Categories: نومبر2012

فضیلۃ الشیخ حافظ صلاح الدین یوسف کا طلباء جامعہ أبی بکر الاسلامیہ سے خطاب


گزشتہ دنوں جامعہ میں مفسر قرآن ، مؤلف کتب کثیرہ الحافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ تشریف لائے۔ الشیخ حفظہ اللہ کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انتظامیہ جامعہ نے طلباء کرام کے ساتھ خصوصی نشست کا اہتمام کیا۔ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے وکیل فضیلۃ الشیخ ضیاء الرحمن المدنی حفظہ اللہ نے معزز مہمان کا تعارف پیش کیا اور ان کو دعوت خطاب دی۔ فضیلۃ الشیخ حفظہ اللہ نے تشنگان علوم نبوت کو قیمتی پندونصائح سے بہرہ ور کیا جس کا خلاصہ معمولی حک واضافہ کے ساتھ افادئہ قارئین کے لیے مجلہ اسوئہ حسنہ میں شائع کیا جارہاہے۔

بعد الحمد والصلاۃ

سلف صالحین میں یہ طریقہ مروجہ رہا ہے کہ وہ اپنے معزز طلباء کو سب سے پہلے اللہ تعالیٰٰ کے تقویٰ کی نصیحت فرمایا کرتے تھے کیونکہ تقویٰ انسانی زندگی پر مثبت انداز میں اثر انداز ہوتاہے۔ تقویٰ سے انسان فرحت وانبساط اور حیات سعیدہ حاصل کرتا ہے، تقویٰ سے انسانی زندگی ایک مثالی زندگی بنتی ہے۔ کیونکہ انسان خوف الٰہی اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ رحمت الٰہی کا امیدوار بھی ہوتاہے۔ سعادت دارین کا ابدی راز تقویٰ میں پنہاں ہے۔

تقویٰ کا بہترین مظہر اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرناہے ، ہر چھوٹا بڑا کام صرف رضائے الٰہی کے حصول کے لیے مختص ہونا چاہیے۔

باری تعالیٰٰ نے آپ کو تحصیل علم دین کا موقع عطا کردیا ہے تو اب اپنے اندر اخلاص پیدا کریں اور رضائے الٰہی کے حصول کے لیے سرتوڑ کوشش کریں۔ اخلاص کی وجہ سے ہی آپ کا علم نفع بخش ہوسکتاہے۔ اپنے آپ کو حصول علم کے لیے وقف کردیں کیونکہ ایسی فراغت وفرصت اور ایسے لمحات واوقات انسان کی زندگی میں باربار نہیں آتے۔ لوگوں کی بے قدری کے لیے اپنی کمی ،کوتاہی کو بہانہ مت بننے دیں۔ اپنے اندر کمال پیدا کریں لوگ آپ کو سرآنکھوں پر بٹھائیں گے۔ آپ اپنے والدین اور ارباب مدارس کی امید کا محور ومرکز ہیں۔

یادرکھیے! علم بہت غیور ہے اگر آپ اپنے آپ کو مکمل طور پر اس کے لیے وقف نہیں کریں تو پھر علم بھی آپ کے پاس نہیں آئے گا لو گوں کی مختلف طبیعتیں اور الگ الگ ذوق ہیں۔کسی کو خطابت سے لگاؤ ہے تو کسی کا تصنیف کی طرف جھکاؤ ہے جبکہ کسی کا میلان تدریس کی طرف زیادہ ہے۔

آپ اپنے ذوق کے مطابق میدان منتخب کریں اور پھر اپنے آپ کو اس ذوق کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں ، تحصیل علم کے لیے قربانی وایثار کی اشد ضرورت ہے ، اگر آپ لوگوں کے مال ومتاع کی کثرت سے مرعوب ہوگئے تو پھر آپ اس راہ سے الگ ہونے کا سوچنے لگیں گے۔ لہٰذا اپنے اندرقناعت پسندی کا جذبہ پیدا کریں دنیا کے لیے اپنے علم کو برباد مت کریں۔

ہر فن کے اساطین کی مثالیں اپنے سامنے رکھیں اور پھر اپنے آپ کو اس مثال کے سانچے میں ڈھالنے کی مقدور بھر کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰٰ آپ کو کامیابیوں سے ہمکنار کرے۔

 

admin

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

6 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

6 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago