لغوی تعریف:

قدر کے لغوی معنی اندازے کے ہیں۔ قَدَّرَ الامرَ کے معنی کسی کام کی تدبیر کرنے، اس کا فیصلہ کرنے اور اس کے بارے میں حکم صادر کرنے کے ہیں۔ یہ لفظ قوت اور طاقت کے معنی میں بھی استعمال ہوتاہے۔

جب یہ لفظ باب تفعیل کے وزن پر استعمال ہوتاہے تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ اس نے اس کا حکم دیا۔ اس کا فیصلہ نافذ ہوگیا اور اس نے فیصلہ کیا۔

اصطلاحی تعریف :

وہ فیصلہ جس کا اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اندازہ مقرر فرمادیا اور اس کے بارے میں فیصلہ کردیا۔

گویا کہ تقدیر اللہ سبحانہ وتعالیٰ صاحبِ علم مطلق کے مقرر کردہ اندازے کا نام ہے جو ماضی،حال اور مستقبل کا علم رکھتا اور زمانے کو اس کی تینوں جہتوں سے ایک ہی زمانے کی طرح دیکھتا ہے اللہ تعالیٰ کی نیت سے زمانہ ماضی ، حال اور مستقبل میں تقسیم ہی نہیں ہے تو تقدیر جو سب کچھ ہوچکا یا ہوگا کے مکمل ریکارڈ کا نام ہے ، بلکہ تمام امور ومعاملات کو وقوع پذیر ہونے سے قبل ہی کتاب مبین میں لکھ دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم وقدرت کے ساتھ ہر اس چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے جو کائنات میں موجود ہے اورآئندہ ہوگی۔

خلاصۂ کلام :

یہ ہوا کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کا علم بہت بلند اور عالی ہے وہ آن واحد میں ہر اس چیز کو جانتا ہے جو پیدا ہوتی ہے۔ یا مستقبل میں ہوگی۔

تقدیر سے مراداان جملہ اشیاء کی وہ منصوبہ بندی، نظم ونسق اور تدبیرہے جوکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم سے طے فرما رکھی ہے۔

جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

اَللہُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ کُلُّ اُنْثٰى وَمَا تَغِيْضُ الْاَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ ۭ وَکُلُّ شَيْءٍ عِنْدَہٗ بِمِقْدَارٍ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّہَادَۃِ الْکَبِيْرُ الْمُتَعَالِ سَوَاۗءٌ مِّنْکُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَہَرَ بِہٖ وَمَنْ ہُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّہَارِ

مادہ اپنے شکم میں جو کچھ رکھتی ہے اسے اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے اور پیٹ کا گھٹنا بڑھنا بھی ہرچیز اس کے پاس اندازے سے ہے۔ظاہر و پوشیدہ کا وہ عالم ہے (سب سے) بڑا اور (سب سے) بلند وبالا۔تم میں سے کسی کا اپنی بات کو چھپا کر کہنا اور بآواز بلند اسے کہنا اور جو رات کو چھپا ہوا ہو اور جو دن میں چل رہا ہو، سب اللہ تعالیٰ پر برابر و یکساں ہیں۔(الرعد ۸تا۱۰)

فرمانِ باری تعالیٰ ہے :

اِنَّا کُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنٰہُ بِقَدَرٍ(القمر۴۹)

بیشک ہم نے ہرچیز کو ایک (مقررہ) اندازے سے پیدا کیا ہے۔

حدیث مبارکہ میں ارشاد ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں وزمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال قبل مخلوق کی تقدیر بنائی اوراس کا عرش پانی پر تھا۔ (صحیح مسلم)

تقدیر پر ایمان لانا ہر مسلمان پر واجب اور ضروری ہے۔

جیسا کہ حدیث جبریل سے ثابت ہوتا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ ایمان کیا ہے تو آپ نے ارشاد فرمایا تو اللہ پر ایمان لائے ، اس کے فرشتوں کو مانے اس کی کتابوں کو تسلیم کرے اس کے رسولوں پر تیرا ایمان ہو ،یوم آخرت پر تیرا یقین اور تقدیر کے اچھا اور برا ہونے پر بھی تو ایمان رکھے۔ ( صحیح مسلم)

مذکورہ بالا آیات اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تقدیر پر ایمان لانا لازم اس سے انکار کرنا گویا کہ اللہ کی جملہ صفات سے انکار کرناہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ تقدیر کا تعلق قدرت سے ہے لہٰذا جو محض تقدیر کا انکار کرتاہے وہ ان بہت سے امورکا منکر ہے جو اللہ تعالیٰ کی الوہیت کے ساتھ خاص ہیں۔

