زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں لیے کمرے سے باہر نکل آئے ، وصیتیں سن کر کہہ رہے تھے کہ عمر نے آپنے بعد آنے والوں کو مشکل میں ڈال دیا ۔۔۔ سیدنا علی کی مراد تھی کہ حکمرانی کا جو یہ معیار قائم کر گئے اب بھلا اسے برقرار رکھنا کوئی آسان ہے ۔
اب یہی دیکھیے نا کہ خلیفہ بنے تو امانت و دیانت کا یہ عالم رہا کہ ریاست کی ملکیت ایک کھجور بھی خود پر حرام رکھی ۔
ایک صاحب کہ سرکاری ڈیوٹی پر ہوتے تھے ، ایک روز دور دراز سے سفر کر کے اپنی کارگزاری کی بپتا سنانے خلیفہ کے پاس آتے ہیں ۔ خلیفۃ المسلمین کے پاس بیٹھے ہیں ، گفتگو کر رہے ہیں تو ان کی مہمان نوازی کو سیدنا عمر نے بیت المال سے کچھ کھجوریں پیش فرمائیں ۔ وہ صاحب کھا رہے ہیں اور کھاتے کھاتے سیدنا عمر کو کہتے ہیں کہ :
’’ امیر المومنین ! آپ بھی تو کھائیے نا ’’
سیدنا عمر نے دھیرے سے انکار کر دیا تو اس پر وہ صاحب بولے :
’’ ہم تو بیت المال کے جانوروں کا دودھ بھی پیتے ہیں ، ان کی سواری بھی کرتے ہیں ، گوشت بھی کھا لیتے ہیں ’’
تو آپ نے فرمایا کہ :
’’ میرا اور تمہارا معاملہ الگ ہے تم لوگ بیت المال کے لیے محنت کرتے ہو ، صدقات کی وصولی کے لیے قریہ قریہ پھرتے ہو ، دھوپ اور موسم کی سختی برداشت کرتے ہو ، تم گویا ان جانوروں کی دم کے ساتھ لگے رہتے ہو ، تم اگر ان کے دودھ اور سواری سے فائدہ اٹھاؤ تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ لیکن میں یہاں مدینے میں بیٹھے بیٹھے یوں بیت المال کا مال کھانے کا کیا حق رکھتا ہوں»۔
اب خود ہی دیکھیے کہ لاکھوں مربع میل کا ایک حاکم خود پر بیت المال کی کھجور کا استحقاق نہیں سمجھتا تو کیا یہ حکمرانی کا مشکل ترین معیار نہیں؟ ۔
عالم یہ تھا کہ اک بار بیمار ہو گئے اور بیماری میں طبیب نے آ کر دیکھا تو عرض کیا کہ :
’’ تھوڑا سا شہد کھائیے کہ آپ کے درد کا درماں اس میں رکھا ہے ۔»
اب امیر المومنین اور خلیفۃ المسلمین کے گھر میں نہ تو شہد تھا اور نہ اتنی رقم کہ شہد خرید پاتے ۔ دوسری طرف بیت المال میں شہد کا ایک بڑا برتن بھرا پڑا تھا ، مگر عمر اس سے بلا اجازت استعمال کرتے تو کیسے کرتے کہ ان کی لغت میں یہ ناممکنات سے تھا۔ مسجد نبوی میں چلے آئے اور منبر پر بیٹھے ۔ لوگوں کو طلب کیا ۔ ممکن ہے لوگ اس گمان میں چلے آئے ہوں کہ امیر المومنین نے بلایا ہے کوئی معرکہ درپیش ہوگا کہ مشاورت چاہیے یا ریاست کا کوئی بڑا کام ہوگا ، سو مشورہ کرنا چاہتے ہیں ۔
اور یہاں امیر المومنین کہہ رہے ہیں کہ :
’’ لوگو ! معاملہ یہ پیش آیا کہ طبیب نے کہا ہے شہد استعمال کر لو اور شہد بیت المال میں ہے میرے پاس موجود نہیں ۔ اگر آپ سب مجھے اجازت دیں تو میں استعمال کر لوں کیونکہ یہ تم لوگوں کا مال ہے یہ رعایا کا مال ہے آپ لوگوں کی اجازت کے بغیر میں کیسے استعمال کر سکتا ہوں ۔۔»
سیدنا عمر فاروق کی ریاست کے مال ، اور بیت المال کے اسباب کے لیے دیانت داری کے واقعات انسان کو حیران کر دیتے ہیں ۔ اب یہی دیکھئیے کہ ایک بار 10 ہزار درہم کی ضرورت آن پڑی تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف کو کہلا بھیجا ، انہوں نے معذرت کر لی اور ساتھ پیغام بھیجا کہ بیت المال سے لے لیجئے ۔ سیدنا عمر کو یہ بات اچھی نہ لگی لیکن بیت المال سے بھی رقم نہ لی ، جیسے تیسے اپنی ضرورت پوری کر لی یا صبر کر لیا ۔
ایک روز راہ چلتے ان سے ملاقات ہو گئی شکوہ کیا اور کہا کہ :
’’ عبدالرحمن ! آپ سے تو اس لیے مانگ لیے تھے کہ زندگی کی اس ڈور کا کیا پتہ کب کٹ جائے ، سو اپ میرے ورثاء سے یہ رقم مطالبہ کر کے حاصل کر سکتے ہیں اور اگر میں نے بیت المال سے لی اور اس بیچ میری موت آگئی تو مسلمانوں نے میرے ورثا سے ( میرے لحاظ میں ) کبھی مطالبہ نہیں کرنا ۔
اور وہ دن تو بہت عجیب تھا مدینے میں سخت گرمی پڑ رہی تھی ، چلچلاتی دھوپ تھی اور لوگ اپنے گھروں میں ٹھہرے ہوئے تھے ۔ سیدنا عثمان غنی کا گھر تھوڑا فاصلے پر کھلی اور اونچی جگہ تھا ۔ بالا خانے پر بیٹھے دیکھا کہ ایک شخص تیز تیز یوں چلتا آ رہا ہے کہ گویا دوڑ رہا ہو ۔ خود کلامی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ بھلا یہ شخص گھر میں آرام کرتا اس گرمی میں اچانک کیا ضرورت اس کو باہر نکال لائی ’’ ۔
چلچلاتی دھوپ میں بھاگنے والا مسافر قریب چلا آ رہا تھا ، اب سیدنا عثمان کی آنکھوں نے جب شناخت پائی تو سیدنا عثمان حیرت سے اٹھے ، باہر بھاگے اور کہا :
’’ امیر المومنین ! کیا ہوا کہ آپ اس گرمی میں یوں تپتی ریتوں پر پھر رہے ہیں ۔‘‘
فرمایا: ’’ بیت المال سے دو اونٹ نکل گئے ہیں ان کو ڈھونڈ رہا ہوں کہ ایسا نہ ہو کہ گم ہو جائیں اور روز قیامت عمر کا مقدر گم ہو جائے میں بھلا کیا جواب دے پاؤں گا ۔۔‘‘
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حیران و پریشان کہنے لگے کہ :
’’ حضرت ! آپ آئیے ، تھوڑی دیر سائے میں بیٹھیے ، ٹھنڈا پانی پئیں ، میرے غلام تلاش کر دیتے ہیں ۔‘‘
وہاں بھی عمر تھے وہ بھلا کہاں یہ بات مانتے ، رساں لہجے میں کہنے لگے کہ : ’’ عثمان آپ کو اپنا یہ سایہ مبارک ہو ، بیت المال کے مال کی نگرانی میری ذمہ داری ہے ، سو یہ کام مجھے ہی کرنا ہے»
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بے اختیار کہنے لگے:
جو کسی مضبوط و قوی امانت دار کو دیکھنا چاہتا ہے تو سیدنا عمر کو دیکھ لے ۔
واقعی سیدنا علی نے بے سبب تو نہیں کہا تھا کہ آپ نے اپنے بعد آنے والے خلفاء کے لیے بہت مشکل کر دیا سب کچھ ۔۔۔۔
آج کوئی حکمران بنتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس کی سات نسلیں سنور گئیں ، ہوتا بھی یہ ہے کہ کمزور مالی حیثیت کے لوگ جب اقتدار کی ہوا کو بھی چھو جائیں تو ان کے رنگ ڈھنگ بدل جاتے ہیں ۔۔۔ لیکن یہاں کیا عالم تھا؟
ایک بار سیدنا عمر کے سسر کسی ضرورت کے تحت تشریف لائے اور کہا بیت المال سے مجھے اتنا قرض تو دے دیجئے ، سیدنا عمر نے ان کا مطالبہ سنا تو غصّے میں آگئے اور کہنے لگے کہ :
’’ یہ بیت المال کا مال کیا میرے ذاتی تصرف کی شے ہے کہ میں اس کو اپنے اعزہ و اقارب پہ نچھاور کرنا شروع کر دوں؟ ’’
اور صاف چٹا انکار کر دیا پھر اپنے ذاتی وسائل سے جو ممکن ہو سکتا تھا ان کو رقم دی ۔
اور بیت المال کے مال سے اپنی ذات اور اپنے گھر والوں کے تصرف کے معاملے میں تو ان کی احتیاط انتہا کو پہنچی ہوئی تھی ۔ سیدناابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہ خود جلیل القدر صحابی رسول تھے ، ایک روز بیت المال کی صفائی کر رہے ہیں اور اس کے صفائی کے بیچ میں ایک درہم زمین پر گرا پڑا دیکھا درہم کہ سب سے چھوٹی اکائی ، اکیلا ہو تو بے حیثیت ۔ اتفاق دیکھیے کہ اسی وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک چھوٹا بچہ ادھر سے گزر رہا تھا ۔ ابو موسی نے چھوٹا بچہ جان کے درہم ان کے ہاتھ پکڑا دیا ۔ اب بچہ درہم پا کے خوشی خوشی گھر کو چلا ۔
آگے ابا حضور کھڑے ہیں بچے کے ہاتھ میں درہم دیکھا تو چونک اٹھے پوچھا : ’’ کہاں سے لیا؟ ’’
بچے نے ماجرا کہہ سنایا ۔ بچے کا بازو پکڑا ، گویا بھاگتے ہوئے بیت المال کو چل دیے ۔ ابو موسی ادھر ہی موجود تھے ، سیدنا عمر نے غصے سے ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: گویا تم چاہتے ہو کہ امت محمدیہ کا ہر ہر فرد ( روز قیامت ) اس ایک درہم کا مجھ سے سوال کرے؟ ۔
اور پھر وہ درہم اٹھا کر بیت المال کے اسباب میں رکھ دیا ۔……رضی اللہ عنہ ……۔
ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…
رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…
قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…
جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…
میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…
ولی کی جمع اولیاء ہے ۔ قرآن مجید میں یہ لفظ معمولی فرق کے ساتھ…