نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ، أما بعد :
أعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
يٰاَ يُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْٓا اِلَيْهِ الْوَسِيْلَةَ وَجَاهِدُوْا فِيْ سَبِيْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ

’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو اور اس کے راستہ میں جہاد کرو تاکہ تم کامیابی حاصل کرسکو ۔‘‘ (المائدۃ:35)

لفظ ’’وسیلہ‘‘ کا لغوی معنی قرب کا ہوتاہے اور اصطلاح میں وہ چیز جس کے ذریعہ انسان اپنے مقصود ومطلوب کے قریب ہوجائے اور شریعت کی اصطلاح میںاس کا مطلب یہ ہے کہ ہر وہ نیکی یا عبادت کا کام جن سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوجائے۔ ’’وسیلہ‘‘ جنت میں ایک بلند وبالا درجہ کا نام بھی ہے۔ جو رسول اللہ ﷺ کیلئے مخصوص ہے چونکہ یہ مقام اللہ تعالیٰ کے عرش کے انتہائی قریب ہے اس لیے اس کو ’’وسیلہ‘‘ کہاجاتاہے۔

مذکورہ بالا آیت کریمہ میں ایمان والوں کو جس وسیلہ کی تلاش کا حکم دیاگیا ہے وہ شرعی وسیلہ ہے یعنی نیک اعمال کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب تلاش کرنا۔اس آیت کریمہ سے پہلے والی آیات میں یہودیوں کا تذکرہ کیاجارہاتھا کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اولاد اور محبوب سمجھتے تھے اس خوش فہمی کی وجہ سے وہ ہر قسم کے جرائم کا ارتکاب کرتے رہتے تھے تو اس آیت میں مسلمانوں کو تعلیم دی گئی ہے تم اگرچہ بہترین امت ہو لیکن اس خوش فہمی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے احکام کو فراموش مت کرنا۔ بس اس کا تقویٰ اختیار کیے رکھنا اور صالح اعمال کے ذریعے اس کا قرب تلاش کرتے رہنا۔ اور اس کی راہ میں جہاد کرتے کرنا تاکہ تم آخرت میں فلاح وکامیابی سے ہمکنار ہوسکو اور یہود کی طرح بد عمل مت بننا۔ ( تفسیر کبیر)

امام المفسرین الحافظ ابن جریر رحمہ اللہ تعالیٰ

وَابْتَغُوْٓا اِلَيْهِ الْوَسِيْلَةَ

کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

وَاطْلُبُوا الْقُرْبَةَ إِلَيْهِ بِالْعَمَلِ بِمَا يُرْضِيهِ(تفسیر ابن جریر الطبری ، ج:6، ص:146)

’’اور اللہ تعالیٰ کی طرف ایسے اعمال کے ساتھ قرب تلاش کرو جن کو وہ پسند فرماتاہے۔‘‘

امام ابن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ اس کی تفسیر میں سیدنا قتادۃ رضی اللہ عنہ کا قول نقل کرتے ہیں :

تَقَرَّبُوا إِلَيْهِ بِطَاعَتِهِ وَالْعَمَلِ بِمَا يُرْضِيهِ.(تفسیر ابن کثیر،ج:5، ص:86)

’’اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی اطاعت اور اس کے پسندیدہ اعمال کے ذریعے قرب تلاش کرو۔

امام آلوسی اور ابو السعود حنفی فرماتے ہیں :

اَلوَسِيلَةُ القُرْبُ بِالطَّاعَةِ وَالعِبَادَةِ

(روح المعانی، ص98، ابو السعود ج:5 ص:61)

’’اطاعت اور عبادت کے ذریعہ قرب حاصل کرنے کا نام وسیلہ ہے۔‘‘

اس سے واضح ہوتاہے کہ ’’وسیلہ‘‘ کا معنی یہ ہے کہ نیک اعمال کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب تلاش کرنا۔ اسلاف سے یہی معنیٰ منقول ہے نیز لغت اور عقل سیلم بھی اسی پر دلالت کرتی ہے اور اس کا معنی یہ کرنا کہ نیک لوگوں کی ذاتوں یا اُن کے صالح اعمال کا واسطہ دے کر اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجات پوری کروانا یا کسی بزرگ کے مرید وشاگرد ہونے کو بخشش کا وسیلہ سمجھنا یہ سب باطل ہے۔ یہ مطلب اسلاف میں سے کسی سے منقول نہیں اور نہ ہی لغت اور عقل اس کا ساتھ دیتی ہیں بلکہ یہ قرآن کے معنیٰ میں تحریف اور کلمات کو ان کی جگہ سے بدلنا ہے ۔ مذکورہ بحث سے ’’وسیلہ‘‘ کی دو قسمیں سامنے آتی ہیں ۔