ادب کا تقاضا ہے کہ انسان نیکی احسان اور اچھائی کی نیت اللہ تعالیٰ کی طرف کرے اور برائی اوربدی کی نیت، شیطان اور اپنے نفس کی طرف کرے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

مَآ اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ۡ وَمَآ اَصَابَکَ مِنْ سَيِّئَۃٍ فَمِنْ نَّفْسِکَ

تجھے جو بھلائی ملتی ہے وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچتی ہے وہ تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے۔(النساء : ۷۹)

اللہ تعالیٰ کے سوا تمام مخلوق فنا ہوگی۔ اور مخلوقات کے فنا ہونے کا ایک وقت مقرر ہے جس میں نہ تو ایک لمحہ تاخیر ہوگی اور نہ تقدیم ہوگی مرنے والا خواہ اپنی طبعی موت مرے یا کوئی اسے قتل کرے یا خود کشی کرے ہر صورت میں وقت مقررہ پر موت آئے گی رہا قاتل کو قتل کی سزا ملنا تو وہ اس کو اس کے جرم کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے دی جائے گی اس وجہ سے نہیں کہ اس نے قتل کرکے اس کو وقت سے پہلے موت کی نیند سلا دیا بلکہ اس کی موت اس کے مقررہ وقت پر واقع ہوئی ہے کوئی مخلوق اپنے وقت سے پہلے ختم نہیں ہوسکتی جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

قُلْ لَّآ اَمْلِکُ لِنَفْسِيْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰہُ ۭ لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ۭاِذَا جَاۗءَ اَجَلُھُمْ فَلَا يَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ

آپ فرما دیجئے کہ میں اپنی ذات کے لئے تو کسی نفع کا اور کسی ضرر کا اختیار رکھتا ہی نہیں مگر جتنا اللہ کو منظور ہو، ہر امت کے لئے ایک معین وقت ہے جب ان کا وہ معین وقت آپہنچتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے سرک سکتے ہیں۔(یونس ۴۹)

وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ کِتٰبًا مُّؤَجَّلًا ۭ وَمَنْ يُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِھٖ مِنْھَا ۚ وَمَنْ يُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَۃِ نُؤْتِھٖ مِنْھَا ۚ وَ سَنَجْزِي الشّٰکِرِيْنَ

بغیر اللہ کے حکم کے کوئی جاندار نہیں مر سکتا مقرر شدہ وقت لکھا ہوا ہے دنیا کی چاہت والوں کو ہم دنیا دے دیتے ہیں اور آخرت کا ثواب چاہنے والوں کو ہم وہ بھی دے دیں گے اور احسان ماننے والوں کو ہم بہت جلد نیک بدلہ دیں گے۔(آل عمران ۱۴۵)

حدیث مبارکہ میں ارشادہے :

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے دعا کی اے اللہ مجھے میرے شوہر (یعنی رسول اللہ ﷺ) اور ابو سفیان اور میرے بھائی معاویہ کا مجھے فائدہ عطا فرما یعنی ان کی عمر میں اضافہ کر سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو نے اللہ سے سوال کیا ہے کہ متعین اجل میں تاخیر ہوجائے اور جس قدر زندگی کے دن لکھے جاچکے ہیں ان میں اضافہ ہو اور جو رزق قسمت میں لکھا جا چکاہے اس میں اضافہ ہو(یا درکھو) وقت مقررہ میں تقدیم وتاخیر نہیں ہوسکتی بجائے اس کے اگر تو اللہ سے یہ سوال کرتی کہ وہ تجھے جہنم کے عذاب یا عذاب قبر سے بچائے تو تیرے حق میں بہتر ہوتا۔ (صحیح مسلم)

پس جو شخص قتل ہوتاہے اپنی اجل کے مطابق قتل ہوتاہے۔ اللہ کا علم اوراس کی تقدیر ہے کہ یہ انسان فلاں کے ہاتھوں فوت ہوگا اور فلاں قتل ہوگا اور فلاں پر عمارت گرے گی اور فلاں آگ میں جل کر مرے گا اور فلاں پانی میں ڈوب کر مرے گا اللہ تعالیٰ ہی نے موت وحیات کو پیدا کیا اور ان کے اسباب کو بھی پیدا کیا۔

فرقہ معتزلہ کا نظریہ :

معتزلہ کہتے ہیں جو شخص قتل ہوا وہ اپنی اجل سے نہیںمرا اگر قتل نہ ہوتا تو وہ اپنی اجل تک زندہ رہتا گویا ان کے ہاں انسان کی دو اجل ہیں ان کا یہ خیال قرآن پاک اور احادیث کی روشنی میں باطل ہے۔

معتزلہ کا رد:

جبکہ اللہ تعالیٰ پر مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے کوئی چیز مخفی نہیں تھی وہ ان کے پیدا کرنے سے پہلے یہ جانتا تھا کہ وہ (اپنی زندگی میں)کیا کچھ کرنے والے ہیں اس کے بندوں کو اپنی اطاعت کا حکم دیا اور نافرمانی سے روکا۔

اللہ تعالیٰ کا انسان کو اشرف المخلوقات بناناعقل وفہم سے مالا مال کرنا۔ کسب واختیار کی قوت عطا کرنا ایک خاص مقصد کے لیے ہے انسان آزاد اور من مانی کرنے والا نہیں بلکہ وہ اطاعت وعبادت باری تعالیٰ کا مکلف ہے اور احکام شریعت کا پابند ہے اسی لیے اس کو باقاعدہ ایک شریعت اور طریقہ دیاگیا ہے اپنے خالق ومالک کی اطاعت اورفرمانبرداری کرے منہیات سے اجتناب کرے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ

میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں۔[الذاريات: 56]

دوسری جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :

اِنَّ اللّٰہَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَاۗءِ ذِي الْقُرْبٰى وَيَنْہٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْيِۚ يَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ(النحل90)

اللہ تعالٰی عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے، وہ خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

فرمان باری تعالیٰ ہے

الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوۃَ لِيَبْلُوَکُمْ اَيُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَہُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ [الملك: 2]

جس نے موت اور حیات کو اس لئے پیدا کیا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں اچھے کام کون کرتا ہے، اور وہ غالب اور بخشنے والا ہے۔

ہر چیز اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تقدیر کے مطابق چلتی ہے۔ (اس جہاں میں) اس کی مشیت نافذ العمل ہے بندوں کی کوئی مشیت نہیں ہوتی مگر جو اللہ تعالیٰ ان کے لیے چاہیے۔

عقیدہ میں سلف صالحین کا یہ اصول کہ

فَمَا شَاءَ لَہُم کَانَ وَمَا لَم یَشَاء لَم یَکُن

اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جو چاہا ہوا اور جو نہیںچاہے گا نہیں ہوگا۔اللہ رب العزت نے ہر مخلوق کے جملہ امور کو یعنی تقدیر اپنے نظام قدرت سے وابستہ کررکھا ہے چنانچہ مومن کا ایمان ، کافر کا کفر ، فاسق کا فسق ، جواد کی مالداری ، فقیر کا فقر اور نفع ونقصان سب تقدیر الٰہی کے تابع ہیں جس مخلوق کو جو کام سپرد کردیا وہ اسی کے لیے مسخر ہے۔جیسا کہ باری تعالیٰ ہے :

وَالشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَــقَرٍّ لَّہَا ۭذٰلِکَ تَــقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِــيْمِ(یٰسٓ۳۸)

اور سورج ، وہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جا رہا ہے یہ زبردست علیم ہستی کا باندھا ہوا حساب ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِي الْاَآرْضِ وَالْفُلْکَ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِاَمْرِہٖ ۭ وَيُمْسِکُ السَّمَاۗءَ اَنْ تَقَعَ عَلَي الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ۭ اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی نے زمین کی تمام چیزیں تمہارے لئے مسخر کر دی ہیں اور اس کے فرمان سے پانی میںکشتیاں بھی چلتی ہیں۔ وہی آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ زمین پر اس کی اجازت کے بغیر گر نہ پڑے بیشک اللہ تعالٰی لوگوں پر شفقت و نرمی کرنے والا اور مہربان ہے۔(الحج65)

ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی مشیت نافذ العمل ہے بندہ اگر کسی چیز کے کرنے کا ارادہ بھی کرے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت شامل حال نہ ہوتو وہ چیز محض بندہ کے ارادہ سے وجود میں نہیں آسکتی اور اگر بندہ کسی کام کا ارادہ بھی نہ کرے مگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ کرنے کا ہو تو وہ کام ہوجائے گا۔

ارشاد باری تعالی ہے :

وَمَا تَشَاۗءُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰہُ   ۭ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِيْمًا حَکِيْمًا (الدھر۳۰)

اور تم نہ چاہو گے مگر یہ کہ اللہ تعالٰی ہی چاہے بیشک اللہ تعالیٰ علم والا با حکمت ہے۔

مذکورہ بالا آیات قرآنیہ سے معلوم ہوا کہ مومن کا ایمان ، کافرکا کفر وغیرہ مخلوق کے جملہ اموراللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے ارادہ کے ماتحت ہیں البتہ کافر کا کفر وغیرہ اور دیگر نافرمانیاں مراد الٰہی تو ہیں مگر ان کے ساتھ رضائے الٰہی وابستہ نہیں۔ جیسا کہ ارشاد ہے :

وَلَا يَرْضٰى لِعِبَادِہِ الْکُفْرَ   (الزمر۷)

اور وہ اپنے بندوں کے کفر سے خوش نہیں۔

ایک اشکال اور اس کا جواب :

کچھ لوگ تقدیر کا سہارا لے کر غلط کو صحیح اور ناجائز کو جائز قرار دینا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بھی ایسے لوگوں کا قرآن کریم میں تذکرہ کیا ہے۔

سَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ اَشْرَکُوْا لَوْ شَاۗءَ اللّٰہُ مَآ اَشْرَکْنَا وَلَآ اٰبَاۗؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ شَيْءٍ ۭ کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ حَتّٰي ذَاقُوْا بَاْسَـنَا   ۭقُلْ ہَلْ عِنْدَکُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْہُ لَنَا ۭاِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ

یہ مشرکین (یوں) کہیں گے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کر سکتے اس طرح جو لوگ ان سے پہلے ہو چکے ہیں انہوں نے بھی تکذیب کی تھی یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھا آپ کہیے کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو اس کو ہمارے سامنے ظاہر کرو تم لوگ محض خیالی باتوں پر چلتے ہو اور تم بالکل اٹکل پچو سے باتیں بناتے ہو۔

دوسری جگہ ارشاد ہے :

وَقَالَ الَّذِيْنَ اَشْرَکُوْا لَوْ شَاۗءَ اللّٰہُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ شَيْءٍ نَّحْنُ وَلَآ اٰبَاۗؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ شَيْءٍ ۭ کَذٰلِکَ فَعَلَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ۚ فَہَلْ عَلَي الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ

مشرک لوگوں نے کہا اگر اللہ تعالٰی چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا اس کے سوا کسی اور کی عبادت ہی نہ کرتے، نہ اس کے فرمان کے بغیر کسی چیز کو حرام کرتے۔ یہی فعل ان سے پہلے لوگوں کا رہا۔ تو رسولوں پر تو صرف واضح پیغام پہنچا دینا ہے۔(النحل ۳۵)

ان آیا ت میں اللہ تعالیٰ نےشرک کرنے والوں کی مذمت ذکر کی ہے اور وہ یہ کہہ رہے ہیں ہمارا شرک کرنا اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ساتھ ہے۔

اشکال کا جواب :

ان لوگوں کے اس اشکال کا یہ جواب دیا جاسکتاہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ساتھ ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس فعل پر راضی ہے اور وہ ہمیں محبوب سمجھتا ہے۔ ا ن کا یہ دعویٰ سراسر غلط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا ہرگز یہ تقاضا نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسے کاموں کا حکم بھی دیا۔

اللہ تعالیٰ کا تو ارشاد ہے :

وَاِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَيْہَآ اٰبَاۗءَنَا وَاللّٰہُ اَمَرَنَا بِہَا ۭقُلْ اِنَّ اللّٰہَ لَا يَاْمُرُ بِالْفَحْشَاۗءِ ۭاَتَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ   (الاعراف۲۸)

اور وہ لوگ جب کوئی فحش کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریق پر پایا ہے اور اللہ نے بھی ہم کو یہی بتلایا ہے۔ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالٰی فحش بات کی تعلیم نہیں دیتا کیا اللہ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کی تم سند نہیں رکھتے۔

اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حیثیت کو بطور توحید ذکر نہیں کیا بلکہ بطور اعتراض کے ذکر کیا ہے یہ مشیت الٰہی کا بہانہ بنا کر اور اپنے گناہوں پر تقدیر کا سہارا لے کر اوامرونواہی سے اعراض کرنا چاہتے ہیں شریعت اسلامیہ پس پشت ڈالنا چاہتے ہیں جیسا کہ زندیق اور جاہل لوگوں کا وطیرہ ہے کہ جب انہیں کسی کام کا حکم دیا جاتاہے یا کسی کام سے منع کیا جاتاہے تو وہ تقدیر کا سہارا لیتے ہیں۔ چنانچہ ایک دفعہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جب کسی آدمی نے تقدیر کا سہارا لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں بھی تو تیرا ہاتھ اللہ تعالیٰ کی قضاء اور تقدیر کے ساتھ ہی کاٹ رہا ہو۔

جبکہ ایمان دار آدمی اپنے گناہ پر تقدیر کا سہارا نہیں لیتا بلکہ توبہ واستغفار کرتاہے۔

امام وہب بن منبہ رحمہ اللہ کا قول :

وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے تقدیر میں غور کیا حیران ہوگیا ، پھر غور کیا مزید حیران ہوا بالآخر میں نے دیکھا کہ مسئلہ تقدیر کو وہ انسان زیادہ جانتاہے جو اس میں بحث کرنے سے رکتاہے اور وہ زیادہ جاہل ہے جو تقدیر میں بحث کرتاہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے