رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود مزکی اور حسن مجسم اس کائنات کے لیے باعث رحمت ہے۔ اسلام جو اللہ تعالی کا پسندیدہ دین ہے اور جسے حیات طیبہ کے الوداعی لمحات میں مکمل کرنے کی خوش خبری سے نوازا گیا لہٰذا دین اسلام کی اکملیت ، جامعیت اور شمولیت میں کسی بھی قسم کا شک اور شبہ کرنا یا کمی و زیادتی کرنا کسی بھی اعتبار سے جائز نہیں بلکہ کمی یا زیادتی کا مرتکب اپنا ٹھکانہ جہنم سمجھے۔

بعثت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی مقصد انسان کو اس کی حقیقی پہچان عطا کرنا تھی جو کہ اللہ تعالی نے اسے اس کی پیدائش سے بھی پہلے عطا کر دی تھی اور وہ پہچان اس کا مقام عبدیت پر فائز ہونا ہے اسی لیے اسے اشرف مخلوقات کے عظیم مرتبہ سے نوازا گیا۔ یعنی انسان کا اپنے خالق کے ساتھ رشتہ عبادت قائم کرنا۔

انسان کا اشرف مخلوقات ہونا ہی اس امر کا متقاضی ہے کہ اس کے کچھ بنیادی حقوق بھی ہیں جو کسی اور مخلوق کو عطا نہیں کیے گئے اور یہ بنیادی حقوق جان، مال اور عزت کی مثلث کے گرد ہی گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں۔اور یوں کہا جائے کہ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جس نے اپنے ماننے والوں کو تو ان حقوق سے نوازا ہی ہے بلکہ نہ ماننے والوں کو بھی اس سے محروم نہیں رکھا۔

حیات طیبہ کا اگر بغور معروضی مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات قبل از نبوت بھی ان تین بنیادی حقوق کی محافظ بے نظیر اور عدیم

المثال ثابت ہوتی ہے۔ یعنی سیرت کے قاری کے لیے

بعض مقامات پر ممکن ہی نہیں ہوتا کہ وہ قبل از نبوت اور بعد از نبوت کے مابین کوئی خط فاصل کھینچ سکے اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ آپ کی ذات مبارک ابتدا سے ہی باعث رحمت تھی اور ہے۔ تفصیل میں جائے بغیر اگر معاہدہ حلف الفضول اور تعمیر کعبہ وغیرہ کی مثالیں اس پر شاہد ہیں۔

بنیادی انسانی حقوق کی تاریخ کی معراج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ خطبات جو آپ نے خطبۃ حجۃ الوداع میں مختلف مقامات پر ارشاد فرمائے جو کہ کسی ایک راوی نے نہیں بلکہ مختلف صحابہ نے بیان کیے جنہیں بعد میں جمع کیا گیا۔ یوں تو حیات طیبہ کے تریسٹھ سال ہی بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ سے تعبیر ہیں لیکن خطبہ حجۃ الوداع میں جو اسلوب اور جامعیت اختیار کی گئی اس کی مثال پیش کرنے سے تاریخ قاصر ہے۔ خطبہ حجۃ الوداع ہمیں اتحاد و یگانگت کا درس دیتا ہے تفرقہ بازی کی مذمت کرتاہے۔

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ خطبہ حجۃ الوداع کو پڑھ لینے کے بعد کوئی مسلمان کسی دوسرے کلمہ گوکی تحقیریاتکفیرکرے؟

کیا یہ ممکن ہے کہ قرآن کو دستورِ حیات ماننے والے اپنے روز و شب کے مسائل کے تسلی و تشفی آمیز حل کے لیے علماء و مفتیان کے بجائے کسی اور کی عدالت میں جائیں؟

اورکیا یہ ممکن ہے کہ مسلمان خواہ وہ وکیل ہو یا ڈاکٹر ہو یا

سیاسی لیڈر اور یا پھر صحافی یا پھر تاجروغیرہ جھوٹ اور فریب کے ذریعے حرام مال کو ہاتھ لگائیں اور ساتھ میں نماز ، روزہ، زکوٰۃ اور حج و عمرہ بھی ادا کرتے رہیں؟ کیا یہ ممکن ہے عورت کے حقوق کی پامالی ہو؟

کیا یہ ممکن ہے ایک عام مسلمان بُرائی کو دیکھے اور خاموش رہے؟

اس جیسے بے شمار سوال ہر مسلمان کے ذہن میں گردش کرتے رہتے ہیں مثلا قرآن مجید میں ہے کہ نماز برائیوں سے روکتی ہے لیکن عملا یہ کیفیت ہمیں مکمل طور پر نظر نہیں آتی بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ اس کی نادر و نایاب مثالیں ملتی ہیں اکثریت کا حال اس کے الٹ ہے تو غلط نہ ہو گا اس کی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ ہم نے روح نماز کو ترک کر دیا اور رسمی نماز کو اپنا لیا۔

تو ان سوالوں کا جواب منطقی طور پر تو یہی ہو سکتا ہے کہ ہرگز نہیں۔ یہ نا ممکن ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ خطبہ حجۃ الوداع کو پڑھ لینے کے بعد مسلمانوں میں مسلکانہ جنگ باقی رہے۔ جب کہ ہم مسلمانوں کا دعوی تو یہ ہے کہ یہ خطبہ صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ پوری انسانیت کیلئے امن و انصاف کی ضمانت ہے۔ یہ ایک ایسا اخلاقی معیار ہے جس کے ذریعے ہم ہر قسم کی دہشت گردی، نیوکلیر ٹیکنالوجی اور منفی میڈیا کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ یہ قانون امت مسلمہ کی نشاۃ ثانیہ کی بشارت بن سکتا ہے بشرط یہ کہ اس کو عملی طور پر اپنا لیا جائے۔

دین اسلام اگر جامع اور اکمل دین ہے تو اس میں اختلاف رحمت نہیں بلکہ عذاب کا سبب ہے تو غالبا نہیں بلکہ یقینا اس کی سب سے بڑی مثال نماز ہے حیات طیبہ سے ثابت جو فعل مسلسل تئیس سال دھرایا گیا ہو آخر اس میں اختلاف چہ معنی دارد؟

عرض ہے کہ میدان جنگ میں شکست کھانے والی ابن السودا کی روحانی ذریت ہر گز خاموش نہیں بیٹھی تھی ان کا کینہ و بغض اور حسد نے سازی سے نویسی کی طرف آتے ہوئے وہ وہ خرافات اور ہفوات ایجاد کی جس کے بعد ان اختلافات کا در آنا کوئی حیران کن امر نہیں۔ اور نماز بندہ مؤمن اور کافر کے درمیان فرق ہے تو اس بنیاد کو ہی نشانہ بنایا گیا کیونکہ نماز امت مسلمہ کی وحدانیت کی علامت تھی لہٰذا ؟

اور بات صرف یہی نہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ معرفت، طریقت، شریعت، سنّیت، شیعیت، بریلویت، دیوبندیت اور سلفیت جیسی تقسیمات نے ہمیں مزید انتشار اورافتراق میں مبتلا کروادیاایک عام انسان کی سمجھ میں ہی نہیں آ تی کہ حق کیا ہے یا باطل کیا ؟ سوائے جس پر اللہ تعالی کا فضل و کرم ہو ۔ ہر سال ایسے بے شمار سوالات ،فتاویٰ، بحث و مباحثے ، تقاریر و مضامین سننے میں اور پڑھنے میں آتے ہیں اور سالہا سال سے یہی کرتے آرہے ہیں۔ اور انہی کی روشنی میں ہماری عبادات جاری و ساری ہیں۔

اور انسانی نفسیات کی رو سے جب تک کسی کام میں جسمانی طور پر خود کو خوب تھکا نہ لیں ہمیں اطمینان حاصل نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے میں اپنی عبادات کو سامنے رکھ کر اگر یہ کہوں کہ کچھ لمحوں کے لیے اپنے دل ، دماغ اور ضمیرسے یہ سوال کرنا نہیں چاہتے کہ یہ سب عبادتیں ہم کیوں کریں؟ تو بہت سے امور ہمارے لیے سمجھنے آسان ہو جائے گے بالخصوص مقصد تخلیق۔

جیسا کہ ایک فوجی کو اگر یہی پتہ نہ ہو کہ اسے اتنی سخت پریڈ اور ٹریننگ کیوں دی جا رہی ہے اور اگر اسی ٹریننگ کو وہ نوکری کا اصل مقصد سمجھ کر محنت کیے جا رہا ہو اور پروموشن کی آس لگائے بیٹھاہو تو اس فوجی کو کیا کہا جائے گا؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج و عمرہ اور دوسری تمام نیکیوں کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا ’’ـانسان یہ سب کچھ کرتا ہے مگر قیامت کے دن اسکا اجر اسکی عقل و فہم کے مطابق ہی ملے گا‘‘

جیسا کہ حجاج کرام اور تمام قربانی کرنے والے اگر زندگی میں صرف ایک بار’’خطبہ حجۃ الوداع‘‘ کو پڑھ لیں ، سمجھ لیں اور دنیا کے سامنے پیش کر دیں تو ایک عظیم انقلاب آسکتا ہے ورنہ کروڑوں بکرے ، گائیں اور اونٹوں کے کٹنے سے ان شاءاللہ ایک واجب کے ادا ہونے کا اجر تو پورا پورا ملے گا لیکن اس سے دنیا میں کوئی انقلاب آئے یا دنیا کو اسلام کا کوئی پیغام پہنچے یہ ناممکن ہے۔

انسانیت کے فروغ کے لیے جب بھی دنیا نے ہیومین رائیٹس ، ویمنس رائیٹس ، اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل وغیرہ کے چارٹر پیش کیے ، ہمارے علماء ، خطباء اور مصنفین نے بڑے فخر اور رعب سے انہیں نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ :’’ہمارے پاس تو یہ چارٹر چودہ سو سال پہلے سے موجود ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ہمیں دے دیا تھا۔

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ چارٹر اب تک کہاں تھا؟

اگر واقعی اس چارٹر میں پوری انسانیت کی بقا پوشیدہ تھی تو ہمیں اس کی آج تک کیوں کر ضرورت پیش نہیں آئی؟

آخر ایسا کیوں ہوا کہ ہمارے زعماء کافروں کو مسلمان بنانے کے بجائے مسلمانوں کو ہی کافر قرار دینے میں لگے رہے؟

اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہی ہے کہ اس سے زیادہ اہم ہمارے لیے فاتحہ، درور، قصیدہ بردہ شریف ، میلاد اور کرامات کے مسائل تھے۔ حقوق انسانی، مساوات ، انصاف ، تعلیم ، حتیٰ کہ خود قرآن سے زیادہ اہم ہمارے لیے مذہبی بنیادوں پر مختلف مسالک کا قیام تھا ۔ مقلد و غیرمقلد کی جنگ تھی ، تحقیر وتکفیر کا مقابلہ تھا ، ڈاڑھی کی مقدار ، آمین بالجہر ، محفل سماع ، وسیلے کی بحثیں تھیں۔

ہم نے کبھی یہ سوچنے کی ضرورت ہی محسوس ہی نہیں کی کہ اسوہ حسنہ ہم سے کس امر کا متقاضی تھا۔ کیا خطبہ حجۃ الوداع ہم سے اسی رویے کی توقع کرتا ہے جو ہم اختیار کر کے بیٹھے ہوئے ہیں۔

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے سب سے بہترین مثالی انسان ہیں؟

یہ اہم نہیں ہونا چاہیے تھا کہ وہ نور تھے یا بشر تھے، وہ مشکل کشا یا عالم الغیب تھے یا نہیں تھے۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ دشمنان اسلام نے ہماری صفوں میں گھس کر ہمیں یہ ازبر کر وا دیا ہے کہ اس قسم کے مباحث خطبہ حجۃ الوداع سے زیادہ اہم تھے لہٰذا یہ خطبہ ہمارے لیے غیر اہم تھا۔ دنیا اگر اسی چارٹر کی بنیاد پر بھلے کئی بین الاقوامی چارٹر بنا لے مگر ہم نے طے کر لیا تھا کہ ہم اس خطبہ کے چارٹر کو پڑھیں گے ، شائع کر کے بانٹیں گے لیکن نہ کبھی اس پر غور کریں گے اور نہ عمل کریں گے ۔

میرے محترم بھائیوں اگر غور کیا جائے تو:

خطبہ حجۃ الوداع بقائے انسانیت کے لیے ایک عظیم ترین دستور ہے لیکن امت مسلمہ کے لیے یہ محض ایک دستور نہیں بلکہ چارج شیٹ ہے۔ اگر ہم اس چارٹر پر عمل کر لیں تو دنیا کی سیادت ہمارے ہاتھوں میں ہوگی۔ یہ سیادت ہمارا گم شدہ حق ہے۔ امّت ابراہیمی ہونے کے ناطے دنیا کی امامت پر ہمارا حق ہے۔ اور صاف سی بات ہے اگر ہم یہ بوجھ نہ اٹھا سکے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پوری انسانیت قتل و غارتگری ، ظلم و استحصال میں گھر جائے گی اور آج من و عن یہی صورتحال ہے ۔

آئیے ایک بار غور کرتے ہیں کہ خطبہ حجۃ الوداع کی صورت میں کتنا عظیم ہتھیار ہمارے پاس موجود ہے جس کے ذریعے ایک قطرہ خون بہائے بغیر اس امن کی پیاسی دنیا کو ہم انسانیت سے سیراب کر سکتے ہیں۔

ہم یہاں صرف چند نکات ہی پیش کرینگے جو ایک انقلاب برپا کرنے کیلئے کافی ہیں

1۔ دین اسلام کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل ہونا:

اے لوگو! مجھے بغور سن لو ، ہو سکتا ہے اس سال کے بعد مجھے اس مقام پر تم دوبارہ نہ پاؤ۔

اس کی وضاحت اس آیت میں ملتی ہے ’’اليوم اكملت لكم دينكم‘‘ آج تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کردیا گیا ۔ اس پر تمام صحابہ کا اجماع ہوگیا اور تمام نے گواہی دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دین مکمل طور پر قیامت تک کے انسانوں کیلئے پہنچادیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام سے عہد لیا کہ جو موجود نہیں ہے ان تک دین کو پہنچا دینگے۔

لیکن آج بے شمار جماعتیں، عقیدے، مسلک، گروہ اور سلسلے اپنے حق ہونے کے اعلان اور دوسروں کی تکفیر و تضحیک و تحقیر کے ذریعے بین السطور یہ اعلان کررہے ہیں کہ یہ دین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل نہیں ہوا تھا کئی چیزیں باقی رہ گئی تھیں جن کواب یہ لوگ پورا کررہے ہیں۔ لہٰذا دین اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں بلکہ اِن پر مکمل ہوا ہے۔

2۔ ایک دوسرے کی جان، مال اور عزت تم پرحرام ہے۔

تمہارا خون ، تمہارا مال اور تمہاری عزت و آبرو تا قیامت اسی طرح محترم ہیں جس طرح یہ دن جس طرح یہ مہینہ اور یہ شہردنیا کے تمام دستور اور آئین کی بنیاد اسی نکتہ پر تعمیر کیے گئے ہیں یہ بھی واضح رہے کہ اس خطبے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں بھی خطاب کیا ہے ’’یا ایھا الناس‘‘ سے کیا ہے نہ کہ خصوصی طور پر مسلمانوں سے۔

اب کسی کی بھی جان،مال یا عزت پر ہاتھ ڈالنا اِس مہینے اِس دن اور اِس شہر کی بے حرمتی کرنے کے مترادف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطاب ہر سنّی اور شیعہ سے ، ہر بریلوی اور دیوبندی سے ، ہر اہل حدیث اور تبلیغی سے، ہر پرویزی اور جماعت المسلمین سے ، جماعت اسلامی کے ہر رکن اور ہر جہادی ، فلاحی، اصلاحی ، سیاسی اور علمی کارکن سے ہے جو امت مسلمہ کی ترقی کے لیے کوشاں ہے ۔ ان تمام کو اس خطبہ میں حکم دیاگیا ہے کہ: خبردار ؛ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔

مسلکانہ بنیاد ، جماعتی بنیاد ، یا عقیدے اور سیاسی ، سماجی و معاشی طور پر کوئی لاکھ اختلاف رائے رکھتا ہو لیکن کسی بھی شخص کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اجازت نہیں دی کہ وہ دوسرے پر ہاتھ اٹھائے اور اسے قتل کر دے یا کسی کی تحقیر یا تکفیر کرے یا کسی کا مال زبردستی غصب کر لے۔

مجھے اجازت دیں کہ میں کہہ سکوں کہ روز قیامت امریکی یا صیہونی مجرموں سے زیادہ بدترین مجرم وہ ہوں گے جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے دعوی کیے ہوں گے لیکن عملاًاپنے رہنماؤں کے پیچھے چلتے ہوئے اس عالمی قانونِ کو روند ڈالا۔

کسی کو وہابی کہہ کر مارا تو کسی کو بریلوی کہہ کر تکفیر کی ، کسی کو اہل حدیث کہہ کر تحقیر کی تو کسی کو تبلیغی یا جماعتی کہہ کر تضحیک کی ، کسی کو شیعہ کہہ کر قتل کیا تو کسی کو سنّی کہہ کر تبرا کیا۔

اختلاف کرنے والے کسی بھی فرد پر من مانے فتوی صادر کر دینا یا اسے یہودی ایجنٹ کہہ دینا، تجدید ایمان اور تجدید نکاح، کافر ، مشرک ، بدعتی ، فاسق فاجر اور جہنمی جیسے کلمات کا بے محابا استعمال۔۔

اور تکبر و غرور کی انتہاء کہ ہر اختلاف کرنے والا یا تو خارج از اسلام یا کمترِاسلام۔علماء حق کی تعریف یہ متعین کی کہ جو اپنے مسلک سے ہو یا کم از کم اپنے مسلک کی تائید نہ سہی تو مخالفت بھی نہ کرتا ہو۔ باقی جتنے علماء ہیں ، ان تمام کو علماء سوء تصورکرنا۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک کے مصداق اس امت کے علماء کے درجے کو بنی اسرائیل کے پیغمبروں کے برابر فرمایا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ علماء کو برا بھلا کہنا پیغمبروں کو برا بھلا کہنے کے برابر ہے۔ لیکن اس نے یہ کیا کہ اپنے مسلک کو نہ ماننے والے کسی بھی عالم پر تنقید کرنے اور اس پر سب و شتم کو جائز قرار دے لیا۔