1۔ شرعی وسیلہ         2۔ بدعی وسیلہ

1۔ شرعی وسیلہ :

کتاب وسنت سے تین قسم کا وسیلہ ثابت ہے جو مندرجہ ذیل ہیں :

1۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کا وسیلہ

اس وسیلہ سے مراد یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کا واسطہ ڈال کر اس سے دعا کرے مثلاً اس طرح کہے ’’یا اللہ تیرے رحمن ورحیم ہونے کا واسطہ میرے حال پر رحم فرما‘‘ میری فلاں حاجت پوری فرما………. وغیرہ اس وسیلہ کا کتاب وسنت سے ثبوت ملتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ(سورۃ الاعراف:180)

’’اور اللہ تعالیٰ کے لیے بہترین نام ہیں اُسے ان ناموں کے ساتھ پکارو، اور ان لوگوں کو چھوڑ دیجیے جو اس کے ناموں میں کجی کرتے ہیں۔‘‘

رسول اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے حضور اس طرح دعا کیا کرتے تھے :

اللهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وَقُدْرَتِكَ عَلَى خَلْقِكَ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي ، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي (بخاری ومسلم)

’’ اے اللہ! میں تیرے علم غیب اور مخلوق پر قدرت کے واسطے سے دعا کرتا ہوں کہ جب تک تیرے علم میں میری زندگی بہتر ہو اس وقت تک زندہ رکھنا اور جب تیرے علم میں میری وفات بہتر ہو تو مجھے فوت کردینا۔‘‘

دعا ءِ استخارہ میں آپ ﷺ اس طرح دعا کرتے تھے ۔

اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ ۔۔۔
(البخاری فی التہجد والدعوات)

’’اے اللہ ! میں تیرے علم کے واسطے سے بھلائی طلب کرتاہوں اور تیری قدرت کے واسطے سے غلبہ چاہتا ہوں اور میں تجھ سے تیرا فضل عظیم طلب کرتاہوں ۔‘‘

پریشانی اور گھبراہٹ کے وقت آپ ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔

يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ

(ترمذی، حاکم، حدیث حسن)

’’اے ہمیشہ زندہ وقائم رہنے والے میں تیری رحمت کے ذریعے مدد طلب کرتاہوں۔‘‘

اس سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کا وسیلہ اور واسطہ دینا جائز ہے۔

2۔ صالح اعمال کا وسیلہ

اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان نے جو نیک کام خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے کیا اس کا وسیلہ ڈال کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے۔ اس کا ثبوت بھی قرآن وسنت سے ملتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کا قول ذکر کیا۔

رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ(آل عمران:16)

’’ اے ہمارے رب! یقیناً ہم ایمان لے آئے پس(اس وجہ سے) ہمارے گناہ معاف کرنا اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ رکھ۔‘‘

اور دوسری جگہ اس طرح فرمایا :

رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ (آل عمران:193)

اے ہمارے پروردگار! ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا، جو ایمان کی طرف دعوت دیتا اور کہتا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ، تو ہم ایمان لے آئے، پس ہمارے گناہ معاف کردے اور ہماری برائیاں دور فرما اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت دے۔‘‘

حدیث رسول ﷺ میں اصحاب غار کا واقعہ بھی اس پر دلیل ہے کہ جب غار کے منہ پر بھاری چٹان آگری اور راستہ مسدود ہوگیا ان تینوں آدمیوں نے اپنے نیک اعمال کا وسیلہ ڈال کر اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے چٹان کو ہٹا دیا تو وہ اس تکلیف سے نجات پاکر باہر آگئے۔ (مکمل واقعہ دیکھیے: صحیح بخاری فی کتاب الادب )

مذکورہ کتاب وسنت کے دلائل سے ثابت ہوا کہ اپنے نیک اعمال کا وسیلہ ڈالنا جائز ہے۔

3۔ صالح آدمی کی دعا کا وسیلہ :

صالح آدمی سے دعا کروانا بھی جائز ہے اس کا ثبوت بھی صحیح احادیث سے ملتاہے۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) آپ ﷺ منبر پر خطبہ ارشاد فرمارہے تھے کہ ایک اعرابی آیا اور عرض کرنے لگا اے اللہ کے رسول ﷺ! مویشی ہلاک ہوگئے اور سفر منقطع ہوگئے اللہ تعالیٰ سے دعاکیجیے کہ ہمیں بارش دے تو نبی ﷺ نے (دعا کیلئے) ہاتھ اٹھائے۔ (بخاری ومسلم فی کتاب الاستسقاء)

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عمل بھی اس کے جواز پر دلیل ہے ۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ قحط سالی کے وقت سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے دعا کرواتے تھے اور (دعا میں) کہتے تھے اے اللہ! پہلے ہم تیرے نبی (کی دعا) کے ذریعے بارش طلب کیا کرتے تھے تو ہمیں بارش عطا کردیتا تھا۔ اوراب ہم تیرے نبی کے چچا کی دعا کے ذریعے بارش طلب کرتے ہیں پس ہمیں بارش عنایت فرما اس طرح ان کو بارش دے دی جاتی تھی۔ (بخاری فی کتاب الاستقساءوفضائل أصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم )

اسی طرح سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی بارش کے وقت سیدنا یزید بن الاسود رضی اللہ عنہ سے دعا کروائی تھی۔ ( رواہ الحافظ ابن عساکر فی تاریخہ بسند صحیح وعزاہ ابن حجر)

ب۔ بدعی وسیلہ

بعض لوگ پیری اور مریدی کے کاروبار کو برقرار رکھنے کےلیے حیلہ بنام وسیلہ ایجاد کیے ہوئے ہیں کہ فوت شدگان بزرگوں کی ذاتوں کا واسطہ حاصل کیا جائے یا ان کی مریدی حاصل کرکے اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان واسطہ حاصل کیا جائے اور جاہل لوگ ان کے نذرانے، ماہانے اور سالانے دیکر ان کی خوب آؤ بھگت کرتے رہتے ہیں تاکہ دنیا اور آخرت کے تمام معاملات درست رہیں اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہوکر وہ خود شرعی احکام پر عمل کرنا ضروری نہیں سمجھتے اسی طرح کے واسطے وسیلے عامۃ الناس کی گمراہی کا سبب بنے ہوئے ہیں حالانکہ اس طرح کا وسیلہ کتاب وسنت میں کہیں نہیں ملتا، اور نہ ہی کسی صحابی، تابعی اور امام کی زندگی سے ملتاہے۔ بلکہ یہ صریح نصوص کے خلاف ہے جس طرح امام آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی کی دعا کو وسیلہ بنانا جائز ہے بشرطیکہ وہ زندہ ہو اگر کسی فوت شدہ یا غائب ہستی کو وسیلہ بنایاجائے تو جائز نہیں یہ ایسی بدعت ہے جو اسلاف میں سے کسی سے بھی ثابت نہیں اور نہ کسی صحابی سے یہ چیز منقول ہے۔ ( روح المعانی ج:6،ص:125)

بدعی وسیلہ کے قائلین اس کو ثابت کرنے کے لیے دو طرح کی دلیلیں بیان کرتے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ وہ روایات جو سند ومتن کے اعتبار سے توصحیح ہیں لیکن ان کا مطلب ومفہوم اپنی طرف سے وضع کرتے ہیں جو کسی صحابی،تابعی یا محدث نے بیان نہیں کیا ہوتا اس کیلئے دو حدیثیں بیان کرتے ہیں ۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ قحط کے وقت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے وسیلہ سے بارش طلب کرتے تھے وہ فرماتے تھے :

اَللّٰهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِيْنَا وَاِنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا قَالَ فَيُسْقَوْنَ.(بخاری)

’’اے اللہ! ہم تیرے نبی کے ذریعے بارش طلب کیا کرتے تھے تو تو ہمیں بارش دے دیا کرتا تھا(اب) ہم تیرے نبی کے چچا کے ذریعے بارش طلب کرتے ہیں پس ہمیں بارش عطا کر۔ راوی کہتا ہے کہ ان کو بارش دے دی جاتی تھی۔

جواب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ذات یا جاہ ومرتبہ کا وسیلہ نہیں پکڑا بلکہ ان کی دعا کو وسیلہ بنایا ہے کیونکہ اگر ذات یا جاہ ومرتبہ کا وسیلہ پکڑنا ہوتا تو وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی بجائے رسول اکرم ﷺ کی جاہ ومرتبہ کا وسیلہ پکڑتے کیونکہ آپ ﷺ  کا مرتبہ ومقام سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے کہیں زیادہ ہے اور آپ کی ذات جس طرح محترم وعزت والی تھی اس طرح وفات کے بعد بھی محترم وعزت والی ہے لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس طرح نہیں کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وسیلہ دعا کے ساتھ ہوتاہے ذات کے ساتھ نہیں۔ جب تک رسول اللہﷺ زندہ تھے وہ ان کی دعا کا وسیلہ لیتے تھے اور آپ کی وفات کے بعد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ذریعے بارش طلب کیا کرتے تھے نیز اگر ذات یا جاہ ومرتبہ کا وسیلہ لینا ہوتا تو جناب عمر رضی اللہ عنہ گھر بیٹھ کر واسطہ ووسیلہ ڈال لیتے۔ لیکن اس طرح نہیں کیا بلکہ لوگوں کو لیکر میدان میں جاتے اور پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو دعا کیلئے کہتے جس طرح امام آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔

أن العباس كان يدعو وهم يؤمنون لدعائه حتى سقوا (روح المعانی ، ج:6، ص:127)

’’سیدنا عباس رضی اللہ عنہ دعا کرتے تھے اور باقی لوگ ان کی دعا پر آمین کہتے تھے یہاں تک کہ انہیں بارش دے دی جاتی ۔‘‘

باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی اس طرح صالح آدمی سے دعا کرنا ثابت ہے جس طرح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور الضحاک بن قیس نے یزید بن الاسود سے دعا کروائی ۔

لو كان التوسل به عليه الصلاة والسلام بعد انتقاله من هذه الدار لما عدلوا إلى غيره (روح المعانی، ج:6،ص:126)

’’اگر اس دنیا فانی سے چلے جانے کے بعد بھی آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وسیلہ پکڑنا جائز ہوتا تو صحابہ کرام اس سے انحراف نہ کرتے ۔

2۔ ایک نابینا آدمی آپ ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کرنے لگا میرے لیے دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ میری نظر درست کردے آپ ﷺ نے فرمایا اگر تو چاہتا ہے تو میں تیرے لیے دعا کردیتاہوں اگر تو صبر کرلے تو تیرے لیے بہتر ہوگا اس نے عرض کی آپ دعا ہی کر دیجیے آپ نے حکم دیا کہ تم اچھی طرح وضو کرکے دو رکعت نماز پڑھو اور پھر یہ دعا مانگو ۔

اللهم إني أسألك ، وأتوجه إليك بنبيك محمد نبي الرحمة ، يا محمد إني توجهت بك إلى ربي في حاجتي هذه فتقضى لي ، اللهم فشفعه في وشفعني فيه   (اخرجہ الالبانی فی التوسل )

’’اے اللہ! میں تجھی سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف رحمت والے نبی محمد ﷺ کے ساتھ متوجہ ہوتاہوں اے محمد ﷺ میں نے آپ ﷺ کو اپنی حاجت میں اپنے رب کی طرف متوجہ کیا ہے بس یا الٰہی میری حاجت پوری کردے اے اللہ نبی ﷺ کی سفارش میرے حق میں قبول فرما ۔‘‘

روای بیان کرتے ہیں کہ اس نابینے آدمی نے اسی طرح کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے صحیح وسلامت کردیا۔

جواب: مذکورہ حدیث سے ایک آدمی کی دعا کے ذریعے وسیلہ کرنا ثابت ہوتاہے نہ کہ وسیلہ بالذات کیونکہ۔

1۔ نابینا آدمی چل کر آپ ﷺ کی خدمت میں آیا اور دعا کا مطالبہ کیا اگر آپ کی ذات یا جاہ ومرتبہ کا وسیلہ جائز ہوتا تو وہ گھر بیٹھے ہی آپ کی ذات ومرتبہ کا وسیلہ ڈال کر اللہ تعالیٰ سے دعا کر لیتا آپ کے پاس چل کر نہ آتا اور نہ ہی دعا کا مطالبہ کرتا ۔

2۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے دعا کرنے کا وعدہ کیا تھا وہ کردی اور اس کو بھی تلقین کی کہ وضو کرکے دو رکعت پڑھ کر دعا کرنا تاکہ نیک عمل کا وسیلہ بھی شامل ہوجائے ۔

3۔ آپ ﷺ نے جو دعا سکھلائی اس میں یہ الفاظ فرمائے (اللّٰهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ)’’اے اللہ! اپنے نبی کی دعا میرے حق میں قبول فرمانا‘‘۔ اور دوسرا جملہ یہ فرمایا (وَشَفِّعنِی فِیہِ) ’’میری دعا قبول کرنا کہ تیرا نبی میرے حق میں جو دعا کررہا ہے وہ قبول فرما‘‘۔ یہ تمام چیزیں واضح دلیل ہیں کہ اس صحابی نے دعا کی اپیل کی تھی اور آپ نے بھی اس کیلئے دعا کی تھی۔

4۔ تمام علماء کرام اس حدیث کو آپﷺ کے معجزات اور دعا مستجابات میں ذکر کرتے ہیں کہ آپ کی دعا کی وجہ سے اس کو بینائی ملی تھی اگر صرف دعا کی بنا پر بینائی ملی ہوتی تو آج بھی وہ خلوص نیت سے دعا کرتا تو اسے بینائی ملنی چاہیے تھی جبکہ صورتحال اس طرح نہیں ہے۔ بیہقی اور طبرانی نے معجم کبیر میں اس طرح بیان کیا ہے کہ ایک شخص سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا کرتا تھا لیکن وہ تو جہ نہیں فرماتے تھے۔ آخر وہ شخص سیدنا عثمان بن حنیف کو ملا اور اپنا حال بیان کیا تو انہوں نے اس کو وہی دعا سکھلائی جو آپ ﷺ نے نابینے کو سکھلائی تھی۔ اس دعامیں رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرکے وسیلہ بنایا گیاہے ۔لیکن اس روایت کی تمام اسناد میں ابو جعفر مدائنی ہے جس کو امام مسلم نے حدیث گھڑنے والوں میں شمار کیا ہے۔ (مقدمہ صحیح مسلم ، ص: 5)

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو جعفر مدائنی ان روایوں میں سے ہے جو جھوٹی حدیثیں بناتے تھے۔(شرح صحیح مسلم: ،ص:17)

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی حدیثیں موضوع ہیں اور میں نے اس سے روایت کرنا چھوڑ دیا ہے اور اسی طرح امام نسائی اور دارقطنی نے بھی اس کی روایات کو چھوڑ دیا تھا۔ (میزان الاعتدال ، جلد :2، ص:504)

پس ثابت ہوا کہ یہ واقعہ جس میں آپ ﷺ کو مخاطب کرکے وسیلہ طلب کیا گیا ہے) صحیح ثابت نہیں ہے۔

بدعی وسیلہ کے قائلین کچھ ایسی قسم کی دلیلیں پیش کرتے ہیں جو بالکل ضعیف اور موضوع ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:

سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِحَقِّ السَّائِلِينَ عَلَيْكَ (احمد وابن ماجہ)

’’ اے اللہ! تیرے سائلین کا تجھ پر حق ہے میں اس کے وسیلہ سے سوال کرتاہوں۔

جواب: سند کے اعتبار سے یہ روایت بالکل ضعیف ہے کیونکہ اس میں ’’عطیہ العوفی‘‘ ضعیف ہے۔

جس طرح امام نووی رحمہ اللہ نے ’’الاذکار‘ ‘ میں امام ابن تیمیہ نے ’’القاعدۃ الجلیلۃ‘‘ اور امام الذہبی نے ’’المیزان‘‘ میں وضاحت سے بیان کیا ہے بلکہ انہوں نے کتاب الضعفاء ، ج:1، ص:88 میں اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق لکھا ہے اسی طرح امام الہیثمی اپنی کتاب ’’مجمع الزوائد‘‘ میں متعدد جگہ ضعیف کہاہے۔

سیدنا آدم علیہ السلام نے اپنے گناہ کی معافی کے وقت محمد ﷺ کا وسیلہ ڈالا تو اللہ نے دعا قبول کی اور فرمایا (وَلَو لاَ مُحَمَّدٌ مَا خَلَقتُکَ ) ’’اگر محمد ﷺ نہ ہوتے تو میں تجھے بھی پیدا نہ کرتا (اخرجہ الحاکم فی المستدرک ، ج:2،ص:615)

جواب: یہ روایت موضوع ہے کیونکہ اس میں عبد الرحمن سخت ضعیف ہے ۔

عبد اللہ بن اسلم الفہری مجہول راوی ہے اور عبد اللہ بن مسلم بن رشید متہم بوضع الحدیث ہے۔ چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں امام ابن حبان اس کو متہم بوضع الحدیث میں ذکر کیا ہے جو لیث اور مالک پر احادیث وضع کیا کرتا تھا۔ (لسان المیزان ، ج:3، ص: 360)

نیز یہ نص قرآن کے خلاف ہے کیونکہ قرآن میں سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ کے بارے میں ہے کہ :

فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ ۔

اوردوسری جگہ وضاحت کردی کہ وہ کلمات یہ تھے ۔

رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ (الاعراف:23)
توسلوا بجھاہی فإن جاہی عند اللہ العظیم (القاعدۃ الجلیلۃ ، ص:130)

’’میرے جاہ ومرتبہ کے ساتھ وسیلہ پکڑو بے شک میرا مرتبہ رب تعالیٰ کے ہاں بہت بلند ہے ۔

جواب: مذکورہ روایت بالکل موضوع ہے بلکہ کتب حدیث میں اس کا کوئی وجود تک نہیں ملتا ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی شان ومقام تمام انبیاء سے افضل واعلیٰ ہے جس طرح آپ ﷺ نے فرمایا :

أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلاَ فَخْرَ

لیکن اس طرح ذات یا جاہ ومرتبہ کا وسیلہ دینا ثابت نہیں ہے ۔

جاء أعرابی إلی قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمی بنفسہ علی قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال جئت لتستغفرلی فنودی من القبر أنہ قد غفر لک

’’ایک اعرابی نبی ﷺ کی قبر پر آیا اور اپنے آپ کو آپ ﷺ کی قبر پر چمٹا لیااور کہنے لگا میں اس لیے آیا ہوں تاکہ آپ ﷺمیرے لیے بخشش طلب کریں تو قبر سے آواز دی گئی کہ تجھے معاف کر دیاگیا ہے ۔

جواب: یہ موضوع روایت ہے کیونکہ اس میں ہیثم بن عدی طائی راوی ہے جسے محدثین نے کذاب اور حدیثیں گھڑنے والا قرار دیا ہے۔ ( تہذیب التہذیب)

امام یحییٰ بن معین، ابو داؤد، ابو حاتم رازی، نسائی وغیرہم نے اسے متروک الحدیث قرار دیا ہے ۔ (جواہر القرآن ، ج:2، ص: 635۔ بحوالہ الصارم المنکی ، ص:310)

أصابھم قحط فی زمن عمر فجاء رجل إلی قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ استسق للأمۃ فأتاہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال لہ إئت عمر فقل لہ إن الناس یُسقون ۔ (بیہقی، ابن ابی اثیر)

’’سیدنا عمر کے دور میں ان کو قحط سالی پہنچی تو ایک آدمی نبی ﷺ کی قبر پر آیا اور کہنے لگا اے اللہ کےرسول ﷺ اپنی امت کیلئے بارش طلب کیجیے تو رسول اللہ ﷺ اس کے پاس آئے اور فرمایا عمر کے پاس جاؤ اور اطلاع دو کہ لوگوں کو بارش دی جائے گی۔

جواب: قبر پر آنے والا آدمی مجہول الحال ہے جس کی وجہ سے روایت قابل حجت نہیں اور اس کی سند میں سیف بن عمرو ضبی ہے جو بالاتفاق محدثین ضعیف ہے اور اس پر زندیق ہونے کا الزام ہے اور وہ جھوٹی حدیثیں گھڑا کرتا تھا اور اسے امام ذہبی، ابوداؤد، ابو حاتم رازی، ابن حبان وغیرہم نے ضعیف، وضاع، متروک اور زندیق کہا ہے۔( میزان الاعتدال)

نیز اگر قبر پر جاکر بارش طلب کرنا درست ہوتا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو ساتھ لیکر دعا نہ کرواتے ۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

أما دُعاء الرسول وطلب الحوائج منہ صلی اللہ علیہ وسلم وطلب شفاعتہ عند قبرہ بعد موتہ ، فھو لم یفعلہ أحد من السلف ۔ ( القاعدۃ الجلیلۃ ، ص:56)

’’رسول ﷺ سے دعا کرنا، حاجات طلب کرنا اور وفات کے بعد جاکر آپ کی قبر پر جاکر شفاعت طلب کرنا ایسے کام ہیں جو اسلاف میں سے کسی ایک سے بھی ثابت نہیں ۔‘‘

حاصل بحث یہ ہوا کہ وسیلہ کی صرف تین قسمیں جائز ہیں۔ جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے ۔ زندہ یا فوت شدہ کی ذات یا جاہ ومرتبہ کا واسطہ ووسیلہ اختیار کرنا درست نہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن وسنت کا صحیح مطلب ومفہوم سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

علامہ اقبال نے کہا تھا

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے