مفتی اعظم حفظہ اللہ نے امت مسلمہ کو تقوی کے حصول کی طرف ترغیب دلائی اور فرمایا: کہ اللہ کا تقوی ہی تو ہے جو سیدھی راہ دکھاتاہے اور صراط مستقیم پر گامزن رہنے میں مدد کرتا ہے اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھتا ہے ۔

اے امت اسلام ! تقوی کی بنیاد وحدانیت الہیہ پر ہے پس اپنی زندگی کے اقوال و افعال میں اسی توحید کا اقرار کرو اور دین کے ساتھ مخلص ہو جاؤتاکہ تم دنیا میں فلاح کے حقدار بن سکو اور آخرت میں جنت نعیم کے مستحق بن سکو۔ توحید کے سائے میں آپ اپنے آداب و اخلاق، قدریں اور نظریات کو فروغ دے سکتے ہیں۔

امت اسلام ! اللہ تعالی نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت کاملہ اور دین حق اور خالص توحید کے ساتھ مبعوث کیا ، اور انہوں نے اپنی قوم کے مشرکوں کو کلمہ توحید کی دعوت دی اور انہیں یہ بتایا کہ جب وہ اپنی زبان سے اس کلمہ کی ادائیگی کرتے ہیں تو اس کے مفہوم کے مطابق عمل کرنے کی ذمہ داری بھی ان پر عائد ہوتی ہے تاکہ وہ بت پرستی، صنم پرستی، شخصیت پرستی الغرض ہر قسم کے شرک سے بچ سکیں لیکن ان کے غرور اور تکبر نے انہیں اس بات کے قبول کرنے سے روکا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ کلمہ توحید کا حقیقی مفہوم ان کے انحراف کی مکمل نفی کرتا ہے جیسا کہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے :

اِنَّهُمْ كَانُوْٓا اِذَا قِيْلَ لَهُمْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ۙ يَسْتَكْبِرُوْنَ؀ۙ وَيَقُوْلُوْنَ اَىِٕنَّا لَتَارِكُوْٓا اٰلِـهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْــنُوْنٍ ؀ۭ

انہیں جب یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں تو وہ اکڑ بیٹھتے تھے۔اور کہتے تھے:کیا ہم ایک دیوانہ شاعر کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ سکتے ہیں؟(الصافات35-36)

اور اسی طرح انہوں نے بیان فرمایا عقیدہ توحید دین اسلام کے لیے بنیاداور اساس کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ ارکان اسلام میں سب سے پہلا رکن رکین بھی یہی ہے یہاں تک کہ تمام مخلوق کی غایت تخلیق بھی یہی ہے ۔

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ ؀

اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔(الذاریات:56)

اور یہ توحید ہی تو ہے جو تمام رسل کی دعوت کا محور اور مرکزی نکتہ تھا جن کا آغاز نوح علیہ السلام سے ہو ا اور اختتا م محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پرہوا اور یہ تمام رسول وحدانیت ربانی کی طرف دعوت دیتے رہے اور دین میں ایک اللہ کے لیے اخلاص کی طرف پکارتے رہے جیسا کہ اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں بیان کیا :

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ ؀

اور آپ سے پہلے ہم نے جو بھی رسول بھیجا اس کی طرف یہی وحی کرتے رہے کہ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ لہٰذا صرف میری ہی عبادت کرو۔(الانبیاء25)

اور اس طرح اللہ تعالی نے یہ بھی بیان فرمایا کہ اس نے تمام رسولوں کو اسی دین کے ساتھ مبعوث کیا

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ (النحل:36)

﴿ ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا (جو انہیں یہی کہتا تھا) کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔

اور یہ دین جو تمام رسولوں کی دعوت تھا اس کی بنیاد اس امر پر تھی کہ اللہ تعالی امر تخلیق میں واحد ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ اس کی بادشاہی میں بھی کوئی شریک نہیں اسی طرح وہ اپنے ناموں اور صفات میں بھی یکتا اور واحد ہے جس کی کوئی نظیر یا مثال نہیں اور نہ ہی اس کے سوا کوئی معبود ہے جسے پکارا جا سکے۔

اور انہوں نے فرمایا: اے مسلمانوں ! ہر مسلمان پر یہ فرض ہے کہ وہ اپنی زندگی کے افعال و اعمال اور ہر قسم کے تصرفات الغرض ہر قسم کے احوال کو عقیدہ توحید کے مطابق ڈھال لے ۔اللہ تعالی نے فرمایا:

قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ   ؀ۙ لَا شَرِيْكَ لَهٗ ۚ   (الانعام162)

آپ ان سے کہئے کہ:میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب کچھ رب العالمین کیلئے ہےجس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔

پس اسے چاہیے کہ وہ اپنے رکوع ، سجود،اپنی قربانی،نذر، امید ،خوف ،اور اپنی دعاؤں میں اور التجاؤں میں اور استعانت میں ایک اللہ تعالی کی ذات واحد کو مدنظر رکھے اور اس میں کسی کو شریک نہ کر ے جیسا کہ وہ حصول نفع یا دفع ضرر کے لیے ایک اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے یہ جانتے ہوئے کہ ان امور پر صرف اللہ تعالی ہی قادر ہے۔

وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍ۝ۭ اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَاۗءَكُمْ ۚ وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ ۭ(فاطر13-14)

اسی کی بادشاہی ہے اور اسے چھوڑ کر جنہیں تم پکارتے ہو وہ تو ایک پرِکاہ کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار سن نہیں سکتے اور اگر سن بھی لیں تو تمہیں جواب نہیں دے سکتے

اسی طرح مفتی اعظم اور رئیس مجلس فتاوی اور اسلامی تحقیق نے اس بات پر زور دیا کہ حقیقی مؤمن توحید کی مکمل محافظت کرتا ہے کہ کسی بھی طرح اس میں کوئی نقص کا دخل نہ ہو یا یا کوئی ایسا تصور جو اس کے مفہوم کو مسخ کر رہا ہو اور اس کے اجر کو ضائع کر رہا ہواور مؤمن اس امر کی کوشش کرتا ہے کہ شرک کی تمام ممکنہ اشکال سے بچ سکے کیونکہ مشرک کا آخری ٹھکانہ جھنم ہے جس پر اللہ تعالی کا یہ فرمان دلیل قطعی ہے :

اِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَاْوٰىهُ النَّارُ ۭوَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ؀

کیونکہ جو شخص اللہ سے شرک کرتا ہے اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی بھی مددگار نہ ہوگا۔(المائدہ72)

اور اس طرح وہ ہر قسم کے وسیلے اور سفارش سے بھی اجنتاب کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جلب منفعت اور دفع ضرر کے لیے اسے اپنے اور اللہ تعالی کے درمیان کسی واسطے کی ضرورت نہیں بلکہ صرف اخلاص دل اور یقین تام کے ساتھ کی گئی دعا ہی کافی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں:

وَلَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِيْنَ ؁ وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗٓ اِلَّا ھُوَ ۚ وَاِنْ يُّرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَاۗدَّ لِفَضْلِهٖ   ۭ يُصِيْبُ بِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭ وَھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ   ؁

اور اگر اللہ آپ کو کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں اور آپ سے کوئی بھلائی کرنا چاہے تو کوئی اسے ٹالنے والا نہیں، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس (فضل) سے نوازتا ہے اور وہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔اور اللہ کے سوا کسی کو مت پکاریں جو نہ آپ کو کچھ فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان اگر آپ ایسا کریں گے تو تب یقینا ظالموںسے ہوجائیں گے(یونس106-107)

اور اس طرح محترم مفتی اعظم حفظہ اللہ نے فرمایا: حقیقی مؤمن اس طرح اہل قبور سے دعا مانگنے سے بھی اجتناب کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ پکارنے والے کی پکار نہیں سنتے۔ اللہ تعالی نے فرمایا:

وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ؁

اور جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری مدد کیا کریں گے وہ تو اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے۔(الاعراف197)

اور یہ کہ حقیقی مؤمن اپنی مکمل حیات کو عقیدہ توحید سے مزین کرلیتا ہے۔

اور عقیدہ توحید کے بیان کے بعد حضرت مفتی اعظم حفظہ اللہ نے مزید کہا: کہ حقیقی مؤمن نماز ، زکوۃ، روزہ، حج، دعا، صلہ رحمی، تلاوت قرآن اور اچھے اخلاق جیسے سچائی ، امانت داری، وعدہ کی پاسداری ،جرائم سے دوری اور رذائل اخلاق سے اجنتاب سے اپنے کردار کو مزین کر لیتا ہے۔اور حقیقی مؤمن وہ ہوتا ہے جو توحید اور اعمال صالحہ پر مکمل عمل پیرا ہونے کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی کی طرف بھی متوجہ ہوتا ہے اور اپنے معاشرہ کی خرابیوں کو دور کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے اور اس ضمن میں شدائد اور مصائب کا صبر و تحمل سے سامنا کرتا ہے۔ عطائے الہی پر شکر اور آزمائش پر صبر اس کی امتیازی خوبی ہوتی ہے اور اسی وجہ سے وہ کبھی راہ الہی میں پیش آنے والے حوادث سے خوفزدہ نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالی سے استعانت طلب کرتا ہے اور اللہ تعالی کی طے شدہ تقدیر پر صبر کرتا ہے ۔اور اس کے خصائص میں سے یہ بھی ہے کہ وہ معاشرہ میں موجود اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لیے تیار رہتا ہے اورنیکی اور تقوی کے کاموں میں اس کی بھرپور مدد کرتا ہے کیونکہ اس کے سامنے فرمان باری تعالیٰ ہوتا ہے کہ

وَتَعَاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی

نیز نیکی اور رحمدلی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو۔

اور اس ضمن میں اس بات کا بھی خیال ہے کہ وہ عدل و انصاف کے تقاضوں کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں بھی مدنظر رکھتا ہے خواہ اس کا معاملہ کسی دوست کے ساتھ ہو یا مخالف یا دشمن کے ساتھ ہو۔

وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا ۭاِعْدِلُوْا     ۣ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى

اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر مشتعل نہ کردے کہ تم عدل کو چھوڑ دو۔ عدل کیا کرو، یہی بات تقویٰ کے قریب تر ہے ۔(المائدہ8)

اور وہ دنیاوی زندگی کو دار عمل اور آخرت کو دار جزاسمجھتا ہے

ڼوَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى ۡ وَاتَّقُوْنِ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ ؁ (البقرہ197)

بہتر زاد راہ تو پرہیزگاری ہے۔ اور اے عقل والو ! (عقل کی بات یہی ہے کہ) میری نافرمانی سے بچتے رہو

اور یہ کہ مؤمن اس امر کو بھی جانتا ہے کہ اس کی موت کے ساتھ ہی اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا جبکہ اس کے کیے گئے اعمال اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیش کیے جائیں گے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں :

وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ   ۝ۧ

اور اپنے پروردگار کی عبادت کیجئے تاآنکہ آپ کے پاس یقینی بات (موت) آجائے۔(الحجر99)

اور اس کا اس امر بھی ایمان ہوتا ہے کہ اللہ تعالی اپنے اولیاء کی مدد کرتا ہے اور زمین پر انہیں غلبہ عطا کرتا ہے اور یہ مدد یا تو اس کیفیت میں ہو گی کہ دشمنان دین پر اس کا غلبہ ہو گا یا اس کا خاتمہ اسلام پر ہو گا کہ اس کی مالک الملک سے ملاقات مسلمان کی حیثیت سے ہو ۔

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ     ؀

ہم یقینا اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میںبھی مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے۔(المومن:51)

اور اس کے ممیزات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں سے محبت کرتا ہے اور انہیں متحد کرنے اور جمع کرنے میں مشغول عمل رہتا ہے۔ اور اسی طرح حقیقی مؤمن کلام الہی اور فرامین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی پر حاکم بنا لیتا ہے ۔اور کسی بھی حالت میں کتاب و سنت کی نصوص کے خلاف کسی کی رائے یا قول پر عمل نہیں کرتا :

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا     ؀

(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !) تمہارے پروردگار کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے تنازعات میں آپ کو حکم (فیصلہ کرنے والا) تسلیم نہ کرلیں پھر آپ جو فیصلہ کریں اس کے متعلق اپنے دلوں میں گھٹن بھی محسوس نہ کریں اور اس فیصلہ پر پوری طرح سر تسلیم خم کردیں۔(النساء:65)

اور وہ یہ جانتا ہے کہ جو کوئی بھی اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے اسے ہر طرح سے جانی،مالی اور ہر طرح کی آزمائش کے لیے تیار رہنا چاہیے اور ہر قسم کی مصائب پر صبر کرتا ہے یہ جانتے ہوئے کہ یہ مصائب اس کے گناہوں کو ختم کرنے میں سبب بنتے ہیں اور آخرت میں اس کے درجات کی بلندگی کا سبب بھی بنیں گے۔

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصّٰبِرِيْنَ ؁

کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ بس یونہی جنت میں داخل ہوجاؤ گے جبکہ ابھی تک اللہ نے یہ دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے جہاد کرنے والے کون ہیںاور صبر کرنے والے کون ہیں؟( اٰل عمران142)

اور وہ اپنی ذات میں صالح ہوتا ہے ،معاشرہ کے لیے اصلاح پسنداور اس کی ذات مرجع عام ہوتی ہے ۔

اور اس ی طرح حضرت مفتی اعظم حفظہ اللہ نے فرمایا: عقیدہ توحید جب اسلامی معاشرہ اور جماعات کے افراد کے دلوں میں راسخ ہو جاتا ہے تو معاشرے پر اس کے ایجابی اثرات مرتب ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ایسا معاشرہ ایک ایسے معاشرے میں تبدیل ہو جاتا ہے جو شعائر اسلامی کا پابند ، اور اسلامی افکار کا حامل ہوتا ہے۔ لہٰذا امت اسلامیہ پر لازم ہے کہ وہ اس عقیدہ کی حفاظت پر اپنی صلاحیتوں کو خرچ کریں ۔

اے مسلمانو! اللہ کی توحید پر ایمان لانے کے بعد ہمیں اسلامی شریعت کو اپنانا ہے اور اس میں ہمیں علمی ، تعلیمی اور معاشی و سیاسی تمام امور میں اسلامی شریعت کی پیروی کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ شریعت زبان و مکان کی پابندیوں سے بالاتر ہے ہر زمانے میں ہر جگہ قابل عمل ہے یہ ایک ایسی شریعت ہے جس پر عمل کرنے سے انسانیت کی بھلائی اور بہتری ہوسکتی ہے۔

اور معاشرے کے تمام شعبہ جات اس میں حصہ لیں کہ تعلیمی ادارے جب نصاب سازی کر رہے ہوں تو عقیدہ توحید اور اس کے معاشرے پر اثرات ، افراد کا اللہ تعالی کے ساتھ مضبوط رابطہ وغیرہ جیسے عقائد اسلام کو بطور خاص اہمیت دی جائے۔

اور میڈیا کے حوالے سے یہ کام اس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ بنیادی اسلامی آداب کو مدنظر رکھے اور کسی بھی طور غیر اسلامی افکار کی نشر و اشاعت میں دانستہ یا نا دانستہ حصہ نہ لے۔

اسی پر معاشرے کے دیگر شعبہ جات قیاس کر سکتے ہیں اور اپنے اپنے اصول و ضوابط اسلامی تعلیمات پر وضع کرسکتے ہیں۔کیونکہ حقیقی فلاح اور کامیابی اسی عقیدے کی مکمل مطابقت کی صورت میں ہے اور یہی وہ واحد مقام ہے جہاں امت کے تمام افراد آپس میں مل سکتے ہیں اور اتحاد کر سکتے ہیں ۔

اور اس ضمن میں مفتی اعظم حفظہ اللہ نے اس امر کی اہمیت بھی بیان کی کہ امت اسلامیہ کس طرح عقیدہ توحید کی محتاج ہے ، فرمایا:بنی نوع انسان وحدانیت ربانیہ کی جتنی ضرورت اب محسوس کر رہی ہے اس سے پہلے نہ تھی اسے ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ ایک معبود وحدہ لا شریک کے سامنے سرتسلیم خم کرےاور ایسے وقت میں جب مادی ترقی اپنے عروج پر ہے اور مادی افکار کے حاملین اپنی خواہشات نفسانی کے مطابق زندگی گزارنے کو ہی حقیقی حدف حیات سمجھ چکے ہیں اور ان کے دلوں میں ایمان کی رمق ختم ہو چکی ہے اور وہ اس بین الاقوامی سچائی کو بھول چکے ہیں کہ حقیقی فلاح و کامرانی صرف اور صرف عقیدہ توحید کی مکمل اتباع میں مضمر ہے۔

اور فرمایا : کہ یہ مادیت پرست خود تو اس کو اپنا ھدف بنا ہی چکے ہیں بلکہ ان باطل افکار کی اشاعت میں مصروف عمل ہو چکے ہیں جو کہ دین اسلام کی مکمل نفی کرتے ہیں جس پر نہ تو قرآن مجید سے اور نہ ہی سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی دلیل ہے۔اور وہ اسے عالمی نظام بنانا چاہتے ہیں اور حق تو یہ ہے کہ جو نظام اس کا مستحق ہے کہ اسے دنیا کا قانون بنایا جائے وہ صرف اور صرف دین اسلام ہے اسی بات کو اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اس طرح بیان کیا ہے کہ :

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَاۗفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ   ؀ (سبا28)

اور ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا ہی بنا کر بھیجا ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں۔

اور یہ ایسا حق ہے کہ جس کے سوا کوئی چیز حق نہیں ہو سکتی ، کیونکہ قرآن مجید میں صراحتا اعلان کر دیا گیا کہ :

وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ ۚ وَھُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ ؀

اور جو شخص اسلام (فرمانبرداری) کے سوا کوئی اور دین چاہے تو اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا(اٰل عمران85)

اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس دین کے مشتملات کی حفاظت کا ذمہ اللہ رب العزت کی ذات باکمال مطلق نے اپنے اوپر لے لیا ہےاور یہ ایک ایسی خوبی ہے جو اسے دیگر مذاہب اور افکار سے متمیز کرتی ہے کیونکہ باقی تمام مذاہب زمان و مکان کی دست و برد سے محفوظ نہ رہ سکے اور دین اسلام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے ماننے والوں کے ایمان کا اہم جزو سابقہ انبیا اور رسولوں پر ایمان رکھنا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :

قُلْ اٰمَنَّا بِاللهِ وَمَآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ عَلٰٓى اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِيَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى وَالنَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ ۠ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ ۡ وَنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ ؀

آپ ان سے کہہ دیجئے کہ ہم تو اس چیز پر ایمان لاتے ہیں جو ہم پر اتاری گئی اور اس پر بھی جو حضرت ابراہیم ، اسمٰعیل ، اسحق ، یعقوب اور اس کی اولاد پر نازل ہوئی اور ان (کتابوں) پر بھی جو حضرت موسیٰ و عیسیٰ اور دوسرے پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے دی گئیں۔ ہم ان کے درمیان کچھ فرق نہیںکرتے اور ہم اسی اللہ کے تابع فرمان ہیں(ال عمران84)

اور اس دین کے دیگر ممیزات میں سے یہ بھی ہے کہ یہ ہر قسم کے تعصب کی مطلقاً نفی کرتا ہے خواہ وہ رنگ، نسل، قبیلہ،لسانی یا کسی بھی قسم کے تعصب کی مکمل نفی کرتا ہے۔بلکہ اس نے تکریم کا معیار ہی تقوی بنایا اور آیت قرآن اس پر شاہد ہے :

اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ

اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل عزت وہی ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیز گار ہو۔ (الحجرات13)

اور یہ واحد دین ہے جو دنیا اور آخرت کی ہر قسم کی خیر اورفلاح کو انسان کے لیے جمع کر دیتا ہے کہ وہ صرف ظاہری ارتقا پر ہی نہیں بلکہ روحانی اور اخلاقی ارتقا پر بھی زور دیتا ہے۔

اور دین اسلام ہی تو ایسا دین ہے جو دین رحمت ہے ، دین احسان ہے اور دین مسامحت ہے اور ہمارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نبی رحمت ہے ۔

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ ؁

اور ہم نے آپ کو تمام دنیا والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ (الانبیاء107)

اور دین اسلام دین عدل بھی ہے ہر قسم کے ظلم کی شدت کے ساتھ نفی کرتا ہے اللہ تعالی فرماتے ہیں :

اِنَّ اللهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ ؀

اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے۔(النحل90)

اور صرف یہ دین وہ واحد دین ہے کہ زمان و مکان کے لیے لازم ہے کہ اس کی اطاعت کو حرز جان بنا لیں اور اس کے عدل و انصاف کے قواعد سے مستفیض ہوں اور اس کے عطا کردہ بنیادی حقوق انسانی سے متمتع ہوں۔

اور مزید فرمایا:اے امت مسلمہ اللہ پر ایمان میں یہ بات بھی شامل ہے کہ انبیا اور رسولوں کی تعظیم و توقیر کی جائےاور ان کے ساتھ سوء ادب کا معاملہ نہ کیا جائے کیونکہ اللہ تعالی نے انہیں تمام جہانوں پر حجت بنا کر بھیجا ہے ۔

رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَي اللّٰهِ حُجَّــةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا؁

یہ سب رسول (لوگوں کو) خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے تھے تاکہ ان رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کے لیے اللہ پر کوئی حجت باقی نہ رہے۔ اور اللہ بڑا زبردست اور حکمت والا ہے۔(النساء165)

اور ان تمام انبیا اور رسولوں میں اعلی اور افضل مقام محمد مصطفی رسول اللہ علیہ وسلم کے وجود مزکی اور حسن مجسم کا ہے لہٰذا ان کی توقیر اور تعظیم ایمان کے شعبوں میں سے اہم شعبہ ہے : اللہ تعالی فرماتے ہیں :

لِّتُؤْمِنُوْا بِاللهِ وَرَسُوْلِهٖ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّرُوْهُ ۭ وَتُسَـبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا   ۝   (الفتح9)

تاکہ تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرو۔

اور اسی طرح فرمایا :

فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَعَزَّرُوْهُ وَنَصَرُوْهُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَهٗٓ ۙ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ؀ۧ

لہٰذا جو لوگ اس پر ایمان لائے اور اس کی حمایت اور مدد کی اور اس روشنی کی پیروی کی جو اس کے ساتھ نازل کی گئی ہے تو یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔(الاعراف 157)

اور جو لوگ انبیا اور رسولوں کی تعظیم و توقیر نہیں کرتے تو ان کی زندگی بدترین زندگی ہے اور جانوروںسے بھی بدترین زندگی جی رہے ہیں جو عقلی اختلال ، فکری انحراف کو علمی تقدم اور ارتقا سمجھتے ہیں ۔

اور اسی طرح یہ امر بھی اللہ پر ایمان میں شامل ہے کہ شریعت اسلامیہ امت اسلامیہ کے قوانین کے لیے بنیاد اور اساس بن جائے اور زندگی کے تمام شعبہ جات جیسے داخلی سیاست، خارجی سیاست ، اقتصاد، تعلیم وغیرہ میں اسے بنیاد جائے۔ اور یہ کہ ہر شعبہ حیات میں فیصلہ کن حیثیت اسے حاصل ہو جو زمان و مکان کی قیود سے ماورا ہو اور کوئی انسانی وضع کردہ نظام اس کے مقابلے میں نہ لایا جائےاور ہی اس کے احکام پرجرح کی جائے اور نہ ہی انسانی رائے کو اس پر فوقیت دی جائے کہ قرآن مجید نےاس بارے میں اپنا فیصلہ سنا دیا ہے کہ :

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ ۭ

کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا فیصلہ کر دے تو ان کے لئے اپنے معاملہ میں کچھ اختیار باقی رہ جائے۔

اس دین پر واہیات دلائل اور خرافاتی باتوں سے طعن و تشنیع کا رویہ اپنانا اور حق آزادی رائے کے نام پر دین اسلام پر جرح یا نقد کرنا اور یہ گمان رکھنا کہ کہ دین اسلام موجودہ حالات کے مسائل کے حوالے سے مناسب نہیں اور حدود الٰہیہ پر بے جا اعتراضات کہ یہ حقوق انسانی کےمنافی امور میں سے ہے اور یہ باطل گمان کہ امت مسلمہ نے اگر شریعت پر عمل کیا تو یہ ترقی نہیں کر سکے گی اور دنیا کے دیگر ممالک سے پیچھے رہ جائے گی۔

اور اس حوالے سے ان کی جرات یہ ہے کہ انہوں نے خود اپنے آپ کو یہ حق دے دیا کہ دین پر کسی بھی قسم کی طعن کر سکیں اور اسے روشن خیالی اور جدیدیت کا نام دیتے ہیں۔

اس امر میں کوئی شک نہیں کہ یہ تمام تہمتیں اور الزامات ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ درحقیقت ان کے اس حقد باطنی کا اظہار ہے جس کے ذریعے وہ امت مسلمہ کو ان کے دین سے اور اسلامی تعلیمات سے دور کرنا چاہتے ہیں۔

اور مفتی اعظم حفظہ اللہ نے اس حقیقت کا اعادہ کیا کہ اس امت کی فلاح و کامرانی بھی انہی امور میں مضمر ہے جو اس امت کے اوائل کے نزدیک باعث فلاح ابدی تھےاور وہ اوائل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین تھے جو اس دین پر ایمان لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور اس دین کے لیے قربانیاں دینے کی ابتدا اپنی ذات اور اپنے مالوں سے کی اور دین اسلام کے جھنڈے کی سربلندی کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور وہ اس امت میں سب سے بہترین اور افضل تھے۔جن میں سیدنا ابو بکر صدیق ،سیدنا عمر بن خطاب، سیدناعثمان بن عفان اور سیدناعلی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم بالترتیب سرفہرست ہیں۔

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات ارضی کے خاتمے کے بعد انہی صحابہ نے دین اسلام کی نشر اشاعت کا پرچم اٹھایا اور اطراف عالم کو کلمہ توحید کے نور سے منور کردیااور یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے عدل کو رائج کیا ہر مظلوم کی مدد کی اور دین الہی کی اشاعت کو ممکن بنایایہاں تک خطہ عالم اسلام جائے امان و جائے سلامتی بن گیا لہٰذا ہم سب پر واجب ہے کہ ہم ان سے محبت کریں اور ان کی محبت کو ایمان میں سے سمجھیں اور ان کے فضائل بیان کریں اور ان میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی معمولی سا سوء ظن پر مبنی شائبہ نہ روا رکھیں۔

اور مزید یہ فرمایا کہ اصحاب محمد تمام لوگوں سے افضل بلکہ تمام امتوں میں سے افضل ہیں اور اس کی اقتدا ہم سب پر لازم ہے اور دین اسلام کی فہم ان کی فہم کے مطابق ہو۔

اور ان کے حوالے سے مزید فرمایا: کہ ان کا منھج وہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کامنہج تھاکیونکہ ان کی تربیت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے ہوئی۔ان لوگوں نے اسلام کو براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھااور حاصل کیا اور یہی لوگ سلف صالح کے سرخیل ہیں اور اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بوقت اختلافات اپنی سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کے ساتھ لزوم کی تاکید کی:

فمن يعش منكم فسيرى اختلافا كثيرا فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء من بعدي تمسكوا بها وعظوا عليها بالنواجذ وإياكم ومحدثات الأمور فأن كل بدعة ضلاله

لہٰذا سلفیت کوئی نیا دین نہیں اور نہ ہی اس کا منھج بدعات پر مبنی ہے بلکہ اس کا تعلق تو صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین کی فہم سے ہے ۔ اللہ ان سب سے راضی ہو۔

عالم اسلام اس وقت جن مصائب ، شدائد، ناحق خون اور نوع بہ نوع آزمائشوں کا سامنا کر رہا ہے یہ ایک تکلیف دہ اور اذیت ناک کیفیت ہے اور موجود صورت حال کے مدنظر امت اسلامیہ کے ذمہ داروں کو یہ محسوس کرنا چاہیے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ گفتگو ،حوار کے ذریعے اختلافات کو ختم کرنااور باہمی تفاہم کی اہمیت اور متنازعہ مسائل میں شریعت کا اپنا ماخذ بنایا جائے تاکہ اختلافات کا خاتمہ کیا جا سکے اور ناحق خون کا بہایا جانا روکا جا سکے اور ناجائز اسلحہ کا استعمال کی ممانعت کی جا سکے ۔

اور ہم انہیں حقیقی دشمن کے وجود سے باخبر کرتے ہیں جو اپنی گھناؤنی سازشوں اور مکارانہ افعال کے ذریعے امت مسلمہ میں افتراق و اختلافات کے بیج بونا چاہتا ہے تاکہ یہ اتفاق و اتحاد کے ساتھ نہ رہ سکیں لہذا اصل تحذیر تو دشمنان اسلام کی مکار فطرت سے ہے ۔

مسائل کا واحد حل اسلام ہے،باہمی یکجہتی سے تمام مشکلات سے نکلاجاسکتا ہے،مسلمان اپنے مال کو علم کی ترویج کے لئے خرچ کریں،مسلم امت کو ترقی کرنی ہے تو ٹیکنالوجی کی طرف جائیں ، مسلمان معاشرے کا مفید فرد ہوتاہے۔ مومن کی نشانی ہے کہ اس کی ذات سے کسی مسلمان کو نقصان نہ پہنچے۔ اللہ کے سوا کسی اور کو پکارنے والا گمراہ ہے۔ اسلام میں جبر اور ظلم کی کوئی گنجائش نہیں۔ آج یہاں سب مسلمان ہیں کوئی قوم نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ تمام تعصبات ختم کردیں۔ شریعت کے خلاف باتیں مخالفین کا پراپیگنڈا ہے۔ اظہار رائے کی آڑ میں اسلامی حدود کے خلاف باتیں ہوتی ہیں۔مسلمان باہر کے بینکوں سے نکال کر اپنی دولت اپنے معاشروں میں لائیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنی مشکلات اپنے وسائل سے حل کرنا ہونگی۔انہوں نے کہا کہ وسائل کومسلمانوں کی ترقی اور بہبود پر خرچ کرنا چاہیے، مسلمانوں کو پورے وسائل سے استفادہ اوران میں اضافہ بھی کرناچاہیے، مال حلال ذریعے سے کمایا جائے اور ایسے خرچ کیاجائے جیسے ہمیں حکم دیاگیاہے۔ اسلامی ممالک میں اسلامی تعلیمات کو رواج دینا ہوگا۔ مسلمانوں کو باہمی نفرتوں سے بچنا ہوگا۔ مسلمان اپنے وسائل اور تجربات کا ایک دوسرے سے تبادلہ کریں۔

آج کل عالم اسلام مصائب میں گھرا ہواہے، اس میں بہت سے لوگوں نے اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھورہے ہیں اورمشکلات کاسامناہے جن میں غذائی قلت ، سیاسی معاملات، سالمیت، اقتصادی امور بھی ہیں ان تمام مشکلات سے نکلنے سے ضروری ہے کہ اللہ کے کلام کوحفظ جاں بنائیں۔امت مسلمہ پرلازم ہے کہ وہ باہمی اتحاد اور تعاون کوفروغ دیں اورانکے حکام پربھی لازم ہے کہ وہ شریعت پر عمل کرکے حالات سازگاربنائیں اور ہر امت ان مشکل حالات سے اس وقت نکل سکتی ہے جب وہ باہمی یکجہتی کااظہارکریں اور عقیدے کی بنیاد پرہم ایک دوسرے سے تعاون کریں اور کلمہ طیبہ پر جمع ہوجائیں اوراسی کی بنیاد پر باہمی اخوت اوربھائی چارے کوعام کریں اور اپنے تجربات ایک دوسرے کے ساتھ شیئرکریں اور اپنے وسائل بھی ایک دوسرے کے ساتھ شیئرکریں اور یکجہتی کا یہ بھی تقاضا ہے کہ اگر ایک جگہ کوئی مشکلات پیدا ہوں تو اسکوحل کرنے کے لیے تمام مسلمان جمع ہوجائیں کچھ سیاسی مشکلات بھی ہیں جن کومل کرحل کرسکتے ہیں جو بھی آپکے پاس وسائل اورقوتیں ہیں اگر آپ ا نہیں اکٹھا کرلیں تو آپ اپنی مشکلات پر قابو پاسکتے ہیں۔

اس امت کچھ اخلاقی برائیاں بھی پیدا ہوگئی ہیں جو اس وجہ سے ہیں کہ ہم اسلامی اقدار اور اسلامی تعلیمات سے دورہوتے جارہے ہیں ہمیں اپنے اخلاق کوسنوارنے کے لیے رسول اکرم ﷺ کے خلق عظیم کو اپناناہوگا ہمیں خاص طورپر اعتدال کواپنانا ہوگا ہرطرح کی افراطسے بچنا اور تشدد کو چھوڑناہوگا۔ ہمیں اسلام کوصحیح طور پراپنانا ہوگا۔

مال کے بغیر زندگی نہیں گزاری جاسکتی لیکن یہ مال حلال طریقے سے کمایاگیا اور یہ مال اسی طرح خرچ کیاجائے جیسے ہمیں حکم دیاگیا ہے مال ایک ایسا ذریعہ جس سے ہم اقتصادی قوت حاصل کرسکتے ہیں اس لیے تمام مسلمانوں کو تمام وسائل سے استفادہ کرنا ہوگا اور مالی وسائل میں اضافہ بھی کرناچاہیے اور اسی طرح مالی وسائل کو اسلامی ترقی اورمسلمانوں کی بہبود کے لیے خرچ کرنا چاہیے۔

ہماری تیاری کیلئے ایسا کرنا انتہائی ضروری ہے اس وقت امت مسلمہ غربت کاشکار ہے غربت کودورکرنے کے لیے ہمیں باہمی یکجہتی اورتعاون کوفروغ دینا ہوگا اور ہمیں اسلام کواسکی امنگوں کے مطابق اپنانا ہوگا ۔اسلای اخوت اور اس کے تقاضوں کو پورا کرناہے اسلام ایک ایسا دین ہے جو ضعیفوں اور کمزوروں کوتنگ کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے اعتدال کی راہ اپناکر انسان کے ساتھ عمدہ سلوک کرنے کی تعلیم دیتاہے۔

تمام مسلمانوں کی جہاں کہیں بھی وہ ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کی روح کوعام کریں اوراس بنیاد سے انسانوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں اللہ کے ساتھ جتنا تعلق رکھیں گے اتنا اسلام پرکاربند رہیں گے۔ اسلام کی وجہ سے آ پ کی عزت اور احترام ہے آپ اپنی طرز حیات کواسلامی سانچے میں ڈھالیں اور اسلام کی دی ہوئی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کوترجیح دیں ۔امت مسلمہ کو یکجا ہوکر رہناچاہیے۔ اسے ٹکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم نہیں ہوناہے یہ اس وقت ہی ممکن ہے جب ہم اسلامی عقیدے اور عمل کوپہلی ترجیح کے طورپر لیں گے۔ اس سے ہماری شخصی تعمیر بھی ہوگی اور قومی بھی اس کیلئے ہمیں سنت اورحصول شریعت سے عمل کرناہے یہی انسانوں کے درمیان اتحاد اورتعاون کابڑا سبب ہے اورذریعہ بھی ہے۔ مسلمانوں پر ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے سے جھگڑا نہ کریں اورمسلمانوں کا اجتماع شریعت پر ہی ممکن ہے۔

اس امت میں صحت کے مسائل ہیں اس امت باہمی اتحاد کے بھی مسائل ہیں ۔ یہ امت باہی اتحاد سے ہی طاقت اورتقویت حاصل کرسکتی ہے ۔اس امت کو اپنے دین کی تبلیغ اورتعلیم کیلئے کوشاں رہناچاہیے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایاہے کہ احکام اسلامی کوفروغ دو۔ دنیا میں شر کاغلبہ ہے اس سے خیبر کوفروغ دینے کے لیے ہمیں اسلام کی تعلیمات کو عام کرنا ہوگا۔ ہمیں تمام وسائل اپنانے ہونگے اور دعا کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنا ہوگی امت کی مشکلات کا مناسب حل تلاش کر ناہوگا ۔

اے مسلمانوں تمہارے لیے بہت ساری مشکلات ہیں اللہ سے ڈرو اور اسلامی احکام لاگو کرو اسلام کی بنیادی اقدار اپنا کر ہی ہم کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ جن میں عدم اورانصاف شامل ہے انہوں نے کہاکہ مسلمانوں ہمیں صنعتی اورمعاشی مشکلات درپیش ہیں جس کی وجہ سے مسلمان امت کمزور ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان ان امورمیں بھی ترقی کریں اللہ تعالیٰ زکوٰۃ کو قبول کرتاہے مال کوبڑھاتاہے سودی کاروبار کو کم کرتاہے۔ مسلمانوں کوچاہیے کہ وہ اپنے دائرے سے سود ہٹادیں اورتجارت کوفروغ دیں اس سے مسلمانوں اللہ کے احکامات کے مطابق عمل کرنے والا بنناہے۔ مسلمانوں کے سامنے مشکلات ہیں لیکن ان مشکلات کے حل تلاش کرنا ممکن ہے مسلمانوں کے بہت سارے دشمن ہیں ان کا ڈٹ کرمقابلہ کرنا ہے۔

مسلمانوں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کی خوبی بیان کی ہے کہ وہ بہتری کی طرف بلاتے ہیں اس سے امت مسلمہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ اسلام کاداعی پیغام تمام انسانوں تک پہنچائیں۔ یہ ایک ایسی تبلیغ ہے جس سے انسانوں کوفائدہ پہنچے گا اوریہ ایک سچی دعوت ہے باہمی تفرقے کاشکار نہ ہوں بلکہ جمع ہو کر اسلام کاپیغام خود بھی تھامواور دوسروں تک بھی پہنچاؤ ۔ انہوں نے کہاکہ یہ کائنات اللہ تعالیٰ مسلمانوں اور انسانوں کے لیے بنائی ہے نبی اکرم ﷺ نے جوبات بتائی ہے وہ سچ ہے ۔

آپ نے واضح طورپر فرمایا کہ آپ کواسلام کی دعوت اورتبلیغ کابیڑہ اٹھاناچاہیے اسلا م کی صحیح تعلیم ہمیں انسانیت کو دینی چاہیے آپ کی دعوت اپنی تقویت دین اورباہمی اتحاد کی طرف مائل کرتی ہے اور ہمیں تفرقے سے بچنے کے لیے تعلیم دیتی ہے نبی اکرم ﷺ کی دعوت واضح ہے۔ انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ سعودی حکومت کو مزید توفیق دے حرمین شریفین کی خدمت کریں اور حاجیوں کی خدمت کرتی رہے اوران کے لیے تمام سہولتیں فراہم کرتی ہے تاکہ یہاں اللہ کی توحید کاعلم بلند ہو، نبی اکرم ﷺکیسنتکاعلمبلندہو۔اورجہاں آکر آپ اس بات کے عملی اظہا رکرتے ہیں آپ امت واحد ہیں اوراسلامی شعار اپناتے ہیں اورحج کے مناسک اداکرتے ہیں تمام تر جہتوں اورقومی عہدوں سے آزاد ہوکر تمام طرح کی نسلی اورلسانی امتیاز سے آزاد ہوکرایک ہوتے ہیں یہ ایک ایسا اجتماع ہے جس میں جسمانی طورپر جڑے ہیں اللہ تعالیٰ قلبی طورپر بھی جوڑ دے۔ حجاج کرام تم اللہ کے گھرمیں ہو یہ ایک محترم جگہ ہے۔ یہاں امن وسلامتی کا دور دوراہے ۔ صحابہ کرام دنیاکے مختلف خطوں سے آتے ہیں اللہ کی رضا حاصل کرو اور امہ کا اجتماعی مظاہرہ کرو اللہ کے لیے کھڑے ہوجاؤ حجاج کرام حرم میں بھی آتے ہیں او ررسول اللہ ﷺ کے روضے پر بھی تشریف لے جاؤ گے ۔ اللہ کی طرف متوجہ رہو اورامت مسلمہ کی یکجہتی کامظاہرہ کرو انہوں نے کہاکہ ہمیں ایک ہی طرف متوجہ ہوناہے اور وہ اسلام کاپیغام ہے اپنے وسائل کو اسلام کوفروغ دینے اورمسلمانوں کوترقی دینے کے لیے استعمال کرو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے