اللہ تعالی کا فرمان ہے : وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْکُثُ فِي الْأَرْضِ (سورۃ الرعد⁄۱۰)

اس آیت میں اللہ تعالی نے بقائے دوام کے راز کو بیان کیا کہ یہ صرف اسی کا مقدر ہے جو اس کی مخلوق کے لیے نفع بخش ہو گا اوربقائے دوام کا تعلق حق سے ہوگا نہ کہ باطل سےکیونکہ اس کا مقدر فنا ہو جانا ہے ۔غالبا نہیں بلکہ یقینا اسی کو حضرت انسان کی مناسبت سے حیات جاوداں یا حیات خلد کے نام سے موسوم کیا جا سکتا ہے ۔

زمانہ طالب علمی میں ایک سوال کثرت سے ذہن میں پیدا ہوتا تھا اور ایک طویل عرصہ اس کے جواب کا متلاشی رہا لیکن محروم ہی رہا کہ ہمارے اسلاف اتنی مختصر زندگی میں اتنے بڑے بڑے کام جو اداروں کے کرنے کے ہوتےہیں وہ کس طرح کر گئےکیا ان لوگوں کی زندگی میں دیگر مصروفیات نہیں تھی جو انہیں اس طرف سے مصروف کر دیتی۔

اس کا جواب مجھے عالم اسلام کے مشہور تعلیمی ادارے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں آمد(1990ء) کے ایک طویل عرصہ بعد ملا جب میرے شعور نے علم کےکچھ مراحل طے کیے تواسی دوران جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کےمؤسس استاذ محترم پروفیسر محمد ظفر اللہ شہید رحمہ اللہ کی شخصیت بے مثیل و عدیم النظیر کے شب و روزمیرے علم میں آئے۔جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کا اک اک گوشہ پروفیسر محمد ظفر اللہ شہید رحمہ اللہ کی انتھک محنت پر شاہد ہے ۔پھر کچھ مختصروقت ان کی صحبت میں بھی گزرا ۔مجھے حسرت ہی رہی کہ استاذ محترم پروفیسر محمد ظفر اللہ شہید رحمہ اللہ کو آرام سے بیٹھا دیکھ سکوں لیکن شاید استاذ محترم پروفیسر محمد ظفر اللہ شہید رحمہ اللہ سکون کو موت کی علامت سمجھتے تھے اور زندگی کے متحرک ہونے کو ہی مفید سمجھتے تھے ۔

ابتدائی طور پر بظاہر ایک سخت گیر شخصیت کے تصور کے ساتھ میں ان کے قریب جانے سے اجتناب کرتا تھا لیکن ایک مرتبہ ان کے ساتھ اور جامعہ کے سابقہ استاد امین عزیز اور ہم جماعت محمد طیب طاہرحفظہ اللہ کے ساتھ ایک مختصر سفر کا اتفاق ہوا بس وہ سفر تھا اور آج کا دن ہے ہر آنے والا دن ان سے محبت میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے ۔اتنے شفیق اور محبت کرنے والے اور طلباء کو بطور خاص احترام دینے والے کہ یہ لوگ علم کی طلب میں اپنے گھر بار کو چھوڑ کر آئے ہوئے ہیں اور اللہ کی نورانی مخلوق بھی ان کا احترام کرتی ہے ۔

استاذ محترم پروفیسر محمد ظفر اللہ شہید رحمہ اللہ کے صاحبزادے شیخ ضیاء الرحمن خریج کلیۃ الشریعہ جامعہ الاسلامیہ مدینہ منورہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں میرے ہم جماعت بھی تھے ان کی زبانی اور استاذ محترم پروفیسر محمد ظفر اللہ شہید رحمہ اللہ کے داماد حافظ عبید اللہ خریج کلیۃ القرآن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ اوردیگر اقارب کی زبانی میں بطور خاص ان کی زندگی کے واقعات سنتا تو مجھے اپنے بچپن کے اس سوال کا جواب ملتا ہوا محسوس ہواکہ فانی زندگی اور علم قلیل کا حامل انسان کس طرح اپنی فانی زندگی کو بقائے دوام میں منتقل کر سکتا ہے ۔

فرمایا: ظفر اللہ کوئی دعا نہ کروں کہ اللہ تجھے اپنے کسی محتاج کا محتاج نہ کرے تو استاد محترم معروف وروحانی شخصیت رحمہ اللہ سےکہنے لگے حضرت میں تو حیات جاوداں کا خواہش مند ہوں ، حیات خلد یعنی ہمیشگی کی زندگی کیا واقعی کوئی انسان ہمیشہ زندہ رہ سکتا ہے نہیں ہرگز نہیں یہ تو ممکن ہی نہیں لیکن ایک بات ضرور ہے انبیاء کے وارثین تو حیات خالد کے ہی مالک ہوتے ہیں وارثین علوم نبوت جن کی اولین کڑی صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین کی خوبصورت جماعت ہے اور پھر تو ایک سلسلہ ذہبیہ تھا جو جاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گا۔تو میرے استاذ محترم پروفیسر محمد ظفر اللہ شہید رحمہ اللہ کا تعلق بھی اسی سنہری کڑی سے تھا۔

استاذ محترم پروفیسر محمد ظفر اللہ شہید رحمہ اللہ نے کراچی جیسے شہر بے اماں میں شہر علم بسایا جس کا نام خلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نام پر رکھا گیا ۔گویا کہ اس کے مبارک مشن کا اظہار اس کے نام سے ہی ہو گیا تھا ۔ اس مبارک شہر کی تاسیس کے ابتدائی خاکے سرزمین دعائے خلیل اللہ کے مرکز وحدت امت مسلمہ میں بیٹھ کر سوچے گئے اور بنائے گئے اور پھر ایک ایک دیوار کی تعمیر تھی اور استاذ محترم پروفیسر محمد ظفر اللہ شہید رحمہ اللہ کی انتھک محنت تھی نہ دن کو دن سمجھا اور نہ رات کو رات آج اس شہر علم کے نمائندوں سے دنیا کے 45سے زائد ممالک میں دین اسلام کی نشر واشاعت میں مصروف عمل ہیں بلکہ وہ ننھے ننھے چراغ آج آسمان کے سورج بنے ہوئے اہل کائنات کو راہ ہدایت دکھانے میں مشغول ہیں۔اگر یہ بات عقیدہ تقدیر کے منافی نہ ہوتی تو میں کبھی کبھی سوچتا کہ آج استاذ محترم پروفیسر محمد ظفر اللہ شہید رحمہ اللہ حیات ہوتے تو کتنا خوش ہوتے کہ ان کی روحانی ذریت نے ان کے دیکھے گئے خوابوں کی تعبیر کے لیے ان کی راہ اپنا لی ہے اور اب یہ روحانی اولادان کے لیے صدقہ جاریہ بن چکی ہیں۔

لیکن میں انہیں استاذ کیوں کہہ رہا ہوں مروجہ یا غیر مروجہ مفہوم میں تو میں نے ایک دن بھی ان سے کچھ نہیں پڑھا تو کیا استاذ صرف وہی ہوتا ہے جس سے باقاعدہ طور پر کچھ اسباق پڑھے ہوں نہیں ایسا نہیں میں نے ان سے زندگی گزارنے کا فن سیکھا کہ حیات خلد کا حقیقی مفہوم کیا ہے اور میں نے زندگی کا سب سے اہم فن ان سے سیکھا ۔ہاں یہ ضرور افسوس کی بات ہے کہ مجھے یہ بات ان کی شہادت کے ہزاروں ایام بعد سمجھ میں آئی ۔

میں نے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں دینی تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کا سلسلہ بھی شام کے ایک کالج میں جاری رکھا لیکن کسی کو بتاتا نہیں تھا آخر ایک دن سابقہ مدیر تعلیم شیخ بشیر احمدصلاد حفظہ اللہ کو پتا چل گیا انہوں نے اپنے دفتر میں بلوایا اور کہا کہ اگر جامعہ میں پڑھنا ہے تو کالج کی پڑھائی کو چھوڑ دو ورنہ ہم کچھ اور سوچیں گے میں خاموش رہا اور دونوں جگہ سلسلہ جاری رکھا اس پر انہوں نے استاذ محترم پروفیسر محمد ظفر اللہ شہید رحمہ اللہ کو بتا دیا اس پر استاذ محترم پروفیسر محمد ظفر اللہ شہید رحمہ اللہ نے مجھے اپنے دفتر میں بلوایا وہ غالبا تین سالوں میں پہلا موقع تھا کہ میں ان کے دفتر میں ان کے روبرو تھا اپنے مخصوص انداز میں کہنے لگے میں یہ کیا سن رہا ہوں ؟ اب مجھ سے کوئی جواب ہی نہیں بن رہا تھا کہ کیا کہوں آخر میرے چپ رہنے پر خود ہی کچھ دیر پوچھنے لگے جامعہ میں کیا پوزیشن ہے تو میں نے بتایا کہ ابھی تک نصف السنۃ (معہد رابع)کے امتحان میں میری پہلی پوزیشن ہے تو وہ حیران بھی ہوئے اور خوش بھی ہوئے اور شیخ بشیر احمد حفظہ اللہ کو بلوایا اور کہنے لگے کہ جس طالب علم نے باہر پڑھنے کے باوجود جامعہ میں پوزیشن لے رکھی ہے اسے بالکل نہ روکیں اور مجھے شاباش دی اور کہنے لگے کہ فائنل امتحان میں بھی پہلی پوزیشن چاہیے اور اس کے بعد جب بھی سامنا ہوا تو ضرور پوچھتے تھے کہ دونوں پڑھائیوں کا کیا حال ہے لیکن فائنل امتحان میں پہلی پوزیشن سے تیسری پوزیشن پر آگیا اس پر میں ان کے سامنے ہی نہیں جا رہا تھا کہ کیا کہوں گا ۔ لیکن آج جب میں سوچتا ہوں تو میری آنکھ میں آنسو آ جاتے ہیں کہ وہ حقیقی مربی تھے مجھے بھرپور انداز میں شاباشی دی اور مجھے اپنے ساتھ ہی ماڈل کالونی اپنی گاڑی میں لے گئے اور اپنی کہی ہوئی بات کو بالکل محسوس نہیں کروایا کہ انہوں نے کیا کہا تھا اور پھر مجھ سے میرے کاغذات تیار کروائے اور سعودیہ جاتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئے اور ایک دن میں تھا اور مھبط وحی تھا اور میں سوچ رہا تھا استاذ محترم پروفیسر محمد ظفر اللہ شہید رحمہ اللہ نے مجھے اپنا مقروض کر دیا ہے جانے یہ قرض ادا کر پاؤں گا یا نہیں۔اور میں سوچ رہا ہوں کہ یہ صرف میری کہانی نہیں بلکہ سینکڑوں فیض الابرار کی کہانی ہے جو ان کی محبتوں کے مقروض ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ان سب فیض الابراروں کو اس قرض کی ادائیگی کرنی ہے ورنہ وہ مقروض ہی جائیں گے اور یہ قرض استاذ محترم پروفیسر محمد ظفر اللہ شہید رحمہ اللہ کا ذاتی قرض نہ تھا بلکہ ملت اسلامیہ سے متعلق تھا۔

اور استاذ محترم پروفیسر محمد ظفر اللہ شہید رحمہ اللہ کے اس واقعے سے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ اور دیگر مدارس کے طلباءکے لیے ایک بہت اہم سبق ہے وہ یہ کہ عصری تعلیم ضرور جاری رکھی جائے کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عصری علوم سے واقفیت حاصل کی جائے لیکن اگر عصری تعلیم دینی تعلیم کے حصول میں حارج ہوتی ہے تو اسے عارضی طور پر ترک کر دینا ہی بہتر ہے کیونکہ اصل تعلیم کتاب وسنت کی ہی ہے کیونکہ دونوں جہاں میں فلاح کا دارومدار کتاب وسنت کی تعلیم کے حصول میں مضمر ہے اور عصری تعلیم وقت کی ضرورت ہے جس کو نظر انداز کرنا یا اہمیت نہ دینا بہت بڑی حماقت ہے ۔کیونکہ عصری تعلیم کتاب وسنت کی تعلیم کی نشرواشاعت میں ممدومعاون ثابت ہوتی ہے ۔والعلم الحقیقی عند اللہ والامر الی اللہ تعالی۔

استاذ محترم پروفیسر محمد ظفر اللہ شہید رحمہ اللہ نے صرف ۵۴ سال کی عمر قلیل پائی اس چند روزہ حیات میں انہوں نے وہ کام کر دکھایا جو لوگ سو سو سال جینے کے باوجود نہیں کر پاتے۔صحیح کہا تھا رحمہ اللہ نے : حضرت مجھے تو بقائے دوام چاہیے اور واقعی انہوں نے اس راز کی حقیقت کو پا لیا تھا کہ بقائے دوام کا ایک ہی نسخہ ہے اور وہ اللہ کے دین کی نشرواشاعت صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اللہ کے دین کی نشرواشاعت صرف اللہ کے لیے ۔صوفی محمد عبد اللہ رحمہ اللہ کے شاگرد نے یہ ثابت کر دکھایا کہ اسے واقعی ہی صرف یہ چاہت تھی کہ اس کی زندگی اللہ کے دین کے لیے خرچ ہو۔

رب کائنات کافرمان ہے جو اللہ کی مخلوق کے لیے نفع بخش ہو وہی بقائے دوام کا مستحق ہے ۔اللہ نے سچ کہا، استاذ محترم پروفیسر محمد ظفر اللہ شہید رحمہ اللہ کی پوری زندگی اس آیت کی عملی تفسیر تھی ۔

اور میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے : وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا تو جہاں میں اپنی والدہ رحمہا اللہ اور دیگر اجداداور جدات رحمہم اللہ کے لیے دعا کرتا رہتا ہوں تو اپنے روحانی والد کے لیے بھی یہی دعا کروں گا اللہ ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے مجھ پرشفقت کی اورمجھ سے محبت کی۔آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے