتے ہیں:

1وہ ہم سے زیادہ اس ”خیر“سے واقف تھے ،  یا

2 وہ اس ”خیر“سے واقف نہیں تھے۔

اگر ہم کہیں کہ وہ اس سے واقف تھے اور قائلین میلاد کے نزدیک یہی قول معتبر ہے تو انہوں نے اس پر عمل کیوں نہیں کیا؟کیا ہم ان سے زیادہ اللہ کے مقرب ہیں ؟

ان میں سے کسی ایک صحابی یا تابعی یا عالم یا عابد نے، غلطی سے ہی صحیح ،اس خیر پر عمل کیوں نہ کیا؟کیا آپکی عقل مانتی ہے کہ اس خیر پر عمل کرنے کا موقع ان میں سے کسی کو نہ مل سکا ؟حالانکہ وہ لاکھوں کی تعداد میں تھے ،

اور ہم سے زیادہ عالم اور ہم سے زیادہ صالح اور اللہ کے مقرب تھے۔

میرا خیال ہے آپ رسول اللہ کی حدیث جانتے ہوں گے:

لا تسبوا أصحابي؛ فوالذي نفس محمد بيده لو أنفق أحدكم مثل جبل أُحدٍ ذهباً ما بلغ مُدَّ أحدهم ولا نَصيفَهُ

میرے صحابہ کو برا نہ کہنا ،اس ذات کی قسم جسکے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کردے تو ان (صحابہ) کے ایک یا آدھے مد کے برابر نہیں پہنچ سکتا۔

کیا آپ نے ہمارے اور ان کے مابین موجود فرق دیکھا؟یہ فرق اس لئے کہ انہوں نے رسول اللہ کے ساتھ ملکراللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا ، اور آپ سے براہ راست علم حاصل کیا ، ان تمام واسطوں کے بغیر جو ہمارے اور نبی کے درمیان ہیں جیسا کہ ایک صحیح حدیث میں آپ نے اس جانب اشارہ کیا ، فرمایا:

من أحب أن يقرأ القرآن غضاً طرياً فليقرأهُ على قراءة ابن أم عبد

جو قرآن کو تروتازہ پڑھنا چاہتا ہو تو وہ ابن ام معبدکی طرز پر قرآن پڑھے۔یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرز پر۔

ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ سلف صالحین جن کے سردار صحابہ کرام تھے کسی بھی ایسی ”خیر“ سے لاعلم رہے ہوں جو انہیں اللہ کا مقرب بناتی ہو ، اور جب ہم نے مان لیا کہ وہ اس ”خیر“ کو جانتے تھے جسطرح ہم اسے جانتے ہیں تو ہم یہ کہنے کا سوچ بھی نہیں سکتے کہ انہوں نے اس ”خیر“ کو یونہی عمل کئے بغیر چھوڑدیا ہوگا۔

شاید اب آپ پر واضح ہوگیا ہوگا کہ میں کیا نقطہ بیان کرنا چاہ رہا ہوں؟

میلادی ھداہ اللہ:الحمد للہ

علامہ البانی رحمہ اللہ:جزاک اللہ خیراً

ایک بات اوربہت سی آیات و احادیث بتاتی ہیں کہ دین اسلام مکمل ہوچکا ، میرا خیال ہے کہ آپ اس حقیقت سے آگاہ ہوں گے ، عالم ہو یا طالب علم یا عام مسلمان سب ہی جانتے ہیں کہ اسلام مکمل ہوگیا ، یہ یہود و نصاریٰ کے دین کی مانند نہیں ہے کہ اس میں آئے دن تبدیلیاں ہوتی رہی ہوں۔

بطور مثال میں آپکو اللہ تعالیٰ کا ایک فرمان یاددلاتا ہوں:

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْأِسْلامَ دِيناً

آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا

اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین چن لیا۔

اب ایک سوال ہے اور یہ جشن میلاد کے خیر نہ ہونے کو دوسرے طریقے سے واضح کرتا ہے ،

پہلا طریقہ یہ تھا کہ اگر میلاد منانا کار ”خیر“ ہوتا تو سلف صالحین جو ہم سے زیادہ عالم و عبادت گذار تھے اس پر ضرور عمل پیرا ہوتے۔سوال یہ کہ اگر میلاد نبوی خیر کا کام ہے تو اسکا تعلق اسلام سے ہوگا ، کیا ہم سب میلاد کے قائلین اور منکرین سب ہی اس بات پر متفق ہیں کہ اگر میلاد کار خیر ہے تو اسکا تعلق اسلام سے ہوگااور اگر یہ کارِ خیر نہیں تو اسکاتعلق اسلام سے نہیں ہوسکتا؟بالکل اسی طرح جسطرح ہم نے اتفاق کیا تھا کہ نبی کریم کے زمانے میں میلاد نہیں تھا۔

جس دن یہ آیت نازل ہوئی:

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ

آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا۔

اسوقت تک جشن میلاد نہیں منایا گیا تھا ، تو کیا آپکے خیال میں یہ دین کا حصہ ہوا ؟

میں چاہتا ہوں کہ :آپ مجھے دوٹوک جواب دیں ، یہ نہ سوچیں کہ میں ان علماء میں سے ہوں جو طلباء کو ڈانٹ کر خاموش کروادیتے ہیں بلکہ عام لوگوں کو بھی کہ خاموش رہو تم کچھ نہیں جانتے ، تمہیں کیا پتہ نہیں ، آپ مطمئن رہیں ، گویا آپ اپنے جیسے کسی ایسے شخص سے ہمکلام ہیں

 جو علم اور عمر میں آپ سے کم ہے ، اگر آپ متفق نہ ہوں تو کہیں کہ میں متفق نہیں ہوں۔

پس اب اگر میلاد منانا خیر کا کام ہے تو اسکا تعلق اسلام سے ہوگا اور اگر یہ کار خیر نہیں تو اسکا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہوگا،اور ہم سب متفق ہیں کہ مذکورہ آیت کے نزول کے وقت جشن میلاد النبی نہیں تھا ، پس صاف واضح ہے کہ اسکا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اپنی اس بات کی تاکید میں امام دارالھجرۃ امام مالک رحمہ اللہ کے قول سے کرتا ہوں انہوں نے کہا:

من ابتدع في الإسلام بدعة يراها حسنة فقد زعم أن محمداً صلى الله عليه وسلم خان الرسالة “.

جس نے اسلام میں کوئی بدعت ایجاد کی جسے وہ اچھا سمجھتا ہو تو گویا اس نے دعوی کیا کہ محمد نے اللہ کا پیغام پہنچانے میں خیانت(کمی )کی۔

غور کریں ، صرف ایک بدعت نہ کہ بہت سی بدعات، یہ بہت ہی خطرناک صورتحال ہے ، امام صاحب کی دلیل کیا ہے ؟انہوں نے فرمایا:

اقرؤا إن شئتم قول الله تعالى:((الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْأِسْلامَ دِيناً)) فما لم يكن يومئذٍ ديناً لا يكون اليوم ديناً.

اگر چاہو تو اللہ تعالی کا یہ فرمان پڑھ لو:” آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین چن لیا “۔

جو کام اس دن دین نہ تھا وہ آج بھی دین نہیں ہوسکتا۔

امام مالک رحمہ اللہ نے یہ بات کب کہی تھی ؟ دوسری صدی ہجری میں جسکے خیر پر ہونے کی شہادت خود نبی کریم نے دی، توچودھویں صدی کے متعلق آپکا کیا خیال ہے؟یہ قول سونے کے پانی سے لکھنے کےلائق ہے، لیکن ہم اللہ تعالیٰ کی کتاب سے اور رسول اللہ کی حدیث سے اور اپنے اماموں کے اقوال سے غافل ہوگئے کہ جنکو ہم اپنا راہنما مانتے ہیں ۔

 امام صاحب فرمارہے ہیں کہ جو اس وقت دین نہ تھا وہ آج بھی دین نہیں ہوسکتا ، لیکن آج جشن میلاد النبی کو دین بنادیا گیا ، اگر اسے دین کا حصہ قرار نہ دیا گیا ہوتا تو سنت کے ساتھ تمسّک کرنے والے علماء اور بدعت کا دفاع کرنے والے علماء کے درمیان یہ اختلاف پیدا ہی نہ ہوتا۔

یہ دین کا حصہ کیسے ہوسکتا ہے ؟جبکہ یہ نہ تو رسول اللہ کے زمانہ میں تھا نہ ہی صحابہ کے دور میں اورنہ ہی تابعین یا تبع تابعین کے عہد میں۔امام مالک تبع تابعین میں سے ہیںاور ان لوگوں میں شامل ہیں جن پر یہ حدیث صادق آتی ہے ۔

خير الناس قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم

سب سے بہتر زمانہ میرازمانہ ہے پھر ان لوگوں کا جو میرے بعد آئیں گے پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد آئیں گے۔

امام مالک رحمہ اللہ فرمارہے ہیں کہ جو اس وقت دین نہیں تھاوہ آج بھی دین نہیں ہوسکتا اور اس امت کا آخر درست نہیں ہوسکتا مگر اسی طریقے سے جس سے اسکا اول درست ہوا۔

اس کا اول کس شے سے درست ہوا؟دین میں نت نئے کام ایجاد کرکے؟ اور ایسے اعمال کو اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ مان کر جنہیں نبی کریم نے اختیار نہیں کیا ؟

 حالانکہ رسول فرمارہے ہیں کہ:

ما تركتُ شيئاً يُقربكم الى الله إلا وأمرتكم به

میں نے کوئی ایسا عمل نہیں چھوڑا جو تمہیں اللہ سے قریب کرتا ہو مگر میں نے تمہیں اس کا حکم دے دیا۔

لیکن رسول اللہ نے ہمیں اپنا یوم ولادت منانے کا حکم کیوں نہیں دیا ؟ اس سوال کا ایک جواب ہے ۔

میلاد نبوی کا ایک شرعی طریقہ ہے جو مروجہ جشن میلاد کے برعکس ہے ، وہ شرعی طریقہ نبی کریم کے زمانے میں بھی موجود تھا ، جبکہ مروجہ طریقہ اس زمانے میں موجود نہ تھا، ان دونوں طریقوں میں واضح فرق ہے:

میلاد شرعی عبادت ہے اور اس پر سبھی مسلمان متفق ہیں۔

میلاد شرعی ہر ہفتے ہوتا ہے ، جبکہ غیر شرعی میلاد سال میں ایک بار آتا ہے۔

یہ دو بنیادی فرق ہیں میلاد شرعی اور میلاد بدعی کے درمیان،پہلا عبادت ہے اورہر ہفتے آتا ہے ،اسکے برعکس غیر شرعی میلاد نہ تو عبادت ہے نہ ہی ہر ہفتے آتا ہے۔

میں یہ بات ایسے ہی بلادلیل نہیں کررہا ، ایک حدیث نقل کرتا ہوں صحیح مسلم میں سیدنا ابوقتادۃ الانصاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ:

جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال:يا رسول الله: ما تقول في صوم يوم الإثنين؟قال : ذاك يومٌ وُلِدتُ فيه، وأُنزل القرآن عليَّ فيه

ایک شخص نبی کریم کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ اللہ کے رسول پیر کے دن روزے کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں ؟فرمایا:اس دن مجھے پیدا کیا گیا اور اس دن مجھ پر قرآن نازل کیا گیا۔

اس کلام کا مطلب کیا ہے ؟گویا آپ فرمارہے ہیں کہ تم مجھ سے اس دن کے متعلق پوچھ رہے ہو تو اس دن مجھے اللہ تعالیٰ نے زندگی عطا کی اور مجھ پر وحی نازل کی ،یعنی اس دن تمہیں اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے روزہ رکھنا چاہیے کہ اس نے اس دن مخلوق پر میری تخلیق اور مجھ پرانزال وحی کا احسان کیا ۔

یہ یہود کے عاشورہ کے روزے کی مانند ہے اور شاید آپ کو معلوم ہو کہ ماہ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے قبل

 عاشورہ کا روزہ مسلمانوں پر فرض تھا۔

ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب نبی کریم نے مدینہ کی جانب ہجرت کی تو یہود کو عاشورہ کا روزہ رکھتے پایا،جب ان سے اسکی وجہ دریافت کی تو انہوں نےکہا کہ اس دن اللہ نے سیدنا موسی علیہ السلام اور انکی قوم کو فرعون اور اس کے لشکر سے نجات دی تھی،لہذا ہم اس دن بطور شکرانے کے روزہ رکھتے ہیں ۔

تو نبی نے فرمایا:

نحن أحق بموسى منكم

تم سے زیادہ ہم موسی کے قریب ہیں ۔

 چنانچہ آپ نے یوم عاشوراء کا روزہ رکھا اور اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیاچنانچہ یہ فرض ہوگیا حتی کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا:

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ

رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور ہدایت کے واضح دلائل ہے پس تم میں سے اس ماہ میں حاضر ہو وہ اس کا روزہ رکھے۔

اسکے بعد عاشورہ کا روزہ سنت ہوگیا اور اسکی فرضیت منسوخ ہوگئی۔

یہاں استدلال یہ ہے کہ رسول اللہ نے یہود کے ساتھ شرکت کی عاشوراء کے روزے میں تاکہ اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے اس دن موسی کو فرعون سے بچایا۔

پس ہمارے لیے شکرانے کا باب کھل گیا پیر کے دن روزے کے ذریعے کہ اس دن رسول اللہ کو پیدا کیا گیا اور اس دن آپ پر وحی نازل کی گئی۔

اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ یہ لوگ جو غیر شرعی میلاد مناتے ہیں جس میں خیر کی کوئی صورت نہیں ،کیا وہ پیر کا روزہ رکھتے ہیں جسطرح جمعرات کا روزہ رکھتے ہیں ؟نہیں، وہ پیر کا روزہ نہیں رکھتے جبکہ اکثر مسلمان سال میں ایک مرتبہ میلاد النبی مناتے ہیں،تو کیا یہ حقائق کو بدلنا نہیں ہے ؟(یعنی میلاد کے نام پر سال میں ایک دن جشن منالیتے ہیںجو کہ غیر شرعی ہے جبکہ جو میلاد شرعی ہے یعنی ہر پیر کو روزہ رکھنا تو یہ عمل نہیں کرتے)ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا یہود سے متعلق یہ فرمان صادق آتا ہے:

أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ

کیا تم بہتر کے بدلے میں کمتر شے کا سوال کرتے ہو۔

یہ خیر جس پر مسلمان متفق ہیں پیر کے دن کا روزہ ہے جبکہ اکثر مسلمان پیر کا روزہ نہیں رکھتے۔ہم دیکھتے ہیں کہ پیر کے دن روزہ رکھنے والے جونہایت کم ہیں کیا وہ اس دن روزے کی حکمت جانتے ہیں؟نہیں ،وہ نہیں جانتے۔تو کہاں ہیں وہ علماء جو میلاد غیر شرعی کی حمایت کرتے ہیں، وہ لوگوں کو کیوں نہیں بتاتے کہ

 پیر کے دن کاروزہ ہی میلاد کا شرعی طریقہ ہے،اسکے بجائے وہ غیر شرعی میلاد کی ترغیب دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا:

أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ

کیا تم بہتر کے بدلے میں کمتر شے کا سوال کرتے ہو۔

اور رسول اللہ نے بھی سچ فرمایا:

للتتبعنَّ سَنن من قبلكم شبراً بشبر وذراعاً بذراع حتى لو دخلوا جحر ضب لدخلتموه

تم پہلے لوگوں کے نقش قدم پر چلو گے ، بالشت برابر،بازو برابر،اگر وہ سانڈے کے بل میں گھسے تو تم بھی گھسو گے۔

ایک اور روایت کے الفاظ نہایت خطرناک ہیں:

حتى لو كان فيهم من يأتي أمه على قارعة الطريق لكان فيكم من يفعل ذلك

اگر ان میں کسی نے برسرراہ اپنی ماں سے بدکاری کی تو تم میں بھی ایسا کرنے والے ہوں گے۔

ہم نے یہود کی روش اختیار کرلی ، وہ دن جو بہتر تھا اس دن سے بدل ڈالا جو کمتر ہے،ہم نے ہر پیر کا روزہ رکھ کر شرعی میلاد منانے کو سال کے ایک دن کے میلاد غیر شرعی سے بدل ڈالا۔

آپ شرعی میلاد منائیں، پیر کا روزہ بطور شکرانے کےرکھ کراور اس حکمت کو خاطر میں رکھ کر کہ اس دن اللہ نے رسول اللہ کو پیدا کیا اور اس دن آپ پر وحی نازل کی۔

میں اپنی گفتگو کا اختتام نبی کریم کے اس فرمان پر کرتا ہوں:

أبى الله أن يقبل توبة مبتدع

اللہ نے بدعتی کی توبہ قبول کرنے سے انکار کردیا۔

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ

اے رسول ، آپکی جانب آپکے رب کی طرف سے جو کچھ نازل کیا جائے اسے پہنچادیں اور اگر آپ نے نہ کیا تو آپ نے اسکی رسالت کا حق ادا نہ کیا اور اللہ آپکو لوگوں سے بچاتا رہے گا۔

میلادی ھداہ اللہ:کیا نبی کریم کی سیرت کو بیان کرنا آپکی تکریم نہیں ہے؟

علامہ البانی رحمہ اللہ:ہاں ہے۔

میلادی ھداہ اللہ:میلاد میں بھی اللہ کی جانب سے اس خیر(یعنی سیرت بیان کرنے) کا ثواب ملتا ہے؟

علامہ البانی رحمہ اللہ:ہر خیر کا ثواب ملتا ہے ،

لیکن آپ اس سوال سے کیا فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہو ، میں آپ سےپوچھتا ہوں:کیا کوئی آپ کو نبی کریم کی سیرت پڑھنے سے روکتا ہے؟(یعنی ہم میلاد سے روکتے ہیں ، لیکن سیرت بیان کرنے سے نہیں روکتے)

لیکن ایک سوال کا جواب دیں:ثواب کا کوئی بھی کام جو مشروع ہو لیکن رسول اللہ نے اسکے لئے نہ تو کوئی وقت مخصوص کیا نہ ہی اسکی کیفیت مخصوص کی تو کیا ہمارے لئے جائز ہے کہ ہم خود اس عبادت کا وقت یا کیفیت مخصوص کردیں؟

کیا آپکے پاس کوئی جواب ہے؟

میلادی ھداہ اللہ:نہیں میرے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں۔

علامہ البانی رحمہ اللہ:اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ

کیا انکے شرکاء نے انکے لئےاس کام کو دینی شریعت قرار دیا جس کام کا حکم اللہ نے نہیں دیا۔

نیز فرمایا:

اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَاباً مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَهاً وَاحِداً لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ

انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنالیا، اور مسیح بن مریم کو حالانکہ انہیں ایک حکم دیا گیا تھا کہ

 وہ ایک معبود کی عبادت کریں،جسکے سوا کوئی معبود برحق نہیں،جو ان سے پاک ہے جنہیں وہ اسکا شریک قرار دیتے ہیں۔

جب سیدناعدی بن حاتم رضی اللہ عنہ (جو مسلمان ہونے سے پہلے عیسائی تھے )نے یہ آیت سنی تو انہیں اسے سمجھنے میں مشکل ہوئی اور انہوں نے کہا کہ ہم نے تو انکی عبادت نہیں کی،تو نبی نے ان سے فرمایا:

أليس يحرمون ما أحل الله فتحرمونه ويحلّون ما حرم الله، فتحلونه؟ فقال: بلى. قال: فتلك عبادتهم

کیا وہ (علماء و درویش) حرام نہیں کرتے تھے اس شے کو جسے اللہ نے حلال کیا ہو پس تم اسے حرام مان لیتے اور وہ حلا ل کہتے اس شے کو جسے اللہ نے حرام کیا پس تم اسے حلال مان لیتے؟انہوں نے کہا:ہاں بالکل۔تو آپ نے فرمایا:یہی انکی عبادت(علماء و درویشوں کورب بنالینا) ہے۔

اس سے اللہ تعالیٰ کے دین میں بدعت نکالنے کی خطرناکی واضح ہوگئی ۔

علامہ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ کے” سلسلۃ النور والھدیٰ“

 نامی بیانات پر مشتمل کیسٹ سے ماخوذ ، اختصار اور تفہیم کے ساتھ،کیسٹ نمبر:1/94

نیزعلامہ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ کی ویب سائٹ ملاحظہ ہو۔

وما علینا الا البلاغ المبین

محبوبِ کائنات ﷺکے لعاب کی برکتیں

  قارئین کرام ! اللہ تعالی نے رسول اللہ ﷺکو جو بے تحاشا معجزے عطا فرمائے تھے ان میں ایک معجزہ آپ کا لعاب مبارک ہے ۔

آپ کے لعاب مبارک میں اللہ تعالی نے بڑی رحمتیں اور برکتیں پوشیدہ رکھی تھیں ۔

آپ کا لعاب ہر قسم کی بیماری و تکلیف کے لیے بڑے تریاق کا درجہ رکھتا تھا ۔

یہی سبب تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے لعاب مبارک کو نیچے گرنے سے پہلے پہلے اٹھا لیتے تھے اور بغرض تبرک اپنے چہرے اور جسم پر مل لیتے تھے ۔

عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :اے لوگو : اللہ کی قسم ! میں بادشاہوں کے درباروں میں گیا ہوں قیصر و کسریٰ اور نجاشی کا دربار بھی دیکھ کر آیا ہوں ۔ مگر میں نے کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھی اس کی اس قدر تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد کے اصحاب آپ کی تعظیم کرتے ہیں ۔

فَوَالله مَا تَنَخَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي كَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ، فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ، وَإِذَا أَمَرَهُمُ ابْتَدَرُوا أَمْرَهُ، وَإِذَا تَوَضَّأَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ .

اللہ کی قسم ! اگر محمد تھوکتے ہیں تو ان کا لعاب ان کے کسی صحابی کے ہاتھ میں گرتا ہے اور وہ اسے اپنے چہرہ اور بدن پر مل لیتا ہے ۔ اگر آپ کسی کام کا حکم دیتے ہیں تو اس کی بجا آوری میں لوگ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ آپ وضو کرنے لگتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے وضو کے پانی پر لڑائی ہو جائے گی یعنی ہر شخص اس پانی کو لینے کی کوشش کرتا تھا ۔(صحیح بخاری : 2732)

قارئین کرام ! آپ اب رسول اللہ کے لعاب مبارک کی مزید برکتیں ملاحظہ فرمائیں ۔

1 علی رضی اللہ عنہ کی آنکھیں صحتیاب ہو گئیں

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے غزوہ خیبر کے دن فرمایا تھا : میں اسلامی جھنڈا ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائے گا۔ اب سب اس انتظار میں تھے کہ دیکھیں جھنڈا کسے ملتا ہے ؟ جب صبح ہوئی تو سب سرکردہ لوگ اسی امید میں رہے کہ کاش ! انہیں کو مل جائے ۔ لیکن آپ نے دریافت فرمایا : علی کہاں ہیں؟ عرض کیا گیا : وہ آنکھوں کے درد میں مبتلا ہیں۔

فَأَمَرَ فَدُعِيَ لَهُ فَبَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ مَكَانَهُ حَتَّى كَأَنَّه لَمْ يَكُنْ بِهِ شَيْءٌ

آخر آپ کے حکم سے انہیں بلایا گیا۔ آپ نے اپنا لعاب مبارک ان کی آنکھوں میں لگایا تو وہ فوراً صحتیاب ہو گئیں ۔ جیسے انہیں کوئی تکلیف ہی نہ تھی (پھر آپ نے انہیں جھنڈا دیکر خیبر کے طرف روانہ کیا) ۔(صحیح بخاری : 2942)

2 سیدناعمرو بن معاذ رضی اللہ عنہ کی ٹانگ صحیح ہوگئی

سیدناعبداللہ بن بریدہ اپنے والد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ :

تَفَل فِي رِجْلِ عَمْروِ بن مُعَاذِ حِين قُطِعَتْ رِجْلُه فَبَرَأتْ

جب عمرو بن معاذ رضی اللہ عنہ کی ٹانگ كاٹی گئی تو رسول اللہ نے اس پر اپنا لعاب مبارک لگایا ، جس سے وہ صحیح ہو گئی۔ (سلسلة الاحاديث الصحيحة : 2305)

3 لعاب مبارک کی برکت سے زہر کا اثر ختم ہوگیا

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : سفر ہجرت کی رات غار کے پاس پہنچ کر سیدنا ابوبکر نے رسول اللہ   سے کہا : اللہ کے لیے ابھی آپ اس میں داخل نہ ہوں ۔ پہلے میں داخل ہوکر جائزہ لیتا ہوں ، اگر اس میں کوئی ایسی چیز ہو تو آپ کی بجائے اس کا مجھ سے سابقہ پڑے ۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر گئے اور غار کو اچھی طرح صاف کیا ، ایک جانب چند سوراخ تھے جنہیں اپنا تہہ بند پھاڑ کر بند کر دیا ، لیکن دو سوراخ ابھی بھی باقی بچ گئے جن پر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنا پاؤں رکھ دیا ۔ اور رسول اللہ سے عرض کیا کہ اب آپ اندر تشریف لے آئیں ، آپ اندر تشریف لے آئے اور سیدنا ابوبکر کی آغوش میں سر رکھ آرام فرمانے لگے ۔ ادھر ابوبکر کے پاؤں کو کسی چیز نے ڈس لیا لیکن اس ڈر سے ہلے نہیں کہ رسول اللہ کی نیند میں خلل نہ آئے ۔ پس ان کے آنسو آپ کے چہرہ انور پر ٹپک پڑے اور آپ کی آنکھ کھل گئی ۔ آپ نے فرمایا : ابوبکر تمہیں کیا ہوا ؟

عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ! مجھے کسی چیز نے ڈس لیا ہے ۔

فَتَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ فَذَهَبَ مَا يَجِدُهُ .

جس پر رسول نے اپنا لعاب مبارک لگایا تو تکلیف ختم ہو گئی ۔(رحیق المختوم : 231 : بتصرف)

4 آسیب زدہ بچہ نجات پا گیا

سیدہ ام جندب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو یوم النحر کو بطن وادی میں جمرہ عقبہ کی رمی کرتے دیکھا ۔ پھر آپ لوٹے تو آپ کے پیچھے پیچھے قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی، اس کے ساتھ ایک بچہ تھا جس پر آسیب کا اثر تھا، وہ بول نہیں سکتا تھا، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ میرا بیٹا ہے اور یہی میرے گھر والوں میں باقی رہ گیا ہے، اور اس پر ایک بلا ( آسیب ) ہے کہ یہ بول نہیں پاتا، رسول اللہ نے فرمایا :

ائْتُونِي بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ ،‏‏‏‏ فَأُتِيَ بِمَاءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ،‏‏‏‏ وَمَضْمَضَ فَاهُ،‏‏‏‏ ثُمَّ أَعْطَاهَا،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ اسْقِيهِ مِنْهُ،‏‏‏‏ وَصُبِّي عَلَيْهِ مِنْهُ،‏‏‏‏ وَاسْتَشْفِي الله لَهُ .

تھوڑا سا پانی لاؤ ، پانی لایا گیا، تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور اس میں کلی کی، پھر وہ پانی اسے دے دیا، اور فرمایا : اس میں سے تھوڑا سا اسے پلا دو، اور تھوڑا سا اس کے اوپر ڈال دو، اور اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے شفاء طلب کرو ۔ ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں اس عورت سے ملی اور اس سے کہا : اگر تم اس میں سے تھوڑا سا پانی مجھے بھی دے دیتیں، ( تو اچھا ہوتا ) تو اس نے جواب دیا : یہ تو صرف اس بیمار بچے کے لیے ہے ۔ ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں اس عورت سے سال بھر کے بعد ملی اور اس بچے کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا :

بَرَأَ وَعَقَلَ عَقْلًا لَيْسَ كَعُقُولِ النَّاسِ

وہ ٹھیک ہو گیا ہے ! اور اسے ایسی عقل آ گئی ہے جو عام لوگوں کی عقل سے بڑھ کر ہے۔ (سنن ابن ماجة : 3532)

5 سیدناسلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی پنڈلی بے ضرر بن گئی

جناب یزید بن ابی عبید سے روایت ہے کہ : میں نے سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی پنڈلی میں ایک زخم کا نشان دیکھا تو ان سے پوچھا : اے ابومسلم ! یہ زخم کا نشان کس چیز کا ہے؟ انہوں نے بتایا : غزوہ خیبر کے دن مجھے یہ زخم لگا تھا ، لوگ کہنے لگے : سلمہ زخمی ہو گیا ہے ۔

فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَة .

چنانچہ میں رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ نے تین مرتبہ اس پر اپنا لعاب مبارک ملا ہوا دم کیا ، اس کی برکت سے آج تک مجھے اس زخم سے کوئی تکلیف نہیں پہنچی ۔ (صحیح بخاری : 4206)

6 بچے کا جلا ہوا ہاتھ ٹھیک ہوگیا

سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کی والدہ ام جمیل کہتی ہیں:ایک مرتبہ میں تمہیں سر زمین حبشہ سے لیکر آرہی تھی ، جب میں مدینہ منورہ سے ایک یا دو راتوں کے فاصلے پر رہ گئی تو میں نے تمہارے لیے کھانا پکانا شروع کیا ، اسی اثناء میں لکڑیاں ختم ہو گئیں ، میں لکڑیوں کی تلاش میں نکلی تو تم نے ہانڈی پر ہاتھ مارا اور وہ الٹ کر تمہارے بازو پر گر گئی ، میں تمہیں لیکر نبی کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! یہ محمد بن حاطب ہے ۔

فَتَفَلَ فِي فِيكَ، وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِكَ، وَدَعَا لَكَ، وَجَعَلَ يَتْفُلُ عَلَى يَدَيْكَ وَيَقُولُ : أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا .

نبی کریم نے تمہارے منہ پر اپنا لعاب مبارک ڈالا ، اور تمہارے سر پر ہاتھ پھیر کر تمہارے لیے دعا فرمائی،نبی معظم تمہارے ہاتھ پر اپنا لعاب مبار ڈالتے جاتے اور کہتے جاتے : اے لوگوں کے رب ! اس تکلیف کو دور فرما ، اور شفا عطا فرما کہ تو ہی شفا دینے والا ہے ، تیرے علاوہ کسی کو شفا نہیں ہے ، ایسی شفا عطا فرما جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے ، میں تمہیں نبی کے پاس سے لیکر اٹھنے بھی نہیں پائی تھی کہ تمہارا ہاتھ ٹھیک ہو گیا ۔(مسند احمد : 15453)

7 سیدناجابر رضی اللہ عنہ کی دعوت میں برکت پڑ گئی

سیدنا جابر سے روایت ہے کہ : (جب غزوہ خندق کے دن) خندق کھودی جا رہی تھی تو میں نے معلوم کیا کہ نبی انتہائی بھوک میں مبتلا ہیں۔ میں فوراً اپنی بیوی کے پاس آیا اور کہا : کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ میرا خیال ہے کہ نبی انتہائی بھوک میں ہیں۔ میری بیوی ایک تھیلا نکال کر لائیں جس میں ایک صاع جَو تھے۔ گھر میں ہمارا ایک بکری کا بچہ بھی بندھا ہوا تھا۔ میں نے بکری کے بچے کو ذبح کیا اور میری بیوی نے جَو کو چکی میں پیسا۔ جب میں ذبح سے فارغ ہوا تو وہ بھی جَو پیس چکی تھیں۔ میں نے گوشت کی بوٹیاں کرکے ہانڈی میں رکھ دیا اور رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میری بیوی نے پہلے ہی تنبیہ کر دی تھی کہ نبی کریم اور آپ کے صحابہ کے سامنے مجھے شرمندہ نہ کرنا۔ چنانچہ میں نے نبی معظم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے کان میں یہ عرض کیا کہ : یا رسول اللہ ! ہم نے بکری کا ایک چھوٹا سا بچہ ذبح کیا ہے اور ایک صاع جَو پیس لیے ہیں جو ہمارے پاس تھے۔ اس لیے آپ دو ایک صحابہ کو ساتھ لے کر تشریف لے چلیں۔ آپ نے بہت بلند آواز سے فرمایا : اے اہل خندق ! جابر نے تمہارے لیے کھانا تیار کروایا ہے۔ بس اب سارا کام چھوڑ دو اور جلدی چلے چلو۔ اس کے بعد نبی رحمت نے فرمایا : جب تک میں آ نہ جاؤں ہانڈی چولھے سے نہ اتارنا اور تب ہی آٹے کی روٹی پکانا شروع کرنا۔ میں اپنے گھر آیا۔ ادھر آپ بھی صحابہ کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ میں اپنی بیوی کے پاس آیا تو وہ مجھے برا بھلا کہنے لگیں۔ میں نے کہا : تم نے جو کچھ مجھ سے کہا تھا میں نے وہی نبی اکرم کے سامنے عرض کر دیا تھا۔ آخر میری بیوی نے گندھا ہوا آٹا نکالا اور آپ نے اس میں اپنے لعاب دہن کی آمیزش کر دی اور برکت کی دعا کی۔ ہانڈی میں بھی آپ نے لعاب کی آمیزش کی اور برکت کی دعا کی۔ اس کے بعد آپ نے (میری بیوی سے) فرمایا : ايک روٹی پکانے والی اور بلالے جو تیرے ساتھ مل کر روٹی پکائے ۔ اور ہانڈی سے گوشت نکالتی جا لیکن ہانڈی چولھے سے نہ اتارنا۔ صحابہ کی تعداد ہزار کے قریب تھی۔ میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتا ہوں کہ اتنے ہی کھانے کو سب نے ( شکم سیر ہو کر ) کھایا اور کھانا بچ بھی گیا۔ جب تمام لوگ واپس ہو گئے تو ہماری ہانڈی اسی طرح ابل رہی تھی جس طرح شروع میں تھی اور آٹے کی روٹیاں برابر پکائی جا رہی تھیں۔ (صحیح مسلم : 5315)

8 کنویں کا پانی بڑھ گیا

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ کے ساتھ ایک ہزار چار سو کی تعداد میں لوگ تھے یا اس سے بھی زیادہ۔ ایک کنویں پر پڑاؤ ہوا ، تو لشکر نے اس کا ( سارا ) پانی کھینچ لیا اور رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ رسول اللہ کنویں کے پاس تشریف لائے اور اس کی منڈیر پر بیٹھ گئے۔

پھر فرمایا : ایک ڈول میں اسی کنویں کا پانی لاؤ۔ پانی لایا گیا تو :

فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ فَدَعَا

آپ نے اس میں کلی کی ( اپنا لعاب مبارک ڈالا) اور دعا فرمائی۔ پھر فرمایا : کنویں کو یوں ہی تھوڑی دیر کے لیے رہنے دو۔ اس کے بعد سارا لشکر خود بھی سیراب ہوتا رہا اور اپنی سواریوں کو بھی خوب پانی پلاتا رہا۔ یہاں تک کہ وہاں سے انہوں نے کوچ کیا۔ (صحیح بخاری : 4151)

 

 

تذکرہ صاحبِ صدق ووفا

فضیلۃ الشیخ ابو فوزان محمد طیب عبد الشکور

(فاضل مدینہ یونیورسٹی ، مترجم: محکمۃ العلیا نجران۔سعودی عرب)

رسول معظم کی ولادت باسعادت کے وقت تاریخ اپنے بدترین دور سے گزر رہی تھی۔جہالت،گمراہی اورظلم کا دور دورہ تھا دوسری قوموں کے ساتھ ساتھ اقوامِ عرب بھی خالقِ ارض وسماء کو بھول چکی تھیں۔ حیوانیت، روحانیت پہ غالب ، شیطانیت نے اس قدر مضبوط پنجے گاڑے ہوئے تھے کہ صنف نازک کو زندہ درگور کر دیتے تھے اور اپنے ہاتھوں سے ان نازک کلیوں کو مسلنے میں عزت وفخر محسوس کرتے تھے۔ سود خوری،شراب نوشی ان کا روز مرہ کا معمول اور جنگ وجدل ان کا شیوہ تھا۔ فرعونیت اس حد تک تھی کہ دوسری قوموں کو اپنا زرخرید سمجھتے تھے ، لکھنا پڑھنا نہیں جانتے لیکن زبان دانی پہ فخر غرور کی حد تک تھا، شخصیت پرستی اور مادہ پرستی ان کی رگوں میں رچ بس چکی تھی، ضلالت وگمراہی کے انتہائی گہرے گڑے میں گرے ہوئے تھے۔ بیت اللہ کا ننگا طواف کرنے کو عبادت کا نام دیا ہوا تھا، ان کا ضمیر بادصرصر کی ستم رسیدہ کونپل کی طرح مرجھا چکا تھا، خود غرضی اور بے راہ روی نے سابقہ انبیاء کی تعلیمات کو ان سے اوجھل کر دیا تھا، انصاف کے معاملے میں امتیازی سلوک کیاجاتا گویا کہ طغیان ومعصیت اور ظلم وجبر کا طوفان بپا تھا۔

رب کائنات نے اس سسکتی ہوئی انسانیت پہ رحم کیا اور آپ  دعائے خلیل، نوید مسیحا اور آمنہ کے خواب کی تعبیر بن کر دنیا میں تشریف لائے ۔آپ ﷺ نے معصومانہ طفولیت اور بے داغ جوانی گزاری، نبوت سے پہلے اپنی چالیس سالہ زندگی میں ہمیشہ حق کا ساتھ دیا، معاہدہ حلف الفضول ہو یا حجر اسود کی تنصیب کا مرحلہ ہو نہایت ہی خوش اسلوبی اور دانشمندی کا ثبوت دیا۔

بے کسوں، یتیموں،مسکینوں اور کمزور لوگوں کی مدد کرنے میں راحت سمجھی گویا آپ نے نبوت سے پہلے کی زندگی حقوق العباد کی خاموش تبلیغ میں صرف کی، معاملات دنیا نہایت امانت وصداقت سے ادا کرتے رہے اور اپنی قوم میں رسالت ملنے سے قبل ہی ’’صادق وامین‘‘ کے لقب سے پہچانے جانےلگے۔

اللہ تعالیٰ نے خلوت میں ریاضت کا ثمر نبوت کی صورت میں عطا کیا اور ختم نبوت کا تاج آپ ﷺ کو عطا ہوا ، جبریلِ امین اللہ کی طرف سے (اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ)کی پہلی وحی لے کر آپ  کے پاس آئے اور حکم الٰہی لائے (يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ) کی تعمیل میں آپ  اپنی نبوت کا اعلا ن کرتے ہوئے اللہ کی وحدانیت کی طرف بلایا، تین سو ساٹھ(360) بتوں کے پجاری آپ کے جانی دشمن بن گئے، آپ  کی حق گوئی اہل مکہ کو ناگوار گزری اپنے پرائے بن گئے،دوست دشمنی پہ اُتر آئے، اقارب ’’عقارب‘‘ بن گئے طرح طرح کی تکلیفیں دی جانے لگیں آپ علیہ السلام کو ڈرایا، دھمکایا،مارا پیٹاگیا، شاعر ومجنون کہاگیا، آپ کے گھر میں کوڑاکرکٹ پھینکاگیا اور راستے میں کانٹے بچھائے گئے، پتھر مار کر لہولہان کیا گیا، دعوت الی اللہ کی پاداش میں ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے، تین سال تک آپ ﷺ کے گھر والوں کے ساتھ

سوشل بائیکاٹ کیا گیا جب ان حربوں میں ناکام ہوئے توزر،زن اور سرداری کا لالچ دیاگیالیکن داعی حق ﷺفرماتے ہیں کہ: ’’اگر میرے دائیں ہاتھ پہ سورج اور بائیں ہاتھ پہ چاند رکھ دیا جائے اور کہا جائے کہ کلمہ حق نہ کہوں ، اللہ کی قسم ! میں کبھی بھی اس راستہ کو نہ چھوڑوں گا یہاں تک کہ اللہ کا دین غالب آجائے یا میں راہ حق میں شہید کر دیاجاؤں‘‘۔

جب آپ نے دیکھا کہ اہل مکہ کی سنگدلی اور عداوت وشقاوت بڑھتی جارہی ہے تو آپ ﷺ نے طائف کا سفر کیا کہ اگر مکہ والے گُلِ اسلام کو مسلنے پہ بضد ہیں اللہ کرے یہ طائف میں مہک اُٹھے لیکن طائف والے تو اہل مکہ سے بھی دوہاتھ آگے نکلے، حق کو قبول کرنے کی بجائے داعی حق رسول کریم کو پتھر مارنے لگے اور آپ ﷺکو لہولہان کر دیا آپ ﷺ صبر وتحمل اور استقامت کا پیکر بنے رہے اور جب فرشتے نے کہا اگر کہیں تو ان لوگوں کو دو پہاڑوں کے بیچ کچل دیں ،  آپﷺ نے عفوودرگزر کا دامن نہ چھوڑا آپ نے کہا: نہیں ، اگر یہ حق کو قبول نہیں کر رہے تو مجھے اللہ سے امید ہے کہ ان کی اولاد حق کو ماننے والی ہوگی اور واپس مکہ تشریف لے آتے ہیں۔

جب کفار مکہ کی ظلم وبربریت حد سے بڑھ گئی تو آپ  نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حبشہ کی طرف ہجرت کی اجازت اور بعد ازاں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی اور جب مکہ کے سنگدل آپ کی جان کے دشمن ہوگئے اور آپ  کے گھر کا