Categories: جون2009

بے بسی ، بے حسی اور طاقت کا امتزاج

مئی کے مہینے کی گرمی ۔ ۔ ۔ توبہ توبہ اللہ رحم فرمائے ۔ اگر کسی سے ملنے کہیں جانا پڑجائے تو دس دفعہ سوچنا پڑتاہے ۔ اللہ اللہ کرکے خاکسار اپنے عزیز دوست کے آفس پہنچا تو آفس میں داخل ہوتے ہی ہر دلعزیز نے جھٹ سے مجھے پکڑ لیا اور یوں گویا ہوا : بھائی آج ایک عجیب واقعہ دیکھا ہے اور پھر وہ سنانا شروع ہوگیا:
نیپا چورنگی سے صفورا گوٹھ جانے والے روڈ پر ایک خاتوں رکشے میں سوار تھیں۔ رکشے والا رکشہ بھی بالکل درست چلا رہا تھا جیسے ہی رکشہ ثمامہ شاپنگ سینٹر کے سامنے پہنچا اچانک ایک تیز رفتار مزدانے جو کہ ڈرائیور کے بس سے باہر ہوگئی تھی ، رکشے کو زوردار ٹکر ماری اوررکشہ دوتین قلابازیاں کھا کر فٹ پاتھ کے ساتھ جالگا۔
رکشہ ڈرائیور ایک جانب اوندھا گرا ہوا تھا تو دوسری طرف وہ خاتون بے حس وحرکت پڑی ہوئی تھی ۔ بے حس مزدا والے نے جب یہ دیکھا تو فوراً مزدا سے اتر کر ایک جانب گلیوں سے فرار ہوگیا۔ اتنے میں لوگ دونوں زخمیوں کی جانب دوڑے جواب کچھ حواس سنبھال کر اپنے زخموں کی وجہ سے کراہ رہے تھے۔
ایک نوجوان نے فوراًایمرجنسی نمبر 15 پر فون ملا کر پولیس کو اطلاع دی ، کچھ لوگ پانی لے آئے ، کسی نے ایدھی اور چھی پا ایمبولینس کو فون کیا تو جواب ملا کہ ابھی کوئی ایمبولینس موجود نہیں جیسے ہی آئے گی آپ کی طرف بھیج دیں گے۔
رکشہ ڈرائیور نے بتایا کہ وہ خاتون اس کی بیوی ہے اور دونوں شاپنگ کرکے گھر جارہے تھے ڈرائیور بے چارے کے کندھے کی ہڈی شاید ٹوٹ چکی تھی جس کی وجہ سے وہ بہت تکلیف محسوس کررہا تھا جبکہ خاتون کے دو دانت ٹوٹ کرگرگئے اور گھٹنے اور کمر سے بھی خون رس رہا تھا۔ اتنی دیر میں پولیس آگئی اور لوگوں سے پوچھ گچھ کرنے لگے ، میں اور کچھ نوجوان مزدا میں گھسے اور کاغذات ٹٹولنے لگے جوکہ ڈیش بورڈ سے برآمد ہوئے۔
میں وہ کاغذات لے کر اے ایس آئی کے پاس آیا جس نے کاغذات ہاتھ میں لیتے ہی اپنے ساتھیوں کو چلنے کا اشارہ دیا اور موبائل میں بیٹھ کر جائے حادثہ سے کچھ فاصلے پر کھڑا ہوگیا ، لوگوں نے اسے بہت لعنت ملامت کی مگر وہ بھی بے حس نکلا۔
اسی اثناء میں سیاہ رنگ کے ایک نئے ماڈل کی ٹویوٹا کرولا جائے حادثہ کے قریب سے گزری اور پھرلوٹ آئی کار میں سے 30۔32 سال کا ایک خوش لباس نوجوان نمودار ہوا اور لوگوں کے مجمعے کو ہٹاتے ہوئے زخمیوں کے پاس جا پہنچا۔ لوگوں نے اسے معزز جان کر ساری صورت حال اس کو بتائی تو وہ طیش میں آگیا اور غصے سے پولیس موبائل جوکہ کچھ فاصلے پر ہی کھڑی تھی کی جانب بڑھا۔ موبائل کے قریب پہنچتے ہی اس نے موبائل کا دروازہ جھٹکے سے کھولا اور ای ایس آئی کو گریبان سے پکڑ کر باہر نکال دیا اور زور سے چلاّیا : ۔نظر آرہے ہیں وہ زخمی تجھے ، موبائل میں کیوں نہیں ڈالتا ان کو ؟ یا ایمبولینس کیوں نہیں بلاتا تو ؟
اے ایس آئی ادب سے بولا بھائی میرے پاس موبائل نہیں ہے تو نوجوان طیش میں آگیا اور اپنا ہاتھ فضا میں بلند کرلیا پھر بولا اللہ کی قسم اگر تیرے چہرے پر یہ داڑھی اور اس میں یہ سفید بال نہ ہوتے تو میں تیرا منہ توڑدیتا۔ یہ سب باتیں سارے پولیس اہلکاروں نے سنیں مگر کوئی بھی آگے نہ آیا۔
نوجوان نے جیب سے موبائل نکالا اور چھیپا کے نیپا والے دفتر فون کیا اور چند ہی لمحوں میں ایمبولینس زخمیوں کو لے گئی۔
جائے حادثہ پر موجودسب لوگ بے بسی ، بے حسی اور طاقت کے اس منظر کو دیکھ کر یقینا حیران ہوئے ہوں گے مگر میں اسی سوچ میں پڑا رہا کہ اگر وہ لڑکانہ آتا اور وہ زخمی خدانخواستہ مرجاتے تو ان کے قتل کا ذمہ دار کون تھا۔ ۔ ۔ مزدا والا ؟ پولیس والے ؟ یا ایمبولینس والے ؟؟
بے حسی ہمارا قومی وملی المیہ بن گئی ہے اللہ کے قرآن اور رسول اکے فرمان سے روگردانی کا یہ نتیجہ بر آمد ہوا کہ امت میں آج یگانگت اور معاشرتی اقدار کا فقدان ہے۔ جاہ وجلال اور ظاہری اشیاء کے حصول نے معاشرے کو روحانی تازگی اور تسکین سے بہرہ ور ہونے کا موقع ہی فراہم نہ کیا ، ہے کوئی جو قرآن اور حدیث میں موجود معاشرتی اور اخلاقی تعلیمات کا عملی نمونہ پیش کرسکے ؟؟؟ کاش کہ کوئی تو ہو ۔ ۔ ۔ اللہ اس ملک کی حفاظت فرمائے ۔ آمین

ایڈیٹر

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

6 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

6 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago