TEST1

ایک منٹ میں کیے جانے والے اعمال

اے عزیزانِ گرامی! وقت درحقیقت عمر رواں ہے۔ وقت کو سستی اور غفلت میں ضائع کرنا، اپنی عمر کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ باشعور اور باحکمت لوگ اپنے وقت کی حفاظت کرتے ہیں۔ فضول گفتگو اور لایعنی کاموں میں وقت کو ضائع نہیں کرتے بلکہ اپنی زندگی کے قیمتی اوقات کو غنیمت جانتے ہوئے اچھے اور نیک کام کرتے ہیں۔ ایسے کام جن سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔ عوام الناس کو فائدہ پہنچے۔ آپ کی عمر کا ہر منٹ، ہر لمحہ اس قدر قیمتی ہے کہ آپ اس ایک منٹ میں اپنی زندگی، عمر، قابلیت، سعادت اور عمل صالحہ میں اضافے اور سربلندی کا سنگ میل عبور کر سکتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اپنی عمر سے ایک قیمتی منٹ صَرف کر کے خیر کثیر حاصل کریں تو آپ درج ذیل اعمال کی محافظت کریں۔

1۔ ایک منٹ میں سورۃ اخلاص چھ مرتبہ پڑھی جا سکتی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ایک مرتبہ سورۃاخلاص پڑھنے کا اجر و ثواب ایک تہائی قرآن ہے ۔(بخاری)

اس طرح چھ مرتبہ پڑھنے پر دو قرآن مجید پڑھنے کا ثواب حاصل ہو سکتا ہے۔ ایک یہ عمل تسلسل سے جاری رکھا جائے تو ایک مہینے میں ساٹھ قرآن پڑھنے کا ثواب مل سکتا ہے۔

2۔ ایک منٹ میں قرآن شریف کی متعدد آیات دیکھ کر پڑھی جا سکتی ہیں۔

3۔ ایک منٹ میں کوئی نہ کوئی ایک آیت حفظ کی جا سکتی ہے۔

4۔لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِیْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰی كُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ

یہ تسبیح ایک منٹ میں ہم تین سے پانچ مرتبہ پڑھ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس تسبیح کو دس مرتبہ پڑھنے کا اجر و ثواب اولادِ اسماعیل علیہ السلام میں سے آٹھ غلاموں کو فی سبیل اﷲآزاد کرنے کے اجر کے برابر ہے۔

5۔ ایک منٹ میں

’’سُبْحَانَ اللهِ وَ بِحَمْدِهٖ‘ ‘

بیس سے زیادہ مرتبہ پڑھا جا سکتا ہے۔ اور جو شخص اس تسبیح کو ایک سو مرتبہ پڑھتا ہے تو اس کے تمام (صغیرہ) گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں ۔(بخاری)

6۔ ہم ایک منٹ میں

’’سُبْحَانَ اﷲِ وَبِحَمْدِهٖ سُبْحَانَ الْعَظِیْم‘‘

تقریبا دس مرتبہ پڑھ سکتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ان کلمات کو پڑھنا رحمن کو بڑا محبوب ہے۔ زبان پر بہت آسان اور ترازو میں بہت بھاری ہیں۔

7۔ سُبْحَانَ اﷲ وَالْحَمْدُ ﷲ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ

یہ کلمہ ایک منٹ میں متعدد مرتبہ پڑھا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺکو ان کلمات سے بہت محبت تھی۔ یہ افضل الکلام ہیں۔ میزانِ قیامت میں ان کا وزن بہت بھاری ہو گا۔

8۔ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲ

ایک منٹ میں تقریباً بیس مرتبہ پڑھا جا سکتا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کی روایت کے مطابق یہ جملہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔

9۔ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ

ایک منٹ میں بیس سے پچیس مرتبہ پڑھا جا سکتا ہے۔ یہ کلمہ توحید ہے جس شخص کا آخری کلام یہ کلمہ بن جائے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔

10۔ سُبْحَانَ الله وَ بِحَمْدِهٖ عَدَدِ خَلْقِهٖ وَ رِضَا نَفْسِهٖ وَ زِنَةَ عَرْشِهٖ وَ مِدَادَ كَلِمَاتِهٖ

ایک منٹ میں کئی مرتبہ پڑھا جا سکتا ہے۔ ان کلمات کے پڑھنے سے بے شمار تسبیحات کا اجر و ثواب ملتا ہے۔

11۔ اللہ تعالیٰ سے معافی و بخشش طلب کرنا ہر مسلمان کا شعارِ زندگی ہونا چاہیے۔ ایک منٹ میں مکمل فہم و فراست اور قلبی احساس کے ساتھ

’’اَسْتَغْفِرُاﷲ‘‘

پڑھنا چاہیں تو بیسیوں مرتبہ پڑھ سکتے ہیں۔ استغفار کی فضیلت کسی سے مخفی نہیں ہے۔ یہ بخشش و مغفرت، دخولِ جنت  اور حصول برکت و رزق کا عظیم ترین سبب ہے۔

12۔ ایک منٹ میں ہم دو تین بار مکمل درود شریف پڑھ سکتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ رسول کریم ﷺپر ایک بار درود و سلام بھیجنے سے اللہ تعالیٰ کی دس رحمتیں حاصل ہوتی ہیں۔

13۔خالق کائنات کی اس عظیم ترین کائنات پر غور و فکر اور عبرت اقوام گذشتہ ایک منٹ میں کی جا سکتی ہے۔

14۔ اللہ سے محبت، شکر گزاری، خوف و تقویٰ، بندگی کا احساس، ان تمام جذبات کو ایک منٹ میں اُبھارا جا سکتا ہے۔

15۔ سیرت النبی، اخلاقیات، احادیث رسول ﷺپر مبنی کوئی کتاب کا ایک قیمتی صفحہ، ایک منٹ میں پڑھا جا سکتا ہے۔

16۔ ایک منٹ میں ٹیلی فون کے ذریعے کسی رشتہ دار کے ساتھ صلہ رحمی بھی کر سکتے ہو۔

17۔ ایک منٹ میں اپنے لیے، اپنے والدین کے لیے، اہل و عیال کے لیےکوئی بھی دعا مانگ سکتے ہو۔

18۔ کئی مسلمان بھائیوں کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہہ سکتے ہو۔

19۔ کسی کو برائی سے روکنا یا نیکی کا حکم دینا، ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ یہ عمل بھی ہو سکتا ہے۔

20۔ کسی مسلمان بھائی کے حق میں جائز سفارش کی جا سکتی ہے۔

21۔ راستے میں چلتے چلتے کوئی تکلیف دہ چیز ہٹائی جا سکتی ہے۔

کم و بیش ایک سو دفعہ سُبْحَانَ اﷲ پڑھا جا سکتا ہے جس سے ایک ہزار نیکیاں ملیں گی یا ایک ہزار (صغیرہ) گناہ معاف ہوں گے۔ ان شاء اللہ۔ (صحیح مسلم)

۲۲۔ رسول اللہ ﷺ پر درود پڑھا جاسکتاہے۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى الله عَلَيْهِ عَشْرًا.

جس نے مجھ پر ایک بار درود بھیجا اللہ اس پر دس بار رحمت نازل فرمائے گا ۔(صحيح مسلم: 408)

ایک روایت کے لفظ ہیں:  

إنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ عَلَيَّ صَلَاةً.

قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جو مجھ پر زیادہ درود پڑھتا ہوگا۔(صحیح الترغيب والترهيب: 1668)

۲۳۔ نیکی کی نیت کرسکتے ہیں۔سيدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ جو آدمی بستر پر لیٹتے وقت نیت رکھتا ہو کہ رات کو ( قیام کے لیے ) اٹھے گا لیکن اسے گہری نیند آ گئی اور وہ صبح تک سویا رہا تو اس کے لیے اس نماز کا ثواب لکھ دیا جائے گا جس کی اس نے نیت کی اور اس کی نیند اس کے رب عزوجل کی طرف سے اس پر نوازش ہو گی ۔ (سنن نسائی: 1788)

۲۴۔ وضو کی دعا پڑھی جاسکتی ہے۔ سيدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: تم میں سے جو شخص وضو کرے اور اپنے وضو کو پورا کرے یا خوب اچھی طرح وضو کرے پھر یہ کہے :

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ،

تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، جس سے چاہے داخل ہو جائے ۔(صحيح مسلم: 234)

۲۵۔ اذان کے اختتام پر دعا مسنون پڑھی جاسکتی ہے۔ سيدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اذان سن کر یہ کہے:

اللهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَه

اسے قیامت کے دن میری شفاعت حاصل ہوگی۔(صحيح بخاری: 614)

۲۶۔ سورت فاتحہ کے اختتام پر آمین کہی جاسکتی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا ، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.

جب امام آمين کہے تو تم بھی آمين کہو۔ کیونکہ جس کی آمين ملائکہ کے آمین کے ساتھ مل گئی اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے۔(صحيح بخاري: 780)

۲۷۔ نماز کے بعد کی کوئی ایک دعا پڑھی جاسکتی ہے۔ سیدنا معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے معاذ! اللہ کی قسم! میں تم سے محبت کرتا ہوں، اللہ کی قسم! میں تم سے محبت کرتا ہوں ، پھر فرمایا: اے معاذ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں: ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا:

اللهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ.

اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما۔(سنن ابی داود: 1522)

۲۸۔ بازار میں داخل ہونے کی دعا پڑھی جاسکتی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جس نے بازار میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھی:

لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

تواللہ تعالی اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور اس کی دس لاکھ برائیاں مٹادیتا ہے اور اس کے دس لاکھ درجے بلند فرماتا ہے۔(سنن ترمذي: 3428)

۲۹۔ مسلمان کو سلام کر سکتے ہیں۔سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ.

تم آپس میں سلام کو عام کرو۔(سنن ترمذی: 2688)

ایک روایت کے مطابق کامل سلام کرنے میں تیس نیکیاں ملتی ہے۔ سيدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ایک شخص نبی ﷺکے پاس آیا اور اس نے السلام علیکم کہا، آپ نے اسے سلام کا جواب دیا، پھر وہ بیٹھ گیا، تو نبی ﷺنے فرمایا: اس کو دس نیکیاں ملی ہیں۔ پھر ایک اور شخص آیا، اس نے السلام علیکم ورحمتہ اﷲ کہا، آپ نے اسے جواب دیا، پھر وہ شخص بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: اس کو بیس نیکیاں ملی ہیں۔ پھر ایک اور شخص آیا اس نے السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ کہا، آپ نے اسے بھی جواب دیا، پھر وہ بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: اسے تیس نیکیاں ملیں ۔(سنن ابی داود: 5195)

عزیزانِ گرامی! آپ نے پڑھا کہ ہم ایک منٹ کو کس قدر عظیم اور قیمتی بنا سکتے ہیں۔ بے شمار نیکیاں کر سکتے ہیں۔ ہمارے اخلاص کی وجہ سے ان نیکیوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ان اعمال پر عمل پیرا ہونے کے لیےکوئی بہت بڑی مشقت، کوئی بہت بڑا چلہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ بغیر تھکاوٹ، مشقت اور بغیر رقم خرچ کیےعظیم ترین اجر کا مستحق ہوا جا سکتا ہے۔ یہ عمل چلتے پھرتے، دورانِ سفر گاڑی یا بس یا ٹرین و ہوائی جہاز میں بیٹھے بیٹھے کیا جا سکتا ہے۔

یہ اعمال خوش قسمتی، سعادت، انشراح صدر کا سبب بنتے ہیں۔ ان اعمال کو اپنا تکیہ کلام بنائیے، حرزجاں سمجھ کر محفوظ رکھیے۔ اپنے بھائی بہنوں کو تلقین کیجیے۔ نیکی کو کبھی بھی حقیر نہ سمجھیے بلکہ ہر عمل وقت آنے پر بڑا گراں قدر بن جاتا ہے۔

اخلاقِ حسنہ

1۔اخلاق حسنہ کے اثرات

طبقات ابن سعد میں یہ واقعہ آتا ہے کہ زیدبن حارثہ قبیلہ بنو کلب کے ایک شخص حارثہ بن شرحبیل کے بیٹے تھے۔ ابھی ان کی عمر آٹھ سال کی تھی،وہ اپنی والدہ کے ساتھ سفر پر جارہے تھے کہ راستے میں قبیلہ بنی قین کے لوگوں نے حملہ کرکے لوٹ مار کی اور کچھ لوگوں کو پکڑ کر لے گئے، جن میں زیدبن حارثہ بھی شامل تھے۔ زیدبن حارثہ کو عکاظ کے میلے میں حکیم بن حزام کے ہاتھ بیچ دیا گیا جو کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے تھے۔

انہوں نے یہ غلام مکہ میں لاکر اپنی پھوپھی صاحبہ کے حوالے کردیا۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی جب نبی کریم ﷺ سے شادی ہوئی تو انہوں نے یہ غلام آپ ﷺ کو تحفے میں دے دیا ۔ زید بن حارثہ کے گھر والے ان کے فراق میں غم سے نڈھال ہورہے تھے۔قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ بنو کلب کے چند افراد حج کے ارادے سے مکہ آئے تو انہوں نے زید بن حارثہ کو پہچان لیا ۔اس طرح زید بن حارثہ کے گھر والوں کو ان کی خبر لگ گئی۔چنانچہ زید کے والد حارثہ،چچا کعب بھاگے ہوئے مکہ پہنچے۔نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ آپﷺ زید کو معاوضہ لے کر ہمارے حوالے کردیجئے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں بچے کو بلاتا ہوں اور اسی کی مرضی پر چھوڑے دیتا ہوں کہ وہ میرے پاس رہنا پسند کرتا ہے یا آپ کے ساتھ جانا چاہتا ہے۔

اگر وہ آپ لوگوں کے ساتھ جانا چاہے گا تو میں کوئی فدیہ لیے بغیر اسے آپ کے حوالے کردوں گا۔آپﷺ کی یہ بات سن کر وہ بہت خوش ہوئے۔چنانچہ زید بن حارثہ کو بلایا گیا اور ان کے باپ اور چچا کے سامنے ان کے ساتھ بات کی گئی اور دونوں صورتیں ان کے سامنے پیش کی گئیں۔ زید بن حارثہ نے جواب دیا کہ میں نبی کریم ﷺ پر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا ۔حارثہ یہ سن کر بہت بے چین ہوئے اور کہنے لگے زید! کس قدر افسوس ہے کہ تم غلامی کو آزادی پر ترجیح دے رہے ہو اور اپنے ماں باپ اور خاندان کو چھوڑ کر غیروں کے ساتھ رہنا چاہتے ہو۔

والد کی بات سن کر زید نے جواب دیا کہ اس ہستی کے ساتھ رہ کر میری آنکھوں نے جو کچھ دیکھا ہے، اس کے بعد دنیا و مافیہا کو اس کے سامنے ہیچ سمجھتا ہوں ۔زید بن حارثہ کا یہ جواب سن کر باپ اور چچابخوشی راضی ہوگئے۔نبی کریم ﷺ نے اسی وقت زید بن حارثہ کو آزاد کردیا اور حرم میں جاکر قریش کے مجمع عام میں اعلان کرادیا کہ آپ سب لوگ گواہ رہیں، آج سے زیدمیرا بیٹا ہے۔یہ مجھ سے وراثت پائے گا اور میں اس سے ۔ حارثہ نے یہ سنا تو اور بھی خوش ہوا۔باپ اورچچا دونوں مطمئن ہوکر واپس چلے گئے۔ چونکہ زیدبن حارثہ کو نبی کریم ﷺ نے آزاد کرکے بیٹا بنا لیا تھا ، اس لئے لوگ اب آپ کو زید بن محمد پکارنے لگے تھے۔ بعد میں جب قرآن کریم میں منہ بولا بیٹا بنانے سے منع کیا گیا تو انہیں پھر سے زید بن حارثہ کہا جانے لگا۔(طبقات ابن سعد:ج3،ص38)

یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیدنا زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺ کی کیا ادا پسند آئی کہ انہوں نے اپنے والدین کے پاس واپس جانے کے مقابلے میں نبی کریم ﷺ کے پاس رکنا بہتر سمجھا۔ یاد رکھیں کہ اس وقت نبی کریم ﷺ بطور رسول مبعوث نہیں ہوئے تھے۔

اس وقت نہ تو نبی کریم ﷺ پر وحی نازل ہورہی تھی اور نہ ہی ان پر کسی قسم کی کوئی عبادت فرض کئی گئی تھی۔پھر وہ کیا چیز تھی جسے دیکھ کر سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺ کے ساتھ اتنی محبت ہوئی کہ وہ نبی کریم ﷺ کی غلامی میں زندگی گزارنے کے لئے تیار ہوگیا تھا ۔وہ اپنے ماں باپ کو توچھوڑنے کے لئے تیار تھامگر نبی کریم ﷺ کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تھا۔سوچیں ذرا وہ کیا چیز تھی جس نے اس بچے کو اتنا بڑا فیصلہ لینے پر مجبور کیا تھا؟ یقین جانیں وہ نبی کریم ﷺ کے اعلیٰ اخلاق تھے، ان کی شفقت اوران کی محبت تھی۔

آپ جانتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نبوت سے پہلے ہی صادق اور امین کے نام سے معروف تھے۔صداقت و امانت انسان کے بہترین کردار کی عکاسی اور اس کے حسن اخلاق کی نشانی ہوتی ہے۔ اس لئے نبی کریم ﷺ کی حدیث ہے آپ ﷺنے فرمایا: بلاشبہ تم میں سے زیادہ عزیز مجھے وہ شخص ہے جس کی عادات واخلاق تمام لوگوں سے عمدہ ہوں ۔(بخاری:3759)،ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا :تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں۔(بخاری:3559)

یہاں پر تھوڑا سا رک کر سوچیں کہ ہمارے اخلاق کیسے ہیں ؟کیا آج ہم میں کوئی ایسا مسلمان ہے جس کے حسن اخلاق سے متاثر ہوکر کوئی بچہ یا کوئی شخص اپنے والدین ، اپنے گھر والوں اور اپنی تمام چیزوں کو چھوڑنے کے لئے تیار ہوجائے ؟

یا کم از کم اتنا کہ جب ہم میں سے کوئی اپنا محلہ چھوڑ رہا ہو تو لوگ اس کو روکنے پر اصرار کریں۔جیسا کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ہجرت حبشہ کے وقت روکا گیا تھا۔چنانچہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اپنے والدین کو دین حق کی پیروی کرتے ہوئے ہی دیکھا ہے۔ اور ہم پر کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا کہ صبح و شام دونوں وقت رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس نہ آتے ہوں۔ پھر جب مسلمانوں کو سخت اذیت دی جانے لگی تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حبشہ کی طرف ہجرت کی نیت سے (مکہ سے) نکلے۔ جب آپ برک الغماد کے مقام پر پہنچے تو انہیں ابن دغنہ ملا جو قبیلہ قارہ کا سردار تھا۔ اس نے پوچھا: اے ابوبکر! کہاں جا رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ زمین کی سیروسیاحت کروں اور اپنے رب کی یکسوئی سے عبادت کروں۔ ابن دغنہ کہنے لگے: تمہارے جیسا شخص نہ تو نکلنے پر مجبور ہو سکتا ہے اور نہ اسے کوئی نکال ہی سکتا ہے کیونکہ ضرورت مند محتاج لوگوں کے پاس جو چیز نہیں ہوتی تم انہیں مہیا کرتے ہو، رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہو، ناداروں کی کفالت اور مہمانوں کی ضیافت کرتے ہو اور راہ حق میں اگر کسی کو مصیبت آئے تو تم اس کی مدد کرتے ہو، لہذا میں تمہیں پناہ دیتا ہوں تم (مکہ) لوٹ چلو اور اپنے شہر میں رہ کر اپنے رب کی عبادت کرو، چنانچہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ابن دغنہ کے ساتھ مکہ واپس آ گئے۔(بخاری:3905)

یا ہمارے پڑوسی ہمارے اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے اپنا گھر چھوڑنے پر تیار نہ ہوں۔ پھر اگر انہیں گھر فروخت کرنا بھی پڑے تو وہ اچھے پڑوس کی وجہ سے دگنا دام طلب کرسکے۔جیسا کہ عبداللہ بن مبارک کے یہودی پڑوسی نے اپنا گھر فروخت کرتے وقت دگنی قیمت لگائی تھی اور اس کی وجہ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کا بہترین پڑوسی ہونا بتایا تھا۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کے پڑوس میں ایک یہودی رہتا تھا یہودی نے اپنا مکان فروخت کرنا چاہا ایک آدمی نے پوچھا کتنے میں فروخت کروگے کہنے لگا کہ میں دو ہزار دینار میں فروخت کروں گا اس خریدار نے کہا کہ اس علاقے میں اس قسم کے مکان کی قیمت زیادہ سے زیادہ ایک ہزار دینار ہوتی ہے، یہودی کہنے لگا کہ ہاں ٹھیک ہے ایک ہزار دینار تو میرے مکان کی قیمت ہے اور ایک ہزار دینار عبداللہ بن مبارک کے پڑوس کی قیمت ہے۔(کتاب عبداللہ بن مبارک الامام القدوۃ:ص248)

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نبی کریم ﷺ کی انہی اوصاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ

اور بیشک آپ اخلاق کے بڑے مرتبے پر فائز ہیں ۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ کا ایک فرمان ہے:

اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ

«مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ (کی ایذاء)سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں»۔(بخاری:10)

اس حدیث میں ایک عام اصول بیان کیا گیا ہے کہ اگر دنیا میں مسلمانوں کی تعداد دو ارب ہے تو ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ یہ تمام لوگ ہماری زبان اور ہاتھ کی تکلیف سے محفوظ رہیں۔ چہ جائیکہ کوئی شخص میرے ہی محلے میں رہتا ہو، وہ میرا رشتہ دار ہو ،میرا دوست ہو یا پھر وہ میرے گھر والے ہوں ، ان سب کے ساتھ میرے اچھے اخلاق کی کتنی اہمیت ہوگی۔

پوری دنیا کےمسلمان اگر ہماری زبان اور ہاتھ سے محفوظ ہیں تو ہم مسلمان ہیں تو سوچیں کہ جو لوگ ہمارے گھروں ، محلوں میں رہتے ہیں یا جو ہمارے رشتہ دار ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے ساتھ ہمارے اچھے اخلاق کی کتنی اہمیت ہوگی۔

اس لئے اگر ہم بہت نمازیں پڑھنے والے، بہت سارےنفلی روزے رکھنے والے، بہت زیادہ قرآن کی تلاوت کرنے والےبن جائیں۔ہمارا لباس اور ہماری وضع و قطع شریعت کے عین مطابق ہوجائے پھر بھی ہم مکمل مومن نہیں ہوسکتے جب تک ہمارا اخلاق اچھا نہ ہو۔

کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

اَكْمَلُ الْمُؤْمِنِيْنَ اِيْمَانًا اَحْسَنُهُمْ خُلُقًا

«مومنین میں سے کمال ایمان والے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق بہترین ہیں»۔(ابو داؤد:4682)

اخلاق حسنہ سے کیا مراد ہے؟ اخلاق حسنہ سے مراد یہ ہے کہ ایک مسلمان نرمی ، محبت اور مسکراہٹ کے ساتھ سے بات کرے۔کسی کی غیبت نہ کرے،کسی پر تہمت نہ لگائے،کسی کی چغلی نہ کھائے۔اسی طرح وہ لوگوں کے پیچھے ان کی عزت کا دفاع کرے، لوگوں کے ساتھ درگزر کا معاملہ کرے، گالم گلوچ سے بچے، بدتمیزی سے بچے اورغصہ نہ کرے۔ یہ ساری باتیں اچھے اخلاق کے اندر آتی ہیں۔

یہ سارے وہ اچھے اخلاق ہیں جنہیں عموماً ہم بہت معمولی سمجھتے ہیں حالانکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

مَا شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ

قیامت کے دن مومن کے میزان میں اخلاقِ حسنہ سے بھاری کوئی چیز نہیں ہو گی ۔(ترمذی:2002)

ایک مومن کا دوسرے مومن پر پہلا تاثر اس کا اچھا اخلاق ہی ہوتا ہے۔ چونکہ ہم نماز اپنے لئے پڑھتے ہیں، روزہ اپنے لئے رکھتے ہیں ، قرآن کی تلاوت اپنے لئے کرتے ہیں، حج و عمرہ اپنے لئے کرتے ہیں کیونکہ ان سب کا تعلق حقوق اللہ کےساتھ ہوتا ہے البتہ اچھے اخلاق کا تعلق حقوق العباد کےساتھ ہوتا ہے۔

نبی کریم ﷺ ایک مرتبہ اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ،آپ ﷺ نے ان سے پوچھا:کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟صحابہ نے کہا؛ ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ درہم ہو، نہ کوئی سازوسامان۔ آپ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکاۃ لے کر آئے گا اور اس طرح آئے گا کہ (دنیا میں) اس کو گالی دی ہو گی، اس پر بہتان لگایا ہو گا، اس کا مال کھایا ہو گا، اس کا خون بہایا ہو گا اور اس کو مارا ہو گا، تو اس کی نیکیوں میں سے اس کو بھی دیا جائے گا اور اس کو بھی دیا جائے گا اور اگر اس پر جو ذمہ ہے اس کی ادائیگی سے پہلے اس کی ساری نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہوں کو لے کر اس پر ڈالا جائے گا، پھر اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ (مسلم:2581)

اس لئے اگر ہم قیامت کے دن کی مفلسی سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان تمام باتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ اپنے معاملات کو بہتر بنانا ہوگا۔ لوگوں کے ساتھ اچھے برتاؤ سے پیش آنا ہوگااور لوگوں کی پیٹھ پیچھے بات کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے اچھے اخلاق اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اسوۂ رسول ﷺ ہماری زندگی کا انقلابی حصہ

اللّٰہ تعالیٰ نے رسول کریم خاتم المرسلین محمد عربیﷺکی خصوصیات و امتیازات کو کہیں قرآن میں

هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ

وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا کہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں اور انہیں پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں اور بےشک وہ اس سے پہلے ضرور کُھلی گمراہی میں تھے۔(سورة الجمعہ 2)

فرما کر آپ کے جذبہ خدمت کو واضح کیا اور کہیں

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ

اور بیشک آپ اخلاق کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہیں ۔(سورة القلم 4)

فرما کر آپ کو عظیم اخلاق و کردار کا حامل ٹھہرایا اور کہیں

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيْرًاؕ

بیشک رسول اللہ میں تمہارے لیے نہایت عمدہ نمونہ ہے ‘ ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور قیامت کے دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرتا ہو۔(سورة الاحزاب 21)

فرما کر آپ کے اسوہ کو ہماری زندگیوں کی صلاح و فلاح کا ضامن ٹھہرایا۔ جس نے اس وطیرہ و طریقہ سے انحراف کیا یا تغافل برتا وہ صحیح راستہ سے دور ہوا اور اس کی زندگی جادہ مستقیم سے ہٹ گئی۔ رسول اللّٰہ ﷺ کی شخصیت ایسی ہمہ گیر شخصیت ہے کہ ہر شخص خواہ وہ کسی بھی طبقہ سے منسلک ہو آپ کو نمونہ بنا کر اپنی زندگی شاداں فرحاں گزار سکتا ہے۔ رسول کریم ﷺ راست باز یتیم بھی تھے ، صدق و صفا کے حامل بھی ، جوانی میں صادق و امین تھے تو دل میں تقویٰ کو سموئے ہوئے بھی ،امانت دار تاجر تھے تو فقید المثال خاوند بھی گویا کہ زندگی کی تمام جہات میں رسول اللّٰہ ﷺ کا اسوہ ہماری زندگی کے رنگ و ڈھنگ کو بدل کر آئینہ حدیث بنا سکتا ہے، چق چق بق بق جھک جھک اور لغویات سے ہٹا کر

وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللغْوِ مُعْرِضُوْنَ

کا مصداق بناسکتا ہے ، آپ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے ہی زندگی کے امید و بیم کے شکنجے بھرے جاسکتے ہیں ، آپ ہی کا اسوہ حسنہ آخرت میں کامیابی کے لیے غنچہ امید ثابت ہو سکتا ہے، آپ ہی کا اسوہ حسنہ ایسی نسیم بہار ہے جو غنچہ امید کو وا کرتا ہے۔ رسول اللّٰہ ﷺ کا اسوہ قرآن کے ابدی اصولوں کی تفسیر ہے ،جسے عمل کی زبان میں مرتب کیا گیا اور اس مقدس پیغام کی تکمیل ہیں جس کی مشعل آدم،ابراہیم،موسی،عیسی اورالانبياء ( علیھم السلام) اپنے دور میں روشن کرتے رہیں ۔

اسی لیے شاعر کیا خوب کہتا ہے

حضور ﷺ آئے تو سرِ آفرینش پا گئی دنیا

اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آ گئی دنیا

سُتے چہروں سے زنگ اترا، بجھے چہروں پہ نور آیا

حضور ﷺ آئے تو انسانوں کو جینے کا شعور آیا

( شاعر: رانا علی)

آپ کی تعلیمات ، اسوہ اور حسن کے دلدادہ حسان بن ثابت کہنے پر مجبور ہو گئے:

وَ أَحْسَنُ مِنْكَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنِيْ
وَ أَجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ
خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِّنْ كُلِّ عَيْبٍ
كَأَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ كَمَا تَشَاءُ

آپ ﷺ سے حسین تر میری آنکھ نے کبھی دیکھا ہی نہیں اور نہ کبھی کسی ماں نے آپ ﷺ سے جمیل تر کو جنم ہی دیا ہے۔ آپ ﷺ کی تخلیق بے عیب (ہر نقص سے پاک) ہے، (یوں دِکھائی دیتا ہے) جیسے آپ ﷺ کے ربّ نے آپ کی خواہش کے مطابق آپ ﷺ کی صورت بنائی ہے۔(حسان بن ثابت، ديوان : 21)

قارئین!اسوہ رسولِ کریم ﷺ ہم سے ایسی زندگی کا مطالبہ کرتا ہے جو رسول اللّٰہ ﷺ کے قول ، فعل ، عمل ، وصف اور ترک پر مشتمل ہو ۔ آپ ہی کی تعلیمات نے عرب کے لوگوں کو صحابہ کے لقب سے ملقب کیا۔ آپ کے اسلامی نظریات نے لوگوں کو صدق و امانت ، عفوودرگزر ، خوش طبعی و خندہ روئی ، سخاوت و فیاضی ، حلیمی و بردباری اور استقامت و اثبات جیسے اوصاف حمیدہ اور عادات جمیلہ کا وارث بنایا ۔ آپ کے اسوہ نے لوگوں کو بدعقیدگی ، جھوٹ ، غلط بیانی ،دھوکا دہی، لوٹ مار، قتل و غارت، حسد و کینہ ، مبالغہ آرائی ، افراط و تفریط ،سود خوری اور زنا جیسی اخلاق رذیلہ اور عادات سیئہ سے دور رکھا اور صفہ ہستی کے عظیم لوگ کہلائے۔

مکرمی! رسولِ کریم ﷺ کے اقوال و افعال سے احادیث کی کتب بھری پڑی ہیں جو زندگی کے لیے مشعلِ راہ ہیں‏۔ انہیں میں کچھ احادیث آپ کے گوش گزار کروں گا:

عَنْ زِيَادٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ يَقُولُ إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَقُومُ لِيُصَلِّيَ حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ أَوْ سَاقَاهُ، فَيُقَالُ لَهُ فَيَقُولُ: أَفَلاَ أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا

سیدنامغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ اتنی دیر تک کھڑے ہوکر نماز پڑھتے کہ آپﷺ کے پاؤں یا پنڈلیوں پر ورم ہوجاتا۔ جب آپﷺ سے اس بارے میں کہا جاتا تو آپﷺ فرماتے کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟۔(صحیح البخاری ،كتاب التهجد : حدیث:1130‏)

آپ کے اخلاق کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ قرآن آپ کے اخلاق کا مظہر ہے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے:

عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَخْبِرِينِي بِخُلُقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: «كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ»

 سعد بن ہشام سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے ام المؤمنین! آپ مجھے رسول اللہ ‌ﷺ کے اخلاق سے آگاہ فرمائیں۔ انہوں نے کہا: قرآن ہی رسول اللہ ‌ﷺ کا اخلاق تھا۔(مسند احمد: 25107)

آپ کے انفاق فی سبیل اللّٰہ کے بارے حدیث میں آتا ہے کہ رسولِ کریم ﷺ آندھی سے بھی زیادہ تیز خرچ کرتے ۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، وَكَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ القُرْآنَ، فَلَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ المُرْسَلَةِ»

سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ: ’’رسول اللہﷺ سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے۔ اور رمضان میں جب جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺسے ملتے تو دوسرے اوقات کے مقابلے میں بہت ہی زیادہ جود و کرم فرماتے۔ جبرائیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات میں آپؐ سے ملاقات کرتے اور آپﷺکے ساتھ قرآن کا دَور کرتے۔ غرض! نبی کریم ﷺ لوگوں کو بھلائی پہنچانے میں بارش لانے والی ہوا‘ سے بھی زیادہ جودوکرم فرمایا کرتے تھے۔(صحیح البخاری، حدیث: 6)

آپ ﷺ گھر کے کاموں میں تعاون کرتے تھے جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث اس پر دال ہے ۔

اسود کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ آپ ﷺ اپنے گھر میں کیا کرتے تھے، انہوں نے بتایا کہ گھر والوں کے کام میں لگے رہتے تھے اور جب نماز کا وقت آجاتا تو نماز کے لئے تشریف لے جاتے ۔(صحیح البخاری :حدیث نمبر 984)

آپ ﷺ رحیمیت سے بھر پور تھے جیسا کے احادیث میں آتا ہے:

عن جرير بن عبد الله رضي الله عنه مرفوعاً: «مَنْ لا يَرْحَم النَّاسَ لا يَرْحَمْهُ اللهُ»

سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اس پر اللہ بھی رحم نہیں کرتا“(صحیح البخاری 7637)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْصِنِي، قَالَ: «لاَ تَغْضَبْ» فَرَدَّدَ مِرَارًا، قَالَ: «لاَ تَغْضَبْ»

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ” غصہ نہ کیا کرو“۔ اس نے یہ سوال بار بار دہرایا اور آپ ﷺ نے یہی فرماتے رہے کہ غصہ نہ کیا کرو۔ (صحیح البخاري:6116)

رسولِ کریم ﷺ نے معاشرہ کو اسلام کا گہوارہ بنانے کے لیے فرمایا:

عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَىَ بَيعِ بَعْضٍ، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا. المُسْلِمُ أَخُو المُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ، وَلَا يَخْذُلُهُ، وَلَا يَكْذِبُهُ، وَلَا يَحْقِرُهُ، التّقْوَىَ هَهُنَا -وَيُشِيرُ إِلَىَ صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرّاتٍ-، بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ المُسْلِمَ، كُلُّ المُسْلِمِ عَلَىَ المُسْلِمِ حَرَامٌ؛ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ».

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مت حسد کرو، مت دھوکے بازی کرو، مت بغض رکھو، مت دشمنی کرو، کوئی تم میں سے دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے اور ہو جاؤ اللہ کے بندو بھائی بھائی۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے، نہ اس کو ذلیل کرے، نہ اس کو حقیر جانے، تقویٰ اور پرہیزگاری یہاں ہے۔“ اور اشارہ کیا آپ ﷺ نے اپنے سینے کی طرف تین بار (یعنی ظاہر میں عمدہ اعمال کر نے سے آدمی متقی نہیں ہوتا جب تک سینہ اس کا صاف نہ ہو) ”کافی ہے آدمی کو یہ برائی کہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، مسلمان کی سب چیزیں دوسرے مسلمان پر حرام ہیں اس کا خون، مال، عزت اور آبرو۔ ( صحیح مسلم ،حدیث نمبر: 6541)

رسولِ کریم ﷺ نے مومنین کو آپس میں شفقت کرنے پر بحثیت مشفق فرمایا:

فعن النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ-رضي الله عنهما- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ، وَتَرَاحُمِهِمْ، وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى»

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومنوں کی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت و مودت اور باہمی ہمدردی کی مثال جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے بایں طور کہ نیند اڑ جاتی ہے اور پورا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ (صحیح مسلم 6586)

اپ ﷺ نے آداب و اخلاق کے متعلق فرما کر سمندر کو کوزے میں بند کردیا:

عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ»

ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ نیک سلوک کرے، اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کا احترام اور اس کی خاطرداری کرے، اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔(صحیح البخاری:6019)

یہ ہے رسول اللّٰہ ﷺ کا اسوہ جو ہماری زندگیوں کے لیے زر خالص ہے۔

لیکن حیف صد حیف! جب انسان نے آپ ﷺ کی تعلیمات سے روگردانی کی تو انسان جادہ مستقیم سے ہٹ گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مغربی تہذیب کی برق پاشیوں اور جلوہ سامانیوں نے اہل مشرق کی عموماً اور مسلمانوں کی نظروں کو خصوصاً جس طرح خیرہ کیا وہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔ عریانی نے جس سیل رواں کی شکل اختیار کی اس نے ہماری ملی اور مذہبی اقدار کو خس و خاشاک کی طرح بہا دیا ،اس کی چمک دمک نے ہمیں کچھ اس طرح مبہوت کیا کہ ہم یہ بھی تمیز نا کرسکے کہ اس چمکتی ہوئی شے میں زر خالص کتنا ہے اور کھوٹ کتنا ہے ۔ اس تیز و تند سیلاب کے مقابلے میں ہم اتنے بے بس ہو کر رہ گئے کہ ہماری اکثریت نے اپنے آپ کو پوری طرح اس کے حوالہ کر دیا، نتیجتاً ہمارا معاشرہ تلپٹ ہو گیا اور ہمارے خاندانی نظام کا شیرازہ اس طرح منتشر ہوا کہ کوچہ کوچہ ہماری اس تہذیبی خودکشی پر نوحا کر رہا ہے ۔

یہی تہذیب انیسویں صدی کے آخر میں نومالتھوسی تحریک کا لٹریچر مانع حمل کو لیے برزور پیکار ہماری یونیورسٹیوں میں حملہ آور ہوا اور ابارشن جیسی بہیمانہ صفت کو صنف نازک کا مقدر بنایا۔ اس چیز نے بدکای کے راستے سے وہ آخری رکاوٹ بھی دور کردی جو آزاد صنفی تعلقات رکھنے میں مانع ہو سکتی تھی۔

 تہذیب فرنگی ہے اگر مرگ امومت

 ہے حضرت انسان کے لیے اس کا ثمر موت

 جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن

 کہتے ہیں اس علم کو اربابِ نظر موت

(علامہ اقبال)

یہی بحرانی کیفیت کا زمانہ تھا جس میں مغربی لباس ، مغربی معاشرت، مغربی آداب و اطوار حتی کہ چال ڈھال اور بول چال تک میں مغربی طریقوں کی نقل اتارئی گئی ۔ مسلم سوسائٹی کو مغربی سانچوں میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی ۔ الحاد، دہریت اور مادہ پرستی کو فیشن کے طور پر بغیر سمجھے بوجھے قبول کیا گیا ۔ ہر وہ پختہ یا خام تخیل جو مغرب سے آیا اس پر ایمان بالغیب لانا اور اپنی مجلسوں میں اس کو معرض بحث بنانا روشن خیالی کا لازمہ سمجھا گیا۔ شراب ،جوا، لاٹری ، تھیٹر ، رقص و سرور اور مغربی تہذیب کے دوسرے ثمرات کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ شائستگی ، اخلاق ، معاشرت ، معیشت ، سیاست ، قانون حتی کہ مذہبی عقائد اور عبادات کے متعلق بھی نظریات اور تجلیات کو کسی تنقید اور کسی فہم و تدبر کے بغیر اس طرح تسلیم کیا گیا کہ وہ آسمان سے اتری ہوئی وحی ہے ، جس پر سمعنا و اطعنا کہنے کے سواہ کوئی چارہ نہیں ہے۔(پردہ از ابو الاعلیٰ مودودی ص37)

اس سے آگے بڑھتے ہوئے یورپ نے اپنے لٹریچر میں «حرم» اور «نقاب» کو نہایت نفرت کی نگاہ سے دیکھا ۔ اپنے لٹریچر میں اس کی نہایت گھناؤنی اور مضحکہ انگیز تصویریں کھینچیں۔

اسی لیے علامہ اقبال نے یورپ سے سوال کیا۔

کوئی پوچھے حکیم یورپ سے

ہند و یوناں ہیں جس کے حلقہ بگوش

کیا یہی ہے معاشرت کا کمال

مرد بیکار و زن تہی آغوش

 دیکھیں اسوہ حسنہ کو جب پس پشت ڈالا گیا تو معاشرہ تلپٹ ہو کر رہ گیا،خودکشی کا زور بھڑ گیا ، طلاق کی کثرت سے نسلیں گھٹنی لگیں ، امراض خبیثہ نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں تباہ کر دیں، مختلف طبقوں کے درمیان روٹی کے لیے سخت کشمکش برپا ہوئی، حسد و بغض نے کس طرح ایک جنس کے لوگوں کو آپس میں بھڑکایا ، عیش پسندی نے لوگوں کے لیے زندگی کو کس قدر تلخ بنا دیا۔

مکرمی!اس کائنات کے رنگ و بو میں زندگی گزارنے کا سلیقہ و طریقہ اگر کسی کو نہیں آتا تو وہ زندگی میں ہر موڑ پر ناکامیوں ، نامرادیوں ، مایوسیوں اور پریشانیوں کا سامنا کرتا ہے جس سے اس کے مطلوبہ مقاصد اسی کے سامنے شکست و ریخت کا سامان بنتے ہیں ۔ اس کی آنکھوں میں عقاب کی تیز نگاہی اور دل میں جذبات کی طغیانی مانند پر جاتی ہے ۔ اس کی عملی زندگی برباد ہو کر رہ جاتی ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مشاہدہ میں کوتاہی ، فہم میں کمی اور نظم و نسق میں شدید نا اہلی اس کی ذات کا مقدر بن جاتی ہے ۔ رگ رگ میں احساس کمتری ، ندامت اور سبکی کے متعفن پڑنالے پھوٹنے لگتے ہیں ، اندر خفت و خجالت کی پیپ سی بہنے لگتی ہے اور گھن اور بدبو کے بھبھکے میں سارا وجود نالی میں پڑی ہوئی اس اوجھڑی کی طرح سڑنے لگتا ہے جو دھوپ میں پھول پھول کر پھٹ گئی ہو ۔ انسان اس قدر تھک جاتا ہے کہ اس کی گردن نیم نیم سوختہ شاخوں کی طرح بل کھا کر شانوں پر گرنے لگے۔ ناشکیب آرزوؤں کے کوڑے بڑی سفاکی سے کمر پر برسنے لگتے ہیں اور ناسفتہ خواہشات کا گرم گرم دھواں اٹی ہوئی چمنی کی طرح گلہ میں پھنس جاتا ہے۔

آپ کے اسوہ سے متاثر ہو کر لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے ،مراد ہوف مین: مسیحیت چھوڑ کر اسلام قبول کیا، یوسف اسلام (کیٹ اسٹیونز): مشہور برطانوی مسیحی گلوکار و موسیقار اسلام کی روحانیت اور آپ ﷺ کے اسوہ سے متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہوئے۔ ان کے بارے کہا جاتا ہے کہ مراکش کے دورے میں اذان کی آواز جب سماعتوں سے ٹکرائی تو ششدرہ گئے اور ایلس فیض: شاعرہ، فیض احمد فیض کی اہلیہ اپنے آبائی مذہب کو ترک کر کے اسلام میں داخل ہوئیں ۔آپ کے اسوہ پر عمل کر کے لوگوں کی زندگیاں بدل گئیں ، ذہن بدل گئے ، خیالات کی رو بدل گئی ، نگاہ کا زاویہ بدل گیا، عادات و اطوار بدل گئے ، رسوم و رواج بدل گئے ، حقوق و فرائض کی تقسیمیں بدل گئیں ، خیر و شر کے معیارات اور حلال و حرام کے پیمانے بدل گئے، اخلاقی قدریں بدل گئیں، دستور اور قانون بدل گئے، معیشت اور ازدواج کے اطوار بدل گئے۔ ہر طرف بناؤ ہی بناؤ،تعمیر ہی تعمیر اور ارتقا ہی ارتقا دکھنے لگا۔

قرآنِ مجید ۔۔۔ نجات و فلاح کا راستہ!

الحمد ﷲ وحده والصلاۃ والسلام علیٰ من لا نبي بعده۔ أما بعد:

قرآنِ مجید کائنات میں سب سے پرعظمت کتاب مقدس ہونے کے ساتھ ساتھ فصاحت و بلاغت اور باریک بینی میں اپنا ثانی نہ رکھتے ہوئے نہایت ہی سہل، منفرد اور عام فہم بھی ہے۔ قرآنِ مجید امت مسلمہ کی عظیم ترین متاع ہے، جسے براہِ راست سمجھنا اور پھر اس کے احکامات و ارشادات پر عمل کرنا امت مسلمہ کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ قرآنِ مجید کے نزول کا مقصد بیان کرتے ہوئے مالک کائنات ارشاد فرماتے ہیں:

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَصَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِي الَّذِيْنَ يَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰيٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يَصْدِفُوْنَ  (الأنعام: ۱۵۷)

’’یا یہ کہو کہ اگر واقعی ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم ان سے زیادہ ہدایت والے ہوتے۔ پس بے شک تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل اور ہدایت اور رحمت آچکی، پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے کنارا کرے۔ عنقریب ہم ان لوگوں کو جو ہماری آیات سے کنارا کرتے ہیں، برے عذاب کی جزا دیں گے، اس کے بدلے جو وہ کنارا کرتے تھے۔‘‘

نیز فرمایا:

هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِيُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِيَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِيَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ (إبراهيم:52)

’’یہ لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے اور تاکہ انھیں اس کے ساتھ ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ حقیقت یہی ہے کہ وہ ایک ہی معبود ہے اور تاکہ عقلوں والے نصیحت حاصل کریں۔‘‘

نیز فرمایا:

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْۤا اٰيٰتِهٖ وَ لِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(ص:29)

’’یہ ایک کتاب ہے، ہم نے اسے تیری طرف نازل کیا ہے، بہت بابرکت ہے، تاکہ وہ اس کی آیات میں غور وفکر کریں اور تاکہ عقلوں والے نصیحت حاصل کریں۔‘‘

لیکن یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم نے قرآنِ مجید کو سمجھا نہیں، اس کے کلام پر غور نہیں کیا، انگلش، اردو وغیرہ دیگر زبانیں سیکھتے ہیں مگر قرآن کو مشکل کتاب قرار دے کر چھوڑ دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآنِ مجید کو سمجھنا بے حد آسان ہے، اس کے 80% سے زائد الفاظ تو ایسے ہیں جو ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں دورانِ گفتگو استعمال کر جاتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے:

فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِيْنَ وَ تُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا(مريم:97)

’’سو اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم نے اسے تیری زبان میں آسان کر دیا ہے، تاکہ تو اس کے ساتھ متقی لوگوں کو خوشخبری دے اور اس کے ساتھ ان لوگوں کو ڈرائے جو سخت جھگڑالو ہیں۔‘‘

معنوی خزائن کا کشاف:

قرآنِ مجید صراطِ مستقیم کا پاسبان، علم و حکمت کا خزینہ، ہدایت کا سفینہ، کائنات میں منفرد، معنوی خزائن کا کشاف، شکستہ حوصلوں کو جولانیاں عطا کرنے والا، دل کی دنیا بدلنے والا، ذلت کو عزت، شکست کو فتح، بدحالی کو خوشحالی، انتشار کو وحدت میں تبدیل کرنے والا ہے۔ اگر ان تمام فوائد کو حاصل کرنا ہے تو قرآنِ مجید کی تعلیمات پر خلوصِ دل اور پختہ عزم سے عمل کرنا ہوگا، اپنے ذہنوں سے یہ بات نکال دیں کہ قرآن ایک مشکل کتاب ہے اور اسی بنیاد پر ہم اس میں غور و فکر اور تدبر نہیں کرتے۔ آپ غور کیوں نہیں کرتے کہ صحابہ کرامy جو کھیتی باڑی کرتے اور بکریاں چراتے تھے، جب قرآنِ مجید پر تدبر کیا تو ان کی زندگیوں میں ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ دینِ اسلام کے عالم اور مفسرین بنے:

وَ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ (القصص:53)

’’اور جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، یقینا یہی ہمارے رب کی طرف سے حق ہے، بے شک ہم اس سے پہلے فرماں بردار تھے۔‘‘

نیز فرمایا:

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِيْ بِهٖ مَنْ يَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ(الزمر:23)

’’اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی، ایسی کتاب جو آپس میں ملتی جلتی ہے، (ایسی آیات) جو بار بار دہرائی جانے والی ہیں، اس سے ان لوگوں کی کھالوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کی کھالیں اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے، جس کے ساتھ وہ جسے چاہتا ہے راہ پر لے آتا ہے اور جسے اللہ گمراہ کر دے تو اسے کوئی راہ پر لانے والا نہیں۔‘‘

قرآنِ مجید کو ترجمہ و تفسیر کے ساتھ پڑھنا:

قرآن کو بغیر ترجمہ کے ساتھ پڑھنا بھی نہایت درجے کا ثواب ہے، لیکن اس کو ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ پڑھنا بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ ہمارے بزرگانِ دین، علمائے کرام اپنے خطابات اور تقاریر میں لچھے دار باتیں کرنے کے بجائے اگر قرآنِ مجید کا ترجمہ و تشریح بیان کرنا شروع کر دیں تو اس سے نہ صرف فرقہ پرستی کا دروازہ بند ہو جائے گا بلکہ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ امت مرحومہ کا قرآن و سنت سے ٹوٹا ہوا رشتہ دوبارہ جڑ جائے گا۔ کیونکہ قرآن مجید دنیا اور آخرت کے بارے مفید علم کی تائید فرماتا ہے، عقیدہ سکھاتا ہے جو علم و عقیدہ دنیا و آخرت کے لحاظ سے غیر مفید ہو، اس کو چھوڑنے کی تلقین کرتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا:

مَثَلُ الَّذِيْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا١ؕ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ(الجمعة:5)

’’ان لوگوں کی مثال جن پر تورات کا بوجھ رکھا گیا، پھر انھوں نے اسے نہیں اٹھایا، گدھے کی مثال کی سی ہے جو کئی کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، ان لوگوں کی مثال بری ہے جنھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلادیا اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘

نیز فرمایا:

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْۤ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ (الأعراف:175)

’’اور انھیں اس شخص کی خبر پڑھ کر سنا جسے ہم نے اپنی آیات عطا کیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا، پھر شیطان نے اسے پیچھے لگا لیا تو وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔‘‘

قرآنِ مجید نفع بخش علم ہے، جبکہ اس کے برخلاف غیر نفع بخش علم سے رسول اﷲe نے پناہ مانگی ہے۔ سیدنا عبداﷲ بن عمروw بیان کرتے ہیں کہ اﷲ کے رسولe دعا کرتے تھے:

اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ (رواه الترمذي، باب ما جاء في فضل التسبیح والتكبیر)           

’’اے اﷲ میں ایسے دل سے پناہ مانگتا ہوں جس میں تیرا خوف نہ ہو اور ایسی دعا سے پناہ چاہتا ہوں جو تیری بارگاہ میں مستجاب نہ ہو اور ایسے نفس سے پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہ ہو، اور ایسے علم سے پناہ مانگتا ہوں جو نفع بخش نہ ہو۔‘‘

امت مسلمہ کی اصلاح و تربیت:

امت مسلمہ کی اصلاح و تربیت کے لیے قرآنِ مجید سے کارگر کوئی چیز نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی مساجد میں ترجمہ قرآن کی کلاسیں شروع کریں اور عام پڑھنے کے لیے قرآنِ مجید کے تراجم رکھیں، تاکہ اردو خواں طبقہ خاطر خواہ استفادہ کر سکے۔ ہمارے دین کو جہاں بہت سی خود ساختہ رسومات نے گھیرا ہوا ہے وہاں ایک رسم یہ بھی ہے کہ مُردوں کو بخشوانے کے لیے گھر گھر قرآنِ مجید کے سپارے تقسیم کیے جاتے ہیں، قرآن و سنت سے اس کا کوئی وجود نہیں۔ اگر ہم کتاب و سنت کا علم رکھیں تو ایسی اور ان جیسی دیگر رسوم پیدا ہی نہ ہوں، کیونکہ دین کے اندر کسی بھی قسم کا اضافہ قطعاً ناجائز اور حرام ہے۔ اس لیے کہ دین میں من پسند چیزیں شامل کرنا بدعت ہے، جس چیز پر پیغمبر اسلام محمدﷺ کا حکم نہیں، وہ جائز نہیں۔ سورۃ الحدید میں فرمایا:

ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّيْنَا بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَ اٰتَيْنٰهُ الْاِنْجِيْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِيَّةَ ا۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا١ۚ فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ(الحدید:27)

’’پھر ہم نے ان کے نقش قدم پر پے درپے اپنے رسول بھیجے اور ان کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور اسے انجیل دی اور ہم نے ان لوگوں کے دلوں میں جنھوں نے اس کی پیروی کی نرمی اور مہربانی رکھ دی اور دنیا سے کنارہ کشی تو انھوں نے خود ہی ایجاد کر لی، ہم نے اسے ان پر نہیں لکھا تھا مگر اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے (انھوں نے یہ کام کیا) پھر انھوں نے اس کا خیال نہ رکھا جیسے اس کا خیال رکھنے کا حق تھا، تو ہم نے ان لوگوں کو جو ان میں سے ایمان لائے ان کا اجر دے دیا اور ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں۔‘‘

قرآنِ مجید میں بنی اسرائیل کے ان علماء کی شدید مذمت کی گئی، جو قول و عمل میں تضاد کا شکار تھے، وہ لوگوں کو تو اچھوتے اور دلکش انداز میں تقاریر کرتے تھے، لیکن ان کا اپنا عمل اس دعوت کے برعکس ہوتا۔ اس پر اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:

اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَاَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ  اَفَلَاتَعْقِلُوْنَ (البقرۃ:44)

’’کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو، تو کیا تم نہیں سمجھتے؟‘‘

محمدﷺکی ذات میں اکملیت و جامعیت:

نبیوں اور رسولوں میں صرف حضرت خاتم النبیین محمدe کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کی ولادت با سعادت سے وفات تک کی سیرت کا ایک ایک پہلو اور گوشہ احادیث مبارکہ اور تاریخ کی معتبر کتب میں محفوظ کیا گیا ہے اور اس پر طرۂ امتیاز یہ کہ اﷲ تعالیٰ نے محمدﷺکی شخصیت میں جو امتیاز و انفرادیت اور جامعیت و اکملیت رکھی تھی، وہ انسانی تاریخ کے کسی زمانے اور دور میں کسی اور شخصیت کے حصے میں نہیں آئی۔ ہمارے پیارے نبی محترمﷺ کی ذات طیبہ میں جو کاملیت اور تنوع ہے، وہ صرف اور صرف آپﷺ کا ہی خاصا ہے، اسی لیے قرآنِ مجید نے واضح اعلان فرما دیا:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الأحزاب: ۲۱)

’’بلاشبہ یقینا تمھارے لیے اللہ کے رسول میں ہمیشہ سے اچھا نمونہ ہے۔‘‘

بندگی کی اصل معراج یہ ہے کہ بندہ خود کو اﷲ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیمات کو حرزِ جاں بنا لے اور ان کا سچا محب بن جائے۔ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک ایسے بندے کا مقام کیا ہے؟ ارشاد ہوتا ہے کہ ایسے بندے کو رب تعالیٰ اپنی محبوبیت میں لے لیتا ہے، یعنی ایسا صاحبِ ایمان جو رسول اﷲﷺکی اطاعت و اتباع کی پیروی میں زندگی کے شب و روز گزارے، اسے خوش خبری دیتے ہوئے فرمایا:

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (آل عمران: ۳۱)

’’کہہ دے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔‘‘

لہٰذا اسلام میں نجات و کامیابی اور فلاح کا ایک ہی طریقہ اور راستہ ہے کہ قرآن مقدس کے بتائے ہوئے راستے اتباعِ سنت اور سیرت محمد مصطفیﷺ کو اپنا لے۔ اس کے برخلاف جو بھی راستہ ہوگا، چاہے وہ کتنا ہی پرکشش کیوں نہ ہو، قطعاً قبول نہیں کیا جائے گا۔ اﷲ تعالیٰ کی بندگی اور رسول اﷲﷺکی اطاعت کا جو بھی خود ساختہ معیار و میزان اپنایا جائے گا۔ چاہے اس میں کتنی ہی خیر خواہی اور نیک نیتی شامل ہو، قابلِ قبول نہیں ہوگا۔

ادارہ تفہیم الاسلام کی قرآنی خدمات:

ادارہ تفہیم الاسلام احمد پور شرقیہ (ضلع بہاول پور) نے فتنے کے اس دور میں قرآنِ مجید کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے ہمیشہ ترجمہ قرآن اور فہم قرآن پر زور دیا ہے۔ اسی دعوت کے پیشِ نظر ’’فیضانِ قرآن‘‘ شائع کی جا رہی ہے۔ اس سے قبل قرآنِ مجید کے موضوع پر خاک ساری کی ایک دعوتی کتاب: ’’موضوعات القرآن فی توحید الرحمان‘‘ بھی شائع کر کے تقسیم کی جا چکی ہے۔ جب کہ اس سلسلے کی مزید ایک درجن قرآنی کتب مکمل ہیں اور طباعت کی منتظر ہیں:

1پیامِ قرآن کی کرنیں۔

2موسیقی سے قرآن تک۔

3قرآنِ مجید کے متعلق مستشرقین کے اعترافات۔

4قرآنِ مجید اور جدید سائنسی اکتشافات۔

5تعارف قرآنِ مجید۔

6فہم قرآن اور اس کے اہداف و مقاصد۔

7قرآنِ مجید غیر مسلموں کی نظر میں۔

8مقالاتِ قرآن۔

9مضامین قرآن۔

10قرآنی قصص و واقعات۔

11قرآنی دعائیں۔

12 قرآنِ مجید کی سورتیں اور ان کے فضائل۔

ان درجن بھر کتب کی تصنیف و تالیف کا اصل مقصد یہی ہے کہ قرآنِ مجید کی ہدایات اور تعلیمات سے مکمل آگاہی حاصل ہو سکے۔ ’’فیضانِ قرآن‘‘ میں بھی قرآن فہمی کو اجاگر کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے، اس میں قرآنِ مجید کے مضامین کو درج ذیل آٹھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے:

1۔قرآن مجید، ایک کامل ضابطہ حیات۔

2۔سابقہ قوموں کے زوال کی داستان، قرآنِ مجید کی زبانی۔

3۔قرآنِ مجید کے چار حقوق۔

4۔قرآنِ مجید میں دعوت و تبلیغ کا حکم۔

5۔قرآن اور حاملین قرآن۔

6۔چند قرآنی سورتوں کی فضیلت ،احادیث کی روشنی میں۔

7۔قرآنِ مجید کی اثر انگیزی، اسلاف کی زندگیوں میں۔

8۔متنازعہ مسائل اور قرآنی احکام۔

یہ تمام ابواب عام فہم ترجمہ و تشریح کے ساتھ نیز موضوع کے مطابق بحوالہ احادیث بھی ذکر کی گئیں ہیں، تاکہ علماء و خطباء اور مطالعہ قرآن کا شوق رکھنے والے احباب برابر استفادہ کر سکیں۔

آیات کے ترجمہ کے لیے زیادہ تر استاذ العلماء شیخ الحدیث مولانا عبدالسلام بھٹویd کے ترجمہ قرآنِ مجید سے استفادہ کیا گیا ہے، تاکہ اس مختصر کتاب میں آیاتِ قرآنی کا سہل مفہوم ہمارے قلوب و اذہان میں راسخ ہوسکے۔ اس کتاب کی تیاری میں ادارہ تفہیم الاسلام کے اراکین و ذمہ داران کا خصوصی تعاون حاصل رہا، جس پر میں ان کے لیے دعا گو ہوں کہ اﷲ تعالیٰ انھیں اپنی رحمت خاص سے نواز دے۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں ریا کاری اور نمود و نمائش سمیت ہر قسم کی ظاہری و باطنی برائیوں سے محفوظ و مامون رکھے۔

’’فیضانِ قرآن‘‘ کو میرے والدین کریمین، برادران، اولاد و احفاد اور تمام معاونین کے لیے صدقہ جاریہ نافعہ بنا دے۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کو دنیا و آخرت کی اعلیٰ ترین کامیابیاں عطا فرمائے اور تمام قسم کی ناکامیوں اور محرومیوں سے محفوظ فرمائے اور ہماری بشری تقاضے کے تحت ہونے والی غلطیوں کو معاف فرمائے۔ آمین

ادارہ تفہیم الاسلام اور اس کے معاونین اور مددگاروں کو بھی اپنی خصوصی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

ایں دعا از من و جملہ جہاں آمین باد

وصلی اﷲ وبارك علیٰ نبینا محمد وآله وأصحابه

مَیں

اس چھوٹے سے سہ حرفی لفظ»مَیں» میں ایک قیامت چھپی ہوئی ہے۔یہ لفظ جب منفی کیفیت کے ساتھ انسان کے فکر و عمل میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے تو بعض اوقات اس کی جڑیں اتنی مضبوط اور گہری ہوجاتی ہیں کہ ان کو جنبش دینا بھی محال ہوتا ہے۔اس لفظ نے دنیا کے عروج و زوال میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔اس کی قوت و تاثیر کی وجہ سے پوری پوری قومیں عرش سے فرش پر آگئیں ۔ ہنستے بستے گھر اس «مَیں» کی نفرت و عداوت کی آگ میں جھلس کر راکھ ہوگئے۔یہ لفظ اپنے وجود میں خود سری، غرور، حقارت و نخوت اور رویوں میں پتھروں کی خاصیت رکھتا ہے اور پتھر میں کبھی جونک نہیں لگا کرتی۔اس کا زہر اتنا مہلک اور دیرپا ہوتا ہے جو انسانوں کے رگ و پے میں سرایت کر کے انہیں مرنے دیتا ہے اور نہ جینے۔اس کی تپش اور اس کی ہولناکی انسانوں کی نسلوں کو ریزہ ریزہ کر دیتی ہے۔

ابلیس نے بھی تو «مَیں» ہی بولا تھا ناں! آدام کو سجدہ کرنے کے حوالے سے،اللہ تعالیٰ اور ابلیس لعین کے مابین مکالمہ قرآن حکیم میں بیان ہوا ہے: اللہ نے فرمایا:

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِيْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَهٗ مِنْ طِيْنٍ

«جب میں نے تجھ کو حکم دیا تھا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے باز رکھا؟ اُس نے کہا : «مَیں» اس سے افضل ہوں ، مجھے تونے آگ سے پیدا کیا ہےاور اِسے مٹی سے بنا یاہے۔» (الأعراف)

ابلیس کو تو اس سرکشی اور اللہ کی نافرمانی پر قیامت تک کے لیے دھتکار کر آسمانوں سے نکال دیا گیا اور وہ راندۂ درگاہ ہوگیا۔مگر اس نے «میں» کے رویے کو اولادِ آدام کے قلب و ذہن میں پیوست کردیا تاکہ وہ اللہ کی نظر میں مجرم ٹھہرائے جائیں اور یہی اس کا اصل مشن ہے۔انسان کے ہر عمل میں ابلیس کوشش کرتا ہے کہ «مَیں» کا غلبہ کم نہ ہونے پائے اور وہ قدم قدم ہر انسان کو اکساتا رہتا ہے۔

بڑوں اور بزرگوں کا احترام اور ان کا ادب بلاشبہ اسلام کی اخلاقی تعلیم کا ایک حصہ ہے۔رفق و ملاطفت مہذب اور شریفانہ اخلاق ہیں جبکہ چھوٹوں کے بارے میں اہم فیصلے کرتے وقت بڑوں کو ان کے جذبات و احساسات کا خیال رکھنا بھی ماحول کو تناؤ سے بچانے کا ایک بہتر طریقہ ہے۔افہام و تفہیم کی روش بہت سے متنازعہ معاملات کو حل کرنے میں معاون ثا بت ہوتی ہے۔ جبکہ «مَیں» اور میرا فیصلہ حرف آخر ہے کا رجحان اکثر چپقلش اور بدمزگی کا ماحول پیدا کردیتا ہے۔جبکہ نرمی اور مصلحت اندیشی بدمزگی کو بھی مٹھاس میں بدل دیتی ہے۔ بقول آتش،

جو اعلیٰ ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جھک کے ملتے ہیں

صراحی سر نِگوں ہو کر بھرا کرتی ہےپیمانہ

ہٹ دھرمی اور انا کا مسئلہ کبھی بھی سود مند ثابت نہیں ہوتا۔آئینہ ہمیشہ سچ بولتا ہے، جو اس کے سامنے ہوتا ہے اسی کو وہ منعکس کرتا ہے ،لیکن ہماری «مَیں» یہاں بھی اپنا رنگ دکھاتی ہے۔میرے جیسا کوئی اور ہے ہی نہیں ۔»ہم سا ہو تو سامنے آئے» اندر سے دل شقاوت سے بھرا ہوا ہے آنکھیں ہر سامنے والے شخص کو چھوٹا دیکھتی ہیں، ہر آدمی کا قد اپنے سے چھوٹا نظر آتا ہے۔سماجی لحاظ سے میرا اسٹیٹس سب سےبلند ہے۔میں تو لوگوں کےدلوں میں دھڑکتا ہوں، ایک بار جو مجھے دیکھ لیتا یا مجھ سے مل لیتا ہے وہ میرا ہی ہوجاتاہے۔گویا :

یہ اعجاز ہے حسنِ آوارگی کا

جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے

 یہ وہ خود ساختہ خوش فہمیاں ہیں جو انسانوں کے اس سمندر میں لاکھوں کروڑوں کے دل میں جھوٹی انا اور شان و شوکت کے برگ و بار پھیلاتی رہتی ہیں اور وہ یہ تلخ حقیقت کو بھلائے رکھتا ہے کہ اسے حقیر پانی کی ایک بوند سے تخلیق کیا گیا ہے ۔اگر اس کی کوئی حیثیت ہے تو وہ اس روحِ ربانی کے سبب ہے جس کو کچلنے کی وہ ہمیشہ جانے اَنجانے میں کوشش کرتا رہتاہے۔انسان کا اندازِ فکر بدلنا معاشی نظام کے بدلنے سے بھی زیادہ مشکل ہوتا ہے۔سماج اگر بدل بھی جائے تو بھی انسانوں کی سوچ کا انداز عرصے بعد تک حاوی رہتاہے۔جس طرح کسی کی غلامی سے نجات ملنے کے بعد بھی بوئے غلامی انسان کے اندر سے نہیں نکلتی۔ہر انسان روحانیت اور مادیت کے رشتوں میں بیک وقت منسلک ہوتا ہے۔اس کی اس ڈور کا ایک سرا اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ جڑا ہوتا ہے تو دوسرا سرا اس جہانِ آب و گِل کے ساتھ ہے۔ان دوگونہ تعلق میں توازن قائم کرنا ہر ذی فہم انسان کی ذمہ داری ہے اور اسی راہ سے ان دونوں میں ہم آہنگی ، زندگی یا انسانی تہذیب کی میزان برابر ہوسکتی ہے۔وگرنہ کوئی ایک پلڑا بھی زیادہ جھکے گا تو نتیجہ فساد اور معاشرے میں بگاڑ کی صورت میں سامنے آئے گا۔انتہا پسند رجحانات کی کسی معاشرے میں گنجائش نہیں ہوتی، اسلام اپنی بنیادی اساس میں خود ایک سیکولر دین ہے جس میں تما م انسانوں کو مادی، سیاسی اور سماجی حقوق دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔بحیثیت انسان کسی کو کسی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ، اگر کوئی ہے تو وہ صرف تقویٰ اور للہیت ہے۔ بڑائی اور بزرگی صرف تقویٰ، پرہیزگاری ، حسنِ عمل اور فضیلتِ اخلاق پر منحصر ہے۔یہ اوصاف انسان کے ظاہر و باطن سے خارج ہوگئے تو پھر وہ مٹی کا ایک ڈھیر ہے جو روح نکل جانے کے بعد حشرات الارض کی غذا بن جاتا ہے۔

اسلامی تہذیب و تمدن کے اعتبار سے ہر فرد اجتماعیت کا حصہ ہے۔کیونکہ وہ مدنی الطبع ہے وہ چاہے بھی تو اس اجتماعیت سے دور ہو کر دنیا کی زندگی کی تمام نعمتوں سے مستفید نہیں ہوسکتا۔یہاں ہر فرد ایک دوسرے سے ارادی یا غیر ارادی طور پر جڑا ہوا ہے۔اگر ہمارا جوتا نہ ٹوٹے تو ہم موچی کو منہ بھی نہ لگائیں،اگر ہمارا سیوریج کا نظام خراب نہ ہو ہم کسی خاکروب کے قریب سے بھی نہ گزریں۔اسی طرح دنیا کے دیگر معاملات میں انسان ایک دوسرے کا محتاج ہے اور اس کے بغیر اس کے بہت سے کام ہو ہی نہیں سکتے۔البتہ ایک گورکن ایسا شخص ہے کہ جس کے پاس ہم مر کر ہی جاتے ہیں، لیکن اس کی ضرورت بھی چار و ناچار پڑ ہی جاتی ہے خواہ مرنے کے بعد ہی ہو!

قرآن حکیم نے انسانی زندگی کے مختلف ادوار بیان کیے ہیں : ارشاد ہے:

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِيْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ (الحدید 20)

« خوب سمجھ لو زندگی کی حقیقت بس یہ ہے کہ وہ نام ہے کھیل کود کا، ظاہری سجاوٹ کا، تمہارے ایک دوسرےپر فخر کرنا، اور اولاد میں ایک دو سرے سے بڑھنے کی کوشش کرنے کا۔»

ان آیات کے بین السطور انسان کا بچپن ، اس کی جوانی اور پھر بڑھاپا، تینوں ادوار کو بیان کر دیا گیا ہے۔اب ان تمام مراحل میں انسان کی «میں» جلوہ افروز ہے۔ بچپن اگرچہ معصومیت کا زمانہ ہوتا ہے مگر اس میں بھی بچوں میں اپنی چیزوں اور اپنے کھلونوں پر ایک قسم کی حاکمیت ظاہر ہوتی ہے۔بچوں میں معصومیت کی فطرت اپنے آپ کو ظاہر کرتی رہتی ہے۔پھر اگلا مرحلہ جوانی کا ہوتا ہے۔اس میں بننے سنورنے، کسی کو چاہنے اور چاہے جانے کے جذبات دل میں ہلچل برپا کیے رہتے ہیں اور ایک ہیجانی کیفیت طاری رہتی ہے۔یہاں بھی «میں» کی خود سری اور سر کشی نمایاں ہوتی ہے۔اپنا سراپا اور خود نمائی کا جنون دل و دماغ کو کسی اور ہی دنیا میں پہنچا دیتا ہے۔»میں» کی خلش کسی پل چین نہیں لینے دیتی۔

اسی دیوانگی اور خود ستائی میں انسان کی جوانی مٹھی میں دبی ریت کی طرح پھسلتی چلی جاتی ہے اور سر پر چاندی کے تار اتر آتے ہیں ۔اعضائے رئیسہ مضمحل ہونے لگتے ہیں۔لیکن مال و دولت کی ہوس، ھل من مزید کی خواہش دل کو جوان رکھتی ہے اور بڑھاپے کو ذہنی طور پر قبول ہی نہیں کرنے دیتی۔بقول غالب:

گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے

رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے

در اصل اس «میں» میں کچھ ایسی کشش ہے کہ وہ انسان کو خود کو پہچاننے ، جاننے اور سمجھنے کا فہم و داراک ہی نہیں ہونے دیتی۔ایک عجیب سی سرور و بےخودی اس پر سوار رہتی ہے۔اور سیدھی سی بات ہے کہ جس نے خود کونہ پہچانا وہ اپنے رب کو بھلا کیونکر پہچانے گا، کیونکہ خود شناسی میں ہی خدا شناسی ہے۔اس «میں» کی بدترین صورت وہ ہے جسےعرف عام میں سیاست کہتے ہیں۔ سیاست دانوں کا اپنا ہی ایک فلسفہ ہے ، ان کی «میں» تو وہ طوفان لاتی ہے کہ انسانوں کے لیے سکھ کا سانس لینا ہی دوبھر ہوجاتا ہے۔یہ اپنی «میں» کے سبب اپنے سامنے کی ہر رکاوٹ کو ایک ٹھوکر سے زیادہ نہیں سمجھتے۔ کرسی کی طاقت ان کی «میں» کو اور مہمیز دیتی ہے۔اپنے مخالفین پر غلبہ ان کا فرضِ منصبی بن جاتا ہے۔ فرعونیت ان کے لہجے، ان کے اطوار اور ان کے طرزِ عمل سے آشکار ہوتی ہے۔ملک کے وسائل کا بے دردی سے استعمال ، اپنے مفادات کا حصول اور شہانہ زندگی انہیں اپنا پشتینی حق لگتی ہے۔جو لوگ ان کو اپنی کوششوں اور جدوجہد سے مسند ِ اقتدار تک پہنچاتے ہیں ، وہی ان کو اپنا دشمن لگنے لگتے ہیں ۔کیونکہ اقتدار کی کرسی تمام انسانی جذبوں کو مٹا دیتی ہے۔اور ان کے ہر فیصلے میں ان کی «میں» حاوی رہتی ہے۔

اسلام کے اخلاقی نظام کی ابتدا انسان کی انفرادی زندگی سے ہوتی ہے۔ معاشرہ کے ایک فرد کے بطور ایک انسان کی اخلاقی ذمہ داری کیا ہے، اسے اسلام نے اپنی جامع اخلاقی تعلیمات میں سمیٹ دیا ہے۔ جھوٹ وبہتان طرازی، کبر و نخوت، ظلم و ستم، بدسلوکی و بے رحمی، فریب و دھوکہ دہی، شراب نوشی و جوا بازی ، زناکاری و بے حیائی، جنگ و جدال وغیرہ امور کو برا ئی قرار دیا گیا؛ جب کہ اس کے برعکس عمدہ اخلاق کی ہمت افزائی کی گئی۔ انفرادی دائرہ کے بعد گھریلو سطح پر والدین کے ساتھ حسنِ سلوک و خدمت گزاری کی تعلیم دی گئی۔ بھائی بہنوں اور رشتہ داروں کے ساتھ احسان و صلہ رحمی ، بیوی بچوں کے ساتھ محبت وشفقت کی تعلیم دی گئی۔ پھر گھریلو سطح سے اٹھ کر معاشرتی سطح پر پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ اور لوگوں کے ساتھ انسانی سلوک اور احترام کا درس دیا گیا۔ تمام مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی و خیر خواہی اور تمام انسانوں کے ساتھ ہر حال میں عدل و انصاف، رواداری اور مساوات کا برتاؤ۔ اسلام کے نظامِ اخلاق کا حاصل یہ ہے کہ انسانی زندگی کے ہر پہلو اور ہر مرحلہ میں اعلیٰ کردار کو اپنایا جائے۔اسلام نے باہمی معاملات کو مطلب پرستی اور خود غرضی نہیں بلکہ ہمدردی و خیر خواہی کے جذبہ سے انجام دینے کی تعلیم دی۔ اسلام کی اخلاقی تعلیمات کی روح ہمدردی و خیر خواہی، عدل و انصاف اور مساوات و احترامِ نفس ہے۔ اسلام کی خصوصیت یہ ہے اس نے یہ اعلیٰ اخلاقی اصول وضع کیے اور معاشرے میں اسے صد فی صد لاگو کرکے دکھا بھی دیا۔اس سلسلے میں اسلام کی آواز اتنی موٴثر تھی کہ محض قرآن کے اس اعلان سے کہ شراب گندگی اور شیطانی عمل ہے (سورة المائدة ، ۹۰) مدینہ میں گلیوں میں شراب بہنے لگی؛ حالاں کہ نشہ چھڑانا اور وہ بھی شراب کا !کتنا مشکل ہے۔ آج ساری دنیا اس بارے میں پریشان ہے کہ قوم سے نشے کی لت کیسے ختم کی جائے، مگر اسلام کی تاریخ گواہ ہے کہ قرآن نے اسے مسلمانوں کی زندگی میں جڑ سے ختم کردیا۔

نبی اکرم ﷺ نے تاریخ انسانی کے سب سے اعلیٰ اخلاقی معیار قائم کیے ۔ آپ ﷺ کی صدق گوئی اور سچائی کا یہ عالم تھا کہ کفار مکہ کے سردار ابو سفیان کو ہرقل کے دربار میں اس کے اس سوال پر کہ کیا تم نے کبھی محمد سے کچھ جھوٹ سنا ہے، یہ گواہی دینی پڑی کہ نہیں۔ (صحیح بخاری، باب بدء الوحی) آپ ﷺ کی امانت و دیانت کا یہ حال کہ پورا مکہ آپ کا دشمن ، آپ کی دعوت سے ان کو انکار؛ لیکن امانتوں کے لیے اگر کوئی محفوظ جگہ تھی تو اسی نبی ہاشمی ﷺ کا مکان۔ آپ ﷺ کے صبر و تحمل کی انتہا یہ تھی کہ طائف کی خوں چکاں شام اور آپ کا لہو لہان جسم، ایسا دن جس کے بارے میں آپ نے سيده عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ وہ میری زندگی کا سخت ترین دن تھا، اس دن جب پہاڑوں کا فرشتہ اللہ کے حکم سے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکر عرض کرتا ہے کہ اگر آپ اجازت دیں تو طائف کے دونوں پہاڑوں کو ٹکرادوں اور یہ گستاخ قوم پس جائے، اس وقت رحمة للعالمین کا جواب تھا کہ نہیں، میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ ان کی نسل میں ایسے لوگ پیدا فرمائیں گے جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے اور کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے۔(صحیح البخاری، باب ذكر الملائكة)

اسی طرح فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے جس عفو و درگذر اور تواضع و شفقت کا ثبوت دیا ، کیا اس کی نظیر کسی تاریخ میں ملناممکن ہے؟

غرض آپ ﷺ کی پوری زندگی اعلیٰ ترین اخلاق و اوصاف کا ایسا نمونہ ہے کہ اس سے بہتر نمونہ پیش نہیں کیا جاسکتا اور ایسا جامع اخلاقی دستور العمل کہ اس سے بہتر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ نبی اکرم ﷺ کے عمدہ اخلاق کا فیضان تھا کہ آپ کی دعوت نہایت تیزی کے ساتھ عربوں میں پھیلتی چلی گئی۔ آپ اپنے بلند انسانی کردار سے دشمن کے دل کو فتح کر لیتے اور اس کی روح کو اسیر کرلیتے۔ صحیح مسلم کی روایت ہے کہ ایک مہم کے دوران صحابہ نے یمامہ کے سردار ثُمامہ ابن آثال کو زندہ پکڑ لیا اور خدمتِ اقدس میں پیش کیا۔ آپ نے ان کا حال پوچھا تو انھوں نے کہا: اگر آپ چاہیں تو قتل کردیں، اگر آپ معاف کردیں تو آپ کا احسان مند ہوں گا اور اگر مال کی خواہش ہے تو وہ بھی پیش کردوں گا۔ آپ ﷺ نے ان کو بالآخر رہا کردیا؛ جب کہ دشمنوں کے سردار کو رہا کرنے کا تصور بڑا ہی عجیب تھا؛ مگر ہوتا کیا ہے کہ وہی شخص جس کو آپ قید سے نکال رہے ہیں، وہ بخوشی آپ کی غلامی میں آرہا ہےچنانچہ ثمامہ ایک قریبی باغ میں جاکر غسل کرنے کے بعد دوبارہ واپس آتے ہیں اور اپنے اسلام کا اعلان کرتے ہیں۔(مسلم ، حدیث ۳۳۱۰)

آپ ﷺ کی پوری زندگی ایسے بے شمار واقعات سے بھری ہوئی ہے۔

سیدنا عبد اللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھےکہ

إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحْسَنَكُمْ أَخْلاَقًا

« تم میں سب سے بہتر آدمی وہ ہے جس کا اخلاق سب سے بہتر ہو۔»(بخاری و مسلم)

سیدنا ابو الدردا ءرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

مَا شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ المُؤْمِنِ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ، وَإِنَّ اللهَ لَيُبْغِضُ الفَاحِشَ البَذِيءَ (سنن الترمذی:2002)

’’ قیامت کے دن مومن کے ترازو میں حسنِ خُلق سے زیادہ وزنی اور کوئی چیز نہیں ہوگی اور وہ فحش گو اور بے ہودہ گو سے نفرت کرتا ہے۔‘‘

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الجَنَّةَ، فَقَالَ: «تَقْوَى اللهِ وَحُسْنُ الخُلُقِ» (سنن الترمذي:2004)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سےسوال کیا گیا، وہ کون سی چیز ہے جو سب سے زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرے گی؟ آپﷺ نے فرمایا: «اللہ کا تقویٰ اور حُسن خُلق۔»

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت کے دن تم میں سے وہی شخص مجھے سب سے زیادہ محبوب اور مجھ سے سب سے زیادہ قریب ہوگا جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہوں گے اور مجھے سب سے زیادہ مبغوض اور مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جو بہ تکلف بکواس کرنے والے ، اپنی چرب زبانی سے دوسروں پرچھا جانے والے اور نکبت و تبختر کے ساتھ گفتگو کرنے والے ہوں گے۔»(سنن ترمذی)

انسان جسم اور روح سے مرکب ہے ،جسم کا ادراک بَصر سے ہوتا ہے اور روح کا بصیرت سے، اور ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک مخصوص ہیئت اور صورت ہے خواہ وہ قبیح ہو یا جمیل۔اسی طرح خلقِ نفس ایک ایسی ہیئت راسخہ کو کہتے ہیں جس سے افعال بہ سہولت ، بلا تکلف صادر ہوتے ہیں تو اس ہیئت کا نام خُلقِ حسن ہے اور برے اور قابلِ مذمت افعال صادر ہوتے ہیں تو اسے خُلقِ قبیح کہتے ہیں۔ہیئتِ راسخہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص سے کوئی اچھا یا برا فعل اتفاقاً کسی خاص سبب سے صادر ہوگیا ہو تو اس کو اس شخص کا اخلاق نہیں کہیں گے، مثلاً اگر کوئی شخص کسی عارضی ضرورت سے اپنا مال خرچ کردے تو یہ نہیں کہا جائے گاکہ وہ سخی ہے اور اس کا خُلق سخاوت ہے یا کوئی شخص کبھی اتفاق سے جھوٹ بول دے تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ جھوٹ اس کا اخلاق بن گیا ہے۔اگر یہ ہیئتِ راسخہ تمام صفاتِ حسنہ کی جامع ہے تو ایسا شخص مطلقاً صاحبِ خُلق حسن ہوگا، ورنہ جزوی طور پر جو صفت بھی اس کا اخلاق بن گئی ہوگی وہ اسی کی طرف منسوب ہوگا۔قرآنِ حکیم میں اور احادیث میں حسنِ خُلق کی جو تعریفیں اور فضیلتیں آئی ہیں وہ اسی شخص کے لیے ہیں جو تمام صفاتِ مذمومہ سے پاک اور تمام ٖصفاتِ محمودہ سے آراستہ ہو اور یہ مقام کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔

تکبر اور بڑا پن صرف عہدہ، مال، پر آسائش زندگی، حسن اور شہرت کا ہی نہیں ہوتابلکہ یہ سادگی پہ، اپنے ہنر و فن پہ ،علم و عمل پہ غرض کہ عبادت تک پہ ہوتا ہے ، یہی فخر اور غرورو تکبر خود پسندی سے ہوتا ہوا خود پرستی تک لے جاتا ہے ۔ تکبر کے حوالے سے رسول کریمﷺ کا راشاد ہے:

سيدنا ابو ہریرہ رضي الله عنه کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ:

الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي، وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي، فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا، قَذَفْتُهُ فِي النَّارِ

«بڑائی( کبریائی) میری چادر ہے اور عظمت میرا تہ بند ، تو جو کوئی ان دونوں چیزوں میں کسی کو مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔۔» ( سنن ابی داؤد:4090)

تحریر کے اس سلسلے کو اگر ابتدا سے جوڑا جائے تو اس کا حاصل یہ ہے کہ مذکورہ لفظ «میں» کی چاشنی اتنی لذیذ ہوتی ہے کہ زبان اسے چھوڑتی ہی نہیںاس کا ذائقہ تو اس وقت زائل ہوتا ہے جب انسان موت کا ذائقہ چکھتا ہے۔یہ ذائقہ ہر قسم کی چاشنی اور مٹھاس کو کڑواہٹ میں بدل دیتا ہے ۔اس موقع پر اس کی «میں» اس کا ساتھ چھوڑ کر جارہی ہوتی ہے اور وہ اپنی کھلی آنکھوں سے اسے حسرت سے جاتا ہوا دیکھتا رہتا ہے اور پھر سانس کی ڈور ٹوٹتے ہی اس کی آنکھیں بند کردی جاتی ہیں۔ یہ ہے ہر انسان کا انجام جس کو وہ اپنی «میں» ، اپنی نادانی اور غفلت میں ڈوبی زندگی کے حصار میں قید ہو کر موت کی حاضری تک فراموش کردیتا ہے۔

حوالہ جات:

1۔اسلام کا اخلاقی انقلاب۔۔۔مولانا محمد االلہ خلیلی قاسمی

2۔اخلاق اور فلسفہ اخلاق۔۔۔مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی

3۔احیاء العلوم۔۔۔امام غزالی

4۔ ریاض الصالحین ۔۔۔امام نووی

رمضان کے حوالے سے عورتوں کے لیے کچھ تنبیہات

سب سے پہلی بات ہم تمہیداً ذکر کرتے ہیں کہ جب عورتیں مسجد کی طرف آنے میں رغبت رکھتی ہوں تو انہیں مسجد سے نہ روکا جائے کیونکہ احادیث و آثار سے عورتوں کا مسجد میں آنا باعث ثواب ہے ۔

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِذَا اسْتَأْذَنَتِ امْرَأَةُ أَحَدِكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَلَا يَمْنَعْهَا «(صحيح البخاري : 5238)

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد میں (نماز پڑھنے کے لئے) جانے کی اجازت مانگے تو اسے نہ روکو بلکہ اجازت دے دو۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ بِالليْلِ إِلَى الْمَسْجِدِ فَائْذَنُوا لَهُنَّ.(صحيح البخاري : 865)

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہاری بیویاں تم سے رات میں مسجد آنے کی اجازت مانگیں تو تم لوگ انہیں اس کی اجازت دے دیا کرو۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللهِ مَسَاجِدَ اللهِ.(صحيح مسلم: 442)

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی باندیوں کو اللہ کی مساجد سے نہ روکو ۔‘‘

ان دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ عورتیں بالعموم جب مسجد میں پردے کا اہتمام ہو تو آ سکتی ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

بالخصوص رمضان کے موقع میں بغرض تراویح یا دیگر عبادات کے لیے عورتوں کا مسجد میں آنا زیادہ ہوتا ہے ۔ ہم نے مناسب سمجھا ہے کہ ہماری ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں سے دوران نماز یا نماز سے باہر جو غلطیاں ہوجاتی ہیں ان پر تنبیہہ کرنی چاہیے ۔

1: بَن سنور کر مسجد کی طرف آنا :

عورتوں کی ایک کثیر تعداد نماز کے لیے مسجد کی طرف آتی ہے تو نیا لباس پہن کر اور بن سنور کر آتی ہے ۔ وہ (مائیں، بہنیں ، بیٹیاں) اپنے گمان کے مطابق اس کو جائز سمجھتی ہیں ۔بعض عورتیں اس کو نماز کے لیے مستحب اور بعض اس زیب و زینت اختیار کرنے کونماز کی تکمیل سمجھتی ہیں ۔

اس زیب و زینت اختیار کرنے سے نبی کریم ﷺ نے منع فرمایا :

عن زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةَ رضي الله عنها كَانَتْ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الْعِشَاءَ، فَلَا تَطَيَّبْ تِلْكَ الليْلَةَ «.(صحيح مسلم : 443)

سیدہ زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب تم عورتوں میں سے کوئی عشاء کی نماز میں شامل ہو تو وہ اس رات خوشبو نہ لگائے ۔

عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ قَالَتْ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الْمَسْجِدَ، فَلَا تَمَسَّ طِيبًا «.(صحيح مسلم : 443)

سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا تھا : جب تم میں سے کوئی مسجد میں جائے تو وہ خوشبو نہ لگائے ۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللهِ مَسَاجِدَ اللهِ، وَلَكِنْ لِيَخْرُجْنَ وَهُنَّ تَفِلَاتٌ «.(سنن ابي داود : 565)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے مت روکو،لیکن انہیں چاہیے کہ زیب و زینت کے بغیر نکلیں۔‘‘ (یعنی سادہ کیفیت میں آئیں)۔

2 : جسم اور کپڑوں کی صفائی :

یہاں پر ہم ان عورتوں کو تنبیہ کرنا چاہتے ہیں جو اپنے جسم و کپڑوں کی صفائی میں سستی کرتی ہیں ۔مسجد پہنچ جاتی ہیں لیکن اپنے جسم و کپڑوں سے پسینے کی بو اور کھانابنانے والے ہاتھوں اور کپڑوں کو لگے ہوئے اثرات زائل نہیں کرتی ہیں ۔کبھی پیاز و لہسن کی بو باقی رہ جاتی ہے ۔ان کی وجہ سے دیگر عورتوں کو تکلیف ہوتی ہے ۔

عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ، فَأَكَلْنَا مِنْهَا، فَقَالَ : « مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسُ «.(صحيح مسلم: 564)

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پیاز،لہسن وغیرہ کھانے سے منع فرمایا ‘‘ چنانچہ ایک دفعہ ہم نے کھا کر مسجد تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے اس درخت (پیاز ، لہسن وغیرہ) کوکھایا تو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتے ( بھی ) ان چیزوں سے اذیت محسوس کرتے ہیں جن سے انسان اذیت محسوس کرتے ہیں ۔‘‘

عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ يَنْتَابُونَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ مَنَازِلِهِمْ وَالْعَوَالِي، فَيَأْتُونَ فِي الْغُبَارِ يُصِيبُهُمُ الْغُبَارُ وَالْعَرَقُ، فَيَخْرُجُ مِنْهُمُ الْعَرَقُ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْسَانٌ مِنْهُمْ وَهُوَ عِنْدِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ أَنَّكُمْ تَطَهَّرْتُمْ لِيَوْمِكُمْ هَذَا. (صحيح البخاري : 902)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ لوگ جمعہ کی نماز پڑھنے اپنے گھروں سے اور اطراف مدینہ دیہات سے (مسجد نبوی میں) آیا کرتے تھے۔لوگ گردوغبار میں چلے آتے،گرد میں اٹے ہوئے اور پسینہ میں شرابور۔اس قدر پسینہ ہوتا کہ تھمتا نہیں تھا۔اسی حالت میں ایک آدمی رسول کریم ﷺ کے پاس آیا۔آپ ﷺنے فر مایا کہ تم لوگ اس دن (جمعہ میں) غسل کر لیا کرو تو بہتر ہوتا۔

3:پرکشش باریک اور تنگ برقعے اور چادریں :

عورتیں جب مسجد آتی ہیں تو انتہائی پرکشش تنگ اور باریک برقعوں کا اہتمام کرتی ہیں اور وہ سمجھتی ہیں کہ یہ شرعی حجاب کی شروط میں سے ہے ۔حالانکہ ایسے پرکشش برقعے پہن کر مسجد میں آنا صحیح نہیں ہے ۔

عن عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: لَوْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ الْمَسْجِدَ، كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ. قَالَ : فَقُلْتُ لِعَمْرَةَ : أَنِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُنِعْنَ الْمَسْجِدَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. (صحيح مسلم : 445)

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عورتوں نے ( بناؤ سنگھار کے ) جو نئے انداز اپنا لیے ہیں اگر رسول اللہ ﷺ دیکھ لیتے تو انہیں مسجد میں آنے سے روک دیتے ، جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا ۔ میں نے عمرہ (راوی )سے پوچھا : کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو مسجد میں آنے سے روک دیا گیا تھا ؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔

4: سر کے بال ظاہر کرنا :

کچھ عورتیں اپنے سر پر دوپٹہ اوڑھتی ہیں لیکن سر کے بالوں کو مکمل نہیں ڈھانپتی ہیں ۔ اور نہ ہی گردن کو ڈھانپتی ہیں ۔

 بعض اوقات بال کُھلے ہوتے ہیں اس حالت میں بھی وہ نماز پڑھ رہی ہوتی ہیں ۔بعض اوقات جسم بھی ظاہر ہوتا ہے یہ انتہائی عظیم غلطی ہے۔اس سے نماز بھی باطل ہوسکتی ہے ۔

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ الْحَائِضِ إِلَّا بِخِمَارٍ.(سنن الترمذي : 377)

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بالغ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں کی جاتی۔‘‘

قال الترمذي: وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا أَدْرَكَتْ فَصَلَّتْ وَشَيْءٌ مِنْ شَعْرِهَا مَكْشُوفٌ لَا تَجُوزُ صَلَاتُهَا، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ: قَالَ: لَا تَجُوزُ صَلَاةُ الْمَرْأَةِ وَشَيْءٌ مِنْ جَسَدِهَا مَكْشُوفٌ.

امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جب عورت بالغ ہو جائے اور نماز پڑھے اور اس کے بالوں کا کچھ حصہ کھلا ہوا ہو تو اس کی نماز جائز نہیں،یہی شافعی کا بھی قول ہے،وہ کہتے ہیں کہ عورت اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے جسم کا کچھ حصہ کھلا ہوا ہو جائز نہیں۔

5: کثرت سے باتیں کرنا :

کثرت کے ساتھ عورتوں کا مسجد میں نماز سے پہلے ،بعد میں ، دوران نماز باتیں کرنا ، آوازوں کو بلند کرنا ،خاموشی اور سکینت کو مسجد میں لازم نہ پکڑنا ۔

یہ امور جن کی وجہ سے مسجد میں لوگوں کی عبادات میں خلل آتا ہے ۔

یہ تو ہر بندے کے مشاہدے میں بات ہے کہ جب عورتیں مسجد میں داخل ہوتی ہیں تو دیگر عورتوں کے ساتھ گفتگو کرنا شروع کردیتی ہیں۔ وہ دنیاوی امور کے حوالے سے باتیں کرتی ہیں ۔ بعض اوقات وہ باتیں غیبت پرمبنی ہوتی ہیں ۔

بعض اوقات بلند آواز سے نماز ،تلاوت قرآن ، اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کی وجہ دیگر عورتیں کو پریشان کرتی ہیں ۔

نبی کریم ﷺ نے بعض صحابہ کو تنبیہ فرمائی ہے جب نبی کریم ﷺ تلاوت قرآن بلند آواز سے سنی تھی ۔جس کی وجہ سے پریشانی ہوتی تھی۔اللہ کے نبی کریم ﷺ نے اس کو اذیت کہا ہے ۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : اعْتَكَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَسَمِعَهُمْ يَجْهَرُونَ بِالْقِرَاءَةِ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ لَهُ، فَكَشَفَ السُّتُورَ وَكَشَفَ، وَقَالَ : « أَلَا كُلُّكُمْ مُنَاجٍ رَبَّهُ، فَلَا يُؤْذِيَنَّ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَلَا يَرْفَعَنَّ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْقِرَاءَةِ ، أَوْ قَالَ: فِي الصَّلَاةِ .(مسند احمد : 11896)

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺاعتکاف میں تھے، آپ ﷺنے لوگوں کو سنا کہ وہ بلند آوازسے قراءت کر رہے تھے، جبکہ وہ ایک خیمے میں تھے، آپ نے پردے ہٹائے اور فرمایا: خبر دار! یقینا تم میں سے ہر شخص اپنے رب سے سر گوشی کرنے والا ہے، اس لیے کوئی کسی کو تکلیف نہ دے اور کوئی بھی دوسرے کے پاس نماز میں بلند آواز سے قراءت نہ کرے۔

6: مسجد میں جگہ مخصوص کرنا :

وہ امور جو جائز نہیں ہیں ۔ان میں سے ایک یہ کہ عورتیں اپنے لیے ، اپنی بہن یا اپنی ماں وغیرہ کے لیے جگہ مخصوص کرتی ہیں ۔اس جگہ کسی کو بیٹھنے نہیں دیتی ہیں ۔اس (ماں ، بہن یا بیٹی ) کے آنے تک وہ جگہ مسلسل خالی رہتی ہے۔

یہ معاملہ اس حد تک ہوتا ہے کہ پوری مسجد کی جگہیں تقسیم ہوتی ہیں ۔ یہ معاملات اس سے بھی بڑھ کر یہاں تک کہ پہنچ جاتا ہے کہ ہر کوئی اپنی جائے نماز لے آتی ہے ۔

حالانکہ اس کے برعکس نبی کریم ﷺ نے کسی کے لیے جگہیں مخصوص نہیں کی ہیں بلکہ نبی کریم ﷺ نے مطلق طور پر مسجد کی طرف جلدی آنے کی ترغیب دلائی ہے ۔پہلی صف میں شامل ہونے پر اُبھارا ہے ۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ، وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا «.(صحيح البخاري : 615)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اذان کہنے اور نماز پہلی صف میں پڑھنے سے کتنا ثواب ملتا ہے۔پھر ان کے لیے قرعہ ڈالنے کے سوائے اور کوئی چارہ نہ باقی رہتا،تو البتہ اس پر قرعہ اندازی ہی کرتے اور اگر لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ نماز کے لیے جلدی آنے میں کتنا ثواب ملتا ہے تو اس کے لیے دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے۔اور اگر لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ عشاء اور صبح کی نماز کا ثواب کتنا ملتا ہے،تو ضرور چوتڑوں (سرین)کے بل گھسیٹتے ہوئے ان کے لیے آتے۔

 اس حدیث سے معلوم ہوا ہے کہ جگہ مخصوص کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ اگر جگہ مخصوص کرنا جائز ہوتا تو ہر کوئی جگہ مخصوص کرلیتا قرعہ اندازی کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔بلکہ جو پہلے آئے وہ ہی پہلی صف اور امام کے قریب ہونے کا زیادہ حقدار ہے ۔

7: صف بندی کا درست اہتمام نہ کرنا :

عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَوُّوا صُفُوفَكُمْ ؛ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ.(صحيح البخاري : 723)

 عورتوں میں اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ صف بندی کا صحیح اہتمام نہیں کرتی بلکہ بغیر صف درست کیے ہوئے کھڑی ہوجاتی ہیں ۔ صف بندی کا اہتمام لازمی کرناچاہیے کیونکہ یہ نماز کی تکمیل میں سے ہے ۔

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ صفیں برابر رکھو کیوں کہ صفوں کا برابر رکھنا نماز کے قائم کرنے میں داخل ہے۔

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَلَّ وَعَزَّ؟ قُلْنَا: وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ؟ قَالَ : يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْمُقَدَّمَةَ، وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ.(سنن ابي داود : 661)

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’تم صفیں ویسے کیوں نہیں بناتے جیسے کہ فرشتے اپنے رب کے ہاں بناتے ہیں؟‘‘ ہم نے کہا: فرشتے اپنے رب کے ہاں کیسے صفیں بناتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’وہ پہلے ابتدائی صفیں مکمل کرتے ہیں اور آپس میں جڑ کر کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘ (ان کے مابین کوئی خلا نہیں رہتا)۔

8: نماز تروایح میں قرآن کا نسخہ اٹھانا :

بعض عورتوں کا امام کے پیچھے قرآن پاک اٹھانا تاکہ قراءت سن سکیں۔علماء کرام نے صرف سامع کیلئے اجازت دی ہے کہ وہ ضرورت کے وقت امام کو لقمہ دینے کے لیے قرآن اٹھا سکتا ہے۔لیکن ہر ایک نمازی دوران نماز قرآن نہ اٹھائے کیونکہ اس سے نماز کی کئی سنتیں رہ جاتی ہیں مثلاً:

1:نمازی کی سجدے کی جگہ سے نظر ہٹ جاتی ہے ۔

2:دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر نہیں رہتا ۔

3:خشوع و خضوع میں بھی کمی آجاتی ہے ۔

اس لئے بہتر یہی ہے کہ دوران نماز قرآن نہ اٹھایا جائے۔

یہ چند تنبیہات لکھیں ہیں ، اخیراً اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مسجدوں کا ادب واحترام ملحوظ رکھتے ہوئے نماز ادا کرنے کی توفیق فرمائے۔ وبیدہ التوفیق

اعتکاف کے احکام ومسائل

رمضان المبارک اور بالخصوص اس کے آخری عشرہ کے اعمال میں سے ایک عمل اعتکاف بھی ہے ، رسول اللہ ﷺہر سال رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے تھے ۔

اعتکاف کا معنی :

لغوی اعتبار سے اعتکاف کا معنی ٹھہرنا ،جمے رہنا اور کسی مقام پر اپنے آپ کو روکے رکھنا ہے ، شرعی اعتبار سے بھی اسی معنی میں ہے کہ اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کے لیےخصوصی طریقے پر مسجد میں ٹھہرنا ۔

اعتکاف کی حکمت :

 اعتکاف کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ ہر طرف سے یکسو اور سب سے منقطع ہوکر بس اللہ تعالی سے لو لگا کے اس کے درپے یعنی مسجد کے کسی کونے میں پڑجائے ، سب سے الگ تنہائی میں اس کی عبادت اور اس کے ذکر وفکر میں مشغول رہے اس کو دھیان میں رکھے ، اس کی تسبیح و تہلیل وتقدیس میں مشغول رہے ، اس کے حضور توبہ و استغفار کرے ، اپنے گناہوں اور کوتاہیوں پر روئے ، اس کی رضا اور قرب چاہے اور اس حال میں اس کے دن گزریں اور اس کی راتیں بسر ہوں ، ظاہر ہے اس کام کے لئے رمضان المبارک اور خاص کر اس کے آخری عشرہ سے بہتر اور کون سا وقت ہوسکتا ہے ، اس لئے اعتکاف کے لئے اس کا انتخاب کیا گیا ۔

اعتکاف کا حکم :

 اعتکاف کی مشروعیت قرآن وحدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے، چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے :

وَعَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّآىِٕفِيْنَ وَالْعٰكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ

اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل [علیہما السلام ] کو تاکید کی کہ وہ میرے گھر کو طواف ، اعتکاف اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے صاف ستھرا رکھیں ۔(البقرہ:125)

روزے کے احکام کے ضمن میں فرمایا :

وَلَا تُبَاشِرُوْهُنَّ۠ وَاَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ فِي الْمَسٰجِدِ

’’ اور اگر تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو پھر اپنی بیویوں سے مباشرت نہ کرو ۔‘‘(البقرة:187)

متعدد حدیثیں اس سلسلے میں وارد ہیں کہ نبی کریم ﷺرمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے تھے ، چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺاپنی وفات تک رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے رہے اور آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا ۔( صحیح البخاری : 2026)

حتی کہ امام زہری aنے فرمایا کہ یہ بڑا عجیب معاملہ ہے کہ مسلمانوں نے اعتکاف کی سنت کو چھوڑ دیا ہے حالانکہ اللہ کے رسول ﷺجب سے مدینہ منورہ تشریف لائے آپ نے اعتکاف کبھی نہیں چھوڑا ۔

حتی کہ اپنی عمر عزیز کے آخری سال آپ ﷺنے رمضان المبارک کے دو عشروں کا اعتکاف کیا ، چنانچہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے تھے البتہ جس سال آپ کا انتقال ہوا اس سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا ۔ ( صحیح بخاری : 2044)

ان آیتوں اور حدیثوں اور اسی طرح کی دیگر نصوص کی روشنی میں اہل سنت و جماعت کے نزدیک مرد وزن ہر ایک کے لئے اعتکاف سنت ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ رمضان کے آخری عشرہ کی یہ ایک تاکیدی سنت ہے تو شاید بے جانہ ہوگا کیونکہ رسول اکرمﷺ نے برابر اعتکاف کیا ہے حتی کہ اگر کبھی کسی وجہ سے یہ اعتکاف چھوٹ گیا تو آپ نے اس کی قضا کی ہے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺنے اعتکاف کا ارادہ فرمایا تو ہم نے بھی آپ کے ساتھ اعتکاف کی اجازت چاہی آپ نے مجھے اجازت دے دی تو میں نے اپنے لئے گنبد نما ایک خیمہ مسجد میں نصب کرلیا پھر جب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سنا تو انہوں نے بھی اپنے لئے ایک خیمہ نصب کرلیا اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے سنا تو انہوں نے بھی اپنے لئے ایک خیمہ نصب کرلیا ، چنانچہ نبی کریم ﷺنے جب چار خیموں کو دیکھا تو پوچھا یہ کیا ہے ؟ آپ کو حقیقت حال سے آگاہ کردیا گیا تو آپ نے فرمایا انہیں اس امر پر کس چیز نے اُبھارا ہے ؟ کیا نیکی نے ؟ ( ہرگز نہیں، اس کاسبب تو محض غیرت ہے )۔ لہٰذا انہیں اکھاڑ پھینکو ، میں انہیں نہ دیکھوں ، چنانچہ خیمے اکھاڑ دیئے گئے (جن میں آپ کا بھی خیمہ تھا ) آپ ﷺنے اس رمضان میں اعتکاف نہیں کیا اور شوال کے آخری عشرے میں اس اعتکاف کی قضا کی ۔ (صحیح بخاری :2040)

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ ہر سال رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے تھے لیکن ایک سال کسی سفر کی وجہ سے اعتکاف نہ کرسکے تو آئندہ رمضان کے بیس دن کا اعتکاف کیا ۔ ( سنن الترمذی :803)

غیر رمضان میں اعتکاف :

اللہ کے رسول ﷺسے صرف رمضان کا اعتکاف ثابت ہے بغیر کسی عذر کے آپ نے غیر رمضان میں اعتکاف نہیں کیا لیکن ایک بار سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجد حرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ آپ ﷺنے فرمایا : اپنی نذر پوری کرو ۔ ( صحیح بخاری : 2032،صحیح مسلم :1656)

اس لئے غیر رمضان میں بھی اعتکاف مستحب اور سنت ہے البتہ رمضان اور خصوصا رمضان کے آخری عشرہ میں اس کی تاکید ہے ۔

اعتکاف کی مدت :

نبی کریم ﷺنے رمضان میں کم ازکم ایک عشرے کا اعتکاف کیا ا س لئے افضل و بہتر یہی ہے کہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا جائے لیکن اگر کسی کے حالات ساتھ نہ دیتے ہوں تو وہ سات دن ، پانچ دن یا صرف طاق راتوں کا اعتکاف کرے چنانچہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نے رمضان کی سات درمیانی راتوں کا اعتکاف کیا تو جو شخص شب قدر کو تلاش کرنا چاہتا ہے وہ آخری سات راتوں میں تلاش کرے ۔( صحیح ابن خزیمہ : 2222)

نیز عبد اللہ انیس الجہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ!میں صحر ا میں رہائش پذیر ہوں اور الحمد للہ وہاں نماز (تراویح ) کا اہتمام کرتا ہوں [البتہ میں یہ چاہتا ہوں کہ شب قدر کے حصول کے لئے اعتکاف کروں تو ]آپ مجھے کسی ایسی رات کے بارے میں بتلائیے جس رات میں عبادت کروں (اعتکاف کروں) تو آپ ﷺنے فرمایا : تیئس کی شب کو آجانا۔

راوی حدیث محمد بن ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن انیس کے بیٹے سے سوال کیا کہ تمہارے والد کس طرح کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ عصر کی نماز کے بعد مسجد نبوی میں داخل ہوجاتے اور کسی بھی غیر ضروری کام کے لئے مسجد سے باہر نہ نکلتے یہاں تک کہ جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی سواری مسجد کے دروازے پر موجود پاتے اور اس پر سوار ہوکر پھر صحرا میں چلے جاتے ۔ ( سنن ابو داود :1380)

اعتکاف کی شرطیں :

1) مسلمان ہو : کافر ومشرک کا اعتکاف صحیح نہیں ہے ۔

2) عاقل ہو : مجنون و پاگل کا اعتکاف صحیح نہیں ہے ۔

3) نیت کی جائے : بغیر نیت کے اعتکاف صحیح نہ ہوگا ۔

4) تمیز ہو : غیر ممیز بچوں کا اعتکاف صحیح نہیں ہے ۔

5) مسجد میں ہو: مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ اعتکاف صحیح نہ ہوگا ۔ یہ حکم مرد وعورت دونوں کے لئے ہے ۔

6) طہارت: حیض ونفاس اور جنابت کی حالت میں اعتکاف صحیح نہ ہوگا ۔

7) شوہر کی اجازت : بغیر شوہر کی اجازت کے اعتکاف صحیح نہ ہوگا ۔

8) روزہ: بعض علماء کے نزدیک بغیر روزہ کے اعتکاف صحیح نہ ہوگا ۔

اعتکاف کا وقت :

 اعتکاف کے لئے ضروری ہے کہ جس دن کا اعتکاف کرنا چاہتا ہے اس دن کی رات آنے سے قبل مسجد میں داخل ہوجائے مثلا اگر رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرنا چاہتا ہے تو بیسویں رمضان کا سورج غروب ہونے سے قبل مسجد میں داخل ہوجائے، البتہ اپنے معتکف یعنی جائے اقامت میں اکیسویں کی صبح کو داخل ہو ، نبی کریمﷺکا یہی معمول رہا ہے ، چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے ، میں آپ کے لئے ایک خیمہ نصب کردیتی جس میں آپ صبح کی نماز کے بعد داخل ہوتے ۔ ( صحیح البخاری : 2032)

اعتکاف سے نکلنے کا وقت :

اعتکاف سے باہرآنے کا ایک وقت جواز کا اور دوسرا استحباب کا ، جواز کا وقت یہ ہے کہ مثال کے طور پر اگر رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کیا ہے تو شوال کا چاند نکلتے ہی اپنا اعتکاف ختم کردے اور گھر واپس آجائے کیونکہ شوال کا چاند دکھائی دیتے ہی رمضان کا مہینہ ختم ہوجاتا ہے اور مستحب وقت یہ ہے کہ عید کی صبح اپنی جائے اعتکاف سے باہر آئے او ر سیدھے عیدگاہ جائے ، بعض صحابہ و تابعین کا عمل یہی رہا ہے چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ  بیان کرتے ہیں کہ ہم نے بعض اہل علم کو دیکھا ہے کہ جب وہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے تو اپنے گھر عید کی نماز پڑھ لینے کے بعد آتے۔ ( موطا :1/315 کتاب الاعتکاف )

مَنِ اعْتَكَفَ مَعَنَا فَلْيَعْتَكِفْ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ

امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اس مسلک کو اختیار کیا ہے اور بطور دلیل یہ حدیث پیش کی ہے کہ اللہ کے رسولﷺنے رمضان کے درمیانی عشرے کا اعتکاف کیا اور جب اکیسویں کی صبح ہوئی جس صبح کو اپنے اعتکاف سے باہر آئے تھے فرمایا :

جس نے ہمارے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ آخری عشرے کا بھی اعتکاف کرے۔ ( صحیح ابن خزیمہ 3/352-354 نیز دیکھئے صحیح البخاری :2027)

اعتکاف والی مسجد :

 اعتکاف ہر اس مسجد میں کیا جاسکتا ہے جس میں جماعت کا اہتمام ہوتا ہو ، ارشاد باری تعالی ہے :

وَلَا تُبَاشِرُوْهُنَّ۠ وَاَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ فِي الْمَسٰجِدِ

آیت مذکورہ میں اللہ تعالی نے مسجد کو عام رکھا ہے ، کسی خاص قسم کی مسجد سے مقید نہیں کیا ہے نیز سیدہ عائشہرضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ اعتکاف کرنے والے کے لئے سنت کا طریقہ یہ ہے کہ وہ مریض کی زیارت کونہ جائے، نہ جنازے میں شریک ہو ، نہ عورت سے صحبت کرے اور نہ ہی اس سے مباشرت کرے اور نہ ہی کسی غیر ضروری کام کے لئے باہر نکلے اور اعتکاف بغیر روزہ کے نہیں ہے اور اعتکاف اس میں کیا جائے گا جس میں جماعت کا اہتما م ہو۔ (سنن ابو داود : 2473)

اس لئے اعتکاف کے لئے تین مسجدوں کو خاص کرنا جیسا کہ عصر حاضر کے بعض اہل علم کا خیال ہے صحیح نہیں ہے کیونکہ اس سلسلے میں سیدنا حذیفہ tکی جو حدیث نقل کی جاتی ہے وہ ضعیف اور شاذ ہے ، اور یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر امت کے کسی امام یا عالم نے عمل نہیں کیا ہے ، اس موضوع پر ایک مختصر اور جامع بحث مختصر قیام رمضان از علامہ البانی کے ترجمے میں دیکھی جاسکتی ہے ۔

اعتکاف کے منافی کام :

1۔ضرورت کے بغیر مسجد سے باہر نکلنا ۔

2۔عورت سے صحبت کرنا ۔

3۔قصدا منی خارج کرنا

ان تمام امور سے اعتکاف باطل ہوجائے گا ، اسی طرح عورت کو حیض ونفاس کا خون آجائے تو اعتکاف باطل ہوجائے گا ، نیز اسلام سے ارتداد سے بھی اعتکاف باطل ہوجاتا ہے ، اور اگر کوئی شخص اعتکاف کی نیت توڑدے یہ بھی اعتکاف کے بطلان کا موجب ہے ۔

4۔ہر وہ کام جو شرع کی نظر میں منع ہے وہ اعتکاف کی حالت میں بھی منع ہے۔

5۔ ہروہ کام جو عبادت کے منافی ہے جیسے خرید وفروخت میں مشغولیت بلاوجہ کی گپ شپ یہ بھی حالت اعتکاف کے منافی ہے ان امور سے اعتکاف باطل تو نہیں ہوتا البتہ اعتکاف کا مقصد فوت ہوجاتا ہے ۔

6۔بعض وہ عبادتیں جو فرض عین نہیں ہیں جیسے مریض کی زیارت ، نماز جنازہ اور دفن وغیرہ کے لئے بھی نکلنا جائز نہیں ہے البتہ راہ چلتے کسی مریض کی خیریت پوچھ لینا جائز ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺچلتے ہوئے بیمار پرسی کرلیتے تھے اسکے لئے ٹھہرتے نہیں تھے ۔ (سنن ابوداود : 2472)

اعتکاف کی حالت میں جائز کام :

ہر وہ کام جو انسان کی فطری ضرورت ہے جیسے قضائے حاجت ، کھانا پینا،نہانا اگر کوئی مددگار نہیں ہےتو کھانے کی چیزیں باہر سے خریدنا وغیرہ ہے ۔

۱۔ مسجد میں کھا نا پینا ۔

۲۔ اچھے کپڑے پہنا اور خوشبو لگانا ۔

۳۔ ناخن تراشنا اور حجامت بنوانا ۔

۴۔جمعہ کے لئے جانابلکہ جمعہ کے لئے جاناواجب ہے ۔

۵۔اگر جنازہ کی نماز مسجد میں پڑھی جارہی ہے تو اس میں شریک ہونا ۔

۶۔کسی مریض کا گھر مسجد سے متصل ہے تو مسجد میں رہ کر بیمار پرسی کرنا ۔

۷۔ بالوں پر تیل کنگھی کرنا ، بلکہ عورت بھی اپنے شوہر کے بالوں پر کنگھی کرسکتی ہے خواہ اس کے لئے اعتکاف کرنے والے کو اپنا سر مسجد سے باہرنکالناپڑے ۔ ( صحیح بخاری : 2029، صحیح مسلم : 297)

۸۔ اپنے اہل خانہ سے بات کرنا اور بعض گھریلو مسائل پر گفتگو کرنا ۔ (صحیح بخاری : 2038)

۹۔ بغیر شہوت کے اپنی بیوی کو چھونا ۔

۱۰۔ خرید و فروخت سے متعلق بعض ضروری ہدایات دینا۔

۱۱۔ زیارت کرنے والوں سے خیر خیریت پوچھنا ، البتہ دیر تک گپ شپ میں مشغول ہونا مناسب نہیں ہے ۔

اعتکاف کے فوائد

1۔معتکف کیلئے لیلۃ القدر کو تلاش کرنا آسان ہوتاہے۔

2۔معتکف کے قلب وذہن پر صرف ذکر الٰہی جاری ہوتاہے ۔

3۔معتکف آدمی ساری خواہشات اور گناہوں سے بچا رہتاہے۔

4۔معتکف آدمی کو مسجد کیساتھ ایک خاص انس اور پیار ہوجاتاہے۔

5۔معتکف کو تنہائی میسر ہوتی ہے جس میں اپنی گذشتہ خطاؤں پر ندامت کے آنسو بہا سکتاہے اور توبہ کرکے نئے سرے سے اپنی زندگی کو احکام الٰہی کے مطابق بسر کرسکتاہے۔

6۔اعتکاف سے آدمی کو آخرت کی فکر لاحق ہوتی ہے۔

7۔حالت اعتکاف میں معتکف کو فضول گوئی اور فضول کلام کی بری عادت سے نجات ملتی ہے اور وہ کم گوئی کی عادت حسنہ کا عادی ہوجاتاہے۔

آخری بات

محترم قارئین ! اعتکاف کے متعلق آخری اور اہم بات اس کی حفاظت ہے اگر معتکف اعتکاف کے بعد بھی تلاوت قرآن ، ذکر الٰہی میں مشغول رہتاہے اور فضول گفتگو ، گالی گلوچ ، عبث کلام سے دور رہتاہے تو اس نے اعتکاف کی حفاظت بھی کی ہے اور اعتکاف سے اس کو فائدہ بھی ہوا ہے۔ اعتکاف کے بعد ہر قسم کے گناہوں سے بچناہی ہماری اصل ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بعد از اعتکاف بھی گناہوں سے بچائے۔آمین

زکاۃ فرضیت،مصارف اورمسائل

زکوٰۃ کی تعریف

لفظ «زکوۃ» کا لغوی مفہوم پاکیزگی اور اضافہ ہے، اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس عبادت سے انسان کا مال حلال اور پاک ہوجاتا ہے ، اور انسان کا نفس بھی تمام گناہوں کی آلودگی سے پاک اور صاف ہوجاتا ہے۔

شریعت اسلامی میں زکوۃ کا معنی ہے:

خاص اموال میں جب وہ نصاب تک پہنچ جائے اور اس پر سال گزر جائے تو اس میں سے مخصوص حصہ نکال کر مخصوص مستحقین تک پہنچانا۔

اس تعریف سے پانچ چیزیں واضح ہوتی ہیں:

1۔زکوۃ تمام اموال میں سے نہیں نکالی جائیگی ، بلکہ صرف چند خاص اموال ہیں جن پر زکوۃ لاگو ہوتی ہے۔ ان کی تفصیل آئندہ سطور میں آئے گی۔

2۔ہر کم و زیادہ مال و دولت پر زکوۃ نہیں ہے بلکہ ایک خاص مقدار پر زکوۃ کا نفاذ ہوگا، یہ مقدار ہر مال کے لحاظ سے مختلف ہے۔

 اس مقدار میں شریعت نے اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ صاحب مال پر کسی قسم کا بوجھ نہ ڈالا جائے اور اتنی مقدار پر زکوۃ فرض کی گئی ہے کہ صاحب مال باآسانی اسے ادا کرسکتا ہے ۔

3۔یہ بات بھی شریعت کی آسانی اور سماحت کا مظہر ہے کہ مال کے اس خاص مقدار کو پہنچتے ہی زکوۃ فرض نہیں ہوتی بلکہ زکوۃ کی فرضیت کے لئے ضروری ہے کہ اس مقدار پر ایک سال گزر جائے۔یعنی اگر دوران سال مال کی اس خاص مقدار میں کمی واقع ہوجائے تو زکوۃ کی فرضیت ختم ہوجاتی ہے۔

4۔صاحب مال پر زکوۃ صرف اتنی فرض کی گئی جو ہر صاحب نصاب بڑی آسانی سے اور راضی خوشی ادا کرسکتا ہے، یعنی پورے مال کا صرف ڈھائی فیصد حصہ بطور زکوۃ کے فرض کیا گیا جو کہ بقیہ ساڑھے ستانوے فیصد مال کے سامنے کچھ نہ ہونے کے برابر ہے۔ یقینا ً یہ اللہ تعالی کا اس امت پر احسان ہے ، اگر یہی زکوۃ جمیع مال کا پچاس فیصد ہوتی تو یقیناً صاحب مال کے لئے بڑی مشقت اور حرج کا سامان ہوتی، لیکن اللہ رب العزت نے اس امت کے ساتھ خصوصی رحمت کا برتاؤ کرتے ہوئے صرف ڈھائی فیصد تک زکوۃ کو محدود رکھا۔

5۔زکوۃ کے مصارف خاص ہیں ، اور اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بڑی وضاحت کے ساتھ ان کا بیان کردیا ہے، یہ آٹھ مصارف ہیں جہاں پر زکوۃ خرچ کی جاسکتی ہے ، اس کے علاوہ کسی اور جگہ زکوۃکا مال دینے سے زکوۃ کی ادائیگی نہ ہوگی۔ ان مصارف کا بیان ان شاء اللہ اگلی سطور میں ہوگا۔

زکوٰۃ کی فرضیت و اہمیت

نماز کے بعد’’ زکوۃ ‘‘دین اسلام کا انتہائی اہم رکن ہے ۔ قرآن مجید میں 82مرتبہ اس کا تاکیدی حکم آیا ہے۔ زکوۃ نہ صرف امت محمدیہ ﷺ پر فرض ہے بلکہ اس سے پہلے بھی تمام امتوں پر فرض کی گئی تھی۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْنَ[البقرة: 43]

’’ اور نمازوں کو قائم کرو اور زکوۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو‘‘۔

 قرآن مجید میں اللہ تعالی نے زکوۃ ادا کرنے والوں کو سچا مومن قرار دیا ہے:

الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ(الأنفال: 3، 4)

’’جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔سچے ایمان والے یہي لوگ ہیں ان کے بڑے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور مغفرت اور عزت کی روزی ہے۔‘‘

نبی کریم ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن روانہ کرتے وقت فرمایا تھا: ’’انہیں اس بات کا بھی علم دینا کہ اللہ تعالی نے ان پر زکوۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لے کر ان کے غریبوں میں تقسیم کی جائے گی‘‘۔(بخاری :۱۳۳۱۔ مسلم :۱۹)

فرضیت زکوٰۃ کی حکمتیں اور فوائد

زکوۃ کی صحیح طور پر ادائیگی کے معاشرہ پر ، زکوۃ ادا کرنے والے کے نفس اور مال پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں جن میں چند درج ذیل ہیں:

زکوۃ ، مال میں اضافہ کا سبب ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

وَ مَاۤ اٰتَيْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِيْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ  (الروم: 39)

’’ اور جو کچھ صدقہ زکوۃ تم اللہ تعالٰی کا منہ دیکھنے (اور خوشنودی کے لئے) دو تو ایسے لوگ ہی ہیں اپنا دوچند کرنے والے ہیں۔‘‘

انسان کے نفس اور مال کی پاکیزگی کا باعث ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: 

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّيْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ (التوبة: 103)

’’ آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لیجئے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کر دیں اور ان کے لئے دعا کیجئے‘‘۔

غریبوں کے دل سے امراء کے خلاف حقد وحسد کے جذبات ختم کرنے کا سبب ہے۔

معاشرہ میں تعاون اور ہمدردی کے جذبات پروان چڑھانے میں معاون ہے۔

زکوۃ ادا نہ کرنے پر وعید

اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ زکوۃ کے وجوب کا انکار کرنے والا شخص کافر ہے ، البتہ وہ شخص جو زکوۃ کے وجوب کا اقرار تو کرتا ہو لیکن زکوۃ ادا نہ کرے وہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے، اللہ تعالی نے ایسے افراد کے بارے میں سخت وعید بیان فرمائی ہے:

وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ يَّوْمَ يُحْمٰى عَلَيْهَا فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوْبُهُمْ وَظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ (التوبة: 34، 35)

’’ اور جو لوگ سونا چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجیے، جس دن اس خزانے کو آتش دوزخ میں تپایا جائے گا پھر اس دن ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (ان سے کہا جائے گا) یہ ہے جسے تم نے اپنے لئے خزانہ بنا رکھا تھا، پس اپنے خزانوں کا مزہ چکھو‘‘۔

اور نبی ﷺ کا فرمان ہے:

مَنْ آتَاهُ اللهُ مَالًا، فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ مُثِّلَ لَهُ مَالُهُ يَوْمَ القِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ القِيَامَةِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ – يَعْنِي بِشِدْقَيْهِ – ثُمَّ يَقُولُ أَنَا مَالُكَ أَنَا كَنْزُكَ

’’ کسی شخص کو اللہ تعالی نے مال سے نوازا پھر اس نے اس مال کی زکوۃ ادا نہیں کی تو اس کے مال کو قیامت کے دن سانپ کی شکل کا بنایا جائے گا جس کی آنکھوں کے اوپر نکتے ہوں گے، وہ سانپ اس کے گلے میں طوق بن جائے گااور اس کے جبڑوں کو دبوچ کر کہے گا ’’میں ہوں تیرا مال ، میں ہوں تیرا خزانہ‘‘۔(صحیح البخاري، حديث:1403)

زکوۃ کس پر واجب ہے؟

زکوۃ ہر اس شخص پر واجب ہے جس میں درج ذیل شروط پائی جائیں:

اسلام:  لہٰذا کافر پر زکوۃ واجب نہیں، اور نہ ہی کافر کے مال کی زکوۃ قبول کی جائیگی۔

آزادی: یعنی وہ شخص آزاد ہو ، غلام پر زکوۃ واجب نہیں۔

ملکیت: وہ اس مال کا مالک ہو، لہذا ایسا مال جس کا وہ شخص مالک نہ ہو اس کی زکوۃ ادا نہیں کرےگا، جیسے امانت یا رہن کے طور پر رکھوائے گئے مال پر وہ زکاۃ ادا نہیں کرے گا۔

نصاب : یعنی اس کے پاس اتنا مال ہو جو نصاب تک پہنچ جائے، اور نصاب سے مراد وہ کم از کم حد ہے جس کے بعد مال پر زکوۃ نہیں ہوتی۔

اس مال پر ایک سال گزر جائے۔ البتہ زرعی پیداوار میں یہ شرط نہیں ہے بلکہ جب بھی فصل ہوگی اس میں سے زکوۃ ادا کرنا واجب ہے ، چاہے سال میں دو فصلیں ہوں یا اس سے زیادہ یا کم۔

اس کا مال پاکیزہ ہو ، حرام مال کی زکوۃ نہیں ہے۔

جن چیزوں پر زکوۃ واجب ہے

سونا چاندی اور جو اس کے متبادل ہو، یعنی کرنسی۔

سونے کا نصاب

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’سونے پر اس وقت تک زکوۃ نہیں جب تک تمہارے پاس بیس (۲۰) دینار نہ ہوں، جب تمہارے پاس بیس دینار ہوں تو اس میں سے آدھا دینار زکوۃ ادا کرو‘‘۔(سنن ابو داود (۱۵۷۲)

اس حدیث کی صحت میں اختلاف ہے، لیکن یہ حدیث علی t سے موقوفاً صحیح ثابت ہے ، اور چونکہ یہ ایسا معاملہ ہے جس میں اجتہاد کی گنجائش نہیں لہذا یہ مرفوع کے حکم میں آتی ہے۔)

بیس دینار کا وزن پچاسی (۸۵) گرام ہے، جو کہ تقریباًساڑھے سات تولہ بنتے ہیں۔

چاندی کا نصاب

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ اوقیہ سے کم (چاندی )  پر زکوۃ نہیں‘‘۔ (سنن نسائی ۲۴۴۵)

ایک اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہے ، تو پانچ اوقیہ دو سو درہم کے برابر ہیںاور دو سو درہم کا وزن پانچ سو پچانوے (۵۹۵) گرام ہے جو کہ تقریبا پچاس تولہ بنتے ہیں۔

زیورات کی زکوۃ

زیورات کی زکوۃ کے حوالہ سے علماء میں اختلاف ہے ، موجودہ دور کے اکثر علماء کرام کا یہی قول ہے کہ احتیاط کا تقاضہ ہے کہ زیورات کی زکوۃ ادا کی جائے جب وہ نصاب کو پہنچ جائیں یعنی ساڑھے سات تولہ سونا ہو یا پچاس تولہ چاندی ہو اور ان پر سال گزر جائے۔ اگر زیورات کی زکوۃ قیمت کے حساب سے دی جائے گی تو اس میں زیورات کی حالیہ قیمت کا اعتبار ہوگا اس کی اصل قیمت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔

کرنسی کا نصاب

کرنسی سونا اور چاندی کا متبادل ہے ، کیونکہ گزشتہ ادوار میں سونا اور چاندی بطور قیمت کے استعمال ہوتے تھے ، موجودہ دور میں کرنسی بطور قیمت کے استعمال ہوتی ہے۔

کرنسی کے نصاب کا اندازہ سونا اور چاندی میں سے سستی جنس کے نصاب سے لگایا جائے گا ، اور موجودہ دور میں چونکہ چاندی سونے کی نسبت سستی ہے لہذا کرنسی کا نصاب چاندی کے نصاب کی قیمت کے بقدر ہوگا، یعنی پچاس تولہ چاندی کی جو موجودہ قیمت ہے وہ کرنسی کا نصاب ہے۔

وضاحت

 زیورات کی قیمت کو کرنسی کے ساتھ نہیں ملا یا جائے گا ، بلکہ زیورات کا نصاب وزن ہے اور کرنسی کا نصاب قیمت ہے ، یعنی اگر کسی شخص کے پاس چار تولہ سونے کے زیورات ہوں او ر ان کی قیمت دولاکھ روپے ہو تو وہ اس پر زکوۃ ادا نہیں کرے گا کیونکہ نصاب مکمل نہیں ہے، سونے کے زیورات ساڑھے سات تولہ ہوں تو زکوۃ واجب ہوگی۔

شیئرز

ایسی کمپنی جس کا کاروبار حلال ہو اس کے حصص کی خریدو فروخت جائز ہے جب اس خریدو فروخت اور تبادلہ میں جوا شامل نہ ہو۔

شیئرز پر بھی زکاۃ واجب ہے ، اور اس کی ادائیگی کا طریقہ کار یہ ہے کہ شیئرز کی حالیہ قیمت اور وہ منافع جو سارا سال اس سے حاصل ہوا ہے کو جمع کیا جائے اور پھر اخراجات نکال کر باقی رقم سے زکوۃ ادا کردی جائے۔

بانڈز

بانڈز ایسے قرضہ جات کی رسید کو کہتے ہیں جو ایک انویسٹر کسی کمپنی کو ادا کرتا ہے اور کمپنی یہ قرضہ اس شخص کو ایک خاص مدت میں مخصوص منافع کے ساتھ ادا کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ بانڈز کا کاروبار حرام ہے ، کیونکہ اس میں قرضہ پر ایک مخصوص منافع لیا جاتا ہے جو کہ سود ہے، لیکن علماء کے نزدیک سود کو نکال کر بانڈز کی اصل رقم پر زکوۃ ادا کرنا واجب ہے جب وہ نصاب تک پہنچ جائے ، کیونکہ ایسا قرضہ جس کا حصول متوقع ہو اس کو زکوۃ کے نصاب میں شمار کیا جائےگا۔

زرعی پیداوار

اس سے مراد وہ اجناس ہیں جنہیں کھایا جاتا ہو اور ذخیرہ کیا جاتا ہو۔ لہذا ایسی اجناس جو کھائی نہ جاتی ہوں جیسے کپاس اور وہ اجناس جنہیں ذخیرہ نہ کیا جاسکتا ہو ، جیسے سبزیاں وغیرہ ، ان پر زکوۃ نہیں ، اسی طرح پھلوں پر بھی زکوۃ نہیں ہے، البتہ جب ان پھلوں کو یا سبزیوں وغیرہ کو بیچا جائے اور اس سے حاصل کردہ رقم نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر سال گزر جائے تو اس پر زکوۃ واجب ہوگی۔

زرعی پیداوار کا نصاب نبی کریم ﷺ نے بیان فرمایا کہ :’’ پانچ وسق سے کم پر زکوۃ نہیں‘‘۔

وسق ایک پیمانہ ہے جس کا وزن تقریبا 130.56کلو ہے اور پانچ وسق 652 کلو بنتے ہیں۔

جن اجناس پر زکوۃ ہے جب وہ نصاب تک پہنچ جائیں اور  ان کی سیرابی میں اگر کسان کا خرچہ نہیں آتا یعنی وہ بارش یا نہروں کے ذریعہ سیراب ہوتی ہوں تو ان پر عشر یعنی دس (10) فیصد زکوۃ ہے ، اور جن کی سیرابی میں کسان کا خرچہ ہو جیسے ٹیوب ویل وغیرہ تو اس پر نصف العشر یعنی پانچ (5) فیصد زکوۃ ہے۔

مویشی

 یعنی اونٹ ، گائے ، اور بکریاں۔ ان کے علاوہ باقی جانوروں پر زکوۃ نہیں ، البتہ جب ان کی تجارت کی جائے تو ان پر بھی زکوۃ ہے۔

مویشیوں پر زکوۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب وہ خود چرتے ہوں یا ان کے چارے پر مالک کا خرچہ نہ ہو۔مویشیوں میں سے ہر جنس کی زکوۃ الگ الگ ہے جس کی تفصیل کتب احادیث میں دیکھی جاسکتی ہے۔

وہ مویشی جنہیں اس غرض سے رکھا جائے کہ ان کا دودھ نکال کر بیچا جائے تو ان جانوروں کے عین پر زکوۃ نہیں بلکہ ان کی دودھ کی تجارت سے حاصل کردہ رقم پر زکوۃ ہے جب وہ نصاب کو پہنچ جائے۔اسی طرح وہ جانور جنہیں بیچنے کی غرض سے پالا جائے تو ان کے عین پر زکوۃ نہیں بلکہ ان کی تجارت سے حاصل کردہ رقم پر زکوۃ ہے۔

سامان تجارت

اس سے مراد وہ اشیاء ہیں جن کی تجارت کی جاتی ہو، چاہے ان کے عین پر زکوۃ ہو یا نہ ہو۔

چاہے وہ اشیاء خرید کر آگے بیچی جائیں چاہے خود تیار کر کے۔

تجارت اور سامان تجارت سے زکوۃ نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک دن خاص کر لیا جائے جس میں پورے سال کا آڈٹ(Audit) ہو اور اس میں سال میں حاصل کردہ منا فع اور موجودہ سامان تجارت کی حالیہ قیمت، اور ایسے قرضے جن کا حصول متوقع ہوکو جمع کیا جائے اور اس میں سے اخراجات ، اور وہ قرضے جو واجب الادا ہیں کو نکال کر باقی رقم سے زکوۃ ادا کردی جائے ۔

وضاحت

مکان تجارت یعنی وہ جگہ جہاں سے تجارت کی جاتی ہو جیسے دکان ، فیکٹری وغیرہ ان کی قیمت پر زکوۃ نہیں ، اسی طرح جن مشینوں کو سامان کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہو ان پر بھی زکوۃ نہیں۔

کرایہ پر دی گئی اشیاء

کرایہ پر دی گئی اشیاء کی قیمت پر زکوۃ نہیں بلکہ اس کے کرایہ پر زکوۃ ہے۔ جیسے مکان ، فلیٹ، فیکٹری ، مشینری ، گاڑی وغیرہ کو کرایہ پر دیا جائے تو ان کی قیمت پر زکوۃ نہیں بلکہ ان سے حاصل کردہ کرایہ پر زکوۃ ہے۔

وضاحت

زمین و مکان یا جائیداد وغیرہ اگر ایک شخص اپنے استعمال کی نیت سے خریدے تو ان پر زکوۃ نہیں ، البتہ اگر اسے بیچنے اور تجارت کی غرض سے خریدے تو اس کی ہر سال کی حالیہ قیمت پر زکوۃ ہوگی ، اور اسی طرح اگر اسے کرایہ پر دیدے تو اس کی قیمت پر زکوۃ نہیں بلکہ اس کے کرایہ پر زکوۃ ہوگی۔

زکوۃ کے مصارف

شریعت اسلامی میں جب بھی مال کی تقسیم کا معاملہ آیا ہے خاص طور پر وہ مال جس میں مشترکہ حقوق ہوں ، تو اس تقسیم کو اللہ تعالی نے بندوں کی صوابدید پر نہیں چھوڑا ہے بلکہ خود قرآن مجید میں اس کی تقسیم بیان فرمادی ، جیسا کہ وراثت کا مال ، مال غنیمت اور مال فئی کی تقسیم اللہ تعالی نے مکمل وضاحت کے ساتھ قرآن حکیم میں مختلف مقامات پر بیان فرمائی ہے، بالکل اسی طرح اللہ تعالی نے زکوۃ کی تقسیم بھی کردی اور وہ افراد اور جہات متعین کردی ہیں جن کے علاوہ کسی اور کو زکوۃ نہیں دی جاسکتی، نبی کریم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور زکوۃ کے مال میں کچھ حصہ مانگا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’ اللہ تعالی نے اس معاملہ میں کسی کے فیصلہ کو تسلیم نہیں کیا چاہے وہ نبی ہو یا کوئی اور ہو، بلکہ خود اس کی تقسیم فرمائی ہے ، اگر اس تقسیم کے مطابق تمہارا اس میں حصہ بنتا ہے تو بتا دو میں تمہیں دے دوںگا‘‘۔(سنن ابو داود (۱۶۳۰))

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالی نے صدقات کی تقسیم اپنی کتاب میں بیان فرمادی ہے مزید تاکید کرتے ہوئے فرمایا:

فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ [التوبة: 60]

کہ یہ اللہ کی طرف سے فرض کردہ ہے، لہٰذا کسی شخص کے لئے یہ جائز نہیں کہ اسے اللہ تعالی کی بیان کردہ تقسیم کے علاوہ کسی اور جگہ تقسیم کرے‘‘۔(احکام القرآن (۱/ ۱۶۰))

سورۃ توبہ آیت (۶۰) میں اللہ تعالی نے زکوۃ کے آٹھ مصرف بیان کئے ہیں ، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ١ؕ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ (التوبة: 60)

’’ صدقے صرف فقیروں کے لئے ہیں اور مسکینوں کے لئے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرضداروں کے لئے اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لئے فرض ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے‘‘۔

ان آٹھ مصارف کی تفصیل درج ذیل ہے:

فقیر: اس سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس اپنی حاجات پورا کرنے کے لئے کچھ نہ ہو۔

مسکین:اس سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ مال یا ذرائع ہوں لیکن وہ اس کی حاجات کے لئے کافی نہ ہوں۔جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

اَمَّا السَّفِيْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِيْنَ[الكهف: 79]

’’ کشتی تو چند مسکینوں کی تھی جو دریا میں کام کاج کرتے تھے‘‘۔

تو معلوم ہوا کہ ان مساکین کے پاس کشتی تھی اور وہ کام بھی کرتے تھے لیکن اس کے باوجود بھی وہ مسکین تھے۔

عامل زکوۃ: یعنی وہ شخص جو زکوۃ جمع کرتا ہے، وہ اپنی مرضی سے کچھ نہیں لے سکتا بلکہ امیر یا حاکم اسے اس زکوۃ میں سے کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔

تالیف قلبی: یہ وہ واحد مصرف ہے جس میں کسی کافر کو بھی زکوۃ دی جاسکتی ہے۔ اس مصرف میں تین قسم کے افراد شامل ہیں:

جس کے مسلمان ہونے کی امید ہو۔

جس کے فتنہ سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنا ہو۔ چاہے وہ شخص مسلمان ہو یا کافر۔

جو علاقہ کا بڑا ، قبیلہ کا سردار یا کوئی حیثیت رکھنے والا شخص ہو اور دعوت دین میں معاون ہوسکے ، اسے بھی تالیف قلبی کی خاطر زکوۃ میں سے دیا جاسکتا ہے۔

گردن آزاد کرانا:  اور موجودہ دور میں کسی بے گناہ مسلمان قیدی کی ضمانت کرانا۔

قرضدار: اس سے مراد ایسا قرضدار ہے جس نے کسی اسراف ، فضول خرچی یا کسی گناہ کے کام کے لئے قرض نہ لیا ہو، بلکہ ضرورت کے تحت لیا ہو اور پھر اسے چکا نہ سکے۔

فی سبیل اللہ:  آیتِ زکوۃ میں ’’فی سبیل اللہ‘‘سے مرادعموم نہیں بلکہ خاص معنی ہے اور وہ ہے مجاہدین ۔

نصوص شرعیہ کی رو سے جہاد کی تین قسمیں ہیں :

جہاد بالقلم(قلم و تحریر کے ذریعہ جہاد)

جہاد باللسان (زبان و کلام کے ذریعہ جہاد)

جہاد بالسیف(تلوار و اسلحہ کے ذریعہ جہاد)۔

 نصوص شرعیہ کی رو سے تینوں میں سے کسی بھی قسم کے ذریعہ دینِ اسلام، شعائرِ اسلام کا تحفظ و دفاع کرنے والے اس مصرف میں داخل ہیں۔

اللہ تعالی نے آیت کی ابتدا میں لفظ ’’إنما‘‘ یعنی ’’فقط‘‘ کہہ کر یہ بتا یا کہ یہ زکوۃ انہی آٹھ مصارف میں محدود رہے گی، اگر یہاں ’’فی سبیل اللہ‘‘سے مراد ہر قسم کی نیکی اور فلاح کاکام مراد لیا جائے تو اس قید کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔لہٰذامساجد کی تعمیر ، ہسپتال اور مریضوں کے علاج و معالجہ ، سڑکوں کی تعمیر اور دیگر فلاحی کاموں میں جن کا ذکر زکوۃ کے مصارف میں نہیں زکوۃ استعمال کرنا جائز نہیں۔ واللہ اعلم

مفتی دیارِ سعودیہ سماحۃ الشیخ ابن بازرحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 مساجد کی تعمیر اور اسی طرح سڑکوں ، پلوں وغیرہ کی تعمیر میں زکوۃ استعمال کرنا جائز نہیں، کیونکہ یہ زکوۃ کے آٹھ مصارف میں شامل نہیں۔ (فتاوی نور علی الدرب)

نوٹ: البتہ ایسے مریض جو فقراء یا مساکین یا دیگر مذکورہ مصارف میں سےہوں تو انہیں مذکورہ مصارف میں سے ہونے کی وجہ سے زکٰوۃ ادا کی جاسکتی ہے ،نا کہ مریض ہونے کی وجہ سے۔

مسافر: یہ زکوٰۃ کا آٹھواں مصرف ہے ۔اس سے مراد وہ شخص ہے جو حالتِ سفر میں ہو ، چاہے وہ اپنے علاقہ میں کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو حالتِ سفر میں آفت آجانے کی وجہ سے اس کے لئے زکوۃ لینا جائز ہے۔والله أعلم

وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه وسلم

روزے کے احکام ومسائل

تاریخ اسلام میں ماہِ صیام کو خصوصی مرتبت حاصل ہے۔ یہ ماہِ مبارک اطاعاتِ الٰہیہ کا مہینہ ہے، جس میں اہلِ ایمان روزہ، قیام اور تلاوت قرآن کے ذریعے جہنم سے پروانۂ آزادی حاصل کرکے جنت الفردوس میں ابدی ماویٰ کیلئے مصروفِ عمل ہوتے ہیں۔ روزے کے ذریعے اہل اسلام کو اپنی حقیقت کو جاننے میں مدد ملتی ہے۔ انسان کی اصل حقیقت عجز و انکساری ہے، نہ کہ غرور و تکبر۔ روزے کا اصل ہدف حصولِ تقویٰ ہے۔ اس اعتبار سے رمضان المبارک میں جو اعمال مشروع ہیں، ان کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔

 روزہ کی تعریف

روزہ لفظ صوم کا ترجمہ ہے جس کا لفظی معنی کسی چیز کو ترک کرنا یا کسی چیز سے رکنا ہے ۔

شرعی اعتبار سے اس سے مراد مخصوص شرائط کے ساتھ مخصوص ایام میں ، مخصوص اشیاء (یعنی کھانے پینے ، فسق وفجور اور شہوت کے کاموں سے ) طلوع فجرسے غروب آفتاب تک رک جانے کا نام روزہ ہے۔

روزہ کی فضیلت

روزہ ارکان اسلام میں غیر معمولی فضیلت واہمیت کا حامل رکن ہے۔اور جس ماہ مبارک میں روزے فرض ہوئے وہ ماہ مقدس رحمتوں، بخششوں اور برکتوں کا مہینہ قرار پایا ۔ اس کی فضیلت میں محمد عربی رحمت دو عالم ﷺ سے متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں۔جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں ۔

٭  رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم کا ہر عمل اس کیلئے ہے سوائے روزہ کے اس لیے کہ وہ میرے لیے ہے ۔ اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ (صحیح بخاری ، کتاب الصیام،حديث:1904)

٭نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے : ’’ جو بھی بندہ اللہ کی راہ میں روزہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے چہرے کو آگ سے ستر خریف ( یعنی 210میل) دور کردیتا ہے ۔‘‘ ( صحیح بخاری ،حديث:2840)

٭ رسول معظم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ روزہ اور قرآن پاک قیامت کے روز مومن بندے کی سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا اے رب ! میں نے اس کو دن بھر کھانا کھانے سے اوراپنی خواہشات پورا کرنے سے روکے رکھا اس لیے اس کے بارے میں  میر ی سفارش قبول فرما اور قرآن کہے گا اے میرے پرودگار!میںنے اس کو رات کے وقت نیند سے روکے رکھا ا س لیے اس کے معاملے میں میری سفارش قبول فرما۔ پھر دونوں کی سفارش قبول کر لی جائے گی۔‘‘( صحیح الترغیب،کتاب الترغیب فی الصوم،حديث:984)

٭ روزوں کی برکت سے رمضان المبارک میں ادا کیا جانے والا عمرہ ثواب میں حج کے برابر ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ آپ ﷺ نے ام سنان انصاریہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا:

فَإِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِي، فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً (صحیح مسلم،كتاب الحج، الحدیث: 1256)

’’جب رمضان المبارک آئے تو عمرہ کرلینا  کیونکہ رمضان میں عمرہ (کا اجر وثواب ) حج کے برابر ہوتا ہے۔‘‘

رمضان المبارک کاچاند دیکھ کر روزہ رکھنا چاہیے

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :

صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ (صحیح البخاری،كتاب الصوم ، الحدیث: 1909)

’’ ماہ رمضان کاچاند دیکھ کر روزہ رکھو اور (ماہ شوال کا) چاند دیکھ کر روزہ چھوڑو۔‘‘

چاند دیکھنے کی دعا

نبی کریم ﷺ جب چاند دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے تھے۔

اللهُ أَكْبَرُ، اللهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ، وَالتَّوْفِيقِ لِمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى، رَبُّنَا وَرَبُّكَ اللهُ (سنن الدارمی، كتاب الصوم، الحدیث: 1729 وصحيح ابن حبان، الحديث:888)

’’ اللہ سب سے بڑا اے اللہ ! تو اسے ہم پر امن اور سلامتی و اسلام کے ساتھ طلوع فرما اور اس چیزکی توفیق کے ساتھ جس کو تو پسند کرتا ہے ۔ اور جس سے تو راضی ہوتا (اے چاند)ہمارا اور تمہارا رب اللہ تعالیٰ ہے ۔‘‘

ماہ رمضان کے متعلق ایک یا دو دیانتدار مسلمان کی گواہی کافی ہے

سیدنا عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ 

تَرَائِى النَّاسُ الْهِلَالَ فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنِّي رَأَيْتُهُ فَصَامَهُ، وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ (سنن أبی داؤد ، كتاب الصوم ، الحدیث: 2342)

’’ لوگوں نے چاند دیکھنا شروع کیا تو میں نے نبی کریم ﷺ کواطلاع دی کہ میں نے چاند دیکھ لیا ہے ۔ پھر آپﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اورلوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔‘‘

حدیث نبوی ہے کہ :

وَإِنْ شَهِدَ شَاهِدَانِ مُسْلِمَانِ، فَصُومُوا وَأَفْطِرُوا (مسند أحمد ، الحدیث:18895)

’’ اگر دو مسلمان گواہ شہادت دیں تو روزہ رکھو (دو کی گواہی کے ساتھ) روزہ رکھنا چھوڑ دو ۔‘‘

٭اگر چاند نظر نہ آسکے تو ماہِ شعبان 30کے دن مکمل ہونے پر روزہ رکھنا چاہیے:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مر وی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلاَثِينَ (صحیح البخاری ، كتاب الصوم ، الحدیث: 1909)

’’ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اورچاند دیکھ کر افطار کرو لیکن اگر مطلع ابر آلود ہو نے کے باعث چاند چھپ جائے توپھر تم شعبان کے تیس دن پورے کرو ۔‘‘

مشکوک دن میں روزہ رکھنا ممنوع ہے

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ 

مَنْ صَامَ الْیَوْمَ الَّذِی یَشُكُّ فِیهِ النَّاسُ فَقَدْ عَصَی أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ ( سنن الترمذی ، كتاب الصوم ، الحدیث: 622)

’’ جس نے مشکوک دن میں روزہ رکھا اس نے ابو القاسم ﷺ کی نافرمانی کی ۔‘‘

مشکوک دن سے مراد ماہ شعبان کاانتیسواں روز ہے یعنی جب اس رات ابر آلودگی کے باعث چاند نظر نہ آئے اوریہ شک ہو جائے کہ آیا رمضان ہے یا نہیں؟

(سعودی مجلس افتاء )صحیح سنت مشکوک دن کے روزے کی حرمت پر دلالت کرتی ہے ۔

 روزوں کے آداب

روزہ رکھنے والے کیلئے فجر سے پہلے نیت کرنا ضروری ہے ۔

سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

مَنْ لَمْ یُجْمِعِ الصِّیَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَا صِیَامَ لَهُ

’’جس نے فجر (یعنی صبح صاد ق ) سے پہلے پختہ نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں ۔‘‘( سنن الترمذی ، كتاب الصوم ، الحدیث: 662)

نوٹ : روزہ کی نیت کے الفاظ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔

نفلی روزے کی نیت

واضح رہے کہ یہ فرض روزے کی بات ہے جبکہ نفلی روزے کیلئے نفلی روزے سے پہلے یعنی فجر کے بعد بھی نیت کی جاسکتی ہے جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ’’ ایک دن رسو ل اللہ ﷺ میرے پاس آئے اور فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ ہم نے کہا نہیں ؟ یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا : تب میں روزہ دار ہوں۔‘‘

سحری کھانے میں برکت ہے

خادم رسول انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 

تَسَحَّرُوا فَاِنَّ فِی السَّحُورِ بَرَكّةً  (صحیح البخاري، كتاب الصو م، الحدیث :1789)

’’سحری کھایا کرو کیونکہ سحری کھانے میںبرکت ہے۔‘‘

سحری کی فضیلت

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ  نے فرمایا :

اِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ یُصَلُّونَ عَلَی الْمُتَسَحِّرِینَ  ( مسند أحمد ، الحدیث: 10664)

’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ سحر ی کھانے والوں پر رحمت بھیجتے ہیں اور فر شتے ان کیلئے دعا کرتے ہیں ۔‘‘

کھجور کے ساتھ سحری کھانے کی فضلیت

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 

نِعْمَ سَحُورُ الْمُؤْمِنِ التَّمْرُ (سنن ابی داؤد، كتاب الصوم، الحدیث: 1998)

’’ مومن کی بہترین سحری کھجور ہے ۔‘‘

اگر سحری کھاتے وقت اذان ہو جائے

تو فوراً چھوڑ دینا ضروری نہیں بلکہ حسب عادت جلد از جلد کھا لینا جائز ومباح ہے ۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

اِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمُ النِّدَاءَ وَالْاِنَاءُ عَلَی یَدِهِ فَلَا یَضَعْهُ حَتَّی یَقْضِیَ حَاجَتَهُ مِنْهُ

’’ جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور (کھانے یا پینے ) کابرتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے رکھے مت بلکہ اس سے اپنی ضرورت پوری کر لے۔‘‘ ( سنن أبی داؤد ، كتاب الصو م ، الحدیث: 2003)

روزہ میں فضول اور لایعنی باتوں سے زبان کو روکے رکھنا

سیدنا  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : 

مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ (صحيح البخاري، كتاب الصوم، الحديث:1903)

’’جس شخص نے (روزہ رکھ کر بھی) جھوٹ بولنے اور اس پر عمل کرنے کوترک نہ کیا ،تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی حاجت نہیںہے کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے۔‘‘

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ الصِّيَامَ لَيْسَ مِنَ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ فَقَطْ، إِنَّمَا الصِّيَامُ مِنَ اللغْوِ وَالرَّفَثِ، فَإِنْ سَابَّكَ أَحَدٌ، أَوْ جَهِلَ عَلَيْكَ، فَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ

’’ روزہ کھانا اور پینا چھوڑنے کا نام نہیں ہے ۔بلکہ وہ فضول اور گندگی سے رکے رہنے کا نام ہے ۔اگر کوئی شخص تمہیں ( روزہ کی حالت میں )گالی دے ،یا تم سے جہالت کاسلوک کرے تو تم اس سے کہہ دو ’’بھئی میںروزے سے ہوں ۔‘‘ ( حاکم ، ابن خزیمہ ، ابن حبان)

صدقہ وخیرات ، تلاوت قرآن پاک ، ذکر الٰہی اورنبی کریم ﷺ پر درو د کی کثرت

سیدناعبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور آپ سب سے زیادہ سخی اس وقت ہوتے جب جبریل علیہ السلام آپ ﷺ کی ملاقات کیلئے آتے۔ وہ رمضان کی ہر رات آپ ﷺ کے پاس آتے اور آپ ﷺ کے ساتھ قرآن پاک کی مدارست ( باہمی تلاوت ) کرتے۔ اس وقت نبی کریم ﷺ تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوا کرتے تھے۔ (صحيح البخاري، كتاب بدء الوحي، الحديث:6)

رزوہ افطا ر کرنے میں جلدی کرنا مستحب ہے

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ  نے فرمایا:

 لَا یَزَالُ النَّاسُ بِخَیْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ  (صحیح البخاری ، كتاب الصو م ، الحدیث: 1957)

’’ لوگ جب تک افطار کرنے میں جلدی کریں گے ہمیشہ خیر و عافیت میں ر ہیں گے۔‘‘

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ، لِأَنَّ الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ (سنن أبی داؤد، كتاب الصوم ، الحدیث:2353)

’’ لوگ روزہ افطار کرنے میںجب تک جلدی کرتے رہیں گے دین ہمیشہ غالب رہے گاکیونکہ یہود ونصاری تاخیرسے افطار کرتے ہیں۔‘‘

نوٹ : روزہ افطار کرنے میں جلد ی سے مراد وقت سے پہلے افطار کرنا ہر گز مراد نہیں بلکہ وقت ہونے پر جلدی کرنا مقصود ہے ۔

روزہ کس چیز سے افطار کیا جائے ؟

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ

كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ عَلَى رُطَبَاتٍ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ رُطَبَاتٌ، فَعَلَى تَمَرَاتٍ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍٍ (سنن أبی داؤد ، كتاب الصو م ، الحدیث: 2356)

’’ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ نماز مغرب سے پہلے تازہ کھجوروں سے روزہ افطار کرتے ، اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو چھواروں سے روزہ افطا ر کرتے ۔ اگر چھوارے بھی نہ ہوتے تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔‘‘

ایک صحیح روایت میں یہ بھی موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ستو گھول کر روزہ افطار کیا ۔

افطاری کی دعا

روزہ کھولتے وقت رسول اللہ ﷺ یہ کلمات کہتے تھے : 

اللهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَی رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ (سنن أبی داؤد، كتاب الصوم، الحديث:2358)

’’اے اللہ ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے ہی دیے ہوئے رزق پر افطار کیا ۔‘‘

اس مندرجہ بالاحدیث کو بھی بعض علماء ضعیف کہتے ہیں۔اس میں یہ الفاظ

(۔۔۔۔۔ وَبِكَ آمَنْتُ وَ عَلَیْكَ تَوَكَّلْتُ ۔۔۔۔۔)

کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہیں۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ جب روزہ افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے : 

ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللهُ

کہ پیاس بجھ گئی ، رگیں تر ہو گئیں اور روزے کااجر ان شاء اللہ ثابت ہوگیا۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الصوم، الحدیث: 2357، حدیث صحیح ہے )

روزہ دار کیلئے جو کام کرنے جائز ہیں

مبالغے کے بغیر کلی کرنا اورناک میںپانی چڑھانا

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

هَشَشْتُ، فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا قَبَّلْتُ، وَأَنَا صَائِمٌ، قَالَ: «أَرَأَيْتَ لَوْ مَضْمَضْتَ مِنَ الْمَاءِ، وَأَنْتَ صَائِمٌ»قُلْتُ: لَا بَأْسَ بِهِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، قَالَ: «فَمَهْ»

’’میرا دل چاہا اور میں نے روزے کی حالت میں (اپنی بیوی کا ) بوسہ لے لیا۔ میں نے کہا ، اے اللہ کے رسولﷺ! میں نے آج بہت بڑا (برا) کام کیا ہے ، میںنے روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے بتاؤ اگر تم دوران روزہ کلی کرلو تو؟ میں نے کہا، کلی میں توکوئی حرج نہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پھر کون سی چیز میں حرج ہے ؟ (مراد یہ ہے کہ جب کلی کرنے میںکوئی حرج نہیں تو بوسہ لینے میں بھی کوئی حر ج نہیں )۔‘‘ ( سنن ابی داؤد ، کتاب الصیام ، الحدیث: 2385)

(امام شوکانی رحمہ اللہ )حدیث کے ان الفاظ «أَرَأَيْتَ لَوْ مَضْمَضْتَ مِنَ الْمَاءِ»میںایک مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہیںکہ’’ کلی کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔‘‘

تیل لگانا اور کنگھی کرنا

سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو اسے چاہیے کہ یوں صبح کرے کہ اس نے تیل لگایا ہوا ہو اور کنگھی کی ہو۔( صحیح بخاری ، کتاب الصو م )

گرمی کی وجہ سے غسل کرنا

ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ ’’ میں نے نبی کریم ﷺ کودیکھا کہ آپﷺ گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی بہارہے تھے اور آپﷺ روزہ دار تھے۔ ( صحیح ابی داؤد ، کتاب الصیام، الحدیث: 20272)

حالت جنابت میں روزہ رکھنا اور بعد میں غسل کرنا

حالت جنابت میں سحری کھا کر روزہ رکھ لینا اور بعد میں غسل کر لیناجائز ہے ۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ

أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يُدْرِكُهُ الفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ أَهْلِهِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ، وَيَصُومُ» (صحیح البخاری،كتاب الصیام، الحدیث: 1926)

’ ’رسول اللہ ﷺ کو (بعض اوقات ) اس حالت میں فجر ہوجاتی کہ آپ مباشرت کرنے کی وجہ سے جنبی ہوتے (ایسے ہی آپ ﷺ سحری کھا لیتے ) پھر غسل کر کے روزہ رکھ لیتے۔‘‘

سرمہ لگانا

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ

اكْتَحَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ (سنن ابن ماجه ، كتاب الصیام ، الحدیث: 1678)

’’نبی کریم نے ماہ رمضان میں روزے کی حالت میں سرمہ لگایا ۔‘‘

 اگر مذکورہ حدیث صحیح ہے تو واضح طور پر اس سے دوران روزہ سرمہ لگانے کا جواز نکلتا ہے اوربالفرض اگر اس میں ضعف بھی ہے تب بھی اصل براء ت ہی ہے لہٰذا سرمہ لگانا جائز ہے اور کسی صحیح حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سرمہ لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔

دوران روزہ ٹوتھ پیسٹ کے استعمال کا حکم

اگر ٹوتھ پیسٹ حلق میں نہ جائے توروزہ نہیں ٹوٹتا لیکن افضل یہ ہے کہ ٹوتھ پیسٹ رات کو استعمال کی جائے۔ اوردن کومسواک استعمال کریں کیونکہ یہی سنت نبوی ہے ۔

ہنڈیا کا ذائقہ چکھنا

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: « لاَ بَأْسَ أَنْ يَتَطَعَّمَ القِدْرَ أَوِ الشَّيْءَ 

’’سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہنڈیا یا کسی چیز کا ذائقہ معلوم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘( صحیح البخاری ، کتاب الصوم )

روزہ دار کو جو کام کرنے حرام ہیں

جھوٹ بولنا ،غیبت کرنا اور لڑائی جھگڑا کرنا

سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ  ( صحیح البخاری ، كتاب الصیام ، الحدیث: 1903)

’’جس شخص نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں کہ ایسا شخص اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔‘‘

لغو ، رفث اور جہالت کی باتیں کرنا

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

الصِّيَامُ جُنَّةٌ فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَجْهَلْْ( صحیح البخاری، كتاب الصیام ، الحدیث: 1894)

’’روزہ (گناہوں سے بچاؤ کی ) ایک ڈھال ہے لہٰذا(روزہ دار ) نہ فحش باتیں کرے اورنہ جہالت کی باتیںکرے۔‘‘

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : 

لَيْسَ الصِّيَامُ مِنَ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ، إِنَّمَا الصِّيَامُ مِنَ اللغْوِ وَالرَّفَثِ، فَإِنْ سَابَّكَ أَحَدٌ أَوْ جَهِلَ عَلَيْكَ فَلْتَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ، إِنِّي صَائِمٌ  (صحیح ابن خزيمة، الحدیث :1996)

’’روزہ صرف کھانا پینا چھوڑنے کا نام نہیں ہے بلکہ روزہ تو لغو ( ہر بے فائدہ بے ہودہ کام) اور رفث (جنسی خواہشات پر مبنی کلام ) سے بچنے کا نام ہے ۔ لہذا اگر کوئی تمہیں (دوران روزہ ) گالی دے یا جہالت کی باتیںکرے تو اسے دو دفعہ کہہ دو کہ میں تور وزہ دار ہوں۔‘‘

مبالغے سے ناک میں پانی چڑھانا

سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : 

أَسْبِغِ الْوُضُوءَ، وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا(سنن النسائی ، كتاب الصیام ، الحدیث:87)

’’ وضو اچھی طرح پورا کرو اور ناک میں اچھی طرح پانی چڑھایا کرو مگر روزے کی حالت میں (ایسا نہ کیا کرو)۔‘‘

جو ضبطِ نفس کی طاقت نہ رکھتا ہواسے احتیاط کرنی چاہیے

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ

كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ» ( صحیح البخاري، كتاب الصیام ،الحدیث: 1927)

’’ نبی کریم ﷺ روزہ دار ہوتے لیکن (اپنی ازواج مطہرات کا ) بوسہ لیتے اور ان کے ساتھ مباشرت کرتے (یعنی ان کے صرف جسم کے ساتھ جسم ملاتے ) اور آپ ﷺ تم سب سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔‘‘

روزہ کن چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے 

جان بوجھ کر کھانے ،پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے :

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ

وَكُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيْلِ

’’ تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے (یعنی صبح صادق رات سے ) ظاہر ہوجائے۔ پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔‘‘ (البقرۃ:187)

اگر کوئی بھول کر کھاپی لے

تو اس پر نہ کفارہ ہے نہ قضا کیونکہ اس کا روزہ برقرار ہے ۔

مباشرت کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے

اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآىِٕكُمْ (البقرۃ:187)

’’ روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیا گیا۔‘‘

معلوم ہوا کہ دن میں یہ حرام ہے ۔

عمداً قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے :

اگر خود بخود قے آجائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

مَنْ ذَرَعَهُ القَيْءُ، فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ، وَمَنْ اسْتَقَاءَ عَمْدًا فَلْيَقْضِ(سنن الترمذی، كتاب الصیام، الحدیث:720)

’’ جسے روزے کی حالت میں قے آجائے اس پر قضا نہیں ، اگر جا ن بوجھ کر قے کرے تو قضا دے۔‘‘

جان بوجھ کر روزہ توڑنے والے پر ظہار کے کفارے کی طرح کفارہ لازم ہے۔

دوران روزہ احتلام اور مذی کا حکم

حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے دوران روزہ اپنی بیوی سے حقیقی مباشرت کرلی تونبی کریم ﷺ نے اسے اس طرح کفارہ ادا کرنے کوکہا ۔ایک گردن آزاد کرو، اگر اس کی طاقت نہیں تو دو ماہ کے پے درپے روزے رکھو اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں تو ساٹھ مساکین کوکھاناکھلاؤ۔‘‘(سنن أبی داؤد، کتاب الصوم ، حدیث : 2390)

روزے کی حالت میںاگر احتلام ہوجائے یا مذی وغیرہ خارج ہوجائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ روزہ ان اشیاء سے ٹوٹتا ہے جو اند رجاتی ہیں ۔ ان سے نہیں ٹوٹتا جو باہر آتی ہیںإلا یہ کہ اس میں قصد شامل ہو۔

مخصوص ایام یا نفاس شروع ہونے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے

امام بخاری رحمہ اللہ نے باب قائم کیا ہے  بَابٌ: الحَائِضُ تَتْرُكُ الصَّوْمَ وَالصَّلاَةَ’’حیض والی عورت نہ نماز پڑھے اور نہ روزے رکھے۔

کیا بچے کو دودھ پلانے سے روزہ باطل ہوجاتا ہے

شریعت اسلامیہ نے بچے کو دودھ پلانا روزہ توڑنے والی اشیاء میں شمار نہیں کیا لہٰذا اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ فقہائے کرام کا اختلاف ہے کہ دودھ پلانے والی عورت کا روزہ دودھ پلانے کے باوجود جائز ہے اس سے اُس پرکچھ اثر نہیںپڑتا۔

کیانکسیر پھوٹنےسے روزہ فاسد ہوجاتا ہے ؟

(سعودی مجلس افتاء)کے مطابق اگر آپ کو نکسیر آجائے تو آپ کا روزہ صحیح ہے ۔کیونکہ نکسیر کے آنے پر آپ کو کوئی اختیار نہیں۔ اس بنا ءپر اس کے آنے سے آپ کے روزے کو کوئی نقصان نہیں اور نہ ہی وہ فاسد ہے ۔اس کے دلائل میں سے مندرجہ ذیل ارشاد باری تعالی ہے: 

لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا (البقرة :286)

’’ اللہ تعالیٰ کسی کو بھی اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔‘‘

کیا دانتوں سے نکلنے والا خون روزہ توڑ دیتا ہے ؟

(سعودی مجلس افتاء ) کے مطابق وہ خون جو دانتوں سے نکلتا ہے روزہ نہیں توڑتا خواہ خود بخود نکل آئے یا کسی انسان کے مارنے سے نکلے۔‘‘

کیا آنکھوں یا کانوں میں قطر ے ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟

علامہ ابن باز رحمہ اللہ نے فرمایا اگرچہ اس مسئلے میں اختلاف ہے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ مطلق طورپر( آنکھوں  میں ڈالنے والے ) قطروں سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔‘‘

(سعودی مجلس افتاء ) صحیح بات یہ ہے کہ جس نے اپنی دونوں آنکھوں یا اپنے کانوں میں بطور دواء قطرے ڈالے تو اس کا روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہم سب کو قرآن وسنت کے مطابق روزہ رکھنے اور اس ماہ مقدس کے فیوض وبرکات سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

غیبت سے بچیں

پہلا خطبہ

دوسروں کی غیبت کرنا زبان کی آفتوں میں سے سب سے خطرناک اور انسان کی نیکیوں کو سب سے زیادہ تباہ کرنے والی چیزوں میں سے ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

وَ لَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ۠

’’اور نہ تم میں سے کوئی دوسرے کی غیبت کرے، کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے سو اس کو تو تم ناپسند کرتے ہو۔‘‘(الحجرات:12)

اللہ تعالی مزید فرماتا ہے:

وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ (الھمزة:1)

” ہر غیبت کرنے والے طعنہ دینے والے کے لیے ہلاکت ہے۔

اس آیت کی تفسیر کے ضمن میں کہا گیا ہے کہ (ھُمزة) وہ ہے جو لوگوں کی غیبت کرتا ہے اور (لُمزة) وہ ہے جو ان میں عیب نکالتا اور طعنہ زنی کرتا ہے جیسا کہ بہت سے سلف سے مروی ہے۔

ایک عالم کا قول ہے کہ : غیبت وہ شعلہ برق ہے جو نیکیوں کے خرمن کو خاکستر کر دیتا ہے ۔ اسی لیے ابن مبارک رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: اگر میں کسی کی غیبت کرتا تو اپنے والدین کی کرتا کیوں کہ وہ میری نیکیوں کے زیادہ مستحق ہیں۔

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا گزر ایک مردہ خچر کے پاس سے ہوا تو انہوں نے اپنے بعض ساتھیوں سے کہا: کسی شخص کا اس مردہ خچر کا گوشت پیٹ بھر کر کھالینا ایک مسلمان کی غیبت کرنے سے بہتر ہے۔

اسلامی بھائیو!مسلمانوں کی عزت و آبرو ویسے ہی حرام ہے جیسے ان کے خون اور مال حرام ہیں ، جیسا کہ رسول اکرم ﷺ نے حجۃ الوادع کے خطبے میں اس امر کا اعلان کر دیا تھا۔

لہذا اے مسلمانو !اللہ کا تقوی اختیار کرو، اور اپنی زبان کی تباہ کاریوں اور دیگر اعضاء جسمانی کی آفتوں سے بچو، کیوں کہ اس کا معاملہ بڑا خطرناک ہے ، اور گناہ بڑا عظیم ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:کامل مسلمان وہی ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔ ( بخاری و مسلم)

غیبت یہ ہے کہ آپ کسی شخص میں پائے جانے والی کسی بھی ایسی چیز کا تذکرہ کریں جسے وہ ناپسند کرتا ہو، خواہ وہ اس کے دین ،دنیا یا جسم سے متعلق ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہوتی ہے ؟ ، صحابہ کرام نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: (غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر اس انداز میں کرو جسے وہ ناپسند کرتا ہو ۔ ( امام مسلم نے اسے روایت کیا ہے)

میرے اسلامی بھائیو!یہ معاملہ انتہائی خطرناک اور بہت سنگین ہے۔ لہذا اپنی زبان کو مسلمانوں کی عزت و آبرو پر حملہ کرنے سے محفوظ رکھو، نیز ان کی غیبت کرنے ، اور ان کی عزتوں کو پامال کرنے سے حد درجہ بچو۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَيْهِ رَقِيْبٌ عَتِيْدٌ

وہ کوئی بات منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک مستعد نگران موجود ہو تا ہے۔ (ق:18)

اور ہمارے پیارے پیغمبر ﷺ نے غیبت کے انجام بد سے ڈراتے ہوئے فرمایا ہے : ” جب مجھے معراج کرائی گئی، میں ایسی قوم کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے جن سے وہ اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے ، میں نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ جناب جبریل علیہ السلام نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے اور ان کی عزتوں کو پامال کرتے تھے ۔ ( اس حدیث کو امام احمد اور ابو داود نے روایت کیا ہے ، اور اس کی سند حسن ہے)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ : میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا: آپ ﷺ کے لئے صفیہ کا ایسا ایسا ہوناہی کافی ہے۔ بعض راویوں نے کیا کہ ان کی مراد یہ تھی کہ وہ کوتاہ قد ہیں ، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر وہ سمندر کے پانی میں گھول دی جائے تو وہ اس کا ذائقہ بدل ڈالے، وہ کہتی ہیں: میں نے آپ ﷺ کے سامنے ایک شخص کی نقل اتاری تو آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں کسی انسان کی نقل اتاروں چاہے اس کے بدلے مجھے اتنا اتنا مال ملے۔ (اسے ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے ، اور ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے )

امام نووی کہتے ہیں: یہ حدیث غیبت کی سنگینی سے ڈرانے کے لیے کافی ہے۔

اس بری خصلت سے ڈرانے والی یہ اور اس طرح کی بے شمار نصوص کی بنا پر جمہور اہل علم نے غیبت کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔ اس لیے ایک مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اپنی زبان کی حفاظت کرے اور دوسروں کے عیب تلاش کرنے کی بجائے اپنے عیبوں پر نظر رکھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ اپنی زبانوں کے بڑ بڑ ہی کی وجہ سے تو اوندھے منہ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔“ اور آپ ﷺ کی وصیتوں میں سے ایک آپ کا یہ بھی فرمان ہے کہ : ”جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے یا تو خیر و بھلائی کی بات کرنی چاہیے ، یا خاموش رہنا چاہیے ۔ “ ( بخاری و مسلم)

دوسرا خطبہ

جو آدمی کسی کو کسی مسلمان بھائی کی غیبت کرتے ہوئے سنے تو اس پر یہ واجب ہے کہ وہ اس کا جواب دے اور غیبت کرنے والے کو روکے، اگر اسے روک نہ پائے یا وہ اس کی بات نہ سنے تو اس پر یہ واجب ہے کہ اس مجلس سے کنارہ کش ہو جائے۔

ارشاد باری تعالی ہے :

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ (القصص:55)

’’اور جب انہوں نے لغو باتیں سنیں تو انہوں نے ان سے اعراض کیا۔‘‘

اور حدیث میں آیا ہے: جو شخص اپنے بھائی کی عزت کا ( اس کی غیر موجودگی میں ) دفاع کرے، اللہ تعالی قیامت کے دن اس کے چہرے کو جہنم کی آگ سے دور کر دے گا۔ (اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے حسن قرار دیا ہے )

أیامًا معدودات

رمضان المبارک اپنی رحمتوں،برکتوں کے ساتھ امت مسلمہ پر سایہ فگن ہے اور دن ہیں کہ گویا ان کو پَر لگ گئے ہیں۔ ایاما معدودات کے مصداق بہت تیزی سے ماہ مبارک اپنا سفر طے کر رہا ہے گویا مہینہ وصل کا گھڑیوں کی صورت اُڑتا جاتاہے۔

مالک کائنات کی رحمت جوش میں ہے جنت کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں، جہنم کے دروازے بند ہوچکے ہیں بہت سارے کم نصیب تھے جو ہر رات خوش نصیبوں میں بدل رہے ہیں کہ جب ان کو جہنم سے آزادی کا پروانہ مل رہا ہوتاہے۔

وَلِلهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ، وَذَلِكَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ (سنن الترمذي:682، سنن ابن ماجه: 1642)

’’اور آگ سے اللہ کے بہت سے آزاد کئے ہوئے بندے ہیں (تو ہو سکتا ہے کہ تو بھی انہیں میں سے ہو) اور ایسا (رمضان کی) ہر رات کو ہوتا ہے۔‘‘

جو رخصت ہوچکے ہیں ان کا حساب شروع ہے عمل کا سلسلہ ٹوٹ چکا ہے مگر ان خوش نصیبوں کا عمل اب بھی جاری ہے جن کے عملی ابر کرم سے لوگ فیض یاب ہورہے ہیں یا جو صدقہ جاریہ چھوڑ کر گئے جن کی اولاد ان کے لیے دعا گو ہے جو یہاں موجود ہیں یہ ان کی خوش بختی ہے کہ انہیں رمضان میسر آگیا ہے کہ ایک سال پہلے شہید ہونے والے کا داخلہ جنت میں بعد میں ہورہا ہے کیونکہ اس کا ساتھی ایک سال بعد زندہ رہا اور رمضان نصیب ہوا سال بھر کی نمازیں اور نیکیاں اسے جنت میں داخلے کے لیے سبقت دلا گئیں سبحان اللہ عمر عزیز بھی رب کریم کا ایک انمول تحفہ ہے اگر یہ نیکیوں سے معمور ہو ۔

وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ المِسْكِ (صحيح البخاري:5927)

روزہ دار کے منہ سے اٹھنے والی بُو اللہ کے ہاں کستوری جیسی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔

تو بچا بچا کہ نہ رکھ اسے، تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ

جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں

شہداء کی بڑی شان اورمرتبہ ہے کہ خون کا قطرہ زمین پر بعد میں گرتاہے معافی پہلے ہوجاتی ہے ان کے خون کی خوشبو کستوری جیسی اور روزہ دار کے منہ کی بُو کستوری سے بھی اچھی۔ نصیبوں والے اس مبارک ماہ کی برکات سمیٹ رہے ہیں کچھ کم نصیب ہیں جو نیکیوں کے موسم بہار میں بھی محروم ہیں وہ ماہ مبارک جسے امام الانبیاء فرمائیں شہر مبارک اس کی برکت کا کیا عالم ہوسکتا ہے جب اس کی عطربیزیاں فضاؤں کو معطر کر رہی ہوں اور ضیا پاشیاں چہاردانگ عالم نور پھیلا رہی ہو اس میں ایک ایسی رات ہو جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو لیلۃ القدر ہے پھر بھی کوئی محروم رہ جائے تو پھر فرمان رسول اکرم ﷺ:

إِنَّ هَذَا الشَّهْرَ قَدْ حَضَرَكُمْ، وَفِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَهَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَيْرَ كُلَّهُ، وَلَا يُحْرَمُ خَيْرَهَا إِلَّا مَحْرُومٌ (سنن ابن ماجه:1644)

اس جود وسخا کے موسم میں بھی کوئی محروم رہ گیا تو وہ ہر خیر سے محروم رہ گیا۔جہاں رمضان کی برکات سے محروم رہنے والے پر جبرئیل امین علیہ السلام بددعا کر رہے ہیں اور نبی مکرم ﷺ آمین کہہ رہے ہیں وہاں والدین کی خدمت کرکے جنت نہ لینے والا ، نبی مکرم علیہ الصلاۃ والسلام پر درود بھیج کر مغفرت حاصل نہ کرنے والے پر بھی بددعا کی جارہی ہے کہ جب مغفرت کے اسباب موجود ہوں اور انسان محروم رہ جائے اس سے بڑی کم نصیبی کیا ہوگی۔ ترکی اورشام میں زلزے عالم اسلام کو ہلا کر رکھ گئے ہم اپنے آپ کو محفوظ سمجھ رہے تھے۔ مگر رمضان المبارک سے ایک دن پہلے زلزلے کی لہر پاکستان کے مختلف علاقوں کو متنبہ کر گئی۔ اللہ پاک آفات اور آزمائشوں سے محفوظ فرمائے یہ ماہ مبارک اپنے رب کی محبت اورتقویٰ کا پیغام دے کر جارہاہے ۔ انسانی نفس کی کمزوری اورناتوانی ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر کی ناک خاک آلود کر رہا ہے، ہمدردی اور غم خواری اخوت اسلامی کا عالمی پیغام دے رہا ہے تمام عبادات کی تہہ میں مقصد تقویٰ کا حصول ہے اور صف بندی ، اتحاد واتفاق کا مظہر باجماعت نماز ہے،حج عالمی مساوات کا اظہار ہے، روزہ عالمی اخوت ویگانگت کا مظہر ہے مگر اس ماہ مبارک میں بھی وطن عزیز میں پھیلی ہوئی افتراق، انتشار کی فضا میں کوئی کمی نہیں ہورہی۔

ارباب اقتدار اوراحزاب اختلاف باہم دست وگریباں ہیں۔ ملک کی اکثریت غربت کی چکی میں پس رہی ہے عجب حسن اتفاق ہے کہ امسال ماہ مبارک  اس روز شروع ہوا جس روز اہل وطن قرار داد پاکستان کی یاد منا رہے تھے۔ تئیس مارچ 1940ء جب لاہور میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک کی قرار داد مولوی فضل الحق نے مسلم لیگ کی طرف سے پیش کی نعرہ کیا تھا۔ مسلمانوں کی الگ ریاست جہاں اسلام کا نفاذ ہو جہاں دین دستور کی صورت میں ظاہر ہو پھر سات سال بعد یہ قرار داد عملی صورت کے ساتھ پاکستان کی شکل میں منصہ شہود پر ظہور پذیر ہوئی مگر وہ خواب جو ہندوستان کے لاکھوں مسلمانوں نے دیکھا اس کی تعبیر ابھی باقی ہے۔ اب ملک میں روٹی، کپڑے اورمکان کا جھگڑا ہے معیشت کی خرابی اورغربت وبدحالی کا چرچہ ہے، بدامنی اورافتراق کا دور دورہ ہے جس کا ایک ہی حل ہے کہ اس ماہ مبارک میں جب یہ ملک معرض وجود میں آیا تھا آج اپنے رب کی طرف رجوع کریں اس سے کیے ہوئے وعدے کو نبھانے کا عہد کریں بحیثیت مسلمان ہمارا یقین ہے کہ قرآن پاک اللہ کی سچی کتاب ہے اس کتاب میں اللہ ہم سے وعدہ فرما رہا ہے ۔

وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ

’’اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا۔‘‘(الأعراف:96)

اگر معیشت کا سدھار چاہتے ہیں ،بدامنی سے نجات مقصود ہے تو ایمان کے ساتھ تقویٰ اختیار کرنا ہوگا، تقویٰ کیا ہے؟ توحید باری تعالیٰ، اخلاق حسنہ، صلہ رحمی، اتباع رسول ، ظلم اور حقوق کی پامالی سے اجتناب، آخرت کی فکر اور اس کی تیاری بھی رمضان المبارک کا پیغام ہے ۔جس نے یہ مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی کامیاب ہوا ورنہ پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام متنبہ فرماگئے ہیں کتنے روزے دار ایسے ہیں جنہیں بھوک اور پیاس کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ باری تعالیٰ مقاصد صیام سمجھ کر ان کا حصول آسان فرمائے۔ وطن عزیز کی حفاظت فرمائے اور اس کی حفاظت میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والوں کی قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین

العربیۃ بین الأصالۃ والمعاصرۃ

بلوچستان میں فورسز پر حملے، کیپٹن سمیت پانچ جوان شہید۔

تھانے ،ناکے، چوکیاں نشانے پر، دہشتگرد امن خوشحالی کو سبوتاژ نہیں کر سکتے۔فوجی ترجمان

مذموم عزائم ختم کرنے کے لئے پر عزم۔

صدر کا شہدا کو خراج عقیدت۔ دہشت گردوں کے عزائم خاک میں ملا رہے ہیں

اَلْهُجُوْمُ عَلَى الْقُوَّاتِ بِإِقْلِيْمِ بَلُوْشِسْتَانَ، اِسْتِشْهَادُ جُنُوْدٍ بِمَا فِيْهِمُ النَّقِيْبُ.
اِسْتِهْدَافُ مَرَاكِزِ الشُّرْطَةِ، وَالْحَصَارَاتِ وَنُقَاطِ التَّفْتِيْشِ. قَالَ الْمُتَحَدِّثُ بِاسْمِ النَّاطِقِ لِلْجَيْشِ الْبَاكِسْتَانِيِّ:
لَا سَبِيْلَ لِلْإِرْهَابِيِّيْنَ لِتَدْمِيْرِ السَّلَامِ وَالْاِزْدِهَارِ.
نَحْنُ مُصَمِّمُوْنَ لِلْقَضَاءِ عَلَى النَّوَايَا الشَّرِيْرَةِ.
رَئِيْسُ الدَّوْلَةِ يُوَجِّهُ تَحِيَّةً لِلشُّهَدَاءِ.
نُدْفِنُ طَمُوْحَاتِ الْإِرْهَابِيِّيْنَ تَحْتَ التُّرَابِ.

شرح الكلمات

القوات:فورسز

النقيب: كیپٹن

استهداف: نشانہ بنانا

نقاط التفتیش:چوکیاں

تدمیر:تباہ کرنا/خراب کرنا

النوايا الشريرة: مذموم عزائم

تحية :خراج عقيدت

۔۔۔

عدم برداشت پر خلا کیسز میں 20 فیصد اضافہ۔

لاہور کی عدالتوں میں ساڑھے چودہ ہزار کیسز دائر۔

12ہزار خواتین خلع کی اجازت۔

قانونی ماہرین کے مطابق میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کی بڑی وجہ عدم برداشت اور ذہنی ہم آہنگی کا نہ ہونا ہے۔

رواں برس لاہور کی فیملی عدالتوں میں خلع کے لئے روزانہ 39 درخواستیں دائر ہوئیں ۔

تَزَايَدُ ٢٠٪ فِي طَلَبَاتِ حَالَاتِ الْخُلْعِ.
تَمَّ رَفْعُ ١٤٥٠٠ قَضَايَا إِلَى مَحَاكِمَ لَاهُوْر.
سُمِحَتْ ١٢٠٠ إِمْرَأَةٍ بِشَأْنِ الْخُلْعِ.
وِفْقًا لِلْخُبَرَاءِ الْقَانُوِنِيِّيْنَ أَنَّ عَدَمَ التَّسَامُحِ وَعَدَمَ الْاِنْسِجَامِ مِنْ أَكْبَرِ الْأَسْبَابِ لِلْاِنْفِصَالِ بَيْنَ الزَّوْجَيْنِ.
تَمَّ رَفْعُ ٣٩ طَلَبَاتِ الْخُلْعِ يَوْمِيًّا فِي الْمَحَاكِمِ الْأُسَرِيَّةِ خِلَالَ السَّنَةِ الْجَارِيَةِ.

شرح الكلمات

تزايد:اضافہ

حالات الخلع:خلع کی کیسز

محاکم: عدالتیں

الخبراء القانونیون:ماہرین قانون

عدم التسامح:عفودر گزر نہ کرنا

الانسجام:ذہنی ہم آہنگی

الانفصال: علیحدگی

المحاکم الأسرية:فیملی عدالتیں

۔۔۔

دہشت گردوں کے خلاف بڑے آپریشن کا فیصلہ ہوگیا۔

آپریشن کی اسٹریٹجی تیار کی جارہی ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔

افغان حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔

ہم اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے ہر دروازے پر دستک دیں گے۔

تَمَّ اِتِّخَاذُ الْقَرَارِ بِشَأْنِ الْعَمَلِيَّاتِ الْعَسْكَرِيَّةِ ضِدَّ الْإِرْهَابِيِّيْنَ بِشَكْلٍ كَبِيْرٍ.
تَخْطِيْطُ إِسْتَرَاتِيْجِيَّةِ الْعَمَلِيَّةِ الْعَسْكَرِيَّةِ تَحْتَ الْإِعْدَادِ.
قَالَ وَزِيْرُ الدِّفَاعِ الْبَاكِسْتَانِيِّ خَوَاجَه آصِفْ: أَنَّ أَرْضَ أَفْغَانِسْتَانَ تُسْتَخْدَمُ ضِدَّ بَاكِسْتَانَ.
وَأَضَافَ قَائِلًا فِي الْبَرْنَامِجِ التِّلْفِزْيُوْنِي اَلْمَحَلِّيْ أَنَّ الْحُكُوْمَةَ الْأَفْغَانِيَّةَ وَافَقَتْ عَلَى عَدَمِ اسْتِخْدَامِ أَرَاضِيْهَا ضِدَّ بَاكِسْتَانَ.
نَحْنُ عَلَى تَوَاصُلٍ مُسْتَمِرٍّ مَعَ أَفْغَانِسْتَانَ.
نَطْرُقُ كُلَّ بَابٍ لِجَلْبِ التَّوَافُقِ فِي الْآرَاءِ.

شرح الكلمات

بشکل کبیر : بڑے پیمانے پر

تحت الإعداد:تیاری کے مرحلے میں

التواصل المستمر: مسلسل رابطہ

التوافق فی الآراء:اتفاق رائے

۔۔۔

جید علماء نے پاکستان میں مسلح جدوجہد حرام قرار دے دی۔

ہماری ریاست اور دستور اسلامی ہے۔

ٹی ٹی پی نے ہمارے سامنے آئندہ ہتھیار نہ اٹھانے کی بات کی تھی۔

بجلی کی فراہمی معطل ۔اربوں کا نقصان۔

صدر عارف علوی کی سویڈن میں توہین قرآن کی مذمت۔

أَفْتَى الْعُلَمَاءُ الْكِبَارُ بِتَحْرِيْمِ الْكِفَاحِ الْمُسَلَّحِ ضِدَّ بَاكِسْتَانَ.
وَطَنُنَا وَدَسْتُوْرُنَا مُوَافِقَانِ لِلْإِسْلَامِ.
قِيَادَةُ حَرَكَةِ طَالِبَانَ تَحَدَّثَتْ عَنْ عَدَمِ حَمْلِ السِّلَاحِ فِي الْمُسْتَقْبَلِ.
دَانَ رَئِيْسُ بَاكِسْتَانَ عَارِف عَلَوِي عَمَلِيَّةَ إِهَانَةَ الْقُرْانِ بِالسُّوَيْدِ.

شرح الكلمات

الکفاح المسلح:مسلح جدوجہد

حمل السلاح:ہتھیار اٹھانا

دان: مذمت کی

۔۔۔

تَشْهَدُ مُعْظَمُ الْمَنَاطِقِ فِي أَفْغَانِسْتَانَ مُوْجَاتِ بَرْدٍ قَاسِيَةٍ.
وَصَلَتْ فِي بَعْضِ الْمَنَاطِقِ إِلَى دَرَجَةِ 30 تَحْتَ الصِّفْرِ. وَسَطَ اِنْقِطَاعِ التَّيَّارِ الْكَهْرُبَائِيِ مُنْذُ أَكْثَرَ مِنْ أُسْبُوْعٍ.

افغانستان کے زیادہ تر علاقوں میں سردی کی شدید لہریں۔بعض علاقوں ایک ہفتے سے زیادہ سے بجلی کی بندش کے دوران درجہ حرارت منفی 30 کو پہنچ گیا۔

شرح الكلمات

تشهد:سامنا کررہے ہیں

معظم المناطق:زیادہ تر علاقے

موجات برد قاسية:شدید سردی کی لہریں

انقطاع التیار الکهربائي:بجلی کی بندش

۔۔۔

عَقَدَ أَمِيْرُ دَوْلَةِ قَطْر، الشيخ تميم بن حمد آل ثاني، اَلْيَوْمَ الْأَرْبِعَاءَ، لِقَاءً مَعَ الْعَاهِلِ الْأُرْدُنِي عَبْدِ اللهِ الثَّانِي فِي الدَّوْحَةِ، لِبَحْثِ الْعَلَاقَاتِ الثُّنَائِيَّةِ وَآخِرِ التَّطَوُّرَاتِ الْإِقْلِيْمِيَّةِ وَالدُّوَلِيَّةِ بِمَا فِيْهَا قَضِيَّةُ فِلَسْطِيْن.

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے آج بدھ کو اردنی فرماںروا عبداللہ ثانی سے دوحہ میں ملاقات کی، ملاقات میں میں دوطرفہ تعلقات کے علاوہ خطے اور بین الاقوامی تازہ ترین پیش رفت کے علاوہ مسئلہ کشمیر پر بھی بات ہوئی۔

شرح الكلمات

العاهل الأردني:اردنی فرماں روا ں

العلاقات الثنائية:دو طرفہ تعلقات

آخر التطورات: تازہ ترین پیش رفت

قضیة فلسطين:مسئلہ فلسطین

۔۔۔

نُوَجِّهُ عِنَايَةَ مُسْتَمِعِيْ إِذَاعَةَ بِيْ بِيْ سِيْ نِيُوْز عَرَبِي إِلَى أَنَّ بَثَّ الْإِذَاعَةَ سَيَتَوَقَّفُ تَدْرِيْجِيًّا خِلَالَ الْأَسَابِيْعِ الْقَادِمَةِ تَمْهِيْدًا لِوَقْفِ الْبَثِّ تَمَامًا قَبْلَ نِهَايَةِ شَهْرِ يَنَايِر /كَانُونُ الثَّانِي.

ہم بی بی سی عربی نیوز (براڈ کاسٹنگ) سننے والوں کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ ریڈیو نشریات آنے والے ہفتوں کے دوران رک جائے گی جو کہ نشریات کو ماہ جنوری سے مکمل طور پر روکنے کے لیے پیش خیمہ ہے۔

شرح الكلمات

تدريجيا:رفته رفتهس

خلال: کے دوران

الأسابيع القادمة:آنے والے ہفتے

بث الإذاعة:ریڈیو نشریات

آہ! مولانا شفیق الرحمن فرخ رحمۃ اللہ علیہ

علماء کرام روشنی کے ایسے بلند و بالا مینار ہوتے ہیں جن کے نفوس قدسیہ سے علم و عرفان کی ضیاء پاشیوں سے بھٹکے ہوئے قافلوں کو اپنی حقیقی منزل کی راہ نظر آتی ہے. اور علماء کرام آفتاب نبوت کی وہ روشن کرنیں ہیں جو اس بزم حیات کو منور رکھتی ہیں. گلستان نبوت کے وہ قیمتی پھول ہیں جن کی خوشبوئیں انسانی دل، روح اور دماغ کو علم و عمل، تقوی اور نیکی کی مہک پہنچاتی ہیں. جب علم و عمل کے یہ چراغ بجھ جائین گے تو اس دنیا پر جہالت کے سیاہ بادل چھا جائیں گے. اور پھر انسانی کارواں کی لگام جہلاء کے ہاتھوں میں ہوگی جو انسانوں کو جہالت کے تاریک کنووں میں پھینک دیں گے۔

اما م عبیداللہ بن جعفر کہا کرتے تھے: علماء دنیا کےلیے روشنی کے مینار ہیں انہی سے وہ نور پھوٹتا ہے جس سے گمراہ ہدایت پاتے ہیں۔( فضیلت العلم ص 540 اردو از عبدالرزاق ملیح آبادی)

اولا تو یہ علمی شخصیات بہت ہی کم پیدا ہوتی ہیں اور جو ہیں وہ بھی رفتہ رفتہ اس بزم جہاں سے رخصت ہورہی ہیں. جن کا خلا پُر ہونا مشکل ہی نظر آتا ہے. جیسا کہ گذشتہ دنوں جماعت کی بہت ہی علمی شخصیات یکے بعد دیگرے اس بزم جہاں سے رخصت ہوگئی ہیں جن کا خلا پر ہونا ممکن نہیں ہے۔

کل جس وقت سے اپنے دور طالب علمی کے زمانے کے ساتھی مولانا شفیق الرحمن فرخ صاحب کی وفات کی خبر سنی ہے دل پریشان اور مغموم ہے۔ مولانا فرخ صاحب بھی ہمارے دور طالب علمی کے ساتھی تھے آپ بڑی کلاسوں میں پڑھتے تھے جبکہ راقم الحروف چھوٹی کلاس کا طالب علم تھا۔ لیکن جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کا وہ عروج کا بھرپور دور تھا جہاں بڑے بڑے اساتذہ کرام جو کہ اپنے اپنے فن میں یکتا تھے اور طلباء کو کچھ بنا جانے کا ہنر جانتے تھے اور اپنی علمی صلاحیتوں کی بنا پر مشہور و معروف بھی تھے۔ بانی جامعہ و ہمارے مربی پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی کوشش ہوا کرتی تھی کہ وہ ملک بھر سے چن چن کر اساتذہ کرام کو جامعہ میں لاتے اور ان کی صلاحیتوں سے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کو چار چاند لگانے کی کوشش کرتے تھے۔ کیونکہ اس دور میں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں حصول علم کے لیے اکناف عالم سے تشنگان علوم دینیہ وطن عزیز پاکستان کا رخ کرتے تھے۔ اور ہمارے مربی و شیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی کوشش ہوا کرتی تھی کہ ان متلاشیان علوم نبوت کی تعلیم و تربیت کے لیے اچھے سے اچھے اساتذہ کرام ہونے چاہئیں۔

مولانا شفیق الرحمن فرخ صاحب نے بھی اس دور میں یہاں سے کسب فیض کیا اور جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی سے فراغت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کراچی یونیورسٹی سے ایم اے صحافت بھی کیا۔ فراغت کے بعد انہوں نے اپنی تعلیمی، تدریسی، تصنیفی اور تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز لاہور کو بنایا۔ جامعہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ لاہور میں تدریس کرتے رہے اور اس جامعہ کے مجلہ ’’ندائُ الجامعہ‘‘ کے مدیر بھی رہے۔ آپ نے تدریس کے ساتھ ساتھ تصنیف کے میدان میں بھی خوب کام کیا۔ آپ سے کسب فیض حاصل کرنے والوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔

آپ کی بیماری کا کافی عرصے سے سن رہے تھے۔ آپ کے لخت جگر نے گردہ بھی آپ کو دیا تاکہ آپ صحت مند زندگی بسر کرسکیں۔ گردے کا ٹرانسپلانٹ بھی ہوگیا اور دوسرے آپریشن کے بعد آپ کی طبیعت سنبھل نہ سکی اور بالآخر وہ وقت آہی گیا جس سے کسی کو مفر نہیں ہے۔

علماء/معلمین کا مقام و مرتبہ

معلم / استاذ کا مقام بہت بلند ہے. جناب رسول اکرم ﷺنے اپنے بارے ارشاد فرمایا:

بُعِثْتُ مُعَلِّمًا ( سنن ابن ماجه )

’’میں معلم بنا کر مبعوث کیا گیا ہوں۔‘‘

دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

 بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ (مؤطا إمام مالك)

میری بعثت کا مقصد یہ ہے کہ لوگون کو اچھے اخلاق کی تعلیم دوں.

نیز آپ نے ارشاد فرمایا:

خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ (صحیح البخاری و جامع الترمذی)

تم میں سے بہترین انسان وہ ہے جو خود قرآن مجید پڑھتا ہے اور پھر دوسروں کو پڑھاتا ہے.

آپ کا ارشاد گرامی ہے کہ:

وَإِنَّ الْعَالِمَ يسْتَغْفر لَهُ من فِي السَّمَوَات وَمَنْ فِي الْأَرْضِ وَالْحِيتَانُ فِي جَوْفِ الْمَاءِ(جامع الترمذي)

’’بے شک عالم (استاد کے حق میں دنیا کی ہر شے دعاگو ہوتی ہے حتی کہ سمندر کی مچھلیاں بھی۔‘‘

علم حاصل کرنا نیکی کا کام ہے. مگر بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی دوسروں کو علم سے بہرہ ور بنائے. معلم کا درجہ متعلم کے درجے سے بہرحال افضل ہے. آپ نے استادوں کو نصیحت کی کہ جو لوگ حصول علم کیے اساتذہ کے پاس آئین تو اساتذہ کا فرض ہے کہ وہ ان کے ساتھ خوش خلقی سے پیش آئیں. آپ نے ارشاد فرمایاکہ:

وَاسْتَوْصُوا بِهِمْ خَيْرًا (جامع الترمذی)

اساتذہ کرام بہرحال اشاعت علم کرتے ہیں. انتہائی ناسازگار حالات میں بھی وہ اشاعت علم کے فریضہ سے غافل نہیں ہوتے۔

اساتذہ کرام معلم اور وارث انبیاء کرام علیہم السلام ہیں. وہ مخلوق خدا کو ہدایت الہی اور علم دین سے واقف کراتے ہین. بہرکیف ان علماء و اساتذہ کی کوششوں اور مساعی کا مرکزی نقطہ مسلمان معاشرے مین اسلامی اقدار حیات اور معاشرتی آداب کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ علوم دینیہ کی کی تعلیم تھا. اسی مقصد کےلیے وہ عمر بھر کوشاں رہتے ہیں. اور اپنے پیچھے درخشاں مثالیں چھوڑ جاتے ہین. تاریخ اسلام کے صفحات ان معلمین و مدرسین کی روشن مثالون سے بھرے پڑے ہیں.

علماء کا اٹھ جانا

علماء کرام کا اٹھ جانا علامات قیامت میں سے ہے. ہمارے دیکھتے دیکھتے کتنے ہی علماء اس دنیا فانی سے رخصت ہوگئے. اور ان کی مسند کا کوئی حقیقی جانشین پیدا نہ ہوسکا. جہالت اور تاریکی بڑھ رہی ہے. علماء کے اٹھ جانے سے علم ختم ہوتا جارہا ہے. یہی بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھی.

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ لاَ يَقْبِضُ العِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ العِبَادِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ العِلْمَ بِقَبْضِ العُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا» (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب العلم، باب کيف يقبض العلم، 1/ 50، الرقم/ 100، ومسلم في الصحيح، کتب العلم، باب رفع العلم وقبضه وظهور الجهل والفتن في آخر الزمان، 4/ 2058، الرقم/ 2673، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/ 162، الرقم/ 6511، والترمذي في السنن، کتاب العلم، باب ما جاء في ذهاب العلم، 5/ 31، الرقم/ 2652، والدارمي في السنن، 1/ 89، الرقم/ 239)

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعاليٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اسے بندوں (کے سینوں) سے کھینچ لے بلکہ علماء کو اٹھا لینے سے علم کو اٹھا لے گا،یہاں تک کہ جب کوئی عالم نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا امیر بنا لیں گے۔ ان سے مسائل پوچھے جائیں گے تو وہ بغیر علم کے فتويٰ دیں گے(نتیجتاً) خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: أَنْ يُرْفَعَ العِلْمُ وَيَثْبُتَ الجَهْلُ، وَيُشْرَبَ الخَمْرُ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ علم اٹھ جائے گا اور جہالت پھیل جائے گی،اور شراب سرعام پی جائے گی اور زنا(بدکاری) عام ہوجائے گی۔‘‘

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَا ذَهَابُ الْعِلْمِ؟» قَالَ: «هُوَ ذَهَابُ الْعُلَمَاءِ مِنَ الأَرْضِ» (مسند أحمد)

سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ علم کس طرح سے ختم ہوگا؟ہم نے کہا کہ نہیں!انہوں نے فرمایاکہ زمین سے علماء کے اٹھ جانے سے۔‘‘

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: «مَا لِي أَرَى عُلَمَاءَكُمْ يَذْهَبُونَ وَجُهَّالَكُمْ لَا يَتَعَلَّمُونَ؟ تعلَّموا قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ، فَإِنَّ رَفْعَ الْعِلْمِ ذَهَابُ الْعُلَمَاءِ» ( سنن الدارمی، ضعيف)

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا وجہ ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں تمہارے علماء اٹھتے چلے جارہے ہیں اور جاہل علم حاصل نہیں کرتے؟

علم سیکھ لو قبل اس کے کہ علم اٹھا لیا جائے علم کا اٹھنا علماء کا ( دنیا سے ) سے اٹھ جانا ہے۔‘‘

حضرت حسن بصری نے کہا کہ سلف کہا کرتے تھے:

«مَوْتُ الْعَالِمِ ثُلْمَةٌ فِي الْإِسْلَامِ لَا يَسُدُّهَا شَيْءٌ مَا اخْتَلَفَ الليْلُ وَالنَّهَارُ» ( سنن الدارمی)

عالم کی موت اسلام میں پڑنے والا ایسا شگاف ہے جسے کوئی بھی شے پُر نہیں کرسکتی۔

یقیناً مولانا شفیق الرحمن فرخ صاحب کی وفات بھی جماعت کے لیے ایک بڑا خلا ہے کیونکہ ایسے علماء بہت کم ہوتے ہیں جو بیک وقت مدرس، معلم، مصنف اور مبلغ بھی ہوں۔ اور آپ میں یہ سب خوبیاں موجود تھیں۔

آپ کا جنازہ استاذ العلماءفضیلۃ الشیخ الحافظ العلامہ مسعود عالم صاحب حفظہ اللہ نے آپ کے آبائی شہر چھانگا مانگا میں پڑھایا جس میں علماء کرام جن میں سرفہر ست فضیلۃ الشیخ الحافظ محمد شریف حفظہ اللہ، فضیلۃ الشیخ قاری صہیب میر محمدی حفظہ اللہ ، فضیلۃ الشیخ عطاء اللہ ساجد حفظہ اللہ اور فضیلۃ الشیخ ابو نعمان بشیر احمد حفظہ اللہ کے علاوہ کثیر تعداد میں علماء وطلباء نے شرکت کی اور آپ کی مغفرت کے لیے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے دعائیں کیں۔

اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ.

پھول اور اسکے احکام

پھول ایک خوبصورت، خوشبودہ اور دل کو بھا جانے والی چیز ہے، پھولوں کا انسانوں سے ایک گہرا تعلق ہے۔ لہذا سوچا کہ پھولوں کے حوالے سے کچھ خصائص و احکام آپ کی خدمت میں پیش کیے جائیں۔ لہذا ملاحظہ فرمائیں۔

{1} قرآن کی دو سورتیں پھول کی مانند ہیں

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

اقْرَؤُا الْقُرْآنَ فَإِنَّهٗ یَأْتِيْ شَافِعًا لِأَصْحَابِهِ، اقْرَؤُوا الزَّھْرَاوَیْنِ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا یَأْتِیَانِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ کَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ غَیَابَتَانِ أَوْفِرْقَانِ مِنْ طَیْرٍ صَوَافَّ یُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِھَا، اقْرَؤُا الْبَقَرَةَ فَإِنَّ أَخْذَھَا بَرَکَةٌ، وَتَرْکَھَا حَسْرَةٌ، وَلَا یَسْتَطِیْعُھَا الْبَطَلَةُ.

قرآن پڑھو، یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت کرے گا۔دو پھولوں:(سورۃ)البقرۃ اور(سورۃ)آل عمران کی تلاوت کرو۔یہ دونوں قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے پر دو بادل یا سایہ کرنے والے یا پرندوں کی دو سایہ دار ٹولیوں کی شکل میں آئیں گی اور اپنے پڑھنے والے کا دفاع کریں گی۔ (صحیح مسلم : 804)

{2} قرآن پڑھنے اور نہ پڑھنے والے کی مثال

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا :

مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْأُتْرُجَّةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لَا رِيحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ .

اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو سنگترے جیسی ہے جس کی خوشبو بھی پاکیزہ ہے اور مزہ بھی پاکیزہ ہے اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور جیسی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی لیکن مزہ میٹھا ہوتا ہے اور منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو، ریحانہ ( پھول ) جیسی ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہوتی ہے لیکن مزہ کڑوا ہوتا ہے اور جو منافق قرآن بھی نہیں پڑھتا اس کی مثال اندرائن جیسی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی اور جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے۔ ( صحیح بخاری : 5427 )

{3} حسنین کریمین دو پھول ہیں

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :

إِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا .

’’حسن اور حسین رضی الله عنہما یہ دونوں میری دنیا کے پھول ہیں۔‘‘ (سنن ترمذی : 3770 )

{4} بیوی پھول ہے

سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ :

سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَيُقَبِّلُ الصَّائِمُ؟ فَقَالَ: وَمَا بَأْسٌ بِذَلِكَ رَيْحَانَةٌ يَشُمُّهَا.

 رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کیا روزہ دار بیوی کو بوسہ دے سکتا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اس میں کوئی حرج نہیں وہ ایک پھول کو سونگھ رہا ہے۔‘‘( معجم الصغیر طبرانی : 360 )

{5} پھول کا تحفہ لوٹانا

سیدنا ابوھریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

 مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ رَيْحَانٌ فَلَا يَرُدُّهُ، فَإِنَّهُ خَفِيفُ الْمَحْمِلِ طَيِّبُ الرِّيحِ.(صحیح مسلم : 5883 )

’’ جس شخص کو ریحان ( خوشبودار پھول یا ٹہنی ) دی جائے تو وہ اسے مسترد نہ کرے کیونکہ وہ اٹھانے میں ہلکی اور خوشبو میں عمدہ ہے ۔‘‘

{6} صحابہ کرام کے باغات میں پھول کی پیداوار

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسا باغ تھا جس میں سال میں دو مرتبہ پھل لگتا تھا،

وَكَانَ فِيهَا رَيْحَانٌ كَانَ يَجِيءُ مِنْهُ رِيحُ الْمِسْكِ.

ور اس میں ایک پھول تھا جس سے مشک کی خوشبو آتی تھی۔(جامع ترمذی: 3833)

{7} پھولوں کا تحفہ پیش کرنا

ایک دوسرے کو تحفے تحائف دینا اچھی عادت ہے اور اس سے محبت بڑھتی ہے شریعت میں تحفے دینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے:ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو تم آپس میں محبت کرنے لگو گے۔‘‘(الادب المفرد للبخاری:594،حافظ ابن حجر فرماتے ہیں اس کی سند حسن ہے التلخیص الحبیر 3/75)

اسی طرح بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے لیے ہدیہ بھیجنا ہرگز حقیر نہ سمجھے اگرچہ بکری کا ایک کھر ہی ہو۔

بخاری شریف میں ایک حدیث کے اندر ہے،آپ نے فرمایا:اگر مجھے دستی ہدیہ دی گئی تو میں قبول کروں گا۔(التلخیص الحبیر 3/70)

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ہدیہ واپس نہ کرو۔‘‘(مسند احمد،ابو یعلی)

مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہدیہ و تحفہ لینا یا دینا محبت کا باعث ہوتا ہے۔لہذا پھولوں کا گلدستہ ہو یا کوئی کھانے پینے کی حلال چیز وغیرہ ایسے تحفے دینے میں کوئی قباحت نہیں ہے اور نہ ہی اس میں یہود کی مشابہت ہے،مشابہت سے مراد کسی قوم کے شعار و مخصوص طرز کو اپنانا ہوتا ہے جس کی اسلام میں اجازت نہ ہوجیسا کہ بعض دین دشمن 14 فروری کو محبت کا دن مناتے ہوئے پھول کا تحفہ پیش کرتے ہیں ایسا کرنا کفار سے مشابہت ہوگی۔[ تفہیم دین از مبشر احمد ربانی ص : 378 ]

{8} جنازے کے آگے پھولوں کے سہرے

شیخ ناصر دین البانی رحمہ اللہ نے جن اعمال کو بدعات قرار دیا ہے ان میں یہ بھی شامل ہیں ؛ پھولوں کے سہرے، پھول اور میت کی تصویر اٹھا کر جنازے کے آگے آگے چلنا۔[ ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۱۳/ ۴۴)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۹۹/ ۴۴ ]

{9} فوتگی کے تیسرے دن پھول تقسیم کرنا

اللہ تعالیٰ کے نام پر بے رسم و ریاء کھانا تقسیم کرنا اور میت کو ثواب پہنچانا بہت بڑا ثواب ہے اور از خود دن مقرر کرنا محض بے اصل ہے اور تیسرے دن پھول تقسیم کرنا بھی شریعت میں نیا کام ہے۔‘‘[ سفر آخرت از مفتی محمد عبد اللہ عفیف ص : 186 ]

ابن باز رحمہ اللّٰہ نے میت کے گھر والوں کو سیاہ پھول پیش کرنے کو بھی ناجائز قرار دیا ہے۔[ فتاویٰ ابن باز ص : 336 ]

{10} قبروں پر پھول اور چادریں چڑھانا

اولیا اور صالحین کی قبروں پر پھول، چادریں چڑھانا عجمی تہذیب کا شاخسانہ اور قبیح بدعت ہے۔

علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ (855ھ)بھی لکھتے ہیں :

کَذٰلِکَ مَا یَفْعَلُهٗ أَکْثَرُ النَّاسِ مِنْ وَّضْعِ مَا فِیهِ رَطُوبَةٌ مِنَ الرَّیَاحِینَ وَالْبُقُولِ وَنَحْوِهِمَا عَلَی الْقُبُورِ، لَیْسَ بِشَيْئٍ، وَإِنَّمَا السُّنَّةُ الْغَرْزُ ۔

’’اسی طرح اکثر لوگ قبروں پر جو پھول اور سبزیوں وغیرہ جیسی تر چیزیں رکھتے ہیں ، بے فائدہ اور بے بنیاد ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا طریقہ تو (ٹہنیوں کو) گاڑنے کا تھا۔‘‘(عمدة القاري : 3/121)

معلوم ہوا کہ قبروں پر پھول چڑھانا بے دلیل بلکہ لغو اور عبث ہے۔ اس کے حرام وناجائز اور بدعت سیئہ ہونے میں شبہ نہیں ۔

قبروں پر کپڑے‘پھولوں کی چادریں اور غلاف چڑھانے کے بارے میں ارشادِ رسالتِ مآب ﷺ ہے:

اِنَّ اللّٰهَ لَمْ یَا مُرْنَااَنْ نَّکْسُوْا الْحِجَارَةَ وَالطِّیْنَ.(صحیح مسلم)

’’اللہ نے ہمیں پتھر اور مٹی کو لباس پہنانے کا حکم نہیں دیا۔‘‘

{11} قبر پر پھول کی پتیاں بکھیرنا

جب انسان دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو اس کے ہر قسم کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، پھولوں کی پتیاں بکھیرنے کا مقصد صرف میت کو نفع پہنچانا ہے تو ایسا کرنا ایک فضول حرکت ہے اور قبر پر یا اس کے ارد گرد دال اور چاول ڈالنا بھی اسی قبیل سے ہے۔

ہمارے رحجان کے مطابق میت کے عزیز جب پھول کی پتیاں بکھیرتے ہیں، تو اس سے مقصود محض اپنے جذبات کا اظہار ہے کہ ہمیں میت سے بہت محبت ہے، اگر واقعی ایسا ہے تو انہیں وہ کام کرنے چاہیے جن سے میت کو فائدہ پہنچتا ہو، محض جذبات کا اظہار کافی نہیں۔ ویسے بھی رسول اللہ ﷺ نے اس طرح مال کو ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے۔

جیسا کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مال کو ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے۔[بخاری،الادب:۵۹۷۵]

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدناعبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی قبر پر خیمہ نصب دیکھا تو وہاں مامور غلام سے کہا کہ اسے اکھاڑ دو، میت کو اس کے اعمال کا سایہ ہوگا۔[ صحیح بخاری، الجنائز، باب:۸۱ ]

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس بات سے آگاہ تھے کہ مرنے کے بعد اس طرح کے ظاہری اعمال میت کو کوئی فائدہ نہیں دیتے، انسان کو اپنا ذاتی کردار ہی فائدہ دے سکتا ہے۔ البتہ رسول اللہ ﷺ نے چند کاموں کی نشاندہی ضرور کی ہے جو مرنے کے بعد میت کے لیے سود مند ہو سکتے ہیں۔[ فتاویٰ اصحاب الحدیث جلد پنجم ص 148 ]

{12} کپڑوں پر پھولدار نقشیں بنانا

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ :

نَهَانِی رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِیثَرَةِ وَعَنِ الْقَسِّیَّةِ قُلْنَا لَهُ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَأَیُّ شَیْئٍ الْمِیثَرَةُ؟ قَالَ: شَیْئٌ یَصْنَعُهُ النِّسَائُ لِبُعُولَتِهِنَّ عَلٰی رِحَالِهِنَّ، قَالَ قُلْنَا: وَمَا الْقَسِّیَّةُ؟ قَالَ ثِیَابٌ تَأْتِینَا مِنْ قِبَلِ الشَّامِ مُضَلَّعَةٌ فِیهَا أَمْثَالُ الْأُتْرُجِّ، قَالَ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَلَمَّا رَأَیْتُ السَّبَنِیَّ عَرَفْتُ أَنَّهَا هِیَ.

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے میثرہ اور قسی سے منع فرمایا ہے۔ لوگوں نے پوچھا: اے امیر المومنین! میثرہ کیا چیز ہوتی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ (ریشمی گدیلے) ہوتے ہیں، جو عورتیں اپنی رہائش گاہوں میں اپنے خاوندوں کے لیے بناتی ہیں، ہم نے کہا: قسی کیا چیز ہوتی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ شام کی طرف سے ہمارے ہاں ایک پھول دار (ریشمی) کپڑا لایا جاتا ہے، اس میں نارنگی کی مانند بیل بوٹے بنائے جاتے تھے، ابو بردہ کہتے ہیں: جب میں نے سبن علاقہ کے بنے ہوئے کپڑے دیکھے تو میں جان گیا کہ وہ یہی ہیں۔[ مسند احمد : 7947 ]

{13} محرم کا پھول سونگھنا

پھول یا کسی بُوٹی کی خوشبو سونگھنا،دانت داڑھ نکلوانا،مرہم پٹی کروانا،ٹوٹے ہوئے ناخن کو اتار کر پھینکنا قابل ِمواخذہ نہیں ہے۔ (بخاری، مؤطا مالک،بیہقی، محلّیٰ ، فقہ السنہ ۱؍۶۶۷)

{14} پھولوں سے جادو کا علاج

فتح الباری ہی میں یہ علاج بھی لکھا ہے کہ مریض موسمِ بہار میں جنگلوں، بیابانوں اور باغوں میں سے جتنے پھول جمع کرسکے ، انھیں ایک صاف برتن میں ڈال کر اس برتن کو پانی سے بھرلے، پھر اس پانی کو تھوڑا سا ابال لے، جب وہ ٹھنڈا ہوجائے تو اس پر مُعوِّذات پڑھ کر دَم کرے اور اس سے غسل کرے۔ اِنْ شآء اللّٰہ تندرست ہوجائے گا۔[ فتح الباری (۱۰/ ۲۳۴) ]

{15} معتکف کا پھولوں کا ہار پہننا

اعتکاف سے فراغت کے بعد معتکف کو اعتکاف گاہ سے پروٹوکول کے ساتھ نکالاجائے ،اس کے گلے میں ہار پہنائے جائیں اورجلوس کی شکل میں اسے گھر پہنچایا جائے، شنید ہے کہ بعض مقامات پرمعتکف حضرات کی یادگار تصاویر بھی بنائی جاتی ہیں۔ دین اسلام میں ایسے کاموں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اعتکاف کامقصد یہ ہے کہ دل کااللہ تعالیٰ کے ساتھ رابطہ ہوجائے ،اس کے ذریعہ سکون وطمانیت میسرآجائے ،معتکف کو گناہوں سے نفرت اورامورخیر سے محبت ہو،اگر دوران اعتکاف یہ چیزیں حاصل ہوجائیں تو ایسے انسان کوقطعاًضرورت نہیں ہے کہ وہ فراغت کے بعد اپنے گلے میں پھولوں کے ہار پہنے یالوگوں کی مبارک بادوصول کرے، بلکہ اسے چاہیے کہ فراغت کے بعد چپکے سے اپنابستر کندھے پررکھے اورسادگی کے ساتھ اپنے گھر روانہ ہوجائے۔گلے میں ہار پہنانے اورگلے ملنے سے ریاکاری اور نمائش کااندیشہ ہے، پھرایسا کرنا اسلاف سے ثابت بھی نہیں ہے۔[ فتاویٰ اصحاب الحدیث ج دوم ص 241 ]

{16} حاجی کو پھولوں کا ہار پہنانا

حجاج کا استقبال کرنا شرعاً جائز ہے۔[ فتح الباری3/460 ] لیکن نمود و نمائش اور ریا کاری سے پاک ہونا چاہیے اور قبولیت کی دعا دینا بھی اچھی تمنا کا اظہار ہے، بظاہر اس میں بھی کوئی حرج نہیں، حاجی کو پھولوں اور روپوں کے ہاروں سے لاد دینا اسی زمرے میں آتا ہے۔[ فتاویٰ ثنائیہ جلد سوم ص : 357 ]

{17} عورتوں کا پاؤں میں پھول کا کڑا پہننا

عورتوں کو پھول کا کڑا پہننا، اس کے منع کے بارے میں کوئی آیت یا صحیح حدیث وارد نہیں ہے تو حسبِ آیتِ کریمہ:

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَةَ اللّٰهِ الَّتِيْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ [الاعراف: 32]

’’تو کہہ کس نے حرام کی الله کی زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی‘‘اس کا پہننا جائز ہوگا۔ و اللّٰه أعلم بالصواب۔[ مجموعہ فتاویٰ ص : 691 ]

{18} مسجدوں کو پھولوں سے سجانا

مسجدوں میں چراغ جلانے، بجلی کے قمقمے لگانے، جھنڈے لہرانے اور تزئین و آرائش کے لیے عیدوں اور دیگر موقعوں پر پھول سجانے میں کفار کے ساتھ مشابہت بھی تو ہے۔ وہ بھی تو اپنے گرجوں اور مندروں میں ایسا ہی کرتے ہیں اور نبی کریم ﷺ نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ہم کافروں کی عیدوں اور عبادتوں میں ان کے ساتھ مشابہت اختیار کریں۔[ فتاویٰ اسلامیہ جلد دوم ص : 551 ]

{19} بارات پر لڑکی والوں کی طرف پھول پھینکنا

بارات جب لڑکی والوں کے ہاں(ہال یا گھر میں) پہنچتی ہے تو نوجوان لڑکیاں اور یکسر بے پردہ عورتیں دونوں طرف ہاتھوں میں پھولوں کے تھال پکڑے ہوئے دولہا اور باراتیوں کا استقبال کرتی ہیں اور ان پر گل پاشی کرتی ہیں، یہ بھی بے پردگی کی ایک ایسی بے ہودہ رسم ہے جس کی توقع کسی مسلمان مرد عورت سے نہیں کی جاسکتی۔[ البیان اسلامی ثقافت نمبر ص : 34 ]

عورت اور مرد کی نماز میں کوئی فرق نہیں!

عوام میں یہ مشہور ہوگیا ہے کہ عورتوں کی نماز مردوں سے مختلف ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عورتوں کی نماز ہوبہوویسی ہی ہے جیسی مردوں کی ہے یعنی عورتیں بھی اسی کیفیت میں نماز ادا کرے جس کیفیت میں مرد ادا کرتا ہے ۔ اس بات کو نصوص کی روشنی میں واضح کروں گا تاکہ آپ کو یقین ہوسکے کہ واقعی عورتوں کو بھی مردوں کی طرح ہی نماز ادا کرنا ہے ۔

اس بارے میں سب سے پہلے تجربہ ومشاہدہ پیش کرکے عقلی طور پر دلائل کو سمجھنے کے لئے تیار کرنا چاہتا ہوں ۔ وہ یہ ہے کہ ہمارے سماج میں عورتوں کی الگ نماز کا تصور ورواج بعد کی پیداوار ہے ، جب سے لوگوں نے محمد ﷺ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا امام بنانا اور ان کی تقلید کرنا شروع کی، تب سے تقلیدی فرقوں کی عورتیں مردوں سے مختلف نماز ادا کرتی ہیں کیونکہ مقلد علماء نے عورتوں کے لئےسمٹ کرنمازپڑھنےکا مکمل مخصوص مصنوعی طریقہ ایجاد کررکھا ہے ۔عورتوں کا ہاتھ اٹھانا، ہاتھ باندھنا، رکوع کرنا، سجدہ کرنا ، قعدہ کرنا سب کچھ مردوں سے الگ بنایا ہے جبکہ ہم میں سے اکثر لوگوں نے حرمین شریفین کی زیارت کی ہے ، وہاں پر عرب خواتین کو مردوں کی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔یہ عرب خواتین عہد رسول اور عہد صحابہ سے ہی مردوں کی طرح نماز پڑھتے ہوئے آرہی ہیں ۔ یہیں اسلام پہلے آیا اور یہیں سےاسلام دنیا میں پھیلا ہے اس لئے یہاں کا طریقہ نماز ہمیں شعور دیتا ہے کہ عورتوں کے نماز پڑھنے کا صحیح او ر اصلی طریقہ وہی ہے جس طرح عرب کی خواتین پڑھ رہی ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ صرف عرب کی خواتین ہی مردوں کی طرح نماز پڑھ رہی ہیں بلکہ دنیا بھر میں جہاں بھی تقلید سے ہٹ کر قرآن وحدیث پرعمل کرنے والی بہنیں رہتی ہیں وہ مردوں کی طرح نماز ادا کرتی ہیں کیونکہ شارع شریعت محمد کریم ﷺ نے نماز کا ایک ہی طریقہ بتایا ہے، انہوں نے مردوں کے لئے الگ اور عورتوں کےلئے الگ نماز کا طریقہ نہیں بتایا ہے ۔

اب چلتے ہیں دلائل کی طرف ، پہلے قرآن میں غور کریں کہ اللہ تعالی نے ایک ہی کتاب قرآن کی شکل میں نازل فرمائی ہے، ساری آیات میں مردوعورت دونوں شامل ہیں، ایسا نہیں ہے کہ عورتوں کا قرآن الگ ہے اور مردوں کا قرآن الگ ۔البتہ قرآن کی جو آیت عورت یا مرد کے لئے خاص ہے وہ عورت یامرد کے ساتھ خاص مانی جائے گی مگر جو آیات خاص نہیں ہیں ان میں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی شامل ہیں ۔ ٹھیک یہی معاملہ حدیث کا بھی ہے۔ حدیث کی چھ مشہورومعتبر کتابوں(بخاری، مسلم، ابوداؤ، نسائی، ترمذی اور ابن ماجہ )میں سے ہرایک کتاب میں کتاب الصلاۃ کا عنوان موجود ہے ۔ اس کتاب کے تحت شروع سے لیکر آخر تک نماز کی مکمل تفصیلات رکعات، کیفیات اوراذکار وادعیہ سےمتعلق ساری احادیث موجود ہیں ۔ ان احادیث کو جمع کیا جائے تو سینکڑوں کی تعداد میں ہوں گی مگر ان سینکڑوں احادیث میں ایک بھی کوئی صحیح حدیث ایسی نہیں ملتی کہ مرد کی نماز الگ ہے اور عورت کی نماز الگ ہے ۔

پاکستان کے معروف ادارہ «الجامعہ البنوریہ العالمیہ»سے ایک خاتون نے سوال کیا کہ میں اسلام میں عورت کی نماز کے لئے حوالہ جاننا چاہتی ہوں جیساکہ میں شروع کرنے والی ہوں ، میں حوالہ صرف صحاح ستہ سے چاہتی ہوں (صرف سجدہ اور تشہد کے بارے میں)، پلیز صرف انہیں کتابوں سے دوسری کتابوں سے نہیں۔ اس سوال پر احناف کے عالمی ادارے نے جواب دیا کہ صحاح ستہ سے حوالہ طلب کرنا بڑی جسارت ہے ، آگے لکھتے ہیں کہ سائلہ کو چاہیے کہ بہشتی زیور سے نماز کا طریقہ پڑھ کر اس طریقے سے نماز ادا کرے ،،باختصار۔آپ یہ فتوی ادارہ کی ویب سائٹ (www.onlinefatawa.com) پر آئی ڈی 32164 کے تحت دیکھیں۔اس فتوی سے آپ یہ جان سکتے ہیں کہ جو لوگ عورتوں کا الگ طریقہ نماز بتاتے ہیں ان کے پاس احادیث کی امہات الکتب سے ایک بھی دلیل نہیں ملتی۔

 اب ایک بنیادی بات سمجھ لیں کہ عورتیں بھی شرعی مسائل میں مردوں کی طرح ہی ہیں یعنی اسلام نے جس چیز کا بھی حکم دیا ہے اس حکم میں عورتیں بھی شامل ہیں سوائے استثنائی احکام کے جومردیاعورت کے ساتھ مختص ہیں ۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے :

إنما النساء شقائق الرجال (السلسلة الصحيحة: 2863)

’’عورتیں (شرعی احکام میں)مردوں کی مانند ہیں۔‘‘

نبی ﷺ کے اس فرمان کو ذہن میں رکھتے ہوئے عورت ومرد کی نماز سے متعلق آپ ﷺ کا اہم ترین فرمان ملاحظہ فرمائیں ۔ابوسلیمان مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:

أَتَيْنَا النبيَّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ، ونَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فأقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، فَظَنَّ أنَّا اشْتَقْنَا أهْلَنَا، وسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا في أهْلِنَا، فأخْبَرْنَاهُ، وكانَ رَفِيقًا رَحِيمًا، فَقَالَ: ارْجِعُوا إلى أهْلِيكُمْ، فَعَلِّمُوهُمْ ومُرُوهُمْ، وصَلُّوا كما رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، وإذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أحَدُكُمْ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أكْبَرُكُمْ(صحيح البخاري:6008، 7246، 631)

’’ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوئے اور ہم سب نوجوان اور ہم عمر تھے۔ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ بیس دنوں تک رہے۔ پھر نبی کریم ﷺ کو خیال ہوا کہ ہمیں اپنے گھر کے لوگ یاد آ رہے ہوں گے اور نبی کریم ﷺ نے ہم سے ان کے متعلق پوچھا جنہیں ہم اپنے گھروں پر چھوڑ کر آئے تھے۔ ہم نے نبی کریم ﷺ کو سارا حال سنا دیا۔ آپ بڑے ہی نرم خو اور بڑے رحم کرنے والے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے گھروں کو واپس جاؤ اور اپنے ملک والوں کو دین سکھاؤ اور بتاؤ اور تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے اور جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے ایک شخص تمہارے لیے اذان دے پھر جو تم میں بڑا ہو وہ امامت کرائے۔‘‘

اس پوری حدیث پر گہرائی سے نظر ڈالئے تو معلوم ہوتا ہے کہ چند صحابہ کرام نبی ﷺ سے دین اور نماز کا طریقہ سیکھ کر گھر لوٹے ، آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ تم جاؤ، یہ باتیں اپنے گھروالوں کو بھی سکھانا اور نماز اسی طرح پڑھنا جس طرح تم نے مجھے بیس دن تک نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ گھروالوں میں بیوی بھی شامل ہے ، اگر عورتوں کی نماز کا طریقہ الگ ہوتا تو آپ ﷺ انہیں وضاحت سے بتادیتے کہ تم مرد تو میری طرح نماز پڑھنا اور اپنے گھر کی عورتوں کو مردوں سے الگ نماز کی تعلیم دینا ۔ آپ نے ایسا نہیں فرمایا، گویا عورت کی نماز کا طریقہ وہی ہے جو مردوں کا ہے ، اس بابت یہ حدیث’’تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘فیصلہ کن ہے۔ نیز یہ حدیث عام ہے ، عام حدیث کی تحت عورتیں بھی شامل ہوں گی کیونکہ عورتیں شرعی احکام میں مردوں کی مانند ہیں، اس بارے میں آپ نے اوپر دلیل بھی جان لی ہے۔

مذکورہ بالا حدیث

«وصَلُّوا كما رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي»

صحیح بخاری میں تین مقامات پر وارد ہے ، اب صحیح مسلم سے ایک واضح حدیث جو بیان کرتی ہے کہ عورت ومرد کی نماز بالکل ایک جیسی ہے ۔ چنانچہ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

ولقَدْ رَأَيْتُ رَسولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ قَامَ عليه فَكَبَّرَ وكَبَّرَ النَّاسُ ورَاءَهُ، وهو علَى المِنْبَرِ، ثُمَّ رَفَعَ فَنَزَلَ القَهْقَرَى حتَّى سَجَدَ في أصْلِ المِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَ، حتَّى فَرَغَ مِن آخِرِ صَلَاتِهِ، ثُمَّ أقْبَلَ علَى النَّاسِ فَقالَ: يا أيُّها النَّاسُ إنِّي صَنَعْتُ هذا لِتَأْتَمُّوا بي، ولِتَعَلَّمُوا صَلَاتِي(صحيح مسلم:1216)

اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اس(منبر) پر کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی۔ لوگوں نے بھی آپ ﷺ کے پیچھے تکبیر کہی اور آپ ﷺ منبر پر تھے۔ پھر آپ ﷺ نے رکوع سے سر اٹھایا اور الٹے پاؤں اترے یہاں تک کہ سجدہ کیا منبر کی جڑ میں پھر لوٹے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہوئے۔ اس کے بعد آپ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:اے لوگو! میں نے یہ اس لئے کیا کہ تم میری پیروی کرو اور میری طرح نماز پڑھنا سیکھو۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے صحابہ کو نماز کی تعلیم دینے کے لئے منبر پر چڑھ کر نماز پڑھائی تاکہ واضح طور پر نماز کی کیفیت وادائیگی دیکھی جاسکے ، ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ مسجدنبوی میں آپ ﷺکے پیچھے خواتین بھی نماز پڑھتی تھیں، جب آپ ﷺ نے منبر پر نماز ادافرما لی تو آپ نے صحابہ کو مخاطب ہوکر فرمایا: «اے لوگو! میں نے یہ اس لئے کیا کہ تم میری پیروی کرو اور میری طرح نماز پڑھنا سیکھو» آپ کا یہ واضح فرمان عورتوں کے لئے نہیں تھا؟ اور آپ نے جس طرح نماز پڑھی وہ عورتوں کے لئے نہیں تھی ؟ بالکل تھی ۔ آپ کامنبر پراداکیاگیا طریقہ نماز اور آپ کا واضح فرمان کہ مجھ سے نماز کا طریقہ سیکھوصاف صاف بتلاتا ہے کہ عورت ومرد کی نماز کا طریقہ بالکل ایک جیسا ہے ۔ اگر عورتوں کے طریقہ نماز میں فرق ہوتا تو جب آپ نے مسجد نبوی میں منبر پر چڑھ کر مردوں کو نماز کی تعلیم دی ، اسی وقت عورتوں کو بھی الگ سے تعلیم دیتے مگر آپ نے ایسا نہیں کیاجو اس بات کی ٹھوس دلیل ہے کہ عورتیں بھی مردوں کی طرح نماز پڑھیں گئیں۔

نماز تعبدی معاملہ ہے، جبریل علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر نبی ﷺ کو نماز پڑھاتے ہیں اور نمازوں کےاوقات سے آگاہ کرتے ہیں ۔ صحیح بخاری میں ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے:

سَمِعْتُ رَسولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ يقولُ: نَزَلَ جِبْرِيلُ فأمَّنِي، فَصَلَّيْتُ معهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ معهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ معهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ معهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ معهُ يَحْسُبُ بأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ (صحيح البخاري:3221)

’’جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور انہوں نے مجھے نماز پڑھائی۔ میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر (دوسرے وقت کی) ان کے ساتھ میں نے نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ میں نے نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، اپنی انگلیوں پر آپ نے پانچوں نمازوں کو گن کر بتایا۔‘‘

نماز ایک ایسی عبادت ہے جس میں اپنی مرضی سے بال برابر بھی کوئی عمل انجام نہیں دیا جائے گا، یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے سوسال ، دوسوسال بعد کسی امام یا عالم کو کیسے اختیار ملے گا کہ وہ عورتوں کی نماز کا الگ طریقہ بیان کرے یا کسی امتی کو کیسے اجازت حاصل ہے کہ وہ حدیث رسول کو چھوڑکر علماء کے اقوال کے مطابق اللہ کی عبادت کرے؟ ہم دیکھتے ہیں احناف کے یہاں عورتوں کی نماز مردوں سے بالکل مختلف بیان کی جاتی ہے۔ یہ عبادت میں من مانی اور اللہ کے دین کو بدل دینا ہے ۔ الحفظ والاماں

مذکورہ ساری دلیلوں سے واضح ہے کہ عورتوں کی نماز مردوں جیسی ہے پھر بھی ایک خاص دلیل جو عورتوں سے ہی متعلق ہے اسے بھی ذکرکرنا مناسب سمجھتا ہوں ۔

جلیل القدر صحابی ابوالدرداء انصاری رضی اللہ عنہ کی بیوی ام الدرداء رضی اللہ عنہا کے بارے میں فقیہ امت ، امیرالمومنین فی الحدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تین کتابوں میں ذکر کیا ہے کہ ام الدرداء مردوں کی طرح نماز ادا فرماتی تھیں ۔ تینوں کتابوں کی عبارت کے ساتھ اس دلیل کا علم حاصل کرتے ہیں ۔

پہلی کتاب :قرآن کے بعد روئے زمین کی سب سے معتبر کتاب صحیح بخاری میں«بَابُ سُنَّةِ الْجُلُوسِ فِي التَّشَهُّدِ»’’باب: تشہد میں بیٹھنے کا مسنون طریقہ)‘‘کے تحت امام بخاری نے معلقا ذکر کیا ہے۔

وَكَانَتْ أُمُّ الدَّرْدَاءِ:«تَجْلِسُ فِي صَلاَتِهَا جِلْسَةَ الرَّجُلِ وَكَانَتْ فَقِيهَةً»

ام الدرداء رضی اللہ عنہا فقیہہ تھیں اور وہ نماز میں (بوقت تشہد) مردوں کی طرح بیٹھتی تھیں یعنی ام الدرداء ایک عالمہ اور فقیہ تھیں وہ نماز میں مردوں کی طرح تشہد کرتی تھیں۔

دوسری کتاب: عبد ربہ بن سلیمان بن عمیر شامی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

رَأَيْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ «تَرْفَعُ يَدَيْهَا فِي الصَّلَاةِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهَا حِينَ تَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ وَحِينَ تَرْكَعُ وَإِذَا قَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» رَفَعَتْ يَدَيْهَا ، وَقَالَتْ:«رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ»(جزء رفع الیدین للبخاري : 24)

میں نے ام الدرداء رضی اللہ تعالی عنہا کو دیکھا وہ نماز میں کندھوں تک رفع الیدین کرتی تھیں. جب نماز شروع کرتیں اور جب رکوع کرتیں. اور جب (امام) «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»کہتا تو رفع الیدین کرتیں اور فرماتی تھیں«رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ»۔

تیسری کتاب: صحیح بخاری کی معلق روایت کو امام بخاری نے انہیں الفاظ کے ساتھ اپنی کتاب التاریخ الصغیر(906) میں موصولا مکحول کے واسطہ سے ذکر کیا ہے اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صفۃ صلاۃ النبی کے صفحہ 189پرصحیح قرار دیا ہے۔

یہ خصوصی حدیث عورتوں کے باب میں اس بات کی خصوصی دلیل ہے کہ عورتیں بھی مردوں کی ہی طرح نماز ادا کریں گی ۔ اگر اس حدیث کے بارے میں کوئی یہ کہتا ہے کہ صرف ایک عورت مردوں جیسی نماز پڑھتی تھی اور بقیہ عوتیں مردوں جیسی نماز نہیں پڑھتی تھیں ، نرا جہالت اور کوتاہ فہمی ہے ۔ اس حدیث میں قعطا یہ ذکر نہیں کہ صرف ایک عورت مردوں جیسی نماز پڑھتی تھی بلکہ راوی کی نظر جس خاتون پر پڑی انہوں نے اس خاتون کے بیٹھنے کی کیفیت بیان کی ہے۔ یہاں ایک بڑا علمی نکتہ یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ اگر اس صحابیہ کی نماز سنت کے خلاف ہوتی تو راوی ضرور ٹوکتے یا یہ ذکر کرتے کہ وہ خاتون نماز میں سنت کی مخالفت کررہی تھی۔ راوی کا محض کیفیت بتانا اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کی نماز مردوں کی طرح ہے اور اس عہد کی عام خواتین بھی مردوں کی طرح نماز پڑھتی تھیں۔

اس پس منظر میں سجدہ سے متعلق صحیحین کی ایک روایت پربھی غور فرمائیں ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

اعْتَدِلُوا في السُّجُودِ، ولَا يَبْسُطْ أحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الكَلْبِ(صحيح البخاري:822)

’’سجدہ میں اعتدال کو ملحوظ رکھو اورتم میں سے کوئی اپنے بازو کو کتوں کی طرح نہ پھیلائے۔‘‘

اس حدیث میں نبی ﷺ نے ہرکسی کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی بھی سجدہ کرتے وقت کتے کی طرح بازو نہ پھیلائے ۔ کیا اس حکم میں عورت شامل نہیں ہے ؟ بالکل شامل ہے ۔ اس حدیث کی بنیاد پر عورتیں بھی اسی طرح سجدہ کریں گی جیسے مرد سجدہ کرتے ہیں اورسجدہ کرتے ہوئے کتوں کی کیفیت سے بچیں گی ۔

گویا پوری بحث کا خلاصہ یہ ہوا کہ ایک عورت اپنی نماز ٹھیک اسی طرح پڑھے جس طرح مرد پڑھتا ہے اور مردوں میں بھی وہ مرد جو رسول اللہ ﷺ کی طرح نماز ادا کرتا ہے ۔ نیت ، اقامت، تکبیرات، رفع الیدین، قیام،رکوع، قومہ، سجدہ، جلسہ، قعدہ اور سلام سب کچھ حدیث کی روشنی میں ہونا چاہیے اور یہ سارے اعمال مردوں وعورتوں کے لئے ایک جیسے ہی ہیں، ٹھیک اسی طرح ہیں جیسے عورتیں بھی نماز کی رکعات اتنی ہی ادا کریں گی جتنی رکعات مرد ادا کرتےہیں اور دوران نماز وہی کلمات پڑھیں گی جو مرد پڑھتے ہیں یعنی عورت و مرد کی نماز میں نہ رکعات میں فرق ہے، نہ اذکار ودعا میں فرق ہے اور نہ کیفیت واوصاف میں فرق ہےکیونکہ ان میں تفریق کی کوئی صحیح دلیل نہیں ہے ۔

آخر میں ان لوگوں کے مغالطے بھی دور کرنا چاہتا ہوں جو عورتوں کی عفت وعصمت اور حیا کا نام لےکر ان کے لئےحیا کے اعتبارسے نماز کا مصنوعی طریقہ ایجاد کرتے ہیں۔ مقلد حضرات تو اپنی عورتوں کو مسجد میں جانے سے منع کرتے ہیں پھر بھی نماز کا طریقہ عورتوں کے لئے الگ سے تیارکرکے بتاتے ہیں جبکہ نبی ﷺ کے زمانے میں خواتین مسجد نبوی میں حاضرہوکر رسول ﷺکے پیچھے نماز ادا کیا کرتی تھیں ، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عورتوں کی حیا کے لحاظ سے مسجد میں حاضر ہونے والی عورتوں کی نماز الگ ہوتی کیونکہ وہ مردوں کے ساتھ ایک ہی مسجد میں نماز ادا کرتی تھیں جبکہ رسول اللہ ﷺنے عورتوں کی الگ نماز نہیں بیان فرمائی۔

بلاشبہ عورت عورت ہے ، حیا اور پردے کی چیز ہے لہذا نماز کے تعلق سے عورتوں کے لئے جو مناسب احکام تھے وہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمادئے ۔اس بارے میں چند احادیث ملاحظہ فرمائیں:

(1)عورت کی نماز مسجد کی بجائے گھر میں افضل ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

صلاةُ المرأةِ في بيتِها أفضلُ من صلاتِها في حجرتِها وصلاتُها في مَخدعِها أفضلُ من صلاتِها في بيتِها (صحيح أبي داود:570)

’’عورت کی نماز اس کے اپنے گھر میں صحن کے بجائے کمرے کے اندر زیادہ افضل ہے ، بلکہ کمرے کی بجائے ( اندرونی ) کوٹھری میں زیادہ افضل ہے ۔‘‘

(2)عورت مسجد میں بھی نماز پڑھ سکتی ہے لیکن خوشبولگاکرنہ آئے۔زينب ثقفيہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

إذا خرجتْ إحْداكنَّ إلى المسجدِ فلا تقْرَبنَّ طِيبًا (صحيح الجامع:501)

’’جب تم ميں سے كوئى عورت مسجد كى طرف جائے تو وہ خوشبو كے قريب بھى نہ جائے ۔‘‘

(3)بالغہ عورت بغیر دوپٹہ کے نماز نہ پڑھے، سیدہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

لا يقبلُ اللهُ صلاةَ حائضٍ إلَّا بخِمارٍ(صحيح أبي داود:641)

’’بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا۔‘‘

(4)مسجد میں عورت ومرد ایک ساتھ نمازپڑھنے پرعورتوں کی صف مردوں سے پیچھے ہو گی۔ ‏‏‏‏سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجالِ أوَّلُها، وشَرُّها آخِرُها، وخَيْرُ صُفُوفِ النِّساءِ آخِرُها، وشَرُّها أوَّلُها (صحيح مسلم:440)

’’مردوں کی صفوں میں سب سے بہتر پہلی صف ہے اور سب سے بری آخری صف ہے۔ اور خواتین کے لیے سب سے بری پہلی صف ہے (جب کہ مردوں کی صفیں ان کے قریب ہوں) اور اچھی صف پچھلی صف ہے۔ (جو کہ مردوں سے دور ہو)۔‘‘

(5)عورت مردوں کی امامت نہیں کراسکتی ہے ، نہ مردوں کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے آواز نکال سکتی ہے، مرد امام سے غلطی ہوجائے تو اس ضرورت کے وقت بھی زبان سے آواز نہیں نکالے گی بلکہ ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارکر امام کو غلطی پر تنبیہ کرے گی ۔سہیل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

التسبيحُ للرجالِ، والتصفيحُ للنساءِ (صحيح البخاري:1204)

تصفیق (خاص طریقے سے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارنا) عورتوں کے لیے ہے اور تسبیح (سبحان اللہ کہنا) مردوں کے لیے ہے۔

یہ سارے احکام عورتوں کو فتنے سے بچانے، ان کی عفت وعصمت کی حفاظت کرنے اوران کی شرم وحیا کا پاس ولحاظ کرنے سے متعلق ہیں۔ان احکام کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عورتوں کی نماز مرودں سے مختلف ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ عورت کی نماز تو مردوں جیسی ہی ہے لیکن ان کی عصمت کا خیال کرتے ہوئے ان کے حق میں مفید احکام بھی بیان کئے گئے ہیں ۔

بعض لوگ ان باتوں سے امت کو دھوکہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دیکھوعورتوں کو مردوں سے الگ حکم دیا جارہاہے لہذا ان کی نماز مردوں سے الگ ہے ۔ یہ سراسر دھوکہ ہے ، یہاں پر عورتوں کی عصمت کا خیال کرکے انہیں بعض الگ احکام دئے جارہے ہیں ، ان باتوں کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ عورتوں کی نماز کا طریقہ مردوں سے مختلف ہے ۔ اس بات کو اس طرح سمجھیں کہ امام پہلے تکبیرتحریمہ کہے گا اور نماز شروع کرےگا ، مقتدی مرد ہو یا عورت امام کے بعد تکبیر کہہ کرنماز میں داخل ہوگا، امام سے پہلے کوئی مقتدی تکبیر نہیں کہے گا، پھر نماز کے سارے حالات میں امام پہلے ہوگا اور مقتدی امام کے پیچھے ان کی متابعت کرے گا، مقتدی میں جو قرآن کا زیادہ جانکار ہو وہ امام بنے گا، مقتدی میں جو زیادہ عقل وشعور والے ہوں وہ امام کے قریب کھڑا ہوں گے، پھر ان کے بعد والے پھر ان کے بعد والے۔صف بندی میں بڑے مردآگے ہوں گے جو بچے ہوں وہ بعد والی صفوں میں ہوں گے ۔ کیا ان احکام ومسائل کا یہ مطلب ہے کہ مردوں کی نماز بھی مردوں سے مختلف ہے ۔ ہرگز نہیں ۔ یہ نماز سے متعلق بعض احکام ہیں مگر طریقہ ایک ہی ہے۔ ٹھیک اسی طرح نماز سے متعلق عورتوں کے لئے بعض مخصوص مسائل ہیں مگر ان کی نماز کا طریقہ بھی وہی ہے جو مردوں کا ہے ۔

بعض لوگ، امت کو اس طرح دھوکہ دیتے ہیں کہ حج بھی نبی ﷺ کے طریقہ پر کرنا ہے مگر طواف وسعی میں عورتوں کو رمل نہیں کرناہے بلکہ آہستہ چلناہے اورعورتوں کےآہستہ چلنے کی الگ سے کوئی دلیل نہیں ہے ، علماء عورت کی حیا کا خیال کرتے ہوئے آہستہ چلنے کا حکم دیتے ہیں اسی طرح نماز کا مسئلہ ہے ۔ عورتوں کی حیا کی وجہ سے اسے سمٹ کر نماز پڑھنے کو کہاجاتا ہے ۔

اس بات کا جواب یہ ہے کہ

اولا :نماز کو حج کے طواف وسعی پر قیاس کرنا ہی غلط ہے ، طواف وسعی میں آدمی باتیں کرسکتاہے، کھاپی سکتاہے، ہنس سکتا ہے،سستی لگ جائے تو بیٹھ سکتا ہے وغیرہ وغیرہ مگر یہ باتیں نماز میں ممنوع ہیں بلکہ ان باتوں سے نمازباطل ہوجائےگی ۔

ثانیا:نمازپڑھنے کا مکمل طریقہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے بتلادیا ہے، جس میں عورت ومرد دنوں شامل ہیں اس لیے کسی غیر سے نماز کا طریقہ لینے کی قعطی ضرورت نہیں ہے اور پہلے بھی بتاچکا ہوں کہ عبادت میں بال برابر بھی کوئی اپنی مرضی سے عمل نہیں کرے گا جبکہ مقلدوں کے یہاں عورت کی پوری نماز بناؤٹی ہے وہ کیسے صحیح ہوسکتی ہے؟۔

ثالثا: عورتوں کے عدم رمل کے سلسلے میں مرفوع حدیث گرچہ نہیں ہے مگر متعدد آثار سے ثابت ہے۔بیہقی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، مصنف ابن ابی شیبہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما ، ابن عباس رضی اللہ عنہمااور حسن وعطاء سے مروی ہے۔ ابن المنذر نے اجماع نقل کیا ہے کہ عورتوں پر رمل نہیں اور دین میں اجماع بھی حجت ہے جبکہ نماز کا معاملہ رمل سے مختلف ہے یہاں پر سب کچھ مرفوع احادیث سے یعنی مکمل طریقہ نماز رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے ، اور جہاں محمد رسول اللہ ﷺ کا طریقہ موجود ہو وہاں کسی اور کا طریقہ اور قول اختیار کرنے کی بالکل بھی گنجائش نہیں ہے ۔مطلب یہ ہوا کہ جہاں شریعت خاموش ہے وہاں امت کسی بات پر اجماع کرلے تو یہ دلیل ہے لیکن جہاں شریعت موجود ہے وہاں کسی قول اور اجماع کی سرے سےکوئی ضرورت نہیں ہے۔

بعض لوگ یہ کہہ کر دھوکہ دیتے ہیں کہ عورتوں کو سمٹ کر نماز پڑھنے کا طریقہ اسلاف سے منقول ہے بلکہ مرفوع احادیث بھی ملتی ہیں چنانچہ اس سے متعلق بعض مرفوع روایات اور بعض آثار پیش کئے جاتے ہیں۔ ان سب کے ذکر کرنے اور تجزیہ کرنے کا یہ مقام نہیں ہے ۔ ایک شعر سے اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں

ہوتے ہوئے مصطفی (ﷺ)کی گفتار

مت دیکھ کسی کا قول وکردار

اللہ نے قرآن میں متعدد مقامات اپنی اور رسول اکرم ﷺکی اتباع کرنے کا حکم دیا ہے یعنی دین صرف اللہ اور اس کے رسول سے لیا جائے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ عورت ومرد کی نماز کے طریقہ میں فرق سے متعلق جو بھی دلیل ذکر کی جاتی ہےچاہے قول ہو یا حدیث کوئی بھی ثابت اور صحیح نہیں ہے۔جب کوئی چیز ثابت ہی نہ ہو تو اس سے دلیل پکڑنابے کارہے بلکہ اوپر جامعہ بنوریہ کا فتوی ملاحظہ فرماچکے ہیں ، ان کے حساب سے صحیح ستہ یعنی معتبرترین حدیث کی چھ کتابوں میں عورت ومرد کی نماز میں فرق کی ایک بھی دلیل موجود نہیں ہےجبکہ ان ساری چھ کتابوں میں کتاب الصلاۃ قائم کرکے سارے محدثین نے نماز کی تمام مرفوع روایات(رسول اللہ کا طریقہ نماز)ذکر کردی ہیں جن میں نماز کی ابتداء سے لیکرانتہاتک ساری کیفیات منقول ہیں حتی کہ نماز کا ادنی پہلوبھی ذکرسے خالی نہیں۔ باقی جن دلائل سے احناف استدلال کرکے عورتوں کی نماز الگ بتاتےہیں وہ سب ناقابل اعتبار ہیں، ان کی حقیقت جاننے کے لئے حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کی مختصر کتاب «کیا عورتوں کا طریقہ نمازمردوں سے مختلف ہے؟کا مطالعہ مفید ہوگا۔اس کتاب کو دارالسلام نے شائع کی ہے اور کتاب وسنت ڈاٹ کام پر دستیاب ہے۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ لوگوں کو حق پر چلنےاور مسلمانوں میں سے عورت ومرد سب کو رسول اللہ ﷺ کے طریقہ کے مطابق عبادت کرنے کی توفیق بخشے۔آمین

داڑھی، ایک عظیم سنت

چہرے پر داڑھی سجانا نبی کریم ﷺ کی سنت ہے

آپ کی داڑھی مبارک کے متعلق سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلا بِالْقَصِيرِ، ضَخْمُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ (مسند الامام أحمد :۱؍۹۶،۱۲۷،وسنده حسن)

’’رسول اللہ ﷺ کا قد مبارک نہ بڑا تھا نہ چھوٹا ، آپ کا سر مبارک بڑا اور داڑھی مبارک بھی بڑی تھی۔‘‘

داڑھی کی خصوصیات و امتیازات

 یہ واحد نظر آنے والی سنت ہے جو قبر میں بھی ساتھ چلے گی۔

کہتے ہیں کہ پہلا تاثر آخری تاثر ہوتا ہے۔

کس قدر نفع بخش بات ہے کہ قبر میں فرشتوں سے ملاقات ہو تو فرشتوں کو چہرے سے کفن کی چادر ہٹاتے ہی سنت نبوی سے مزین چہرہ نظر آئے تو بہت امید ہے کہ اس پہلے تاثر سے سوال و جواب کا اگلا مرحلہ آسان ہو گااور کس قدر بدبختی کی بات ہے کہ فرشتے دیکھتے ہی یہ تاثر لیں کہ یہ تو کوئی چہرہءِ محمدی سے بے زار شخص ہے۔

یہ ایسی سنت ہے جو دنیا میں ہزاروں گناہوں سے رکنے کا سبب بنتی ہے صرف چہرے پر سنت سجھا لینے سے انسان بے شمار قباحتوں اور گناہوں سے ہچکچاتا ہے، داڑھی والا شخص سینما گھر نہیں جاتا یا جانے سے ہچکچاتا ہے، داڑھی والا شخص مخلوط ماحول میں نہیں جاتا، داڑھی اسے جھوٹ سے روکتی ہے، چوکوں چوراہوں پر کھڑے ہونے اور غیر محرم عورتوں کی طرف دیکھنے سے روکتی ہے

داڑھی، کسی انسان کو پرکھنے کا معیار ہے

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ یہ چھوٹی سی چیز بہت بڑی بڑی چیزوں کا پتا دیتی ہے، جس طرح راکھ کی ایک چٹکی اڑا کر ہم ہوا جیسی عظیم الشان چیز کا پتا چلا لیتے ہیں کہ اس کا رخ کدھر کو ہے، اسی طرح ایک شخص کے چہرے پر ڈاڑھی کے ہونے اور نہ ہونے سے یہ اندازہ ہو جاتا کہ اس کا میلان کس طرف ہے، اسلام کی طرف یا غیر اسلام کی طرف؟یعنی داڑھی ایک مسلمان کے دل کے رجحانات کےلیے ایک میٹر کا کام ضرور دیتی ہے ۔اس سنت کی حفاظت ناگزیر ہو چکی ہے

مگر افسوس کہ آج اس سنت کو بڑی بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہےلیکن یاد رکھیں کہ جن سنتوں پر زبانیں دراز ہونے لگیں، انہیں زندہ کرنا ہی دین محمد کی پہرے داری اور آپ سے وفا کی نشانی ہے۔

شیخ العثیمین کی داڑھی سے محبت کی انتہا

فقيه الزمان الشيخ محمد بن صالح العثیمین رحمه الله آنتوں کے کینسر میں مبتلا ہوئے. حکام نے بصد اصرار شیخ کو خصوصی طیارے پر علاج کیلیے امریکہ بھجوا دیا۔

ڈاکٹروں نے کہا کہ نیوکلیر شعاعوں (radiations) کے ذریعے علاج ہو گا جس سے تمام بال جھڑ جائیں گے۔شیخ نے پوچھا: کیا داڑھی کے بال بھی ؟

ڈاکٹروں نے کہا: ہاں! شیخ نے فرمایا: «میں اپنے رب سے داڑھی کے بغیر نہیں ملنا چاہتا.» پھر آپ کو بغیر علاج کے ہی واپس لایا گیا. کچھ عرصہ شاہ فیصل ہسپتال میں رہے اور پھر ڈسچارج ہو گئے. آپ کیلئے حرمِ مکی میں ایک کمرہ مختص کیا گیا جس میں آپ درس دیتے اور ساؤنڈ سسٹم کے ذریعے کمرے سے باہر بیٹھے سینکڑوں طلبہ مستفید ہوتے. یہ سلسلہ یونہی جاری رہا حتی کہ 15 شوال، بروز بدھ 1421ھ کو آپ کی وفات ہوئی۔[ فتح المجيد مع القول المفيد ]

داڑھی کی اہمیت

داڑھی فطرت اسلام ہے

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ ” قَالَ زَكَرِيَّا: قَالَ مُصْعَبٌ: وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ (صحیح مسلم:۱؍۱۲۹،ح:۲۶۱)

’’دس خصلتیں فطرتِ اسلامیہ میں سے ہیں:

(۱) مونچھیں کاٹنا

(۲) داڑھی کو چھوڑ دینا

(۳) مسواک کرنا

(۴) وضو کرتے وقت ناک میں پانی چڑھانا

(۵) ناخن کاٹنا

(۶) انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا

(۷) بغل کے بال نوچنا

(۸) زیرِ ناف بال مونڈنا

(۹) استنجاء کرنا

راوی کا کہنا ہے کہ دسویں چیز مجھے بھول گئی ہے ،شاید کلی کرنا ہو۔‘‘

انبیاء کرام علیہم السلام کی داڑھی

جتنے انبیاء کرام علیہم السلام دنیا میں تشریف لائے ہیں سبھی داڑھی والے تھے کیونکہ داڑھی فطرت ہے اور انبیاء فطرت پر ہوتے ہیں ۔ ہارون علیہ السلام کی داڑھی کا تذکرہ قرآن مجید میں بایں الفاظ ملتا ہے ۔

قَالَ يَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْيَتِيْ وَ لَا بِرَاْسِيْ (طه :94)

اس نے کہا اے میری ماں کے بیٹے! نہ میری ڈاڑھی پکڑ اور نہ میرا سر۔

علامہ شنقیطی رحمہ اللہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :

یہ آیت کریمہ داڑھی کو لازمی طور پر معاف کرنے کی دلالت کرتی ہے. نیز یہ آیت مبارکہ داڑھی کو معاف کر دینے اور اسے نہ منڈوانے کی قرآنی دلیل ہے۔ [أضواءالبيان4/506 ،507]

جبریل علیہ السلام کی داڑھی

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ جَالِسًا، إِذْ جَاءَ شَدِيدُ سَوَادِ اللِّحْيَةِ

’’ایک دن نبی کریمﷺ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک شخص آیا جس کی داڑھی گہری سیاہ تھی۔۔۔۔اس کے چلے جانے کے بعد نبیﷺ نے سیدناعمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا ،کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ شخص کون تھا ؟ عرض کی، نہیں!فرمایا:

ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ (صحیح ابن حبان:۱۶۸،وسنده صحیح)

’’وہ جبریل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔‘‘

داڑھی بڑھانے کے متعلق نبوی فرامین

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

انْهَكُوا الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللِّحَى (صحیح البخاری: ۲؍۸۷۵،ح:۵۸۹۳)

’’مونچھوں کو ختم کرو اور داڑھیوں کو بڑھاؤ۔‘‘

مسلم میں یہ الفاظ بھی ہیں:

أَنَّهُ:أَمَرَ بِإِحْفَاءِ الشَّوَارِبِ، وَإِعْفَاءِ اللِّحْيَةِ (صحیح مسلم:۱؍۱۲۹،ح:۵۳؍۲۵۹)

’’آپﷺ نے مونچھیں کاٹنے اور داڑھیاں بڑھانے کا حکم دیا۔‘‘

داڑھی بڑھاؤ اور مشرکین کی مخالفت کرو

نبی کریم ﷺ نے فرمایا :

خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ أَحْفُوا الشَّوَارِبَ، وَأَوْفُوا اللِّحَى (صحیح مسلم:۱؍۱۲۹،ح:۵۴؍۲۵۹)

’’مشرکین کی مخالفت کرو،مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ۔‘‘

داڑھی بڑھا کر مجوسیوں کی مخالفت کرو

 سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

جُزُّوا الشَّوَارِبَ، وَأَرْخُوا اللِّحَى خَالِفُوا الْمَجُوسَ (صحیح مسلم:۱؍۱۲۹،ح:۲۶۰)

’’مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں لٹکاؤ،مجوسیوں کی مخالفت کرو۔‘‘

 سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مجوسیوں کے بارے میں رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا:

إِنَّهُمْ يُوَفِّرُونَ سِبَالَهُمْ، وَيَحْلِقُونَ لِحَاهُمْ، فَخَالِفُوهُمْ

’’وہ مجوسی مونچھیں بڑھاتے اور داڑھیاں منڈاتے ہیں،تم ان کی مخالفت کرو۔‘‘(مصنف ابن أبي شيبة:۸؍۵۶۷۔۵۶۶وسنده صحيح)

داڑھی بڑھا کر اور مونچھیں کٹوا کر یہود ونصاریٰ کی مخالفت کرو

سیدنا ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

ہم نے عرض کی ،اے اللہ کے رسول !اہلِ کتاب تو اپنی داڑھیاں کٹواتے اور مونچھیں بڑھاتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا:

قُصُّوا سِبَالَكُمْ وَوَفِّرُوا عَثَانِينَكُمْ وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ (مسند الإمام أحمد:۵؍۲۶۴۔۲۶۵،وسنده حسن)

’’تم اپنی مونچھیں کٹواؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ اور اہلِ کتاب کی مخالفت کرو۔‘‘

غیر مسلموں کے ساتھ مشابہت کس قدر خوفناک ہے

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ (سنن ابی داؤد:۴۰۳۱، وسنده حسن)

جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی ،وہ (روزِ قیامت) انہی میں سے ہو گا۔‘‘

داڑھی منڈوانا کئی ایک گناہوں کا مرکب ہے

ایک ایسا خطرناک گناہ ہے جو کئی گناہوں کا مرکب ہے

1 نبی کریم ﷺ کے حکم کی مخالفت

2 نبی کریم ﷺ کے عمل کی مخالفت

3 محمدی چہرے کو ناپسند کرنا

4 کفار سے مشابہت

5 عورتوں سے مشابہت

6 اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بگاڑنا

7 شیطان کو خوش کرنا

8 اعلانیہ گناہ

9 گناہ پر اصرار

10 چہرہءِ نبوی سے بے زاری

استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں:

’’داڑھی منڈوا کر آپ ﷺکی حسین صورت سے بے زاری کا اظہار شکر نہیں بلکہ کفر اور ناشکری کی بدترین صورتیں ہیں۔‘‘

یعنی داڑھی منڈانے والا زبانِ حال سے یہ باور کراتا ہے کہ معاذ اللہ نبی کریم ﷺ خوبصورت نہ تھے۔بقول شاعر:

مانا کہ ڈاڑھی رکھنا ہے مشکل مگر

روز محشر یہ آقا ﷺ نے پوچھا اگر

میری صورت میں کیا نقص آیا نظر

کیا کہے گا جوابًا بتا تو وہاں

آج کے نوجواں سن لے میری فغاں

تم تو رسول اللہ ﷺ کا دل چھیل رہے ہو

داڑھی منڈوانے والے حضرات کیلئے ایک صوفی شاعر مرزا قتیل کا سبق آموز واقعہ

مرزا قتیل ایران کے ایک بڑے شاعر تھے، ایک دفعہ دہلی آئے تو سارے لوگ اس کی طرف دوڑ پڑے کیونکہ انہوں نے ایک نعت لکھی تھی جس کا مضمون بڑا پیارا تھا۔

اس مضمون سے پتہ لگتا تھا کہ ان سے بڑھ کر کوئی عاشق رسول ﷺ شاید دنیا میں نہ ہو، ان کی نعت سن کر ایک اللہ والے بھی ان کی طرف چل پڑے جب انہوں نے دیکھا کہ وہ شاعر ایک حجام کے پاس بیٹھ کر داڑھی منڈا رہا ہے تو انہوں نے پوچھا:

آغَا رِیْشْ مِیْ تَرَاشِیْ ؟

(جناب آپ داڑھی مونڈ رہے ہیں؟)

آپ نے اتنی عمدہ نعت پڑھی اور اب داڑھی منڈا رہے ہو

تو وہ بوکھلا کر شاعرانہ انداز میں جواب دینے لگا کہ

بَلَے مُوْ مِیْ تَرَاشَمْ
وَلَے دِلِ کَسِے نَمِیْ خَرَاشَمْ..

داڑھی چھیل رہا ہوں لیکن کسی کا دل تو نہیں چھیل رہا ہوں۔

تو اس اللہ والے نے جواب دیا: بَلَے دِلِ رسولُ الله مِیْ تَرَاشِی ’’کسی کا دل کیا چھیلنا› تم تو داڑھی منڈوا کر رسول اللہ ﷺ کا دل چھیل رہے ہو۔‘‘

یہ بات سن کر مرزا قتیل تڑپ اٹھے اور وجد میں آ کر ہوش و حواس کھو دیئے.. جب طبیعت کچھ سنبھلی تو اس شاعر نے کہا تھا:

جزاک الله چَشْمَمْ بَازٍ کَرْدَهْ ایِ
مَرَا بَهْ جَانِ جَانْ هَمْرَازْ کَرْدَه ایِ

وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ شیخ محترم

جزاک الله چَشْمَمْ بَازٍ کَرْدَهْ ایِ
مَرَا بَهْ جَانِ جَانْ هَمْرَازْ کَرْدَه ایِ

یعنی اللہ تمہیں جزا دے کہ تُم نے میرے دِل کی آنکھیں کھول دیں اور مجھے جانِ جاں(نبی کریم ﷺ) سے آشنا و ہمراز کروا دیا۔( علم اور علماء کرام کی عظمت صفحہ نمبر 17)

محمد یوسف کرکٹر کا بیان

محمد یوسف مشہور کرکٹر ہے، پہلے عیسائی تھا پھر اللہ کی توفیق سے مسلمان ہوا ان کے متعلق کرکٹر سعید انور سے میں نے ایک بات سنی کہتے ہیں لوگوں نے پوچھا کہ ڈنمارک والوں نے نبی کریم ﷺ کی شکل کو تبدیل کیا ہے کیا آپ کو بھی تکلیف ہوتی ہے تو وہ کہنے لگے کہ ہاں مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے مگر مجھے تو روزانہ ان مسلمانوں کو دیکھ کر بھی تکلیف ہوتی ہے جو نبی کریم ﷺ کی شکل کے مختلف ڈیزائن بناتے ہیں۔

داڑھی منڈوانا اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی ہے

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کے ایک بھیانک منصوبے سے آگاہ کیا ہے کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے کہا:

وَلَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ۠ خَلْقَ اللّٰهِ(النساء:119)

’’اور یقینا میں انھیں ضرور حکم دوں گا تو یقینا وہ ضرور اللہ کی پیدا کی ہوئی صورت بدلیں گے۔‘‘

اس آیت کی تفسیر میں ہمارے حافظ صاحب اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بگاڑنے کی مثالیں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’خوبصورتی کے لیے ابروؤں کے بال اکھاڑنا، جلد میں نیل وغیرہ بھر کر نقش و نگار بنانا، دانت باریک کروانا، سر پر مصنوعی بال لگوانا، مردوں کا داڑھی منڈوانا، یہ سب شیطانی کام ہیں اور اللہ تعالیٰ کی لعنت کا موجب ہیں۔‘‘

شاہ ولی اللہ الدہلوی لکھتے ہیں:

وقصها أي اللحية سنة المجوس وفيه تغيير خلق الله (حجة الله البالغة ۱؍۱۵۲)

’’داڑھی کو منڈانا مجوسیوں کا طریقہ اور تخلیقِ الٰہی میں تبدیلی ہے۔‘‘

گویا کہ داڑھی منڈانے والا زبانِ حال سے تخلیقِ الٰہی پر اعتراض کرتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی زینت کو قباحت میں تبدیل کرتا ہے

داڑھی منڈوانا اعلانیہ گناہ ہے

بہت سے گناہ ایسے ہیں جو ہیں تو گناہ مگر ظاہر نظر نہیں آتے، پوشیدہ اور مخفی ہوتے ہیں، ان کا اثر اور ان کا نظر آنا ان کے کرنے والے تک ہی محدود ہوتا ہے، وہ پردے میں ہوتے ہیں لوگوں کی نظروں میں نہیں آتے۔لیکن بہرحال گناہ، گناہ ہی ہے۔ ہاں مگر جب کسی گناہ کا ارتکاب علی الإعلان، سرعام کیا جائے تو اس کی شناعت، قباحت اور بدبختی اور بڑھ جاتی ہے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس گناہ کا مرتکب اپنے اس فعل پر نہ نادم ہے اور نہ ہی اسے کسی قسم کا کوئی حیاء ہے گویا وہ بندہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں شیر بن جاتا ہے اور یہ معصیت و نافرمانی کی انتہا ہوتی ہے ۔داڑھی کٹوا کر اور اپنے عمل سے چہرہ نبوی سے بے زار ہوکر جب کوئی شخص سرعام دندناتا پھرتا ہے اور اس پر ندامت کی بجائے اسے خوبصورتی، ترقی، جدت اور بڑائی کی علامت سمجھتا ہے تو گویا وہ حکم الہی کی کھلے عام پامالی کررہا ہوتا ہے ۔

اعلانیہ گناہ کی شامت

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ ، وَإِنَّ مِنَ الْمَجَانَةِ أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ بِالليْلِ عَمَلًا، ثُمَّ يُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَهُ اللهُ، فَيَقُولَ : يَا فُلَانُ، عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا. وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ، وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللهِ عَنْهُ (صحيح البخاري |كِتَابٌ:الْأَدَبُ|6069)

میری ساری اُمت کو معاف کر دیا جائے گا، سوائے ان کے جو علانیہ گناہ کرتے ہیں۔

علانیہ گناہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص رات کو گناہ کرے، اور اللہ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈالا ہو لیکن وہ صبح اُٹھ کر خود ہی لوگوں کو بتانے لگ جائے کہ میں نے رات فلاں فلاں کام کیا ہے۔

داڑھی منڈوانا عورتوں سے مشابہت ہے

داڑھی مونڈ کر بندہ اپنے آپ کو عورتوں کے مشابہہ کرتا ہے اور یہ بہت بڑا گناہ ہے ایسا کرنے والے پر نبی کریم ﷺ نے لعنت کی ہے

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں:

لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ.( صحيح البخاري، كِتَابُ اللِّبَاسُ، الحدیث:5885)

’’اللہ کے رسول ﷺ نے ان مردوں پر لعنت بھیجی ہے جو عورتوں جیسا بنتا ہے اور ان عورتوں پر لعنت بھیجی ہے جو مردوں جیسی بنتی ہے۔‘‘

اپنے آپ کو عورتوں کی صف میں کھڑے نہ کریں

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

والرجل ينبغي له أن يعتني بمكارم الأخلاق ومعالي الآداب والرجولة والكرم والشهامة،لا أن يجعل نفسه بمنزلة الأنثى ينتف حواجبه وينتف شعر خديه وشعر لحيته وما أشبه ذلك. (سلسلة فتاوى نور على الدرب» الشريط رقم: 75)

شیخ البانی رحمہ اللہ داڑھی منڈے ڈاکٹر کو دعا دیتے ہیں ۔شیخ البانی رحمہ اللہ بیمار ہو گئے ایک ڈاکٹر آپ کے علاج کے آیا، وہ داڑھی منڈواتا تھا، جب دوائی دینے کے بعد واپس جانے لگا تو کہنے لگا :

ادع الله لي يا شيخ

شیخ! میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا۔تو شیخ رحمه الله فرمانے لگے :

جمَّلك الله بما جمَّل به الرجال (دروس ومواقف وعبر 96)

اللہ تعالیٰ تجھے اس چیز سے زینت بخشے جس سے اس نے مردوں کو زینت بخشی ہے۔

عورتوں، بچوں اور داڑھی والے مرد میں فرق

شیخ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

وأما شعر اللحية ففيه منافع منها الزينة والوقار والهيبة ولهذا لا يرى على الصبيان والنساء من الهيبة والوقار ما يرى على ذوي اللحى (التبیان في أقسام القران: 317)

داڑھی میں بہت منافع ہیں: اس میں زینت، وقار اور ہیبت ہے، اسی لیے بچوں اور عورتوں میں وہ بیبت و وقار نظر نہیں آتا جو داڑھی والے مردوں میں آتا ہے۔

کیا داڑھی، ترقی میں رکاوٹ ہے

داڑھی نہ رکھنے کے پیچھے بہت سے نوجوانوں کا خیال ہے کہ داڑھی رکھ کر ہم ترقی نہیں کر سکتے، دنیا کے ساتھ نہیں چل سکتے، بہت سے شعبوں میں داخلہ نہیں ملے گا، لوگ ہمیں دیکھتے ہی رجعت پسند سمجھنے لگ جائیں گے وغیرہ وغیرہ ۔حالانکہ یہ بات قطعاً درست نہیں ہے ۔قیصر و کسری کے فاتحين کلین شیو نہ تھے۔داڑھی رکھ کر ترقی کی معراج کو چھونے کی بہترین مثال، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی زندگی ہے۔

‏شيخ محمد امين الشنقيطي رحمه الله فرماتے ہیں :’’اور جن لوگوں نے قیصر و کسری کے خزانے حاصل کیے اور مشرق و مغرب ان کے قدموں میں آ گرے؛ان میں ایک بھی حالق (کلین شیو) نہیں تھا ۔‘‘[ أضواء البيان : ٩٢/٤]

سکھوں کی داڑھیاں اور عیسائیوں کی صلیب

سمجھ نہیں آتی کہ ہم مسلمان اپنی اسلامی تہذیب اور روایات کو حقیر سمجھنا کیوں شروع کر دیتے ہیں۔سکھوں کی طرف دیکھیے کہ زمانے کی تمام تر جدت اور تبدیلی کے باوجود اپنی قدیم پگڑی اور داڑھی پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیںاور بڑے سے بڑا اپ ٹو ڈیٹ عیسائی، آج بھی اپنی گردن میں صلیب لٹکائے پھرتا ہے مگر ایک ہم ہیں کہ خوامخواہ کے احساس کمتری میں مبتلا ہیں اگر سکھ داڑھی اور پگڑی رکھ کر اور عیسائی صلیب لٹکا کر ترقی کرسکتا ہے تو ہم اپنی اسلامی وضع قطع میں رہ کر ترقی کیوں نہیں کرسکتے۔

دراصل یہ کفار کا خیال تھا جو شیطان نے بعض مسلمانوں کے زہنوں میں ڈال رکھا ہے۔مکے کے کافر ایسی باتیں کیا کرتے تھے کہ اگر ہم نے ہدایت، اسلام، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرلی تو پھر ہم آگے نہیں بڑھ سکیں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ذہنیت نقل کرتے ہوئے فرمایا :

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا

اور انھوں نے کہا اگر ہم تیرے ہمراہ اس ہدایت کی پیروی کریں تو ہم اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے۔ (القصص:57)

پرفتن ماحول میں داڑھی رکھ کر ترقی کرنے والے چند نوجوان

یہ محض شیطانی دھوکہ ہے ورنہ اس وقت وطن عزیز پاکستان میں وہ کون سا شعبہ ہے جس میں داڑھی والے مرد اور پردے والی عورتیں نہ صرف موجود ہیں بلکہ اونچے عہدوں پر فائز ہیں ہم نے لوگوں کو داڑھی رکھ کر صدر پاکستان، میجر، جنرل اور کرنل بنتے دیکھا ہے باپردہ عورتوں کو جہاز اڑاتے دیکھا گیا ہے یہ تو پھر وطن عزیز پاکستان ہے جوکہ بہرحال ایک اسلامی ملک ہے غیر اسلامی ممالک میں چہرے پر سنت رسول سجا کر ترقی کرنے کی مثالیں بھی موجود ہیں۔

کرکٹ کی دنیا میں ہاشم آملہ کی آئیڈیل پرفارمنس اکثر لوگ جانتے ہیں کہ کیسے اس نوجوان نے کرکٹ کے پرفتن ماحول میں بھی اپنے آپ کو سنت پر کاربند رکھا اور مستزاد یہ کہ اس کی بیوی بھی اسٹیڈیم میں مکمل برقعے میں لپٹ کر روشن مثال قائم کرتی ہے۔

برطانیہ جو مسلمانوں کا بدترین دشمن ہے اور کرکٹ جو غیر اسلامی تہذیب سے لتھڑی ہوئی ہے مگر قابلِ ستائش ہیں وہ دو نوجوان جو اس ملک کی کرکٹ ٹیم میں شامل ہیں لیکن داڑھی، شراب نوشی اور دیگر معاملات میں زرہ بھر بھی شریعت سے کمپرومائز نہیں کرتے ہیں۔

 الغرض، اگر خود بندے کے اندر کسی ٹارگٹ کو حاصل کا عزم مصمم ہو اور اس کی صلاحیت بھرپور ہوتو یہ داڑھی اس کے لیے قطعاً رکاوٹ نہیں ہے۔

پیکر زہد وتقوی مولانا محمد ہارون ھنگورجہ رحمہ اللہ

درمیانہ قد، سرخ وسفید رنگت، خوبصورت سیاہ آنکھیں جن میں شب زندہ داری کے سبب لال ڈورے پڑے ہوئے، متناسب اعضاء، شریں گفتار، دبلے پتلے، سادہ ستھرا سفید لباس شلوار قمیص، پائینچے ٹخنوں سے عقب اوپر اٹھے ہوئے، لہجہ میں آہستگی سوز وگداز، چال میں متانت، سر پر ٹوپی یہ تھے مولانا محمد ہارون ھنگورجہ آپ انتہائی خوف الٰہی رکھنے والے رقیق القلب، ذہین وفہیم، ان کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے قراءت کے وقت اُن پر گریہ طاری ہوتے بھی بار بار دیکھا، زندگی بھر اتباع سنت اُن کا معمول رہا۔ آہ! آج سوچتاہوں رب جانے وہ پیارے پیارے حقیقی متقی لوگ کہاں گئے؟ جن کی صحبت میں بیٹھ کر زندگی ملتی تھی۔

یہ زندگی زندگی نہ سمجھو کہ زندگی سے مراد ہیں بس

وہ عمر رفتہ کی چند گھڑیاں جو اُن کی صحبت میں کٹ گئیں

افسوس کے آج کل حسد،بغض، کینہ کدورت، لالچ، حب دنیا وحب جاہ کے روگ نے ہمیں دل کے امراض میں جکڑ کر رکھ دیا ہے جنہوں نے اندر ہی اندر سے روحوں کو فنا کر دیا ہے، دل آپس میں ایک دوسرے سے کٹے ہوئے ہیں۔ بھائی بھائی کا چہرہ دیکھنے سے دور بھاگتاہے، پھر اصلاح معاشرہ کے لیے کانفرنسوں پر کانفرنسیں بھی بڑے شان سے منعقد ہورہی ہیں لیکن پھر بھی اخلاص اور اخلاق حسنہ ناپید۔

نہ معلوم کیوں شیشہ دل زنگ آلود ہوچکاہے۔ اخلاق کریمانہ اور پاکیزہ کردار طائر عنقا ہوتا جارہا ہے بہر حال

درد معلوم ہے یہ لوگ سب

کس طرف سے آئے تھے کدھر چلے؟

مولانا محمد ہارون رقیق القلب اتنے کہ فکر آخرت کا بیان کرتے خوبصورت کٹوروں جیسی آنکھوں سے آنسو آجاتے تھے۔

مولانا محمد ہارون ھنگورجہ 1939ء میں گوٹھ’’گولیو‘‘ تحصیل اسلام کوٹ ضلع تھرپارکر میں مرحوم واحد ڈنوں ھنگورجہ کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کے آباء واجداد کسی زمانے میں بھارت کے شہر گجرات میں سکونت پذیر تھے اور مویشی خریدنے اور جانور ذبح کرنےکا کاروبار کیا کرتے تھے۔ مولانا محمد ہارون کی ابتدائی پرائمری تعلیم، تھرپارکر کے مشہور علمی وتاریخی گاؤں ڈونجھ میں ہوئی جو ان کے گاؤں سے چار کلو میٹر سے زائد فاصلہ پر تھا جہاں روزانہ پیادہ آیا اور جایا کرتے تھے۔ آپ ابتدائی عمر سے انتہائی،سادہ دل، مذہب سے محبت کرنے والے بااخلاق بچے تھے چونکہ آپ کا گھرانا دیندار سمجھا جاتا تھا۔ پرائمری تعلیم میں حسن اتفاق سے آپ کو جام ہان راھمہ اور عبد الجلیل لنجو کے علاوہ وادی ریگستان کے مشہور عالم، ادیب دانشور مرحوم محمد محسن ھنگورجہ جیسے عالم باعمل اساتذہ کرام میسر آئے جن کے دم خم سے اُن میں مزید حصول تعلیم کا جذبہ پیدا ہوا۔غربت، بے سروسامانی کے باوجود آپ نے تاریخی اور اس وقت کے علم پرورشہر ’’ڈیپلو‘‘ ضلع تھرپارکر میں جاکر ہائی اسکول میں تعلیم کے علاوہ ایک دینی اور مذہبی مدرسہ میں داخلہ لیا جہاں کچھ وقت حصول تعلیم کے بعد حکومت کی جانب سے پالیسی آئی جس کے تحت ہر شاگرد کو اپنے ہی تحصیل ہیڈکواٹر میں حصول تعلیم لازمی قرار دیا گیا جس کے باعث مولانا محمد ہارون نے پھر نقل مکانی کرتے ہوئے گورنمنٹ ہائی اسکول مٹھی تھرپارکر میں داخلہ لیا جہاں بھی آپ نے دینی تعلیم کے ساتھ ہائی اسکول مٹھی سے اچھے نمبروں میں میٹرک پاک کیا، جہاں پر آپ کی تعلیم وتربیت میں مولانا مرحوم علی محمد جونیجو (متوفی 1984) اور محترم محسن ھنگورجہ (متوفی 1997) جیسے اصحاب علم وفضل نے خوب راہنمائی فرمائی۔ مولانا محمد ہارون بچپن سے انتہائی محنتی، مذہبی جذبات سے سرشار، شریف النفس ، صوم وصلاۃ کے باقاعدہ پابند، ایماندار، پارسا اور بے انتہاخوف الٰہی رکھنے والے انسان تھے، پھر خوش قسمتی کہیے کہ مولانا علی محمد ھنگور جیسے اپنے وقت کے ایک جید عالم وفاضل کی محنت سے آپ نے باقاعدہ مسلک اہل حدیث سے باقاعدہ وابستگی اختیار کرکے اپنے اعمال وعقائد کو سلف الصالحین کے منہج کے مطابق کر لیا، کچھ وقت آپ نے بے سروسامانی اور غربت میں گزارا مگر حسن اتفاق سے وادی ریگستان کے مشہور ومعروف سیاسی سماجی اور علمی شخصیت ارباب حاجی اللہ جوڈیو رحمہ اللہ (متوفی 1988) جو کے برصغیر کے مشہور موحد اور سلفی العقائد، حضرت مولانا عبد الرحیم پچھمی رحمہ اللہ(متوفی 1388ھ) سے ایک بار مولانا مرحوم محمد ہارون نے ملاقات کرکے اپنی داستان سنائی پھر کیا تھا ارباب حاجی اللہ جوڑیو نے اس سلفی العقائد نوجوان کو اپنا ہی بیٹا تصور کرتے ہوئے اپنے ساتھ لے کر 1960ء میں اپنے ساتھ اپنی گاڑی میں لے کر ان کو محکمہ روہنیو میں شعبہ رجسٹریشن میں کلرکی کا آرڈر دلایا، پھر پہلی ابتلاء کا انداز آپ اس بات سے بخوبی لگا سکتے ہیں کہ ریونیو ایک ایسا بدنام زمانہ محکمہ ہے جہاں رشوت وکرپشن عروج پر ہوتی ہے لہٰذا جب مولانا ہارون کا آرڈر ٹائپ ہوکر افسر کی ٹیبل پر پہنچا تو ابتداء آپ سے مبلغ بارہ روپیہ رشوت طلب کی گئی پھر اللہ کے اس صالحہ بندے نے غمناک آنکھوں سے آرڈر ٹھکرا دیا کہ صاحب آپ کو رشوت دے کر ساقی کوثر کو کیا منہ دکھاؤں گا جس کا فرمان ہے کہ ’’راشی اورمرتشی دونوں جہنم میں جائیں گے۔‘‘

پھر افسر نے ارباب صاحب کے خوف سے لاچار ہوکر بلارشوت آرڈر مولانا محمد ہارون کے حوالہ کیا اور قدرے ناراضگی میں ان کی پہلی پوسٹنگ جس میں آباد(کوٹ غلام محمد) میں ہوئی جہاں پر آپ نے خوف الٰہی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایمانداری، دیانتداری اور فرائض منصبی کی ذمہ داریوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ڈیوٹی شروع کی روزِ اول اپنے خالق ومالک سے عہدوپیمان کیا کہ میرے مالک ساری زندگی مجھے حرام کی ایک پائی سے بچأئے رکھنا، کچھ وقت تک باقاعدہ باوقار انداز میں ڈیوٹی کرنے کے باعث ان کے افسران نے ان کو بالا بالا کمائی نہ لانے کے باعث وہاں سے میرپور خاص تبادلہ کرادیا۔ یہاں پر بھی آپ نے بڑی دیانت داری اور خوف الٰہی کو ذہن وفکر میں سمائے ڈیوٹی سرانجام دی جس کے باعث پھر ان کا تبادلہ ہیڈ آفس حیدرآباد میں کردیا۔

جوش ومشت ہمیں اس دشت میں لایا

کہ جہاں آ ہوئے قس نہیں ناقہ لیلیٰ کہاں؟

پھرانہوں نےساری سروس ہیڈ آفس حیدرآباد میں کی، قیام حیدر آباد کے دوران آپ نے جماعت غرباء اہل حدیث کی جامعہ مسجد لطیف آباد نمبر ۱۲ کے قریب مکان کرایہ پر لیا، جہاں باقاعدہ اوقات پنجگانہ جماعت سے ادا کرنے کے بعد دو کلومیٹر پیادہ آفیس جایا کرتے تھے، آپ ایک ایسے محکمہ کے افسر تھے کہ اگر چاہتے تو کروڑوں کے بنگلے بناتے لیکن دیانتداری کی وجہ سے تازیست کرایہ کے معمولی مکان میں رہتے تھے۔ مولانا محمد ہارون نے نہ صرف اپنا دامن صاف رکھا بلکہ اپنے پورے آفیس میں کرپشن اور رشوت کو ’’شجرممنوعہ‘‘ بنادیا جس کے باعث دوران سروس آپ نے کئی صعوبتیں برداشت کیں، جائز پروموشن کے حق سے محروم رہے، طعن وتشنیع سے دوچار ہوئے لیکن اپنے اصولوں سے ایک رتی برابر نہ جدا نہ ہوئے آپ نے ہمیشہ سادگی، سچائی، دیانتداری، اور دینداری کا بول بالا رکھا۔

نہ پوچھ ان فرقہ پوشوں کی ارادت ہو تو دیکھ ان کو

یہ بیضا لیے بیٹھے ہیں آستینوں میں

آپ کی صداقت ودیانت کا اس واقعہ سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ آپ نے جب شادی کی تو اپنے اہل خانہ کو حیدرآباد لے آئے۔ بچوں کے ساتھ ان کا ایک انتہائی قریبی عزیز محمدحسن ھنگورجہ کو بھی لائے جو ایک انتہائی ذہین، فہیم نوجوان تھا، آپ نے ان کو نہ صرف سروس دلائی بلکہ ان کو بھی اپنی دیانتداری کا سبق سکھایا، جب تک وہ ان کی نظروں کے سامنے تھے تو ہر ناجائز کام سے مجتنب رہے لیکن جب ان کا دوسری جگہ تبادلہ ہوا تو مولانا محمد ہارون کو معلوم ہوا کہ ان کے ہاں کرپشن اور رشوت بھی آنی شروع ہوئی جس وجہ سے مولانا محمد ہارون ان سے اس قدر ناراض ہوئے کہ ان کے گھر کا کھانا پینا اپنے اوپر مکمل بند کر دیا محمد حسن کی منت سماجت اور یقین دہانیوں کے باوجود تازیست ان کے گھر کا پانی تک بند کر دیا تاآنکہ ایک بار مولانا محمد ہارون کی بیماری نے شدت اختیار کی گاؤں میں کوئی گاڑی نہ مل سکی کہ ڈاکٹر تک پہنچاجائے ایسے میں محمد حسن اپنی گاڑی لے آئے مولانا محمد ہارون نے فرمایا اگر اس گاڑی میں سوار ہوکر ہسپتال جاؤں تو میرا رب ناراض ہوگا کیونکہ

تم ایسے لوگ کہاں سے لاؤ گے؟

ڈھونڈنے نکالو گے لیکن ہمیں نہ پاؤگے

ان کے دیگر احباب، اعزہ، اقرباء جن جن کی نوکریاں مشکوک تھیں اُن کے گھر کا کھانا تک ہمیشہ خود پر بند کر دیا تھا تاہم رشتہ داری، صلہ رحمی، قرابت، برادرانہ وسماجی تعلقات باقاعدہ ادا کرتے رہے تاہم ان کی کمائی سے خود کو ہمیشہ مجتنب رکھا باقی جائز کاموں میں ان کی بھی خوب مدد ومعاونت کرتے تھے آپ ھنگورجہ قوم سے تعلق رکھتے تھے، جن کی اکثریت تھرپارکر میں قیام پذیر ہے، صرف متعلقہ مٹھی تھرپارکر میں ان کے بڑے بڑے گاؤں چالیس سے متجاوز ہیں، ان کے گاؤں مولانا صاحب جاکر دعوت دین کے ساتھ حرام کمائی سے خوف خدا دلاتے، گفتگو میں ایسا سوزگداز تھا کہ خود بھی روتے اور سامعین کو بھی خوف الٰہی سے رُلاتے تھے، مولانا محمد ہارون نے سروس کا بڑا حصہ ڈویژنل ہیڈ کواٹر حیدرآباد میں گزاراجس میں پوری ڈویژن کے لوگ کاموں سے آیا کرتے تھے آپ نے بڑی محنت سے سب کی جائز خدمت کی اُن کو اپنے گھر سے کھانا کھلایا غرباء کو آنے جانے کا کرایہ دیا، بیماروں کا باقاعدہ علاج کرایا کرتے تھے۔

آپ کی خشیت الٰہی کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتاہے کہ ایک روز ان کے گاؤں کا کوئی بندہ ان کے گھر جارہا تھا وہ آئے کہ مولانا صاحب آپ اپنے گھر والوں کے نام کوئی خط دینا چائیں تو میں لیتا جاؤں چونکہ ان کے گاؤں میں نہ فون تھا نہ ڈاک خانہ۔ مولانا محمد ہارون نے کافی دیر تک کوئی کاغذ ڈھونڈنے میں لگے رہے، نہ ملنے پر کسی پرانے رسالہ میں ایک سفید صفحہ خالی نظر آیا آپ نے وہ صفحہ کاٹ کر اس پر خط لکھ دیا اس رشتہ دار نے کہا آخر اتنے بڑے آفس میں آپ کو کوئی سلیقہ کا کاغذ نظر نہ آیا کہ اس پرانے صفحہ پر خط لکھ دیا آپ نے غمناک آنکھوں سے جواب دیا بھائی۔ آفس کے کاغذات اور دوات میری ملکیت نہیں یہ چیزیں حکومت کی رکھی ہوئی امانت ہیں۔آپ نے اپنی زندگی میں اپنے عمل سے ثابت کردیا کہ دیانت داری امانت اوررزق حلال کس چیز کا نام ہے انہوں نے اپنے رویہ سےیہ بھی ثابت کر دیا کہ حقوق اللہ وحقوق العباد کسے کہتے ہیں اپنی اولاد کی بہترین تربیت کرکے ان کو بھی عالم باعمل بنادیا۔ جس کی مثال ان کے فرزند مولانا عبد الرحمن اور مولانا عبد اللہ ہیں ۔

وہ علم اور وہ تواضع اور طرز خود فراموشی

خدابخشے جگر کو لاکھوں انسانوں کا انسان تھا

ب تک سروس میں تھے تک بھی حیدرآباد میں ان کا گزارہ بڑی مشکل سے ہوتا تھا جیسے ریٹائر ہوئے تو اپنے اصل گاؤں گولیو تشریف لائے پھر سب سے پہلے ایک مسجد اورمدرسہ بنایا جس میں کتاب وسنت کی تعلیم شروع فرمائی، ریٹائرمنٹ کے موقع پر آپ ٹرینرای آفس گئے اور پوری سروس کی پائی پائی کا حساب مانگاکہ میرا جتنا بھی جی پی فنڈ بنتاہے اس کی اصل رقم مجھے دی جائے باقی شرح سود میرے لیے حرام ہے۔ ٹریزری والوں نے کہا مولانا صاحب! ہم آپ کو جملہ رقم دیتے ہیں آپ خود جاکر اضافہ سود غرباء ومساکین میں تقسیم فرمادیں۔ مولانا صاحب نے جواب دیا جو رقم میرے لیے حرام ہے وہ کیسے خیرات کر سکتاہوں۔ اس طرح بیک وقت آپ نے کافی رقم سے دستبردار ہوکر واپس گر آئے آپ نے 1989ء میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل فرمائی وہ بظاہر دنیاوی نعمتوں سے محروم رہے لیکن دنیا والوں نے دیکھا کہ جب تک زندہ رہے باکردار،مخلص،قلبی سکون وقرار سے رہے۔

اہل دل شدت غم سے کہیں گھبراتے ہیں

اوس پڑتی ہے تو پھول اور نکھر جاتے ہیں

سچائی، سادگی، قناعت پسندی، ایثار وقربانی کا ساری حیات مجسمہ بنے رہے۔

مر گئے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا

اس طرح یہ پیکر علم واخلاص مختصر زندگی گزارنے کے بعد 2005ء میں اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے اور ان کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین

اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه

خواب بن کر رہ گئی ہیں کیسی کیسی محفلیں

خیال بن کر رہے گئے ہیں کیسے کیسے آشنا!

سیرت النبی ﷺ کے مطالعہ کی ضرورت و اہمیت

سیرت کا معنی و مفہوم:

لفظِ ’’سیرت‘‘ سَیر سے لیا گیا ہے ۔ جس کے لفظی معنی ہیں چلنا، گھومنا، پھرنا،طور طریقہ، کردار، مذہب ، پرانے لوگوں کے قصے اور کہانیاں اور اکابر کی سوانح حیات۔(اردو دائرہ المعارف الاسلامیہ جامعہ پنجاب، تحت مادہ سیرۃ)

اس اعتبار سے سیرت النبی کا مطلب یہ ہو گا کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی کا طریقہ ، طرزِ عمل وسوانح حیات۔ شروع میں لفظِ «سیرت» رسول اکرمﷺ کے مغازی اور جنگی حالات پر استعمال کیا جاتا تھا، اس لیے ابن اسحاق نے نبی کریم ﷺ کے جنگی حالات پر ایک کتاب لکھی جسے سیرت ابن اسحاق یا مغازی ابن اسحاق کہا جاتا ہے، یہی سبب ہے کہ فقہ کی کتابوں میں «کتاب الجهاد والسیَر» کے نام سے جو باب رکھا جاتا ہے ، اس میں غزوات اور جہاد کے احکام ہی لکھے جاتے ہیں۔ (شبلی ، سیرت النبی ﷺ،ج:اول)

ایک طویل تاریخی عمل کے بعد اِس وقت حضور اکرم ﷺکے اقوال ، اعمال اور شخصی حالات کے مجموعے کو سیرت کہاجاتا ہے ، یعنی رسول مکرم ﷺ کا مسلمانوں اور غیر مسلموں کے ساتھ کیا سلوک رہا، اپنوں اور پراؤں سے کیا رویہ رہا، صلح اور جنگ ، امن اور خوف کی حالتوں میں کیا طرزِ عمل رہا، آپﷺ کی شخصی، ازدواجی،معاشی، سماجی اور سیاسی زندگی کیسی رہی، مطلب کہ آپ ﷺ کے اقوال ، اعمال اور مجموعی زندگی کے حالات کو ’’سیرت ا لنبی ﷺ ‘‘کہا جاتا ہے۔

ایک مسلم کے لیے سیرت کا مطالعہ:

سیدنا عیسی ٰ علیہ السلام سے تقریباً چھ سو سال بعد جب دنیا پر کفر، شرک ، جہالت اور ظلم کا اندھیرا چھایا ہوا تھا، اُس وقت عرب کی سر زمین میں کائنات کے رہبر، رحمۃ للعٰلمین ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے آخری پیغمبر بنا کر دنیا کی رہبری کےلیے بھیجا، اور آپ ﷺ کی ذات مبارکہ کو اللہ تعالیٰٰ نے ایسا جامع ، کامل اور ہمہ گیر بنایا کہ جس سے ہر انسان ، خواہ وہ زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو ، رہبری حاصل کر سکتا ہے، قرآن مجید میں ارشاد ہے:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيْرًا (الأحزاب:21)

بیشک تمهارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونۂ عمل موجود ہے یعنی ہر اس شخص کے لیے جواللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہے۔

ظاہر سی بات ہے کہ جس ذات میں مؤمن کے لیے عملی نمونہ موجود ہو، اس کی زندگی اور سیرت کا مطالعہ ایک مومن کا ایمانی فرض بنتا ہے، اس لیے کہ اس ذات کی سیرت کو پڑھے اور سمجھے بغیر نہ تو ہدایت کا راستہ حاصل ہو سکتا ہے ،نہ صحیح علم اور دانائی مل سکتی ہے، اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت ،و اطاعت اور محبت پائی جاسکتی ہے، اور نہ ہی جنت حاصل کی جاسکتی ہے۔ مطلب کہ دنیا اور آخرت کی کامیابی کا دارومدار رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کے مطابق عمل کرنے پر ہے۔ اور جب تک آپ ﷺ کی سیرت ِ طیبہ کو نہ پڑھا جائے گا اور نہ سمجھا جائے گا ، تو اس وقت تک عمل نہ ہو سکے گا۔ اس لیے مسلمان ہونے کے ناطے ہر مومن کا فرض بنتا ے کہ نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ کو پڑھے اور سمجھے، تاکہ اس پر عمل کر کے دونوں جہانوں کی کامیابی حاصل کرسکے۔

ذیل میں ہم کچھ ایسی قرآنی آیات اور احادیث پیش کرتے ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت،اتباع اورمحبت کی تعلیم دی گئی ہے:

قرآنی آیات

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ (محمد:33)

’’مومنو! اللہ کی فرمانبرداری کرو اور پیغمبر کی فرمانبرداری کرو اور اپنے اعمال کو ضائع نہ ہونے دو۔‘‘

اعمال کے ضائع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہر وہ عمل جو اللہ کی ہدایت اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے سوا کیا جائے گا، تواللہ رب العزت کی نظر میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔

وَ اِنْ تُطِيْعُوْهُ تَهْتَدُوْا (النور:54)

’’اور اگر تم ان (رسول اللہ ﷺ)کے فرمان پر چلو گے تو سیدھا راستہ پالو گے۔‘‘

یعنی رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے سوا سیدھا راستہ حاصل نہیں ہو سکتا۔

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ (آل عمران:164)

«اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجا ہے۔ جو ان کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں اور ان کو پاک کرتے اور (ا للہ کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں «

یہ ایک حقیقت ہے کہ علم اور دانش کے سوا کامیاب زندگی نہیں گذاری جاسکتی اور رسول اللہ ﷺ کی پوری سیرت علم و دانش سے بھرپور ہے۔

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (آل عمران:31)

’’(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ بھی تمہیں دوست رکھے گا۔‘‘

مطلب کہ نبی کریم ﷺکی پیروی کے سوااللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنا ناممکن ہے۔

وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(آل عمران:132)

’’اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘

یعنی تم اللہ تعالیٰ کے رحم اور کرم کے مستحق تب بنو گے جب اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا کہا مانو گے۔

وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا

’’سو جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو۔ اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔‘‘ (الحشر:7)

مطلب کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی تمہارے لیے مشعل ِ راہ ہے۔

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ يُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ؕ وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ

’’(یہ تمام احکام) اللہ کی حدود ہیں۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا اللہ اس کو باغات میں داخل کرے گا جن میں نہریں جاری ہیں ،وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔اور یہ بڑی کامیابی ہے۔‘‘ (النساء:13)

مطلب کہ جنت، جو اللہ کی رضا کی جگہ ہے ، اور جسے حاصل کرنا بہت بڑی کامیابی ہے ، وہ رسول اللہ ﷺ کی سیرت ِ طیبہ پر عمل کیے بغیر حاصل نہیں کی جاسکتی۔

احادیث

نبی کریم ﷺ کے ارشاداتِ مبارکہ سے بھی آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے مطالعے کی ضرورت و اہمیت معلوم کی جاسکتی ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ، لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ (مؤطا إمام مالک،کتاب القدر،باب ماجاء فی أھل القدر،حدیث:1395)

’’میں نے تم میں دو چیزیں چھوڑ ی ہیں ، جب تک تم انہیں مضبوطی سے پکڑے رہو گے تب تک ہرگز گمراہ نہیں ہوں گے؛ ایک اللہ کی کتاب اور دوسری اس کے نبی کی سنت۔‘‘

لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ (مشکاة المصابیح،کتاب الإیمان،باب الاعتصام بالكتاب والسنة،حدیث:167)

’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنی خواہش ، پسند ناپسند کو اس طریقے کے تابع نہ کر دے جو میں لے کر آیا ہوں۔‘‘

مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللهَ، وَمَنْ يَعْصِنِي فَقَدْ عَصَى اللهَ (صحيح مسلم،كتاب الإمارة، باب وجوب طاعة الأمراء في غير معصية، وتحريمها في المعصية، الحديث:1835)

’’جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ، اور جس نے میری نافرمانی کی ، اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔‘‘

پاک پیغمبر ﷺ کے ان ارشادات سے آپ ﷺکی سیرت طیبہ کے مطالعے کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔فرمودات الٰہیہ اور نبی کریم ﷺ کے ارشادات کے بعد بھی اگر کوئی مسلمان آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے مطالعے کو غیر اہم سمجھتا ہے تو یہ اس کی نادانی اور بدقسمتی ہوگی ۔ یہی سبب ہے کہ صحابہ کرام ، تابعین اور فقہاء کرام رضی اللہ عنہم نے ہمیشہ قرآن مجید کے بعد نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ کو اپنے لیے مشعل راہ سمجھا۔

سیرت النبی ﷺ کے مطالعے کی تاریخی اہمیت:

چونکہ دین اسلام آخری الہامی دین ہے ، قرآن مجید ہدایت کی آخری الہامی کتاب اور مسلمانوں کا منشور ہے اور نبی کریم ﷺ اللہ کے آخری پیغمبر ہیں۔ اس لیے آپ ﷺ خاتم النبیین کی حیثیت سے قرآن مجید کے شارح بن کر آئے۔ اس لیے آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کی اہمیت قیامت تک آنے والے لوگوں کےلیے برابر رہے گی۔ آپﷺکی سیرت ِ طیبہ ایسی جامع اور کامل ہے کہ اس سے ہر شخص رہبری حاصل کرسکتا ہے، چاہے وہ حکمران ہو، امیر ہو، وزیر ہو، افسر ہو، ملازم ہو، سپاہی ہو، تاجر ہو ، مزدور ہو، جج ہو، استادہو، قائد ہو، فلسفی ہو، ادیب ہو، ہر ایک یکساں رہبری حاصل کر سکتا ہے۔ اس لیے کہ آپ ﷺ کی ذات تمام صفات کی جامع تھی ۔ آپ ﷺکی ذات پاک میں ایک باپ ، ایک ہمسفر، ایک پڑوسی کے لیے یکساں عملی نمونہ موجود ہے۔ ایک بار جو آپ ﷺ کے دربار میں داخل ہوا، اسے پھر کسی دوسرے کا دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انسانیت جس آخری کمال تک پہنچ سکتی ہے، وہ سب خوبیاں اس ایک ہستی میں موجود تھیں۔ انسانی تاریخ میں ’’عظیم انسان ‘‘ یہ ایک ہی ہستی ہے۔جسے مشعل بنا کر ہر دور میں ہم اپنی زندگی کے ایوان کو روشن کر سکتے ہیں ۔

غیر مسلم کے لیے سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ:

آپ ﷺ نے اپنی تعلیمات،کردار اور ان تھک جدوجہد کے ذریعے دنیا کو شرک اور توہم پرستی جیسی قبیح رسوم سے نجات دلائی جس نے انسانی تہذیب و تمدن کا ارتقاء روکا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے انسانوں کے بیچ اونچ نیچ کے طبقاتی نظام کو غیر معقول قرار دےانسانیت کو اس سے نجات دلائی جو آپ ﷺ کا پوری انسانیت پر بہت بڑا احسان ہے۔ آپ ﷺ نے عورتوں ،غلاموں اور جنگی قیدیوں تک کے حقوق متعین کیے جنھیں اس سے قبل انسانی حقوق حاصل نہیں تھے۔آپ ﷺ جانوروں تک کے حقوق بتائے جن کے ساتھ پہلے بے رحمانہ سلوک کیا جاتا تھا۔آپ ﷺ نے دنیا کو اس تنگ نظری سے نکال دیا جس کے مطابق اپنی زبان، اپنے علم واپنی روایات کو الہامی تصور کیاجاتا تھا اور اس سے کسی چیز کو نکالنا یا داخل کرنا جرم سمجھاجاتا تھا۔ آپ ﷺ نے اس کے مقابلہ میں ہر علم ودانش کی چیز کو انسانیت کا مشترکہ ورثہ تسلیم کر کے اسے حاصل کرنے کی ترغیب دی،جس کی بنیاد پر انسانیت ایک دوسرے کے علم اور تجربے سے مستفید ہوتی رہی اور اسی کے نتیجے میں آج دنیا نے ہر شعبہ حیات میں ترقی کی یہاں تک کہ مریخ تک جا کر پہنچی۔بہر حال حقیقی معنی میں اگر کوئی رفاہی وفلاحی انقلاب اس دھرتی پر لایا ہے تو وہ صرف اللہ کے آخری پیغمبر محمد عربی ﷺ ہی ہیں۔ مطلب کہ کروڑوں لوگوں نے آپﷺ کی روشنی سے نور حاصل کیا، دنیا کے کونے کونے تک آپ ﷺ کا فیض پہنچا۔ اس وقت کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہے جو اس عظیم ہستی کی سیرتِ طیبہ کے کسی نہ کسی پہلو سے فیضیاب نہ ہوا ہو۔ اس لیے آپ ﷺ کی زندگی کا مطالعہ نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے لازمی ہے۔

نمازِ میں سینے پر ہاتھ باندھنے کا ثبوت رسول اللہ ﷺ سے سلف صالحین تک

محترم قارئین کرام !نماز میں قیام کی حالت میں ہاتھ کہاں باندھے جائیں؟ یہ اہلِ علم کے درمیان مختلف فيه مسئلہ ہے ، اسی اختلاف کی وجہ سے دلائل کی بنیاد پر علماء کے مختلف مؤقف ہیں،کوئی سینے پر ، یا ناف سے اوپر ہاتھ باندھنے کو ترجیح دیتا ہے، تو کوئی زیر ناف باندھنے کو ،

فیس بک پر بعض حنفی حضرات جو تقلید پر بات کرتے ہوئے اتنے متشدد ہو جاتے ہیں کہ اہل حدیث علماء کو سفہاء ، نفس کے پجاری ، جیسے القابات سے نواز رہے ہوتے ہیں ، وہیں اس مسئلہ پر اتنےمتشدد ہو جاتے ہیں کہ کئی طرح کے دعوے کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ،کوئی کہتا ہے کہ سینے پر ہاتھ باندھنا بدعت ہے جو اہل حدیثوں نے ایجاد کی ہے،

کوئی کہتا ہےسلف صالحین میں سے کسی کا مؤقف سینے پر ہاتھ باندھنےکا نہیں ہے ، اس کا جواب دینے سے پہلے میں یہ بتا دوں کہ اگر یہ اختلاف اولی ، غیر اولی تک محدود ہوتا تو پھر بھی سمجھ آتا ہے کہ ایک مکتب فکر کا اجتہاد ہے ، لیکن اسے بدعت کہنا اور سلف صالحین کی مخالفت کہنا سراسر تشدد ہے جو کہ تعصب کی بنا پر ہے ، اسے بدعت کہنے والوں کو میں کہوں گا اگر میں صرف کوئی ایک حدیث بھی اس موضوع پر پیش کر دوں تو آپ کے دعوی کی بنیاد ہی ختم ہو جائےگی ۔

پہلے ہم اس مسئلے پر رسول اللہ کی سنت پیش کرتے

۱: عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ يَشُدُّ بَيْنَهُمَا عَلَى صَدْرِهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ

طاوؤس (تابعی) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنا دائیاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھتے، پھر ان کو اپنے سینے پر باندھ لیتے، اور آپ نماز میں ہوتے۔( سنن أبي داؤد / ت: شعيب ارنؤوط/ ٢/٧١ وسنده صحيح مرسل عند الأحناف )

نوٹ: یاد رہے کہ احناف کے ہاں مرسل حدیث حجت ہے ، اور یہاں تصحیح بھی اُن کے ھی اصول سے اس لئے پیش کی ہے کیوں کہ مذکورہ تحریر میں ہمارے فریق مخالف احناف ہی ہیں۔

دوسری مرفوع حدیث سے رسول اللہ کا طریقہ

۲: قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ، وَرَأَيْتُهُ، قَالَ، يَضَعُ هَذِهِ عَلَى صَدْرِهِ
وصف يحيى : اليمنى على اليسرى فوق المفصل

ترجمہ:سیدنا ھلب طائی (رض) فرماتے ہیں کہ: میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، آپ اپنے دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرتے تھے، میں نے آپ علیہ السلام کو دیکھا کہ آپ اپنے اس ہاتھ کو اپنے سینہ پر رکھتے تھے۔(رواه الإمام احمد في مسنده / ٣٦/٢٩٩ شعيب ارنؤوط، المكتبة الشاملة ،وسنده صحيح )

نوٹ: اس روایت پر جو اعتراضات حنفیوں کی طرف سے کئے گئے ہیں اُن کے جوابات کے لئے دیکھئے: حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب : نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام ،،

تیسری مرفوع حدیث سے رسول اللہ کا طریقہ مبارک ملاحظہ فرمائیں

۳۔ عن وائل بن حجر قال : صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ووضع يده اليمنى على يده اليسرى على صدره.

سيدنا وائل بن حجر رضی اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی آپ ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھ کر سینے پر رکھ لیا۔( رواه الإمام ابن خزيمة في صحيحه /١/٢٤٣، مصطفى الأعظمي، مكتبة الشاملة)

نوٹ: مذکورہ روایت پر حنفیوں کے اعتراضات کے جوابات کے لئے دیکھئے حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب : نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام۔

نوٹ: اِن مرفوع احادیث صحیحہ ثابتہ سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ نماز میں سینے پر ہاتھ باندھتے تھے ،غالباً ان احادیث صحیحہ ثابتہ کی بُنیاد پر ہی سلف نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ رسول اللہ سینے پر ہی ہاتھ باندھتے تھے چنانچہ امام جلال الدین سیوطی (م911ھ) فرماتے ہیں:

وكان يده يضع اليمنى على اليسرى ثم يشد بهما على صدره

یعنی : رسول اللہ ﷺ اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھتے پھر اُن کو سینہ پر باندھ لیتے تھے۔(عمل الیوم والليلة للسيوطي:١١)

 اب رسول اللہ ﷺکے عمل کے بعد کسی اور کے عمل کی حاجت تو نہیں رہتی ہے ، ویسے احناف اتنا تو مانتے ہی ہیں کہ ان احادیث سے بعض اسلاف نے سینے پر ہاتھ باندھنے کی دلیل پکڑی ہے،بعض تقلیدی حضرات جو تعصّب کے سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں اور علم کی ہوا بھی اُن کو میسر نہیں ہے وہ کہتے ہیں کہ اسلاف میں بھی کوئی سینہ پر ہاتھ باندھنے کا قائل نہیں تھا حالانکہ یہ دعویٰ بتا رہا ہے کہ یہ لوگ علم سے بالکل کورے ہیں اِس کے علاوہ کئی اصحاب رسول ﷺسے بھی سینہ پر ہاتھ باندھنے کے اقوال مروی ہیں لیکِن ماننے والے کے لئے ایک دلیل بھی کافی ہے اور نا ماننے والے کے لئے پورہ ذخیرہ احادیث بھی نا کافی ہے۔

نوٹ:

 صحابہ کرام سے بعض اقوال حنفی حضرات ناف کے نیچے باندھنے پر پیش کرتے ہیں مگر وہ ثابت نہیں ہیں چنانچہ امام ابن عبد البر (م٤٦٣) رحمہ اللہ نے کہا:

قال الشافعي: عند الصدر، روي ذالك عن علي وأبي هريرة وإبراهيم النخعي، ولا يثبت ذلك عنهم

امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک (نماز میں) سينه پر ہاتھ باندھے جائیں، ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کے اقوال علی اور ابو ھریرہ اور ابراہیم نخعی سے بھی مروی ہیں ، لیکِن اِن سے وہ اقوال ثابت نہیں ہیں۔( التمهيد لابن عبد البر ، بشار عواد ۱۲/٤٢٠ المكتبة الشاملة )

تابعی سعید بن جبیر (م٩٥) رحمہ اللہ:

سئل سعيد بن جبير أين وضع اليدين في الصلاة؟ فقال: فوق السرة

سعید بن جبیر سے پوچھا گیا کہ: نماز میں ہاتھ کہاں باندھے جائیں ؟ آپ نے فرمایا: ناف کے اُوپر (سینہ پر)۔( السنن الكبرى للبيهقي ، وصحه البيهقي في السنن / ٢/٤٧ ت: محمد عبد القادر عطا / دار الكتب العلمية )

امامِ شافعی (م٢٠٤) رحمه الله:

قال ووضع اليمين على اليسار على الصدر ، لما روى ابن خزيمة في صحيحه عن وائل بن حجر

یعنی امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ: دائیں کو بائیں ہاتھ پر رکھ کر سینے پر باندھے جائیں ، کیونکہ امام ابن خزيمه نے اپنی صحیح میں حضرت وائل بن حجر سے روایت کیا ہے۔( شرح مختصر التبريزي على مذهب الإمام الشافعي للإمام ابن ملقن ، وائل محمد بكر زهران / ط. دارالفلاح / ص: ٩٢)

علامه عيني الحنفي (م٨٥٥) نے کہا:

« في مكان الوضع عندنا تحت السرة وعند الشافعي على الصدر ذكره في الحاوي والوسيط تحت صدره واحتج الشافعي بحديث وائل بن حجر أخرجه ابن خزيمة في صحيحه»

ہاتھ باندھنے کی جگہ ہمارے نزدیک ناف کے نیچے ہے ، اور امام شافعی کے نزدیک سینہ پر ہاتھ باندھے جائیں ، جیسا کہ حاوی اور وسیط میں ذکر کیا ہے کہ امام شافعی سینہ کے نیچے ہاتھ باندھنے کے قائل ہیں اور شافعی نے دلیل پکڑی ہے حدیث وائل بن حجر سے جِس کو ابنِ خزيمة نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔(عمدة القاري للعيني ٥/٢٨٩)

تنبیہ: یہاں بھی آپ دیکھ سکتے ہیں کہ امام بدر الدین عینی حنفی نے امام شافعی کا مؤقف على الصدر بیان کر کے تحت الصدر کے الفاظ استعمال کئے ہیں یعنی على الصدر اور تحت الصدر دونوں کو ایک ہی معنیٰ میں بیان کر رہے ہیں ۔یہ مغالطہ بھی دُرست نہیں ہے کہ دیکھو فلاں فلاں سلف نے تحت الصدر ( سینے کے نیچے) کے الفاظ استعمال کئے ہیں على الصدر کے نہیں ۔

امام بابرتي حنفی (م٧٨٦ھ) نے کہا:

«وعند الشافعي الأفضل أن يضع يده على الصدر»

امامِ شافعی کے نزدیک افضل یہ ہے کہ (نمازی) سینے پر ہاتھ باندھے۔ (عمدة القاري للعيني )

مولانا عبد الشکور لکھنوی حنفی:

امامِ شافعی کے نزدیک مردوں کو بھی سینہ پر ہاتھ باندھنے چاہیے۔(علم الفقہ / ۲۱۰)

ابو سليمان احمد الخطابي (م٣٨٨ه‍) فرماتے ہیں کہ:

وإنما السنة أن يضع يديه على صدره

اور سنّت یہ ہے کہ: (نمازی) اپنے ہاتھوں کو اپنے سینے پر رکھے۔(أعلام الحديث في شرح صحيح البخاري للخطابي، ت: د/ محمد بن سعيد آل سعود ط: التراث الاسلامي ،ص:٦٥٢)

اسی طرح امام أبو بكر البیهقي (م458) نے اپنی سنن میں اس طرح باب قائم کیا ہے:

«باب وضع اليدين في الصلاة على الصدر من السنة»

یعنی نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنا سنّت ہے۔( السنن الكبرى للبيهقي ٢/٤٦ / مكتبة الشاملة ط: العلمية )

امام ابن رسلان الرملي (م٨٤٤) نے کہا ہے:

فيه دليل على أن السنة في وضع اليدين أن يكون على الصدر (شرح سنن أبي داؤد لابن رسلان ٤/٣٠٩ / ط: دارالفلاح )

’’یہ دلیل ہے کہ ہاتھ باندھنے کا مسنون طریقہ سینے پر باندھنا ہے۔‘‘

اِس لئے یہ کہنا کہ اہل علم میں سے سینه پر ھاتھ باندھنے کا قول نہیں ہے ، غلط ہے۔

ایک مغالطہ:

بعض حنفی حضرات عوام کو یہ مغالطہ دیتے ہیں کہ: دیکھو فلاں اہلِ علم نے ’’ فوق السرہ ‘‘ ناف سے اوپر کہا ہے اور فلاں نے : تحت الصدر سینے سے نیچے ہاتھ باندھنا لکھا ہے،

فوق السرة: بمعنی سینہ پر

تحت الصدر: بمعنی سینہ پر

اہلِ علم جب ان دو الفاظ کو بولتے ہیں تو معنیٰ ایک ہی ہوتا ہے «على الصدر» یعنی سینہ پر ۔اِس کی مثالیں تو بیشمار ہیں لیکِن کُچھ اہلِ علم کی صراحت ہم یہاں نقل کر رہے ہیں:

یہ بات احناف اور اہلِ حدیث میں متّفق علیہ ہے کہ عورت سینہ پر ہاتھ باندھے گی اور یہ فقہی کُتب میں جگہ جگہ لکھا :

«فإنها تضع على صدرها»

کہ عورت اپنے سینہ پر ہاتھ باندھے گی۔( البحر الرائق شرح كنز الدقائق : ١/٣٢٠ / مكتبة الشاملة )

ائمہ نے عورتوں کے لئے «فوق السرہ» کے الفاظ بھی استعمال کئے ہیں، چنانچہ امام ساغدي الحنفي (م٤٦١) لکھتے ہیں:

«والنساء يضعن فوق السرة»

یعنی عورتیں ناف سے اوپر (سینہ) پر ہاتھ باندھیں۔( النتف في الفتاوى للسغدي ، ١/٧١/ مكتبة الشاملة )

یہاں پر امام ساغدى حنفی نے عورتوں کے سینے کے لئے فوق السرہ کے الفاظ استعمال کئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ فوق السرہ بمعنی سینے پر بھی استعمال ہوتا ہے ۔

«تحت الصدر»

فقہ حنفی کی کتاب «مجمع الأنهر» میں لکھا ہے کہ:

«وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ تَحْتَ الصَّدْرِ كَمَا فِي وَضْعِ الْمَرْأَةِ عِنْدَنَا»

یعنی شافعی کے نزدیک (نمازی) سینے کے نیچے ہاتھ رکھے گا ، جس طرح ہمارے نزدیک عورتیں ہاتھ رکھتی ہیں۔(مجمع الأنهر في شرح ملتقي الأبحر / ١/٩٣)

معلوم ہوا کہ سینہ کے لئے اہلِ علم کبھی «على الصدر» تو کبھی «تحت الصدر» تو کبھی «فوق السرة» جیسے الفاظ کا استعمال بھی کیا کرتے ہیں

اِس لئے بعض مغالطہ بازوں کا اِن الفاظ کا سہارا لے کر مغالطہ دینا اُن کے علم سے کورا ہونے کی دلیل ہوتی ہے،،

خلاصہ

نماز میں سینہ پر ہاتھ باندھنا رسول اللہ سے لے کر صحابہ کرام تابعین ، اور بعد کے اسلاف سے ثابت ہے ۔

شبہات سے بچنے کا بیان

شبہات سے بچنے کا بیان(1)

(1) عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم، عَنِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَاأَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلاَ تَأْكُلْ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أُرْسِلُ كَلْبِي وَأُسَمِّي فَأَجِدُ مَعَهُ عَلَى الصَّيْدِ كَلْبًا آخَرَ لَمْ أُسَمِّ عَلَيْهِ، وَلاَ أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ قَالَ: لَاْ تَأْكُلْ إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى الآخَرِ (البخارى، محمد بن إسماعيل بن إبراهيم، الجامع الصحيح، دار الشعب القاهرة، الأولى، 1407–1987، ح: 2054)

’’سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرمﷺ سے معراض (چوڑے تیر) کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب وہ تیر دھار والی طرف سے لگے تو تم شکار کو کھا لیا کرو اور اگر چوڑی جانب سے لگے تو نہ کھاؤ اس لئے کہ وہ موقوذہ (کسی نے پتھر، لاٹھی یا کوئی اور چیز ماری جس سے وہ بغیر ذبح کیے مرگیا۔ زمانہ جاہلیت میں ایسے جانوروں کو کھالیا جاتا تھا۔ شریعت نے منع کردیا۔ بندوق کا شکار کیے ہوئے جانور کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ امام شوکانی رحمہ اللہ نے ایک حدیث سے استدلال کرتے ہوئے بندوق کے شکار کو حلال قرار دیا ہے۔ (فتح القدیر) یعنی اگر کوئی بسم اللہ پڑھ کر گولی چلائے اور شکار ذبح سے پہلے ہی مرگیا تو اس کا کھانا اس قول کے مطابق حلال ہے۔ (تفسیر احسن البیان، حافظ صلاح الدین یوسف) میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ (کبھی) میں اپنا کتا شکار کیلئے بسم اللہ پڑھ کر بھیجتا ہوں تو اس کے ساتھ ایک دوسرا کتا بھی مل جاتا ہے جس پر میں نے بسم اللہ نہیں پڑھی ہوتی اور میں نہیں جانتا کہ ان دو کتوں میں سے کس نے شکار کو پکڑا ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ تم ایسے شکار کو مت کھاؤ اس لئے کہ تم نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہوتی ہے اور دوسرے پر نہیں پڑھی ہوتی‘‘۔

اس حدیث میں بھی اس شبہ کی وجہ سے کہ شاید شکار کو اس کتے نے مارا ہو جس پر بسم اللہ نہیں پڑھی گئی، آپﷺ نے اس شکار کو کھانے سے منع فرمایا۔ یہاں یہ بات بطور خاص قابل ذکر ہے کہ:

 چونکہ یہاں شبہ جانور کی حلت و حرمت کے حوالے سے تھا، جن میں اصل حرمت ہے، اس لئے اس شبہ سے بچنا واجب تھا۔

شبہات سے بچنے کا بیان(2)

(2) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّﷺ بِتَمْرَةٍ مَسْقُوطَةٍ فَقَالَ: لَوْلاَ أَنْ تَكُونَ مِنْ صَدَقَةٍ لَأَكَلْتُهَا (البخارى، محمد بن إسماعيل بن إبراهيم، أبو عبد الله، الجامع الصحيح، دار الشعب القاهرة، الأولى، 1407–1987، كتاب بدء الوحي، باب مَا يُتَنَزَّهُ مِنَ الشُّبُهَاتِ، ح: 2055)

’’سید نا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہﷺ ایک گری ہوئی کھجور کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا کہ اگر یہ صدقے کی نہ ہوتی میں اس کو کھا لیتا‘‘۔

اس حدیث میں بھی شبہ کا بنیادی اصول بیان کیا گیا ہے ۔آپﷺ نے کھجور کو صرف اس لیے کھانے سے اجتناب فرمایا کہ کہیں وہ صدقہ کی نہ ہوکہ آپﷺصدقہ نہیں کھایا کرتے تھے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ:

 کھجور جیسی چیز جس میں شریعت کا اصل حکم اباحت کا ہے ، اس میں بھی کسی وجہ سے شبہ پیدا ہوسکتا ہے۔

قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: تَمَامُ التَّقْوَى أَنْ يَتَّقِيَ اللهَ الْعَبْدُ حَتَّى يَتَّقِيَهُ فِي مِثْقَالِ ذَرَّةٍ، حَتَّى يَتْرُكَ بَعْضَ مَا يَرَى أَنَّهُ حَلَالٌ، خَشْيَةَ أَنْ يَكُونَ حَرَامًا، يَكُونُ حِجَابًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْحَرَامِ (ابن المبارك، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك بن واضح الحنظلي، التركي المرْوزي، الزهد والرقائق، الناشر: دار الكتب العلمية – بيروت، بَابٌ فِي التَّقْوَى، ج: 2، ص: 19)

’’سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ: کامل تقویٰ یہ ہے کہ آدمی ایک ذرہ کے برابر چیز کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرے اور حرام میں پڑنے کے ڈر سے بعض ان چیزوں کو بھی چھوڑ دے جن کو وہ حلال سمجھے، تاکہ اس کے درمیان اور حرام کے درمیان پردہ رہے‘‘۔

قال الحسنُ: ما زالتِ التقوى بالمتقينَ حتى تركُوا كثيرًا من الحلالِ مخافةِ الحرامِ (ابن رجب، زين الدين عبد الرحمن بن أحمد بن رجب بن الحسن، البغدادي، الدمشقي، الحنبلي، روائع التفسير، دار العاصمة المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى 1422-2001م، ج: 1/144)

’’سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ: متقی لوگوں کا تقویٰ اس وقت تک محفوظ نہیں رہتا جب تک وہ حرام (میں پڑنے) کے ڈر سے بہت سی حلال چیزوں کو بھی نہ چھوڑ دیں‘‘۔

وقال الثوريُّ: إنَّما سُموا المتقين لأنَّهم اتَّقوا ما لا يُتَّقى (ابن رجب، زين الدين عبد الرحمن بن أحمد بن رجب بن الحسن، البغدادي، الدمشقي، الحنبلي، روائع التفسير، دار العاصمة المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى 1422-2001م، ج: 1، ص: 144)

’’امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ : متقی لوگوں کو متقی (یعنی بچنے والے) اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ اُس چیز سے بھی بچتے ہیں جس سے عام طور پر بچا نہیں جاتا ‘‘۔

عن ابنِ عمرَ رضی الله عنهما قالَ: إنِّى لأحبُّ أن أدع بيني وبين الحرامِ سترةمن الحلالِ لاأخرقُها (ابن رجب، زين الدين عبد الرحمن بن أحمد بن رجب بن الحسن، البغدادي، الدمشقي، الحنبلي، روائع التفسير، دار العاصمة المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى 1422-2001م، ج: 1، ص: 144)

’’سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماکا ارشاد ہے کہ: میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میرے اور حرام کے درمیان حلال چیزوں کا ایک ایسا پردہ ہو جسے میں چاک نہ کروں ‘‘۔

وقال سفيانُ بن عيينةَ: لا يصيبُ عبد حقيقةَ الإيمانِ حتى يجعلَ بينه وبين الحرامِ حاجزًا من الحلالِ، وحتى يدعَ الإثمَ وما تشابَهَ منه (ابن رجب، زين الدين عبد الرحمن بن أحمد بن رجب بن الحسن، البغدادي، الدمشقي، الحنبلي، روائع التفسير، دار العاصمة المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى 1422-2001م، ج: 1، ص: 144-145)

’’امام سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ: انسان اُس وقت تک ایمان کی حقیقت نہیں پا سکتا جب تک کہ اپنے اور حرام چیزوں کے درمیان بعض حلال چیزوں کی رکاوٹ نہ کھڑی کردے اور جب تک کہ وہ گناہ کے ساتھ اُس چیز کو بھی نہ چھوڑ دے جو گناہ کے مشابہ ہو‘‘۔

ان اقوال کی روشنی میں یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہ سب اقوال اُن حلال چیزوں کے بارے میں ہیں جن سے کسی درجہ میں انسان کے حرام تک پہنچنے کا محض اندیشہ ہو۔ رہے وہ مشتبہ امور جن کے بارہ میں شریعت کا اصل حکم حرام ہونے کا ہے ، تو ایسے مشتبہات سے بچنا تو نہ صرف تقویٰ بلکہ اُس کے تقاضے سے بھی ضروری ہے، بشرطیکہ شبہ قوی درجے کا ہو ۔

شبہات سے بچنے کا بیان (3)

(3) قَالَ رَسُولُ اللهِﷺ: لاَ يَبْلُغُ العَبْدُ أَنْ يَكُونَ مِنَ الْمُتَّقِينَ حَتَّى يَدَعَ مَا لاَ بَأْسَ بِهِ حَذَرًا لِمَا بِهِ البَأْسُ (الترمذي، محمد بن عيسى أبو عيسى الترمذي السلمي، الجامع الصحيح سنن الترمذي، دار إحياء التراث العربي بيروت، ج: 4، ص: 634، ح: 2451. (ضعيف)

’’رسول اللہﷺ نے فرمایا: بندہ اُس وقت تک متقی لوگوں میں سے نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ حرج والی چیزوں سے بچنے کیلئے اُس چیز کو بھی چھوڑ نہ دے جس میں کوئی حرج نہ ہو‘‘۔

اس حدیث میں دو باتیں بیان کی گئی ہیں:

1۔ مشتبہات سے اجتناب کے بغیر تقویٰ کا حصول ممکن نہیں

2۔ تقویٰ کے حصول کیلئے بسا اوقات بعض حلال چیزوں کو بھی چھوڑنے کا اہتمام کرنا پڑتا ہے۔

شبہات سے بچنے کا بیان (4)

(4) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِﷺ: قَاتَلَ اللهُ الْيَهُودَ، حُرِّمَ عَلَيْهِمُ الشَّحْمُ، فَبَاعُوهُ وَأَكَلُوا ثَمَنَهُ (مسلم، مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشيري النيسابوري، الجامع الصحيح المسمى صحيح مسلم، دار الجيل بيروت + دار الأفاق الجديدة بيروت، باب تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالأَصْنَامِ، ج: 5، ص: 41، ح: 4137)

’’سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں کو غارت کرے کہ ان پر چربی کو حرام کیا گیا تو انہوں نے (یہ حیلہ کیا کہ) چربی کو (پگھلا کر) بیچا اور اس کی قیمت کھائی (کہ یہ تو حلال ہے)‘‘۔

اس حدیث میں یہود پر اس وجہ سے لعنت پڑنے کا ذکر ہے کہ انہوں نے چربی کو جو اُن پر حرام کر دی گئی تھی، حلال کرنے کیلئے یہ باطل حیلہ کیا تھا کہ اس کو پگھلا کر تیل بنا لیا تھا اور تیل کو فروخت کرکے اس کی قیمت کو اپنے لئے اس دلیل سے حلال قرار دیا تھا کہ یہ تو چربی کی قیمت نہیں ، تیل کی قیمت ہے اور تیل ہم پر حرام نہیں۔

شارحینِ حدیث نے لکھا ہے کہ :

حیلہ کے باطل ہونے کا پس منظر یہ تھا کہ یہ حرام کو حاصل کرنے کیلئے کیا گیا، حرام سے بچنے کیلئے نہیں۔

 نیز یہ حیلہ اس لئے بھی باطل ہے کہ چربی پگھلانے سے اس میں محض ایک ظاہری نوعیت کی تبدیلی آتی ہے اور ایسی ظاہری تبدیلی سے اگر کسی چیز کا نام بھی تبدیل ہوجائے تو شرعاً ایسی تبدیلی کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا، اس کی وجہ سے حرام چیز حلال نہیں ہوتی۔

یہ حدیث اس حوالے سے بہت فکر انگیز ہے کہ ایک حدیث کے مطابق آخر زمانے میں لوگ حرام چیزوں مثلا شراب، خنزیر وغیرہ کا نام بدل کر اس کو استعمال کریں گے۔ اس حوالے سے اگر ہم آج کی صورتحال کا جائزہ لیں تو بہت سی ایسی مصنوعات وجود میں آچکی ہیں جن میں خنزیر یا شراب وغیرہ حرام چیزیں استعمال ہوتی ہیں لیکن وہ دیگر مختلف مصنوعات کے ناموں سے مسلمانوں کے بازاروں میں فروخت ہورہی ہیں اور مسلمان محض نام کے دھوکے میں آکر بے فکری سے ان کو استعمال کر رہے ہیں۔

احادیث نبویہ سے ماخوذ اہم تعلیمات کا خلاصہ

ان احادیث سے درج ذیل چند اصولی ہدایات معلوم ہوتی ہیں:

1.جس چیز کی حلت یا حرمت کے بارے میں قرآن و سُنت خاموش ہوں وہ مباح ہے۔

2.جس چیز میں حلال و حرام دونوں طرح کا احتمال ہووہ مشتبہ سمجھی جائے گی۔ ایسی مشتبہ چیزوں کو حرام کہنا یا سمجھنا درست نہیں ، مگر دین و آبرو کی حفاظت کے لئے عملی طور پر ان سے بھی بچنے کا حکم ہے۔

3.گوشت کے معاملے میں اگر شبہ ہو تو اس کے ساتھ حرام چیز والا معاملہ کیا جائے گا ، جیسا کہ سید نا عدی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔

4.کسی حرام چیز کو حلال کرنے کیلئے حیلے بہانے کرنا جائز نہیں۔

5. وہ شبہ معتبر ہے جو کسی دلیل کی بنیاد پر ہو کیونکہ بغیر دلیل کے شبہ وسوسہ کہلاتا ہے اور شرعی احکام میں وسوسہ کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ لہٰذا جہاں بھی کسی چیز کے بارے میں شبہ ہوگا تو اس چیز کے شرعی حکم کے سلسلے میں دلیل کو دیکھا جائے گا کہ اس شبہ میں کوئی دلیل موجود ہے یا نہیں؟ چنانچہ بادلیل شبہ معتبر ہوگا اور بے دلیل شبہ غیر معتبر ہوگا۔

6. شبہات سے بچنے کا علی الاطلاق فقہی حکم بیان کرنا ممکن نہیں ہے لہذا اصل تو یہ ہے کہ اگر شبہ کسی دلیل کی بنیاد پر ہے تو پھر شبہ کی نوعیت کی طرف دیکھا جائے گا کہ اگر وہ قوی درجے کی ہے تو اس سے بچنا فرض ہوگا اور اگر وہ کمزور درجے کی ہو تو اس سے بچنا مستحب اور تقویٰ کا تقاضا ہوگا ۔ واضح رہے کہ حکم فقہی بنیاد پر ہے تقوی کی بنیاد پر نہیں کیونکہ تقوی کی بنیاد تو ہمیں حدیث نے دے دی ہے کہ جس نے اپنے آپ کو شبہات سے بچا لیا گویا اس نے اپنا دین بچا لیا۔

7.مذکورہ احادیث میں مسکوت عنہ چیزوں کے حوالے سے تحقیق سے منع کیا گیا ہےمگر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک عام صارف کیلئے کیا حکم ہے کیا وہ ان احادیث پر عمل کرتے ہوئے مسلمانوں کے بازاروں میں بکنے والی ہر چیز کا استعمال کر سکتا ہے یا نہیں۔

8.یہ سوال اس اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے کہ دورِ جدید میں غذا، دوا اور انسانی استعمال کی دیگر اشیاء کی تیاری میں حرام اور مشتبہ کیمیائی اجزاء جس کثرت سے استعمال ہونے لگے ہیں، اس کا پہلے کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ہر مسلمان کو یہ مشکل درپیش ہے کہ وہ ایسی اشیاءاستعمال کر رہا ہے، جن کے بارے میں اس کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کس نے بنائی ہیں؟ اور اس کے بنانے میں کس طرح کے اجزاء استعمال کئے گئے ہیں؟ لہذا اس بارے میں تین بنیادی باتیں سمجھنا لازم ہیں :

اول: وساوس کی تحقیق ممنوع ہے مشتبہات کی تحقیق ممنوع نہیں ہے۔

دوم : جن چیزوں میں حرمت اصل ہے، ان کی تحقیق ضروری ہے۔

سوم: عرف و حالات کی رعایت بھی ضروری ہے۔

9. اشیاء میں اباحت کی اصالت اور اسلام کے مزاج یسر و سہولت کے ساتھ ساتھ، ہمارے زمانے کے مخصوص حالات کے تناظر میں مشتبہات سے اجتناب اور سد ذریعہ کے اصولوں کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور جب ہم ان تمام اصولوں کو ایک ساتھ دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نہ تو ایسی چھان بین اور تحقیق میں پڑنا درست ہے کہ انسان اوہام و وساوس ہی کے پیچھے پڑ جائے اور نہ ایسی بے خبری صحیح ہے کہ انسان میں حلال و حرام میں تمیز کرنے کی فکر ہی نہ رہے۔ الغرض اعتدال پر مبنی درست طرزعمل یہ ہوگا کہ حرام میں پڑنے سے بچنے کیلئے ’’تحقیق کرنے‘‘ اور ’’بےخبری سے فائدہ اُٹھانے‘‘ کے درمیان کی راہ اختیار کی جائے۔ یہی ’’غفلت‘‘ اور ’’غلو‘‘سے پاک وہ ’’شاہراہ اعتدال‘‘ ہے جس میں ’’حزم و احتیاط‘‘ بھی ہے اور ’’آسانی‘‘ بھی۔

زلزلے!عبرت و نصیحت ، اسباب و علاج

پہلا خطبہ

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو سب کچھ جاننے والا اور بے انتہاء قدرت والا ہے۔

لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ(الشوریٰ : 11)

’’اس جیسی کوئی چیز نہیں،وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔‘‘

اس نے ہر چیز کو بہترین اندازے سے بنایا ہے، اس کے پاس ہر چیز کا علم ہے، اور ہر چیز کی تعداد بھی معلوم ہے۔

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١ٞ وَهُوَيُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَهُوَاللطِيْفُ الْخَبِيْرُ (الأنعام :۱۰۳)

اس (اللہ)کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہوسکتی اور وہ (اللہ )سب نگاہوں کو محیط ہو جاتا ہے اور وہی بڑا باریک بین باخبر ہے۔

اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سو اکوئی معبود ِبرحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اُس کے بندے اور رسول ہیں، اُس کے پسندیدہ اور دوست ہیں،اُس کے نزدیک سب سے محبوب ترین ہیں، جنہوں نے اللہ کا پیغام پہنچایا، امانت کاحق ادا کیا، امت کو نصیحت کی اور ہمیں ایسے روشن راستے پر چھوڑا جس کی رات بھی دن کی طرح (روشن) ہے، اس سے وہی شخص دور رہے گا جو ہلاک ہونے والا ہو۔

آپﷺ پر اللہ کی رحمتیں اور سلامتیاں ہوں ، اور ان کے پاکیزہ اہلِ بیت پر بھی، اور ان کی ازواجِ مطہرات امہات المومنین پر بھی، اور تمام صحابہ و تابعین پر بھی، اور قیامت تک ان تمام لوگوں پر بھی جو اچھے انداز سے ان کی پیروی کریں گے۔

حمدو ثنا کے بعد!

ایمان کے بدلے نور کی ضمانت

اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو۔

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ يَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ (الحدید :28)

’’اے لوگوں جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اللہ تمہیں اپنی رحمت کا دوہرا حصہ دے گا اور تمہیں نور دے گا جس کی روشنی میں تم چلو پھرو گے اور تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا، اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘

حقیقتِ حال

اللہ کے بندو! لوگوں کی زندگی میں اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے، کبھی خوف ہے تو کبھی امید، لین دین کے معاملات ہیں، کبھی طاقت اور کبھی کمزوری، ان تمام چیزوں کے باوجود یا تو وہ کسی خیر اور نعمت کی امیدیں رکھتے ہیں، یا کسی شر اور مصیبت سے ڈرتے ہیں۔ اور ان کی امید اور خوف کا تعلق ان کے دین، ان کی ذات، عقل، مال اور عزت سے ہے۔اور جہاں ایک طرف وہ ہدایت کی امیدرکھتے ہیں وہاں گمراہی کے خدشات بھی ہیں ، زندگی کی امیدوں کے ساتھ ساتھ نا حق موت کے خطرات بھی ہیں، اگر حقیقی و معنوی عقل کی سلامتی کی امیدیں ہیں تو اس کے خراب ہونے کا ڈر بھی ہے۔ اور عزت اور مال کا بھی یہی حال ہے۔ اور وہ اللہ تعالی کے حکم سے ہونے والی مخلوق کے سلسلے میں بھی زرخیزی و رحمت والی بارش کی امید تو رکھتے ہیں مگر تباہ و برباد کردینے والی بارش کے خدشات بھی دلوں میں ہوتے ہیں۔خوشخبری دینے والی ہواؤں کی تمنا تو ہے مگرعذاب والی ہواؤں کا ڈر بھی ۔

عقلمند لوگوں کے لئے نصیحتیں

خبردار! وہ زلزلے ہی ہیںاورخالق کی اس تقدیری مخلوق کی تدبیر اور ان مختلف نشانیوں میں جو حکمتیں ہیں وہ صرف عقلمند لوگ ہی جان سکتے ہیں جو احساس ، اللہ پر ایمان اور اللہ کے (قرآن کریم میں بیان کردہ سابقہ اقوام سے متعلقہ) دنوں کی یاددہانی جیسی دولت سے مالا مال ہوں۔

اور اس سے پہلےبھی ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں جن کے ذریعہ اللہ کی نازل کردہ نشانیوں اور اس کے حکم سے ہونے والی چیزوں کی عبرت سےلوگوں کی آنکھیں دنگ رہ جائیں، اور انہیں سچے نبی ﷺکی خبروں کی تصدیق کے لمحات دوبارہ ذہن نشین ہوجائیں۔اور قرآن و سنت میں وارد شدہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی زلزلے ہی ہیں۔

قرآنِ مجید میں زلزلےکا بیان

اور اللہ نے قرآنِ مجید میں قسماً فرمایا:

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِ وَ الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ (الطارق :11۔13)

’’بارش والے آسمان کی قسم ۔اور پھٹنے والی زمین کی قسم ۔بیشک یہ (قرآن) البتہ دو ٹوک فیصلہ کرنے والا کلام ہے۔‘‘

زلزلہ عذاب کی ایک صورت ہے

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

قُلْ هُوَالْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ يَّبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا (الأنعام :65)

’’آپ کہیے کہ اس پر بھی وہی قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے لئے بھیج دے یا تو تمہارے پاؤں تلے سے یا کہ تم کو گروہ گروہ کر کے سب کو (آپس میں )بھڑا دے ۔‘‘

اور مفسرین کی تفسیر کے مطابق جو عذاب پیروں کے نیچے سے آتا ہے وہ (زمین میں ) دھنس جانے یا زلزلہ آنے کا ہی عذاب ہے۔

صحیح بخاری میں ہے: اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقْبَضَ العِلْمُ وَتَكْثُرَ الزَّلاَزِلُ، وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ….» (صحيح البخاري:7121)

’’قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک علم کو نہ اٹھالیا جائے،اور کثرت سے زلزلے نہ ہوں، اور زمانہ قریب نہ ہو۔‘‘

زلزلوں کے بارے میں صحابہ کا ایمان بِالغیب

اللہ کے بندو!زلزلہ نبی مکرّم ﷺ کے زمانے میں کبھی نہیں آیا، بلکہ صحابہ نے تو فقط اللہ کی کتاب اور نبیﷺ کی حدیث میں سنا اور اس پر ایمان لے آئے اور انہوں نےیہ تصدیق بھی کی کہ یہ زلزلے وغیرہ اللہ کی طرف سے ایک نشانی ہیں جو وہ جن لوگوں پر چاہے بھیج دے ۔ اور ہمارے زمانے میں کثرت سے ان نشانیوں کا واقع ہونا نبیﷺکی حدیث کا ایک غیبی اور علمی معجزہ ہےکیونکہ انہوں نے حدیث میں یہ بتایا ہے کہ یہ چیزیں آخری زمانوں میں بکثرت ہوں گی۔

اور اللہ تعالی نے پھٹنے والی زمین کی قسم کھائی ہے، یہ’’پھٹنے والی زمین‘‘کی بات چودہ صدیوں تک معلوم نہ ہو سکی یہاں تک کہ جیولوجی نے پچھلی صدی میں اس بات کا انکشاف کیا، اور اصحابِ علم نےزیرِ زمین ایک میدان(ہموار اور ذرخیز)ایسا تلاش کیا جہاں یہ پھٹنے والی کیفیت رونما ہوتی ہے اور وہی دنیا میں اکثر زلزلوں کا مرکز ہے۔

اوردنیا میں اکثر زلزلے اسی صدع (پھٹنے والی جگہ) واقع ہوتے ہیں۔تو اس سے معلوم یہ ہوا کہ یہ اللہ نے پھٹنے والی زمین کی قسم کھاکر جو بات بیان فرمائی وہ (دینِ اسلام ، قرآن کریم اور پیغمبرِ اسلامﷺکی حقانیت کے ثبوت کے لئے)ایک معجزہ ہے،تاکہ ملحد (منحرف و بے دین قسم کے )لوگ اپنے طریقوں سے اس کا انکشاف کریں حالانکہ اللہ اور رسول ﷺ نے تو چودہ سو سال پہلےہی قرآن کریم میں اس کاذکر فرمادیا، اسی لئےیہ بھی سمجھ لینا چاہئےکہ نبی ﷺکی بات بھی اللہ ہی کی وحی ہے،غیب کی جو باتیں نبی علیہ السلام نے بیان کیں وہ وحی الہی کے ذریعہ بیان فرمائیں ہیں نہ کہ اپنی طرف سے۔

 فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ (الأعراف :158)

’’سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی اُمی پر جو کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پر آجاؤ ۔‘‘

اسلام میں سب سے پہلا زلزلہ خلیفہ ثانی امیر المؤمنین سیدناعمر رضی اللہ عنہ کے دورِخلافت میں دیکھا گیا؛اور سیدہ صفیہ بنت ابی عبید بیان کرتی ہیں کہ:

زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ حَتَّى اصْطَفَقَتْ السُّرَرُ، فَخَطَبَ عُمَرُ لِلنَّاسِ، فَقَالَ: لَقَدْ عَجِلْتُمْ، لَئِنْ عَادَتْ لَأَخْرُجَنَّ مِنْ بَيْنِ ظَهْرَانِيكُمْ»
وفي روايةٍ قال: “ما كانت هذه الزلزلةُ إلا عند شيءٍ أحدَثتُموه، والذي نفسِي بيدِه؛ إن عادَت لا أُساكِنُكم فيها أبدًا” . (رواه ابن أبی شیبة)

سیدناعمر رضی اللہ عنہ کے دور میں اتنا شدید زلزلہ آیا کہ پلنگ آپس میں ٹکرا گئے ،توسیدناعمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئےارشاد فرمایا: تم نے نئے نئےکام ایجاد کیے، یقیناً تم نے بہت جلدی کی۔اور اگر وہ چیزیں دوبارہ آگئیں تو میں تمہارے درمیان سے نکل جاؤں گا۔اور ایک روایت میں ہے: یہ زلزلہ تو جبھی آتا ہے جب تم لوگ (دین میں) کوئی نئی چیز ایجاد کرتے ہو،اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر دوبارہ ایسا ہوا تو میں کبھی تمہارے ساتھ نہیں رہوں گا۔(مصنف ابنِ ابی شیبہ)(یعنی بد عقیدگی ، بدعت و بد اعمالی زلزلوں کا بنیادی سبب ہیں)

اللہ کے بندو!یقینا زلزلے اللہ کی طرف سے نازل شدہ نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں، جنہیں وہ ایک عظیم حکمت کے تحت زمین میں برپا کرتا ہے، اور شروع سے آخر تک ہمیشہ اسی کا حکم چلتا ہے،اور جو (چیز)چاہتا اور پسند کرتا ہے وہی کرتا ہے۔اور وہ اللہ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے، اس کی رحمت اس کے غصے پر غالب ہے، بلکہ ہر چیز سے زیادہ وسیع ہے۔لیکن اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اس کے ثواب پر ہی اعتماد کیا جائے اور سزا سے غافل ہوجائیں، اور نہ ہی اس کی رحمت پر (سب کچھ) چھوڑ دیا جائے اور اس کے غصے سے لا علمی اختیار کی جائے، اور نہ ہی اس کی معافی کی امید رکھتے ہوئے ناپسندیدہ کام کئے جائیں۔

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ يَّاْتِيَهُمْ بَاْسُنَا بَيَاتًا وَّهُمْ نَآىِٕمُوْنَ اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ يَّاْتِيَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّهُمْ يَلْعَبُوْنَ اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا يَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ (الأعراف :97۔99)

’’کیا پھر بھی ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بےفکر ہوگئے کہ ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت آپڑے اور وہ نیند کی حالت میں ہوں۔ کیا ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بےفکر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آ پڑے جس وقت کہ وہ اپنے کھیلوں میں مشغول ہوں۔کیا ان بستیوں کے رہنے والےاللہ کی تدبیر سے بےفکر ہوگئے ہیں ، پس اللہ کی تدبیر سے ایسی قوم ہی بے فکر رہتی ہےجو نقصان اٹھانے والی ہو۔‘‘

سیدنا حسن بصری تابعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“المؤمنُ يعملُ بالطاعات وهو مُشفقٌ وجِلٌ، والفاجِرُ يعمل بالمعاصِي وهو آمِن”. وهذا هو الذي يأمَنُ مكرَ الله – عباد الله -.

’’مومن فرماں برداری والے اعمال کرتا ہےاور وہ (اعمال کے ضائع وبرباد ہونے سے) ڈر بھی رہا ہوتا ہے، جبکہ فاجرکو گناہ کرکے بھی کوئی ڈر نہیں ہوتا۔اور یہی وہ (فاجر) ہےکہ جو اللہ کی تدبیر سے بے خوف رہتا ہے۔‘‘

ائمہ کرام نے ذکر کیا ہے کہ زلزلہ اللہ تبارک وتعالی کی اُن نشانیوں میں سے ہے جن کے ذریعہ وہ اپنے بندوں کو (اپنی پکڑ، عذاب اور سزا و غضب سے ) ڈراتا ہے، جیساکہ کسوف (سورج وچاندگرہن)وغیرہ، تاکہ انہیں اس بات کا اندازہ ہوجائے کہ حیوانات، نباتات، مال و متاع اور مسکن کے لئے زمین کا ٹھہراؤ اورسکونت بہت بڑی نعمت ہے۔

اور دھنسنے، زلزلے اور خلل میں یہ حکمت ہے کہ یہ آزمائش، امتحان، سزا یا ڈرانے کے طور پر ہے جیسا کہ قوم ِثمود پر زلزلہ طاری ہوا اور قارون کو (زمین میں) دھنسا دیا گیا۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا:

لَمَّا كَانَ هُبُوبُ الرِّيحِ الشَّدِيدَةِ يُوجِبُ التَّخَوُّفَ الْمُفْضِيَ إِلَى الْخُشُوعِ وَالْإِنَابَةِ كَانَتِ الزَّلْزَلَةُ وَنَحْوُهَا مِنَ الْآيَاتِ أَوْلَى بِذَلِكَ لَا سِيَّمَا وَقَدْ نَصَّ فِي الْخَبَرِ عَلَى أَنَّ أَكْثَرَ الزَّلَازِلِ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ

’’جب تیز ہوائیں اللہ کا خوف دلانے کے لئے چلائی جاتی ہیں جس سے خشوع اور اللہ کی طرف رجوع کی صورت پیدا ہوتی ہے تو زلزلے جیسی خوفناک نشانیوں کا مقصد یہ نکلتا ہے کہ یہ اس سے بھی زیادہ خوف دلانے کے لئے ہے، خاص طور پر جبکہ نصوص ِ شرعیہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ زلزلوں کی کثرت قیامت کی نشانی ہے۔‘‘

زلزلے کے بارے میں اہم اقوال

جلیل القدر صحابی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے زمانے میں کوفہ کی سرزمین میں زلزلہ آیا تو انہوں نے یہ اعلان کیا:

“أيها الناس! إن ربَّكم يستعتِبُكم فأعتِبُوه”؛ أي: فاقبَلُوا عتبَه، “وتوبوا إليه قبل ألا يُبالِيَ في أي وادٍ هلكتُم”.

اے لوگو! یقینا تمہارا رب تم سے ناراض ہوچکا ہے اور اپنی رضا مندی چاہتا ہے تو تم اسے راضی کرو اور اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے توبہ کرو، وگرنہ اسے یہ پرواہ نہ ہوگی کہ تم کس وادی میں ہلاک ہوتے ہو۔

اور شام میں زلزلے کے موقع پر سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے انہیں یہ لکھ کر بھیجا کہ :

“اخرُجوا، ومن استطاعَ منكم أن يُخرِجَ صدقةً فليفعَل؛ فإن الله تعالى يقول: قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى

’’ نکل جاؤ، اور جو شخص صدقہ کرسکتا ہے وہ ضرور کرے؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: بیشک اس نے فلاح پائی جو پاک ہوگیا ۔ اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پرھتا رہا۔‘‘

اللہ کے بندو!اسی لئے اسلام کا یہ طریقہ ہے کہ زلزلوں سے عبرت حاصل کی جائے اور مسلمان انسان کو اس بات کا حکم ہے کہ وہ بھلائی کے ایسے ظاہری اسباب اختیار کرےجن کی بدولت اللہ تعالی خیر عطا فرمائے، اور ان ظاہری برے اعمال کو چھوڑدے جن کے چھوڑنے کی وجہ سے اللہ تعالی شر کو بھی دور کردے۔

مصیبت کو دور کرنے کے اسباب

مصیبت کو دور کرنے کے چند اسباب یہ ہیں:

توبہ و استغفار، صدقہ اور بعض اہلِ علم کے نزدیک (ایسے موقع پر )جماعت کے علاوہ (اکیلے، انفرادی) نماز بھی پڑھی جاسکتی ہے۔بیہقی میں صحیح سند سے یہ ثابت ہے:

“صلَّى ابنُ عباسٍ –رضي الله عنهما– للزلزلةِ بالبصرة” (رواه البيهقي بسندٍ صحيحٍ)

’’سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بصرہ میں زلزلہ (نہ ہونے یا رُکنے) کی نماز پڑھی۔‘‘

زلزلوں کے بارے میں نبی ﷺ کی پیشین گوئی

اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے:

«أُمَّتِي هَذِهِ أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ، لَيْسَ عَلَيْهَا عَذَابٌ فِي الْآخِرَةِ، عَذَابُهَا فِي الدُّنْيَا الْفِتَنُ، وَالزَّلَازِلُ، وَالْقَتْلُ» (رواه أحمد وأبو داود بسندٍ حسن)

میری اس امت پر(اللہ کی طرف سے)رحم کیا گیا ہے،کہ اُس پر آخرت کی بجائے دنیا میں ہی عذاب نازل کیا گیاجوفتنوں، زلزلوں اور قتل کی صورت میں ہے۔

مذکورہ حدیث کا(یہ مطلب نہیں کہ آخرت میں اُمت کے مجرموں کو سزا و عذاب ہوگا ہی نہیں بلکہ ) مقصد یہ ہے کہ: آخرت میں اجتماعی شکل میں پوری امت پر ایک ساتھ عذاب نہیں ہوگا،بلکہ افراد کو عذاب ہوگا۔

اللہ کے عذاب سے بچنے کے لئے چند نصیحتیں

اللہ کے بندو! خبردار!اللہ سے ڈرو، اس کی رحمت ومعافی تلاش کرو، اور اس کے غصے سے بچو؛ کیونکہ وہ ڈھیل تو دیتا ہے مگر چھوڑتا نہیں ہے، اور ظالم کو مہلت دینے کے بعد جب وہ پکڑتا ہے توپھر بھاگنے کا موقعہ نہیں دیتا۔

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ (هود :117)

’’آپ کا رب ایسا نہیں کہ کسی بستی کو ظلم سے ہلاک کر دے اور وہاں کے لوگ نیکوکار ہوں۔‘‘

نفس اور معاشرے کی اصلاح اور بھلائی کو تھام لو، کیونکہ اللہ تعالی نے اس بستی کو ہلاکت سے بچانے کا اعلان کیا جہاں سچی اور اللہ کے ڈر والی اصلاح ہو، اور نصیحت کو رد کردینا اور اصلاح کو چھوڑدینا ہلاکت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ قارون کو دھنسانے سے پہلے یہ کہا گیا تھا:

لَا تَفْرَحْ (القصص :76)

’’اِتر ا مت ۔‘‘

مگر اس نے تکبر کیا(اور نصیحت کو نہ مانا)، اور قوم ثمود پر زلزلہ اس لئے آیا کہ انہوں نے نصیحت سے کراہت ( ناپسندیدگی) کا اظہار کیا۔

اور اللہ تعالی نے تو امتوں کو اپنی اس بات سے ڈرایا:

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ (هود :102۔103)

’’تیرے پروردگار کی پکڑ کا یہی طریقہ ہے جب وہ بستیوں کے رہنے والے ظالموں کو پکڑتا ہے بیشک اس کی پکڑ دکھ دردناک اور نہایت سخت ہے۔ یقیناً اس میں ان لوگوں کے لئے نشان عبرت ہے جو قیامت کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ وہ دن جس میں سب لوگ جمع کئے جائیں گے اور وہ، وہ دن ہے جس میں سب حاضر کئے جائیں گے ۔‘‘

اللہ مجھےاور آپ سب کو کتاب و سنت کی برکتیں حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور قرآنی آیات، نصیحتوں اور حکمتوں کے ذریعہ نفع پہنچائے، میں یہ بات کہہ رہا ہوں اور اللہ سے اپنے لئے ، آپ سب کے لئے اور تمام مسلمان مرد و خواتین کے لئےہر گناہ اور خطا کی مغفرت مانگتا ہوں، آپ لوگ بھی اسی سے مغفرت مانگیں اور اسی کی طرف رجوع کریں، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ میرا رب بہت بخشنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

اللہ کی بھلائیوں پر اسی کی تعریفیں ہیں، اور اس کی توفیق اور احسانات پر اسی کا شکر ہے۔

حمد وثنا کے بعد:

اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ ہےکہ امتوں میں سے کچھ کو جنگ و قتال کے ذریعہ ڈرایا جائے۔کچھ کوقلتِ امن کے ذریعہ۔کچھ کو مال، جان اور پھل کی کمی کے ذریعہ۔

اور کچھ کومختلف فتنوں اور زلزلوں وغیرہ کے ذریعہ۔ (تاکہ وہ اپنے اعمال درست کرلیں ، اللہ کی طرف لوٹ آئیں اور نافرمانی ، بد کاری، فتنہ و فساد اور ظلم و زیادتی کے اندھیروں سے نکل کر اطاعت ،نیکی، عدل و انصاف کی روشنی کا راستہ اختیار کریں۔)

اللہ کے خوف کا نتیجہ

اللہ کے بندو! اس کا نتیجہ یہ ہے:

وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ اُولٰٓىِٕكَ عَلَيْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ١۫ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ (البقرة :155۔157)

’’اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے۔ جنہیں جب کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالٰی کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘

اور یہاں اللہ نے یہ بات ذکر فرمائی ہے کہ جسے ڈرایا اور دھمکایا جارہا ہے اسے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ ہوش میں آتا ہے اور توبہ کرتا ہے، اور اس طرح ہدایت کے راستے کو اپنا لیتا ہے۔ اور اس خوف دلانے سے کوئی زمانہ یا جگہ خالی نہیں، یہاں تک کہ نبی علیہ السلام کا زمانہ سب سے بہترین ہے اس کے باوجود بھی سورج کو کسوف ہوا، اور نبی علیہ السلام نے یہ فرمایا کہ اس کے ذریعہ اللہ – سبحانه وتعالى – اپنے بندوں کو ڈراتا رہا ہے۔

خبردار!یقینا سوچ میں خلل، علم اور اللہ پر ایمان کی کمی کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ زلزلوں کا سبب یہ بتایا جائے کہ اس میں محض ایک جیولوجی اور قدرت کا عمل دخل ہے، اور اس کی کوئی حکمت اور نتیجہ نہیں،یا اس کا ایمانیات اور اللہ کے خوف سے کوئی تعلق نہیں۔

اس انسان کو چھوڑ دیجئے جو ہر اس شخص کا مذاق اڑاتا ہے جو اللہ کی آیات اور اس کے حکم سے ہونے والے معاملات کی یاد دہانی کراتا ہے۔

اور کونسی فہم (سمجھ ) اللہ کی ہدایت کے زیادہ قریب ہے ، اسے جاننے کے لئےصحیح بخاری کی یہ حدیث ہے:

عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاَةَ الصُّبْحِ بِالحُدَيْبِيَةِ عَلَى إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ الليْلَةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟» قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: « أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللهِ وَرَحْمَتِهِ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالكَوْكَبِ. (صحيح البخاري:1038)

زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نےحدیبیہ میں رات کو بارش ہونے کے بعد فجر کی نماز پڑھائی،پھرآپﷺ نےفرمایا: کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ آپ کے رب نے کیا فرمایا؟فرمایا: کہ صبح کے وقت میرے بندوں میں سے کچھ لوگ مومن ہوگئے اور کچھ کافر، تو جس نے یہ کہا کہ یہ بارش اللہ کے فضل اور رحمت سے ہوئی تو وہ مجھ پر ایمان لایا اور ستارے کا انکار کیا، اور جس نے یہ کہا کہ یہ بارش فلاں ستارے کی وجہ سے ہوئی تو اس نے میرا انکار (کفر) کیا اور ستارے پر ایمان لایا۔

اور جب اس بارش کے بارے میں یہ بات کہی گئی ہے جوکہ اللہ کی حکمیہ سنت ہے جس کی وجہ سے نمازِ استسقاءکو رکھا گیا حالانکہ اس کا ظاہری سبب بھی معلوم ہے، اس کے باوجود کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جومحض مادی تفسیر کے دائرے میں اسے محصور (بند) کردیتے ہیں، اور ان کی عقل میں یہ بات نہیں بیٹھتی کہ اس میں عبرت، ثواب، سزا اور آزمائش کا بھی پہلو ہے۔

اللہ کے بندو!تعجب کی کوئی بات نہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ (یونس :96۔97)

’’یقیناً جن لوگوں کے حق میں آپ کے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ایمان نہ لائیں گے۔گو ان کے پاس تمام نشانیاں پہنچ جائیں جب تک وہ دردناک عذاب کو نہ دیکھ لیں ۔‘‘

دوسرے مقام پر اللہ کا فرمان ہے:

وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا(الإسراء:59)

’’ہم تو لوگوں کو دھمکانے کے لئے ہی نشانی بھیجتے ہیں۔‘‘

درود و سلام اللہ آپ سب پر رحم فرمائے!

سب سے افضل مخلوق اور پاکیزہ انسان، صاحبِ حوض و شفاعت (ہمارے نبی )سیدنا محمد بن عبد اللہﷺ پر درود بھیجیں؛ اللہ نےاس کا حکم قرآن مجید میں دیا ہے:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (الأحزاب :56)

’’اے ایمان والو! ان پر درود و سلام بھیجتے رہو۔‘‘

یا اللہ! اپنے نبی، بندے اور رسول محمدﷺ پر زیادہ سے زیادہ رحمتیں اورسلامتیاں نازل فرما۔

امت کے نام رسول معظمﷺ کا پیغام اور آپ کا الوداعی خطاب

﴿وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ﴾ ( الانعام: ۱۵۳)

’’اوریقیناًیہ میرا راستہ ہے جو بالکل سیدھا ہے، لہٰذا اس پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو، وہ تمہیں اس کے راستے سے ہٹادیں گے تمہیں اس کے ساتھ وصیت کی جاتی ہے تاکہ تم گمراہ ہونے سے بچ جائو۔‘‘

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ رضي الله عنهما قَالَ کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ صلى الله عليه وسلم فَخَطَّ خَطًّا وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَّمِینِهِ وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَّسَارِہٖ ثُمَّ وَضَعَ یَدَہٗ فِی الْخَطِّ الْأَوْسَطِ فَقَالَ هَذَا سَبِیلُ اللہِ ثُمَّ تَلَا هٰذِہِ الْآیَةَ ﴿وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهِ﴾ (رواہ ابن ماجة: باب اتباع سنة رسول اللہ صلى الله عليه وسلم [صحیح])

’’سیدنا جا بر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ہم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے۔ آپ نے ایک سیدھی لکیر کھینچی پھر اس کے دائیں اور بائیں لکیریں کھینچیں۔ اس کے بعد آپ نے اپنا دست مبارک درمیان والی لکیر پر رکھتے ہوئے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے ، پھر یہ آیت مبارکہ تلاوت کی:

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ… …﴾

’’کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے اس کی پیروی کرو اس کے سوا دوسرے راستوں پر نہ چلو وہ تمہیں صراطِ مستقیم سے ہٹا دیں گے۔‘‘

﴿قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ عَلٰى بَصِيْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِيْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ﴾ (یوسف: ۱۰۸)

’’اے نبیﷺ! فر ما دیں یہی میرا راستہ ہے ،کہ میں پوری بصیرت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاتاہوں ،میں اور جنہوں نے میری پیروی کی ہے ، اللہ تعالیٰ پاک ہے اور میں شرک کرنے والوں سے نہیں ہوں ۔‘‘

نبی مکرم ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ کے آخری ایام میں حجۃ الوداع کے موقعہ پر عرفات اور منٰی کے میدان میں کئی خطبے ارشاد فرمائے، جن کو کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیان کیا ہے اور ان خطبات کے اقتباسات احادیث کی مختلف کتابوں میں موجود ہیں۔ ان خطبات میں سے یہاں وہی الفاظ نقل کیے جاتے ہیں جن میں آپ ﷺ نے الوداعی انداز اختیار فرمایا تھا۔

عن الصحابي الجليل جابر بن عبد الله رضي الله عنهما خطبة النبي ﷺ يوم عرفة في حجة الوداع

’’جلیل القدر صحابی سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد حجۃ الوداع میں عرفہ کے دن فرمایا: 

أَيُّهَا النَّاسُ اسْمَعُوا قَوْلِي فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاكُمْ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا فِي هَذَا الْمَوْقِفِ (مسند أحمد:باب حدیث رجل من أصحاب النبیﷺ)

اے لوگو! غور سے سنو! میں نہیں جانتا کہ آج کے بعد اس جگہ میں تم سے مل سکوں گا ۔

اَللهُمَّ اشْهَدْ، أَلَا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ

’’بردار ! میرے بعد گمراہی کی طرف نہ پلٹ جانا یہ کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنا شروع کر دو۔‘‘

یَآ أَیُّھَا النَّاسُ!أَلَآ إِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ وَإِنَّ أَبَاکُمْ وَاحِدٌ أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی أَعْجَمِیٍّ وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلَا لِأَحْمَرَ عَلٰٓی أَسْوَدَ وَلَا لِاَسْوَدَ عَلٰی أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوٰی (مسند أحمد:باب حدیث رجل من أصحاب النبیﷺ)

اے لوگو! بے شک تمھارا رب ایک ہے اور تمھارا باپ بھی ایک ہے۔ سنو! عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، سفید کو کالے پر اور کسی کالے کو سفید پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ فضیلت صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔ تم میں سے اللہ کے ہاں وہ زیادہ عزت والا ہے جو اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرتا اور اس کی نافرمانی سے بچنے والا ہے۔ ‘‘

((عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ تَرَکْتُ فِیکُمْ أَمْرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِهِمَا کِتَابَ اللّٰہِ وَسُنَّةَ نَبِیِّهٖ (موطا امام مالك:کتاب الجامع)

’’ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھ تک یہ حدیث پہنچی ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: میں تم میں دو چیزیں چھوڑکر جا رہا ہوں ان کو جب تک مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے ایک اللہ کی کتاب ہے اور دوسری اس کے نبی کی سنت ۔‘‘

(( عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ ﷺ يَوْمَ النَّحْرِ، قَالَ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اَللهُمَّ اشْهَدْ، فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الغَائِبَ)) (رواہ البخاري : بَابُ الخُطْبَةِ أَيَّامَ مِنًى)

’’سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا، تو کیا جواب دو گے؟ لوگوں نے کہا، ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے پوری ذمہ داری اور خیر خواہی کے ساتھ اللہ کا پیغام پہنچا دیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : اے اللہ، گواہ رہنا۔ اے اللہ گواہ رہنا۔ اے اللہ گواہ رہنا۔ہاں سنو، جو حاضر ہیں، وہ یہ باتیں غیر حاضر لوگوں تک پہنچا دیں ۔‘‘

الوداع اے امت الوداع

﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَآىِٕقَةُ الْمَوْتِ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَ مَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ﴾ (آل عمران: ۱۸۵)

’’ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم پورے پورے اجر دیے جائو گے،جو شخص آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا یقیناً وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان کے سِوا کچھ نہیں ہے۔‘‘

﴿كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍۚ وَّ يَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ﴾ (الرحمٰن: ۲۶، ۲۷)

’’ جو زمین پر ہے وہ فنا ہونے والا ہے۔ اور صرف تیرے رب کی جلیل اور کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔‘‘

﴿وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡىِٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ﴾ (الانبیاء: ۳۴)

’’اوراے نبیﷺ ہم نے آپ سے پہلے کسی انسان کے لیے ہمیشہ رہنا نہیں بنایا اگر آپ فوت ہو جائیں گے تو کیا یہ لوگ زندہ رہیں گے؟

﴿وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ يَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيْـًٔا١ؕ وَ سَيَجْزِي اللّٰهُ الشّٰكِرِيْنَ﴾ (آل عمران: ۱۴۴)

’’محمدعربی ﷺ رسول ہیں ان سے پہلے رسول گزر چکے ہیں۔ کیا ان کو موت آجائے یا یہ شہید کر دئیے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائو گے؟ جو کوئی اپنی ایڑیوں پر پھر جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نہیں بگا ڑسکے گا۔ اللہ تعالیٰ عنقریب شکر گزاروں کو بدلہ دے گا۔‘‘

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَمْرٍو السَّلَمِیِّ أَنَّهٗ سَمِعَ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِیَة رضی اللہ عنہیَقُوْلُ وَعَظَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَوْعِظَةً ذَرَفَتْ مِنْہَا الْعُیُوْنُ وَوَجِلَتْ مِنْہَا الْقُلُوْبُ فَقُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ إِنَّ هٰذِہٖ لَمَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَمعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَمْرٍو السَّلَمِیِّ أَنَّهٗ سَمِعَ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِیَةَ یَقُوْلُ وَعَظَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَوْعِظَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُیُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ فَقُلْنَا یَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ هَذِہِ لَمَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَیْنَا قَالَ قَدْ تَرَکْتُکُمْ عَلَی الْبَیْضَآءِ لَیْلُہَا کَنَہَارِہَا لاَ یَزِیْغُ عَنْہَا بَعْدِیْٓ إِلاَّ هَالِكٌ مَنْ یَّعِشْ مِنْکُمْ فَسَیَرَی اخْتِلاَفًا کَثِیْرًا فَعَلَیْکُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِیْ وَسُنَّةِ الْخُلَفَآئِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَهْدِیِّیْنَ عَضُّوا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ وَعَلَیْکُمْ بِالطَّاعَةِ وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِیًّا فَإِنَّمَا الْمُؤْمِنُ کَالْجَمَلِ الأَنِفِ حَیْثُمَا قِیْدَ انْقَادَ (رواہ ابن ماجة، فی المقدمة: باب اتِّبَاعِ سُنَّةِ الْخُلَفَآءِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْن)

’’امام عبدالرحمٰن بن عمرو سلمی کہتے ہیں کہ انہوں نے عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ ایک دفعہ ہمیں اللہ کے رسول ﷺ نے وعظ فرمایا۔ یہ ایساوعظ تھا کہ ہمارے آنسو جاری ہوگئے اور دل لرز گئے۔ ہم نے کہا اے اللہ کے رسولﷺ! ایسا وعظ تو الوداع ہونے والے کا ہوتا ہے ۔ آپ ہمیں مزید کیا نصیحت فرماتے ہیں ؟فرمایا: بے شک میں تمہیں ایسے مشن پر چھوڑے جا رہا ہوں جس کی راتیں اس کے دنوں کی طرح ہے ۔اس کو چھوڑنے والا ہلاک ہو جائے گا۔تم میں سے جو زندہ رہا وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا۔ اس وقت میری اور ہدایت یافتہ خلفاء کے طریقے جس کو تم پہچان لواسے تم اپنے دانتوں کے ساتھ مضبوطی سے پکڑے رکھنا اور امیر کی اطاعت کو لازم جاننا ،اگرچہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ۔یقینا مومن اس اونٹ کی مانند ہے جس کی ناک میں نکیل ڈالی گئی ہو۔ اسے جہاں باندھا جائے وہ بندھا رہتا ہے۔‘‘

﴿اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ وَ رَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا﴾ ( النصر)

’’امام عبدالرحمٰن بن عمرو سلمی کہتے ہیں کہ انہوں نے عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ ایک دفعہ ہمیں اللہ کے رسول ﷺ نے وعظ فرمایا۔ یہ ایساوعظ تھا کہ ہمارے آنسو جاری ہوگئے اور دل لرز گئے۔ ہم نے کہا اے اللہ کے رسولﷺ ! ایسا وعظ تو الوداع ہونے والے کا ہوتا ہے ۔ آپ ہمیں مزید کیا نصیحت فرماتے ہیں ؟فرمایا: بے شک میں تمہیں ایسے مشن پر چھوڑے جا رہا ہوں جس کی راتیں اس کے دنوں کی طرح ہے ۔اس کو چھوڑنے والا ہلاک ہو جائے گا۔تم میں سے جو زندہ رہا وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا۔ اس وقت میری اور ہدایت یافتہ خلفاء کے طریقے جس کو تم پہچان لواسے تم اپنے دانتوں کے ساتھ مضبوطی سے پکڑے رکھنا اور امیر کی اطاعت کو لازم جاننا ،اگرچہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ۔یقینا مومن اس اونٹ کی مانند ہے جس کی ناک میں نکیل ڈالی گئی ہو۔ اسے جہاں باندھا جائے وہ بندھا رہتا ہے۔‘‘

’’جب اللہ کی مدد آجائے اور فتح نصیب ہو جائے۔اور اے نبی! آپ دیکھ لیں کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں۔سو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اسے یاد کرو اور اس سے مغفرت مانگو، بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘

(( عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رضی اللہ عنه قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ: إِنَّ اللهَ خَيَّرَ عَبْدًا بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ فَاخْتَارَ مَا عِنْدَ اللهِ، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رضی اللہ عنه فَقُلْتُ فِي نَفْسِي مَا يُبْكِي هَذَا الشَّيْخَ؟ إِنْ يَكُنِ اللهُ خَيَّرَ عَبْدًا بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَ اللهِ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ هُوَ العَبْدَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَنَا)) (رواہ البخاری: بَابُ الخَوْخَةِ وَالمَمَرِّ فِي المَسْجِدِ)

’’سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا : بیشک اﷲ تعالیٰ نے ایک بندے کو دنیا میں ہے اور جو اﷲ تعالیٰ کے پاس ہے ان کے درمیان اختیار دیا ہے کہ وہ جس کا چاہے انتخاب کر ے، اُس بندے نے اُس چیز کو اختیار کیا جو اﷲ کے پاس ہے۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، اس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ ہم نے اُن کے رونے پر تعجب کیا کہ نبی اکرمﷺ تو کسی بندے کے بارے فرما رہے ہیں کہ اسے اختیار دیا گیا ہے۔ حالانکہ اس سے مراد خود آپe تھے اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ صاحبِ بصیرت تھے۔‘‘

دینی مدارس ۔۔۔علم و آگہی کے سرچشمے

بر اعظم پاک و ہند علوم دینیہ اور قرآن و سنت کی دعوت و تبلیغ کا بہت بڑا مرکز رہا ہے۔ہند وپاک میں اپنے علم و فضل سے اسلام کا پرچم سر بلند رکھنے والے سینکڑوں جید علما کرام کی دینی خدمات تاریخ کا حصہ ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ بیشتر علما کرام نے قومی سیاست میں بھی ہمہ جہت خدمات انجام دی ہیں اور اسلام کی نظر یاتی، معاشی، سماجی اور سیاسی اقدار کی حفاظت کے لیے اپنے خون سے تاریخ رقم کی ہے۔اگر آج کے جدید فکر و فلسفہ اور گمراہ کن معاشرے میں اسلامی اقدار کا وجود ، مساجد کا قیام اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی روح باقی ہے تو پاسبانِ منبر و محراب اور قال اللہ و قال الرسولﷺ کی صدائیں بلند کرنے والے دینی مدارس کی مرہونِ منت ہیں۔

یہ دینِ متین کے وہ سودائی ہیں جنھوں نے فقر و فاقہ جھیل کر اور دنیا کے عیش و عشرت کو ٹھکرا کر دین کے پودے کی آبیاری کی ہے اور اسے کبھی مرجھانے نہیں دیا اور آج وہ پوداایک تناور درخت کی مانند سر اٹھائے کھڑا ہے اور ہزاروں قرآن و سنت کے حصول کےمتلاشیوں کو اپنے سایہ علم و عرفان سے فیضیاب کر رہا ہے۔

دینی مدارس کا نظم و نسق، ادب و احترام، ستھرااور پاکیزہ ماحول ، استاذ و تلمیذ کے ما بین عزت و تکریم کا تعلق، قرآن سنت ، فقہ و دین کے بنیادی فلسفہ کا شعوری ادراک، عزت نفس اور احترامِ آدمیت کا مکمل شعور مدارس کی تعلیمات کا منفرد اور اساسی وصف ہے۔ماضی میں بھی عالم اسلام میں عموماً اور مشرقی علاقوں میں خصوصاً مدارس کی اس قدر بہتات تھی کہ ابنِ جریر جو اندلس کا مشہور سیاح تھا، مدارس کی اتنی کثیر تعداد ، ان کے اوقاف اور وافر غذائی پیداوار دیکھ کر ششدر رہ گیا اور اس نے اندلس کے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ مشرق جاکر علم حاصل کریں۔

دینی مدارس کی عظمت و اہمیت ہر باشعورانسان سمجھتا ہےاور جن کو اللہ نے عقل ِ سلیم اور فہمِ صحیح کی دولت سے نوازا ہے وہ ان مدارس کی عزت و قدر کرتے ہیں اور ان کے وجود کو ایک عظیم نعمت تصور کرتے ہیں۔بلا شبہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہےکہ ان مدارس نے بر صغیر میں بالخصوص دین اسلام کی حفاظت میں بڑا قابلِ قدر کردار ادا کیا ہے۔اور تعلیماتِ اسلامی کی اشاعت میں ناقابلِ فراموش خدمات انجام دی ہیں۔دنیا کے ہنگاموں میں خاموش لیکن ٹھوس انداز میں یہ مدارس خدمتِ دین میں نہایت یکسوئی کے ساتھ مصروفِ ہیں اور معاشرے کی بنیادی دینی ضرورتوں کی تکمیل اور صالح معاشرہ کی تشکیل میں شب و روز لگے ہوئے ہیں۔سرد و گرم حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے، شیریں و تلخ مراحل سے گزرتے ہوئے ، موجِ بلاخیز کے تیز و تند تھپیڑوں سے نبردآزما ہوتے ہوئے انسانیت کی تعمیر، افراد کی تیاری اور تحفظِ دین کے لیے ہمہ وقت مصروف ہیں۔

ان مدارس کی ابتدا صفۂ بنویﷺ سے ہوتی ہے اور آج تک وہ اپنی منفرد خصوصیت کے ساتھ مصروفِ خدمات ہیں۔ ان بوریا نشینوں کی خاموش لیکن انقلاب آفریں خدمات کے اثرات و ثمرات کا ادراک کرتے ہوئے حکیم الامت علامہ اقبال نے کہا تھا کہ : «ان مکتبوں کو اسی حالت میں رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہیں مدارس میں پڑھنے دو، اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟ جو کچھ ہوگا اسے میں اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آیا ہوں۔اگر ہندوستانی مسلمان ان مدرسوں کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل اسی طرح ہوگا جس طرح اندلس میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے با وجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمرا کے نشانات کے سوا اسلام کے پیروؤں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا۔»

روزِ اول سے دین اسلام کا تعلق تعلیم و تعلم اور درس و تدریس سے رہا ہے۔نبی کریم ﷺ پر سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی وہ تعلیم سے متعلق تھی۔اس وحی کے ساتھ ہی رسول اللہ ﷺ نے ایک صحابی ارقم بن ابی ارقم کے گھر میں’’دارِ ارقم ‘‘کے نام سے ایک مخفی مدرسہ قائم کیا۔صبح و شام کے اوقات میں صحابہ کرام وہاں مخفی انداز میں آتے اور قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے تھے، یہ اسلام کی پہلی درس گاہ تھی۔ہجرت کے بعدمدینہ منورہ میں جب اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا تو وہاں سب سے پہلے آپ ﷺ نے مسجد کی تعمیر کی جو مسجد نبویﷺ کے نام سے موسوم ہوئی۔اس کے ایک جانب ایک چبوترا (صفہ) بھی تعمیر کرایا، یہاں بیٹھ کر آپ ﷺ مقامی و بیرونی صحابہ کرام کو قرآن مجید اور دین کی تعلیم دیتے تھے۔یہ اسلام کا پہلا باقائدہ و اقامتی مدرسہ تھا جو تاریخ میں ’’اصحابِ صفہ‘‘ کے نام سے معروف ہے۔پھر جہاں جہاں مسجدیں قائم ہوتی گئیں وہاں ساتھ ہی مدرسے بھی قائم ہوتے گئے۔اسلامی تاریخ ایسے مدارس اور حلقاتِ حدیث سے بھری پڑی ہے کہ غلبہ اسلام ، ترویج دین اور تعلیمات اسلامیہ کو عام کرنے میں جن کی خدمات نے نمایاں کردار ادا کیا۔

پاک و ہند میں سلفی فکر و منہج کے حامل مدارس کی اشاعتِ دین، دعوت وتبلیغ ، تصنیف و تالیف، شروعِ حدیث، درسِ وتدریس اور دینی صحافت میں بڑی نمایاں خدمات موجود ہیں۔ان سلفی مدارس میں مسند سید نذیر حسین محدث دہلوی الحدیث رحمانیہ، دہلی، جامعہ سلفیہ، بنارس، جامعہ امام ابن تیمیہ، بہار ہند، جامعہ سلفیہ ،فیصل آباد، جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن، جامعہ محمدیہ ، گوجرانوالہ، مدرسہ رحمانیہ جامعہ لاہور الاسلامیہ، جامعہ اہلِ حدیث لاہور، جامعہ ستاریہ اسلامیہ ،جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی ، جامعہ اثریہ جہلم، جامعہ اثریہ پشاور،جامعہ دعوت حق کوئٹہ اور جامعہ دعوۃ الحق السلفیہ ستیانہ فیصل آبادقابلِ ذکر ہیں۔ان مدارس کے فاضلین و فیض یافتگان کا شمار عالم اسلام کی نامور شخصیات میں ہوتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی ملک میں دین تسلسل کے ساتھ اور پائیدارطریقہ پر باقی رہ سکتا ہے تو وہ دینی تعلیم سے ہی باقی رہ سکتا ہے، ورنہ مشاہدہ میں یہ آیا ہے کہ جن علاقوں میں دینی تعلیم کا سلسلہ بند ہوگیا وہاں سے اسلام بھی بالکل ختم ہوگیا۔مدارس کی عظمت، اہمیت اور ان کی ذمہ داریوں کو بہت سے علما اور اکابر نے اپنی تقریرو تحریر میں پیش کیا ہے اور فکر و تردد کے ساتھ ان کی عظمتوں سے انسانوں کو رو شناس کروایا۔

جب ہندوستا ن میں حکومتِ مغلیہ کا چراغ گل ہوگیا اور مسلمانوں کاسیاسی قلعہ ان کے ہاتھوں سے نکل گیا تو بالغ نظر اور صاحب فراست علما نے جابجا اسلام کی شریعت و تہذیب کے قلعے تعمیر کر دیے، انھیں قلعوں کا نام «عربی مدارس» ہے۔اور آج اسلامی شریعت و تہذیب انھیں قلعوں میں پناہ گزین ہے۔ اور اس کی ساری قوت و استحکام انھیں قلعوں پر موقوف ہے۔

جب دنیا میں ہر حقیقت کا انکار کیا جارہا ہو اور کہا جارہا ہو کہ سوائے طاقت کے کوئی حقیقت ہے ہی نہیں ، جب دنیا میں ڈنکے کی چوٹ پر کہا جارہا ہو کہ دنیا میں صرف ایک حقیقت زندہ ہے اور سب حقیقتیں مر چکیں، اخلاقیات مر چکے، صداقت مر چکی، غیرت مر چکی، شرافت مر چکی، خوداری مر چکی،انسانیت مر چکی، صرف ایک حقیقت باقی ہے اور وہ نفع اٹھانا اور اپنا کام نکالنا ہے۔اور ہر قیمت پر عزت بیچ کر، شرافت بیچ کر ،ضمیر بیچ کر، اصول بیچ کر ، خودادری بیچ کر، صرف چڑھتے سورج کا پجاری بننا ہے، اس وقت مدرسہ اٹھتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ انسانیت مری نہیں ہے، نقصان میں نفع ہے ، ہار جانے میں جیت ہے، بھوک میں وہ لذت ہے جو کھانے میں نہیں،کبھی شر سے بھی خیر بر آمد ہوتی ہے۔ اس وقت مدرسہ یہ اعلان کرتا ہے کہ ذلت بعض موقعہ پر وہ عزت ہے جو بڑی سے بڑی عزت میں نہیں ، مدرسہ یہ واشگاف الفاظ میں اعلان کرتا ہے کہ سب سے بڑی طاقت اللہ کی طاقت ہے سب سے بڑی صداقت حق کی صداقت ہے۔

دینی مدارس اور سیکولر تعلیمی اداروں میں ایک خاص فرق یہ ہے کہ دینی تعلیمی اداروں نے کسی وقت بھی غلامی کو ذہنی طور پر قبول نہیں کیا تھا۔ اگرچہ قومی بہاؤ میں انھیں بھی وقت کے دھارے کے ساتھ بہنا پڑا لیکن انھوں نے اس کے باوجود بھی اپنا جدا گانہ تشخص برقرا ر رکھا۔ اس کے مقابلے میں سیکولر تعلیمی ادارے مغربی یورش کے ہر حملے کے آگے سپر ڈالتے چلے گئے۔چنانچہ وہ «گورے» نہ بن سکنے کی شرمندگی میں اپنی اصل حقیقت سے ہمیشہ منہ ہی چھپاتے رہے۔دورِ غلامی سے آج تک اس طبقے نے انگریزوں جیسے سو رنگ ڈھنگ اپنائے لیکن یہ جب بھی گوروں کے سامنے گئے، احساسِ ندامت ہی لے کر پلٹے۔جبکہ دینی مدارس نے اپنی مقامی تہذیب و ثقافت کو دندان سخت سے دبائے رکھا اور کتنے ہی معاشی و معاشرتی سخت سے سخت تر وار سہتے رہے، لیکن اپنی اصل سے جُڑ ے رہے اور اپنی پہچان سے دستبردار نہ ہوئے۔اس آزاد منش رویے نے انھیں تاریخ کے کچھ ایام میں تنہا بھی کردیا اور ان کےہاں سے کچھ ایسےفیصلے بھی صادر ہوئے جسے وقت نے قبول نہ کیا لیکن اس نقصان کی سرمایہ کاری نے بھی انھیں کسی بھی بڑے خسارے سے محفوظ رکھا کیونکہ آزادی کا ایک خطیر خزانہ ان کے پہلوئے ملبوس میں موجود تھا۔

 یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ دینی مدارس کے باعث ہی امت مسلمہ نے غلامی کا طوق اتار پھینکا ہے اور آزادی کے سفر میں ارتقا بھی انہیں اداروں کا مرہونِ منت ہے۔گزشتہ ایک عرصے سے دینی تعلیمی اداروں نے سیکولر ازم کے وار سہے ہیں اور اپنا دفاع کرتے رہے ہیں اور آج تک اپنا وجود و جواز باقی رکھے ہوئے ہیں جبکہ سیکولر تعلیمی ادارے اپنا جواز کھو چکے ہیں اور انھوں نے قوم کو پژمردہ، مفلوج، ذہنی پسماندہ، اغیار سے شکست خوردہ اور مایوس کن افرادی قوت فراہم کی ہے۔

وطن عزیز کے طول و عرض میں علوم دینیہ اور تہذیب و تمدن کے چراغوں کو فروزاں کیے ہوئے یہ دینی مدارس رنگ و نسل کی تفریق کے بغیر اسلامی اقدار اور روایات کے فروغ کے لیے شب و روز کوشاں ہیں۔مدارس کا سب سے بڑا کردار قرآن و حدیث کی زبان عربی کو اس کی پوری صحت کے ساتھ زندہ رکھنا ہے، جبکہ عصری علوم کے ادارے اس عظیم زبان سے محروم ہیں اور مغربی زبان اور اس کے فکر و فلسفہ کو حرزِ جاں بنائے بیٹھے ہیں، عربی اور قومی زبان ان کے لیے شجرِ ممنوعہ ہے اور وہ اپنا احساسِ کمتری نئی نسل کے ذہنوں میں بھی انڈیل رہے ہیں۔دینی مدارس سے بغض و عداوت اور ان پربے جا تنقید اور مختلف حربو ں سے ان کو ہراساں کرنے کا اصل سبب ،مغرب کے ایجنڈے کی تکمیل ہے جو اس نے عرصہ دراز سے امت مسلمہ پر مسلط کیا ہواہے۔عسکری میدانوں میں اپنی شکست خوردگی کو محسوس کر کے اب مغرب نے اپنا ہدف تبدیل کر دیا ہے اور وہ امت مسلمہ کی نئی نسل کو اور ان لوگوں کو جو اسلام کو اپنی ذہنی اور عملی عیاشیوں کے لیے سد راہ سمجھتے ہیں ،چارے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

موجودہ حالات کے پیش نظر علما و طلبا کو یہ چیز مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ لادین طبقہ ہماری صفوں میں اختلاف برپا کر کے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے درپے ہے۔ کفر کو بھی اگر اس وقت خطرہ ہے تو دینی مدارس سے ہے کہ یہ دین کو اصلی حالت میں باقی رکھنے کا ذریعہ ہیں۔

سیموئیل ہینٹنگٹن جو کتاب» تہذیبوں کا تصادم» کا مصنف ہے ، اپنی کتاب «ہم کون» ؟ میں لکھتا ہے کہ» ہمارا دشمن اسلام ہے اور خطرہ صرف اسلام سے ہے۔اس میں اس نے یہ بھی کہا کہ اسلام کی طاقت کا منبع اسلامی مدارس ہیں اس لیے ضروری ہے کہ ان کو بند کر دیا جائے یا ان کے نصاب کو جدیدیت اور مغربیت سے ہم آہنگ کردیں۔» چنانچہ ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے کہ مدارس اسلام کا آخری مورچہ ہیں ان کا ختم ہونا پورے تمدن کا سقوط ہے۔کفر جن خطر ناک منصوبوں کے ساتھ مدارس کو ختم کرنے اور کمزور کرنے میں لگا ہوا ہےوہ ہم سب کے لیے قابل غور ہے۔انھیں منصوبوں میں مدارس کے خلاف بدگمانیاں پیدا کرنا اور مدارس سے وابستہ حضرات کے درمیان خلیج پیدا کرنا ان کا اہم مقصد ہے۔ان سب سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے مدارس کے نظام کو اکابر کے نقش قدم پر چلانا ہماری زندگی کا اہم مشن ہونا چاہیے تاکہ اسلام کے یہ قلعے مزید مستحکم و مضبوط ہوسکیں۔

مدارس پر تنقید کرنے والوں سے سوال کیا جائےکہ آج عصری تعلیم جو ایک انگریز کی وضع کر دہ ہے اس کو حاصل کر کے کتنے لوگوں نے اپنے کردا ر و عمل سے پرسکون، راحت بخش اور ایک فلاحی معاشرہ تشکیل دینے کی مثال قائم کی ہے۔آج عصری تعلیم کا مقصد محض ایک اچھی ملازمت او ر اعلیٰ اسٹیٹس کا حصول ہے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ آج تک کسی دینی ادارے میں دہشت گردی اور طلبہ کے درمیان قتل و غارت کی ایک مثال بھی پیش نہیں کی جاسکی۔ اس کے بر خلاف عصری علوم کے مراکز خواہ وہ کوئی کالج ہو یا یونیور سٹی ، ان میں آئے دن طلبہ کے مابین کشت و خون ہوتا رہتا ہے۔عصری علوم کے اداروں میں گروہ بندیاں، سیاسی رعب و دبدبہ، بدمعاشیاں، اسلحہ کا آزادانہ استعمال روزمرہ کی بات ہے۔حد یہ ہے کہ طلبہ کی مجرمانہ سر گرمیوں سے اسا تذہ بھی امن میں نہیں ہیں۔

اس کے برعکس دوسری جانب چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے دینی مدرسے یا دار العلوم کے بارے میں اس حوالے سے ادنیٰ مثال بھی نہیں دی جاسکتی۔یہ نمایاں فرق دینی اداروں کی امن پسندی اور اخوت و محبت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔مسلمانوں کو اپنے فکری اور دینی تشخص سے محروم کر کے انھیں سیکولر دھارے میں شامل کرنا مغرب کا اہم ترین ایجنڈا ہے۔مغربی ذرائع ابلاغ کامسلم ممالک تک پہنچنا اور اس کے ذریعے سے عالمگیریت کے تصور کا فروغ اسی حکمتِ عملی کا ایک پہلو ہے۔مسلمانوں کو ان کے بنیادی عقائد ، فکری اور نظر یاتی اساس سے محروم کرنے کے لیے انھیں اسلام سے متنفر کرنا ضروری ہے ، جس کی آسان ترین صورت یہ ہے کہ ان کے ذہنوں میں ایک طرف اسلامی تعلیمات کو فرسودہ،بے مقصد اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے غیر ہم آہنگ ثابت کیا جائے اور دوسری جانب مدارس کو دہشت گردی کے اڈے اور معاشرے میں منافرت پھیلانے کے مراکز قراردینے کا پرو پیگنڈا جاری رکھا جائے، چنانچہ مغرب آج اپنی اس اسی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔

بلا شبہ دینی مدارس کا وجود سراپا خیر و برکت اور ان کا منصب تعلیم و تعلم نہایت ہی اونچا اور قابلِ فخر ہے۔یہ دینی ادارے انبیائے کرام ﷩کی وراثت کے امین ، شریعت الٰہی کے محافظ اور امت محمدیہ ﷺ کے معلم ہیں۔قرآنِ حکیم اور احادیث نبویہﷺ میں دین کی تعلیم و تعلم کے جو فضائل آئے ہیں ، ان سےکسی کو انکار کی مجال نہیں،لیکن جتنا یہ منصب عالی ہے اس کی قیمت بھی اتنی ہی اونچی ہے اور رضائے الٰہی اور نعیم جنت ہوسکتی ہے۔اگر اس گوہرِ بے بہا کی قیمت متاعِ دنیا کو ٹھیرا لیا گیا تو اس سے بڑھ کر کوتاہ نظری کیا ہوسکتی ہے؟ حدیث میں صاف اور صریح وعید وارد ہے:

« جس نے وہ علم حاصل کیا جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوسکتی ہے، مگر وہ اس کو صرف متاعِ دنیا کے لیے حاصل کرتا ہے تو اسےقیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نصیب نہ ہوگی»۔(ابن ماجہ و ابی داوؤد)

ہمارے اکابر کے لیے تعلیم و تدریس، تصنیف و تالیف، دعوت و ارشاد اور امامت و خطابت کے مشاغل کبھی شکم پری اور جاہ طلبی کا ذریعہ نہیں رہے، بلکہ یہ خالص دینی مناصب تھے اور بزرگوں کے اخلاص و تقویٰ، خلوص و للہیت ، ذکر و شغل اور اتباعِ سنت نے ان مناصب کے وقار کو اور چار چاند لگا رکھے تھے۔لیکن ہر انسان اس کا تعلق خواہ زندگی کے کسی شعبہ سے ہو بشری کمزوریاں بہرحال ہر کسی کے ساتھ موجود ہیں جس کے زیر اثر کبھی انسان سے اعما ل میں کوتاہیاں ، لغزشیں، بھول چوک اور نسیان کا معاملہ بھی ہوجاتا ہے۔۔۔اس تناظر میں مشاہدہ میں یہ آیا ہے کہ کچھ عرصے سے دینی مدارس کی اصل روح دن بہ دن مضمحل ہوتی جارہی ہے، اساتذہ و طلبہ میں شب خیزی ، ذکر و تلاوت، زہد و قناعت، اخلاص و للہیت اور محنت و جاں فشانی کی فضا کم ہورہی ہے۔نمازِ فجر کے بعد تلاوتِ قرآن کی جگہ عام طور پر اخبار بینی لے رہی ہے۔ریڈیو ، ٹی وی اور انٹرنیٹ جیسی منحوس چیزیں جدید تمدن نے گھر گھر پہنچا دی ہیں اور ہمارے دینی قلعے ، دینی مدارس بھی ان وباؤں سے متاثر ہورہے ہیں ،۔یہ درد ناک صورتِ حال ہے جس نے اربابِ بصیرت اہلِ دل کو بے چین کر رکھا ہے۔مدارس دینیہ کے اربابِ بست و کشاد کو اس تشویشناک مسئلے کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے۔اس سے پہلے کہ یہ اور اس جیسے دوسرے شیطانی وار مدارس کی صاف ستھری فضا کو اپنی مسموم کثافت سے مکدر کر دیں۔کیونکہ ماحول اور فکر و عمل کا بگاڑ ذود اثر بھی ہوتا ہے اور ہلاکت آمیز بھی!

حوالہ جات

1۔ مدارس اسلامیہ ۔۔۔ سید ابو الحسن علی ندویؒ

2۔ دینی مدارس اور سیکولر تعلیمی ادارے۔۔۔ ڈاکٹر ساجد خاکوانی

3۔تاریخ مرکزی دارالعلوم ۔۔۔محفوظ الرحمٰن فیضی

4۔ دینی مدارس کا مزاج۔۔۔قاری سعید الرحمٰن

5۔ دینی مدارس کے علما و طلبہ کے لیے لمحہ فکریہ۔۔۔مولانا محمد یوسف بنوری ؒ

غسل کے بارے بیان

بَاب هَلْ يُدْخِلُ الْجُنُبُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَى يَدِهِ قَذَرٌ غَيْرُ الْجَنَابَةِ

کیا جنبی اپنا ہاتھ برتن میں دھونے سے پہلے ڈال سکتا ہے، جب کہ اس کے ہاتھ پر جنابت کے علاوہ کوئی نجاست نہ ہو

35-261- حَدَّثَنَا عَبْدُاللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ أَخْبَرَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ تَخْتَلِفُ أَيْدِينَا فِيهِ .

عبداللہ بن مسلمہ، افلح بن حمید، قاسم، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں، میں اور نبی کریم ﷺایک برتن سے غسل کرتے تھے اور ہمارے ہاتھ باری باری اس میں پڑتے تھے۔

Narrated Aisha: The Prophet and I used to take a bath from a single pot of water and our hands used to go in the pot after each other in turn.

36-264- حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ عَبْدِاللهِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَرْأَةُ مِنْ نِسَائِهِ يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ زَادَ مُسْلِمٌ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ شُعْبَةَ مِنَ الْجَنَابَةِ

ابوالولید، شعبہ، عبداللہ بن عبداللہ بن جبیر،سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺاور آپ کی ازواج میں سے کوئی زوجہ دونوں مل کر ایک برتن سے غسل کرتے تھے۔اس روایت میں مسلم بن ابراہیم اور وہب بن جریر نے بواسطہ شعبہ یہ اضافہ بیان کیا ہے کہ وہ غسل جنابت کا ہوتا تھا۔

Narrated Anas bin Malik: The Prophet and one of his wives used to take a bath from a single pot of water. (Shu›ba added to Anas›s Statement «After the Janaba»)

معانی الکلمات

أَغْتَسِلُمیں غسل کرتاہوں یا کروں گا
إِنَاءٍبرتن
تَخْتَلِفُباری باری
أَيْدِينَایَد کی جمع بمعنی ہمارے ہاتھ

تراجم الرواۃ

نام ونسب: عبد الله بن مسلمة بن قعنب القعنبي الحارثي

کنیت: أبو عبد الرحمن المدني البصري

محدثین کے ہاں مقام ومرتبہ:امام ابن حجررحمہ اللہ کے ہاں ثقہ عابد جبکہ امام ابو حاتم رحمہ اللہ کے ہاں ثقہ حجہ تھے۔

وفات:221 ہجری مکہ مکرمہ میں وفات پائی جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ بصرہ میں وفات پائی۔

نام ونسب: أفلح بن حُميد بن نافع الأنصاري النجاري

کنیت: أبو عبد الرحمن المدني

محدثین کے ہاں مقام ومرتبہ: امام عبد اللہ بن احمد نے اپنے والد گرامی امام احمد بن حنبل سے افلح کے بارے دریافت کیا تو انہوں نے جواب میں ان کی تعدیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ صالح تھے۔امام ابن حجر رحمہ اللہ کے ہاں ثقہ جبکہ امام ذہبی رحمہ اللہ کے ہاں صدوق تھے۔

وفات:۱۵۸ہجری

نام ونسب: القاسم بن محمد بن أبي بكر الصديق القرشي التيمي

کنیت: ابو محمد یا ابو عبد الرحمن المدنی

محدثین کے ہاں مقام ومرتبہ:امام ابن حجر رحمہ اللہ کے ہاں ثقہ جبکہ امام ذہبی رحمہ اللہ کے ہاں فقیہ کے اوصاف سے متصف تھے۔اور ان کا شمار فقہاء سبعہ میں ہوتاہے۔

وفات:۱۰۶ ہجری القدید کے مقام پر ہوئی۔

سيده عائشة رضي الله عنها کا ترجمہ حدیث نمبر 14 میں ملاحظہ فرمائیں۔

أبو الوليدکا ترجمہ حدیث نمبر 3 میں ملاحظہ فرمائیں۔

شعبة بن الحجاج کا ترجمہ حدیث نمبر 2میں ملاحظہ فرمائیں۔

عبد الله بن عبد الله بن جبرکا ترجمہ حدیث نمبر 13 میں ملاحظہ فرمائیں۔

سيدنا أنس بن مالكکا ترجمہ حدیث نمبر 2 میں ملاحظہ فرمائیں۔

تشریح:

 ان احادیث کے بیان کرنے سے امام بخاری رحمہ اللہ کا ایک مقصد تو پانی میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہاتھ دھونے کو ثابت کرنا ہے اور دوسرا یہ کہ ضرورت کے وقت ہاتھ دھوئے بغیر بھی پانی میں ہاتھ ڈال سکتے ہیں اور چلو میں پانی نکال سکتے ہیں، اگرچہ شریعت کی نظر میں پسند یدہ یہی ہے کہ پہلے ہاتھ دھوئے جائیں پھر انھیں پانی میں ڈالا جائےاگر ہاتھ خشک ہے اور اس پر کوئی ظاہری نجاست بھی نہیں ہے تو جنبی کا غسل والے پانی میں ہاتھ ڈالنے سے پانی ناپاک نہیں ہوگا ۔ امام ابن قدامہ رحمہ اللہ نے نقل فرمایا ہے کہ جس پانی میں حائضہ یا جنبی اپنے ہاتھ ڈال دیں وہ پاک ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں اِلّا یہ کہ ان کے ہاتھوں پر نجاست لگی ہو۔ (المغنی لابن قدامہ ۱/۲۸۰)

 امام بخاری رحمہ اللہ کا منشا یہ ہے کہ یہ تمام احادیث مطلق ہیں اور ان کا تعلق جنابت سے ہے، پانی لینے کی کوئی بھی صورت ہو اگر ہاتھ پر کوئی ظاہری نجاست لگی ہوئی نہ ہو تو غسل سے قبل پانی یا برتن میں ہاتھ ڈالنے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی نجاست لگی ہو تو اسے غسل سے قبل ضرور دھو لینا چاہیے، اگر اسے دھوئے بغیر پانی یا برتن میں ہاتھ ڈال دیا تو اس سے پانی نجس ہو جائے گا۔

وقال ربکم ادعونی استجب

رمضان کے دوران عمرہ کی سعادت کے متعلق فضائل، رسول اللہ ﷺ کا فرمان کہ جس نے رمضان المبارک کے دوران عمرہ کیا اس کا عمل ایسا ہے کہ گویا اس نے میرے ساتھ ، میری معیت میں حج کیا ہو‘‘ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کو جان کر آپ ﷺ کی محبت، آپ ﷺ کے ساتھ کا سوچ کر سرشاری کی کیفیت، اللہ کے گھر کی زیارت کا شوق، اسی قسم کے جذبات لیے رمضان 1436ھ یعنی جولائی 2015ء میں ایران میں پاکستانی قونصل جنرل رؤوف احمد اپنی اہلیہ، صاحبزادی اور نوعمر نواسی کو ہمراہ لیے مکہ المکرمہ پہنچے۔ ہوٹل میں سامان رکھنے کے بعد اپنے دستی بیگ لیے حرم میں آئے ہر حاجی اور معتمر کی طرح اپنے مقدر پر نازاں اور بزبان شاعر ؎

حیرت سے خود کو کبھی دیکھتا ہوں

اور دیکھتا ہوں کبھی میں حرم کو

لایا کہاں مجھ کو میرا مقدر

اللہ اکبر اللہ اکبر

طواف وغیرہ کے بعد سعی کے لیے صفا مروہ پہنچے تو خواتین کا خیال کرتے ہوئے ان کے سفری دستی بیگ لے کر ایک کندھے پر لٹکائے اور دوسرے کندھے پر نواسی کو بٹھایا اور سعی کے لیے ایک عظیم خاتون کی سنت پر عمل کرتے ہوئے صفا اور مروہ کے درمیان چکر لگانا شروع کر دیئے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ بے نیاز ذات بھی ہے اور اپنے بندوں سے بہت زیادہ پیار بھی کرتاہے۔ اپنے بندوں کو قریب کرنے کے لیے وہ وقتاً فوقتاً ایسے حالات سے دوچار فرماتاہے کہ وہ اس کی طرف رجوع کرنے کے علاوہ کوئی راہ نہیں پاتے۔ رؤوف احمد کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ پیش آیا۔ صفا مروہ کی سعی کے دوران ان کی اہلیہ اور صاحبزادی ان سے بچھڑ گئیں، بہت تلاش کے باوجود جب وہ نہ ملیں تو رؤوف احمد انتہائی پریشانی کے عالم میں مطاف میں آئے شلوار قمیض میں ملبوس شخص ( عبد اللہ) سے کسی ایسے دفتر کا پتہ دریافت کیا جہاں گمشدہ افراد کے متعلق اعلان ہوسکے۔ ایسا تو کوئی دفتر نہیں جہاں اعلان ہوسکے، البتہ ایسا دفتر ہے جہاں بچھڑنے والوں کو پہنچا دیا جاتاہے چنانچہ وہاں جاکر دیکھا تو وہاں اپنے اہل خانہ کو نہ پاکر رؤف احمد کی پریشانی مزید بڑھ گئی ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ اب تو گھر کے ہر فرد کے پاس اپنا موبائل فون ہوتاہے تو کیا آپ کی اہلیہ یا صاحبزادی کے پاس موبائل نہیں جس پر آپ فوری طور پر رابطہ کریں تو رؤوف احمد کا ہر بار بڑی اذیت کے ساتھ یہی جواب ہوتا کہ ہمارے تو وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ ایسا ہوسکتاہے ورنہ میں سب موبائل اور دیگر سامان ایک بیگ میں ڈال کر اپنے پاس نہ رکھتا۔ اللہ کے گھر میں اللہ کا مہمان ہوتے ہوئے اللہ ہی سے اپنے دل کا حال اور پریشانی سے نجات کے لیے نماز اور دعا کا سہارا لینے کا مشورہ مانتے ہوئے رؤوف احمد نے دو رکعت نماز پڑھ کر مطاف میں اللہ کے گھر کے سامنے التجا کرنا شروع کی تو دل کا غبار آنکھوں کے راستے نکلنا شروع ہوگیا۔ اللہ کی رحمت کو جوش آیا اور اسی اثناء میں ان کے بیگ میں موجود موبائل کی گھنٹی بج اٹھی، دیکھا تو پاکستان سے فون کیا جارہا تھا ہوا یوں کہ گھر کا نمبر تو ان کی صاحبزادی کو یاد تھا چنانچہ کسی سے موبائل فون لے کر گھر پہ فون کیا کہ مکہ مکرمہ پہنچنے اور لوکل سمز لینے کے بعد جس نمبر سے فون کیا تھا اس نمبر پر فون کریں اوررؤوف صاحب کو بتائیں کہ ’’باب عمرہ‘‘ سے اندر سیڑھیوں پر ان کے اہل خانہ ان کا انتظار کر رہے ہیں، آنکھوں نے ایک مرتبہ پھر برسنا شروع کر دیا تاہم یہ خوشی اور تشکر کے آنسو تھے۔ فوراً باب عمرہ کی طرف لپکے اور اہل خانہ سے ملاقات کا وہ منظر بیان کیے جانے کے بجائے محسوس ہی کیا جاسکتاتھا۔ باتیں ہوتی رہیں کہ یوں ہونا چاہیے تھا یوں ہونا چاہیے اور ایسا آئندہ کے لیے یوں کرنا چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ ننھی نواسی مختصر وقت کے لیے نانی اور پھر والدہ کے آغوش میں سمٹی پیار سمیٹتی رہی پھر تمام باتوں کو بھول کر بھوک کی دُھائی دی۔ بڑے توحالات کی نزاکت کے مطابق بھوک پیاس برداشت کرسکتے ہیں لیکن بچے تو اظہار میں کسی قسم کا تکلف نہ جانتے ہیں اور نہ ہی مانتے ہیں چنانچہ گڑیا رانی نے باقاعدہ منہ بسورتے ہوئے صدائے احتجاج بلند کرنا شروع کر دی۔ ماں اور نانی کے ساتھ ساتھ نانا بھی بے چین ہوگئے نواسی کو گود میں اٹھایا اور حرم سے باہر بچی کو کچھ کھانے کی چیز دلانے کے لیے چل دیئے۔ رمضان کے دنوں میں فجر کی نماز کے بعد کھانے پینے کی اشیاء کا ملنا تقریباً ناممکن ہوتاہے خصوصاً دن چڑھے جب ہوٹل، اسٹورز وغیرہ صفائی کے بعد بند کر دیئے جاتے ہیں اور پھر دوبارہ عصر کے وقت کھولے جاتے ہیں۔ خیر رؤوف احمد نواسی کو جیسے تیسے کہیں سے کھانے کے لیے بسکٹ وغیرہ دلاکر واپس اہل خانہ کے پاس پہنچے۔ بچی کے اطمینان نے سب کو مطمئن کر دیا ادھر ادھر کی باتیں ہونے لگیں سب مستقبل کی منصوبہ بندی، پریشانیوں سے بچنے کے لیے ارض مقدس پر عبادتوں میں یکسوئی کے لیے تجاویز پیش کر رہے تھے اور مستقبل قریب میں پیش آنے والی صورت حال سے بے خبر تھے اچانک کسی ضرورت کے تحت رؤف احمد سے بیگ مانگا گیا تو انہیں یاد آیا کہ بیگ تووہیں اتار کر رکھا تھا جہاں سے نواسی کے لیے کھانے پینے کی اشیاء خریدی تھیں، فوراً وہاں پہنچے تو اس دوران سب اسٹورز ہوٹل وغیرہ بند ہوچکے تھے۔ رؤوف احمد کی پریشانی انتہا کو پہنچ گئی کہ پاسپورٹس،موبائلز اور کرنسی (ریال اور ڈالرز) سبھی اس ایک بیگ میں تھے اور وہ بیگ اللہ جانے کہاں تھا کس کے پاس تھا۔ طرح طرح کے خیالات، وسوسے پریشانی میں مزید اضافے کا باعث بن رہے تھے کہ ہزاروں ڈالرز اور ریال، قیمتی موبائلز رکھ کر پاسپورٹس تو کہیں بھی پھینکے جاچکے ہوں گے کسی کو کیا پڑی ہے کہ وہ بیگ کے مالک کو تلاش کرتا پھرے یا ایسی کوئی کوشش کرے وغیرہ وغیرہ۔ ۔۔۔اور پھرایک مرتبہ پھر تلاش کا عمل جاری ہوا معلوم ہوا کہ کلاک ٹاور کے قریب گمشدہ اشیاء جمع کرادی جاتی ہیں وہاں کوئی آفس یا جگہ ہے جہاں گمشدہ اشیاء نمایاں طور پر رکھی جاتی ہیں کہ دور سے نظر پڑے اور ہر شخص اپنا سامان پہنچا کر لے جائے۔ وہاں ہر طرف دیکھا لیکن بیگ کو نہ ملناتھا نہ ملا پھر کسی نے بتایا کہ کوہِ صفا جہاں رسول معظم ﷺ نے اہل مکہ کو پہلی مرتبہ دین کی دعوت دی تھی، اسی طرف عقبی علاقے میں ایک ایسا دفتر ہےجہاں لوگوں کی گمشدہ اشیاء گری پڑی اشیاء اٹھا کر پہنچا دی جاتی ہیں وہاں بھی تمام تر نشانیاں بتاکر بیگ کا پوچھ لیا مگر بیگ وہاں ہوتا تو ملتا۔سورج سر پر آچکا تھا اور گویا آگ برسا رہا تھا۔جولائی کے دن، مکہ المکرمہ کی گرمی، شوگر کا مرض،پریشانی کا عالم رؤوف احمد کی حالت ایسی ہورہی تھی کہ کسی بھی وقت بے ہوش ہوکر گرنے والے تھے۔ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ہوٹل چلے گئے۔ تمام تر وسوسوں،مایوسی کے حملوں کے باوجود دل سے دُعا نکل رہی تھی یا اللہ! تیرا بندہ ہوں، مانا کہ گنہگار ہوں لیکن تیرا مہمان ہوں، تیرے گھر آیا ہوں کسی کو کیا بتاؤں گا میرا تو تیرے علاوہ کوئی بھی نہیں جو میری مشکل کو آسان کر دے میری پریشانیوں کو دور کر سکے، یا اللہ! تو نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کے ذریعے بتایا ہے کہ میرے بندے کو کوئی معمولی سے معمولی تکلیف پہنچتی ہے تومیں اس تکلیف کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا کر اس کے گناہوں کو معاف کر دیتاہوں۔ اے میرے مہربان،شفیق اور اپنے بندوں سے پیار کرنے والے رب تُو تو بغیر تکلیف دیئے بھی اپنے بندوں کے گناہ معاف کر سکتاہے۔ یا اللہ! مجھے بھی معاف فرمادے، میرے گناہ معاف فرما دے اور میری مشکل کو آسانی میں تبدیل فرمادے، انہی دعاؤں اور التجاؤں کے دوران رؤوف احمد کی آنکھ لگ گئی اور نیند بھی اللہ تعالیٰ کی کیا خوب نعمت ہے اور اللہ کا فرمان بھی ہے:

وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ۰۰۹ (النبأ: 9)

’’ اور ہم نے تمہاری نیند کو آرام کا ذریعہ بنایا۔‘‘

رؤوف احمد بھی وقتی طور پر سب پریشانیوں سے آزاد ہوگئے، نیند سے طبیعت قدرے بہتر ہوئی۔ بیدار ہوئے تو دعاؤں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔ اور جب کیفیت یکسوئی والی ہو،بے قراری کی انتہا ہوجائے تو پھر

اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ يَكْشِفُ السُّوْٓءَ (النمل: 62)

کے ربانی وعدے پورے ہوکر رہتے ہیں اور رحمت الٰہی کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر پریشانیوں کو خس وخاشاک کی طرح بہا کر لے جاتاہے۔رؤوف احمد کوملنے والی معمولی سے خوشخبری قارون کا خزانہ معلوم ہورہی تھی، ان کو فون پر اطلاع ملی کہ کلاک ٹاور،صفااور دیگر دفاتر کے علاوہ گمشدہ سامان وغیرہ کے لیے ایک مرکز مروہ پہاڑی کی طرف موجود ابو جہل سے منسوب حمامات(واش رومز)کے اوپر پہلی دوسری منزل پر بھی موجود ہے، جہاں ان کے بیگ جیسا بیگ یا وہی بیگ موجود ہے تاہم دفتر کی طرف سے بتایا گیا کہ بیگ کے مالک کو خود آنا ہوگا، بیگ کو پہچاننا اور نشانی بتاکر وہ بیگ اگر ان کا ہو تو مالک خود لے جاسکتاہے۔ کسی اور کو کسی بھی صورت میں کوئی سامان نہیں دیا جاسکتا۔ رمضان کی راتیں،تراویح کےدوران لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر، حرم کے باہر دور تک لوگوں کی صفیں اور اس قدر بھیڑ اور اژدحام کہ رؤوف احمد سوچ رہے تھے کہ وہ اپنے بیگ کو پانے کے لیے یا معلوم کرنے کے لیے دفتر تک پہنچ بھی پائیں گے یا نہیں۔رات بہت بیت چکی تھی اللہ اللہ کرکے انتہائی مشکل سے رؤوف احمد دفتر پہنچے، دفتر کے اندر سامنے ہی وہ بیگ رکھا تھا جسے وہ ہزاروں بلکہ لاکھوں بیگز میں سے شناخت کرسکتے تھے۔ بے صبری کے عالم میں فوراً نشانیاں بتائیں اور بیگ طلب کیا۔ ہر طرح سے تصدیق کرلینے کے بعد بیگ ان کے حوالے کر دیاگیا۔ بیگ کھول کر تسلی کی کہ کوئی ایک موبائل، کوئی ایک ریال یا ڈالر حتی کہ پاسپورٹس کے ساتھ موجود کاغذ کا کوئی ایک پُرزہ تک ادھر سے اُدھر نہیں ہوا تھا۔ رؤوف احمد کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنے سوہنے رب کا شکر کیسے ادا کریں؟ سجدہ شکر بجا لائیں یا تشکر کے آنسؤوں کا نذرانہ پیش کریں، یاپھر حدیث قدسی کے مطابق صحرا میں موت کے منتظر اس شخص کی طرح ردّ عمل ظاہر کریں جس کی سواری توشہ سمیت اس کے پاس اس وقت واپس آجاتی ہے جب وہ بھوک پیاس کی شدت برداشت کرتے کرتے موت کے منہ میں جانے کے لیے تیار ہوتاہے۔

رؤوف احمد کا دل تشکر کے جذبات سے لبریز تھا اور دل سے صدا آرہی تھی۔

تیرے کرم کی کیا بات مولا…..

العربية بن الأصالة والمعاصرة

العربية بن الأصالة والمعاصرة

معیشت صحیح راستے پر لانا چاہتے ہیں۔ عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالنا مجبوری تھی۔ پاک افغان صورتحال پر اجلاس بلارہا ہوں ۔ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔شہباز شریف

رئيس الوزراء شهباز شريف يصرح: نريد أن يمضي الوضع الاقتصادي على المسار الصحيح. كنا مضطرين لحمل عبء الغلاء على الشعب.

يجب علينا القضاء على أنانيتنا لأجل تنمية وتطوير باكستان. أدعو الاجتماع بشأن الوضع المتوتر بين باكستان و أفغانستان.

معاشی صورتحال/معیشت: الوضع الاقتصادي

صحیح راہ :المسار الصحيح

بوجھ ڈالنا: حمل العبء

ترقی اور خوشحالی:التنمية والتطوير

کشیدہ صورتحال:الوضع المتوتر

پاکستان کبھی دیوالیہ نہ ہوگا۔ عمران خان دشمنوں کو خوش کرنے والی باتیں کرتے ہیں. ہم نے سیاست کی بجائے ریاست کو ترجیح دی۔اسحاق ڈار

وزير المالية إسحق دار: لن تفلس باكستان، يقدم عمران خان من الكلام ما يبهج الأعداء.أعطينا الأولوية للبلد بدلا عن السياسة.

دیوالیہ ہونا:أفلس يفلس إفلاس

ترجیح :الأولوية

خوش کرتا ہے :يبهج

پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے اربوں ڈالر کی امداد ملنے کی توقع ہے۔

عمران خان خان کے ساتھ ہیں،غلط فہمیاں پیدا کرنے والے ناکام رہیں گے ۔

ملک بچانے کا نعرہ لگانے والوں نے ملک تباہی کے دہانے پر پہنچادیا۔

إمكانية تقديم دعم سعودي لباكستان بقيمة مليارات الدولارات. نحن مع عمران خان ، سيبقى فاشلا من ينشيء سوء التفاهم. المرددون لشعار إنقاذ البلد دفعوا البلد إلى شفا التدمير.

سعودی امداد: دعم سعودي

اربوں ڈالر:مليارات الدولارات

غلط فہمی:سوء التفاهم

ناکام رہیں گے:يبقى فاشلا

ملک بچانا:إنقاذ البلد

تباہی کا دہانہ:شفا التدمير

محکمہ سندھ نے صوبہ کے تمام نجی و سرکاری سکولز و کالجز میں موسم سرما کی چھٹیوں کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق 22 دسمبر سے 30 دسمبر تک تعلیمی بند رہینگے۔ دوبارہ تعلیمی ادارے 2 جنوری 2023 بروز پیر کھلیں گے ۔

أصدر قسم التعليم إشعارا بشأن إجازات شتوية في كافة المدارس والكليات الحكومية والأهلية. وفقا للإشعار الصادر تبقى المعاهد التعليمية مغلقة من ٢٢ كانون الأول إلى ٣٠ كانون الأول. و تستأنف الدراسة فيها يوم الاثنين ٣ من كانون الثاني ٢٠٢٣.

جاری کردیا :أصدر

نوٹیفیکیشن:إشعار

موسم سرما کی چھٹیاں:إجازات شتوية

سرکاری و نجی:الحكومية والأهلية

دسمبر:كانون الأول

تعلیمی ادارے:المعاهد التعليمية

جنوری:كانون الثاني

سرکاری ملازمت کے خواہش مند افراد کے لئے بڑی خوشخبری۔ تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے محکمہ تعلیم میں 500 افسران بھرتی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

بشرى سارة للراغبين في توظيفي حكومي. وفقا للتفاصيل الصادرة قررت حكومة سند توظيف ٥٠٠ ضباط في قسم التعليم .

بڑی خوشخبری:بشرى سارة

سرکاری ملازمت:توظيفي حكومي

خواہش مند افراد:الراغبون./المتمنون

تفصیلات کے مطابق:وفقا للتفاصيل

فیصلہ کیا: قرر

بھرتی کرنا:توظيف

افسران:ضباط

روس سے سستا تیل خریدنے کی کوشش ہورہی ہے۔ پٹرول کی قیمتیں کم کرکے خوشی ہوئی۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی۔

سونے کی قیمت میں اضافے کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے ،خریدار پریشان۔

سقوط ڈھاکہ کو 51 برس بیت گئے۔

تجري المحاولات لشراء النفط الرخيص من روسيا . صرنا سعداء إثر تخفيضنا لأسعار النفط.
هبوط كبير في أسعار النفط في السوق الدولي.
تحطمت الأرقام القياسية كلها لارتفاع سعر الذهب.المتسوقون يشعرون بالقلق.
مرت ٥١ عاما على سقوط (مدينة)دكا.

کوششیں چل رہی ہیں:تجري المحاولات

سستا پٹرول:النفط الرخيص

بڑی کمی:هبوط كبير

ریکارڈ ٹوٹنا: تحطيم الأرقام القياسية

ڈھاکہ:دکا

بیت گئے:مضت

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ مزید پابندیاں ان کے میزائل پروگرام کو نہیں روک سکتیَ.

امریکہ نے رواں ماہ کے شروع میں تین کورین عہدیداروں پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور میزائلوں کی تیاری کی حمایت کرنے کی وجہ سے پابندی لگا دی تھی۔

پیر اور منگل کی درمیانی شب اسرائیلی جنگی طیاروں نے فضائی حملے کیے جس میں دمشق انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے گردونواح اور جنوبی مغربی دیہی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

فلسطینی قیدی ناصر ابو حمید کو کومے کی حالت میں ہسپتا ل منتقل کردیا گیا۔

قالت کوريا الشمالية:إن العقوبات الإضافيه لن توقف برنامج الصاروخي وكانت الولايات المتحدة قد اعلنت مطلع الشهر الجاري فرض العقوبات اقتصادية على ثلاثة مسؤولين كوريين شماليين لدعم تطوير اسلحة دمار شامل وصواريخ باليستية.
شنت الطائرات الحربية الاسرائيلة غارات جوية ,استهدفت محيط مطار دمشق الدولي وريف دمشق الجنوبي الغربي منتصف ليلة الاثنين الثلاثاء.
نقل الأسير الفلسطيني ناصر أبو حميد للمستشفى بحالة غيبوبة.

العقوبات الإضافية: مزید پابندیاں

البرنامج الصاروخي: میزائل پروگرام

مطلع الشهر الجاري: رواں ماہ کے شروع میں

دعم: سپورٹ/ حمایت

دمار شامل: بڑے پیمانے پر تباہی

صواريخ باليستية: بلیسٹک میزائل

حالة غيبوبة: کومے کی حالت

قتل ٦مدنيين وجرح ٨ آخرون مساء اليوم الاثنين في هجوم مسلح شرق ديال شرق العاصمة العراقية بغداد.
استعرض ولي العهد السعودي الأمير محمد بن سلمان في اتصال هاتفي مع الملك الاردني عبد الله الثاني على العلاقات الثنائية بين البلدين.
بلغ لمغرب قبل النهائي و خسر 0-2امام فرنسا.

عراقی دارالحکومت بغداد کے مشرق میں واقع ضلع دیال کے شمال مشرق میں مسلح حملے میں 6شہری ہلاک و دیگر8 زخمی ہوئے.

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ٹیلیفونک رابطے میں اردنی فرمانروا امیر عبداللہ الثانی کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا۔

سیمی فائنل میں پہنچنے کے بعد مراکش کو فرانس سے 0-2شکست ہوئی۔

مدنيون:شہری

استعرض: جائزہ لیا

اتصال هاتفي: ٹیلیفونک رابطہ

العلاقات الثنائية: دو طرفہ تعلقات

الدور قبل النهائي:سیمی فائنل

خسر:شکست ہوئی

حدیث نبوی میں احد پہاڑ کا تذکرہ

حدیث نبوی میں احد پہاڑ کا تذکرہ 

مدینہ منورہ کے پہاڑوں میں سے احد پہاڑ کو بہت ہی زیادہ اہمیت حاصل ہے، کیونکہ اس پہاڑ کو پیارے پیغمبر ﷺ سے اور آپ علیہ السلام کو اس پہاڑ سے محبت ہوا کرتی تھی، اور اس پہاڑ سے کئی تاریخی یادیں بھی جڑی ہوئی ہیں، آپ علیہ السلام نے کئی مقام پر اس پہاڑ کا ذکر فرمایا اور بعض اعمال اور ان کے اجر و ثواب کو بھی اس سے تشبیہ دیا، ہم ایسی چند روایات یہاں ذکر کرتے ہیں جن میں احد پہاڑ کا ذکر ہے۔

احد حدودِ حرم میں ہے

سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:

مَا بَيْنَ كَدَائ، وَأُحُدٍ حَرَامٌ، حَرَّمَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا كُنْتُ لِأَقْطَعَ بِهِ شَجَرَةً وَلَا أَقْتُلَ بِهِ طَائِرًا

مدینہ منورہ کداء سے احد پہاڑ تک حرم ہے، اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حرم قرار دیا ہے، میں حدودِ حرم میں سے نہ کوئی درخت کاٹتا ہوں اور نہ کسی پر ندے کو قتل کرتا ہوں۔(مسند احمد : 12620)

صحابہ جیسی نیکیاں کسی کی نہیں

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ

’’ میرے صحابہ کو برا مت کہو ، میرے صحابہ کو برا مت کہو ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ جتنا سونا بھی خرچ کرے تو وہ ان ( صحابہ ) میں سے کسی ایک کے دیے ہوئے ایک مد بلکہ اس کے آدھے کے برابر بھی ( اجر ) نہیں پا سکتا ۔‘‘( صحیح مسلم : 6487 )

خلفاء راشدین کی فضیلت

سیدنا انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ :

 أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ، فَقَالَ: «اثْبُتْ أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدَانِ»

جب نبی کریم ﷺ ، ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر احد پہاڑ پر چڑھے تو احد کانپ اٹھا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” احد ! قرار پکڑ کہ تجھ پر ایک نبی ، ایک صدیق اور دو شہید ہیں ۔“( صحیح بخاری : 3675 )

نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت کا اجر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا :

مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِمٍ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا وَكَانَ مَعَهُ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا وَيَفْرُغَ مِنْ دَفْنِهَا ، فَإِنَّه يَرْجِعُ مِنَ الْأَجْرِ بِقِيرَاطَيْنِ كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ ، فَإِنَّهُ يَرْجِعُ بِقِيرَاطٍ

جو کوئی ایمان رکھ کر اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے اور نماز اور دفن سے فراغت ہونے تک اس کے ساتھ رہے تو وہ دو قیراط ثواب لے کر لوٹے گا ہر قیراط اتنا بڑا ہو گا جیسے احد کا پہاڑ ، اور جو شخص جنازے پر نماز پڑھ کر دفن سے پہلے لوٹ جائے تو وہ ایک قیراط ثواب لے کر لوٹے گا ۔( صحیح بخاری : 47 )

احد پہاڑ کی نبی ﷺ سے محبت

سیدنا انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ :

خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ أَخْدُمُهُ ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا وَبَدَا لَهُ أُحُدٌ ، قَالَ : هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ، ثُمَّ أَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : اللهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَتَحْرِيمِ إِبْرَاهِيمَ مَكَّةَ ، اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا .

میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر ( غزوہ کے موقع پر ) گیا ، میں آپ ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا ، پھر جب آپ ﷺ واپس ہوئے اور احد پہاڑ دکھائی دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ وہ پہاڑ ہے جس سے ہم محبت کرتے ہیں اور وہ ہم سے محبت کرتا ہے ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے مدینہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ۔ اے اللہ!  میں اس کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کے خطے کو حرمت والا قرار دیتا ہوں ، جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا شہر قرار دیا تھا ، اے اللہ ! ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت عطا فرما ۔( صحیح بخاری : 2889 )

رسول اللّٰہ ﷺ کی دنیا سے بے رغبتی

سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا :

لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا يَسُرُّنِي أَنْ لَا يَمُرَّ عَلَيَّ ثَلَاثٌ وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ ، إِلَّا شَيْءٌ أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ

اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تب بھی مجھے یہ پسند نہیں کہ تین دن گزر جائیں اور اس ( سونے ) کا کوئی بھی حصہ میرے پاس رہ جائے ۔ سوا اس کے جو میں کسی قرض کے دینے کے لیے رکھ چھوڑوں۔ (صحیح بخاری : 2389)

دجال کہاں اترے گا ؟

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

يَأْتِي الْمَسِيحُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، هِمَّتُهُ الْمَدِينَةُ، حَتَّى يَنْزِلَ دُبُرَ أُحُدٍ، ثُمَّ تَصْرِفُ الْمَلَائِكَةُ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ، وَهُنَالِكَ يَهْلِكُ ( صحیح مسلم : 3351 )

’’ مشرق کی جانب سے مسیح دجال آئے گا ، اس کا ارادہ مدینہ ( میں داخلے کا ) ہو گا یہاں تک کہ وہ احد پہاڑ کے پیچھے اترے گا ، پھر فرشتے اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے ، اور وہیں وہ ہلاک ہو جائے گا ۔‘‘

جہنم میں کافر کی کیفیت

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

ضِرْسُ الْكَافِرِ أَوْ نَابُ الْكَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ وَغِلَظُ جِلْدِهِ مَسِيرَةُ ثَلَاثٍ ( صحیح مسلم : 2851 )

’’ کافر کی داڑھ یا ( فرمایا : ) کافر کا کچلی دانت احد پہاڑ جتنا ہو جائے گا اور اس کی کھال کی موٹائی تین دن چلنے کی مسافت کے برابر ہو گی ۔

ایک روایت میں ہے کہ :

إِنَّ غِلَظَ جِلْدِ الْكَافِرِ اثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ ذِرَاعًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ ضِرْسَهُ مِثْلُ أُحُدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ مَجْلِسَهُ مِنْ جَهَنَّمَ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ،‏‏‏‏ وَالْمَدِينَةِ

پہاڑ جیسی ہو گی اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہو گی جتنا مکہ اور مدینہ کے درمیان کا فاصلہ“۔( سنن ترمذی : 2577 )

رسول اللّٰہ ﷺ کی دامن احد میں دفن ہونے کی تمنا

سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : میں نے سنا کہ جب شہدائے احد کا تذکرہ ہوتا تو رسول اللہ ﷺفرماتے :

أَمَا وَاللّٰہِ! لَوَدِدْتُ أَنِّی غُودِرْتُ مَعَ أَصْحَابِ نُحْصَ الْجَبَلِ یَعْنِی سَفْحَ الْجَبَلِ.

اللہ کی قسم! میں یہ پسند کرتا ہوں کہ مجھے بھی ان کے ہمراہ پہاڑ کے دامن میں دفن کر دیا جاتا۔( مسند احمد : 10738)

صدقہ کی فضیلت

سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ نے فرمایا :

«إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْبَلُ الصَّدَقَاتِ، وَيَأْخُذُهَا بِيَمِينِهِ، فَيُرَبِّيهَا لِأَحَدِكُمْ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ، أَوْ فَلُوَّهُ حَتَّى إِنَّ اللُّقْمَةَ لَتَصِيرُ مِثْلَ أُحُدٍ» ، وَقَالَ وَكِيعٌ فِي حَدِيثِهِ: وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللهِ: {هُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ} {وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ} وَ{يَمْحَقُ اللهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ}

اللہ تعالیٰ صدقات کو قبول کرتا ہے اور ان کو دائیں ہاتھ میں وصول کرتا ہے، پھر وہ ان کو یوں بڑھاتا رہتا ہے، جیسے تم میں سے کوئی گھوڑی، اونٹنی یا گائے کے بچے کی پرورش کرتا ہے،یہاں تک کہ ایک لقمہ احد پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔ وکیع نے اپنی روایت میں کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کی تصدیق قرآن مجید کی ان آیات سے ہوتی ہے: اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کے صدقات کو پکڑ لیتا ہے۔ (سورۂ توبہ: 104) اور اللہ سود کو ختم کرتا اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ (سورۂ بقرۃ: 284 ، بحوالہ مسند احمد: 10090)

اگر جبل احد جتنا قرضہ ہو

رسول اللہ ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا میں تجھے ایک دعا نہ سکھلاؤں کہ اگر تجھ پر احد پہاڑ جتنا بھی قرض ہو تو اللہ اسے ادا کردے۔ اے معاذ تو پڑھ لیا کر:

اللهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكِ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ رَحْمَنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيمَهُمَا، تُعْطِيهُمَا مَنْ تَشَاءُ، وتَمْنَعُ مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ، ارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِيني بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ

اے اللہ، دنیا کے مالک، تو جسے چاہتا ہے بادشاہی دیتا ہے، جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے، جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے، جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے، ۔ تیرے ہاتھ میں بھلائی ہے. تو ہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ دنیا کے رحمان اور آخرت کے رحیم تو جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے جسے چاہتا ہے منع کرتا ہے۔ مجھ پر ایسی رحمت کر کہ میں تیرے سوا سب سے غنی ہو جاؤں۔(صحيح الترغيب : 1821)

موسم سرما اور اسلامی تعلیمات

موسم سرما اور اسلامی تعلیمات

الحمد للہ وحدہ، والصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ ، وبعد:

اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ملک پاکستان میں مختلف اقسام کے مواسم میسر فرمائے اور ان سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کیا۔ یقیناً یہ موسم کا تغیر وتبدل اللہ تعالیٰ کی قدرت اور عظمت کی اہم نشانیوں میں سے ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ (آل عمران: 190)

’’آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیرپھیر میں یقیناً عقلمندروں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘

مزید فرمایا:

يُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّيْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِي الْاَبْصَارِ (النور: 44)

’’ اللہ تعالیٰ ہی دن اور رات کو ردوبدل کرتارہتاہے آنکھوں والوں کے لیے تو اس میں یقیناً بڑی بڑی عبرتیں ہیں۔‘‘

محترم قارئین کرام! جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ پاکستان میں چار نمایاں موسم پائے جاتے ہیں جن میں سے ایک موسم سرما بھی ہے جس کا آغاز دسمبر سے ہوتاہے اور جس کے آتے ہی کچھ چہروں پر فرحت اور کچھ پر غمی وحزن کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔

بلاشبہ سردی کے آنے سے مختلف پریشانیاں درپیش آتی ہیں مثلاً: بیماری، برف کا گرنا،موسم کا انتہائی سرد ہونا وغیرہ لیکن ہمیں اس بات کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ یہ تمام امور مشیئتِ الٰہی سے ہوتے ہیں اور ان میں اللہ رب العالمین کی حکمت شامل ہوتی ہے۔ ارشاد ربانی ہے :

رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا (آل عمران:191)

’’اے ہمارے رب! تو نے یہ بے فائدہ نہیں بنایا۔‘‘

اس آیت سے ہمیں یہ معلوم ہوتاہے کہ کوئی بھی چیز اللہ تعالیٰ نے بے فائدہ اور بے مقصد نہیں بنائی اس میں اللہ رب العالمین کی حکمت مضمر ہوتی ہے اور انسانیت کی بھلائی مقصود ہوتی ہے کیونکہ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔

سبب

اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہر شے کے وجود کا ایک سبب رکھا ہے اور اس میں حکمتِ الٰہی ہے۔ بسا اوقات ہمیں یہ اسباب معلوم ہوتے ہیں اور کبھی ہم ان سے غافل ہوتے ہیں۔ اسی طرح سردی کا باطنی سبب حدیث رسول میں کچھ اس طرح بیان ہواہے۔سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا فَقَالَتْ: رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ: نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ، فَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الحَرِّ، وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ (صحیح بخاری، حدیث: 3260)

’’جہنم نے اپنے رب کے حضور میں شکایت کی اور کہا کہ میرے رب! میرے ہی بعض حصے نے بعض کو کھا لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانسوں کی اجازت دی ایک سانس جاڑے میں اور ایک سانس گرمی میں، تم انتہائی گرمی اور انتہائی سردی جو ان موسموں میں دیکھتے ہو اس کا یہی سبب ہے۔‘‘

سردی کو بُرا بھلا کہنا

احادیث سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ سردی ہو یا گرمی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ بعض لوگ اس امر سے غافل ہوتے ہیں اور نادانی میں سردی کو بُرا بھلا کہہ دیتے ہیں جو کہ جائز نہیں چنانچہ حدیث قدسی میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ، يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ، أُقَلِّبُ الليْلَ وَالنَّهَارَ (صحيح مسلم:2246)

’’ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتاہے زمانہ کو بُرا بھلا کہتاہے حالانکہ میں ہی زمانہ پیدا کرنے والا ہوں میرے ہی ہاتھ میں تمام کام ہیں میں جس طرح چاہتاہوں رات اور دن کو پھیرتا رہتاہوں۔‘‘

سردی اور گرمی کا ہیرپھیر اور زمانے کی تبدیلی کا نظام اللہ تعالیٰ چلا رہا ہے اور جو شخص اس نظام کو بُرا بھلا کہتاہے گویا وہ اس کے چلانے والے کو بُرا کہتاہے جو کہ اللہ کو گالی دینے کے مترادف ہے۔

اگر کسی شخص کو سردی کی وجہ سے زیادہ مشکلات درپیش ہوں تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس کے شر سے پناہ کی دعا کرے اور حفاظتی اسباب اختیار کرے۔نیز اس موسم کے کچھ شرعی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ کچھ ایسے افعال ہیں جن سے بچنا چاہیے اور بعض میں سبقت لے جانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ذیل میں ایسے امور ذکر کرتاہوں جن سے اجتناب ضروری ہے۔

۱۔ منہ ڈھانپ کر نماز پڑھنا:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ وَأَنْ يُغَطِّيَ الرَّجُلُ فَاهُ

’’ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں سدل سے منع فرمایا اور اس سے بھی کہ انسان منہ ڈھانپ کرنماز پڑھے۔‘‘(سنن أبي داود:643)

سردی کے موسم میں اکثر لوگ نماز کی حالت میں اپنا منہ چادر یا مفلر وغیرہ سے ڈھانپ کر نماز پڑھتے ہیں یہ عمل مکروہ ہے الا یہ کہ کوئی عذر ہو مثلاً: کسی بیماری کی وجہ سے تو اس بناء پر کوئی حر ج نہیں۔

۲۔ السدل :

سدل کی تعریف صاحب ھدایہ نے کچھ اس طرح کی ہے :

هو أن يجعل ثوبه على رأسه أو كتفيه ثم يرسل أطرافه من جوانبه ( الهداية 1/143)

’’(سدل یہ ہےکہ) کوئی شخص اپنا کپڑا اپنے سر یا کندھوں پر رکھے پھر اس کے کناروں کو (بغیر ملائے) چھوڑ دے۔‘‘

سردیوں میں اکثر حضرات یہ عمل بھی کرتے ہیں۔ حالتِ نماز میں چادر وغیرہ کو گلے میں اس طرح ڈالتے ہیں اور رکوع کرتے وقت دونوں کنارے لٹکتے ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ عمل جائز نہیں۔

۳۔ رات سوتے وقت ہیٹر جلتے ہوئے چھوڑ دینا:

آپ کے علم میں یہ بات بھی ہے کہ کتنے ہی حادثے اس وجہ سے رونما ہوئے ہیں کہ رات ہیٹر، انگیٹھی بند کیے بغیر سوجانےاور آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کتنی ہی قیمتی جانیں چا چکی ہیں۔

اس لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 

لاَ تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ (صحيح البخاری:6293)

’’جب (تم)سونے لگو تو گھر میں (جلتی ہوئی ) آگ نہ چھوڑو۔‘‘

اسی طرح ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ :

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: احْتَرَقَ بَيْتٌ بِالْمَدِينَةِ عَلَى أَهْلِهِ، فَحُدِّثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَأْنِهِمْ، فَقَالَ: «إِنَّمَا هَذِهِ النَّارُ عَدُوٌّ لَكُمْ، فَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوهَا عَنْكُمْ» (سنن ابن ماجه:3770)

’’سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینہ طیبہ میں ایک گھر کو آگ لگ گئی جب کہ گھر والے گھر میں تھے۔ نبی کریم ﷺ کو ان کے حادثے کی خبر ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ آگ تمہاری دشمن ہے جب تم سونے لگو تو اسے بجھا دیا کرو۔‘‘

لہذا رات سوتے وقت ہیٹر یا کوئی بھی اس جیسی چیز (لکڑی یا کوئلوں پر جلنے والی انگیٹھیاں وغیرہ) بند کرکے سونا چاہیے اور اس حساس عمل سے احتیاط برتنی چاہیے۔

۴۔ ٹھنڈے پانی کے ڈر سے وضو یا غسل میں سستی کرنا اور عبادات ترک کرنا:

سردی کے آتے ہی اکثر لوگ پانی کے ٹھنڈے ہونے کی وجہ سے وضو یا غسل میں سستی کرتے ہیں اور عبادات کو ترک کر دیتے ہیں جو کہ جائز نہیں کیونکہ اگر غور کیا جائے تو اس مشقت پر اور زیادہ انسان اجر کا مستحق ہوتاہے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يَمْحُو اللهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ

’’کیا میں تمہیں ان چیزوں کی خبرنہ دوں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ غلطیاں مٹاتااور درجات بلند فرماتاہے؟ (صحابہ نے عرض کیا اللہ کے رسولﷺ! کیوں نہیں)، آپ ﷺ نے فرمایا: مشقت اور نا چاہتے ہوئے وضو مکمل اور اچھی طرح کرنا، مسجدوں کی طرف دور سے چل کر جانا اور نماز کے بعد اگلی نماز (مسجد میں بیٹھ کر) انتظار کرنا۔ یہ ہے رباط(تین مرتبہ یہ الفاظ ارشاد فرمائے)۔ (النسائی : 143)

یقیناً سخت سردی میں جب انسان اپنے اعضاء کو اچھی طرح دھوتا ہے اوروضو کرتاہے تو وہ اس اجر کا مستحق ہوتاہے البتہ کسی شرعی عذر کی بناء پر مثلاً: بیماری کے خدشہ کی وجہ سے وضو یا غسل ترک کر دینا اور اس کی جگہ تیمم اختیار کرنا اس میں کوئی حرج نہیں۔

یقیناً یہ موسم مؤمن کے لیے بہار ہے:

بعض ایسے امور بھی ہیں جو اس موسم میں کثرت سے کرنے کا موقع میسر آتاہے اور اسلام ان کی طرف رغبت دلاتاہے جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ موسم سرمامیں راتیں لمبی اور دن چھوٹے ہوتے ہیں اور اس سنہری موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم بہت سی عبادات سرانجام دے سکتے ہیں۔

۱۔ قیام اللیل:

یقیناً قیام اللیل اور شب بیداری مؤمنین کا شیوہ ہے۔ اور یہ موسم ان کے لیے ایک بہار کی مانند ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ (الذاریات: 17۔18)

’’وہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے اور سحر کے وقت استغفار کیا کرتے تھے۔‘‘

فرمان نبوی ہے:

أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الرَّبُّ مِنَ العَبْدِ فِي جَوْفِ الليْلِ الآخِرِ، فَإِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَذْكُرُ اللهَ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ فَكُنْ (سنن الترمذی:3579)

’’اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے سب سے قریب رات کے آخری نصف حصے کے درمیان میں ہوتاہے تو اگر تم ان لوگوں میں سے ہو سکو جو رات کے اس حصے میں اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو تم بھی اس ذکر میں شامل ہوکر ان لوگوں میں سے ہوجاؤ(یعنی تہجد پڑھو)۔‘‘

۲۔روزہ:

اس موسم میں جہاں دیگر عبادات کرنے کے مواقع ملتے ہیں وہاں روزہ بھی ہے کیونکہ اس موسم میں دن چھوٹے ہوتے ہیں جس میں انسان آسانی سے صیام(روزہ) کا اہتمام کر سکتاہے چنانچہ آپ ﷺ کا فرمان ہے : 

الغَنِيمَةُ البَارِدَةُ الصَّوْمُ فِي الشِّتَاءِ (سنن الترمذی: 797 مرسل صحیح)

’’ٹھنڈا ٹھنڈا بغیر محنت کے مال غنیمت یہ ہے کہ روزہ سردی میں ہو۔‘‘

اور روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کے متعلق نبی کریم ﷺ نے فرمایا :

وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ تَعَالَى مِنْ رِيحِ المِسْكِ يَتْرُكُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي الصِّيَامُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا (صحیح البخاری: 1896)

’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بُو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ اورپاکیزہ ہے (اللہ تعالیٰ فرماتاہے) بندہ اپنا کھانا پینا اور اپنی شہوات میرے لیے چھوڑتا ہے، روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور (دوسری) نیکیوں کا ثواب بھی اصل نیکی کے دس گنا ہوتاہے۔‘‘

لہٰذا ہمیں موقع کو غنیمت جانتے ہوئے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے کیونکہ ان ایام میں روزے دار زیادہ گرمی، بھوک اور پیاس محسوس نہیں کرتا اور بآسانی روزہ رکھ لیتاہے۔

۳۔ صدقہ وخیرات:

اس موسم میں جہاں دیگر عبادات کے مواقع میسر ہوتے ہیں وہاں ایک پہلو صدقہ وخیرات کا بھی ہے کیونکہ اس موسم میں اکثر غرباء ومساکین کو شدت سے لحاف،کمبل ودیگر گرم ملبوسات وحفاظتی سامان کی ضرورت ہوتی ہے اور ہمارے منتظر ہوتے ہیں۔ احادیث میں صدقہ واخیرات کی بڑی فضیلت آئی ہے اور اگر یہ صدقہ صحیح وقت پر مستحق تک پہنچ جائے تو اس کی اور بھی قدر بڑھ جاتی ہے۔

جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ، يَسَّرَ اللهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ (صحيح مسلم:2699)

’’جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی۔ اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا اور جس شخص نے کسی تنگ دست کے لیے آسانی کی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا وآخرت میں آسانی کرے گا۔ ‘‘

آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر حال میں نافرمانیوں سے بچنے اور نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

بیماری و آزمائش

بیماری و آزمائش

1:بیماری درحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش :

وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَيْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ

اور ہم تمہیں برائی اور بھلائی میں مبتلا کرتے ہیں، آزمانے کے لیے اور تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (الأنبياء :35)

وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍمِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌقَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ (البقرة: 155,156)

اور یقینا ہم تمہیں خوف اور بھوک اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی میں سے کسی نہ کسی چیز کے ساتھ ضرور آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دے۔وہ لوگ کہ جب انھیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں بیشک ہم اللہ کے لیے ہیں اور بیشک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ (البقرۃ :214)

یا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے، حالانکہ ابھی تک تم پر ان لوگوں جیسی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے، انھیں تنگدستی اور تکلیف پہنچی اور وہ سخت ہلائے گئے، یہاں تک کہ رسول اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے، کہہ اٹھے اللہ کی مدد کب ہوگی ؟ سن لو بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔

اس آیت کی تفسیر میں حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

«هي الأمراض والأسقام والآلام والمصائب والنوائب» (تفسير ابن كثير : 571/1)

’’ان سے مراد امراض ، عوارض ، تکالیف ،مصائب اور آفتیں ہیں ۔‘‘

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَةِ فِي نَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَمَالِهِ، حَتَّى يَلْقَى اللهَ وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مومن مرد اور مومن عورت کی جان، اولاد، اور مال میں آزمائشیں آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ جب وہ مرنے کے بعد اللہ سے ملاقات کرتے ہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ (سنن الترمذي : 2399)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ خَامَةِ الزَّرْعِ، يَفِيءُ وَرَقُهُ، مِنْ حَيْثُ أَتَتْهَا الرِّيحُ تُكَفِّئُهَا، فَإِذَا سَكَنَتِ اعْتَدَلَتْ، وَكَذَلِكَ الْمُؤْمِنُ يُكَفَّأُ بِالْبَلَاءِ، وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ صَمَّاءَ مُعْتَدِلَةً، حَتَّى يَقْصِمَهَا اللهُ إِذَا شَاءَ (صحيح البخاري :7466)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی مثال کھیت کے نرم پودے کی سی ہے کہ جدھر ہوا چلتی ہے تو اس کے پتے ادھر جھک جاتے ہیں اور جب ہوا رک جاتی ہے تو پتے بھی برابر ہو جاتے ہیں۔اسی طرح مومن آزمائشوں میں بچایا جاتا ہے لیکن کافر کی مثال صنوبر کے سخت درخت جیسی ہے کہ ایک حالت پر کھڑا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ جب چاہتا ہے اسے اکھاڑ دیتا ہے۔

2 : بیماری کوئی عیب نہیں ہے ۔

بیماری و آزمائش سے انبیاء کرام جیسی عظیم جماعت بھی دوچار ہوئی تھی لہذا بیماریوں کا آنا یہ عیب نہیں ہے ۔

وَ اَيُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّيْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَيْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِيْنَ

’’اور ایوب، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بیشک مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم والا ہے۔تو ہم نے اس کی دعا قبول کرلی، پس اسے جو بھی تکلیف تھی دور کردی اور اسے اس کے گھر والے اور ان کے ساتھ ان کی مثل (اور) عطا کردیے، اپنے پاس سے رحمت کے لیے اور ان لوگوں کی یاددہانی کے لیے جو عبادت کرنے والے ہیں۔‘‘(الأنبياء: 83,84)

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ایوب (علیہ السلام) اللہ کے برگزیدہ نبی تھے۔ اللہ کی طرف سے ان پر ایسی آزمائش آئی کہ وہ شدید اور لمبی بیماری میں مبتلا ہوگئے، ان کے اہل و عیال بھی جدائی یا فوت ہونے کی وجہ سے ان سے جدا ہوگئے۔ جب کمانے والے ہی نہ رہے تو مال مویشی بھی ہلاک ہوگئے، مگر سیدنا ایوب (علیہ السلام) نے ہر مصیبت پر صبر کیا، نہ کوئی واویلا کیا اور نہ کوئی حرف شکایت لب پر لائے۔ جب تکلیف حد سے بڑھ گئی تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ ایک یہ کہ اے میرے رب ! مجھے شیطان نے بڑا دکھ اور تکلیف پہنچائی ہے۔ دوسری یہ کہ اے میرے رب ! مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم والا ہے۔ اس دعا میں انھوں نے اپنی حالت زار بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے ارحم الراحمین ہونے کے بیان ہی کو کافی سمجھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حکم دیا کہ زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ انھوں نے پاؤں مارا تو ٹھنڈے پانی کا چشمہ نمودار ہوگیا۔ حکم ہوا کہ اسے پیو اور اس سے غسل کرو۔ وہ مبارک پانی پینے اور اس کے ساتھ غسل کرنے سے ان کی ساری بیماری دور ہوگئی اور وہ پوری طرح صحت مند ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کے گھر والے بھی عطا فرما دیے اور اتنے ہی اور عطا فرما دیے۔ بیماری کے دوران انھوں نے کسی پر ناراض ہو کر اسے کوڑے مارنے کی قسم کھائی تھی، اب وہ سزا زیادہ سمجھ کر پریشان تھے کہ اسے اتنے کوڑے ماروں تو زیادتی ہوتی ہے، نہ ماروں تو قسم ٹوٹتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ مشکل بھی حل فرما دی کہ اتنے تنکوں کا مٹھا لے کر ایک دفعہ مار دو ، جتنے کوڑے مارنے کی تم نے قسم کھائی تھی، اس سے تمہاری قسم پوری ہوجائے گی، قسم توڑنے کا گناہ نہیں ہوگا۔ (تفسیر القرآن ازعبد السلام بھٹوی سورۃ الأنبياءآیت نمبر 83)

3:جتنا ایمان پختہ ہوگا اتنی آزمائش سخت :

عن سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً ؟ قَالَ : « الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ، يُبْتَلَى الْعَبْدُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صُلْبًا اشْتَدَّ بَلَاؤُهُ، وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَمَا يَبْرَحُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَتْرُكَهُ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ «. (سنن الترمذی : 2398)

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سب سے زیادہ مصیبت کس پر آتی ہے؟ آپ نے فرمایا: انبیاء و رسل پر، پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں، پھر جو ان کے بعد ہیں، بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر بندہ اپنے دین میں سخت ہے تو اس کی مصیبت بھی سخت ہوتی ہے اور اگر وہ اپنے دین میں نرم ہوتا ہے تو اس کے دین کے مطابق مصیبت بھی ہوتی ہے، پھر مصیبت بندے کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے، یہاں تک کہ بندہ روئے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ۔

 4:اللہ تعالیٰ کا ارادئے خیر :

مریض کو اللہ تعالیٰ کے متعلق حسن ظن رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ بھلائی و خیر چاہتا ہے ۔تاکہ اللہ تعالیٰ اس بیماری کے ذریعے اس کے گناہ مٹادے گا اور اس کے درجات بلند فرمائے گا ۔

عن أَبَي هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ (صحيح البخاري :5645)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر وبھلائی کرنا چاہتا ہے اسے بیماری کی تکالیف اور دیگر مصیبتوں میں مبتلا کردیتا ہے۔

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَرَادَ اللهُ بِعَبْدِهِ الْخَيْرَ عَجَّلَ لَهُ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا، وَإِذَا أَرَادَ اللهُ بِعَبْدِهِ الشَّرَّ أَمْسَكَ عَنْهُ بِذَنْبِهِ حَتَّى يُوَافِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کے ساتھ خیر اور بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دنیا ہی میں جلد سزا دے دیتا ہے ، اور جب اپنے کسی بندے کے ساتھ شر (برائی) کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے گناہوں کی سزا کو روکے رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پوری پوری سزا دیتا ہے۔ (سنن الترمذی: 2396)

 نبی کریم ﷺنے فرمایا :

إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللهِ مَنْزِلَةٌ لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلِهِ ابْتَلَاهُ اللهُ فِي جَسَدِهِ، أَوْ فِي مَالِهِ، أَوْ فِي وَلَدِهِ (سنن أبي داود: 3090)

’’جب بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا رتبہ مل جاتا ہے جس تک وہ اپنے عمل کے ذریعہ نہیں پہنچ پاتا تو اللہ تعالیٰ اس کے جسم یا اس کے مال یا اس کی اولاد کے ذریعہ اسے آزماتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ بندہ اس مقام کو جا پہنچتا ہے جو اسے اللہ کی طرف سے ملا تھا ۔‘‘

 5:بیماری پر صبر :

عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ ؛ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ (صحيح مسلم :2999)

سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن کا معاملہ عجیب ہے ۔ اس کا ہر معاملہ اس کے لیے بھلائی کا ہے ۔ اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کو میسر نہیں ۔ اسے خوشی اور خوشحالی ملے تو شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچے تو ( اللہ کی رضا کے لیے ) صبر کرتا ہے ، یہ ( بھی ) اس کے لیے بھلائی ہوتی ہے ۔‘‘

حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ : قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ : أَلَا أُرِيكَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ قُلْتُ : بَلَى. قَالَ : هَذِهِ الْمَرْأَةُ السَّوْدَاءُ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ : إِنِّي أُصْرَعُ، وَإِنِّي أَتَكَشَّفُ، فَادْعُ اللهَ لِي. قَالَ : « إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ، وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللهَ أَنْ يُعَافِيَكِ «. فَقَالَتْ : أَصْبِرُ. فَقَالَتْ : إِنِّي أَتَكَشَّفُ، فَادْعُ اللهَ أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ. فَدَعَا لَهَا (صحيح البخاري : 5652)

عطاء بن ربیع فرماتے ہیں کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا، تمہیں میں ایک جنتی عورت کو نہ دکھا دوں؟ میں نے عرض کیا کہ ضرور دکھائیں، کہا کہ ایک سیاہ عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئی اور کہا کہ مجھے مرگی آتی ہے اور اس کی وجہ سے میرا ستر کھل جاتا ہے۔ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیجیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر تو چاہے تو صبر کر تجھے جنت ملے گی اور اگر چاہے تو میں تیرے لیے اللہ سے اس مرض سے نجات کی دعا کر دوں۔ اس نے عرض کیا کہ میں صبر کروں گی پھر اس نے عرض کیا کہ مرگی کے وقت میرا ستر کھل جاتا ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے اس کی دعا کر دیں کہ ستر نہ کھلا کرے۔ نبی کریم ﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی۔

6: بیماری کو برا بھلا نہیں کہنا چاہیے :

حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ السَّائِبِ-أَوْ أُمِّ الْمُسَيَّبِ- فَقَالَ: مَا لَكِ يَا أُمَّ السَّائِبِ-أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيَّبِ – تُزَفْزِفِينَ؟  قَالَتِ: الْحُمَّى، لَا بَارَكَ اللهُ فِيهَا. فَقَالَ:  لَا تَسُبِّي الْحُمَّى ؛ فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ، كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ(صحيح مسلم : 2575)

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری خاتون ام سائب یا ام مسیب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے ، آپ نے فرمایا :’’ ام سائب یا ام مسیب ! تمہیں کیا ہوا ؟ کیا تم شدت سے کانپ رہی ہو ؟‘‘ انہوں نے کہا : بخار ہے ، اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہ دے ! آپ نے فرمایا :’’ بخار کو برا نہ کہو ، کیونکہ یہ آدم کی اولاد کے گناہوں کو اس طرح دور کرتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کرتی ہے ۔‘‘

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : ذُكِرَتِ الْحُمَّى عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَّهَا رَجُلٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسُبَّهَا ؛ فَإِنَّهَا تَنْفِي الذُّنُوبَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْحَدِيدِ (سنن ابن ماجه : 3469)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں بخار کا ذکر ہوا تو ایک آدمی نے اسے برا بھلا کہا۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اس (بخار) کوبرا نہ کہو۔اس سے گناہ اس طرح دور ہو جاتے ہیں جس طرح آگ سے لوہے کی میل کچیل دور ہو جاتی ہے۔‘‘

7:بیماری گناہوں کا کفارہ :

سیدنا سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا

فَمَا يَبْرَحُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَتْرُكَهُ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ مَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ «.(سنن الترمذي : 2398)

مصیبت بندے کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے،یہاں تک کہ بندہ روئے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا يُصِيبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ، وَلَا هَمٍّ وَلَا حُزْنٍ، وَلَا أَذًى وَلَا غَمٍّ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ (صحيح البخاري :5641)

سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا مسلمان جب بھی کسی پریشانی،بیماری،رنج وملال،تکلیف اور غم میں مبتلا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھ جائے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ، فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي، فَقُلْتُ : إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا. قَالَ: أَجَلْ، كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ «. قَالَ : لَكَ أَجْرَانِ؟ قَالَ: نَعَمْ، مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى ؛ مَرَضٌ فَمَا سِوَاهُ، إِلَّا حَطَّ اللهُ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا(صحيح البخاري : 5667)

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو بخار آیا ہو ا تھا میں نے آپ کا جسم چھو کر عرض کیا کہ آپ ﷺکو بڑا تیز بخار ہے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ ہاں تم میں سے دو آدمیوں کے برابر ہے۔سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ نبی کریم ﷺکا اجر بھی دو گنا ہے۔کہا ہاں پھر آپ نے فرمایا کہ کسی مسلمان کو بھی جب کسی مرض کی تکلیف یا اور کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ اس کے گناہ کو اس طرح جھاڑ دیتا ہے جس طرح درخت اپنے پتوں کو جھاڑ تا ہے۔

عَن عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مُصِيبَةٍ تُصِيبُ الْمُسْلِمَ إِلَّا كَفَّرَ اللهُ بِهَا عَنْهُ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا (صحيح البخاري: 5640)

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو مصیبت بھی کسی مسلمان کو پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہ کا کفارہ بنادیتا ہے (کسی مسلمان کے) ایک کانٹا بھی اگر جسم کے کسی حصہ میں چبھ جائے۔

8:حالت صحت میں کیے ہوئے اعمال حالت مرض میں لکھے جائیں گے :

عن أَبَى مُوسَى قال قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ أَوْ سَافَرَ، كُتِبَ لَهُ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا (صحيح البخاري : 2996)

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ جب بندہ بیمار ہوتا ہے یا سفر کرتا ہے تو اس کے لیے ان تمام عبادات کا ثواب لکھا جاتا ہے جنہیں اقامت یا صحت کے وقت یہ کیا کرتا تھا۔

وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ : إِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ، وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الْمَسَاءَ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ، وَمِنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ.(صحيح البخاري :6416)

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے شام ہوجائے تو صبح کے منتظر نہ رہو اورصبح کے وقت شام کے منتظر نہ رہو۔اپنی صحت کو مرض سے پہلے غنیمت جانو اور زندگی کوموت سے پہلے۔

9:بیمار کی عیادت :

عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ «.(صحيح مسلم : 2568)

 سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کسی مریض کی عیادت کرتا ہے وہ واپس آنے تک مسلسل جنت کے باغیچوں میں رہتا ہے ۔‘‘

10:بیمار کے لیے دعا:

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَتَى مَرِيضًا أَوْ أُتِيَ بِهِ قَالَ : « أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا «

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺجب کسی مریض کے پاس تشریف لے جاتے یاکوئی مریض آپ کے پاس لایا جاتا تو آپ یہ دعا فرماتے،اے پروردگار لوگوں کے! بیماری دور کردے،اے انسانوں کے پالنے والے! شفا عطا فرما،توہی شفا دینے والا ہے۔تیری شفا کے سوا اور کوئی شفا نہیں،ایسی شفا دے جس میں مرض بالکل باقی نہ رہے۔ (صحيح البخاري : 5675)

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ، اشْتَكَيْتَ ؟ فَقَالَ : « نَعَمْ «. قَالَ : بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ، أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ اللهُ يَشْفِيكَ، بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ. (صحيح مسلم : 2186)

سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا : اے محمد ! کیا آپ بیمار ہو گئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ جبرائیل علیہ السلام نے یہ کلمات فرمائے ’’ میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں ، ہر اس چیز سے ( حفاظت کے لئے ) جو آپ کو تکلیف دے ، ہر نفس اور ہر حسد کرنے والی آنکھ کے شر سے، اللہ آپ کو شفا دے ، میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں ۔‘‘

حدیث نبوی میں حیوانات اور حشرات کا تذکرہ

 قارئین کرام ! رسول اللہ ﷺ کے فرامین میں ہمارے لیے بہت سی نصیحتیں اسباق و احکام موجود ہیں۔ حدیث نبوی کے بہت سے جہات ایسے ہیں جن کی طرف ہماری توجہ نہیں جاتی اس لیے وہ گوشے ہم سے مخفی رہتے ہیں۔ لہذا ضروری ہے کہ ہم رسول اللہ کے تمام فرامین کا مطالعہ رکھیں۔ لہذا اس ضمن میں ہم آپ کی خدمت میں بعض ایسی احادیث کا ذکر کر رہے ہیں جن کا تعلق حیوانات اور حشرات سے ہے جن میں بہت سے فضائل احکام اور اسباق موجود ہیں۔ آئیں حدیث نبوی کا یہ گوشہ ملاحظہ فرمائیں۔

1۔ بکری جنتی جانوروں میں سے ہے

سيدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

الشَّاةُ مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ.

بکری جنت کے جانوروں میں سے ہے ۔(سنن ابن ماجة: 2306)

2۔ بکریوں میں برکت ہے

سيدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اتَّخِذُوا الْغَنَمَ، فَإِنَّ فِيهَا بَرَكَةً.

بکریاں پالو، اس لیے کہ ان میں برکت ہے ۔(سنن ابن ماجة: 2304 مسند أحمد: 27381)

3۔ گھوڑوں کی پیشانی میں خير ہے

سیدنا عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ يَرْفَعُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْإِبِلُ عِزٌّ لِأَهْلِهَا وَالْغَنَمُ بَرَكَةٌ وَالْخَيْرُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .

اونٹ ان کے مالکوں کے لیے قوت کی چیز ہے، اور بکریاں باعث برکت ہیں، اور گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لیے بھلائی بندھی ہے ۔(سنن ابن ماجة: 2305)

4۔ مینڈک قتل کرنا منع ہے

سیدنا عبدالرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

أَنَّ طَبِيبًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضِفْدَعٍ يَجْعَلُهَا فِي دَوَاءٍ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا.

ایک طبیب نے نبی اکرم ﷺ سے دوا میں مینڈک کے استعمال کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے مینڈک قتل کرنے سے منع فرمایا۔(سنن ابي داود: 3871)

5۔ چار جانداروں کو قتل کرنا منع ہے

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے :

إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ نَهَى عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنَ الدَّوَابِّ:‏‏‏‏ النَّمْلَةُ،‏‏‏‏ وَالنَّحْلَةُ،‏‏‏‏ وَالْهُدْهُدُ،‏‏‏‏ وَالصُّرَدُ.

نبی مکرم ﷺ نے چار جانوروں کے قتل سے روکا ہے چیونٹی، شہد کی مکھی، ہد ہد، لٹورا چڑیا۔(سنن ابى داود: 5267)

6۔ چھپکلی موذی جانور ہے

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

الْوَزَغُ الْفُوَيْسِقُ.

چھپکلی فاسق جانور ہے۔(صحیح بخاری: 1831 سنن نسائی: 2886)

7۔ چھپکلی کو مارنے کا اجر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّانِيَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، لِدُونِ الْأُولَى، وَإِنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، لِدُونِ الثَّانِيَةِ.

جس شخص نے پہلی ضرب میں چھپکلی کو قتل کر دیا اس کے لیے اتنی اتنی نیکیاں ہیں اور جس نے دوسری ضرب میں مارا اس کے لیے اتنی اتنی ، پہلی سے کم نیکیاں ہیں اور اگر تیسری ضرب سے مارا تو اتنی اتنی نیکیاں ہیں ، دوسری سے کم ( بتائیں ۔ )(صحيح البخاري: 2240)

8۔ سانپ کو قتل کرو

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ، وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ.

سانپوں کو مار ڈالو، دو دھاری اور دم کٹے سانپ کو ضرور مارو، اس لیے کہ یہ دونوں آنکھ کی بینائی زائل کر دیتے ہیں اور حمل کو گرا دیتے ہیں۔ (صحیح بخاری: 3297)

9۔ جو سانپوں سے ڈر کر انہیں قتل نہ کرے

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ تَرَكَ الْحَيَّاتِ مَخَافَةَ طَلَبِهِنَّ فَلَيْسَ مِنَّا.

جو شخص سانپوں کو اس ڈر سے چھوڑ دے کہ وہ پلٹ کر ہمارا پیچھا کریں گے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔(سنن ابي داود: 5250)

10۔ نماز میں بچھو اور سانپ قتل کیا جا سکتا ہے

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اقْتُلُوا الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ:‏‏‏‏ الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ.

نماز میں دونوں کالوں سانپ اور بچھو کو ( اگر دیکھو تو ) قتل کر ڈالو ۔ (سنن ابی داود: 921)

11۔ پانج جانوروں کو حرم میں بھی قتل کرنے کا حکم ہے

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ ، يَقْتُلُهُنَّ فِي الْحَرَمِ : الْغُرَابُ ، وَالْحِدَأَةُ ، وَالْعَقْرَبُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ.

پانچ جانور ایسے ہیں جو سب کے سب موذی ہیں اور انہیں حرم میں بھی مارا جا سکتا ہے کوا، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔(صحيح بخاري: 1829)

12۔ گائے کے دودھ میں شفا ہے۔

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

إِنَّ اللهَ عَزَّوَجَلَّ لَمْ يُنْزِلِ دَاءً إِلا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً إِلا الْهَرَمَ، فَعَلَيْكُمْ بِأَلْبَانِ الْبَقَرِ فَإِنَّهَا تَرُمُّ مِنْ كُلِّ شَجَر.

یقینا اللہ عزوجل نے جو بھی بیماری نازل كی اس كے ساتھ شفا بھی نازل كی ہے سوائے بڑھاپے کے ۔ گائے كا دودھ لازم كرو كیوں كہ یہ ہر درخت سے چرتی ہے۔(الصحيحة: 518)

ایک روایت کے لفظ ہیں:

أَلْبَانُهَا شِفَاءٌ وَسَمَنُهَا دَوَاءٌ وَ لُحُومُهَا دَاءٌ.

اس كا دودھ شفا ہے اس كا گھی دوا ہے اور اس كا گوشت بیماری ہے۔ (الصحیحة: 1533)

13۔ اگر مشروب میں مکھی گر جائے

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ، ثُمَّ لِيَطْرَحْهُ ؛ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ شِفَاءً، وَفِي الْآخَرِ دَاءً.

جب مکھی تم میں سے کسی کے برتن میں پڑ جائے تو پوری مکھی کو برتن میں ڈبو دے اور پھر اسے نکال کر پھینک دے کیونکہ اس کے ایک پر میں شفاء اور دوسرے میں بیماری ہے۔(صحیح بخاری: 5782)

14۔ اگر کتا برتن میں منہ ڈال لے

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعًا.

جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں سے کچھ پی لے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے۔(صحيح بخارى: 172)

15۔ شوقیہ کتا پالنے کی قباحت

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا فَإِنَّهُ يَنْقُصُ كُلَّ يَوْمٍ مِنْ عَمَلِهِ قِيرَاطٌ.

جس شخص نے کوئی کتا رکھا، اس نے روزانہ اپنے اعمال میں سے ایک قیراط کی کمی کر لی۔ البتہ کھیتی یا مویشی کی حفاظت کے لیے کتے اس سے الگ ہیں۔(صحيح البخاري: 2322)

ایک روایت کے لفظ ہیں:

نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ.

اس کے اجر میں سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے۔(صحیح مسلم: 1574)

16۔ جس گھر میں کتا ہو فرشتے داخل نہیں ہوتے

سيدنا ابن عمر رضى الله عنہما سے روایت ہے کہ:

وَعَدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ.

ایک مرتبہ جبریل علیہ السلام نے نبی اکرمﷺ کے پاس آنے کا وعدہ کیا تھا ( لیکن نہیں آئے ) اور کہا: ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں تصویر یا کتا ہو۔(صحیح بخاری: 3227)

17۔ کالا کتا شیطان ہے

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ عَنِ الْكَلْبِ الْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ شَيْطَانٌ .

میں نے رسول اللہ ﷺ سے خالص سیاہ کتے کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: وہ شیطان ہے ۔(سنن ابن ماجة: 3210)

18۔ مرغ کو برا بھلا نہ کہو

سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَا تَسُبُّوا الدِّيكَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ يُوقِظُ لِلصَّلَاةِ.

مرغ کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ نماز (فجر) کے لیے جگاتا ہے ۔(سنن ابی داود: 5101)

19۔ مرغ کی بانگ سننے پر فضل کا سوال کرو

سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ فَاسْأَلُوا اللهَ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا

جب مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو، بیشک اس نے فرشتہ دیکھا ہے۔(صحیح البخاري: 3302)

20۔ جب گدھے کی آواز سنائی دے

سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الْحِمَارِ فَتَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِنَّهُ رَأَى شَيْطَانًا.

جب گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے۔(صحیح البخاري: 3302)

21۔ اگر گھی میں چوہا گر جائے

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ

رسول اللہ ﷺ سے چوہے کے بارہ میں پوچھا گیا جو گھی میں گر گیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا:

أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا ، فَاطْرَحُوهُ وَكُلُوا سَمْنَكُمْ.

اس کو نکال دو اور اس کے آس پاس ( کے گھی ) کو نکال پھینکو اور اپنا باقی گھی استعمال کرو۔(صحيح البخاري: 235)

22۔ خرگوش کا گوشت حلال ہے

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:

أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَسَعَوْا عَلَيْهَا حَتَّى لَغِبُوا فَسَعَيْتُ عَلَيْهَا حَتَّى أَخَذْتُهَا فَجِئْتُ بِهَا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ فَبَعَثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَرِكَيْهَا أَوْ فَخِذَيْهَا فَقَبِلَهُ.

ہم نے مر الظہران کے مقام پر ایک خرگوش کو ابھارا لوگ اس کے پیچھے دوڑے مگر نہ پایا پھر میں اس کے پیچھے لگا اور اسے پکڑ لیا اور اسے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا، انہوں نے نبی مکرم ﷺ کی خدمت میں اس کا کولھا اور دونوں رانیں بھیجیں تو آپ ﷺ نے انہیں قبول فرما لیا۔(صحیح بخاری: 5489)

سنن ابی داود میں ہےمحمد بن صفوان بیان کرتے ہیں کہ:

اصَّدْتُ أَرْنَبَيْنِ فَذَبَحْتُهُمَا بِمَرْوَةٍ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ عَنْهُمَا فَأَمَرَنِي بِأَكْلِهِمَا.

میں نے دو خرگوش شکار کئے اور انہیں ایک سفید (دھار دار) پتھر سے ذبح کیا، پھر ان کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے مجھے ان کے کھانے کا حکم دیا۔ (سنن ابی داود: 2822)

23۔ چیونٹیوں کو جلانا منع ہے

سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

قَرَصَتْ نَمْلَةٌ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ ، فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَحْرَقْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ.

ایک چیونٹی نے ایک نبی کو کاٹ لیا۔ تو ان کے حکم پر چیونٹیوں کے سارے گھر جلا دئیے گئے ۔ اس پر اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تمہیں تو فقط ایک چیونٹی نے کاٹا تھا اور تم نے ایک ایسی مخلوق کو جلا دیا جو اللہ کی تسبیح بیان کرتی تھی ۔(صحیح البخاري: 3019)

24۔ تفریح کے لیے چڑیا کے بچے پکڑنا

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ فَرَأَيْنَا حُمَرَةً مَعَهَا فَرْخَانِ فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا فَجَاءَتِ الْحُمَرَةُ فَجَعَلَتْ تَفْرِشُ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ فَجَعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا.

ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ آپ اپنی ضرورت کے لیے گئے، ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے ساتھ دو بچے تھے، ہم نے ان بچوں کو پکڑ لیا، وہ چڑیا آ کر زمین پر پر بچھانے لگی، اتنے میں نبی کریمﷺ آ گئے، اور یہ دیکھ کر فرمایا: اس چڑیا کا بچہ لے کر کس نے اسے بے قرار کیا ہے؟ اس کا بچہ اسے واپس کردو۔(سنن أبي داود: 2675)

25۔ بلی نجس نہیں ہے

سيدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ أَوِ الطَّوَّافَاتِ.

یہ (بلی) نجس نہیں ہے، یہ تو تمہارے پاس برابر آنے جانے والوں یا آنے جانے والیوں میں سے ہے۔(سنن الترمذي: 92)

26۔ بلی کی وجہ سے عذاب

سيدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا ، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ.

ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب ہوا جسے اس نے اتنی دیر تک باندھے رکھا تھا کہ وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی۔ اور وہ عورت اسی وجہ سے دوزخ میں داخل ہوئی۔ (صحيح البخاري: 2365)

27۔ بلی اور کتے کی قیمت منع ہے

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، ‏‏‏‏‏‏وَالسِّنَّوْرِ.

نبی معظمﷺ نے کتے اور بلی کی قیمت ( لینے ) سے منع فرمایا ہے۔(سنن أبي داود: 3479)

28۔ پالتو گدھے کا گوشت حرام ہے

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے روایت ہے:

أَكَلْنَا زَمَنَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ، وَحُمُرَ الْوَحْشِ، وَنَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِمَارِ الْأَهْلِيّ.

خیبر کے زمانے میں ہم نے جنگلی گدھوں ( گورخر ، زیبرا ) اور گھوڑوں کا گوشت کھایا اور نبی معظمﷺ نے ہم کو پالتو گدھے کے گوشت سے منع فرما دیا ۔(صحیح مسلم: 1941)

29۔ کچلی والا درندہ حرام ہے

سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:

أَتَيْت النَّبِي ﷺ‌ فَقُلْت: يَا رَسُول الله حَدِّثْنِي ما يَحُل لِي مِمَّا يُحَرَّم علي، فَقَال: لَا تَأَكُلْ الْحِمَار الْأَهْلِي ولَا كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاع.

میں نبی کریم ‌ﷺ ‌كے پاس آیا اور كہا: اے اللہ كے رسول ! جوچیزیں مجھ پرحرام ہیں ان میں سے میرے لئے حلال بیان کیجیے؟ تو آپ نے فرمایا: گھریلو گدھا نہ كھاؤ اور نہ كچلی والا درندہ كھاؤ۔(الصحيحة: 475)

30۔ گھوڑے کا گوشت حلال ہے

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ :

نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَخَّصَ فِي لُحُومِ الْخَيْلِ.

جنگ خیبر میں رسول اللہ ﷺ نے گدھے کا گوشت کھانے کی ممانعت فرما دی تھی اور گھوڑے کا گوشت کھانے کی رخصت دی تھی۔(صحیح بخاری: 5520)

عَنْ جَابِرٍ قَالَ : كُنَّا نَأْكُلُ لُحُومَ الْخَيْلِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں گھوڑے کا گوشت کھاتے تھے۔ (سنن نسائی: 4335)

بھوک اور افلاس کے خاتمے کے لیے اسلام کے رہنما اصول

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا شرف عطا کر کے پیدا کیا ہے اور یہ شرف انسان کی عملی زندگی میں تبھی نظر آئے گا جب انسان معاشی طور پر نہ صرف خودکفیل ہو بلکہ دوسروں کی مدد کرنے کے قابل ہو۔ معاشی خوشحالی نہ صرف انسان کو اللہ تعالیٰ کا شکر گزار اور خود دار بناتی ہے بلکہ اس میں اتنی فارغ البالی پیدا کرتی ہے کہ وہ انسانیت کی اجتماعی فلاح وبہبود کے لیے غور وفکر کرتا ہے اور بہترین افکار ونظریات پیش کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں جو شخص بھوک وافلاس میں مبتلاہو ،قریب ہے کہ اس کا افلاس اسے کفر کے قریب پہنچادے۔ اگر کفر کے قریب نہ بھی پہنچائے تب بھی وہ مہذب و شائستہ زندگی نہیں گزار سکتا اور نہ ہی قوم وملک اور انسانیت کے لیے کوئی اعلیٰ فکر دے سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں معاشی خوشحالی کو خیر ،بھلائی اور اپنی نعمت قرار دیا ہے اور اس کے حصول کے لیے طریقے بتائے ہیں اور آپ ﷺ نے معاشی بدحالی،بھوک وافلاس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی ہے اور معاشی خوشحالی کے حصول کے لیے راستے بتائے ہیں

اس مضمون میں اس امر کا جائزہ لیا جائے گا کہ اسلام نے بھوک وافلاس کے خاتمے کے لیے کیا رہنما اصول دیے ہیں۔

اسلام نے بھوک وافلاس کے خاتمے کے لیے کچھ رہنما اصول دیے ہیںجو کہ مندرجہ ذیل ہیں:

(۱): اسلام کا پہلا اصول یہ ہے کہ ہر شخص محنت اور جدوجہد کر کے اپنی روزی خود حاصل کرے۔

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ جاں فشانی،محنت و مشقت کے بغیر کوئی بھی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی ترقی کی منازل طے کرنے کے لیے محنت وسعی لازم ہے۔ اگر ہم اپنے ماضی کا مطالعہ کریں ،تو یہ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ آپﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں بادیہ نشینوں نے محنت و جدوجہد کو اپنایا تو وہ صحرائے عرب سے اُٹھ کر ایک عالم پر چھا گئے اور دنیا کے ہر شعبے میں چاہے وہ عبادت ہوں معاملات ہوں ،معیشت ہو یا معاشرت، سائنس ہو یا شعروادب، غرض اپنی محنت و جاں فشانی سے بحروبر مسخر کر لیے اور پوری دنیا میں ہدایت وعلم کی روشنی میں پھیلانے کا ذریعہ بنے۔

آپ ﷺ کے فرامین اور عملی زندگی سےہمیں پیہم، محنت و مشقت اور جان فشانی کی تلقین ملتی ہے۔ آپ ﷺ نے بچپن میں بکریاں چرائیں، بعثت سے پہلے باقاعدہ تجارت کی اور تجارت کی غرض سے طویل سفر  کیے۔بیت اللہ کی تعمیر میں حصہ لیا ، رسول اللہ ﷺاپنے جوتوں کی مرمت خود فرمالیتے اور سیتے تھے۔ انبیائے کرام رضوان اللہ اجمعین جہاں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کی ذمہ داریاں مکمل طور سے ادا فرماتے اور رسالت کی تبلیغ فرماتے وہاں دینوی اعتبار سے بھی ان کی محنت ،سعی اور کوشش کی واضح مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ چنانچہ سیدنا آدم علیہ السلام کھیتی باڑی کرتے تھے۔ سیدنا نوح علیہ السلام بڑھئی کا کام کرتے اور انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کشتی بنائی۔ سیدنا داؤد علیہ السلام لوہے کا کام کرتے تھے ۔آپ علیہ السلام لوہے سے زرہیں اور دیگر سامان ِ جنگ بناتے تھے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اجرت پر دس سال سیدنا شعیب علیہ السلام کے ہاں خدمت گزاری کی۔ سیدنا ادریس علیہ السلام کپڑے بنتے تھے ۔ سیدنا زکریا علیہ السلام کپڑے سیتے تھے ۔ جد الانبیاء سیدنا ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام راج گیری کا کام کرتے تھے۔ باپ بیٹے نے مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی ۔ سیدنا یعقوب علیہ السلام نےدس سال تک بکریاں چرائیں۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں نے بھی کبھی محنت سے جی نہیں چرایا اور کوئی بھی حلال پیشہ اپنانے میں عار نہ سمجھا، بلکہ اپنے عمل سے اُمت پر یہ ثابت کردیا کہ عزت اور عظمت معاشی جدوجہد میں مضمر ہے۔سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زمام اقتدارسنبھالنے کے بعد گردونواح میں کپڑا بیچا اور ضرورت مندوں کا کام اپنے ہاتھوں سے انجام دیا۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تجارت کرتے تھے ،بہترین کمائی مزدور کی کمائی ہے، کیونکہ وہ جسم کی تمام توانائیاں صرف کرتا ہے۔ اگر مزدور کی حق اور بھلائی بھی پیش رکھے تو اس کا درجہ بہت ُبلند ہے (۱)

قرآن و حدیث میں اللہ تعالیٰ نے محنت اور جدوجہد کر کے اپنی روزی خود حاصل کر کے کھانے کی ترغیب دی گئی ہے ۔

اسلام میں کسب معاش کی اہمیت:

اسی لیے اسلام میں کسبِ معاش کی اہمیت دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود یہ ارشاد فرمایا کہ دن کی یہ روشنی اسی لیے ہے کہ تلاشِ معاش میں سہولت ہو:

وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا (۲)

زمین کے بارے میں فرمایا کہ وہ بھی تمہارے لیے حصولِ معاش کا زریعہ ہے:

وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِيْهَا مَعَايِشَ (۳)

طلب معاش کو جائز اور درست قرار دیا گیا:

اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ(۴)

کسب معاش کے لیے سفر کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی :

وَ اٰخَرُوْنَ يَضْرِبُوْنَ فِي الْاَرْضِ يَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ (۵)

بلکہ کسب معاش اور اس کے لیے تگ ودو کا حکم فرمایا گیا:

فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ(۶)

محنت کا ذکر حدیث نبوی ﷺ میں:

احادیث میں بھی کسب معاش کی فضیلت کے سلِسلہ میں کثرت پائی جاتی ہے یہاں تک آپ ﷺ نے سچے اور امانت دار تاجر کو فرمایا کہ اس کا حشر انبیاء ، صدیقین شہدا کے ساتھ ہو گا۔ (٧)

آپ نے فرمایا کہ بہتر آدمی کے لیے مالِ حلال بہتر شےہے۔ (۸)

حدیث شریف میں محنت یعنی مزدوری اور عملِ ید یعنی انسان کے خود اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی بڑی عظمت اور فضیلت وارد ہوئی ہے۔ مثلاً «بخاری» میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں :

«مَا بَعَثَ اللهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الغَنَمَ» ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: وَأَنْتَ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ، كُنْتُ أَرْعَاهَا عَلَى قَرَارِيطَ لِأَهْلِ مَكَّةَ» (۹)

یعنی اللہ نے کوئی نبی مبعوث نہیں فرمایا جس نے اجرت پر بکریاں نہ چرائی ہوں۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم نے (متحیر ہو کر) سوال کیا:» اللہ کے رسول ﷺ کیا آپ نے بھی یہ کام کیا ہے َ» اس کا جواب نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایہ ہم سب کے لیے بہت اہم ہے، اس لیے کہ اس میں حضور ﷺ کا تواضع و انکسار ی بھی نمایا ں طور پر جھلک رہی ہے:« میں تو چند قراریط کے عوض(چند ٹکوں کے عوض) مکہ کے لوگوں کے جانور چرایا کرتا تھا» معلوم ہوا کہ اجرت یا مزدوری یا دوسروں کے لیے کام کرنا ہر گز باعثِ ندامت یا موجبِ شرم نہیں ہے۔ اس لیےکہ اگرچہ یہ تو مسلّمات میں سے ہے کہ جو شخص خود اپنے سرمائے سے کام کر رہا ہو خواہ وہ چھابڑی ہی لگاتا ہو اس کے لیے کسی احساسِ کمتری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ جبکہ انسان کسی اور کے لیے اُجرت پر کام کرنے میں یقیناً عار محسوس کرتا ہے لیکن نبی اکرم ﷺ نے اس کے لیے فرمایا کے میں خود اجرت پر دوسروں کے لیے کام کرتا رہاہوں ۔ لہذا یہ قطعی طور پر ثابت ہو گیا کہ یہ ہرگز ایسی بات نہیں ہے جس پر انسان کسی بھی درجے میں ندامت یا شرم محسوس کرے۔(۱۰)

فریضہ طلبِ حلال:

«طَلَبُ الْحَلَالِ فَرِيضَةٌ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ»

’’رزقِ حلال کی تلاش فرض عبادت کے بعد (سب سے بڑا) فریضہ ہے۔‘‘(۱۱)

سیدنا داؤد علیہ السلام اور عملِ ید:

اسی طرح بخاری ہی کی حدیث کا حوالہ بھی یہاں بے محل نہ ہو گا جو کہ سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں:

«مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ، خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ، وَإِنَّ نَبِيَّ اللهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، كَانَ يَأْكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ» (۱۲)

’’کسی شخص نے ان سے بہتر روزی نہیں کھائی جس نے اپنے ہاتھ سے کام کرکے روزی کمائی اور اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ سے کام کر کے روزی کماتے تھے۔‘‘

محنت اور جائز تجارت:

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: «عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ، وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ»

’’سیدنا رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ! کون سی کمائی سب سے پاکیزہ ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا آدمی کا اپنے ہاتھ سے کمانا اور ہر جائز تجارت۔‘‘ (۱۳)

سوال کی مذمّت اور محنت مزدوری کی ترغیب:

یہاں بنی اکرم ﷺ نے جس طرح سوال کرنے کی بجائے محنت مزدوری کرکے پیٹ پالنے کی ترغیب دلائی ہےوہ بھی پیشِ نظر رہے:

«لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ، فَيَأْتِيَ بِحُزْمَةِ الحَطَبِ عَلَى ظَهْرِهِ، فَيَبِيعَهَا، فَيَكُفَّ اللهُ بِهَا وَجْهَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ أَوْ مَنَعُوهُ»(۱۴)

’’ تم میں سے کسی شخص کا رسی لے کر پہاڑ پر چلا جانا اور پھر لکڑیوں کا گھٹہ پیٹھ پر لاد کر بیچنا اور اس طرح اپنے چہرے کو (یعنی عزتِ نفس کو) بچانا اس سے کہیں بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے سوال کے اور وہ چاہے تو اس کو کچھ دے دیں اور چاہے تو خالی ہاتھ لوٹا دیں ۔‘‘

محدثین کے نزدیک بہترین ذریعہ معاش:

مشہور عالم علامہ ماوردی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ بنیادی طور پر کسبِ حلال کے تین ذرائع ہیں ۔

(۱) زراعت

(۲) تجارت

(۳)صنعت

اس میں سے کون سا زریعہ معاش زیادہ بہتر ہے، علماءکرام نے اپنی راے کے مطابق اس کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا خیال ہے کہ تجارت سب سے افضل ہے۔ خود ماوردی کی رائے ہے کہ زراعت کی فضیلت زیادہ ہے۔ (۱۵)

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک ہی جگہ ایسی حدیثیں جمع کردی ہیں جو تجارت و زراعت اور صنعت کی اسلام میں اہمیت اور پیغمبرِ اسلام کی نگاہ میں شرف و فضیلت بتاتی ہیں۔ (۱۶)

قَال مُحَمَّدٌ بْنُ الْحَسَنِ الشَّيْبَانِيُّ: ثُمَّ الْمَذْهَبُ عِنْدَ جُمْهُورِ الْفُقَهَاءِ أَنَّ الْكَسْبَ بِقَدْرِ مَا لاَ بُدَّ مِنْهُ فَرِيضَةٌ

’’ محمد بن شیبانی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ بقدر کفایت روزی کمانا ہر شخص پر فرضِ عین ہے ۔‘‘(۱٧)

(۲): دوسرا اصول یہ ہے کہ مالدار لوگ غرباء و مساکین کی مالی مدد کریں ۔

اسلام نے نفع مند مال کی تعریف کی ہے اور اس مال کے کمانے کی خواہش اور حرص کو اسے احسن طریقے سے خرچ کرنے اور اس مال کو مزید ثمر آور بنانے کو ضروری قرار دیا ہے ۔ ایسے مال دار آدمی کو سراہا ہے جو مال ملنے پر شاکر ہو اور اس مال کو لوگوں کی منفعت اور خیر خواہی کے لیے خرچ کرے جب کہ اس ضمن میں سوائے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے اور کوئی چیز اس کے پیشِ نظر نہ ہو۔محتاجوں،غریبوں، یتیموں اور ضرورت مندوں کی مدد،معاونت، حاجت روائی اور دلجوئی کرنا دینِ اسلام کا بنیادی درس ہے، دوسروں کی مدد کرنے ان کے ساتھ تعاون کرنے ان کےلیے روز مرہ کی ضرورت کی اشیاء فراہم کرنے کو دینِ اسلام نے اپنے رب کو راضی کرنے کا نسخہ بتایا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مال دار لوگوں کو اپنے مال میں سےغریبوں کو دینے کا حکم دیا ہے، صاحبِ استطاعت پر واجب ہے کہ مال دار لوگ غریب ،مسکین ،یتیم کی مقدور بھر مدد کریں ۔

قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰٓىِٕكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ١ۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ١ۙ وَالسَّآىِٕلِيْنَ۠ وَفِي الرِّقَابِ١ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ

’’نیکی صرف یہی نہیں کہ آپ لوگ اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لیں بلکہ اصل نیکی تو اس شخص کی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پراور (آسمانی) کتابوں پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اور مال سے محبت کے باوجود اسے قرابت داروں،یتیموں،محتاجوں ،مسافروں،سوال کرنے والوں،غلاموں کی آزادی پر خرچ کرے۔ یہ وہ لوگ ہیں جونماز قائم کرتے ہیں زکوٰۃ دیتے ہیں اور جب کوئی وعدہ کرے تو اسے پورا کرتے ہیں ۔ سختی،مصیبت اور جہاد کے وقت صبر کرتے ہیں یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں ۔‘‘(۱۸)

قرآن حکیم ہی کی ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

يَسْـَٔلُوْنَكَ مَاذَايُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ١ؕ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ

’’(لوگ) آپ ﷺ سے سوال پوچھتے ہیں کہ ( اللہ کی راہ میں ) کیا خرچ کریں ۔ فرما دیجیے کہ جس قدر بھی مال خرچ کرو (درست) ہےمگر اس کے حق دار تمہارے ماں باپ ہیں اور قریبی رشتہ دار ہیں اور یتیم ہیں اور محتاج ہیں اور مسافر ہیں اور جو نیکی بھی تم کرتے ہو بےشک اللہ اسے خوب جاننے والاہے۔ ‘‘(۱۹)

اسلام میں سماجی بہبود کا بنیادی مقصد معاشرے کے محتاجوں ، بےکسوں،معذوروں، بیماروں ، بیواؤں، یتیموں اور بے سہارا افراد کی دیکھ بھال اور ان کی فلاح و بہبود ہے۔اور یہ مقصد اُسی وقت حاصل ہو سکتا ہےجب ایسے لوگوں کی ضرورت اور معذوی کا خاتمہ کر کے معاشرے میں دولت اورضرورت کے درمیان توازن پیدا کیا جا سکے۔ جو لوگ معاشرے سے غربت و افلاس اور ضرورت و محتاجی کو دور کرنے کے لیے اپنا مال و دولت خرچ کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کے خرچ کو اپنے ذمہ قرضِ حسنہ قرار دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ يُّوَفَّ اِلَيْكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ

’’ تم جوکچھ مال خرچ کر رہے ہو یہ سب (اس کا ثواب) تم کو پورا پورا مل جائے گا اور تمہاے لیے اس میں ذرا کمی نہیں کی جائے گی۔ ‘‘(۲۰)

دوسرو کی مدد کرنا ان کی ضروریات کو پورا کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت پسنددیدہ عمل ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِيَ١ۚ وَاِنْ تُخْفُوْهَا وَتُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَيِّاٰتِكُمْ١ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ

’’ اگر تم ظاہر کرکے دو صدقوں کو تب بھی اچھی بات ہے اور اگر ان سے چھوپا کر دو ان فقیروں کو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ (اس کی برکت سے) تمہارے کچھ گناہ بھی دور کر دیں گے اور اللہ تمہارے کیے ہوئے کاموں کو خوب خبر رکھتے ہیں ۔ (۲۱)

دینِ اسلام سراسر خیر خواہی کا مذہب ہے، اسلام میں حقوق العباد کی اہمیت کو حقوق اللہ کی اہمیت سے بڑھ کر بیان کیا گیا ہے۔ دوسروں کی خیر خواہی اور مدد کرکے حقیقی خوشی حاصل ہوتی ہےجو کہ اطمنانِ قلب کے ساتھ ساتھ رضائے الٰہی کا باعث بنتی ہے ۔

صدقہ کرنے والوں کی حدیث مبارکہ میں حوصلہ افزائی

«إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ وَتَدْفَعُ مِيتَةَ السُّوءِ»

’’صدقہ اللہ تعالیٰ کے غضب و ناراضگی کو ختم کر دیتا ہے اور بُری موت سے بچاتا ہے۔‘‘ (۲۲)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

الصَّدَقَةُ عَلَى المِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ ثِنْتَانِ: صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ

’’مسکین پر صدقہ صرف صدقہ ہے اور رشتہ دار پر صدقہ میں دو بھلائیاں ہیں کیونکہ یہ اس کے لیے صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔‘‘(۲۳)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

«مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ، وَلَا يَقْبَلُ اللهُ إِلَّا الطَّيِّبَ، إِلَّا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ بِيَمِينِهِ، وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً تَرْبُو فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ، حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الجَبَلِ»

جس نے بھی کسی پاکیزہ چیز کا صدقہ کیا اور اللہ پاکیزہ چیز کو قبول کرتا ہے تو رحمٰن ایسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے، اگرچہ وہ ایک کھجور ہی ہو۔ یہ مال صدقہ رحمٰن کی ہتھیلی میں بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کے وہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔ (۲۴)

محسنِ انسانیت رسول اللہ ﷺ نے نہ صرف حاجت مندوں کی حاجت روائی کرنے کا حکم دیا کرتے بلکہ عملی طور پر آپ ﷺ خود بھی ہمیشہ غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرتے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ مسجدِ نبوی میں صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک عورت اپنی کسی ضرورت کے لیے آپ ﷺ کے پاس آئی ، آپ ﷺ صحابہ کرام کے درمیان سے اُٹھ کر دیر تک مسجد کے صحن میں چلے گئے اور اس کی باتیں سنتے رہے اور اس کی حاجت روائی کا یقین دلا کر مطمئن کر کے اسے بھیج دیا۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے کے حاجت مندوں کی مدد کے لیے میں مدینہ کے دوسرے سرے تک جانے کے لیے تیار ہوں۔ (۲۵)

حدیثِ نبوی ﷺ ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارو مددگار چھوڑتاہے۔ جوشخص اپنے کیسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی ستر پوشی کرتا ہےاللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن ستر پوشی فرمائے گا۔(۲۶)

ارشاد نبویﷺ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کے کام میں مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کے کام میں مدد کرتا رہتا ہے۔ (۲٧)

لہذا ہمیں ان احادیث مبارکہ کے مطابق اپنی زندگی کو اس انداز سے گزارنے کی کوشش کرنی چاہئیے تاکہ دین و دنیا کی خوشنودی کے ساتھ ساتھ دلی اطمینان بھی حاصل ہو اور یہی حقیقی زندگی ہے۔

(۳): تیسرا اُصول یہ ہے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو وسائل معاش فراہم کرکے دے ، یا ایسے کارخانے لگائے یا ایسے وسائل تلاش کرے جہاں سے لوگ روزی روٹی حاصل کریں ۔ اسی طرح مال داروں سے زکوٰۃ وصول کرکے فقراء و مساکین بیواؤں، یتیموں ، بوڑھوں اور کمزوروں تک پہنچائے یا مالداروں پر ٹیکس لگا کر غرباء کی کفالت کرے۔

اسلامی نظامِ معیشت میں تمام مسلمانوں کو حقُ المعاش کے مساوی حقوق دئیے گئیے ہیں اور بنیادی حقُ المعاش کی فراہمی یاست کی زمہ داری ہے۔ (۲۸)

کتاب الخراج میں ایک روایت نقل کی ہے جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے ۔

« سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ لوگوں میں سے کسی شخص کے دروازے کے پاس سے گزرے وہاں ایک سائل سوال کر رہا تھا جو نہیات ضعیف اور اندھا تھا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کے بازو پر پیچھے سے مارا اور کہا کہ تم کون سے اہلِ کتاب میں سے ہو اس نے کہا کے یہودی ہوں ۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تجھے اس امر پر کس نے مجبور کیا جو میں دیکھ رہا ہوں ؟ اس نے کہا کہ میں جزیہ کی ادائیگی،حاجات کی تکمیل اور عمر رسیدگی کی وجہ سے سوال کرتا ہوں راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اِسے اپنے گھر لے گئے او اسے اپنے گھر سے کچھ مال دیا پھر ایسے بیت المال کے خازن کی طرف بھیجا اور کہا کے اسے اور اس کے قبیل کے دوسرے لوگوں کو دیکھو۔ اللہ کی قسم ہم نے اس کے ساتھ انصاف نہیں کیا ہم نے اس کی جوانی سے تو خوب فائیدہ اٹھایا اور بڑھاپے میں ایسے رسوا کر دیا (پھر آپ نے یہ آیت پڑھی) (بے شک صدقات فقراء اور مساکین کے لیے ہے ) اور فرمایا فقراء سے مراد مسلمان ہیں اور یہ اہلِ کتاب مسکین میں سے ہیں اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس سے اور اس جیسے دیگر کمزور لوگوں سے جزیہ ساقط کردیا۔ (۲۹)

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اس فعل سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ رعایا کو حق المعاش کی فراہمی اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے صاحبانِ اقتدا پر لازم ہے کہ اس امر کا انتظام کریں کے کوئی بھی شخص حقِ معیشت سے محروم نہ ہو بلکہ ہر فرد کو حصولِ معیشت کا مساوی حق دیا جائے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں اور کاوشوں کو بروئے کار لا کر باعزت اور حلال طریقے سے اپنی روزی کما سکیں ۔نیز اہل ثروت پر لازم ہے کہ وہ اپنے مال میں سے ضرورت مندوں ،غرباء اور محتاجوں کی معاشی ضرویات سے محروم نہ رہے۔ اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اگر معاشرے میں غریب اور نادر لوگ زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہوں اور دوسری طرف امراء عیش و عشرت کی زندگی گزاررہے ہوں تو اسلامی حکومت ان امیر لوگوں سے سختی کے ساتھ زکوٰۃ وصول کرکے غرباء اور ضرورت مندوں میں تقسیم کرے۔

اللہ تعالیٰ نے جن مقامات پر اپنے بندوں کو رزق فراہم کرنے کا وعدہ فرمایا ہے ۔ ان میں اسلامی ریاست کی بنیادی ذمہ داری سے آگاہ کیا گیا ہے ۔ یہ قرآنی احکام اس منشاء ایزدی کو ظاہر کرتے ہیں ۔ لہذا اسلامی ریاست پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنی اس بنیادی ذمہ داری کو پورا کرے کہ ایسا کرنے سے ہی اس کے قیام اور بقا کا جواز ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ : 

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا

’’اور زمین میں کوئی چلنے پھر والا(جاندار) نہیں ہے مگر (یہ کہ) اس کا رزق اللہ کےذمہ ہے۔ ‘‘(۳۰)

اس وعدۂ رب کے بعد اگر کوئی شخص بنیادی حق المعاش سے محروم ہے تو اس کی ذمہ داری براہ راست ریاست اور حکومت اسلامی پر عائد ہوتی کیونکہ حقوق اللہ کی تنفیذ اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینا من جانب اللہ اسلامی ریاست ہی کا حق ہے ۔ جیسے حدود کا اجراء حق اللہ میں سے ہے مگر اس کو تعزیری شکل میں ریاست نافذ کرتی ہے ۔ حدود و قصاص عشر زکوٰۃ وغیرہ لینا اسلامی ریاست کا فرضِ منصبی ہے۔ (۳۱)

تو یہ ہیں وہ اُصول جو رسول اکرم ﷺ نے ماتحتوں کے بارے میں وضع فرمائے ہیں اور یہی ہیں وہ اخلاقی تعلیمات ہیں ،کہ جب تک وہ کسی معاشرے میں بالفعل موجود نہ ہوں تو محض کوئی خالی قانونی ڈھانچہ ،خواہ اس کی کتنی ہی پیروی کیوں نہ کر لی جائے، معاشرے میں وہ برکات پیدا نہیں کر سکتا جو اسلام کی منشاء ہیں۔ (۳۲)

حوالہ جات

(۱)ترمذی،حدیث نمبر ۱۲۲۲،ج۳/ص۵۳۴۔

(۲)سورۃ نباء، آیت، ۱۱

(۳)سورۃاعراف،آیت ۱۰

(۴)سورۃ بقرہ آیت، ۱۹۸                

(۵)سورۃ مزمل آیت، ۲۰

(۶)سورۃ جمعہ ،آیت ،۱۰

(٧) ترمذی، عن ابی سعید الخدری، کتاب البیوع،باب ماجاء فی التجار

(۸)مجمع الزوائدج ۴/۶۴ص ،باب اتحاذ المال

(۹) بخاری ، حدیث ،نمبر۲۲۶۲ کتابُ الاجارہ

(۱۰)اسلام کا معاشی نظام ڈاکٹر اسرار احمد مرکزی انجمن خدّام القرآن، لاہور ،ص نمبر ۳٧

(۱۱) طبرانی، المعجم الکبیر، ۱۰:۱۰۸،رقم:۱۰۱۱۸

(۱۲)بخاری کتاب: خرید وفروخت کے مسائل کا بیان حدیث،۲۰٧۲۔

(۱۳)شعرانی، کشف الغمۃ عن جمیع الامۃ، ۲:۳

(۱۴) بخاری عن زبیر بن عوام، کتاب الزکوٰۃ ،باب سوال سے بچنے کا بیان، حدیث: ۱۴٧۱

(۱۵) عینی علی البخاری ج۶/۱۸۶

(۱۶)بخاری ،کتاب البیوع، باب کسب الرجل وعملہ بیدہ

(۱٧)حوالہ الموسوعہ الفقھیہ الکویتیہ جلد ۴۰ /ص ۳۹

(۱۸) سورۃ بقرۃ آیت نمبر ۱٧٧

(۱۹) حوالہ سورۃ البقرۃ آیت نمبر ۲۱۵

(۲۰)حوالہ سورۃ بقرۃ آیت نمبر ۲٧۲

(۲۱) سورۃ بقرۃ آیت نمبر ۲٧۱

(۲۲) جامع ترمذی ، ابوعیسیٰ محمد بن عیسیٰ ، کتاب زکوٰۃ و صدقات کے احکام، حدیث ۶۶۴

(۲۳) ترمذی حدیث نمبر ۶۵۸           

(۲۴) ترمذی : حدیث ۶۶۱

(۲۵) بخاری ، محمد بن اسماعیل ،کتاب مظالم والغصب،حدیث ۴۴۲

(۲۶)ترمذی، باب ماجاء فی الستر علی ا؛مسلمِ، ابواب الحدود حدیث ،نمبر۱۴۲۵۔

(۲٧)سننِ ابوداؤد،حدیث نمبر ۴۶۴۹۔

(۲۸) امام ابو یوسف کتابُ الخراج،ص۱۸۳۔۱۱۳۔

(۲۹)ابو یوسف کتاب الخراج ص، ۱۳۶۔

(۳۰)سورۃہود، آیت، ۶۔

(۳۱)اقتصادی اسلامی ص ،منہاج القرآن ،طبع لاہور، ص ۱۹۸۔۱۹۹

(۳۲)اسلام کا معاشی نظام ڈاکٹر اسرار احمد مرکزی انجمن خدّام القرآن، طبع، لاہور،ص نمبر۴۰

حیات انسانی کی الجھنیں

انسان کی زندگی ایک ایسی الجھی ہوئی ڈور ہےجس کا سرا ڈھونڈتے بعض اوقات ساری عمر ہی بیت جاتی ہےمگر ڈور سلجھ ہی نہیں پاتی۔زندگی کی اس الجھی ڈور کو سلجھانے کے لیے جس فہم و فراست اور دور اندیشی اور دروں بینی کی ضرورت ہوتی ہے، وہ بھی ہر انسان میں نہیں ہوتی۔خال خال لوگ ہی ہوتے ہیں جنہیں اللہ کی یہ نعمت حاصل ہوتی ہے۔کم فہمی، عجلت پسندی اور حقائق سے لا علمی اور جھوٹی انا انسانی معاملات کو مزید پیچیدہ کردیتے ہیں۔اس دنیا میں کچھ لوگ غیر معمولی ذہانت، فطانت، عقابی نگاہیں اور عبقری شخصیت کے حامل ہوتے ہیں اور وہ ہر گزرتے ہوئے لمحے کو اپنی مٹھی میں قید کرلینے کی خداداد صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ لوگ دنیا میں شہرت، دولت اور زندگی کی بے شمار آسائشوں سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ان کی زندگی کا محور و مرکز یہی مادی دنیا ہوتی ہے، اس لیے ان کی تمام بھاگ دوڑ ، تمام سعی و جہد اسی فانی دنیا کے لیے ہوتی ہے۔وہ اپنی کاوشوں سے شہرت و کامرانی کی بلندیوں کو چھونے لگتے ہیں۔ان کی شخصیت لوگوں کی مرکزِ نگاہ ہوتی ہے، جو چاہتے ہیں حاصل کر لیتے ہیں، مادہ پرستانہ سوچ ان کے ہر عمل سےنمایاں ہوتی ہے، کیونکہ انہوں نے جو کچھ کیا ہوتا ہے وہ دنیا کے نفع و نقصان کو سامنے رکھ کر ہی تو کیا ہوتا ہے۔ارشاد ربانی ہے:

وَ اَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى

’’اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔‘‘(النجم:39)

اس کے بر عکس کچھ لوگ اس دنیا میں ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی ساری بھاگ دوڑ ، سعی و جہد، ہمہ وقت، ہمہ جہت صرف ایک ہی زاویے میں ہوتی ہے کہ اس دنیا کی نعمتیں ملیں نہ ملیں ، لیکن ان کی آخرت کی دنیا بہتر اور نتیجہ خیز ہوجائے، ان کا ربّ ان سے راضی ہوجائے۔وہ ہر اس عمل سے خود کو بچاتے ہیں جس میں اللہ کے غضب کا امکان پیدا ہوتا ہو، ان کے نزدیک یہ دنیا برتنے کی چیز ہے اسی میں کھو کر رہ جانا ، دنیا ہی کو دل میں بسا لینا ان کا مطمح نظر نہیں ہوتا۔

بقولِ اکبر الہ آبادی :

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں

بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں

چنانچہ جس طرح دنیا کی طلب ، اس کی تگ و دو آخر کار انسان کو کم و بیش دنیا دے ہی دیتی ہے، اسی طرح انسان آخرت کی کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنے جسم وجان کی تمام توانائیاں کھپادیتا ہے تو اسے آخرت کی فلاح اور ربّ تعالیٰ کی نظر کرم حاصل ہونے کی امید پیدا ہوجاتی ہے۔حدیث مبارکہ میں فرمایا گیا ہے:

’’ایمان والا امید اور خوف کے درمیان رہتا ہے۔‘‘

انسان اپنی کوشش، ارادہ، عزم صمیم ،اپنی خواہش اور طلب کی شدت سے کامیاب اور فتح مند توہوجاتا ہے ۔اس لیے کہ حرکت میں برکت ہے اور اللہ کسی کے عمل کو ضا ئع نہیں کرتا۔بہر حال انسان کو صلہ تو مل ہی جاتا ہے ، کیونکہ اللہ نے انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دے کر دنیا میں بھیجاہے اس کے ہاتھ پیر باندھ کر نہیں ،اور یہ دنیا اور اس کی مصلحتوں تقاضا بھی ہے۔تاہم کامیابی، فتح مندی، شہرت وناموری حاصل کرنا اور پھر اس کو اپنی زندگی میں قائم رکھنا ، دو الگ پہلو ہیں۔ایسے ہی جیسے اس دنیا ا ورآخرت کے قانون بالکل الگ الگ ہیں۔پانی اپنی سطح سے باہر نکل جائے تو ہلاکت کا باعث بن جاتا ہے۔دودھ برتن کے اندر رہے تو بہتر ہے ، مگر وہ آگ کی حرارت سے ابل کر باہر آجائے تو وقت اور پیسہ دونوں ضائع ہوجاتے ہیں۔ان حقائق سے لاعلم ہوکر انسان بعض اوقات اپنی کامیابی ،اپنی شہرت و بلندی اور اپنے مقام و مرتبے کے احساس ِ برتری میں مبتلا ہوکر دوسرے انسانوں کو کمتر، حقیر اور بے وقعت سمجھنے لگتا ہے۔مختلف پیرائے میں ان کی تضحیک و توہین کو اپنا مشغلہ بنا لیتا ہے، کیونکہ اس کے ذہن میں یہ بھرا ہوتا ہے کہ یہ سب جو اسے حاصل ہے اس کی اپنی محنت، حکمتِ عملی اور بہترین منصوبہ بندی کے سبب ہے۔یہ سب میری ذہانت اور عبقریت کا نتیجہ ہے۔یہ وہ باغیانہ افکار و نظر یات ہیں جو انسان کے لیے اللہ سے دوری کا سبب بنتے ہیں۔اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی شکر گزاری کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کو اس کی ہدایت کے مطابق استعمال کیا جائے۔جس عمل میں اللہ کی ہدایت و فرماں برداری شامل نہ ہو وہ کسی اعتبار سے بھی اس کے لیے نعمت اور فلاح کا باعث نہیں بن سکتا۔جو چیز اپنے محل سے ہٹ جائے وہ اپنا مقام اور اپنا اثر کھودیتی ہے۔جس طرح عبارت طویل ہو جائے تو غیر مؤثر ہوجاتی ہے۔اسلام کی تعلیم میں جو سب سے اعلیٰ وصف ہے وہ انسان کا اخلاق ہے اور اس دائرے میں انسانوں کے تمام رویے شامل ہیں۔

انسان عظیم و اشرف مخلوق ہے،اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ علم و دانش کی صلاحیت رکھتا ہے۔انسان کو طاقت،وزن یا رنگ کی بنیاد پر دوسری مخلوقات پر فوقیت نہیں بخشی گئی کیوں کہ چیتا اس سے زیادہ طاقت اور ہاتھی اس سے زیادہ وزن رکھتا ہے۔زیبرا ہر رنگ میں انسان سے زیادہ خوبصورت نظر آتا ہے ۔غرض انسان طاقت،وزن یا صورت کا نام نہیں بلکہ انسانی جوہر کا ہے اور انسانیت کا جوہر وحی سے ہے۔اگر انسان کو علمِ وحی حاصل نہ ہو تو وہ انسان، انسان نہیں رہے گا، گو اس کی صورت انسان جیسی ہو۔لیکن انسان نام انسانی صورت کا نہیں بلکہ انسانی جوہر کا ہے اور انسانیت کا جوہر علمِ وحی ہے۔

جب انسان فطری قوانین (natural laws)کے بر خلاف کام کرتا ہے تو اس کے منفی اثرات اس کی زندگی پر ضرور پڑتے ہیں ۔ کیوں کہ انسان کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ سب کچھ ربّ کائنات کی عطا ہے۔ایک محدود مدت تک یہ سب اس کے پاس رہتا ہے پھر اللہ اپنی امانت واپس لے لیتا ہے۔سچی بات یہ ہے کہ ہماری تو اپنی زندگی اپنی نہیں ہے۔ جس کو بنانے سنوارنے میں انسان جائز ناجائز، حق ناحق اورظلم و زیادتی کے رویوں سے گریز نہیں کرتے ، لیکن پھر بھی ہم سے چھین لی جاتی ہے ہم اور ہمارے چاہنے والے روکنا چاہیں بھی تو روک نہیں سکتے۔بالکل اسی طرح جیسے کچھ پھول شام ڈھلے اپنی پنکھڑیاں سمیٹ کر اپنی رعنایوں کے ساتھ اپنےہی وجود میں سما جاتے ہیں۔ہم چاہیں بھی تو ان سمٹی ہوئی پنکھڑیوں کو پھول نہیں بنا سکتے، کیونکہ قانونِ فطرت یہی ہے۔

اس دنیا میں کتنے ہی انسان ایک لمحے کی خوشی ڈھونڈتے ڈھونڈتے یہ دنیا ہی چھوڑ جاتے ہیں ، اسی کا نام زندگی ہے جسے انسان کو جھیلنا ہی پڑتا ہے۔یہاں حقیقت کو فسانہ بنتے دیر نہیں لگتی ۔کوئی اپنے گھر سے تفریح منانے ،مسائل اور نا خوشگواریوں کی دھول کو اپنے ذہن سے جھٹکنے، مایوسیوں اور کلفتوں کی دبیز چادر کو اپنے اوپر سے اتار پھینکنے ، رزق کی تلاش، حصول علم میں یا محض اپنے شوقِ آوارگی کی تسکین کے لیے کھلی فضاؤں اور یخ بستہ ہواؤں کا لطف لینے سفر پر نکل جاتا ہے، اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ اس کی زندگی کا آخری سفر ہوگا۔روح وبدن کے ساتھ گھر سے چلا تھا اور بے روح ہوکر خاکی جسم کے ساتھ واپس لوٹے گا۔روح وبدن کی اس جدائی کا تسلسل ازل سے جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا کہ یہی منشاء الٰہی ہے جسے کوئی بدلا نہیں سکتا۔ہر انسان حالتِ سفر میں ہے ،کسی کا سفر دو گام چلتے ہی ختم ہوجاتا ہے اور کوئی ایک طویل شاہراہ پر چلتا جاتا ہے۔اس کے قویٰ شل ہونے لگتے ہیں ۔آرزوئیں دم توڑنے لگتی ہیں ۔ جذبات کی سرد لہریں جسم میں خون منجمد کرنے لگتی ہیں مگر سفر پھر بھی ختم نہیں ہوتا۔راستے کی کٹھنائیاں سانسوں کو اتھل پتھل کردیتی ہیں۔چلتے چلتے پاؤں آبلہ پا ہوجاتے ہیں مگر سفر پھر بھی رواں دواں رہتا ہے۔دن ہفتوں میں اور مہینے سالوں کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں ۔چلتے چلتے کوئی مڑ کر دیکھتا ہے تو دور تک ناکام تمناؤں کی گرد اڑتی دکھائی دیتی ہے۔اکیلے پن کا احساس روح کو چھلنی کرتا محسوس ہوتا ہے۔کچھ لوگ دنیا کی کثیر دولت سمیٹ کر بھی خود کو تہی دامن پاتے ہیں ، دولت کے انبار گھر میں ہوتے ہیں جسے دوسرے استعمال کرتے ہیں (یعنی  دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوّے انڈے کھائیں)کے مصداق صاحبِ ثروت کو کھانا بھی ناپ تول کر چمچوں سے کھلا یا جاتا ہے۔کچھ لوگ تنہا اپنی ذات میں انجمن ہوتے ہیں اور بعض لوگ انجمن میں تنہا اور اکیلے اکیلے، یہی اس زندگی کا تضاد ہے، لیکن یہ زندگی کبھی ختم نہیں ہوتی کیونکہ اس کا ایک سرا دنیا ہے تو دوسرا سرا آخرت!

ہر گزرنے ولا دن ہمیں اپنی موت سے قریب تر کررہا ہے۔لیکن سوچنے کا موقع کسی کے پاس نہیں، ہمیں تو ہر آنے والے نئے سال کا جشن منانا یاد رہتاہے۔آگ اور بارود کا کھیل ، بے ہنگم موسیقی پر تھرکتے مدہوش بدن، دنیا و مافیہا سے بے نیاز، بے حیائی ناچتی ہے بال کھولے۔رنگ و نور کی یہ محفلیں پوری رات اپنا جوبن دکھاتی ہیں۔یہ ہے ابنِ آدم کا طرز زندگی اور اس کے شبِ روز کے میلے ٹھیلے ! ہم اس دنیامیں کیوں آئے ہیں؟ ہماری راہ گزر کون سی ہے؟منزل کہاں ہے؟ ہمیں کیا کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے؟ ان سوالوں کے جواب نہ کوئی جانتا ہے اور نہ جاننے کی جستجو اس کے اندر مچلتی ہے۔کیونکہ علم تو خوف پیدا کرتا ہے، اسی لیے نہ جاننا ہی بہتر ہے۔بقولِ عبد الحمید عدم،

میں مے کدے کی راہ سے ہو کر نکل گیا

ورنہ سفر حیات کا کافی طویل تھا

یہ زندگی جشن منانے کے لیے، لطف و سرور کی محفلیں سجانے کے لیے اور مادیت کے جال میں خود کو محصور کرنے کے لیے نہیں دی گئی ہے۔زندگی کا مقصد اُس ذاتِ اقدس کی عبادت میں پنہاں ہے جس نے ہمیں عدم سے وجود بخشا ہے۔ہمارے خاکی وجود میں روحِ ربانی کا لطیف جوہر پھونکا اور ہم جیتے جاگتے انسان بن گئے۔عدم سے وجود بخشنے کے ساتھ ہی بے شمار نعمتوں سے مالا مال بھی کیا گیا۔خالی دامن اس دنیائے فانی میں نہیں بھیجا گیا۔لیکن جیسے ہی ہم عدم سے وجود میں آئے، اپنا وہ عہد ہی بھول گئےجو اپنے خالق سے ہم نے کیا تھا۔ہم سب نے اُس کو اپنا ربّ ہونے کا یک زبان ہوکر گواہی دی تھی، لیکن ہم یہ بھول گئے۔پھر بھی وہ ربّ ذوالجلال ہمیں نہیں بھولا، وہ ہمیں رزق دینے کے ساتھ ساتھ ہماری ہر ضرورت اور احتیاج کو پورا کر رہا ہے۔ہم اسے بھولے ہوئے ہیں مگر وہ ہمیں کبھی نہیں بھولتاہے۔

جدیدت کا تصور یہ ہے کہ انسان کسی خدا اور مذہب کا پابند نہیں ہے۔وہ اپنی آزادی کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی زندگی جس طرح چاہے بسر کرے ۔ماضی ،حال اور مستقبل کے آمیزے سے ایک وحدت ابھر کرسامنے آتی ہے ۔ماضی کے بغیر حال اور حال کے بنا مستقبل کا کوئی وجود نہیں۔مسلمانوں کا شاندار ماضی ایک تحرک ہے، راستے کی رکاوٹ نہیں ۔اقبال نے امت مسلمہ کے ماضی سے متاثر ہوکر اپنی شاعری کی شمعیں فروزاں کیں۔اسلام کے ماضی پر فکر و تدبر کے نتیجہ میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کرنے کا داعیہ دل میں پیدا ہوا۔اور آج پورے کرہ ارض پر احیائی تحریکوں کی اٹھان اسی فکر و نظر کا اعلان ہے کہ ماضی کی پختہ اینٹوں سے ہی حال کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔

فہم و فراست کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنے ماضی کا احتساب کرنا چاہیے کہ ماضی میں کیا کھویا اور کیا پایا، حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کہاں کہاں کوتاہیاں ہوئیں، کس پر ظلم و زیادتی کی، اپنے طرزِ عمل سے لوگوں کو دین سے قریب کیا یا انہیں دین سے دور ہونے کی راہ سجھائی۔آج ہم اس دنیا کے رنگ و بو میں ایسے مست رہتے ہیں کہ آگےپیچھے ، دائیں بائیں کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ہم شیطان کے ہاتھوں میں کٹھ پتیوں کی مانند ناچ رہے ہوتے ہیں۔جس کے نتیجے میں مصائب، ناگہانی آفتیں، عجیب عجیب طرح کی بیماریاں، فرسٹریشن ،شکوک و اوہام اور بے سکونی ہمارے گھروں میں ڈیرے ڈال لیتی ہے۔

دنیا کا اصل لطف اپنے خالق کی بندگی ، عاجزی، فروتنی، پاکیزگی اور شرم و حیا کے احساس کے ساتھ زندگی گزارنے میں ہے۔دوسروں کے لیے زندہ رہنے والا انسان کبھی نہیں مرتا، وہ زندہ رہتا ہےلوگوں کے دلوں میں ، ان کی یادوںمیں ، ان کی خلوت و جلوت میں اور تاریخ کے اوراق میں! کاش اس دنیا میں ہی ہمیں یہ بات سمجھ میں آجائےاور ہمیں اپنی ذات کی صحیح معرفت حاصل ہوجائے جو اللہ کی معرفت تک لے جانے والا راستہ ہے اور یہی ہمارے آنے والے کل کے لیے ہماری نجات کا باعث بن سکتا ہے۔اس کی کامیابی کے لیےہمارا حسن عمل ، خشیت الٰہی، ظاہر و باطن کی نفاست اور اپنے اللہ سے گڑگڑا کر مانگی ہوئی دعا بہترین وسیلہ ہے، : جو ہزار سجدوں سے آدمی کا دیتا ہے نجات۔»

یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ ہر عمل کا ردّعمل ہوتا ہے۔مصیبت کے مارے انسانوں کی بے بسی اور ناگفتہ بہ حالت سے چشم پوشی اختیار کرنا، اپنے ہی عیش و عشرت اور طاؤس و رباب میں مدہوش رہنا ،معاشرے کے محروم طبقے میں تعصب، انتقام اور ظلم کی روش کو جنم دیتا ہے۔اور یہ طرزِ عمل دنیا میں تباہی و بربادی ، خوں ریزی، دہشت گردی، لوٹ مار، چھینا جھپٹی اور حیوانیت کی راہیں ہموار کرتا ہے۔یہ وہ حقائق ہیں جنہیں ہر باشعور انسان خوب جانتا ہے کیونکہ وہ خود بھی اسی ماحول میں زندگی گزار رہا ہے— جو اس وقت دنیا کی باگ ڈور تھامے ہوئے ہیں وہ کٹھور دل، سفاک اور مال و دولت کے پجاری ہیں ، انہیں عوام صرف اس وقت یاد آتے ہیں جب ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بعد وہ اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں تو ان کو یاد ہی نہیں ہوتا کہ ہم کن لوگوں کے کندھوں پر سوار ہوکر مسند اقتدار تک پہنچے ہیں۔

یہ بے حسی ہمارے حکمرانوں کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔ان کے دورِ اقتدار میں کوئی خود کشی کر کے خود مر جائےیا غربت اور مفلسی سے تنگ آکر اپنے معصوم بچوںکو موت کے گھاٹ اتار دے، ان کو اس سے نہ کوئی غرض ہوتی ہے اور نہ کوئی افسوس! ہم بحیثیت امت مسلمہ وہ خوش نصیب اور بختاور لوگ ہیں جن کے پاس ربّ کائنات کی طرف سے انسان کی فوز و فلاح اور اطمینان قلب کے لیے پورا ایک ضابطۂ حیات موجود ہے۔پھر ہمیں کسی خوف اور غم کے سمندر میں ڈوبنے کی کیا ضرورت ہے؟

یہ حقیقت ہےکہ ہر انسان کی اپنی ایک مخصوص فطرت(nature) ہے، جس پر انسان کے ذہن میں پرورش پانے والے ہر تصور کی بنیاد ہے۔یہ وصف ہر انسان میں با لقوہ(potentially)موجود ہے۔مطلب یہ کہ ہر فرد انسان کے کلی تصور یعنی تصور ِ انسان کی ایک مخصوص مثال ہے۔انسان پہلے وجود میں آتا ہے، اپنی ذات کا سامنا کرتا ہے ، کاغذات میں ابھرتا ہے اور پھر کہیں اپنے تصور کی تشکیل کر پاتا ہے۔

انسان صرف اس وقت وجود سے مشرف ہوتا ہے جب وہ کچھ ہو، کچھ کر کے وہ خود کو بنانا چاہتا ہے۔کچھ ہونے کی آرزو محض وجود نہیں ، آرزو یا ارادے سے بالعموم ہماری مراد شعوری طور پر کچھ فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ایسا فیصلہ جو اکثر وبیشتر ہم اپنے آپ کو بنالینے کے بعد کرتے ہیں۔کوئی شے ہمارے لیے اس وقت تک بہتر نہیں ہوسکتی جب تک تمام نوعِ انسان کی اس میں بہتری نہ ہو۔اس حقیقت کا ادراک ہی ہمارے نفس کا اصل جوہر ہے ، یہ نہ ہو تو انسان اینٹ اور پتھر سے زیادہ وقعت دیے جانے کے قابل نہیں۔

انسان کا طرزِ عمل دراصل عکس ہوتا ہے اس کی فکر اور سوچ کا۔انسان کے کردار پر اس کی سوچ کا گہرا اثر پڑتا ہے۔جس طرح کے عقائد و نظریات ہوں گے ، اعمال بھی اسی کے مطابق ہوں گے۔گویا انسان کا نظریہ زندگی ہی اس کے تمام اعمال و افعال پر حکمرانی کرتا ہے۔بعض لوگ اپنے غیر مناسب طرزِ عمل اور غیر اخلاقی رویوں سے زندگی کی ڈور کو سلجھانے کے بجائے کچھ اور الجھا دیتے ہیں۔کیونکہ سرا گم ہوجائے تو ڈور میں الجھاوا بڑھتا ہی جاتا ہے۔شعور و ادراک ہی انسان کی وہ قیمتی متاع ہے جو زندگی کی ہر راہ کو ہموار کر دیتے ہیں۔الجھنیں تو آتی رہتی ہیں ، حالات و معاملات میں گرہیں پڑتی رہتی ہیں مگرفہم و فراست کے حامل انسان کی ایک چٹکی ان تمام گروہوں کو اس طرح کھول دیتی ہے جیسے طلوع سحر کے وقت شاخوں میں لگی کلیاں انگڑائیاں لے کر خوشنما اور دیدہ زیب پھول بن جاتی ہیں۔ ایک کامیاب ، بھر پور اور جوہر ِ انسانیت سے معمور زندگی کوئی سات پردوں میں چھپی ہوئی شے نہیں ہے ، بلکہ ہر فرد کو اپنے فکرو عمل،اپنی غیر فطری (unnatural) نفسیات اور زیغ و ضلال (deception)سے دھند لائے ہوئے آئینہ کی گرد صاف کرنے کی ضرورت ہے۔انسانیت کا بے داغ اور منور چہرہ نکھر کر سامنے آجائے گا۔اور پھر زندگی کی ہر الجھی ہوئی ڈور سلجھتی چلی جائے گی، آگہی کا نور دل کے بند دریچوں کوکھول دے گا۔اور حیرت و استعجاب کے دبیز پردے یوں اٹھتے چلے جائیں گے جیسے چاند کے اوپر آئےگہرےبا دل دھیرے دھیرے سرکتے جاتے ہیں۔اورچاند کی نرم و گداز کرنیں آسمان کی وسعتوں میں چہار سو اپنی پوری تابناکیوں کے ساتھ بکھر جاتی ہیں۔

حج وعمرہ اور آج کل کے مسلمان

حج وعمرہ اور آج کل کے مسلمان

ان دنوں حج و عمرہ کے تعلق سے ہم عجیب وغریب منظر دیکھتے ہیں ، لگتا ہی نہیں یہ کوئی عبادت ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے یہ کوئی دنیاوی فنکشن ہے۔ حج وعمرہ پہ جانے سے پہلے رشتہ داروں سے دعوتی ملاقات، محلے میں حاجی اور معتمر کی دعوتوں کی لمبی قطار ، گھر پہ اجتماع پہ اجتماع ، مکہ جاتے وقت گلے میں ہارومالا پہناپہناکر راجاؤں مہاراجاؤں کی طرح رخصتی مانو کسی ملک کو فتح کرنے جارہے ہیں۔ پھردوران عبادت مکہ میں مختلف قسم کے اعمال جو عبادت کےلئے نقصان دہ ہوتے ہیں وہ کئے جاتے ہیں ۔ ان میں ایک کام لمحہ بہ لمحہ کی تصویر کشی یا عبادت کرتے ہوئے ویڈیو کالنگ تاکہ اپنی عبادت کو دکھاسکیں۔

بیت اللہ سے واپسی اور اپنے گھر پہنچنے پراستقبال کا منظر بھی بیحد افسوسناک ہوتا ہے۔ پھول مالا لئے ملنے والوں کی ایک لمبی قطار جو مالا پہناپہناکر ملک و قلع فتح کرلینے جیسی مبارکبادی دیتی ہے، بعدہ اسے سرٹیفائڈحاجی اور معتمرکالقب مل جاتاہے پھرمرتے دم تک بلکہ مرنے کے بعد بھی حاجی صاحب ، حاجی صاحب کے لقب سے پکارے جانے لگتے ہیں۔ العیاذ باللہ

ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ حج اور عمرہ عظیم عبادت ہے اور عبادت کی قبولیت کے لئے اخلاص نیت اوراتباع سنت ضروری ہے۔ بغیر اخلاص اور بغیراتباع رسول کے حج وعمرہ قبول نہیں ہوگا بلکہ دین کا کوئی عمل اس کے بغیر قبول نہیں ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آج کل کے حج و عمرہ میں نہ اخلاص ہے اور نہ ہی اتباع رسول ہے۔

اخلاص اس لئے نہیں ہے کہ لوگوں کو دکھانے کے لئے حج وعمرہ کیا جارہا ہے ، جو اخلاص کے ساتھ حج وعمرہ کرے گا وہ کبھی اپنی عبادت کا پرچار نہیں کرے گا۔لوگوں کو اپنے گھربلابلاکراجتماع کرنا، گھر گھر جاکردعوت کھانا، گاؤں گاؤں گھوم کراپنے پرائے سب سےملاقات کرنایہ سب اخلاص کے منافی ہیں۔

اور اتباع سنت اس لئے نہیں کہ ہمیں نبی ﷺ اور آپ کے پیارے اصحاب کی زندگی میں حج یا عمرہ کی انجام دہی میں اس قسم کا کوئی نمونہ نہیں ملتا ، اور کیسے ملے گا ، یہ تو شہرت کی باتیں ہیں جو اخلاص کے منافی اور عمل کو غارت کرنے والی ہیں۔

گویا عبادت کی قبولیت کی دونوں شرطیں آج کل کے اکثر حج وعمرہ انجام دینے والوں میں نہیں پائی جاتیں۔پھر ایسی عبادت کا انجام کیا ہوگا۔ آئیے نبی ﷺ کی حدیث دیکھتے ہیں ۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

قیامت کے روز سب سے پہلا شخص جس کے خلاف فیصلہ آئے گا، وہ ہو گا جسے شہید کر دیا گیا۔ اسے پیش کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی (عطا کردہ) نعمت کی پہچان کرائے گا تو وہ اسے پہچان لے گا۔ وہ پوچھے گا تو نے اس نعمت کے ساتھ کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے تیری راہ میں لڑائی کی حتی کہ مجھے شہید کر دیا گیا۔ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا تو نے جھوٹ بولا۔ تم اس لیے لڑے تھے کہ کہا جائے: یہ (شخص) جری ہے۔ اور یہی کہا گیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا تو اس آدمی کو منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یہاں تک کہ آگ میں ڈال دیا جائے گا اور وہ آدمی جس نے علم پڑھا، پڑھایا اور قرآن کی قراءت کی،اسے پیش کیا جائے گا۔ (اللہ تعالیٰ) اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا، وہ پہچان کر لے گا، وہ فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں کے ساتھ کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم پڑھا اور پڑھایا اور تیری خاطر قرآن کی قراءت کی، (اللہ) فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا، تو نے اس لیے علم پڑھا کہ کہا جائے (یہ) عالم ہے اور تو نے قرآن اس لیے پڑھا کہ کہا جائے: یہ قاری ہے، وہ کہا گیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا، اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا حتی کہ آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ اور وہ آدمی جس پر اللہ نے وسعت کی اور ہر قسم کا مال عطا کیا، اسے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا، وہ پہچان لے گا۔ اللہ فرمائے گا: تم نے ان میں کیا کیا؟ کہے گا: میں نے کوئی راہ نہیں چھوڑی جس میں تمہیں پسند ہے کہ مال خرچ کیا جائے مگر ہر ایسی راہ میں خرچ کیا۔ اللہ فرمائے گا: تم نے جھوٹ بولا ہے، تم نے (یہ سب) اس لیے کیا تاکہ کہا جائے، وہ سخی ہے، ایسا ہی کہا گیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا، تو اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم: 1905)

اس حدیث سے آپ نے جان لیا کہ شہرت کے لئے جہاد کرنا، شہرت کے لئے علم حاصل کرنااور شہرت کے لیے مال خرچ کرنا جہنم میں لے جانے کا سبب ہے تو جو شہرت کے لیے حج یا عمرہ کرےوہ اپنا مال بھی ضائع کرتا ہے، وقت بھی ضائع کرتاہے اور ایسے آدمی کا بھیانک انجام یہ ہوگا کہ اسے گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ اللہ ہمیں شہرت سے بچائے۔

اسلامی بھائیواور بہنو!ہمیں اپنے رب سے ڈرنا چاہئے اور عبادت کی انجام دہی میں اخلاص وللہیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسوہ رسول کو اپنانا چاہئے۔

عمرہ کے تعلق سے ایک بات مزید واضح کرنا چاہتا ہوں کہ آج کل حرم شریف میں زمین پر اصل مطاف میں بغیر احرام کے طواف کرنے پر پابندی لگی ہوئی ہے تو وہ لوگ جو صرف طواف کرنا چاہتے ہیں نیچے طواف کرنے کے لئے احرام کا لباس پہن لیتے ہیں ۔ یہ عمل شرعا بھی غلط ہے اور قانونا بھی ۔ شرعا اس لئے کہ نبی ﷺ جب فتح مکہ کے موقع پر طواف کرتے ہیں تو بغیر احرام کے طواف کرتے ہیں اس لئے صرف طواف کرنے کے لئے احرام باندھنے کی ضرورت نہیں ہے اور قانونی طور پر غلط تو ہےہی۔

آخر میں اپنے مسلمان بھائیوں کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ اپنے حج وعمرہ میں اخلاص پیداکریں،حج یا عمرہ کرنے سے پہلے یا دوران حج وعمرہ یا حج وعمرہ کے بعد ایسے کام کرنے سے بچیں جو آپ کی عبادت کو برباد کردے، آپ یہ نہ کہیں کہ لوگ ایسا کرتے، ہم ان لوگوں کو ایسا کرنے کا حکم نہیں دیتے ۔ نہیں یہ آپ کرتے ہیں کیونکہ آپ کے ساتھ یہ ہوتا ہےاور آپ صاحب معاملہ ہیں۔آپ چاہیں تو یہ سب کام ہوتے رہیں گے اور آپ نہ چاہیں تو یہ سب کام بند ہوجائیں گے۔

آپ کو کوئی آگ پر چلنے کو کہےیا گولی مارنے کوکہے آپ انکار کردیں گے، پھر جو لوگ آپ کے حج کو برباد کرنے میں لگے ہیں ، ان کے حساب سے کیوں چلتے ہیں؟۔ آپ حج کررہے ہیں اور آپ صاحب معاملہ ہیں تو آپ کے ساتھ ہونے والے معاملات کامکمل آپ ہی ذمہ دار ہیں۔ اس لئے خدارا ! عبادت کو عبادت ہی رہنے دیں، اس کو کھیل تماشہ، رسم ورواج اور فنکشن نہ بنائیں۔ یہ بڑی عظیم عبادت ہے ، زندگی میں ایک بار ہی حج فرض ہے ، زندگی بھر کی ایک عظیم عبادت کو اللہ کی رضا کے لئے انجام دیں۔ خود بھی غلط کاموں سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔ وماعلینا إلاالبلاغ المبین

حلال وحرام کا بیان

اسلام  کے نظریہ حلال و حرام کے حوالے سے سابقہ شمار ہ میں قرآن مجید سے ماخوذ تین  اصول بیان  کیے گئے تھے یہ اصول اس حوالے سے بنیاد کا درجہ رکھتے ہیں  اس لئے قرآن پاک میں ان کی  جا بجا  تاکید ملتی ہے  یہ اصول  درج  ذیل  ہیں:

حلت و حرمت کا تعلق  شارع سے ہے اور  اس میں انسانی عقل کا کوئی  عمل و دخل نہیں ہے۔

کائنات میں موجود تمام اشیاء کی تخلیق انسانوں کیلئے ہوئی ہے، اس لئے ہر چیز کا  اصل حکم اباحت (جائز)کا ہے۔

طیبات  حلال اور خبیث و ناپسندیدہ اشیاء حرام ہیں۔

ان تینوں کی مکمل وضاحت کے لیے مجلہ اسوۃ حسنہ کا سابقہ شمار ہ ملاحظہ کیجیے ۔ اس حوالے سے ذخیرہ احادیث سے منتخب احادیث اور ان کے تحقیقی فوائد درج کیے جا رہے ہیں تاکہ سابقہ تینوں اصولوں کی  فہم و تفہیم مزید آسان ہو جائے۔ 

حلال و حرام کا بیان  (1)

عن أبي ثعلبة إِنَّ اللهَ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوهَا، وَنَهَى عَنْ أَشْيَاءَ فَلَا تَنْتَهِكُوهَا، وَحَدَّ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا، وَغَفَلَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تَبْحَثُوا عَنْهَا (الطبراني، سليمان بن أحمد بن أيوب بن مطير اللخمي الشامي، أبو القاسم الطبراني المتوفى: 360ه، المعجم الکبیر للطبرانی، ح: 18035، ج: 16، ص: 93)

’’رسول اللہﷺ نے فرمایا: « اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں فرض کی ہیں، سو اُن کو ضائع مت کرو اور کچھ حدود مقرر کی ہیں سو اُن سے تجاوز مت کرو۔ اور کچھ چیزوں کو حرام کیا ہے سو اُن کا ارتکاب نہ کرو اور کچھ چیزوں سے خاموشی اختیار فرمائی ہے تم پر رحمت کی وجہ سے نہ کہ بھول کر۔ سو تم اُن چیزوں کا تجسس نہ کرو‘‘۔

مذکورہ  بالا حدیث حلال و حرام کے احکام سے متعلق انتہائی جامع اور اہم حدیث ہے۔ چنانچہ بعض محدثین کے بقول رسولﷺ کی احادیث میں کوئی حدیث بھی تنہا علمِ شریعت کے اصول و فروع کو اتنی جامع نہیں جتنی سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی یہ روایت ہے۔

عَنْ أَبِي وَاثِلَةَ الْمُزَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدِّينَ فِي أَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، ثُمَّ ذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي ثَعْلَبَةَ (ابن رجب، الإمام الحافظ الفقيه زين الدين أبي الفرج عبد الرحمن بن شهاب الدين البغدادي ثم الدمشقي‍، جامع العلوم والحكم، دار المعرفة بيروت، الطبعة الأولى 1408ھ، ج:1، ص:277)

’’سید نا واثلہ مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے پورے دین کو چار کلمات میں جمع کردیا ہے۔ پھر انہوں نے سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث ذکر فرمائی‘‘۔

قَالَ أَبُو بَكْرٍ السَّمْعَانِيُّ: هَذَا الْحَدِيثُ أَصْلٌ كَبِيرٌ مِنْ أُصُولِ الدِّينِ (ابن رجب، الإمام الحافظ الفقيه زين الدين أبي الفرج عبد الرحمن بن شهاب الدين البغدادي ثم الدمشقي‍، جامع العلوم والحكم، دار المعرفة بيروت، الطبعة الأولى 1408ھ، ج:1، ص:277)

’’اورامام ابوبکر سمعانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث دین کے اصولوں میں سے ایک بڑا اصول ہے‘‘۔

اس حدیث کی مختصر تشریح یہ ہے کہ  رسول اللہﷺ نے پورے دین پر عمل کا یہ نسخہ ارشاد فرمایا ہے کہ فرائض یعنی جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے اُن پر عمل ہو، محرمات یعنی اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے اجتناب ہو اور مسکوتات یعنی جن چیزوں کے بارہ میں قرآن و حدیث میں خاموشی ہو اُن کے بارے میں تجسس  نہ کیا جائے۔

اس حدیث سے یہ اہم اصول معلوم ہوتا ہے کہ:

 جس چیز کے حلال یا حرام ہونے کا قرآن و سُنت میں کہیں ذکر نہ ہو وہ مباحات میں داخل ہے۔

تاہم اس سلسلے میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ: کسی چیز کے حرام ہونے کیلئے یہ ضروری نہیں کہ قرآن و حدیث میں اس کا ذکر صریح آئے۔

 بلکہ کسی عام اصول کے ضمن میں اس کا ذکر ہوجانا بھی کافی ہے۔ لہٰذا اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ جس چیز کا صراحتاً یا تبعاً کسی بھی طرح قرآن و حدیث میں ذکر نہ ہو وہ مباح اور معاف ہے۔

حلال و حرام کا بیان(2)

مَا أَحَلَّ اللهُ فِي كِتَابِهِ فَهُوَ حَلَالٌ وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَافِيَةٌ فَاقْبَلُوا مِنَ اللهِ عَافَيْتَهُ فَإِنَّ اللهَ لَمْ يَكُنْ نَسِيًّا ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا} [مريم: 64]  (الحاكم، أبو عبد الله الحاكم محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه بن نُعيم بن الحكم الضبي الطهماني النيسابوري المعروف بابن البيع، المستدرك على الصحيحين، دار الكتب العلمية بيروت، الطبعة الأولى،1411– 1990، باب تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، ج: 2، ص: 406، ح: 3419)

’’رسول اللہﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال فرما دیا  حلال ہے اور جو کچھ حرام فرما دیا حرام ہے، اور جس چیز سے خاموشی اختیار فرمائی ہے وہ معاف ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی اس کی عافیت کو قبول کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو بھولا نہیں کرتے۔ پھر آپﷺ نے سورۃ مریم کی آیت تلاوت فرمائی‘‘۔

اس حدیث میں یہ اصول بیان ہوا ہے کہ:

حلال و حرام صرف وہی چیز کہلا سکتی ہے جس کی حرمت یا حلت اللہ کی کتاب میں موجود ہے۔

تاہم اس سے متعلق بھی ایک تو وہی وضاحت ہے جو اوپر ذکر ہوئی کہ کتاب اللہ میں حلت یا حرمت ذکر ہونے کی دونوں صورتیں ہیں: ایک یہ کہ صراحتاً ذکر ہو، دوسرے یہ کہ کسی عام اصول کے ضمن میں ذکر ہو۔

دوسری وضاحت یہ ہے کہ کتاب اللہ سے مراد بھی کتاب و سُنت دونوں ہیں چنانچہ اسی طرح کی ایک روایت امام ابو داؤدرحمہ اللہ نے  سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ  سے بھی روایت کی ہے جس میں یہ اضافہ ہے کہ: 

كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَأْكُلُونَ أَشْيَاءَ وَيَتْرُكُونَ أَشْيَاءَ تَقَذُّرًا فَبَعَثَ اللهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ وَأَنْزَلَ كِتَابَهُ وَأَحَلَّ حَلاَلَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ فَمَا أَحَلَّ فَهُوَ حَلاَلٌ وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَفْوٌ وَتَلاَ (قُلْ لاَ أَجِدُ فِيمَا أُوحِىَ إِلَىَّ مُحَرَّمًا) إِلَى آخِرِ الآيَةِ. (أبو داود سليمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشير بن شداد بن عمرو الأزدي السِّجِسْتاني، سنن أبي داود، دار الكتاب العربي  بيروت، باب مَا لَمْ يُذْكَرْ تَحْرِيمُهُ، ج: 3، ص: 417، ح: 3802)

’’زمانہ جاہلیت کے لوگ کچھ چیزیں کھا لیا کرتے تھے اور کچھ چیزوں کو گندا سمجھ کر چھوڑ دیا کرتے تھے۔ سو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی بھیج کر اور اپنی کتاب نازل فرما کر حلال چیزوں کو حلال اور حرام چیزوں کو حرام قرار دیا۔ لہذا جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال فرما دیا ہے وہ حلال ہے اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرما دیا ہے وہ حرام ہے، اور جس چیز سے اللہ تعالیٰ نے خاموشی اختیار فرمائی ہے وہ معاف ہے۔ پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے سورہ انعام کی آیت تلاوت فرمائی‘‘۔

سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے اسی روایت کی ایک اور سند سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں اس طرح  ہے کہ:آپﷺ سے گھی، پنیر اور پوستین کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس کے جواب میں آپﷺ نے مذکورہ بالا الفاظ ارشاد فرمائے۔

حلال و حرام کا بیان (3)

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِﷺ يَقُولُ: الْحَلاَلُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ لاَ يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَى الْمُشَبَّهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِيِنِهِ وَعِرْضِهِ ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ كَرَاعٍ يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ أَلاَ وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى أَلاَ إِنَّ حِمَى اللهِ فِي أَرْضِهِ مَحَارِمُهُ أَلاَ وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلاَ وَهِيَ الْقَلْبُ (البخاري، محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة البخاري، أبو عبد الله، الجامع الصحيح، دار الشعب القاهرة، الطبعة: الأولى، 1407-1987 کتاب بدء الوحي، باب فَضْلِ مَنِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ، ج:1، ص:20، ح:52)

’’سیدنا  نعمان بن بشیررضی اللہ عنہ  سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سُنا کہ بے شک حلال واضح ہے اور بے شک حرام واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ پس جو شخص شبہات سے بچا، اس نے اپنے دین و آبرو کو بچالیا اور جو شبہات میں پڑا وہ حرام میں پڑگیا۔ جیسے چرواہا جو چراگاہ کے اردگرد بکریاں چراتا ہے ، قریب ہے کہ چراگاہ میں چرا لے، اور بے شک ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے، اور سُنو! اللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور سُنو! انسانی جسم میں ایک ٹکڑا ہے، جب وہ تندرست ہوتا ہے تو سارا جسم تندرست ہوتا ہے اور جب وہ خراب ہوتا ہے تو سارا جسم بیمار ہوجاتا ہے، سنو وہ ٹکڑا دل ہے‘‘۔

یہ حدیث احکام حلال و حرام اور مشتبہات کے سلسلے میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے ۔ ہم اس حدیث کو بنیاد بنا کر احکام کے تینوں جوانب یعنی حلال و حرام اور مشتبہات کے بارے میں بات کریں گے ۔

امام ابو داؤد رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

أصول السنن في كل فن أربعة أحاديث: إنما الأعمال بالنيات وحديث الحلال بين والحرام بين. وحديث من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه. وحديث ازهد في الدنيا يحبك الله، وازهد فيما في أيد الناس يحبك الناس (ابن رجب؛ عبد الرحمن بن أحمد بن رجب الدمشقي، أبو الفرج، زين الدين، جامع العلوم والحكم في شرح خمسين حديثا من جوامع الكلم، دار ابن كثير، بيروت، 2008،  ج:1، ص: 30)

’’دین کے احکامات میں درج ذیل چار احادیث بنیادی اہمیت کی حامل ہیں :

إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ     
الْحَلَالُ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ
مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ
ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبَّكَ اللهُ۔۔۔۔

اس حدیث میں استعمال ہونے والی اشیاء کی تین اقسام بتائی گئی ہیں:

1. حلال

2.  حرام

3.مشتبہات

یعنی  بنی نوع انسان کے استعمال میں کائنات میں جتنی بھی اشیاء ہیں وہ شرعی حکم کے اعتبار سے تین انواع میں سے کسی ایک نوع میں شمار کی جا سکتی ہیں جن کا ذکر اس حدیث میں کیا گیا ہے۔

حلال و حرام کے بعد مشتبہ چیزوں سے بچنے کا حکم دے کر «حمی» کی مثال سے اس کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔››حمی›› اس چراگاہ کو کہاجاتا تھا جسے زمانہ جاہلیت میں کوئی بادشاہ یا سردار اپنے لئے مخصوص کر کے یہ اعلان کردیتا تھا کہ اس چراگاہ میں کسی اور کو اپنا جانور چرانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس حدیث میں حمی کی مثال سے مشتبہ امور سے بچنے کی اہمیت واضح فرمائی کہ جس طرح وہاں پر عام لوگ اس خوف سے حمی کے اردگرد اپنا جانور نہیں چراتے تھے کہ اگر جانور بھٹک کر اس حمی کے اندر چلا جائے گا تو یہ بادشاہ کی سزا کا باعث بن جائے گا، اسی طرح مشتبہ امور کا ارتکاب بھی ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی حمی کے اردگرد رہنا، جس میں اس بات کا خطرہ ہے کہ کہیں بندہ محرمات کا ارتکاب کرکے اللہ تعالیٰ کی سزا کا مستحق نہ ہوجائے۔

اس حدیث کا جملہ  ’’جو آدمی مشتبہات میں پڑ جائے وہ حرام میں پڑ جاتا ہے‘‘  کا مطلب یہ ہے کہ: جو چیز مشتبہ ہو اور آدمی کو اس کے حلال یا حرام ہونے کا علم نہ ہو، اگر آدمی اس میں احتیاط نہ کرے تو ہوسکتا ہے کہ وہ چیز حقیقت میں حرام ہو اور اس میں پڑنے سے آدمی اس طرح حرام میں واقع ہوجائے کہ ا س کو پتہ نہ چلے۔

جیساکہ معجم طبرانی میں روایت  ہے:

كَالْمُرْتِعِ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَ الْحِمَى وَهُوَ لَا يَشْعُرُ (الطبراني، سليمان بن أحمد بن أيوب، المعجم الکبیر،ح: 384، ج: 11، ص: 211)

’’یعنی جو جانور چراگاہ کے گرد چرتا ہے وہ چراگاہ میں داخل ہوجاتا ہے، جبکہ اس کو پتہ بھی نہیں ہوتا‘‘۔

بسااوقات مشتبہات میں مبتلا ہونا آدمی کو صریح حرام تک پہنچا سکتا ہے۔  جیسا کہ اس روایت میں ہے:

مَنْ تَهَاوَنَ بِالْمُحَقَّرَاتِ، يُوشِكُ أَنْ يُخَالِطَ الْكَبَائِرَ (ابن رجب، زين الدين عبد الرحمن بن أحمد، جامع العلوم والحكم في شرح خمسين حديثاً من جوامع الكلم، دار السلام، الثانية، 1424 هـ – 2004 م، ج: 1، ص: 215، (ضعيف)

’’جو شخص چھوٹی اور حقیر سمجھی جانے والی چیزوں میں غفلت سے کام لیتا ہے اور انہیں معمولی تصور کرتا ہے وہ بڑے گناہوں میں پڑ جانے کے بہت قریب ہوتا ہے۔‘‘

اور اسی مفہوم میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بھی ہے کہ:

أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ((إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ فَإِنَّهُنَّ يَجْتَمِعْنَ عَلَى الرَّجُلِ حَتَّى يُهْلِكْنَهُ))، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ لَهُنَّ مَثَلًا: كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا أَرْضَ فَلاةٍ، فَحَضَرَ صَنِيعُ الْقَوْمِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْطَلِقُ، فَيَجِيءُ بِالْعُودِ، وَالرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْعُودِ، حَتَّى جَمَعُوا سَوَادًا، فَأَجَّجُوا نَارًا، وَأَنْضَجُوا مَا قَذَفُوا فِيهَا (ابن حنبل؛ أحمد بن محمد بن حنبل، أبو عبد الله، الشيباني، المسند، مؤسسة الرسالة، دمشق، 2009، رقم الحديث3818)

’’چھوٹے گناہوں سے بھی اپنے آپ کو بچاؤ، کیونکہ بعض اوقات بہت سے چھوٹے گناہ بھی اکٹھے ہو کر انسان کو ہلاک کر دیتے ہیں اور نبی (ﷺ) نے اس کی مثال اس قوم سے دی جنہوں نے کسی جنگل میں پڑاؤ ڈالا، کھانے کا وقت آیا تو ایک آدمی جا کر ایک لکڑی لے آیا، دوسرا جا کر دوسری لکڑی لے آیا یہاں تک کہ بہت سی لکڑیاں جمع ہوگئیں اور انہوں نے آگ جلا کر جو اس میں ڈالا تھا وہ پکا لیا۔‘‘

لہذا یہ حدیث اصولی طور پر ‘›سدِ ذریعہ›› کے معروف اصول کی اساس بنتی ہے یعنی اسلام اپنےماننے والوں کو نہ صرف حرام سے روکتا ہے بلکہ ایسی مشتبہ چیزوں سے بھی روکتا ہے جن میں مبتلا ہونےسے اس امر کا اندیشہ ہو کہ لوگ  حرام میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ اس اصول کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے جس میں اللہ تعالی بندوں کو حکم دیتے ہیں کہ : ’’ولا تقربوا الزنا‘‘ کہ زنا کے قریب بھی نہ جاؤ ، اس سے مراد زناتو حرام ہے ہی زنا کی طرف لے جانے والے راستے بھی حرام ہیں ان کے بھی قریب نہ جاؤ مبادا تمہیں یہ راستے زنا میں مبتلا نہ کردیں۔

اللہ ہی حاکم ہے اس کے سوا کسی کا حکم نہیں چلنا چاہیے


﴿اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ﴾

’’سن لو! پیدا کرنا اور حکم دینا ’’اللہ‘‘ ہی کا کام ہے ، ’’اللہ‘‘ بہت برکت والا اور سارے جہانوں کا رب ہے۔‘‘(الاعراف:۵۴)

حضرات! اللہ تعالیٰ کے احکم الحاکمین ہونے کے ثبوت اور اس کی حاکمیت کے دلائل جاننے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم ’’اللہ‘‘ کی ذات کا ایک جامع تصور اپنے ذہن میں تازہ کریں ، تاکہ ہمارے ایمان میں تازگی اور ایقان میں پختگی اور ’’اللہ تعالیٰ‘‘ سے تعلق میں وارفتگی پیدا ہو جائے کہ ہم نے اسے کیوں اپنا حاکم ماننا اور ہر حال میں کس لئے اس کا حکم تسلیم کرنا ہے۔ ہم نے اس لیے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کا حکم ماننا ہے کیونکہ وہ صرف ہمارا خالق ، مالک، رازق معبودہی نہیں بلکہ وہ ہمارا بادشاہ اور حاکم بھی ہے ، اس کا فرمان ہے:

﴿ا۟لَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرً﴾ (الفرقان: ۲)

’’اللہ ‘‘ ہی کے لیے زمین وآسمانوں کی بادشاہی ہے، اس نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا اور اس کی بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے، اس نے ہرچیز کوپیدا کیا اور پھراس کی تقدیر مقرر فرمائی۔ ‘‘

﴿فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ﴾ ( یٰس: ۸۳)

’’پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اقتدار ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جانے والے ہو۔ ‘‘

﴿هُوَ اللّٰهُ الَّذِيْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ﴾ ( الحشر: ۲۳)

’’وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ بادشاہ ہے نہایت پاک، سراسر سلامتی والا ، امن دینے والا، نگرانی کرنے والا، اپنا حکم نافذ کرنے پر پوری طرح بااختیار اوربلند و بالاہے ۔‘‘

﴿اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَؒ۰۰۸﴾ ( التین: ۸)

’’کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں؟ ‘‘

اس کے ہر حکم میں حکمت اور خیر خواہی پائی جاتی ہے۔ اس لیے کسی کو اختیار حاصل نہیں کہ وہ لوگوں کو اپنا بندہ بنائے اور ان پر اپنا حکم چلائے۔ لہٰذا انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اسی کا حکم چلنا چاہئے کیونکہ وہ سب سے بڑا حاکم ہے۔

﴿اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ﴾ ( الأعراف:۵۴)

’’بے شک تمہارا رب ’’اللہ‘‘ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیداکیا، پھرعرش پر مستوی ہوا ،وہ رات کو دن پراوڑھاتا ہے جو تیز چلتاہوا، رات کے پیچھے چلاآتا ہے، سورج، چاند اور ستارے ہیں جو اس کے حکم کے تابع ہیں، سن لو! پیدا کرنا اور حکم دینا اللہ ہی کا کام ہے ، اللہ تعالیٰ بڑی برکت والا اور سارے جہانوں کا رب ہے۔‘‘

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو حاکم تسلیم کروانے اور اپنا حکم منوانے کے لئے اپنی قدرت اور خالق ہونے کی بڑی بڑی نشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جس ’’اللہ ‘‘ کا تم نے حکم ماننا ہے وہی تمہارا رب ہے اور اسی نے سات آسمانوں اور زمینوں کو چھ دن میں پیدا کیا پھر اپنی شان کے مطابق عرش پر جلوہ افروز ہوا وہی رات اور دن کے نظام کو چلانے والا اور اسی نے سورج، چاند اور ستاروں کو مسخر کر رکھا ہے۔ لوگو! کان کھول کر سُن لو وہی سب کو پیدا کرنے والا ہے اس لیے حکم بھی اسی کا چلنا چاہئے ۔کیونکہ وہ بڑا برکت والا اور رب العالمین ہے۔

اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات اور اس کے اہم ترین ارکان کا نام لے کر بتلایا ہے کہ یہ میرے تابع اور میرے حکم پر اپنا اپنا کام کر رہے ہیں۔ اے انسان تو اپنے آپ پر غور کر کہ ان کے مقابلے میں تیری حیثیت تو نہایت معمولی ہے جب کائنات کے بڑے، بڑے ارکان میرے حکم پر چل رہے ہیں تو تجھے بھی میرا حکم ماننا چاہئے ۔

 ﴿ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيْرِ﴾ (المؤمن: ۱۲)

’’حکم دینے کا اختیار ’’اللہ‘‘ بزرگ وبرتر کے پاس ہے۔‘‘

یہی بات سیدنا یعقوبu نے اپنے بیٹوں کو اور سیدنا یوسفu نے اپنے قید کے ساتھیوں کو سمجھائی تھی۔

﴿ وَ قَالَ يٰبَنِيَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِيْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ﴾

’’یعقوبuنے فرمایا: اے میرے بیٹو !ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا، میں اللہ کی طرف سے آنے والی تم سے کسی چیز کو ٹال نہیں سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سوا کسی کا حکم نہیں چلتا، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اورلازم ہے کہ بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کیا کریں۔‘‘ ( یوسف:۶۷)

سیدنا یعقوبu کی نصیحت سے معلوم ہوتا ہے کہ ملکِ مصر میں قحط سالی کی وجہ سے امن وامان کا مسئلہ بھی پیدا ہو چکا تھا۔ جیساکہ عام طور پر ایسے حالات میں ہو جایا کرتا ہے۔ اس صورتحال میں گیارہ آدمیوں کا جتھا جو کہ ایک سے ایک بڑھ کر کڑیل جوان اور حسن و جمال کے پیکر تھے۔ ایسے اجنبیوں کو انتظامیہ مشکوک نگاہوں سے دیکھے بغیر نہیں رہ سکتی اور یہ بھی ممکن ہےکہ انتظامیہ نے مصر میں امن و امان برقرا ر رکھنے کے لیے دفعہ 144جیسا کوئی قانون لگا کر رکھا ہو۔ اس صورتِ حال کے پیش نظر سیدنا یعقوب uنے اپنے بیٹوں کو نصیحت فرمائی کہ بیٹا تم وہاں اجنبی اور پردیسی ہو گے۔ اس لیے تمھیں ایک جتھے کی شکل میں ایک ہی دروازے سے داخل ہونے کی بجائے مختلف دروازوں سے شہر میں داخل ہونا چاہیے ۔ یہ میری احتیاطی تجویز ہے ورنہ میرا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے اور اس تجویز پر عمل کرتے ہوئے تمہارا بھی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات پر بھروسہ کرنے والوں کے معاملات آسان کو فرما دیتا ہے ۔

سیدنا یوسفu بے گناہ ہونے کے باوجود پابند سلاسل کر دیے گئے۔ اس حالت میں بھی انہوں نے اپنی دعوت کا سلسلہ جاری رکھا چنانچہ وہ اپنے ساتھیوں کو سمجھاتے ہیں کہ حقیقی حاکم تو اللہ تعالیٰ ہے۔

﴿مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّيْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ ﴾ ( یوسف:۴۰)

’’جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سِوا عبادت کرتے ہو یہ تم نے اور تمہارے باپ دادا نے محض نام رکھ لیے ہیں، سوائے ناموں کے تم کسی کی عبادت نہیں کرتے۔ اللہ نے ان کے بارے کوئی دلیل نہیں اُتاری۔ حکم دینے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اس نے حکم دیاہے کہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو، یہی اصل دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔ ‘‘

سیدنا یوسف u نے اپنے قید کے ساتھیوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ بالآخر اللہ تعالیٰ کا حکم نافذ ہو کر رہتا ہے کیونکہ حکم دینا ’’اللہ‘‘ کا اختیار اور کام ہے۔ یوسف نے دین قیم کے الفاظ استعمال فرما کر قیدی ساتھیوں کو یہ بھی سمجھایا کہ جس کے پاس عقیدۂ توحید نہیں ، اس کے پاس کچھ بھی نہیں بے شک وہ کتناپاکبازاور دیندار ہونے کے دعوے کرتا پھرے۔ حقیقی معبود تو ’’اللہ تعالیٰ ہے۔مگر اکثر اس بات کو جاننے اور ماننے کی کوشش نہیں کرتے۔

﴿وَ اتَّبِعْ مَا يُوْحٰۤى اِلَيْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى يَحْكُمَ اللّٰهُ وَ هُوَ خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ﴾ ( یونس: ۱۰۹)

’’اس کی پیروی کریں جوآپe کی طرف وحی کی جاتی ہے اور صبر کریں یہاں تک کہ ’’اللہ‘‘ فیصلہ کردے، وہ فیصلہ کرنے والوں میں سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔‘‘

﴿وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١ٞ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ﴾ ( القصص: ۷۰)

’’اس ’’اللہ‘‘کے سواکوئی عبادت کے لائق نہیں اوّل ، آخر اس کی تعریف ہے، اور حکم دینے کا اختیار اسی کو ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جانے والے ہو۔ ‘‘

﴿ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ﴾ ( الأنعام: ۶۲)

’’پھر وہ ’’اللہ‘‘ کی طرف لوٹائے جائیں گے جو ان کا سچامالک ہے ۔سن لو! حکم اُسی کا چلتا ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والاہے۔ ‘‘

﴿ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِيْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ اِلَيْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا١ؕ …… فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ﴾ ( الانعام:۱۱۴)

’’کیا میں ’’اللہ‘‘ کے سواکوئی اورحاکم تلاش کروں، جب کہ اس نے تمہاری طرف مفصّل کتاب نازل فرمائی ہے …آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں۔‘‘

﴿وَّ لَا يُشْرِكُ فِيْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا﴾ (الکھف:۲۶)

’’وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔‘‘

اہل لوگوں کو ذمہ داری دینے کا حکم:

﴿اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا﴾ ( النساء: ۵۸)

 ’’یقیناً ’’اللہ ‘‘ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل لوگوں کے حوالے کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو ’’اللہ‘‘ جس کی تمہیں نصیحت کررہا ہے، یقیناً یہ تمہارے لیے بہتر ہے،بے شک ’’اللہ ‘‘ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ ‘‘

اس فرمان میں ہر قسم کی امانتوں کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے جس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ دینی، سیاسی اور انتظامی ذمہ داری بھی اہل لوگوں کو دینی چاہئے کیونکہ جب تک اہل لوگ آگے نہیں ہوں گے اور وہ اپنی ذمہ داری ٹھیک طور پر پوری نہیں کریں گے، قانون کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو اس کے بہتر نتائج نہیں نکل سکتے۔

اہل منصب کو فیصلہ کرتے وقت اپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہئے:

﴿يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِيْنَ يَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا نَسُوْا يَوْمَ الْحِسَابِؒ﴾ ( ص :۲۶)

’’اے داؤدu ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہٰذا لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور اپنے نفس کی خواہش کی پیروی نہ کرنا ۔ وہ تجھے ’’اللہ‘‘ کی راہ سے بھٹکا دے گی جو لوگ ’’اللہ ‘‘کی راہ سے بھٹک گئے ان کو سخت عذاب ہو گا کیونکہ انہوں نے آخرت کے حساب کو فراموش کر دیا ہے۔‘‘

﴿وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِيْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَيْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَ﴾ (المؤمنون: ۷۱)

’’اور اگر حق ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین ،آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا سب تباہ ہو جاتا ،بلکہ ہم ان کو نصیحت کرتے ہیں اور وہ اپنی نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں۔‘‘

عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ، حِبُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ؟» ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ، فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمِ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمِ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَايْمُ اللهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا» (صحيح مسلم، باب قطع السارق الشريف وغيره، والنهي عن الشفاعة في الحدود)

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیںکہ ایک مخزومی عورت نے چوری کی اس صورت حال پر قریش کے لوگ پریشان ہوئے ۔ انہوںنے آپس میں مشورہ کیا کہ اس عورت کے بارے میں اللہ کے رسولe کی خدمت میں کس سے سفارش کروائی جائے انہوں نے سوچا کہ اسامہ بن زید t نبیe کےپیارے ہیں‘ اس کے سوا یہ جرأت کوئی نہیں کر سکتا۔ چنانچہ اسامہt نے آپ سے عرض کی۔ اللہ کے رسولe نے اسامہ t سے فرمایا: کیا تو اللہ کی حدوں میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر تاہے؟ آپ کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ تم سے پہلے لوگ اسی لیے ہلاک ہو ئےکہ ان میں کوئی بڑے طبقے کا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے ۔جب کوئی چھوٹا آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے۔ اللہ کی قسم! اگر محمدe کی بیٹی فاطمہ چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔‘‘

ذمہ دار لوگوں کے ساتھ اختلاف ہو جائے تو

﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِيْلًا﴾ (النساء: ۵۹)

’’اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور ان کی بھی جو تم میں صاحبِ امر ہوں ۔ اگر ان سے کسی معاملے میں اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹائو اگر ’’اللہ ‘‘اور قیامت کے دن پر تمہارا ایمان ہے یہ نتائج کے اعتبار سے بہتر اور بہت اچھا طریقہ ہے۔ ‘‘

﴿وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا﴾ ( الأحزاب: ۳۶)

’’کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں فیصلہ کر دیں تو پھر اُسے اس معاملے میں فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں پڑ جائے گا۔‘‘

﴿اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآىِٕنِيْنَ خَصِيْمًا﴾ ( النساء: ۱۰۵)

’’یقیناً ہم نے آپ کی طرف برحق کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ جو آپ کو ’’اللہ‘‘ نے سیدھا راستہ دکھایا ہے اس کے مطابق فیصلے کریں اور خیانت کرنے والوں کی حمایت کر نے والے نہ ہوجانا۔ ‘‘

﴿اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَحَاكَمُوْۤا۠ اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ يَّكْفُرُوْا بِهٖ١ؕ وَ يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَيْتَ الْمُنٰفِقِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًا﴾ (النساء: ۶۰، ۶۱)

 ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کا دعویٰ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور آپ سے پہلے اُتارا گیا اس کو مانتے ہیں، لیکن وہ اپنے فیصلے طاغوت کے پاس لے جانا چاہتے ہیں حالانکہ انہیں طاغوت کا انکار کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ شیطان چاہتا ہے کہ انہیں دور کی گمراہی میں مبتلا کر دے۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ’’اللہ‘‘ کے نازل کر دہ حکم اور رسول کی طرف آئو تو آپ دیکھیں گے کہ منافق آپ سے کنی کتراتے ہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ کے حکم کو نافذ نہ کرنے والے درجہ بدرجہ مجرم ہوں گے:

﴿وَ مَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ﴾ (المائدة:۴۴)

’’جو ’’اللہ‘‘ کے نازل شدہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں۔ ‘‘

﴿وَ مَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ﴾ (المائدة:۴۷)

’’جو ’’اللہ‘‘ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہ نافرمان ہیں۔‘‘

﴿وَ كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴾

’’ہم نے تورات میں ان کے لیے لازم کردیاتھا کہ جان کے بدلے جان ،آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک ،کان کے بدلے کان ،دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بدلہ ہے،جسے قصاص معاف کر دیا جائے وہ اس کے لیے کفارہ ہے۔ جو ’’اللہ ‘‘ نے نازل کیا ہے اس کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے ظالم ہیں۔ ‘‘(المائدة:۴۵)

قانونِ الٰہی کی برکات:

﴿وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِيْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا يَعْمَلُوْنَ﴾ (المائدة: ۶۶)

’’اگر وہ واقعی تورات اور انجیل نافذ کرتے اور جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے نازل کیاگیا ہے تو ضرور اپنے اوپر سے اوراپنے پائوں کے نیچے سے کھاتے، ان میں سے ایک جماعت سیدھے راستے پر ہے اور بہت سے ان میں بُرے کام کر نے والے ہیں ۔‘‘

﴿وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ﴾ ( الأعراف: ۹۶)

’’اوراگر بستیوں والے صحیح طور پر ایمان لے آتے اور’’اللہ‘‘ سے ڈرتے تو ان پر ہم ضرور آسمان اور زمین سے برکات نازل کرتے، لیکن انہوں نے جھٹلا دیا، ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے انہیں پکڑ لیا کیونکہ وہ بُرے کام کرتے تھے۔ ‘‘

برکت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کسی کی عمر میں برکت پیدا کر دی جائے تو وہ تھوڑی مدت میں ایسے کار ہائے نمایاں سر انجام دے پاتا ہے کہ جس سے لوگ مدت تک استفادہ کرنے کے ساتھ اسے یاد رکھتے ہیں۔ خورد و نوش میں برکت پیدا ہو جائے تو آدمی کے لیے پانی کے چند گھونٹ اور خوراک کے چند لقمے ہی کافی ہو جاتے ہیں۔ اگر برکت اٹھالی جائے تو سب کچھ ہونے کے باوجود آنکھیں سیر نہیں ہوتیں اور پیٹ بھر کر کھانے کے باوجود طبیعت مطمئن نہیں ہوتی اور انواع و اقسام کے کھانے اس کی قوت و توانائی میں اضافہ نہیں کرتے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ الغِنَى عَنْ كَثْرَةِ العَرَضِ، وَلَكِنَّ الغِنَى غِنَى النَّفْسِ (صحيح البخاري، باب الْغِنَی غِنَی النَّفْسِ)

’’سیدنا ابوہریرہtنبیeسے بیان کرتے ہیں کہ آپe نے فرمایا کہ دولت مندی مال کی کثرت سے نہیں بلکہ غنا دل کے استغنا سے حاصل ہو تی ہے۔‘‘

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِقَامَةُ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ، خَيْرٌ مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فِي بِلَادِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ» (رواہ ابن ماجه: باب إقامة الحدود[صحیح])

’’سیدنا عبداللہ بن عمرw بیان کرتے ہیںکہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ‘‘ کی حدود میں سے کسی ایک حد کونافذ کرنا چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے۔‘‘

یاد رہے کہ فصلوں میں سب سے زیادہ چاول کی فصل کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے یہ فصل بھی دس، گیارہ مرتبہ پانی ملنے سے تیار ہو جاتی ہے، چالیس مرتبہ بارش کو اس پر تقسیم کریں اگر ہر موسم میں اتنی بارشیں ہوں تو ملک کی زراعت کس قدر مضبوط اور بجلی کی کتنی بچت ہو گی کہ جس کا اندازہ کرنامشکل ہوجائے۔

سر پر تین بار پانی بہانا

غسل کے بارے بیان

بَاب مَنْ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا .

اس شخص کا بیان جس نے اپنے سر پر تین بار پانی بہایا

34-256- حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَامٍ حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ قَالَ قَالَ لِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِاللهِ وَأَتَانِي ابْنُ عَمِّكَ يُعَرِّضُ بِالْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ كَيْفَ الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَقُلْتُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ ثَلَاثَةَ أَكُفٍّ وَيُفِيضُهَا عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ فَقَالَ لِيَ الْحَسَنُ إِنِّي رَجُلٌ كَثِيرُ الشَّعَرِ فَقُلْتُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْكَ شَعَرًا .

ابونعیم، معمربن یحیی بن سلم، ابوجعفر یعنی امام باقر کہتے ہیں کہ مجھ سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے پاس تمہارے چچا کے بیٹے (حسن بن محمد بن حنفیہ) آئے اور مجھ سے کہا کہ جنابت سے غسل کس طرح (کیا جاتا)؟ میں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ تین چلو لیتے تھے اور اس کو اپنے سر پر ڈالتے تھے پھر اپنے باقی بدن پر بہاتے تھے، تو مجھ سے حسن نے کہا کہ میں بہت بالوں والا آدمی ہوں (مجھے اس قدر قلیل پانی کافی نہ ہوگا) میں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کے بال تم سے زیادہ تھے۔

Narrated Abu Ja›far: Jabir bin Abdullah said to me, Your cousin (Hasan bin Muhammad bin Al-Hanafiya) came to me and asked about the bath of Janaba. I replied, ‘The Prophet uses to take three handfuls of water, pour them on his head and then pour more water over his body. Al-Hasan said to me, ‘I am a hairy man.› I replied, ‘The Prophet had more hair than you

معانی الکلمات

الْجَنَابَةِناپاکی کی حالت میں پیدا ہونے والی ضرورت کو جنابت کہتے ہیں۔
أَكُفٍّکَفٌّ کی جمع معنی ہتھیلی، چلو
يُفِيضُوہ ایک آدمی (پانی) بہاتاہے یا بہائے گا
سَائِرِ جَسَدِهِمکمل جسم، پورا بدن
الشَّعَرِبال

تراجم الرواۃ

1۔نام ونسب:  أبو نعيم، الفضل بن دُكين یہ ان کا لقب ہے جبکہ ان کا نام: عمرو بن حماد بن زهير بن درهم القرشي التيمي الطلحي

کنیت: أبو نعيم الملائي الكوفي

محدثین کے ہاں مقام ومرتبہ:امام ابن حجررحمہ اللہ کے ہاں ثقہ،ثبت اور امام ذہبی کے ہاں الحافظ تھے۔

پیدائش ووفات:130 ہجری میں پیدائش ہوئی اور 218 یا 219ہجری میں کوفہ فوت ہوئے۔

2۔نام ونسب: معمر بن یحی بن سام بن موسی الضبی الکوفی

محدثین کے ہاں مقام ومرتبہ:امام ابن حجر رحمہ اللہ کے ہاں مقبول، امام ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی توثیق کی ہے اور امام ابو زرعہ رحمہ اللہ کے ہاں ثقہ تھے۔

3۔نام ونسب: ابو جعفر محمد الباقر بن علی زین العابدین بن الحسین بن علی بن أبی طالب القرشی الھاشمی المدنی

کنیت: ابو جعفر الباقر

محدثین کے ہاں مقام ومرتبہ:امام ابن حجر رحمہ اللہ کے ہاں ثقہ تھے، امام دارقطنی رحمہ اللہ نے بھی انہیں ثقات میں ذکر کیا ہے۔

پیدائش ووفات:57 ہجری میںپیدائش ہوئی اور 114 ہجری میں فوت ہوئے۔

4۔نام ونسب:  جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کا ترجمہ حدیث نمبر 28 میں ملاحظہ فرمائیں۔

تشریح

اس حدیث سے ثابت ہوتاہے کہ طہارت کم از کم پانی سے حاصل کی جاسکتی ہےجیسا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب رسول الله ﷺ تم سے زیادہ بالوں والے اور زیادہ نظافت پسند بھی تھے، پھر بھی انھوں نے تین دفعہ سر پر پانی ڈالا اور پھر پورے بدن پر پانی بہانا اور اسی مقدار پر اکتفا کیا تو اس سے معلوم ہوا کہ صفائی اور طہارت اتنی مقدار سے ضرور حاصل ہو جاتی ہے۔ اس سے زیادہ پانی پرصفائی کا دارومدار خیال کرنا خود پسندی کی علامت ہے، یا وہم و وسوسہ کی وجہ سے ہے جس کو اہمیت دینا مناسب نہیں۔ (فتح الباري:478/1)

 اس سے معلوم ہوا کہ اموردین کے متعلق واقفیت حاصل کرنے کے لیے علماء سے سوال کرنا چاہیے اور عالم کو چاہیے کہ جواب دینے میں بخل سے کام نہ لے نیز طالب حق کا شیوه یہ ہونا چاہیے کہ جب حق واضح ہو جائے تو اسے قبول کرنے میں حیل و حجت نہ کرے۔ (عمدة القاري:24/3)

 سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا حسن بن محمد کو ابو جعفر کا چچا زاد بھائی کہنا بطور مجاز ہے، کیونکہ وہ دراصل ابو جعفر باقر کے والد زین العابدین کے چچا زاد بھائی ہیں، وہ اس بنا پر کہ زین العابدین سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں۔ اورحسن محمد ابن حنفیہ کے صاحبزادے ہیں اور محمد ابن حنفیہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں گویا سیدنا حسین اور محمد ابن حنفیہ آپس میں پدری بھائی ہیں۔ لہٰذا سیدنا حسن ابو جعفر کے نہیں بلکہ ان کے والد زین العابدین کے چچا زاد بھائی ہیں اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے مجازی طور پر انھیں ابو جعفر کا چچا زاد کہا ہے۔ (فتح الباري:478/1)

 حنفیہ نامی عورت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں جو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد آپ کے عقد میں آئیں، ان کے بطن سے محمد نامی بچہ پیدا ہوا اور وہ بجائے باپ کے ماں ہی کے نام سے زیادہ مشہور ہوا۔ کہتے ہیں کہ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ یزید بن معاویہ کے پاس گزرا، اس بنا پر یا لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کرنا اچھا خیال نہیں کیا تاکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاندانی رقابت قائم رہے۔ واللہ أعلم۔ انہی محمد کے بیٹے حسن ہیں جو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے غسل کے متعلق بحث و تحصیص کرتے ہیں۔

بچوں کا صفحہ

بچوں کا صفحہ

 پیارے بچو!

کیسے ہو امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گےجیسا کہ پچھلی مرتبہ ہم نے پڑھا تھا کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام عراق سے ہجرت کر کے ملک شام اور پھر فلسطین چلے گئے اور وہیں سے لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے لگے ۔

پیارے بچو !اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کا امتحان لیتے ہیں انہیں آزمائش میں ڈالتے ہیں اور جو صبر وشکر سے اس امتحان میں کامیاب ہوجاتے ہیں،وہ اللہ کے مزید قریب ہوجاتے ہیں تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنی بیوی سیدہ ہاجرہ علیہا السلام اور اپنے اکلوتے بیٹے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو مکہ چھوڑ کر آئیں ۔

پیارے بچو اس وقت مکہ بالکل بیابان اور ویران ہوا کرتا تھا جہاں نہ پینے کیلئے پانی دستیاب تھا اور نہ ہی کھانے کیلئے کچھ ہوتا تھا ۔جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی اور بچےکو وادی مکہ میں چھوڑ کر جانے لگے تو ان کی زوجہ محترمہ سیدہ ہاجرہ علیہا السلام نے سوال کیا کہ کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے؟تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جواب میں فرمایا:جی ہاں ،تو سیدہ ہاجرہ علیہا السلام نے کہا پھر ہمیں یقین ہے اللہ ہمیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔باوجود یہ کہ اس وقت وادی مکہ میں نہ کھانا پینا تھا اور اسماعیل علیہ السلام بالکل شیر خوار بچے تھے سیدہ ہاجرہ علیہا السلام کا اللہ تعالیٰ پر مکمل ایمان تھا کہ وہ ہماری حفاظت فرمائیں گے۔

جیسا کہ آپ نے پڑھا کہ اسماعیل علیہ السلام بالکل چھوٹے بچے تھے تو انہوں نے پیاس کی شدت سے رونا شروع کردیا ۔ سیدہ ہاجرہ علیہا السلام سے اپنے بیٹے کا رونا نہ دیکھا گیا اور انہوں نے پانی کی تلاش میں دو پہاڑیوں صفا و مروہ کے چکر لگانے شروع کردیے کہ شاید دور کہیں پانی یا کوئی لوگ نظر آئیں جن سے پانی اور کھانے پینے کیلئے کچھ مل سکے ۔اللہ تعالیٰ کو سیدہ ہاجرہ علیہا السلام کا یہ عمل اتنا پسند آیا کہ سعی صفا و مروہ کو عمرے کا رکن بنا دیا۔

پیارے بچو !اللہ کا خاص کرم ہوا اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی ایڑی کی چوٹ سے زمین سے چشمہ بہہ نکلا جب سیدہ ہاجرہ علیہا السلام نے یہ دیکھا تو وہ بھاگتی ہوئیں آئیں اور پانی کے گرد حلقہ بنا کر کہنے لگیں زمزم زمزم یعنی رک جا رک جا ۔اور تب سے آج تک اس چشمے کو زمزم کہا جاتا ہےپھر پانی دیکھ کر کچھ اور قبائل بھی وادی مکہ میں آگئے اور سیدہ ہاجرہ علیہا السلام کی اجازت سے وہاں رہنے لگے ۔

پھر کچھ عرصہ بعد سیدنا ابراہیم علیہ السلام واپس تشریف لائے اور اللہ کے حکم سے انہوں نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر کعبۃ اللہ کی تعمیر کی۔

پیارے بچو !انبیاء علیہم السلام کے خواب سچے ہوتے ہیں۔ہوا یوں کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کررہے ہیں انہوں نے جب سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو یہ خواب بتایا تو انہوں نے کہا کہ اے پیارے ابا جان جس چیز کا آپ کو حکم دیا جارہا ہے آپ وہ کریں آپ مجھے ان شاءاللہ صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے ۔یعنی اللہ تعالیٰ نے اگر آپ کو مجھے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے تو آپ مجھے ذبح کردیں ۔سیدنا ابراہیم علیہ السلام انہیں گھر سے لے کر چلے اور راستے میں کئی بار شیطان نے بہکانے کی کوشش کی کہ اے ابراہیم تم اپنی اولاد کو یوں ذبح کردوگے جو تمہیں اتنی عزیز ہے مگر شیطان کو ہمیشہ ناکامی ہوئی ۔اور جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کیلئے لٹایا اور چھری چلانے لگے تو اللہ کے حکم سے اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ایک مینڈھا آگیا  اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْيَا اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ۰۰۱۰۵

بلاشبہ تونے خواب کو سچ کر دکھایا ہے….الخ (الصافات:105)

اور ہم اسی واقعے کی یاد میں عید الاضحیٰ کے موقع پر اللہ کی راہ میں جانور قربان کرتے ہیں۔

پیارے بچو !سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سیرت کا جتنا مطالعہ کیا جائے ہمیں توحید اللہ پر مکمل ایمان اور شرک سے بیزاری کی تعلیمات ملتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں شرک سے بچے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور توحید کی محبت عطا فرمائے تاکہ ہم بھی اللہ کے دوستوں میں شامل ہوجائیں۔

سوالات

کیا انبیاء کے خواب سچے ہوتے ہیں ؟

سیدنا ابراہیم علیہ السلام شیطان کے جھانسے میں کیوں نہ آئے؟

صفا و مروہ کہاں واقع ہیں؟

ہمیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سیرت سے کیا سمجھنے کو ملا؟

پاکستان اسٹڈیز سینٹر جامعہ کراچی کے تاثرات

پاکستان اسٹڈیز سینٹر جامعہ کراچی کے تأثرات

جامعہ کراچی کے اسٹوڈنٹس کا پروجیکٹ سپروائزر سینئر استاذ پروفیسر جناب محمد عمار صاحب کے ہمراہ 7 نومبر 2022ء بروز پیر کو کراچی شہر کے معروف دینی علمی، دعوتی اور اصلاحی ادارے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کا وزٹ ہوا۔ جامعہ کراچی کے اسٹوڈنٹس (محمد عالمگیر، امامہ، ام لیلیٰ ، صائمہ، حنا بتول) نے یونیورسٹی کی طرف سے دیئے گئے پروجیکٹ بعنوان’’ کراچی کی تعلیمی،معاشرتی وسماجی، معاشی اور سیاسی ڈیویلپمنٹ میں مدارس کا کردار‘‘ پر ریسرچ اور تحقیق کے سلسلے میں کراچی شہر کے معروف دینی ادارے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کا وزٹ کیا جو کہ بین المسالک ہم آہنگی کے سلسلے میں مختلف مکاتب فکر کے مدارس کا وزٹ کرنے کی ایک کڑی ہے۔اس سلسلے میں کراچی یونیورسٹی کی طرف سے چند منتخب مدارس کی خدمات کا تحقیقی وعلمی جائزہ لینے کے لیے طلبہ کو یہ پروجیکٹ دیاگیا جس میں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی بھی شامل ہے۔ منتخب اداروں پر ریسرچ ورک مکمل کرکے HECمیں مقالے کی صورت میں پیش کیا جائے گا۔ نیز اس پروجیکٹ میں مدارس کی خدمات وکردار کو اُجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ مدارس پر اٹھنے والے اعتراضات کے ممکنہ جوابات کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگی۔ ان شاء اللہ

اس وزٹ کے فیڈ بیک میں شرکاء کے تأثرات:

ہماری توقعات سے بڑھ کر جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے حضرات کی جانب سے تعاون شامل حال رہا ہے، مطالعاتی دورے کی اجازت مرحمت فرمانے اور پینل ڈسکشن میں مدعو ادارے کی نامور علمی شخصیات کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنے کا موقع عنایت فرمانے پر ہم مدیر الجامعہ فضیلۃ الشیخ جنا ب ضیاء الرحمن المدنی صاحب اور دیگر معزز اراکین ( ڈاکٹر مقبول احمد مکی صاحب، ڈاکٹر محمد طاہر آصف صاحب، ڈاکٹر محمد افتخار شاہد صاحب ، ڈاکٹر فضل الرحمن صاحب ،الشیخ خالد حسین صاحب) اور اساتذہ کرام بالخصوص محترم ومکرم شیخ الحدیث ابو عمر محمد یوسف صاحب اور مؤسس الجامعہ فضیلۃ الشیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ کے دیرینہ رفیق کار محترم قاری عبد الرشید صاحب مدظلہ کے تہہ دل سے شاکر وممنون ہیں جنہوں نے اپنا قیمتی وقت نکال کر ہمارے بہت سے تنقیدی اور چبھتے ہوئے سوالات کے انتہائی احسن پیرائے میں تسلی بخش جوابات دیئے اور اپنی صحبت میں بیٹھنے کا موقع عنایت فرمایا۔ باہم مل بیٹھ کر بات چیت کرنے سے بہت سارے اشکالات الحمد للہ رفع ہوگئے، ان حضرات کی شفقت اور محبت کی وجہ سے ہماری خوشیوں کی انتہا نہ رہی، ہمارے لیے خاطر تواضع اور ریفریشمنٹ کا بہترین انتظام تھا۔

وزٹ کے حوالے سے جتنے بھی انتظامات اور کمیونیکیشن کا سلسلہ تھا اس میں مولانا ڈاکٹر مقبول احمد مکی صاحب کا شروع سے آخر تک بھرپور تعاون رہا۔

جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کی انتہائی معزز اور علمی شخصیت ڈاکٹر محمد طاہر آصف صاحب نے بھی ابتداء ہی میں پریزنٹیشن دی جس میں ادارے کے اغراض ومقاصد اور خدمات پر بہترین انداز میں روشنی ڈالی گئی۔

ڈاکٹر صاحب کا انداز بیان اس قدر جامع تھا کہ ہم طلبہ کے 90 فیصد سوالات پریزنٹیشن کے ذریعے سے ہی حل ہوگئے تھے۔

پریزنٹیشن کے اختتام پر طلبہ کے سوالات کے جوابات بھی بہت عمدہ انداز سے دیئے۔ ہم ڈاکٹر صاحب کی علمی صلاحیتوں اورخدمات سے بہت مستفید ہوئے۔

ادارے کی معزز شخصیات نے ہماری ٹیم کو پورے ادارے کا وزٹ کروایا اور ساتھ ساتھ تعلیمی وانتظامی شعبوں کا تعارف بھی پیش کیا۔ ہمیں صفائی ستھرائی اور نظم ونسق کے حوالے سے ادارے کا ماحول بہت پسند آیا، یہاں کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں کے اساتذہ کرام میں 9 عدد اعلیٰ تعلیم یافتہ Ph.D پانچ(5) عدد اساتذہ کرام ایم فل کرکے Ph.D میں انرولڈ ہوچکے ہیں جو کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں ۔اسی طرح سے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے ایک اسکول میں دو Ph.D اساتذہ کرام خدمات سرانجام دے رہے ہیں حالانکہ اسکولوں میں عموماً Ph.D اساتذہ نہیں ہوتے۔

دوسری اہم بات یہ کہ اس ادارے کی تأسیس عرب ممالک کے جامعات کے طرز پر ہے جس کی وجہ سے جامعہ ہذا میں پڑھنے والے طلبہ کو مکمل عربی زبان کا ماحول فراہم کیاجاتاہے مکمل نصاب عربی زبان میں پڑھایا جاتاہے۔جس نہج پر مدرسہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے بانی مبانی فضیلۃ الشیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے قائم کیا تھا انہی بنیادوں پر یہ تحریک ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ پاکستان میں عربی زبان کو ترقی دینے میں اس ادارے کا اہم کردار ہے جس کی وجہ سے یہاں کے فارغ التحصیل فضلاء کے لیے عرب ممالک میں خدمات کے مواقع کہیں زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ (اللہ تعالیٰ اس ادارے کے بانی کو غریق رحمت کرے، درجات بلند فرمائےاور ان کے ادارے کی خدمات کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین)

تیسری اہم بات یہ ہے کہ مدرسہ ہذا میں رنگ ونسل،قوم قبیلہ، مختلف مسالک کے طلبہ اور عام وخاص کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہے۔ مدرسہ میں دینی ودنیوی تعلیم مفت دی جاتی ہے اور مزید برآں کہ اپنے فضلاء کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے مدینہ یونیورسٹی ودیگر جامعات میں اسکالر شپ پر بیرون ملک بھی بھیجا جاتاہے۔

دور دراز کے بچوں کے لیے بہترین ہاسٹل کا انتظام ہے جہاں رہ کر وہ بآسانی اپنی تعلیم مکمل کر سکتے ہیں۔ عظیم الشان لائبریری بھی قائم ہے، جس میں جدید وقدیم علوم وفنون جن میں تفسیر،اصول تفسیر، حدیث، اصول حدیث، اسماء الرجال، فقہ، اصول فقہ، تاریخ وسیر وغیرہ دیگر موضوعات پر مشتمل الحمد للہ ساٹھ (60) ہزار سے زیادہ کتب کا علمی خزانہ موجود ہے۔ یہ عظیم الشان مکتبہ علوم وفنون کا ایک بحر ذخّار ہے۔ لائبریری تک طلبہ اور عام خواتین کی رسائی کا بھی بہترین اور باپردہ انتظام ہے۔

جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے بہت سارے رفاہی کام بھی ہیں، مثلاً: سیلاب زدگان کی خدمات کے حوالے سے،مساکین وبیوہ گان ودیگر مستحقین افراد کی مدد کرنے میں بھی جامعہ ابی بکر الاسلامیہ پیش پیش ہے۔

ڈاکٹر مقبول احمد مکی صاحب کا دل جیت لینے والا بیان

یہاں دیگر مسالک کے ساتھ کوئی تصادم کی کیفیت نہیں ہے، کوئی زبردستی نہیں بلکہ ایک قومی وملی جذبہ کے تحت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لائے ہوئے دین پر عمل کرنا ہی ایک مسلمان کے شایان شان ہے۔ ایک قومی وملی جذبہ کے تحت ملک اور خاص کر شہر کراچی کی تعمیر وترقی چاہتے ہیں۔ چاہے وہ تعلیمی ہو،معاشی ہو، معاشرتی ہو یا سیاسی۔ حکومت وقت کی تائید اور ان کے اچھے کاموں کی تعریف وحوصلہ افزائی اور خامیوں پر ان کی احسن طریقے سے اصلاح اور حکمرانوں کے لیے خیرخواہی، نیک تمنائیں اور ریاست کے قوانین کی پاسداری، ملکی وقومی امن وامان اس ادارے کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔

اللہ تعالیٰ انتظامیہ اور اساتذہ کرام جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کی دینی علوم، رفاہی اورملی وقومی خدمات کو قبول فرمائے، مقاصد حسنہ میں کامیاب فرمائے اور روزافزوں ترقی عطا فرمائے اور دین اسلام کی سربلندی،نشرواشاعت اور اعزاز کا ذریعہ بنائے ۔ جامعہ ہذا کے مؤسس اور اساتذۂ عظام کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین

15 قرآنِ کریم کی اُصولی باتیں قسط

ستائیسواں اصول:

وَمَنْ تَزَکّٰی فَاِنَّمَا یَتَزَکّٰی لِنَفْسِہٖ (فاطر:۱۸)

’’اور جو بھی پاک ہو جائے وہ اپنے ہی نفع کے لیے پاک ہو گا ۔‘‘
قرآن حکیم کے اس اصول کا بہت اونچا مقام ہے‘ کیونکہ اس کا بندے کی زندگی پر گہرا اثر ہے‘ اور اِس کاجسم کے اُس ٹکڑے (دل ) کے ساتھ بھی گہرا تعلق ہے‘ جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایاہے کہ اس ٹکڑے کا ٹھیک ہونا سارے جسم کا ٹھیک ہونا ہے اور اس کی خرابی سارے جسم کی خرابی ہے ۔
جب لفظ ’’تزکیہ‘‘ عمومی طور پر بولا جائے تو اس سے دو معنیٰ مراد لیے جاتے ہیں :
پہلا معنیٰ: دونوں قسم کی طہارت ہے‘ ظاہری اور معنوی۔ ظاہری طہارت سے مراد ہے مثلاًکپڑے کی میل کچیل سے پاکیزگی ‘اور معنوی طہارت سے مراد ہے مثلاًقلبِ ایمان اور نیک اعمال کے ذریعے پاکیزگی۔
دوسرا معنیٰ: مراد ہوتاہے اضافہ‘ یعنی جب مال میں اضافہ ہو تو اسے مال میں ’’زکاۃ‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔
یہ دونوں لغوی معنیٰ شریعت کا منشا ہیں۔ اس لیے کہ’’ تزکیہ نفس‘‘سے یہ دونوں معنیٰ مراد ہیں‘ یعنی بندے کو ظاہری اور معنوی ہر طرح کی میل کچیل اورنجاست سے پاک کرنا اور اسے قابلِ تعریف اور فاضل اخلاق کے ذریعے ترقی دینا اور مزین کرنا۔ چنانچہ مؤمن کو حکم ہے کہ اپنے آپ کو برے اخلاق مثلاًریاکاری‘ تکبر ‘ جھوٹ ‘ ملاوٹ‘ دھوکہ بازی‘ چکربازی‘ نفاق اور اس طرح کے دوسرے گھٹیا اخلاق سے محفوظ رکھے۔اور یہ بھی حکم ہے کہ اچھے اخلاق مثلاًسچ‘ اخلاص ‘تواضع‘ نرم خوئی اوربندوں کے حق میں خیر خواہی جیسے اخلاق کو اپنائے ‘ نیز دل کو کینہ‘ بغض اورحسد جیسے رذائل اخلاق سے پاک رکھے‘ کیونکہ دل کی پاکیزگی کا فائدہ اسی کو ہو گا ۔ انجام کار کابھی اسی کو فائدہ پہنچے گا اور اس کا کوئی عمل ضائع نہیں ہوگا۔
اسی معنی کو بیان کرنے کی خاطرقرآنِ کریم کی وہ آیات نازل ہوئی ہیں جن میں نفس کی پاکیزگی اور اسے سنوارنے کاحکم دیا گیا ہے‘ فرمایا:

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی وَذَکَرَاسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی (الاعلیٰ14۔15)

’’بے شک اُس نے فلاح پا لی جو پاک ہو گیا‘ اور جس نے اپنے رب کانام یادرکھا اور نماز پڑھتا رہا‘‘۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا(الشمس9۔10)

’’اور جس نے اسے (اپنے نفس کو)پاک کر لیا وہ کامیاب ہوگیا۔ اور جس نے اسے خاک میں ملا دیا وہ ناکام ہوا‘‘۔ اور جس اصول پر ہم گفتگو کر رہے ہیں اس میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے۔فرمایا:

وَمَنْ تَزَکّٰی فَاِنَّمَا یَتَزَکّٰی لِنَفْسِہٖ  (فاطر:۱۸)

’’اور جو بھی پاک ہو جائے وہ اپنے ہی نفع کے لیے پاک ہو گا‘‘۔ جو شخص بھی قرآنِ کریم کی آیات پر غور کرے گااُسے معلوم ہو گا کہ قرآنِ کریم میں تزکیہ نفس کے موضوع کو بڑا خاص مقام دیا گیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ قرآن ِ کریم میں ایک جگہ پر سب سے زیادہ قسموں کی تعداد گیارہ ہے اور اُن سب کا موضوع تزکیہ نفس ہے۔ اور یہ بات ’’سورۃ الشمس‘‘ کے شروع میں آئی ہے ۔
قرنِ کریم کا یہ اصول: وَمَنْ تَزَکّٰی فَاِنَّمَا یَتَزَکّٰی لِنَفْسِہٖ (فاطر:۱۸) ’’اور جو بھی پاک ہو جائے وہ اپنے ہی نفع کے لیے پاک ہو گا ۔‘‘ کھلے لفظوں میں کہہ رہا ہے کہ تزکیہ کا سب سے پہلا فائدہ خود تزکیہ کرنے والے کو ہے اور اس آیت کے مفہوم میں ایک دھمکی بھی شامل ہے کہ اے اللہ کے بندے!اگر تو تزکیہ نہیں کرتا تو تزکیہ نہ کرنے کا سب سے بڑا نقصان بھی تجھی کو ہو گا۔
اگرچہ اس اصول کا مخاطب ہر وہ مسلمان ہے جو اِسے سن رہا ہے ‘ البتہ ایک عالم وواعظ اور طالب علم کا حصہ زیادہ اوربڑا ہے ‘ اس لیے کہ لوگوں کی نظر یں جلد ہی اُس کی طرف اٹھ جاتی ہیں‘ اسے غلطی کرنے کا نقصان زیادہ ہوتا ہے اور اس پر تنقید بھی سخت ہوتی ہے۔ واجب تو یہ ہے کہ عالم کی گفتگو اورخطاب سے پہلے اُس کی سیرت وکردارہی لوگوں کو عمل کی دعوت دے ۔
دین میں تزکیۂ نفس کے عظیم مقام کی وجہ سے جن ائمہ اور علماء نے عقائد کے موضوع پر لکھا ہے‘ انہوں نے مختلف عبارتوں کے ذریعے تزکیہ نفس پر بڑا زور دیا ہے۔ ائمہ دین نے اس بات کو بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے‘ اس لیے کہ اعتقاد اور کردار کے درمیان بڑا گہرارشتہ ہے ‘ کیونکہ ظاہری کردار باطنی اعتقاد کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ظاہری کردار میں کسی قسم کا ٹیڑھ باطنی ایمان میں کمی کی دلیل ہوا کرتا ہے۔ ثابت ہوا کہ کردار اور اعتقاد آپس میں لازم وملزوم ہیں۔ اسی لیے اخلاق وکردار کی بہت ساری باتیں ایمان کے شعبوں میں داخل ہیں۔
جب لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ تزکیہ نفس کا معاملہ آسان اور ہلکا ہے توبہت ساری متضاد شکلیں سامنے آئیں اور علم وعمل میں دوری پیدا ہو گئی۔
اس قرآنی اصول پرگفتگو کرتے ہوئے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے آپ کا تزکیہ کیسے کریں؟اس سوال کا جواب تو بہت طویل ہے‘ لیکن میں اختصار کے ساتھ تزکیہ نفس کے اہم ذرائع کا ذکر کیے دیتا ہوں:
٭اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لانا اور اس کے ساتھ گہرا لگاؤ پیدا کرنا۔
٭اہتمام کے ساتھ قرآنِ حکیم کی تلاوت کرنا اوراس پر غور وفکر کرنا۔
٭کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا۔
٭فرض نمازوں کی پابندی کرنا‘ نیزنمازِ تہجد کا اہتمام کرنا‘ خواہ تھوڑا ہی ہو سکے۔
٭گاہے بگاہے اپنی ذات کا خود محاسبہ کرنا۔
٭بندے کے دل میں آخرت کی یاد کا زندہ رہنا۔
٭موت کو یادرکھنااور قبرستان کی زیارت کو جانا۔
٭نیک لوگوں کی سیرت کا مطالعہ کرنا۔
دوسری طرف یہ بھی دھیان رہے کہ عقل مند وہ ہے جو اُن راستوں کو بند رکھتا ہے جہاں سے مذکورہ بالا وسائل ِ اصلاح کے نتائج کو نقصان ہوتا ہو۔اس لیے کہ دل کے مقام پر جاکر وسائل ِ اصلاح اور وسائل ِ فساد اکٹھے ہو جاتے ہیں اور اُن کوعلیحدہ علیحد ہ رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ لہٰذا اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ انسان وسائل ِ اصلاح کا اہتمام کرے‘ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وسائل ِ فساد سے بھی بچتا رہے‘ مثلاً:حرام چیزوں کی طرف دیکھنا‘ حرام مواد سننا‘ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ باتیں تو دور کی بات ہے‘ غیر متعلقہ‘ لغوباتوں سے بھی اپنی زبان کو محفوظ رکھنا۔

دین اور مذہب میں تفریق

اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر ﷺ کو دین اسلام دے کر اس دنیا کی طرف بھیجا اسلام وہ دین ہے جو کامل اور مکمل ہے، جس کی ہر آیت اور ہر حکم روز روشن کی طرح واضح ہے اس دین میں کسی قسم کی کوئی کجی نہیں ہے۔
یہ دین دنیاکے تمام ادیان پر غالب ہونے کے لیے بھیجاگیا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ:

لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ (الصف:9)

’’تاکہ اسے اور تمام مذاہب پر غالب کر دے ‘‘
الدین: کے معنی ہے ملت، حالت، عادت اور سیرت۔کسی خاص ملت، حالت، عادت اور سیرت اختیار کرنے کو دین کہا جاتاہے۔امام الجرجانی رحمہ اللہ نے دین، ملت اور مذہب کے یہ معنی بیان کیے ہیں:

أن الدين منسوب إلى الله تعالى، والملة منسوبة إلى الرسول، والمذهب منسوب إلى المجتهد(التعريفات (ص: 106)

’’دین کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کی جاتی ہے ، ملت کی نسبت رسول اللہ کی طرف اور مذہب کی نسبت مجتہد کی طرف ہوتی ہے‘‘
اللہ تعالی کا قرآن مجید میں ارشاد ہے:

اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ(آل عمران:19)

’’بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہے ‘‘
اس دین اسلام کو آپ ﷺ نے سراسر خیر خواہی کانام دیا ہے۔
الدین النصیحۃ(مسلم)دین سراسر خیر خواہی ہے۔
دین اسلام پر عمل کرنا اور اس کے احکام کے مطابق اپنی زندگی گزارنا ہم سب مسلمانوں کے لیے لازمی ہے ،کہ اللہ اور اس کے رسول کے دین پر عمل پیر اہوںاور اللہ تعالی اس دین کے علاوہ دوسرے ادیان پر عمل کرنے والوں کا کوئی بھی عمل قبول نہیں فرمائےگا اور جولوگ اس دین اسلام کو چھوڑ کر دوسرے ادیان پر عمل کرتے ہیں اور دوسرے ادیا ن کے مطابق زندگی بسر کرنے والے لوگ آخرت میں ناکام اور نامراد ہوں گے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ:

وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ ۚ وَھُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ(آل عمران:85)

’’جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ

کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا‘‘
آپ ﷺ کا فرمان ہے:

تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ، لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ(موطأ مالك ت عبد الباقي (2/ 899)

’’میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جب تک ان دونوں کو تھامے رہو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری سنت ‘‘
ہمیں چاہیے کہ ہم دین اسلام پر ثابت قدمی سے عمل کریں۔مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے مذہب کو وہ اہمیت اور حیثیت دے دی ہے جو دین کو دینی چاہیے تھی جب کہ مذہب صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی مگر دین اسلام ہر حال میں صحیح اور باعث اجرو ثواب ہی ہوتا ہے۔
حق اور سچ کی راہ ایک ہی ہوتی ہے اکثر اسلامی ممالک میں یہ مذاہب رائج ہیں شافعی مذہب ، مالکی مذہب، حنبلی مذہب، حنفی مذہب اور اہل تشیع۔
ان مذاہب کے علاوہ کچھ دوسرے مذاہب بھی تھے جیسے سفیان الثوری کا مذہب، سفیان بن عیینہ کا مذہب، امام اوزاعی کا مذہب، اور ابو داؤد الظاہری کا مذہب۔ان مذاہب میں سے اول الذکر مذاہب اب تک اس دنیا میں رائج ہیں، ان مذاہب کو عوام اور علماء نے نجات کا ذریعہ سمجھا ہوا ہے اس لیے ان مذاہب کے پیرو کاروں نے اپنے اپنے مذہب کو مضبوطی سے تھام لیا ہے اور مؤخر الذکر مذاہب اس دنیا میں رائج نہیں ہیں کیونکہ ان کو کسی حاکم کی سرپرستی نصیب نہیںہوئی اس لیے یہ مذاہب قصہ پارینہ ہوگئے۔اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا حق چار یا پانچ ہوسکتے ہیں یا حق ایک ہی ہوتاہے؟؟؟
اگر حق ایک ہی ہوتا ہے تو باقی مذاہب کے متعلق کیا کہا جاسکتا ہے؟ اگر حق چارہویا پانچ ہوسکتے ہیں تو پھر ایک مسئلہ ایک مذہب کے نزدیک سنت کیوں اور وہی مسئلہ دوسرے مذہب کے نزدیک خلاف سنت کیوں ہوتاہے؟ اس کی مثال ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک تصور کی جاتی ہیں، کیا دین اتنا متضاد ہوسکتاہے؟ جب کہ دین اسلام کامل اور مکمل ہونے کی گواہی خود اللہ تعالی نے دی ہےکہ

اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا(المائدہ:3)

’’ آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپناانعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔ ‘‘
مذہب نقص اور عیب سے پاک نہیں ہوتا اور نہ ہی مذہب دین کی طرح کامل اور مکمل ہوتاہے، اس کی مثال یہ ہے کہ مذہب حنفی بینکنگ کے نظام کے متعلق ہماری رہنمائی نہیں کرتا بلکہ احناف نے بینکنگ کا نظام حنبلی مذہب سے لیا ہے اس سے دین اور مذہب کا فرق واضح ہوجاتا ہے۔دین مکمل اس لیے ہےکہ یہ اللہ تعالی کا بھیجا ہوا ہے اس لیے نقص اور عیب سے پاک ہے اور مذہب وقت کے علماء اور مجتہدین کے اجتہاد کا نام ہے۔مجتہدین کا اجتہاد کبھی صحیح بھی ہوتا ہے اور کبھی غلط بھی،اور ایک مجتہد کی رائےدوسرے مجتہد کی رائے کے برعکس بھی ہوتی ہے۔کیونکہ ہر ایک کی سوچ اور فکر کا زاویہ مختلف ہوتاہے۔
اور علم تک رسائی میں بھی فرق پایا جاتا ہے ان باتوں کا عملی ثبوت یہ مذاہب اور مختلف آراء ہیں جوہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں اور اسی طرح ہمارے لیے مذاہب پر عمل کرنا لازمی نہیں ہے بلکہ ہمارے لیے یہ لازمی ہے کہ ہم اسلام پر عمل کریں۔اگر احناف بینکاری کا نظام حنبلی مذہب سے لیتے ہوئے گناہ گار نہیں ہوتے تو اس کے علاوہ دوسرے مسائل لیتے ہوئے کیوں کر گناہ گار ہوسکتے ہیں؟اگر کوئی شخص حنفی مذہب چھوڑ کر شافعی مذہب اختیار کرتاہے تو ایسا کرنا دلیل کی بنیاد پر اس کے لیے نہ صر ف جائز ہے بالکل یہی مطلوب ہے۔
شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’الانصاف‘‘ میں لکھتے ہیںکہ:’’یہ جان لیں کہ پہلی اور دوسری صدی میں لوگ کسی معین مذہب کے مقلد نہیں تھے‘‘
مذاہب کو لازمی پکڑنا اس امت کے کسی امام سے ثابت نہیں بلکہ چاروں مذاہب کے ائمہ نے کسی مذہب کو مضبوطی سے پکڑلینے اور اس پر عمل کرنے سے منع کیا ہے۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’کسی بھی شخص کے لیے ہمارے قول سے استدلال کرنا جائز نہیں جب تک وہ یہ نہ جانتاہوکہ ہم نے اسے کہاں سےلیا ہے؟ ایک اور روایت میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیںکہ :’’جو شخص میری دلیل نہ جانتا ہواس پر میرے کلام سےفتوی دیناحرام ہےکیونکہ ہم انسان ہیں آج ایک بات کہتے ہیں توکل اس سے رجوع کر لیتے ہیں‘‘
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیںکہ:’’میں انسان ہوں کبھی صحیح کو پہنچتاہوں تو کبھی خطا کرجاتاہوں اس لیے میری بات پر نظر ڈالو اور اس میں سے جو بھی کتاب وسنت کے موافق ہو اسے لے لو اور جوبھی کتاب وسنت کے موافق نہ ہو اسے چھوڑدو‘‘
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیںکہ: ’’تمام مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ جسے رسول اللہ ﷺ کی کوئی سنت معلوم ہوگئی تو اس کے لیے جائز نہیں ہےکہ وہ کسی قول کی وجہ سے سنت کو چھوڑ دے‘‘ اور فرمایاکہ:’’اگرمحدثین کے یہاں کوئی حدیث صحیح سند سے ثابت ہواور میری بات کےمخالف ہو تو میں اپنی بات سے زندگی میں اور موت کے بعد رجوع کررہا ہوں‘‘
امام احمدبن حنبلhفرماتے ہیںکہ:’’تم لوگ میری تقلیدکرو نہ مالک کی نہ شافعی کی نہ اوزاعی کی اور نہ ثوری کی بلکہ تم بھی اس جگہ سے لو جہاں سے انہوں نےلیا ہے‘‘
ائمہ مذاہب کے اقوال سے یہ ثابت ہوتا ہےکہ کسی خاص مذہب اور کسی خاص امام کی تقلید کرنا جائز نہیں ہے۔ان ائمہ کے اقوال کے ہوتے ہوئے بھی احناف ، شافعیہ ، مالکیہ نے کس دلیل کی بنیاد پر ان ائمہ کے اقوال اور فتوی کو مذہب بنالیاہے۔ان کے مذہب بنانے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ مذکورہ اقوال ان ائمہ کے نہیں ہیں بلکہ ان کی طرف منسوب کردیے گئے ہیں اگر یہ اقوال ان ائمہ کے ہیں تو یہ مذاہب کیسے وجود میں آئے؟
’’مذہب‘‘ دین اسلام کے ماہر علماء اور فقہاء کی فکر اور رائے کا نام ہے۔ان علماء اور فقہاء نے کسی دینی مسئلے میں غور وفکر کے بعد جو رائے پیش کی ہے یہی رائے آگے جاکر ایک مستقل مذہب بن گیا۔اسی لیے مذاہب اربع کی اصطلاح عام ہوگئی۔ہر مذہب اپنا فقہی مسئلہ بتاتے وقت یہ کہنے لگا کہ اس مسئلے میں ہمارا مذہب یہ ہے۔اگر نیک نیتی سے غور کیا جائےتو یہ صرف ایک رائے تھی جو کسی امام نے دی ہے۔بعد میں یہ رائے ایک مستقل مذہب بن گیا اور امام کی طرف اس رائے کو منسوب کرکے اس پر سختی سے عمل کرنا ، کیا یہ معقول بات ہے؟اور کیا یہ اس امت کے حق میں فائدہ مند عمل ہے؟دین اللہ تعالی کا دیا ہوازندگی گزارنے کا ایک طریقہ ہے اور مذہب کسی مجتہد کی رائے اور فکر اپنا نے کا نام ہے دین ایک مقد س شے ہے اور مذہب میں بہر حال معصومیت نہیں ہے اس میں کہیں نہ کہیں خطا اور غلطی کا امکان ضرور پایا جاتا ہے۔
دین کی طرف نسبت کرنا قرآن اور سنت کا مطالبہ ہے اور مذہب کی طرف نسبت کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ اکابرین کے نظریہ اور رائے میں غلو کرنا یا ان کی آراء پر سختی سے عمل کرنا ’’مذہب‘‘ کہلاتاہے۔دین کی پیروی کرنا فرض ہے اور اس کی پیروی سے انکار یا روگردانی کرنا کفر ہے اور اگر کوئی شخص کسی مذہب کا انکار کرتاہے یا مذہب کی کسی رائے پر عمل نہیں کرتاتو بہر حال مسلمان ہی رہے گا کیونکہ مذہب ایک فرد کی رائے اور سوچ پر سختی سے چمٹ جانے کا نام ہے اور مسلمان سے یہ مطلوب نہیں ہے۔انسان جب پیدا ہوتاہے تو وہ اپنی فطرت کے مطابق آزاد پیدا ہوتاہے یہ کسی مذہب اور مسلک پر پیدا نہیں ہوتا بلکہ پیدائشی طور پر انسان مؤحد اور توحیدپرست پیدا ہوتا ہےکیونکہ اللہ تعالی نے اس انسان کو پیدا کرنے کے بعد اس سے اپنے رب ہونے پر عہد لیا تھاکہ :

أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا(الأعراف: 172)

’’ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ‘‘
اللہ تعالی نے تمام انسانوں سے یہ عہد لیا تھا اور سب نے مل کر یہ اقرار کیا تھا یہ اقرار توحید کا اقرار اور اپنے بندے ہونے کا اقرار تھا۔انسان اس دنیا میں آخر کسی خاص مذہب اور کسی خاص مسلک کا پیروکار بننے پر مجبور ہوجاتا ہے اس کا معاشرہ اس کو ایساکرنے پر مجبور کرتاہے، کیونکہ اس کے آس پاس رہنے والے کسی نہ کسی مسلک کے پیروکار ہوتے ہیں اس کے گھر والے اس کے والدین اس کے دوست احباب اس کے اساتذہ اس کے محلے کی مسجد کا امام اس لیے اس کو ان تمام لوگوں کامذہب اور مسلک ، اصل دین معلوم ہوتاہے۔مسجد میں اس کو جو پہلا درس دیا جاتاہے وہ بھی کسی نہ کسی مذہب اور مسلک کا درس ہوتاہے اس لیے یہ اس سے زیادہ سوچنا بھی گوارہ نہیں کرتااور یہ مذہت کے متعلق سوال وجواب کو گنا ہ تصور کرتاہے کیونکہ اس کو اس معاشرے نے یہی سکھایا اور جو معاشرے نے اس کو سکھایا ہے یہ اسی کو دین سمجھ بیٹھاہے۔
نبی کریم ﷺ فرمایا:

كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ(صحيح البخاري (2/ 100)

’’ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پس اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں‘‘
فطرت سے مراد یہ ہے کہ یہ انسان پیدا ہونے سے پہلے جو اللہ تعالی سے وعدہ کرکے آیا تھا ، اس وعدے پر کاربند رہتا مگر اس کا معاشرہ اور اس کے والدین وہ وعدہ وفا کرنے میں حائل ہیں اور یہ اس معاشرے کا جو مذہب اور مسلک ہے وہی اس کا مسلک اور مذہب بن جا تا ہے۔فقہاء کا یہ اصول ہے کہ:’’عام آدمی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اس کا مذہب وہی ہوتاہے جو ا س کو فتویٰ دیتا ہے‘‘ اگر فتوی دینے والاحنفی ہے تو یہ بھی حنفی ، شافعی ہے تو یہ بھی شافعی ، مالکی ہے تو یہ بھی مالکی اور اگر حنبلی ہے تو یہ بھی حنبلی بن جاتاہے۔جبکہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ اور ہمارا ملک حنفی ہے جوکہ حقیقت کے برخلاف ہے۔کیونکہ کسی شخص نے ان مذاہب میں سے کسی ایک مذہب میں اپنی رجسٹری نہیں کروائی بلکہ ایک عام آدمی کا مذہب وہ ہے جو مسجد کے مولوی صاحب کا مذہب ہے اور یہ بات بھی سراسرانا انصافی پر مبنی ہے کہ کوئی یہ کہے کہ یہ ملک ہمارے مذہب کا پیروکار ہےجبکہ ہمیں دین اسلام ، قرآن اور رسول اللہ ﷺ اور ائمہ اربعہ نے کسی خاص امام کے مذہب کی تقلید اور پیروی سے منع کیاہے۔اللہ تعالی نے ہمیں واضح الفاظ میں یہ تعلیم اور تلقین کی ہےکہ :

فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا(النساء59)

’’ پھر اگر کسی چیز پر اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے‘‘
مگرافسوس ان علماء ، فقہاء اور مفتیان کرام پر ہے جو مسائل کو حل کرنے کے بجائے الجھا دیتے ہیں مسائل کو اللہ تعالی اور اس کے رسولﷺ سے حل کرانے کے بجائے ان سے حل کروائے جاتے ہیں جہاں سے یہ مسائل اختلافی بنے ہیں اور مذہب کو مذہب تب ہی کہا جاتاہے جب کس خاص امام کی سوچ اور فکر پر مضبوطی سے عمل کیا جاتاہے تب یہ عمل مذہب کا روپ اختیار کر لیتاہےاور مذہب کی بنیاد کسی خاص فقہ پر رکھی جاتی ہے یہ ایک مذہب کا پیروکار اپنے مذہب کو چھوڑکر کسی دوسرے مذہب پر عمل نہیں کرسکتاہے۔
اس کے لیے یہ اصول نہ اللہ تعالی نے بنایا ہے اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ نے اور نہ ائمہ اربعہ میں سے کسی نے جس کی طرف یہ مذاہب منسوب کیے جاتے ہیں بلکہ یہ اصول دوسرے اور تیسرے درجہ کے علماء اور مفتیان کرام نے اپنی طرف سے گھڑ لیاہے۔مذہب کی بنیاد فقہ پر ہوتی ہے اور موجودہ فقہ عباسی دور میں وجود میں آئی ہے۔
اس موجودہ فقہ میں مسلمان حکمرانوں کے متعلق کئی ابواب ملیں گے۔اگر اس فقہ سے یہ معلوم کرنا چاہیں کہ جب مسلمان حاکم کی حیثیت میں نہ ہوتو پھر ان مسلمانوں کے لیے شرعی حکم کیا ہے؟ اس سوال کا واضح جواب آپ کو اس فقہ میں نہیں ملے گا۔جب یہ فقہ مدون کی گئی تو اس وقت سلطانی خلافت کا زمانہ تھا اور موجودہ دور کی عوامی جمہوریت اس وقت قائم نہیں ہوئی تھی۔اس لیے اس فقہ میں خلیفہ اور بادشاہ کے متعلق احکام ملیں گے۔مگر جب آپ موجودہ فقہ سے یہ معلوم کرنا چاہیں کہ مسلمان کسی ملک میں اکیلے حکمران نہیں ہیں مگر جمہوری نظام کے تحت دوسری اقوام کے ساتھ مل کر حکومت قائم کریں تو ان حالات میں شریعت کا کیا حکم ہے؟تو اس سوال کا جواب آپ کو اس موجودہ فقہ میں نہیں ملے گااور نہ ہی ایسی جمہوری حکومت کے متعلق اس فقہ میں کوئی رہنمائی ملےگی جو دوسرے شریکوں کے ساتھ مل کر قائم کی جائے۔یہ مسئلہ دارالاسلام ، دارالحرب یا دارالکفر کا ہے؟ کیا موجودہ دور میں یہ اصطلاحیں استعمال ہوسکتی ہیں؟ یہ کمی صرف اور صرف موجودہ مدون فقہ میں ملے گی۔اگر ہم فقہ سے آگے بڑھ کر قرآن وسنت کی طرف آئیں گے تو قرآن وسنت میں ہمیں ہر صورت حال اور ہر قسم کے مسائل کی رہنمائی ملے گی۔یہی اصل فرق ہے دین اورمذہب میں ، دین کامل اور مکمل اللہ تعالی کی طرف سے آیا ہے اور مذہب کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہوبہر حال اس میں نقص اور کمی ضرور پائی جائے گی کیونکہ یہ ایک انسان کی سوچ فکر اور رائے پر مبنی ہوتا ہے اور انسان کی رائے میں غلطی کا امکان بہر حال رہتا ہے ایک امام کی رائے سے دوسرے امام کا اختلاف بھی اس لیے ہوتا ہےکہ دوسرے امام کی نظرمیں پہلے امام کی رائے کمزور ہوتی ہے۔اس لیے دوسرا امام پہلے کی رائے سے اختلاف رکھتے ہوئے اپنی رائے پیش کرتاہے۔مگر قرآن اور سنت کی موجودگی میں کسی بھی امام کو اختلاف رائے رکھنے کا کوئی خیال بھی دل میں نہیں آئے گا۔اس لیے امام شافعی رحمہ اللہ نے مسلمانوں کا یہ اجماع ذکر کیا ہے کہ :’’تمام مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس شخص کو آپ ﷺ کی کوئی سنت معلوم ہوجائےتو پھر اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی کےقول کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کی سنت ترک کردے۔مولانا انور شاہ کاشمیری رحمہ اللہ اپنے علمی کارنامے کو اس طرح ذکر کرتے ہیں کہ ہمارا علمی کارنامہ یہ ہے کہ حنفی مسلک کی دوسرے مسالک پر فوقیت ثابت کریں۔ ا س قول کے بعد مولاناانور شاہ کاشمیری رحمہ اللہ نے آخری عمر میں افسوس کا اظہار کیا جس کے راوی مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ ہیں، ذکر کرتے ہیںکہ مولانا انور شاہ کاشمیری رحمہ اللہ نے اپنی آخری عمر میں افسوس اور حسرت کے انداز میں کہہ دیا کہ:’’ہم نے اپنی ساری عمر کس بیکار مشغلے میں کھپا دی‘‘ یعنی حنفی مسلک کو دوسرے مسالک پر فوقیت دینا اگر کوئی خاص مذہب و مسلک دین اور حق ہوتا تو پھر مولانا انور شاہ کاشمیری رحمہ اللہ کو اپنی زندگی پر افسوس نہ ہوتا۔اس سے دین اور مذہب میں فرق واضح ہوگیا ہے۔ہمیں بھی دین اسلام کی خدمت کرنی چاہیے نہ کہ مذہب کی۔دین قرآن اور سنت کا نام ہے اور مذاہب امام کی رائے اور فکر کانام ہے۔
————–

مولانا میاں محمود عباس رحمہ اللہ

میاں محمود عباس بن میاں قطب الدین جھجہ کے گھر 1964ء کو جھجہ کلاں تحصیل دیپال پور ضلع اوکاڑہ میں پیدا ہوئے۔

تعلیم : 

ابتدائی تعلیم گورنمنٹ مڈل اسکول جھجہ کلاں سے حاصل کی ، ناظرہ قرآن مجید اپنے گاؤں کی مسجد میں حافظ محمد یوسف مرحوم اور مولانا عبد المجید مرحوم سے پڑھا۔

اس کے بعد آپ کے والد گرامی درس نظامی کی تعلیم کے حصول کے لیے مولانا مفتی محمد یوسف قصوری حفظہ اللہ امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث صوبہ سندھ کے ساتھ جامعہ دار الحدیث راجووال میں چھوڑ آئے۔ ایک سال زیر تعلیم رہنے کے بعد جھجہ خاندان کے نامور بزرگ استاذ الاساتذہ شیخ الحدیث مولانا محمد رفیق سلفی صاحب حفظہ اللہ آپ کو جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ لے گئے وہاں پر چار سال زیر تعلیم رہنے کے بعد فاضل عربی اور درس بخاری کے لیے جامعہ محمدیہ اوکاڑہ میں داخلہ لے لیا۔ جامعہ محمدیہ اوکاڑہ ہی سے فاضل عربی کا امتحان پاس کیا اور بخاری شریف شیخ الحدیث والتفسیرمولانا محمد عبد اللہ امجد چھتوی رحمہ اللہ سے پڑھی۔ جامعہ سے فراغت حاصل کرنے کے بعد جامعہ دار الحدیث رحمانیہ کراچی میں عربی لینگویج کا کورس کرنے کے لیے فضیلۃ الشیخ عبد اللہ سالم الدوسری پروفیسر جامعہ ملک ریاض سعودی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے استفادہ کیا۔ جامعہ دار الحدیث رحمانیہ کراچی میں ہی محقق عالم دین شیخ الحدیث مولانا کرم الدین السلفی سے دوبارہ بخاری شریف پڑھی۔

خطابت :

مولانا میاں محمود عباس دوران تعلیم ہی جامع مسجد بیت السلام لیاقت آباد کراچی میں خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ جامعہ سے فارغ ہونے کے بعد دو سال تک کراچی میں بطور خطیب رہے اس کے بعد بطورمدرس جامعہ تقویۃ الاسلام شیش محل روڈ لاہور میں درسی کتب چند سال تک پڑھاتے رہے ۔ تدریس کے ساتھ ساتھ جامع مسجد توحید المعروف لال مسجد قلعہ لچھمن سنگھ لاہور میں بطور خطیب خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اس کے بعد جامع مسجد مبارک اہل حدیث پتوکی میں خطبہ جمعہ کا آغاز کیا آپ سے قبل مفکر اسلام مولانا محمد ابراہیم کمیرپوری رحمہ اللہ یہاں پر خطیب تھے۔ آپ نے ان کی زندگی میں ہی یہاں خطبہ جمعہ کا آغاز کیا۔

اساتذہ کرام : 

مولانا میاں محمود عباس صاحب نے وقت کے جن اساطین علم سے استفادہ کیا ان کے اسماء گرامی یہ ہیں:

محدث زمان حافظ محمد محدث گوندلوی ، مفکر اسلام مولانا معین الدین لکھوی ، شیخ الحدیث مولانا عبد اللہ امجد چھتوی، شیخ الحدیث مولانا عبد المنان نورپوری، شیخ الحدیث مولانا الحلیم برادر مولانا حافظ عبد العلیم یزدانی، مولانا عبد الرشید،شیخ الحدیث مولانا حافظ محمد لکھوی بن ولی کامل مولانا محی الدین لکھوی رحمہم اللہ علیہم اجمعین اور مولانا عبد الحمید ہزاروی اور مولانا محمد رفیق سلفی حفظہما اللہ

تنظیمی وابستگی وذمہ داری :

میاں محمود عباس صاحب تنظیمی ذہن رکھنے کی وجہ سے

شروع سے ہی اہل حدیث کی کسی نہ کسی تنظیم سے وابستہ

رہے۔ آپ نے اپنی تنظیمی زندگی کا آغاز جمعیت طلبہ اہل حدیث سے کیا اس کے بعد آپ جمعیت شبان اہل حدیث پاکستان کے مرکزی صدر بھی رہے ہیں ۔ جب مسلک اہل حدیث کی دوبڑی جماعتوں مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان وجمعیت اہل حدیث پاکستان کا اتحاد ہوا اور نوجوانوں کی تنظیم اہل حدیث یوتھ فورس پاکستان کو بنایاگیا تو آپ کو اہل حدیث یوتھ فورس پاکستان کا ڈپٹی سیکریٹری جنرل بنایاگیا اور آپ یہ ذمہ داری نبھاتے رہے۔ 2011ء میں آپ کو مرکزی جمعیت اہل حدیث صوبہ پنجاب کا ناظم اعلی مقرر کیاگیا اور آپ تاحال 2018ء یہ ذمہ داری نبھا رہےتھے۔

جامعہ مدینہ کا قیام :

میاں محمود عباس نے 1996ء کو جی ٹی روڈ پتوکی میں 4 کنال اراضی خرید کر جامعہ مدینہ کی بنیاد رکھی اور اب تک اس جامعہ کے انتظام وانصرام آپ کے ذمہ تھا۔ بحمد اللہ اس جامعہ سے 250 حفاظ کرام اور تقریباً 65 علماء کرام سندفراغت حاصل کرچکے ہیں یہاں سے فراغت حاصل کرنے والوں میں جماعت کے مشہور خطیب قاری حافظ محمد اقبال قصوری جو کہ حال ہی میں اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں وہ بھی شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی دین حنیف کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔

تبلیغی سفر :

میاں محمود عباس صاحب نے جماعت کی ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ اندرون وبیرون ملک تبلیغی سفر بھی کیئے ،آپ دین اسلام کی تبلیغ واشاعت کے لیے سعودی عرب، بحرین ، کویت ، قطر، متحدہ عرب امارات وغیرہ بھی کئی بار تشریف لے جاتے رہے۔

شادی واولاد :

میاں محمود عباس صاحب نے ایک شادی کی ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں عطا کی ۔

وفات :

میاں محمود عباس صاحب 26 اکتوبر 2018ء کو احرام پہنے عمرے کی نیت سے مکہ مکرمہ پہنچے اور سستانے کی غرض سے لیٹ گئے آپ کے ساتھ مولانا محمد ابراہیم طارق صاحب ناظم اعلیٰ صوبہ سندھ ، عبد الحسیب حسن ذوالفقار علی جوئیہ وغیرہ بھی تھے۔ خطبہ جمعہ کے لیے جب اذان ہوئی تو آپ کو اُٹھانے کی کوشش کی تو دیکھا کہ آپ اپنے رب کے حضور پہنچ چکے ہیں۔ انا للہ وانا إلیہ راجعون

اگلے دن بعد نماز عشاء حرم مکی میں آپ کی نماز جنارہ امام کعبہ جناب فیصل الغزاوی صاحب حفظہ اللہ نے پڑھائی اور آپ کو بلدالامین مکہ مکرمہ میں دفن کر دیاگیا۔

اللہم اغفر لہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ . … 

تبصرۂ کتب

کتاب کا نام : نماز جنازہ میں ایک طرف سلام پھیرنا مسنون ہے ۔

مؤلف : ابو زبير محمد ابراهيم رباني

ناشر : دارالاسلاف سندھ                        كل صفحات : 96

تبصره نگار : شیخ عبدالوکیل ناصر

کسی بھی مسلمان کے جنازے میں شرکت اس کے آخری حق کی ادائیگی ہے جو کہ شرعا ایک مسلمان پر عائد ہوتی ہے۔ “الموت قدح کل نفس شاربوھا” کے مصداق مخلوق میں سے ہر ایک نے موت سے ہمکنار ہونا ہے ۔

اور پھر یقینا فوت شدہ مسلمان کا جنازہ بھی ہوناہےلہٰذا دیگر فقہی مسائل کی تفہیم کے ساتھ ساتھ جنازہ ، نماز جنازہ اور اس کے تمام تر متعلقات کا علم اور فہم بھی ضروری ہے ۔

اسی غرض سے تقریبا تمام محدثین نے اپنی اپنی تالیفات اور سنن میں کتاب الجنائز یا ابواب الجنائز کے عنوان سے احادیث و آثار ذکر کیے ہیں ۔كما لا يخفي علی اهل العلم

اور پھر بعض اہل علم نے مکمل تصنیف ہی اس عنوان سے مرتب کی ہے اور اس موضوع کو اس کے متعلقات کے ساتھ سمیٹ کر ایک ہی جگہ رکھ دیا ہے ۔

جیسے امام و محدث عبدالرحمان مبارکپوری اور شیخ ناصر الدین البانی رحمہما اللہ وغیرہ کی تصانیف اس پر شاہد ہیں ۔ اللہ تعالی ان تمام اہل علم کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے ہم کوتاہ نظروں کے لیے اس مسئلہ کی تفہیم کو آسان بنایا ۔

دیگر عناوین کی طرح اس عنوان پر بھی تا حال لکھنے کا سلسلہ جاری ہے اور رہے گا ۔ ان شاء اللہ

زیر نظر و زیر تبصرہ تالیف لطیف اس سلسلے کی ایک ذھبی کڑی اور لڑی ہے کہ جس میں فاضل مؤلف مولانا ابوزبیر محمد ابراہیم ربانی حفظہ اللہ نے نماز جنازہ میں اختتام نماز پر سلام سے متعلق سیر حاصل گفتگو فرمائی ہے۔

کتاب کے سرورق پر تقدیم و نظر ثانی کے تذکرے میں عالم باعمل شیخنا ذوالفقار علی طاہر رحمہ اللہ ، محقق دوراں غیرت اہل حدیث ڈاکٹر عبدالحفیظ سموں حفظہ اللہ اور میدان تحقیق و تخریج کے شہسوار حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ کے اسماء کا آ جانا ہی کتاب کے منھجی صلابت كے لیے کافی ہے ۔ جزاھم اللہ خیرالجزاء

کچھ کہنے اور لکھنے کی حاجت ہی نہیں ہے البتہ الامر فوق الادب کے تحت فاضل دوست صاحب علم و فضیلة الشیخ محمد سلیمان جمالی حفظہ اللہ کے حکم پر یہ چند ٹوٹے جملے سپرد قرطاس کر رہا ہوں ۔

أحب الصالحين ولست منهم
لعل الله يرزقني صلاحا

اس دعا کے بعد عرض ہے کہ یہ کتاب بحمد اللہ تعالی احادیث مبارکہ ، آثار صحابہ ، اقوال سلف اور اجماع کے دلائل سے مزین و معمور اور مملوء ہے ۔

تحقیق و تخریج اور رجال و رواة کے ایسے مباحث کہ نہ صرف طلبة العلم بلکہ اصحاب علم و فضل بھی سیرابی حاصل کرلیں ۔ انداز افہام و تفہیم کا اختیار کیا گیا ہے نہ کہ تحکم و تسلط کا ۔ نیز الزامی حوالہ جات اور جوابات کا بھی خوب اہتمام کیا گیا ہے ۔

نماز جنازہ میں ایک ہی سلام کے مسنون ہونے پر ایک جامع اور مانع تحریر ہے ۔ اہل علم و دانش امید ہے ، بنظر تحسین و تائید دیکھیں گے ۔

کتاب میں محترم فاضل دوست اور میرے ہم مکتب الشیخ انور شاہ راشدی حفظہ اللہ کی داد شجاعت ہی دیکھنے کو ملی ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ رؤوف و رحیم اس کتاب کو عوام الناس کے لیے باعث منفعت بنا دے اور مؤلف و مقدم اور ناشر اور دیگر رفقاء کے لیے ذخیرہ آخرت بنا دے ۔

وما ذلك علي الله بعزيز

۔۔۔

نام کتاب : توضیح الفرقان

تالیف : فضیلۃ الشیخ حافظ عبد الوہاب روپڑی حفظہ اللہ

صفحات : 978 بڑا سائز عمدہ رنگین کاغذ مجلد

ناشر : محدث روپڑی اکیڈمی جامع القدس

قیمت : درج نہیں

تبصرہ نگار : محمد انس اقبال

زیر تبصرہ کتاب اردو زبان میں قرآن پاک کی ایک عمدہ تفسیر ہے۔ تفسیر کا مطلب وضاحت کرنا ہے اور اصطلاحی طور پر اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے فرامین کی توضیح ہے کہ وہ اپنے بندوں سے کیا مطالب فرماتا ہے؟ کس بات کا حکم دیتاہے اور کس سے منع فرماتاہے؟ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے قرآن پاک نازل فرمایا اور اس کی تفسیر اور توضیح رسول اکرم کا منصب قرار دیا۔

آپ  نے اپنے فرامین اور عمل مبارک سے کتاب اللہ کی تفسیر فرمائی ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی تفسیر سکھائی اور سمجھائی۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تفسیر قرآن کریم کی تعلیم کا سلسلہ جاری فرمایا تو تابعین عظام کے ساتھ ساتھ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی ان سے یہ مقدس علم سیکھا۔ امام مجاہد وعکرمہ رحمہما اللہ وغیرہ اس سلسلے میں بہت نامور ہوئے پھر ان سے آگے یہ سلسلہ چلتا گیا۔ قرآن پاک چونکہ علوم ومعارف کا خزانہ اور ناپید کنار سمندر ہے۔ اس لیے بڑے بڑے علماء کرام اورمفکرین عظام نے اس شناوری کو سعادت جانا اور اس کے لیے اپنی زندگیاں کھپا دیں ، امام طبری، امام قرطبی اور حافظ ابن کثیر رحمہم اللہ وغیرہ نے تفسیر میں شاندار تصانیف پیش کیں۔

اس علم عظیم کے خدمت گزاروں اور اس سے تعلق رکھنے والے سعادت مندوں میں ایک نام فضیلۃ الشیخ حافظ عبد الوہاب روپڑی حفظہ اللہ فاضل ام القریٰ یونیورسٹی مکہ مکرمہ کا بھی ہے جنہوں نے تفسیر بالماثور اور منہج سلف کے عین مطابق توضیح الفرقان کے نام سے قرآن پاک کی تین سورتوں (الفاتحہ، البقرۃ اور آل عمران) کی تفسیر لکھی ہے۔ یہ تفسیر اپنی مثال آپ ہے اس تفسیر کی خوبیاں یہ ہیں کہ شیخ محترم نے تفسیر کرتے وقت چند اہم چیزوں کا خاص خیال رکھا ہے جو قابل تحسین وستائش ہے۔

1 قرآنی آیات کی تفسیر آیات قرآنیہ کے ساتھ کی یعنی (تفسیر القرآن بالقرآن) کا اہتمام خاص کیا ہے۔ جیسا کہ انہوں نے أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی تفسیر میں فرمایا کہ انعام یافتہ وہ لوگ ہیں جو انبیائے کرام ،صدیقین،شہداء اور صالحین ہیں۔

2 تفسیر کرتے ہوئے مستند احادیث کاالتزام کیا۔جیسا کہ انہوں نے آمین کے حکم میں ذکر فرمایا کہ سورئہ فاتحہ کے اختتام پر بلند آواز سے آمین کہنا مسنون ہے جیسا کہ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ  جب وَلَا الضَّالِّينَ پڑھتے قال آمین رَفَعَ بِهَا صَوْتَهُتو بلند آواز سے آمین کہتے۔

3 حسب ضرورت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام کے فرامین کو قلمبند کیاگیاہے۔حضرت بجالہ بن عبید رحمہ اللہ فرماتےہیں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ہر جادوگر(مردوعورت) کو قتل کرنے کا فرمان جاری فرمایا تھا چنانچہ ہم نے تین جادوگروں کو قتل کیا تھا۔

4 ضعیف اور من گھڑت روایات سے کلی اجتناب برتا گیاہے۔ جالوت کا قتل سیدنا داؤد علیہ السلام کے ہاتھوں ہونے کی تین وجوہات ہیں :

۱) سیدنا داؤد علیہ السلام اس وقت نوعمر اور جنگی امور سے بالکل ناآشنا تھے ان کے ہاتھوں جالوت جیسے جابر اور ظالم بادشاہ کو قتل کرواکر لوگوں کے دلوں سے ایسے حکمرانوں کا خوف اور ڈر زائل کرنا مقصود تھا کہ جن کو تم بڑے طاقتور اور جابر سمجھ کر خوف زدہ ہوتے ہو وہ تو بڑے کمزور اور ناتواں ہیں۔

۲) اللہ تعالیٰ سلطنت طالوتی کا وارث سیدنا داؤو علیہ السلام اور ان کے بعد سیدنا سلیمان علیہ السلام کو بنانا چاہتے تھے اسی لیے جالوت کے قتل کے بعد اللہ تعالیٰ نے نبوت اور حکومت سیدنا داؤد علیہ السلام کو عطا فرمادی۔

۳) بنی اسرائیل کے عقیدے میں پیدا ہونے والی بیداری کے صلہ میں اللہ تعالیٰ ان کو ایسی سلطنت دینا چاہتے تھے جو بنی اسرائیل کی ساری تاریخ کا عہدزریں ہو۔

5 تفسیر بالرائے کے بجائے تفسیر بالماثور کو ترجیح دی ۔

اس کے علاوہ شیخ محترم نے اس کتاب میں ہر آیت کا ترجمہ پھر توضیح، مشکل الفاظ کے معانی ، ہر توضیح کے بعد اخذ شدہ مسائل اور آیات کا باہمی ربط ومناسبت بھی ذکر کی ہے۔

اس کتاب میں تاریخی مباحث کو (جالوت) بھی عمدگی سے سمویاگیا ہے، تفسیر میں مروج کمزور روایات سے اجتناب کیاگیاہے، مفسر کا انداز خیر الکلام ما قل ودل کا مصداق ہے۔ مختصر مگر جامع بات کرتے ہیں۔

تفسیر قرآن کے لیے قابل احترام مفسر نے زبان نہایت سادہ وآسان استعمال کی ہے تاکہ عام لوگوں کے لیے فہم قرآن میں آسانی ہو ، عبارت رواں اور نہایت سلیس ہے۔

تفسیر قرآن کا یہ سلسلہ انتہائی مبارک سلسلہ ہےباری تعالیٰ سے دعا ہے کہ اسی نہج پرتکمیل کرنے کی توفیق فرمائے ۔آمین

طلبہ ، اساتذہ،علماء، عوام الناس الغرض زندگی کے ہرشعبہ سے متعلق افراد کے لیے تفسیر کے حوالے سے یہ کتاب نہایت مفید ہے۔

اللہ تعالیٰ اس کتاب کو مؤلف وناشرکے میزان حسنات میں شامل کرکے ان کے حق میں صدقہ جاریہ بنا ئے۔

۔۔۔

نیک اولاد کے والدین کو فائدے

اگر والدین اپنی اولاد کی اچھی طرح تربیت کریں گے اور اولاد کو نیکوکار بنائیں گے تو اس پر والدین کو دنیا و آخرت کے بہت سارے فائدے حاصل ہوں گے ۔

نیک اولاد جو بھی نیک عمل سرانجام دے گی اس کا اجر اس کے والدین کو ضرور ملے گا اگرچہ اولاد نے اس کی نیت ہی نہ کی ہو جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ tسے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا :

إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ (صحیح مسلم : 4223 )

 جب انسان فوت ہو جائے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین اعمال کے ( وہ منقطع نہیں ہوتے)صدقہ جاریہ یا ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے یا نیک بیٹا جو اس کے لیے دعا کرے ۔یعنی جب بندہ فوت ہوجاتا ہے اور پیچھے نیک اولاد چھوڑ جاتا ہے تو اس کے ہر نیک عمل کا ثواب اس کے والدین کو ملے گا اور اس کی دعائوں کی بدولت والدین کا قبر حشر بھی آسان ہوجائے گا۔

سیدنا ابوہریرہ tسے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا

إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَیَرْفَعُ الدَّرَجَۃَ لِلْعَبْدِ الصَّالِحِ فِی الْجَنَّۃِ، فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ اَنّٰی لِیْ ھٰذِہِ؟ فَیَقُوْلُ: بِاِ سْتِغْفَارِ وَلَدِکَ لَکَ (مسند احمد: 3636 )

جب اللہ تعالیٰ کسی نیک بندے کا جنت میں درجہ بلند کرے گا، تو وہ پوچھے گا:اے میرے رب! یہ درجہ میرے لیے کہاں سے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تمہارے حق میں تمہارے بیٹے کی دعائے مغفرت کی وجہ سے۔

اور اسی طرح سیدنا ابوھریرہ t سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ :

مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَتَعَلَّمَهُ وَعَمِلَ بِهِ أُلْبِسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَاجًا مِنْ نُورٍ ضَوْءُهُ مِثْلُ ضَوْءِ الشَّمْسِ

 جس نے قرآن مجید پڑھا سیکھا اور اسکے مطابق عمل کیا تو روز قیامت اس کو نور کا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج کی روشنی جیسی ہوگی ۔

آپ نے فرمایا کہ :

وَيُكْسَى وَالِدَيْهِ حُلَّتَانِ لَا يَقُومُ بِهِمَا الدُّنْيَا

اور اس کے والدین کو دو عبائیں پہنائیں جائیں گی کہ تمام دنیا بھی اس کا بدل نہ ہوسکے گا وہ دونوں ماں باپ کہیں گے

بِمَا كُسِينَا؟ فَيُقَالُ: بِأَخْذِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ

 ہمیں یہ کیوں پہنائی گئیں ؟ کہا جائے گا  : آپ کے بیٹے کے قرآن پڑھنے ( یعنی حفظ کرنے کی وجہ سے ) ۔

( صحیح الترغیب الترھیب : 1434 )

لہذا والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی دینی تربیت کریں اور انہیں دینی علوم کی طرف مائل کریں اس سے ہی والدین اور اولاد کی کامیابی وکامرانی ہے اور والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو صدقات و خیرات کی ترغیب دیا کریں تاکہ والدین کے فوت ہونے کے بعد وہ( ان کے حق میں ) صدقہ و خیرات کرتے رہیں اور والدین کو اس کا اجر ثواب حاصل ملتا رہے ۔ سیدنا سعد بن عبادہ t سے مروی ہے کہ :

قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّق ُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏  نَعَمْ ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏  سَقْيُ الْمَاءِ (سنن نسائی : 3694 )

 میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں مر گئیں ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“ میں نے پوچھا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ( پیاسوں کوپانی پلانا۔

یہ بات یاد رہے کہ رواج کے مطابق خیرات رواج ہی رہ جائے گی اس کا والدین کو کوئی اجر نہیں ملے گا سنت کے مطابق کوئی بھی نیکی کی جائے اس کا والدین کو اجر ضرور ملے گا بعض لوگ جمعرات چوبیسواں وغیرہ کرکے سمجھتے

ہیں کہ بابا جی کی نجات ہوگئی ایسے ہرگز نہیں ہے یہ فقط

پیٹ پیچھے بھاگنے والے مولویوں کا کھانا ہی ہے ۔

سیدنا سعد بن عبادہ t نے جب رسول اللہ سے یہ سنا تو اپنی والدہ کےلیے ایک کنواں کھدوا دیا تھا اور اس پر یہ بھی لکھ دیا کہ

هَذِهِ لِأُمِّ سَعْد

یہ سعد کی ماں کےلیے ہے یعنی اب جو بھی جب بھی اس سے پانی پیئے گا سعد کی ماں کو اجر ملتا رہے گا ۔

 ( سنن ابی داود : 1681 )

اور اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ : ا

أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا، وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ (صحیح البخاری:1388)

ایک شخص نے نبی کریم سے پوچھا کہ میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا اور میرا خیال ہے کہ اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ کچھ نہ کچھ صدقات کرتیں۔ اگر میں ان کی طرف سے کچھ صدقات کر دوں تو کیا انہیں اس کا ثواب ملے گا؟ آپ نے فرمایا ہاں ملے گا۔

اور ہاں ! والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو صلہ رحمی باہمی محبت اور رشتہ داری جوڑنے کی ترغیب دیا کریں تاکہ وہ والدین کے رشتوں کو قائم رکھیں اس پر بھی والدین کےلیے اجر وثواب ہے جو اسے تب تک ملتا رہے گا جب تک اس کی اولاد رشتے کو قائم رکھے گی ۔ ہمارے ہاں اکثر ایسے دیکھنے کو ملتا ہے کہ والدین کی وفات کے بعد اس کے دوستوں سے یہ کہہ کر تعلق توڑا جاتا ہے کہ وہ بابا کے دوست تھے وہ فوت ہوگئے اب ہمارا اس سے کیا تعلق ہے ؟!! 

ولید بن ولید نے عبداللہ بن دینار سے ،  انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ :

أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ لَقِيَهُ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللهِ، وَحَمَلَهُ عَلَى حِمَارٍ كَانَ يَرْكَبُهُ. وَأَعْطَاهُ عِمَامَةً، كَانَتْ عَلَى رَأْسِهِ فَقَالَ ابْنُ دِينَارٍ: فَقُلْنَا لَهُ: أَصْلَحَكَ اللهُ إِنَّهُمُ الْأَعْرَابُ وَإِنَّهُمْ يَرْضَوْنَ بِالْيَسِيرِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: إِنَّ أَبَا هَذَا كَانَ وُدًّا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْوَلَدِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ 

ان کو مکہ مکرمہ کے راستے میں ایک بدو شخص ملا ،سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کو سلام کیا اور جس گدھے پر خود سوار ہوتے تھے اس پر اسے بھی سوار کر لیا اور اپنے سر پر جو عمامہ تھا وہ اتار کر اس کے حوالے کر دیا ۔  ابن دینار نے کہا :  ہم نے ان سے عرض کی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر نیکی کی توفیق عطا فرمائے! یہ بدو لوگ تھوڑے دیے پر راضی ہو جاتے ہیں ۔ تو سیدنا عبداللہ ( بن عمر ) رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس شخص کا والد ( میرے والد ) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا محبوب دوست تھا اور میں نے رسول اللہ سے سنا،آپ فرما رہے تھے : والدین کے ساتھ بہترین سلوک ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک ہے جن کے ساتھ اس کے والد کو محبت تھی ۔ (صحیح مسلم : 6513 )

 اور ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا تو میرے پاس سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے : کیا تم جانتے ہو میں تمہارے ہاں کیوں آیا ہوں ؟ میں نےکہا : نہیں تو انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ :

من احب ان یصل اباہ فی قبرہ فلیصل اخوان ابیہ 

جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے والد کے ساتھ ( اس کے مرنے کے بعد ) قبر میں اس کے ساتھ حسن سلوک کرے تو وہ اس کے دوستوں سے حسن سلوک کرے اور میرے باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور تیرے باپ کے درمیان دوستانہ تعلقات تھے تو میں نے اپنے والد کے ساتھ حسن سلوک کیا ہے ۔( صحیح ابن حبان : 432 )

والدین کو چاہیے کہ ہر نیکی کی طرح اپنی اولاد کو حج کی نیکی کا بھی ترغیب دیا کریں تاکہ وہ انکے مرنے کے بعد ان کے حق میں حج کرے اور بیت اللہ و ریاض الجنہ جیسی جگہوں پہ جاکے ان کے حق میں دعائیں کرے تاکہ وہ نجات حاصل کر سکیں ۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ

 أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِيهَا مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏  حُجِّي عَنْ أَبِيكِ (سنن النسائی : 2635 )

ایک عورت نے نبی اکرم سے اپنے والد کے بارے میں جو مر گئے تھے اور حج نہیں کیا تھا پوچھا: آپ نے فرمایا: تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو“۔

ذرا غور کریں کہ صحابہ کرام y نے اپنی اولاد کی کیسی خوب تربیت کی کہ والدین کی وفات کے بعد والدین کی چھوڑی گئی ذمہ داریوں کو سرانجام دیتے رہے !!نبی علیہ السلام کے پیارے صحابی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے پیارے بیٹے سیدنا جابر t کی کیا  خوب تربیت کی تھی کہ جب سیدنا عبداللہt شہید ہوئے تو اپنے پیچھے نو بیٹیاں چھوڑیں اور بہت سارا قرضہ بھی چھوڑا ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اپنے والد کا قرضہ بھی ادا کیا اور بہنوں کی پرورش کا ذمہ بھی اپنے کندھوں اٹھایا ۔ ( صحیح بخاری : 1984 )

قرض کی ادائیگی نہ کرنا ایک خطرناک گناہ اور وعید کا حامل ہے سیدنا سہل بن حنیف tسے مرفوعاً مروی ہے کہ:

أَوَّلُ مَا يُهَرَاقُ من دَمِ الشَّهِيدِ يُغْفَرُ لَهُ ذَنْبُهُ كُلُّهُ إِلا الدَّيْنَ. (المعجم الکبیر للطبرانی : 5419 )

شہید کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کے سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، سوائے قرض کے۔

گویا ایک والد کے نیک بیٹے نے اپنے والد کا قرضہ ادا کرکے اسے خطرناک وعید سے نجات دلادی ۔محترم قارئین ! اگر قبر حشر کے عذاب سے بچنا چاہتے ہیں تو یہ ایک بہترین ذریعہ ہے کہ اپنی اولاد کی نیک تربیت کریں تاکہ نیک اولاد کے نیک اعمال کے فائدے آپ کو پہنچتے رہیں اور آپ نجات پاسکیں ۔

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (البقرۃ:128)

اے ہمارے رب !ہمیں اپنا فرمانبردار بنا لے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنی اطاعت گزار رکھ اور ہمیں اپنی عبادتیں سکھا اور ہماری توبہ قبول فرما تُو توبہ قبول فرمانے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے ۔

۔۔۔

بچپن کی محبت(قاری عبد الوکیل صدیقی، الشیخ عبد الحلیم یزدانی رحمہما اللہ)

اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں محبت کے جذبات رکھے ہیں لیکن اس کے اسباب مختلف ہیں جن کی وجہ سے انسان ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں کوئی مال کی وجہ سے ‘تو کوئی حسن و جمال کے سبب ‘ کوئی کسی کی قوت و طاقت یا عہدے اور منصب کی بنا پر یا پھر رشتے داریوں کی وجہ سے محبت ہوتی ہے بعض اوقات شعوری یا غیر شعوری طور پر خود بخود ہی محبت ہو جاتی ہے اور اگر یہ محبت چھوٹے کی بڑے سے ہو تو یقینا اسے ’’عقیدت‘‘ سے ہی تعبیر کیا جا سکے گا۔ ایسا ہی کچھ حال اپنا ہے کہ کسی بھی دوسرے سے محبت کا معیار ’’مسلک اہل حدیث‘‘ ہے وہ عقیدہ بھی ہو سکتا ہے یا پھر اس کی مسلکی خدمات ۔ ایسے بہت سے لوگ مرحومین اور موجودین شعوری طور پر زندگی میں آئے جن کی مسلکی خدمات تقریری یا تحریری اور بحث ومباحثے یعنی مناظرے کی وجہ سے دل و جان سے محبت کی اور رکھی ان میں بعض ایسی ہستیاں بھی ہیں جن سے ملاقات تو درکنار زندگی بھر ان کی زیارت بھی نصیب نہ ہو سکی۔ لیکن میں نے  اپنے بچپن میں شعوری طور پر تین شخصیات سے غائبانہ محبت کی ۔ان میں ایک میرے محبوب ‘جرنیل اہل حدیث مولانا قاری عبدالوکیل صدیقی خان پوری رحمہ اللہ ہیں جنہوں نے خان پور ضلع رحیم یار خان جیسے پسماندہ علاقے میں تبلیغی‘ تعلیمی‘ تدریسی اور تنظیمی خدمات ایسی جانفشانی اور مجاہدانہ طریقے سے سرانجام دیں کہ اس علاقے میں  مقلدین حضرات کی بڑی بڑی کئی ایک گدیاں تھیں مگر قاری صاحب رحمہ اللہ نے اپنی پُرخلوص محنت کے باوصف ان کے مسند نشینوں کی ’’ناک رگڑدی‘‘ اور علاقے بھر میں شرک و بدعات کی بیخ کنی کر کے توحید و سنت کا خالص بیج بویا

۔ فجزاہ اللہ تعالیٰ عن سائر اھل الحدیث ۔ مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آگے بڑھ کر ذاتی تعلق بنانے کے لئے یا اپنے آپ کو نمایاں کرنے کے لیے اپنا تعارف کروانا اور جائز ‘ناجائز تعریفیں کرنا نہ تو اچھا لگتا ہے اور نا ہی کبھی مجھے اس کا حوصلہ ہوا ہے البتہ کسی کی محبت کی قدر کرنے اور اس کا حق ادا کرنے کی حتی المقدور کوشش کی جاتی ہے۔

اپنی اسی عادت کی بنا پر میں کبھی بھی قاری صاحب رحمہ اللہ سے نہ مل سکا البتہ ان کی تقاریر سننے اور زیارت کرنے کا شرف کئی بار حاصل کیا جہاں تک مجھے یاد ہے آپ سے صرف ایک بارمصافحہ کرنے کا موقعہ ملا۔ وہ بھی کچھ اس طرح ہو ا کہ آل پاکستان اہل حدیث کا نفرنس لاہور منعقدہ 76نومبر 2008ء کے موقعہ پر کانفرنس کے اختتام پر جامعہ سلفیہ کے کیمپ میں مشائخ جامعہ  حافظ عبدالعزیز علوی‘ حافظ مسعود عالم‘ مولانا محمد یونس ‘ چودھری محمد یٰسین ظفر حفظہم اللہ تعالیٰ و دیگر اساتذہ و طلباء کے ساتھ موجود تھا کہ قاری صاحب رحمہ اللہ اچانک تشریف لائے تو انہیں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی اور انہیں سلام عرض کرنے کی سعادت حاصل کی۔ لیکن قاری صاحب کی خدمات جلیلہ کی وجہ سے آج بھی ان کی مغفرت اور بلندی درجات اور ان کے ادارے اور مشن کی کامیابی کے لیے دعا گو رہتا ہوں اللہ تعالیٰ ان کے لیے صدقہ جاریہ کے ان چشموں کو ہمیشہ جاری و ساری رکھے تاکہ ان کی حسنات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے…۔ اللہم اغفرلہ وارحمہ

دوسری ہستی جو میرے بچپن میں شعوری طور پر میری محبوب ٹھہری وہ شہزادہ خطابت‘ مبلغ اسلام ‘ داعی کتاب و سنت مولانا حافظ عبدالعلیم یزدانی جھنگوی رحمہ اللہ ہیں۔ آپ سے محبت کا سبب بھی آپ کی جماعتی و مسلکی ترویج و اشاعت کے لیے تگ و تاز جاودانہ ہے۔ حافظ صاحب کی پہلی دفعہ زیارت کرنے کا شرف 1983ء کے آخر یا

1984ء کے شروع میں دارالعلوم رحمانیہ منڈی فاروق

آباد میں حاصل ہوا۔ استاذی المکرم حکیم حافظ عبدالرزاق سعیدی رحمہ اللہ کا ذوق بھی تھا اور مستقبل کی پیش بندی بھی کہ آپ اپنے اسٹیج اور منبر سے نوجوان خطباء کو متعارف کرواتے تھے آپ کے اس ذوق کی بدولت ہی خطباء کی ایک کھیپ اس وقت تبلیغ دین کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔ سعیدی رحمہ اللہ کا طریقہ تھا کہ جس نوجوان کی خطابت سے مطمئن ہوتے تو اس کو دارالعلوم رحمانیہ میں خطبہ جمعہ کے لیے دعوت دیتے پھر علاقے بھر میں اپنی سرپرستی اور نگرانی میں اس کے پروگرام کرواتے اس طرح اس کا علاقہ میں اچھا خاصا تعارف ہو جاتا اور یوں وہ مرکزی خطباء کی کھیپ میں شامل ہو جاتا اسی طرح حافظ صاحب رحمہ اللہ نے یزدانی صاحب رحمہ اللہ کا جمعہ رکھا جو آپ نے’’ اطاعت رسول ‘‘کے موضوع پر ارشاد فرمایا۔ اس کے کچھ اقتباسات مجھے ابھی یاد ہیں۔ بحمد اللہ تعالیٰ۔ لیکن ان کا یہاں محل نہیں ہے۔ آپ کی گفتگو اور انداز خطابت نے متاثر کیا حتی کہ میں اور میرے ایک کلاس فیلو قاری محمد عبداللہ بلوچ حفظہ اللہ تعالیٰ نے پروگرام بنایا کہ کوئی ایک جمعہ جھنگ میں آپ کی اقتداء میں پڑھا جائے اس کے لیے کرائے کا بھی بندوبست کر لیا لیکن کم عمری کی وجہ سے ہم دونوں ہی خوف زدہ تھے کہ اتنا لمبا سفر اور پسماندہ علاقہ ہے کہیں ہم گم ہی نہ ہو جائیں چنانچہ یہ منصوبہ ترک کر دیا گیا۔

اس کے بعد شہر فاروق آباد جامعہ دارالسلام محمدیہ میں آپ نے1985ء میں جمعہ کا خطبہ ارشاد فرمایا۔

بعد ازاں 21مارچ 1986ء چنیوٹ میں پہلی سالانہ خاتم النبیین کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تو اس کا کنوینئر ہمارے ممدوح اور میرے محبوب حافظ عبدالعلیم یزدانی رحمہ اللہ کو بنایا گیا آپ نے اس کے لیے بھرپور کوشش کی۔ تآنکہ یہ کانفرنس بڑی بھرپور‘ کامیاب اور چنیوٹ کی تاریخی کانفرنس تھی جس میں شہید اسلام علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ بیرون ملک ہونے کی وجہ سے تشریف نہ لا سکے اور آخری خطاب شہید اسلام مولانا حبیب الرحمن یزدانی شہید رحمہ اللہ نے فرمایا تھا بعد ازاں آئندہ سال دوسری سالانہ کانفرنس 20مارچ 1987ء بروز جمعہ کو ہوئی جو پچھلے سال کی نسبت زیادہ کامیاب تھی اور اس میں آخری خطاب علامہ شہید رحمہ اللہ نے موسلا دھار برستی بارش میں فرمایا تھا پھر اس کے تین دن بعد 23مارچ کو لاہور کے سانحہ میں زخمی ہو کر 30مارچ کو ریاض سعودی عرب میں جام شہادت نوش فرما گئے۔ یوں اہل حدیث کی ایک تاریخ تہہ خاک چلی گئی اور چنیوٹ کی کانفرنس بھی وہ اپنی آب و تاب برقرار نہ رکھ سکی۔ حتی کہ بالکل ہی ’’مرحوم‘ ‘ہو گئی… انا للہ وانا الیہ راجعون

لیکن مجھے یہاں یہ عرض کرنا ہے کہ اس پہلی کانفرنس کے لیے یزدانی صاحب رحمہ اللہ کی محنت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ 12مارچ 1986ء کو جامعہ دارالسلام محمدیہ فاروق آباد کی دو روزہ سالانہ کانفرنس تھی جس میں حافظ عبدالعلیم یزدانی صاحب کا بھی خطاب تھا اور آپ کا نام مرکزی خطباء میں لکھا ہوا تھا۔ اور آپ نے سیکنڈ لاسٹ تقریر کی تھی آپ کے بعد پھر خطیب اسلام حافظ محمد عبداللہ شیخوپوری رحمۃ اللہ نے خطاب فرمایا تھا۔ لیکن جب آپ کانفرنس میں تشریف لائے تو اپنی بغل میں چنیوٹ کانفرنس کے اشتہارات کا بنڈل دبائے ہوئے تھے اور خود ایک ایک اشتہار نکال کر لڑکوں سے مختلف جگہوں پر چسپاں کروا رہے تھے بعد ازاں کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے اعلان بھی کیا اور سامعین سے چنیوٹ کانفرنس میں شرکت کا وعدہ بھی لیا جس کا پورا منظر اس وقت بھی میری نگاہوں کے سامنے تازہ ہے بعد ازاں جب کانفرنس میں شریک ہو کر آپ کی جدوجہد کا ثمرہ بچشم خود دیکھا تو حافظ صاحب رحمہ اللہ کا گرویدہ ہو گیا کہ آپ ایک ورکر آدمی ہیںجو کسی قسم کے پروٹوکول کی پرواہ کیے بغیر ذمہ داری کے ساتھ خود چھوٹے موٹے کام کر رہے ہیں بس میرے بچپن میں حافظ صاحب کی محبت دل میں گھر کر گئی پھر وہ دن کہ آج کادن اس میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اضافہ ہی ہوا اور پختگی ہی آئی کمی نہیں آئی۔ بعد ازاں شہدائے اہل حدیث کے قاتلوں کی گرفتاری کے سلسلہ میں احتجاجی تحریک میں آپ کی صلاحیتیں دیکھنے کا موقعہ ملا نیز آپ کی خطابت میں بھی مزید نکھار پیدا ہوتا چلا گیا۔

آپ جہاں ایک بہترین خطیب تھے وہاں ایک مدبر منتظم بھی ۔ آپ جہاں ایک بے لوث اور مخلص ورکر تھے وہاں باصلاحیت قائد بھی ۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا اس کے باوجود آپ بہت سادہ اور ہمدرد انسان تھے۔ تبلیغی میدان میں کوئی تکلفات نہیں تھے نہ کوئی نخرہ اور نہ ہی کوئی بے جامطالبہ۔ ان کی کوشش ہوتی کہ مقامی جماعت پر زیادہ بوجھ نہ پڑے چنانچہ جہاں کہیں پروگرام ہوتا جھنگ سے پبلک سروس کے ذریعے ہی چلے جاتے اگر روڈ سے کہیں دور کوئی گاؤں وغیرہ ہوتا تو قریبی شہر تک بس پہ سفر کرتے اور وہاں سے ٹیکسی لے لیتے تاکہ واپسی میں آسانی رہے۔ ایک دفعہ میں نے عرض کیا حافظ صاحب اس طرح تو بہت سا وقت ضائع ہوتا ہے آپ جھنگ سے ٹیکسی کیوں نہیں لیتے ۔تو فرمانے لگے فاروق بھائی! ساری جماعتیں یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتیں اس لیے جتنا ممکن ہو سکے کم از کم جماعت پر بوجھ ڈالنا چاہیے… کیونکہ حافظ صاحب کی یہ روٹین تھی کہ تقریر کے بعدواپس جھنگ تشریف لے جاتے پھر دوسرے دن پروگرام کے لیے نکلتے اگرچہ اسی علاقہ میں ہی کیوں نہ جانا ہو ۔ بطور مثال صرف ایک واقعہ عرض کرتا ہوں مورخہ 4اکتوبر 1992ء کو ہم نے اپنے گاؤں جید چک نمبر 16 ضلع شیخوپورہ میں سالانہ اہل حدیث کانفرنس کا انعقاد کیا اس سے ایک دن پہلے تتلے عالی ضلع گوجرانوالہ کے قریب ایک گاؤں میں آپ کا پروگرام تھا اور اس سے ایک دن پہلے مرالی والا ضلع گوجرانوالہ میں آپ نے خطاب فرمایا۔ مرالی والا کے جلسہ میں میں بھی شریک تھا آپ کی طبیعت خراب تھی بخار اور زکام نے برا حال کررکھا تھا لیکن آپ مرالی والا سے تقریر کر کے جھنگ تشریف لے گئے دوسرے دن تتلے عالی کے قریب جلسہ میں شریک ہوئے پھر واپس جھنگ چلے گئے اور تیسرے دن ہمارے ہاں جید چک نمبر 16ضلع شیخوپورہ میں تشریف لائے تین دن مسلسل قریب قریب ہی پروگرام تھے۔ حتی کہ مرالی والا اور تتلے عالی کے پروگرام تو بالکل پڑوس میں۔ لیکن ہر روز جھنگ جاتے اور دوسرے پروگرام کے لیے پھر واپس تشریف لاتے۔بلکہ اسے اتفاق ہی سمجھیے کہ آئندہ سال 1998میں ہم نے 18اکتوبر کو کانفرنس رکھی تو آپ اس سے ایک دن پہلے 17اکتوبر کو ’’پل ایک ‘‘سیالکوٹ کی سالانہ کانفرنس میں آخری خطاب کرنے کے بعد جھنگ واپس گئے۔ ظہر کے وقت آپ گھر پہنچے اور عصر کے بعد ہمارے ہاں آنے کے لیے روانہ ہوئے اور بعد عشاء آخری خطاب فرمایا۔ تو مقصد یہ ہے کہ آپ رحمہ اللہ تعالیٰ بڑے جفاکش تھے۔

میں نے عرض کیا کہ حافظ صاحب آپ اسی علاقہ میں کیوں نہیں ٹھہر جاتے تاکہ بار بار سفر کی صعوبت اور خرچے سے بچ جائیں تو فرمانے لگے جھنگ میں کئی لوگ اپنے ذاتی یا جماعتی کاموں کے لیے آئے ہوئے ہوتے ہیں۔ اگر میں وہاں موجود نہ ہوں تو ان کو پریشانی ہوتی ہے اس لیے میں نے ہر روز صبح 9بجے سے ظہر کی نماز تک کا وقت عام لوگوں کی ملاقات اور کاموں کے لیے رکھا ہوا ہے لہٰذا مجھے ہر روز جھنگ جانا ضروری ہوتا ہے۔

یہ ہے ہمدردی خیر خواہی اور جذبہ خدمت خلق ۔کہ اپنے آپ کو مشقت میں ڈال کر دوسروں کو فائدہ پہنچانا اور یہی عملی تفسیر ہے۔ وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌکی ورنہ آج کل تو ہم دیکھتے ہیں کہ بعض خطباء حضرات ایک ہی علاقے بلکہ بعض اوقات ایک ہی شہر میں دو تین پروگرام ایک رات میں ہی رکھ لیتے ہیں کہ ایک سفر میں زیادہ پروگرام کر لیے جائیں حالانکہ وہ سارے پروگرام ہی حاضری کے اعتبار سے ناکام ہو جاتے ہیں کہ ایک محلے کے لوگ دوسرے محلے میں نہیں جاتے مجمع ناقابل ذکر ہوتا ہے جس سے جماعت کو فائدہ پہنچنے کی بجائے ان کی سبکی ہوتی ہے۔ لیکن ’’مولانا صاحب‘‘ اپنے لالچ میں اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ اگر میری یہ سطور جماعتی ذمہ داران یا مساجد کے منتظمین پڑھ رہے ہوں توانہیں بھی میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنے قریب کسی دوسرے پروگرام کے ساتھ اپنا پروگرام نہ رکھا کریں بلکہ پورے علاقے کے لوگ مل کر ایک پروگرام کو کامیاب کریں اور اسے مثالی بنائیں اس میں جماعت کی عزت ہے اور مقامی طور پر سیاسی و مذہبی فائدہ بھی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ سوچ اور تڑپ نصیب فرمائے (آمین)

آپ نے کبھی بھی کسی تبلیغی پروگرام میںکرائے وغیرہ کے معاملے پرتکرار جھگڑا تو درکنار (جیسا کہ بعض خطباء کے متعلق معلوم ومعروف ہے) کبھی مطالبہ بھی نہیں کیا تھا اور نہ ہی کبھی وقت کے لیے پروگرام کی انتظامیہ کو مجبور کیا بلکہ انتظامیہ اپنی سہولت کے ساتھ جب بھی وقت دے دیتی تو آپ اپنا بیان فرماتے اور وعظ کرتے۔

کارکنوں کا بڑا خیال رکھتے اور ان کی حوصلہ افزائی فرماتے ایک مرتبہ آپ ایک معروف جماعت سے کسی وجہ سے ناراض ہو گئے۔ اور اس کے سبب ان کو پروگرام نہیں دے رہے تھے انہوں نے بعض قائدین کی سفارش بھی کروائی لیکن حافظ صاحب نہ مانے مجھے جب یہ بات معلوم ہوئی تو میں نے اسی جماعت کے اہل حدیث یوتھ فورس کے  ذمہ داران سے کہا کہ اگر آپ پروگرام کرنا چاہتے ہیں تو میں حافظ صاحب سے آپ کو وعدہ لے دیتا ہوں وہ کہنے لگے یزدانی صاحب تو فلاں فلاں کے کہنے پر بھی آمادہ نہیں آپ کیسے ان کا وقت لیں گے میں نے کہا کہ اگر آپ ان کا پروگرام کروانا چاہتے ہیں تو آپ کے دو آدمی میرے ساتھ جھنگ چلیں میں آپ کی صلح کروا دیتا ہوں چنانچہ ان میں ایک میرا قریبی عزیز بھی تھا (نام اس لیے نہیں لکھ رہا کہ میں اس جماعت کی نشاندہی نہیں کرنا چاہتا) ہم تین آدمی جمعہ کے دن فجر کی نماز کے وقت جھنگ پہنچے فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد آپ سے گھر میں ملاقات کے لیے حاضر ہوئے مدعا بیان کیا تو فرمانے لگے اس کے لیے اتنا لمبا سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی فون کر لیتے تو میں نے عرض کیا کہ آپ جوان سے نارض تھے اس لیے خود حاضر ہونا ہی مناسب تھا کیونکہ مجھے معلوم ہوا تھا کہ آپ نے بعض بزرگوں کی سفارش بھی قبول نہیں کی تو آپ نے فرمایا کہ پروگرام کے بارے بات بعد میں کریں گے پہلے بتائیں آپ نے ناشتہ کیا کرنا ہے میں نے عرض کیا جی آپ ڈائری مجھے دے دیں میں مناسب تاریخ تلاش کرتا ہوں اور آپ لسی بنوا کر لائیں چنانچہ آپ نے ڈائری مجھے پکڑا دی اور خود لسی لینے چلے گئے آپ کے بعد ہم نے اپنے طور پر وقت طے کر لیا تھوڑی دیر بعد آپ تشریف لائے اور ہمیں ٹھنڈی میٹھی لسی پلائی تو میں نے ڈائری سامنے رکھ دی کہ اس تاریخ میں آپ یہ پروگرام نوٹ فرما لیں چونکہ پروگرام کا مقام پہلے ہی بتایا جا چکا تھا حافظ صاحب فرمانے لگے کہ آپ خود ہی لکھ دیں لیکن میرا اصرار تھا کہ آپ نوٹ فرمائیں ۔ چنا نچہ حافظ صاحب رحمہ اللہ نے جگہ اور وقت تحریر فرما لیا تو میں نے ڈائری بند کرتے ہوئے عرض کیا حافظ صاحب یہ میرے ساتھ دونوں ساتھی اس جماعت کے نمائندے اور ذمہ دار ہیں اگر آپ نے کوئی بات کرنی ہے کوئی گلہ شکوہ ہے تو ابھی کر لیں لیکن پروگرام میں ضرور آنا ہے۔

تو حافظ صاحب رحمہ اللہ نے جو جواب دیا اس نے مجھے انکا مزید گرویدہ کر دیا اور میں سمجھا کہ آج میری محبت کا صلہ مجھے مل گیا ہے کیونکہ آج تک تو میں یہ محبت یکطرفہ ہی کرتا رہا ہوں آپ نے فرمایا۔ ’’درویشا‘‘ (یہ ان کا اس وقت تکیہ کلام تھا) توں آ گیا ایں تے ہن کیہہ گل کرنی اے‘‘ یعنی آپ آ گئے ہیں تو کوئی گلہ شکوہ نہیں یہ بہت بڑی حوصلہ افزائی تھی جو حافظ یزدانی صاحب مرحوم نے فرمائی۔ اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے (آمین)

جب ہم جید چک نمبر16 ضلع شیخوپورہ میں اہل حدیث مسجد کا قیام عمل میں لائے تو اس کی افتتاحی تقریب اور سالانہ کانفرنس میں حافظ صاحب بھی تشریف لائے بلکہ اس سے بھی پہلے جب ہم دیو بندیوں کی مسجد میں سالانہ کانفرنس منعقد کیا کرتے تھے تو آپ سالانہ کانفرنس کے موقعہ پر ہر سال تشریف لایا کرتے تھے۔  اس لیے آپ کو ہمارے گاؤں کے حالات سے مکمل آگاہی تھی بعض لوگوں نے جب مسجد بنانے کی مخالفت کی اور عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا تو اس دوران آپ لدھیوالہ ورکاں سالانہ کانفرنس میں تشریف لائے وہاں آپ سے میرے بھائیوں عبدالغفور تبسم‘ کامران حمید اور حسان حمید کی ملاقات ہوئی تو یزدانی صاحب نے میرے متعلق استفسار کیا تو بھائیوں نے تمام صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ صبح سیشن عدالت میں مقدمے کی تاریخ تھی اس لیے نہیں آ سکا تو آپ نے پیغام دیا کہ وہ (فاروق الرحمن یزدانی) مجھے ملے چنانچہ میں پیغام ملتے ہی دوسرے دن جھنگ روانہ ہو گیا ملاقات ہوئی تو آپ نے مجھے جناب عمر فاروق بھٹی مرحوم جو اس وقت شیخوپورہ میں سی ۔ اے سٹاف میں D.S.Pتھے کے نام پیغام دیا جب میں بھٹی صاحب سے ملا تو معلو م ہوا کہ آپ بڑے دبنگ قسم کے افسر اور اہل حدیث ہیں جس کا اظہار انہوں نے وہاں دفتر میں موجود تمام لوگوں کے سامنے کیا اور مجھے پیغام دیا کہ ’’یزدانی صاحب ‘‘کو میرا سلام کہنا اور انہیں بتانا کہ اگر ہم نے جماعت کا کام نہیں کرنا تو پھر ہمیں اس عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں اور ساتھ ہی یزدانی صاحب سے اپنے تعلق کے بارے میں بتایا۔ آپ نے جو ممکن تعاون تھا وہ کیا اور مزید رابطہ رکھنے کی تاکید کی۔ اللہ تعالیٰ نے فضل و کرم فرمایا کہ ہمارا وہ مسئلہ حل ہو گیا پھر جب شیخوپورہ ضلع کی کوکھ سے ضلع ننکانہ نے جنم لیا تو یہی عمر فاروق بھٹی پہلے D.P.Oکی حیثیت سے ننکانہ میں تعینات ہوئے میرا رابطہ ہوا میں نے عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی اور کسی وقت حاضر ہونے کا وعدہ کیا لیکن افسوس کہ آپ چند دنوں بعد ہی اچانک وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے اور آپ کی بشری لغزشوں سے درگزر کرتے ہوئے ان کی حسنات کو قبول فرمائے۔ آمین

اس قسم کے کئی ایک واقعات کئی لوگوں کے ساتھ پیش آئے ہونگے کہ جب انہوں نے اپنے کارکنوں کی حوصلہ افزائی کی ہو گی کیونکہ جھنگ جیسے فساد زدہ شہر میںجس عزت و آبرو اور شان و شوکت سے انہوں نے زندگی بسر کی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور مخلص کارکنوں کی ٹیم کے بغیر ممکن نہیں۔ آپ کی وفات کے بعد جب میں تعزیت کے لیے جھنگ گیا تو مولانا عبدالمنان صاحب بتارہے تھے کہ ایک دفعہ کچھ نوجوانوں نے عید میلاد النبی کے جشن و جلوس کی شرعی حیثیت بارے کچھ اشتہار ات جھنگ میں لگائے تو ان نوجوانوں کو پولیس پکڑ کر لے گئی جب حافظ عبدالعلیم یزدانی صاحب کو معلوم ہوا تو فوری طور پر ضلعی افسران کے پاس گئے اور فرمانے لگے نہیں گزرنے دونگا چنانچہ تمام کارکنوں کو اسی دن فوری رہا کر دیا گیا اس سے شہر میں ان کی قوت اور انتظامیہ میں ان کے اثر و رسوخ کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور کارکنوں سے محبت اور تعلق کا بھی پتہ چلتا ہے۔ یزدانی صاحب کی اپنے کارکنوں سے محبت اور جماعتی احباب کے احترام اورایثار و قربانی کے متعلق شیخ محمد عارف صدر اہل حدیث یوتھ فورس تحصیل جھنگ نے بتایا کہ جب 18اپریل 1986ء کولاہور کے موچی دروازہ میں جلسہ ہوا تو جھنگ سے یزدانی  صاحب نے ایک بس کا انتظام کیا میری عمر اس وقت چھوٹی تھی لیکن میں نے یہ منظر دیکھا کہ جب روانگی کا وقت آیا تو بس بھر گئی اب یزدانی مرحوم کے لیے کوئی سیٹ خالی نہ رہی تو آپ نے گیٹ کے ساتھ کنڈیکٹر کے لیے پائپ پر جو چھوٹی سی سیٹ بنی ہوئی ہوتی ہے اسی پر جھنگ سے لاہور تک کا سفر کیا جماعتی احباب بھی آپ کو سیٹ کی آفر کرتے رہے ہم چھوٹے بچے بھی اصرار کرتے رہے کہ ہم کھڑے ہو جاتے ہیں آپ بیٹھ جائیں لیکن حافظ صاحب فرماتے ۔نہیں آپ بیٹھ گئے ہیں اب آپ کو اٹھانا مناسب نہیں میں تو ایک کارکن ہوں لہٰذا میری ذمہ داری ہے کہ آپ کے آرام و سکون کی خاطر قربانی دوں ۔یہ ہوتی ہیں قیادتیں اور یہ ہوتے ہیں لیڈر۔

اور اب … ؟؟ الاماشاء اللہ بعض قائدین تو سیدھے منہ اور پورے ہاتھ کے ساتھ اپنے کارکن سے سلام لینا گوارہ نہیں کرتے اور اگر کسی کو حالات کے پیش نظر قیادت کا موقعہ مل ہی جائے تو وہ بس اپنا مفاد ہی سامنے رکھتے ہیں۔

آج تو لوگ اپنی سیٹ بزنس کلاس کی لیتے ہیں اور کارکنوں کو اکانومی میں چھوڑ دیتے ہیں وہ بھی دھوکے سے ۔ پھر توقع رکھتے ہیں سمع واطاعت کی؟

انا للہ وانا الیہ راجعون

قیادت کرنے کا شوق ہو تو پھر جذبہ ایثار بدرجہ اتم موجود ہونا چاہیے ۔

حافظ عبدالعلیم یزدانی رحمہ اللہ میں مسلکی عزت و وقار اور کارکنوں کی حوصلہ افزائی کا جذبہ میں نے خود مشاہدہ کیا ہے۔ یہ آج سے اکتیس سال پہلے 23محرم الحرام 1409ھ بمطابق 1987ء کی بات ہے کہ چوک  بیگم کوٹ لاہور میں سالانہ فضائل صحابہ کانفرنس کے موقعہ پر ایک کارکن ’’محمد رفیق‘‘ ایک پولیس انسپکٹر کے ہاتھوں قتل ہو گیا اس وقت مولانا منیر قاسم صاحب آف برطانیہ خطاب فرما رہے تھے۔ چنانچہ جب یہ خبر اسٹیج پر پہنچی تو تقریر ختم کر دی گئی اور اس سانحہ کی اطلاع دیتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ تمام لوگ چوک میں جمع ہو کر روڈ بلاک کر دیں جب تک ہمارے کارکن کا قاتل پولیس والا گرفتار نہیں ہوتا اس وقت تک احتجاج جاری رہے گا۔ ابھی سانحہ لاہور تازہ تھا اہل حدیث کے جذبات تو پہلے ہی بپھرے ہوئے تھے اس واقعہ نے جلتی پر تیل کا کام کیا جو لوگ گھروں میں جا چکے تھے وہ بھی اعلان سن کر واپس آ گئے اس موقعہ پر پولیس نے اپنے روایتی انداز کو اپناتے ہوئے دھمکیاں وغیرہ دیں کہ روڈ ابھی ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے ورنہ …… بس پھر کیا تھا اس کے بعد حافظ عبدالعلیم یزدانی رحمہ اللہ نے ایک دھواں دھار تقریر کر دی اور کارکنوں کے جذبات کو گرما دیا ۔ اب صورت حال دیکھ کر پولیس افسران نے مذاکرات کی میز سجائی لیکن یزدانی صاحب کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ پہلے قاتل کو گرفتار کیا جائے اس کے خلاف F.I.Rدرج کی جائے اور اس کی وردی اتروائی جائے تب یہ احتجاج ختم ہو گا۔ اب یہ صورتحال کئی قسم کے نشیب و فراز سے دو چار ہوتی رہی لیکن یزدانی صاحب پوری جماعت کی قیادت کرتے ہوئے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے تھے یہاں یہ یاد رہے کہ وہ جمعرات کا دن تھا اور صبح جمعۃ المبارک ۔ مجھے آج بھی وہ لمحات اس طرح یاد ہیں کہ جیسے ابھی یہ واقعہ ہو رہا ہو۔ یزدانی صاحب عام لوگوں کے ساتھ سڑک کے فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوئے تھے کہ انہیں کرسی لا کر دی گئی تو آپ شاہدرہ کی طرف منہ کر کے کرسی پربیٹھے ابھی بھی نظر آ رہے ہیں بعد ازاں ایک آدمی نے آ کر کہا کہ آپ تھوڑی دیر آرام کر لیں لیکن آپ نے انکار کر دیا تو وہ آدمی کہنے لگا کہ صبح جمعہ ہے اور آپ نے سفر بھی کرنا ہے اور جمعہ بھی پڑھانا ہے تو حافظ صاحب رحمہ اللہ فرمانے لگے کہ شاید ہمیں جمعہ اسی چوک میں ہی پڑھنا پڑے اس لیے میری فکر چھوڑیں اب اس بات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے ۔ چنانچہ اس دور ان پولیس افسران نے پھر آ کر اطلاع دی کہ ہم نے وہ پولیس والا ملزم گرفتار کر لیا ہے لہٰذا آپ احتجاج ختم کر دیں لیکن حافظ صاحب فرمانے لگے کہ نہیں ہمیں آپ پر اعتبار نہیں ہمارے بندے جائیں گے اور دیکھ کر آئیں گے پھر ہم کوئی اعلان کریں گے چنانچہ جماعتی احباب گئے جب واپس آئے تو انہوں نے بتایا کہ ملزم تو وہی ہے لیکن حوالات میں بند نہیں بلکہ کمرے میں بیٹھا ہوا ہے اور یہ کہتے ہیں کہ ہم نے گرفتار کر لیا ہے تو حافظ صاحب فرمانے لگے کہ پہلے اسے حوالات میں بند کیا جائے پھر ہم احتجاج ختم کریں گے۔ لہٰذا وہ پولیس والے ان جماعتی ساتھیوں کو ساتھ لے کر دوبارہ گئے اور مذکورہ پولیس والے کو حوالات میں بند کیا۔ اور واپس آ کر اطلاع دی تو حافظ صاحب نے ان سے سوال کیا کہ کیا اس نے وردی اتار کر سادہ لباس پہنا ہے یا ابھی وردی میں ہے تو جماعتی ساتھیوں نے بتایا کہ وردی میں ہے تو حافظ صاحب فرمانے لگے کہ ابھی بھی ہم نے یہ ’’دھرنا‘‘ ختم نہیں کرنا پہلے اس کی وردی اتروائی جائے۔ چنانچہ اس کی وردی اتروائی گئی اسے حوالات میں بند کیا گیا تو جماعتی ساتھیوں نے آ کر اطلاع دی میرے کانوں میں اب بھی حافظ صاحب کی آواز سنائی دے رہی ہے اور آپ کا وہ انداز نظر آ رہا ہے آپ پوچھ رہے ہیں تم ملزم کو پہنچانتے ہو‘ وہی ہے یا کوئی اور بندہ؟ کیا وہ حوالات میں بند ہے۔ کیا وہ وردی اتار کر سادہ لباس پہن چکا ہے۔ ؟ اور آخری سوال تھا کہ کیا آپ مطمئن ہیں اگر احتجاج ختم کر دیا جائے تو ……؟ جب مقامی جماعت کے احباب نے ہر سوال کا جواب ہاں میں دیا تو پھر آپ نے مجمع میں ساری صورتحال واضح کر کے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں دعاؤں سے نوازا۔

یہ زندگی میں پہلا ’’دھرنا‘‘ تھا جو یزدانی رحمہ اللہ کی قیادت میں چوک بیگم کوٹ میں دیا گیا اور وہ سو فیصد کامیاب رہا۔ اس وقت تک ابھی لوگوں نے ’’دھرنے ‘‘ کا نام ہی نہیں سنا تھا۔یہ تھی حافظ صاحب رحمہ اللہ میں جرأت و بہادری اور قائدانہ صلاحیتیں کہ جن کی بدولت ہر چھوٹا بڑا ان سے بہت محبت کرتا تھا اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنے بندے سے محبت والا معاملہ فرمائیں (آمین)

حافظ صاحب رحمہ اللہ بڑے بے باک‘ جرأتمند اور نڈر خطیب تھے۔ اپنا مسلک و موقف بڑی وضاحت سے بیان فرماتے۔ عقیدے اور نظریے میں کسی قسم کی مداہنت کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ مسلک اہل حدیث کی عزت و آبرو اور مقام ومرتبہ ان کے پیش نظر رہتا۔ گوجرانوالہ میں اہل حدیث‘ دیو بندی اور بریلوی مکتبہ فکر کی مشترکہ کانفرنس ’’عظمت صحابہ کرام و اہل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم‘‘ کے نام سے محرم الحرام کے مہینے میں منعقد ہوتی ہے۔ پہلی کانفرنس 1986ء میں ہوئی جس میں اہل حدیث کی نمائندگی شہید اسلام علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ اور خطیب ایشیاء قاری عبدالحفیظ فیصل آباد ی حفظہ اللہ تعالیٰ نے فرمائی قاری صاحب نے وہاں پہلی دفعہ ’’تیرا علی ‘ میرا علی‘‘کے موضوع پر خطاب فرمایا۔ جو اپنی مثال آپ ہی تھا لیکن علامہ صاحب رحمہ اللہ کی تقریر پوری کانفرنس کی روح رواں تھی یوں اس سال یہ کانفرنس اہل حدیث کے نام رہی۔ آئندہ سال 1987ء میں پھر اس کانفرنس میں اہل حدیث کی نمائندگی کے لیے قرعہ فال مذکورہ شخصیات کے نام ہی نکلا۔ اشتہار چھپ چکے بلکہ دیواروں پر لگا دیئے گئے کہ 23مارچ 1987کو سانحہ لاہور رونما ہو گیا اور اس کانفرنس سے پہلے ہی شہید اسلام علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ خلعت شہادت سے نواز دیئے گئے۔ چنانچہ جماعت نے موقعہ پر فیصلہ کیا اور علامہ شہید رحمہ اللہ کے متبادل حضرت حافظ عبدالعلیم یزدانی رحمہ اللہ کا انتخاب کیا گیا آپ کی بھرپور جوانی کا دور تھا نوجوانوں کے جذبات تھے کہ آپ کا شاندار اور فقید المثال استقبال کیا گیا گوجرانوالہ کی جس مسجد ’’کھیالی گیٹ‘‘ میں یہ پروگرام ہوتا ہے وہ بہت چھوٹی ہے اس میں صرف چند ایک لوگ ہی سما سکتے ہیں البتہ چوک بہت وسیع اور تین اطراف میں روڈ بہت کھلے ہیں نیز مسجد سے باہر اس وقت ٹیلی ویژن لگا کر سامعین کو خطباء کے ساتھ شریک کر لیا جاتا تھا اب تو ٹیکنالوجی نے بہت ترقی کر لی ہے اس لیے ہو سکتا ہے مزید بہتر انتظام کرلیا گیا ہو۔ علامہ شہید رحمہ اللہ کی گذشتہ سال کی تقریر کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ اسے ٹی وی پر دوبارہ لگا کر لاؤڈ سپیکر میں سنایا جا رہا تھا لوگ اسی طرح ٹیلی ویژنوں کے سامنے ہمہ تن گوش ہو کر تقریر سن رہے تھے جیسے علامہ صاحب کے سامنے بیٹھ کر سنتے تھے آپ کو داد بھی دیتے ‘ نعرے بازی بھی کرتے اور زاروقطار روتے بھی تھے عجیب سا ماحول تھا کہ حافظ صاحب مرحوم کو ایک جلوس کی شکل میں جلسہ گاہ لایا گیا مجھے پتہ نہیں کیوں اور کیسے خیال آ گیا کہ حافظ صاحب کو کوئی مشورہ دینا چاہیے لیکن میری آپ تک رسائی نہیں تھی اور نہ ہی مجھے کوئی کاغذ میسر تھا چنانچہ میری جیب میں ایک چھوٹی ڈائری تھی میں نے اس کی ایک سائڈ کا گتہ پھاڑ کر کچھ اس قسم کے الفاظ لکھے’’السلام علیکم حافظ صاحب آپ جانتے ہیں یہ مشترکہ پروگرام ہے اور گذشتہ سال علامہ صاحب کی تقریر کی ابھی تک دھوم مچی ہوئی ہے لہٰذا اس قسم کی تقریر ہونی چاہیے کہ جماعت کا مقام بلند ہو اور لو گ دیر تک آپ کو یاد رکھیں۔ ’’یعنی اس عبارت کا مضمون یہی تھا پھر اس جلوس کے رش میں بڑی مشکل سے حافظ صاحب سے ہاتھ ملانے میں کامیاب ہو سکا اسی دوران میں نے آپ کو وہ رقعہ بھی تھما دیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ حافظ صاحب نے وہ پڑھا یا نہیں لیکن واقعی حافظ صاحب نے ایسی لا جواب اور پُرجوش تقریر کی کہ سالوں لوگ اس کا تذکرہ کرتے رہے۔

آپ نے سورہ حجرات کی آیت

أُولَئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى

  تلاوت کی اس تقریر کے بعض اقتباسات مجھے اب بھی یاد ہیں بحمد اللہ تعالیٰ ۔عرض کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ بہترین خطیب تھے اور اپنے مسلک کو ہر اسٹیج پر بڑی جرات سے بیان فرماتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی تبلیغی مساعی کو ان کی حسنات میں شمار فرمائے (آمین ثم آمین) حافظ بدر نصیر صاحب نے بتایا کہ ایک مرتبہ جھنگ میں دیو بندیوں کی مسجد کو شیعوں نے آگ لگا دی تو شہر کے حالات کشید ہ ہو گئے اور جائے وقوعہ پر زبردست فائرنگ ہونے لگی جب حافظ صاحب کو معلوم ہوا تو آپ وہاں جانے کے لیے نکلے احباب جماعت نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے آپ سے نہ جانے کی اپیل کی لیکن آپ نے کمال جرات و بہادری سے برستی گولیوں میں وہاں پہنچ کر نہ صرف جماعت کی نمائندگی کی بلکہ حق ادا کر دیا حتی کہ جھنگ میں عظمت صحابہ کرام اور دفاع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے آپ کی جرات ‘ بہادری اور ایثار و قربانی اور حکمت عملی کے اپنے ‘بیگانے معترف ہیں کہ آپ ہمیشہ ہراول دستہ میں قیادت کرتے ہوئے نظر آئے۔

حافظ عبدالعلیم یزدانی رحمہ اللہ بڑے مستقل مزاج آدمی تھے آپ تقریباً 1976ء میں رمضان المبارک میں تراویح کی امامت کے لیے جھنگ تشریف لائے آپ کی خوبصورت آواز‘ نماز تراویح کے بعد درس قرآن مجید اور آپ کی خوش اخلاقی اور ملنساری کی وجہ سے آئندہ سال نماز تراویح پڑھانے کے لیے دوبارہ تشریف لائے حتی کہ جمعۃ المبارک کا خطبہ شروع کر دیا پھر جامعہ سلفیہ سے تعلیمی مراحل طے کرنے کے بعد مستقل طور پر جھنگ کو اپنا مسکن بنا لیا شادی بھی وہی کی اور مدفون بھی وہی ہوئے آپ نے شہرت و عروج کی بلندیوں کو چھو ا کئی ایک شہروں سے بڑی بڑی پیش کشیں ہوئی لیکن انہوں نے یہ کہہ کر ہر آفر کو ٹھکرا دیا کہ میں نے جھنگ میں محنت کی ہوئی ہے اب اس کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتا۔ حالانکہ جھنگ میں آپ نے عسر یُسر ہر قسم کے حالات دیکھے مگر آپ کے پایہ استقلال میں لرزش نہیں آئی۔

آپ نے 1956ء کو پتوکی میں مولانا عبدالرحیم رحمہ اللہ کے ہاں ولادت پائی آپ کے والد محترم بڑے ثقہ عالم دین ‘بہترین خطیب اور کامیاب مناظر تھے آپ نے مولوی عمر اچھروی سے مباہلہ بھی کیا تھا جس میں آپ کو اللہ تعالیٰ نے کامیابی سے سرفراز فرمایا۔

حافظ عبدالعلیم مرحوم نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کرنے کے بعد جامعہ سلفیہ فیصل آبادمیں داخلہ لیا۔ جہاں مولانا محمد صدیق کرپالوی ‘ حافظ احمد اللہ بڈھیمالوی رحمۃ اللہ علیہماجیسے اساطین علم سے کسب فیض کیا مولانا محمد یونس بٹ حفظہ اللہ تعالیٰ وفاق المدارس السلفیہ پاکستان اور چوہدری محمد یٰسین ظفر حفظہ اللہ تعالیٰ پرنسپل جامعہ سلفیہ کے کلاس فیلو تھے تقریر کا شوق زمانہ طالب علمی سے ہی تھا جامعہ میں بھی تقریری مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہر جمعرات کو کسی قریبی مسجد اہل حدیث یا گاؤں میں تشریف لے جاتے اور وہاں درس و خطاب سے سامعین کو مستفید فرماتے۔ آپ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے مرکزی راہنما تھے آپ نے امیر کی سمع واطاعت کی ایک مثال قائم کی۔ جماعتی پلیٹ فارم پر اپنے موقف اور نقطہ نظر کا برملا اظہار فرماتے لیکن جماعت کی طرف سے جوپالیسی بن جاتی پھر حتی المقدور اس کی پابندی فرماتے۔ آپ نے ضلع جھنگ میں جماعت اہل حدیث کو نہ صرف کہ ایک مقام دلایا بلکہ ان کی طاقت و قوت کو بھی منوایا ۔ تقریباً آپ نے بیالیس سال کا عرصہ جھنگ کی سرزمین پر گزارا۔ محترم حافظ بدر نصیر صاحب ناظم مرکزی جمعیت اہل حدیث تحصیل جھنگ بتا رہے تھے کہ 24اگست 2018ء کا جمعہ آپ نے ان کی مسجد جھنگ سٹی میں پڑھایا جمعہ کے بعد بیٹھے ہوئے تھے تو میں نے کہا حافظ صاحب آپ کا جمعہ بڑا کامیاب ہوا ہے لہٰذا ہر سال ایک جمعہ ارشاد فرمایا کریں تو میرے گھٹنے پر ہاتھ مار کر فرمانے لگے ’’نہیں او بچیا ‘اے پہلا وی اے تے آخری وی‘‘ یعنی آئندہ میں نے آپ کے پاس جمعہ نہیں پڑھانا یہ میں نے آخری جمعہ پڑھا دیا ہے اس کے بعد 26اگست 2018ء بروز اتوار کو لاہور مرکزی مجلس عامہ کے اجلاس میں انہیں ہارٹ اٹیک ہوتا ہے اور پھر 6ستمبر 2018ء کو ان کی میت ہی جھنگ میں آئی اور ان کے یہ الفاظ الہامی ثابت ہوئے کہ ’’یہ میرا آخری جمعہ ہے‘‘۔

آپ نے خطابت کا آغاز بھی جھنگ سٹی سے کیا اور زندگی کا آخری جمعہ بھی جھنگ سٹی میں پڑھایا اور جھنگ سٹی کے قبرستان میں ہی دفن کیے گئے۔ اللہم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ

یہ میری بچپن کی دو محبتیں تھیں (قاری عبدالوکیل صدیقی رحمہ اللہ اور حافظ عبدالعلیم یزدانی رحمہ اللہ) تیسری محبت کے لیے میں پہلے سے زیادہ دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و عافیت کے ساتھ ایمان و اعمال صالحہ سے مزین لمبی زندگی عطا فرمائے۔ اگرچہ اب ان سے تعارف اور تعلق خاطر بھی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بچپن میں ان سے کوئی تعارف نہ تھا فقط ان کے اوصاف حمیدہ کی وجہ سے لوجہ اللہ ان سے غائبانہ محبت تھی اور ہے بھی ۔دعاہے کہ اللہ تعالیٰ قائم رکھے۔ (آمین)

نام اس لیے نہیں لکھ رہا کہ ’’نظر‘‘ نہ لگے۔ آپ بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ میرے محبوب کو دنیا و آخرت کی خوشیاں نصیب فرمائے ۔( آمین ثم آمین)

وما اغنی عنکم من اللہ من شئی ان الحکم الا للہ علیہ توکلت وعلیہ فلیتوکل المتوکلون

مصافحہ کے آداب

دین اسلام تہذیب اور معاشرتی آداب کا کامل نمونہ ہے وہ اپنے ماننے والوں کی نہ صرف اصلاح کرتاہے بلکہ ان کی جہالت بھی دور کرتاہے انہیں صلح وایمان، سلامتی واطاعت ،فرمانبرداری،اخوت وبھائی چارے کی تعلیم دیتاہے۔پیدائش سے لے کر موت تک الغرض ہرموقعے کے لیے آداب زندگی مقرر کر دیئے گئے ہیں۔

مسلمانوں کی ملاقات کے وقت محبت اور احترام کا اظہار کے لیے سلام کے علاوہ مصافحہ بھی مسنون ہےجو عموماً سلام کے ساتھ یا اس کے بعد ہوتاہے۔ اہل لغت نے مصافحہ کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے ۔ مصافحہ’’باب مفاعلہ‘‘ سے ہے اس سے مرادایک شخص کی ہتھیلی کا اندرونی حصہ دوسرے کی ہتھیلی کے اندرونی حصہ سے ملانا۔(النہایۃ 3/43)

مصافحہ کرنے کا طریقہ یمن میں رائج تھا انہوں نے اس کا اظہار کیا جسے نبی کریم نے بھی پسند فرمایا۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ جب یمن والے آئے تو نبی کریم نے فرمایا ’’یمن والے آئے ہیں اور تم لوگوں سے زیادہ نرم دل ہیں۔‘‘ (مسند احمد :12610)

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہی لوگ وہ ہیں جو پہلے مصافحہ لائے ہیں۔

دین اسلام نے قبل از اسلام جو اچھے طریقے مروج تھے وہ اسی طرح رہنے دیئے جیسا کہ مصافحہ اور جوبرے طریقے تھے وہ بدل دیئے جیسا کہ قبل از اسلام زمانہ جاہلیت میں عرب معاشرے کی یہ عادت تھی کہ جب آپس میں ملتے تو ایک دوسرے کو سلام ودعا اس طرح دیتے ’’صبح بخیر‘‘ سامنے والا اس طرح جواب دیتا’’تمہاری صبح خوشگوار ہو، اللہ تمہیں زندہ رکھے اور اللہ تعالیٰ تمہیں آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب کرے‘‘ دین اسلام نے اس طرز کو بدل کر اس کی جگہ ’’السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ‘‘ کہنے کی تعلیم دی۔

مہمان کے آنے پر خوشی اورمحبت کا اظہار کریں ، آگے بڑھ کر استقبال کریں، سلام دعا کریں اورمصافحہ کریں ، مصافحہ کی برکت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش کا ذریعہ ہے۔ مصافحہ ایک مسنون اور مستحب عمل ہے۔سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا :’’ جو کوئی دو مسلمان ملاقات کریں اور پھر مصافحہ کرتے ہیں تو جدا ہونے سے پہلے ہی ان دونوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ (ابوداؤد : 5212)

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم  نے فرمایا :’’ جب دو مسلمان ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور ان میں سے ایک دوسرے کے ہاتھ کو پکڑتاہے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ ان کی دعاؤں کے وقت موجود رہے اور ان دونوں کے ہاتھوں کے جدا ہونے سے قبل ان کی مغفرت کر دے۔ (مسند احمد : 12478)

جناب قتادہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں مصافحہ کرنے کا دستور تھا؟ انہوں نے فرمایا ’’ہاں‘‘۔ (صحیح بخاری : 6263)

مصافحہ چونکہ سلام کی تکمیل ہے اس لیے پہلے سلام پھر مصافحہ کرنا چاہیے ۔ عموماً یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ مصافحہ کا تو خوب اہتمام ہوتاہے لیکن سلام کا نہیں ہوتا یا مصافحہ کے بعد سلام ہوتاہے، یہ دونوں طریقے خلاف سنت ہیں، سنت طریقہ یہ ہے کہ پہلے سلام پھر مصافحہ کیا جائے آپ  اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مصافحہ کے بغیر سلام ثابت نہیں۔

مصافحہ ایک ہاتھ سے کرنا احادیث صحیحہ اور آثار صحابہ سے

نہایت واضح طور پر ثابت ہے اس کے ثبوت میں ذرا بھی

شک نہیں ۔سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنی اس ایک ہتھیلی سے مصافحہ کیا ،میں نے رسول اللہ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم نہ کسی چیز کو اور نہ کسی ریشمی کپڑے کو پایا۔ (مسلم:6053)

بعض لوگ کہتے ہیں کہ نصاریٰ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرتے ہیں پس ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے میں ان کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے اور نصاریٰ اور یہود کی مخالفت کرنے کا حکم ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم سے ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے کا مسنون ہونا ثابت اور کسی حدیث سے ایک ہاتھ سے مصافحہ کے بارے میں نصاری کی مخالفت کرنے کا حکم ہرگز ثابت نہیں ہے تو ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا نہ کسی قوم سے مشابہت سے ناجائز ہوسکتاہے اور نہ کسی قول وفعل سے مکروہ ٹھہر سکتاہے بلکہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مسنون ہی رہے گا۔

اگر کوئی کہے کہ صحیح بخاری سے دونوں ہاتھوں کا مصافحہ ثابت ہے تو یہ محض جھوٹ ہے اور اہل اسلام کو صاف دھوکا دینا اور لوگوں کو مغالطہ میں ڈالنا ہے۔

ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا جس طرح اہل دین اور اہل عرب مصافحہ کرتے ہیں احادیث صحیحہ صریحہ اور آثار صحابہ رضی اللہ عنہم سے نہایت واضح طور پر ثابت ہے۔ اس کے ثبوت میں ذرا بھی شک نہیں اور دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا جس طرح اس زمانے کے بعض لوگوں میں رائج ہے کسی صحیح حدیث سے ثابت ہے اور نہ کسی صحابی کے اثر سے اور نہ کسی تابعی کے قول وفعل سے اور ائمہ اربعہ سے بھی کسی امام محترم کا دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا یا اس کا فتویٰ دینا سنداً منقول نہیں۔

درِ مختار فقہ کی ایک مشہور ومعروف کتاب ہے اور اس میں لکھا ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا سنت ہے۔ کسی کتاب کا مشہور ومعروف ہونا اور بات ہے اور اس کا مستند اور معتبر ہونا اور بات ہے ۔ (ماخوذ از المقالۃ الحسنی فی سنۃ المصافحۃبالید الیمنی)

مصافحہ ایک ہاتھ سے مسنون ہے یا دونوں ہاتھوں سے ۔ اس کی مزید تفصیل کے لیے مولانا عبد الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کا مذکورہ رسالہ مطالعہ کیاجائے۔

شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کا قول غنیۃ الطالبین فصل ان امور کے بیان میں ہے کہ جن کا داہنے ہاتھ سے کرنا مستحب ہے ’’مسلمانوں کے لیے چیزوں کو لینا اوردینا، کھانا اور پینا اور مصافحہ کرنا داہنے ہاتھ سے مستحب ہے اور وضو کرنے میں اور جوتے اورکپڑے پہننے میں داہنی طرف سے شروع کرنا مستحب ہے۔

مصافحہ مندرجہ ذیل چند مواقع پر نہ کیا جائے:

1کفار ومشرک اور بدعت کرنے والے اور اس کی دعوت دینے والا سے ملاقات کے موقع پر ان کی خاص عزت وتکریم کے لیے مصافحہ ہرگز نہ کیاجائے۔

2 اگر کوئی شخص گفتگو میں یا کسی کام میں یا کھانا کھانے میں مشغول ہو تو اسے سلام کا جواب دینے کے ساتھ مصافحہ کیلئے مجبور نہ کیاجائے۔

3 اگر کوئی شخص جلدی میں ہو یا تیزی سے جارہا ہو تو اسے سلام کے ساتھ مصافحہ کے لیے نہ روکا جائے۔

4 بعض لوگ مصافحہ کرنے کے بعد سینے پر ہاتھ رکھتے ہیں یا مصافحہ تو ایک ہاتھ سے کرتے ہیں لیکن دوسرے ہاتھ سے سامنے والےکی کہنی یا بازو تھام لیتے ہیں ، اس عمل کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں لہذا اس عمل سے اجتناب کیا جائے۔

5 باہم ملاقات کے وقت سلام کے بعد مصافحہ کرتے ہوئے جھکنا شرعاً منع ہے۔

6 بعض مسلمان قوموں میں یہ رواج عام ہے کہ مصافحہ کے بعد ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یہ عمل شریعت کی تعلیم نہیں لہذا اس سے بھی گریز کیاجائے۔

7 لوگوں سے مصافحہ کرنا ہو تو دائیں طرف کو مقدم رکھتے ہوئے بائیں طرف کے لوگوں سے مصافحہ میں پہل کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

جب سے ہمارے معاشرے میں روشن خیالی اور جدت پسندی آئی ہے ، مغربی تہذیب کی اندھی تقلید نے ہمارے معاشرے کو تباہ وبرباد کردیا ہے۔مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ آج ہماری تہذیب وتمدن، ثقافت، عادات وبودوباش کے تمام طریقوں میں مغرب کی نقالی ہے۔ مخلوط تعلیمی نظام میں نوجوان طلباء وطالبات آپس میں ایک دوسرے سے اور نامحرم اساتذہ سے مصافحہ کرتے نظر آتے ہیں اسی طرح نامحرم رشتہ داروں سے بھی مصافحہ کرنا جو کہ شرعاً ناجائز ہے۔

سیدہ امیمہ بنت رقیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں کچھ انصاری عورتوں کی معیت میں نبی کریم  کی خدمت میں حاضر ہوئی ہم آپ  سے بیعت ہونا چاہتی تھیں ہم نے عرض کی ، اے اللہ کے رسول ہم آپ سے بیعت کرتی ہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی طرف سے جھوٹ گھڑ کر کسی پر بہتان طرازی نہیں کریں گی اور کسی نیک کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔ آپ  نے فرمایا اپنی طاقت اور وسعت کے مطابق( تم پابندہوگی) ہم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہم پر ہم سے بھی زیادہ مہربان اور رحم فرمانے والے ہیں۔ اے اللہ کے رسول اجازت دیجیے کہ ہم آپ کے دست مبارک پر بیعت کریں۔ رسول اللہ  نے فرمایا میں عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتا ، میرا زبانی طور پر سوعورتوں سے بات چیت کرنا ایسا ہی ہے جیسے ہر عورت سے الگ طور پر بات چیت کروں۔ (سنن نسائی : 4186)

رسول اللہ  غیر محرم عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتے تھے اگرچہ ضرورت کا تقاضا بھی ہوتا جیسے کہ نبی کریم نے عورتوں سے بیعت لیتے وقت صرف زبان سے بیعت لینے پر اکتفاء فرمایا۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جو مسلمان عورت ان شرائط کا اقرار کر لیتی تو رسول اللہ زبانی طور پر اس سے فرماتے ’’میں نے تمہاری بیعت قبول کر لی ہے‘‘۔ اللہ کی قسم! ایسا کبھی نہیں ہوا کہ نبی کریم   کے ہاتھ سے بیعت لیتے وقت کسی عورت کا ہاتھ چھوا ہو ، نبی مکرم ان سے صرف زبانی بیعت لیتے تھے تم ان مذکورہ باتوں پر قائم رہنا۔ (صحیح بخاری : 4891)

نبی معظم نے فرمایا ’’ تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی کیل گاڑ دی جائے یہ اس بات سے بہتر ہے کہ وہ کسی غیر محرم عورت کو چھوئے ۔(صحیح الترغیب والترھیب : 1915)

شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ عورت سے مصافحہ کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

غیر محرم عورتوں سے مصافحہ کرنا مطلقاً ناجائز ہے خواہ وہ جوان ہوں یا بوڑھی اور خواہ مصافحہ کرنے والا مرد جوان ہو یا بوڑھا۔ کیونکہ اس میں ہر ایک کے لیے فتنے کا خطرہ ہے۔ اس اعتبار سے بھی کوئی فرق نہیں کہ عورت نے دستانے وغیرہ پہننے ہیں یا نہیں کیونکہ دلائل کے عموم اور فتنے کے سدباب کا یہی تقاضا ہے۔(فتاوی اسلامیہ 3/89)

آپس میں ملاقات کے وقت دین جو ہمیں شعور وتہذیب سکھاتا ہے وہ یہی ہے کہ ایک مسلمان جب دوسرے مسلمان بھائی سے ملے پہلے سلام کہے پھر ایک ہاتھ سے مصافحہ کر ے۔مصافحہ مسلمان کا ملاقاتی شعار ہے جو آج بری طرح سر کے اشاروں اور چہروں کے انداز اور اشاروں کی نذر ہوچکا ہے۔ ایک ہاتھ سے مصافحہ سنت ہے۔ رسول اللہ  بنی نوع انسان کے لیے ہر طرح سے نمونہ تھے۔ بشری تقاضوں کے تحت نبی کریم کی حیات مبارکہ میں بشری زندگی کے تمام پہلو موجود تھے کہ جن کو دیکھ کر ہر انسان اپنی زندگی کا ہر گوشہ نبی مکرم کے عمل کے مطابق گزار سکتاہے۔

سنت کی عظمت كو جان كر اور اس پر عمل کرکے دنیا وآخرت میں لا تعداد فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں ایک ہاتھ سے مصافحہ سبب انس ومحبت ہے۔ ایک دوسرے سے کینہ،بغض وحسد کی صفائی میں مؤثر ہے۔ اتفاق واتحاد کا نسخۂ اکسیر ہے ، گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے۔ میری آپ تمام قارئین سے التماس ہے کہ آپ اپنے عام وخاص،دنیاوی وشرعی مسائل صحیح احادیث کی روشنی میں خود بھی سمجھنے کی کوشش کریں اور اپنے دوست احباب کو بھی احادیث صحیحہ کی طرف متوجہ کرائیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم   کے ہر طریقے پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

شائستہ، پُروقار اندازِ گُفتگو

ہمیں آپس میں دھیمی ،پرُوقار اور شائستہ لہجہ میں بات کرنی چاہیے،چونکہ نرم لہجہ اور نرمی سے گفتگو کرنے سے ہمارے دل میںاچھا اثر پیدا ہوتا ہے،اگر دل میں غصّہ اور نفرت ہو تو قریب بیٹھا ہو ا شخص بھی دور جاکر بیٹھنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔غُصّہ،غضب، تعصب، حسد،بغض ، عناد و نفرت کی وجہ سے دلوں میں مزید فاصلے بڑہ جاتے ہیں جبکہ محبت بھرا رویّہ نرم گفتار دل و دماغ پر انتہائی خوشگوار اثر چھوڑتے ہیں، اس لیٔے اگر آپ کسی کے دل میں جگہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پُر تشددشور و غل بھیانک اور غصّے بھری آواز سے نہیں بلکہ نرم گفُتاری شائستہ باوقار دھیمی گفتگو سے بات کرنی چاہیے ،چونکہ بادلوں کی ہولناک گرج و چمک سے دل تو دھل جاتے ہیں جبکہ نرم بارش کی باوقار بوندوں سے جسم پر پڑنے والے ٹھنڈے قطرے سکون قلب عطا کرتے ہیں غصّے کو ’لمحاتی پاگل پن ‘بھی کہا جاتا ہے، چونکہ تجربہ شاھد ہے کہ غصّہ و غضب سے مغلوب الغضب ہوجانا اور قابو سے باہر ہوئے جذبات ایک ایسی خوفناک آندھی اور طاقت کی مانند ہوتے ہیں جو پہلے اپنے آپ کو پھر آس پاس والوں کو تباہ وبرباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، کبھی تو غصّہ میں کیے ہوئے چند لمحات کے فیصلے برسوں تک بھگتنا پڑتے ہیں، کبھی چند لمحات کے جذباتی فیصلوں کے باعث مردوزن میں قتل وغارت جیسے سنگین جرائم وقوع پذیر ہوجاتے ہیں۔تجربہ شاھد ہے کہ فورا ً غصّہ میں بے قابو ہوکر طلاق دے دینا پھر پچھتاوے کے بعد مُفتی صاحبان کی حاضریاں دیتے رہنا کوئی اچھا کام نہیں ، کبھی غضبناک ہونے سے، بلڈپریشر،دماغی فالج اور ہارٹ اٹیک جیسے موذی امراض جسم و جان سے چمٹ پڑتے ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ’کہ بے قابو غصّہ ہاتھ میں پکڑے ایسے جلتے کوئلے کے ماند ہے جس سے بیک وقت پورا گھرانہ خاکستر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے، سچ تو یہ ہے کہ بلاشبہ غُصّہ و غضب دوسرے کی خطا کی سزا اپنے آپ کو دینے کے برابر ہے، مثلاً خود اپنے گھر میں ہر وقت خوف و دہشت کی علامت بنے رہنا ، گھر میں داخل ہوتے ہی گھر والوں کے پسینے چھوٹ جانا ،کلیجہ منہ کو آجانا ، ہرگز معیاری و متوازی زندگی نہیں، ایک جہاندیدہ دانا ہستی کا قول کتنا سچ ہے کہ ’ اپنے جذبات پر خود حکومت کرو نہ کہ تمہارے جذبات تم پر حکومت کرنے لگیں، اور تم بے بس ہو جاؤ‘ مشتعل دماغ مصائب و مسائل میں بے پناہ اضافے کا باعث بنتا ہے۔ غُصّہ ایک ایسی خوفناک چنگاری ہوتی ہے جو ابتدائی مراحل میں اگر بجھائی نہ جائے تو آگ کی صورت اختیار کر لیتی ہے، غُصّہ ہماری سوچ سمجھ عقل و شعُور کے دروازے تک بند کردیتا ہے ،غُصّہ جہالت سے شروع ہوکر پشیمانی اور ندامت پر جاکر اختتام پذیر ہوتا ہے، غُصّہ ایک نفسیاتی بیماری ہے جس کی علامات تکبر ، غُروراور احساس برتری ہوا کرتے ہیں جو مذہبی و اخلاقی لحاظ سے انتہائی مذموم عمل ہے۔ دیکھا جائے تو غُصّہ کی حالت میں انسان کی آنکھیں،کان اور چہرے سُرخ ہوجایا کرتے ہیں، گردن کی رگیں پھول جاتی ہیں، زبان قینچی کی صورت اختیار کر لیتی ہے دماغ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے یکسر محروم ہوجاتا ہے پھر بدحواسی کے عالم میں گالم گلوچ،الزام تراشی،ہاتھاپائی،مارپیٹ،طلاق، قتل و غارت حتیٰ کہ کبھی تو ’خودکشی‘ کی نوبت بھی آجاتی ہے، غصیلے لوگ پورے معاشرے سے کٹ کر اپنی ضد، انا،لایعنی مباحث اور شکوک و شبہات کے مکمل مریض بن جاتے ہیں، پھر تنہائی، مایوسی، ناامیدی اور قنوطیت ان کا مقدر بن جاتی ہے، آئے دن ہمارے ہاں جرایٔم و تشدد

پر مبنی ڈرا مے اور فلمیں دیکھتے ہوئے ہماری تحریروں،

تقریروں،محاضرات علمیّہ، مجالس اور عدلیہ کے فیصلوں میں بھی غُصّہ جھلکتا ہوا نظر آتا ہے، سیاسی لیڈر جس بے رحمی شقاوت قلبی سے حریف مخالف کو نیچا دِکھانے کے درپے ہوتے ہوئے جس بدتمیزی اور سفاکی سے ایک دوسرے کی کردار کُشی کرتے ہیں، تقاریر میں گلہ پھاڑتے ہوئے بدترین اخلاقی گراوٹ کے مظاہرے کرتے نظر آتے ہیںوہ کسی سے مخفی نہیں اور نہ ہی کسی مہذب قوم کا یہ شیوہ ہے ،جبکہ دیگر باوقار زیورِ تعلیم سے آراستہ زیرک و ذہین قومیں آپس کے اختلافات،تنازعات کا ہر وقت جایٔزہ لیتے ہوئے گھمبیر مسائل کا حل نکال کر اعتدال کی راہ اختیار کر تے ہیں تاکہ کسی صورت میںشدید تنازعات لڑائی جھگڑے اور قتل وغارت کی کبھی نوبت تک نہ آئے بلاشبہ زندہ معاشروں میں بعض اوقات اختلافات اور تنازعات بھی جنم لیتے ہیں مگر وہ پیہم رواں دواں زندگیوں پر اثرات نہیں ہوتے، قوم کے باشعور ذھین و ذیرک افراد ان کا ڈٹ کر خوبصورت حل بھی تلاش کر لیتے ہیں جس کے باعث سفاکی انارکی انتشار و افتراق اور خونریزی کی نوبت نہیں آتی بلکہ باشعور اَقوام و ملّل اختلافات تنازعات بڑے شان ،شعّور اور شائستگی سے برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں،بلکہ وہ تنقید کے باعث بھی آپے سے باہر ہونے کے بجائے اسے مناسب اہمیت دیتے ہوئے اختلاف کرنے والوں سے خوشگوار ماحول میں مذاکرات افہام وتفہیم سے محبت کی راہ پالیتے ہیں، اس طرح یہ معاشرہ زعفران بن کر فکر و فہم شعور و آگھی کی معطر لہریں اٹھتی نظر آتی ہیں، پھر یہ سماج افکار نُو کے تازہ پھولوں سے معطر ہوجاتا ہے اور محبت و خُلوص اور وُسّعت قلبی کی دلرُبا خوشبو سے پورا معاشرہ مہک اٹھتا ہے لیکن افسوس ہمارے مزاجوں میں اعتدال ،بردباری، سنجیدگی کے بجائے اشتعال ،انتقام اور تصادم کے اجزاء طاقت ور ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

مثلاًبعض حضرات غُصّے میں اتنے لال پیلے ہوجاتے ہیں کہ اگر ان لوگوں کو انکی وہ ’وڈیوز‘ نارمل حال میں دکھائی جائیں تو یہ حضرات یقینا شرم کے مارے پانی پانی ہوکر آپکے سامنے آنے کی بھی ہمت نہیں کریں گے ویسے دیکھا جائے تو غُصّے غضب اور چڑچڑاپن کی کئی وجوہات جن میں تعلیم و تربیت کی کمی،خوفِ الٰہی کا فقدان، بے روزگاری،ناانصافی،خاندانی رقابتیں،رنجشیں،تلخ مزاجی، تکبر و غرور، جھوٹی اناپرستی، عدم برداشت اورکسی ذات کے خلاف منفی جذبات کی فراوانی نمایاں نظر آتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے سچے مخلص بندے اور حقیقی متقین ہمیشہ عاجزی،انکساری،تواضع اور خاکساری اپنائے ہوئے تکبر اور غُرور کے مرض سے ہمیشہ کلیۃً محفوظ رہتے ہیںچونکہ خود غُصّہ بیج ہے تکبر اور اناپرستی کا۔

اپنی ذات،نفس ،مقام و مرتبہ، خاندان و جاہت، رنگ و نسل اور قوّت و اقتدار پر فخر کرنے والااپنے آپ کو دوسری مخلوق سے ہمیشہ بالاتر سمجھتے ہوئے حق کو پامال کرتے ہوئے اپنے آپ کو دوسروں سے ہر لحاظ بلند و بالا تصور کرتا ہے، جبکہ انسان کو غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کتنا رؤف و رحیم، حلیم و کریم ہے کہ ہم جیسے لاتعدادانسانوں کی نافرمانیاںاور قصور ہمیشہ سے معاف کرتا رہتا ہے۔ لِھٰذا فقط رضائے الٰہی کے خاطر دوسروں کی خطاؤںسے درگذر کرنا نظر عفّو سے نوازنا رحمان الرحیم کا بیحد پسند یدہ فعل ہے، ایسے حالات و واقعات میں دینی، سیاسی اور سماجی باوقار قائدین کرام کا فریضہ بنتا ہے کہ وہ ہمیشہ شیرین اور ملائم لہجہ اپنائیں نرم گُفتاری کو سماج میں فروغ دیں۔

ہمیشہ الزام تراشی،دشنام بازی،گالم گلوچ، بغض و عناد اور تَعصّب و تکبر سے بچتے ہوئے آپس میں مل جل کر گفت و شنید سے مسائل کا حل ڈھونڈیں شائستہ اور باوقار لہجہ اپنائیں، اور اپنے سماج میں قوت برداشت پیدا کریں اس طرح افتراق و انتشار غُصّہ و غضب کے ساتھ و ہیجاں میں بھی کمی واقع ہوگی، باہمی اعتماد اور اسلامی رشتے اور اخوۃ کے بندھن میں سب لوگ یکجاں ہوجائیں گے۔

ایسے میں ہمیں براہ راست قرآن و سنت اور آپ کی سیرت و سوانح سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ جیسا کہ ’نفسیات‘ ایک وسیع قابل ذکر اور اہم علم ہے جس کی بنیاد آج سے ۱۴۰۰ سال قبل رسول مکرم نے رکھی۔آیاتِ ربانی اور احادیث رسول نفسیاتِ انسانی کے مبادی اُصول وضع کرنے میںکلیدی کردار ادا کرتے ہیں جس سے تعمیر انسانیت ہوئی ، چونکہ مہذب گُفتگو کرنا اسلام کا ایک زرین اُصول ہے ، اگر تاریخ کا بغائیر مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مہذب گُفتگو ہی نے اقوام و افراد کو اسلام کا گرویدہ بنایا، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ سے واضح ہوتا ہے کہ لوگوں سے اچھے انداز میں گُفتگو کرو۔

تم فرعون کے پاس جاؤ تو اس سرکش سے بھی ’نرمی‘ سے بات کرو شاید وہ سمجھ لے یاڈر جائے ۔( طٰہٰ۴۳،۴۴)

اور یہ کہ مسلمان جب غضبناک ہوتے ہیں تو وہ معاف کرتے ہیں۔(الشوریٰ)

ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا پھر وہ صریح جھگڑالو بن گیا۔(یس۷۷)

ایسے ہی احادیث نبویہ سے بھی مہذب متمدن شائستہ گفتگو کرنے کی تاکید فرمائی گئی ہے، سیدناعبداللہ  رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول مکرم نے فرمایا: مسلمانوں کو گالی دینا فسق اور جنگ کرنا کفر ہے ۔ (بخاری۴۸)

 ایک اور جگہ جہنم میں جانے والے گناہوں میں ایک گناہ زبان کی بدکلامی شرم گاہ کی خباثتوں کو قرار دیا گیا ہے ۔

(ابن ماجہ۴۲۴۶)

مزید یہ کہ سیدنا جریررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جو کوئی نرمی اور مہذب انداز سے محروم کردیا گیا وہ خیرکثیر سے محروم کر دیا گیا ۔

(مسلم۱۶۵۹۸)

سب سے افضل اس کا اسلام ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان سلامت رہیں۔(بخاری)

قرآن و سنت سے جو بات واضح ہو کے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ امت مسلّمہ کی شناخت نرم شائستہ اور مہذب گفتگو سے ہے، چونکہ عظیم قومیں تہذیب ،شائستگی اور وقاراپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑتی لِھٰذا ہم پر لازم ہے کہ ہر لمحہ مہذب او رشاندارشائستہ گفتگو کی عادت اختیار کریں، سورۃ احزاب میں ارشاد ربانی ہے کہ ’اے ایمان والو اللہ سے ڈرو سیدھی بات یعنی مہذب اور شائستہ گفتگو کیا کرو اللہ تعالیٰ تمہارے تمام امور کو سنوار دے گا اور تمہارے تمام گناہ معاف کرے گا‘۔ مزید یہ کہ سورۃ البقرہ میں ارشاد الٰہی ہے کہ ’قول معروف ‘یعنی مہذب گفتگو اور درگذر کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دل آزاری ہو۔ صحیح مسلم میں ایک جگہ ارشاد نبوی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ مہذب گفتگو کرے یا خاموش رہے۔ اسلام میں جہاں مہذب گفتگو کا حکم آیا ہے وہیں فضول لغو لایعنی باتون سے باز رہنے کی بھی تاکید آئی ہے، قرآن عظیم کی روشنی میں کسی نادان کا بھی جواب تلخی سے نہ دیا جائے بلکہ ہر حال میں سلامت روی کو ملحوظ خاطر رکھا جائے، دراصل یہ نرم باوقار شائستہ کلام مخاطب کے قلب پر اثر انداز ہوتا ہے اور لوگوں کے درمیاں لڑائی جھگڑا اور فساد پیدا نہیں ہوتا، مقصد کہ ایسے فقرے جن میں لَعن، طَعن ، تَحقیر و تذلیل تُرش روئی کا پہلو نمایاں نظر آتا ہو اُن سے محفوظ رہنا چاہیے بے تکی لَغو باتوں سے حتیٰ المقدور بچنا چاہیے، انسان کی زبان اس کا ذریعہ ’اظہارمافی الضمیر‘ ہے پھر اس کا اظہار بھی خوشگوار و خوبصورت ہی ہونا چاہیے تویقیناً یہ سلگتی ہوئی دنیا بھی جنت نظیر بن جائے گی۔انسان کی زبان ایسی باوقار اور قیمتی متاع ہے کہ شیرین شائیستہ اور مہذب ہو تو کائنات میں دوستی اور محبت کی خوشگوار فضا قائم ہو گی ، اگر یہ تیز تلخ ،تُرش، طعن وتشنیع کی حامل ہو تودشمنیاں اور عداوتیں ہی جنم لیتی ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول کیا خوبصورت ہے کہ ’تلوار کا زخم تو وقت کے ساتھ بھر سکتا ہے، مگر زبان کا دیا ہوا زخم ہمیشہ تر و تازہ ہی رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن عظیم، احادیث رسول اور سیرت النبی سے کما حقہ استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ زندگی کے ہر شعبہ حیات میں انفرادی، اجتماعی،معاشی و معاشرتی،مادی و روحانی، سیاسی و سماجی، قومی و بین الاقوامی مواقع پر باوقار، مہذب، شائستہ اور شیرین گفتگو کو اپنا شعار بنا سکیں۔آمین یا ربَ العالمين

بنی اسرائیل کے تین بندوں کی کہانی رسول اللہ ﷺ کی زبانی – قسط 2

پیارے بچو ! رسول اللہ‌ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے۔ کوڑھی، گنجا اور نابینا، اللہ تعالیٰ نے انہیں آزمانے کا ارادہ کیا اور ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا ، فرشتہ کوڑھی کے پاس آیا اور کہنے لگا : تمہیں