انا الحق کا نعرہ زندانہ ایسی ہی کسی کیفیت کا نتیجہ تھا ہم ایک انا الحق کا رونا رو رہے ہیں اور معاملہ اس سے بھی کہیں آگےجا چکا ہے، علم اور عقیدے پر غرور، ضد اور ہٹ دھرمی جس کا نتیجہ شدت پسند بلکہ دہشت پسندوں نے دین کی خودساختہ تعبیریں بیان کرنا شروع کر دی ۔ اور معصوم کم عقل کم پڑھے لکھے اور جذباتی لوگوں کو ورغلا کر اپنا ہمنوا بنایا اور ان کے ذہنوں میں یہ بات راسخ کر دی کہ جو بھی ان کے مسلک سے اتفاق نہ کرے اس پر نہ صرف تنقید بلک اس پر لعنت بھی کی جاسکتی ہے۔ بلکہ ان کے خلاف ہتھیار بھی اٹھایا جاسکتا ہے۔آج کے خود کش حملوں میں یہود و ہنود نے اس فکری بے راہ روی کو استعمال کیا کہ بے شمار سادہ دل نوجوان انہی شدت پسندوں کا شکار ہو کر معاشرے کے لیے تباہی و بربادی کا پیغام بن چکے ہیں۔ اس کا مداوا ایک خوفناک سوال بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہے اور ہم ہیں کہ جزوی اور فروعی معاملات کو دین سمجھ کر مخالف فریق کو باطل ثابت کرنے میں ہی زور لگا رہے ہیں۔

ایسے تمام لوگوں نے خطبہ حجۃ الوداع کوبھی کئی بار پڑھا ہوگا لیکن اس کا نفاذ کب ، کیسے ، کہاں اور کس پر ہوتا ہے ، انہوں نے یہ کبھی نہیں سوچا ہوگا لیکن چونکہ یہ جذبہ ایمانی سے سرشار ہوتے ہیں لہٰذا ان پڑھ لوگوں کی صحبت میں چند مخصوص آیات ، احادیث ، بے سند قصے کہانیاں اور غیرمنطقی دلائل رٹ لینا اور اسلام کی اصل تعلیمات کی تبلیغ کرنے کے بجائے اپنے مسلک اور اپنے علماء کے سیلزمین یا ایڈوکیٹ بن کر ان کی تبلیغ و تشہیر کرنے نکل جاتے ہیں۔

کوئی صاحب مسلسل ’’احناف احناف‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا نام لیے بغیر احناف میں کیڑے نکالتے رہتے ہیں۔ عام لوگوں کو بہت ہنر مندی کے ساتھ یہ باور کروا دیا گیا ہے کہ ان کے پاس جو بھی مذہبی تعلیمات کا ذخیرہ ہے وہ وحی کی طرح من اللہ ہیں اور صحیح تعلیمات صرف اور صرف انہی کے پاس ہیں۔ اوران کا طریقہ وحی اور اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہے اور باقی سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہیں کرتے۔ ان کی جسارت کی انتہا یہ ہے کہ کسی بھی امام کے اجتہاد کو غلطی کہہ دینے میں ذرا بھی نہیں جھجکتے۔ ان الفاظ کو ادا کرتے ہوئے ان عظیم ائمّہ کرام کے خلاف بغض و عناد علانیہ محسوس کیا جا سکتا ہے۔

اور یہ رویہ امت مسلمہ کے اندر بھی بے شمار مسلک در مسلک ، جماعت در جماعت اور سلسلے در سلسلے ہیں جو ایک دوسرے سے وہی رویہ رکھتے ہیں جو خطبہ حجۃ الوداع کی رو سے کسی انسان کے ساتھ بھی روا رکھنا جائز نہیں کجا کہ کسی مسلمان کے ساتھ رکھا جائے۔

مخالف فریق کے علماء کی اہانت کرنا، ان سے علاقہ رکھنے والے ہر شخص کو لعن طعن کا مستحق ٹھہرانا، بلکہ بدعتی، کافر و مشرک کہنے، جلسے جلوس۔ کیا خطبہ حجۃ الوداع ہم سے یہی چاہتا تھا۔

یہ صحیح کہ میلاد ، عرس ، چراغاں ، قوالی ، تعویذ ، عملیات وغیرہ کے نام پر جتنی بھی بدعات ، مشرک اقوام کی مشابہت اور لوٹ مار ہو رہی ہے اس کا اسلام سے کتنا تعلق ہے یہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ جو شخص بھی اسلام کے بارے میں کلمے کے علاوہ کچھ اور نہیں جانتا وہ بھی ان چیزوں کو دیکھ کر کہہ اٹھتا ہے کہ بخدا یہ اسلام نہیں ہو سکتا کیونکہ اسلام ایک دین فطرت ہے اور یہ تمام چیزیں فطرت اور اخلاق کے خلاف ہیں۔

یہود نے بھی اپنے نبیوں کو ان کے جانے کے بعد انہیں اپنا خدا بنا لیا پھر ان کی پوجاشروع کردی۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ اصلی مال کا سائن بورڈ لگا کر نقلی مال فروخت کر دیا جاتا ہے کیونکہ اس میں کمائی اندھا دھند ہوتی ہے۔ اسی طرح دین کے نام پر بھی عرس، چراغاں، محافلِ سماع، تعویذ وغیرہ کے ذریعے آج جتنی دھندے بازی ہو رہی ہے وہ شرمناک ہے ۔ لیکن جس طرح چند مسلمانوں کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کی بنا اسلام پر دہشت گردی کا الزام نہیں لگایا جا سکتا اسی طرح چند افراد کا یہ رویہ اختیار کر لینا کہیں سے بھی ثابت نہیں کرتا کہ دین اسلام کا یہی پیغام تھا۔جن خوبصورت ہستیوں نے دین اسلام کی برصغیر پاک و ہند میں کلمہ توحید کی نشر و اشاعت کو ممکن بنایا وہ کبھی بھی آستانوں کے اسیرنہ رہے اورنہ ہی خانقاہوں کے چلے اور نہ ہی کجکلاہی اختیار کی۔ بلکہ گھروں سے نکل کر تکالیف، مصائب اور شدائد کا سامنا کرتے ہوئے دشمنوں کو دوست بنایا۔ ان کی سیرت میں ایسی کوئی بات یا فتویٰ نہیں ملتا جس میں انہوں نے کسی مسلمان کو کافر کسی کو وہابی کسی کو خارجی یا کسی کو زندیق کہا ہو۔اب اگر ان کے ماننے والے اس روش پر چلتے ہیں تو یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ان بزرگوں کے نام پر یہ لوگ ڈھونگ کر رہے ہیں اور نہ صرف ان بزرگوں کے نام کو رسوا کر رہےہیں بلکہ خطبہ حجۃ الوداع کی کھلم کھلا خلاف ورزی کے مرتکب بھی ہو رہے ہیں۔

کسی صاحب کو تبلیغی جماعت برداشت نہیں اور کوئی صاحب جماعت اسلامی کیمخالفت کو ہی زندگی کا ماحصل سمجھ بیٹھے ہیں تو کوئی صاحب اہل حدیث یا سلفی حضرات کو ناپاک سمجھنے پر مصر۔ الغرض ہر فرد اسلام کی من مانی تعبیر کا حامل اور اس بنیاد پر اسے یہ حق بھی حاصل ہے کہ کسی بھی مسلمان کو پرکھ کر اس کی بے عزتی کر نا بلکہ اس کی جان بھی لے لینا معمولی بات ہے۔

اس میں ان بے چاروں کا کوئی قصور نہیں۔ یہ تو وہ معصوم لوگ ہیں جو اپنے اندر علم کی تڑپ اور پیاس رکھتے ہیں۔ اب یہ محض اتفاق ہے یا ان کی بدقسمتی کہ انہیں جو بھی رہنمائی میسر آئی انہوں نے خود مطالعہ کرنے کے بجائے جو بھی سنتے ہیں اس پر عمل کرنے لگتے ہیں اور پھر ان سنی سنائی باتوں کی تبلیغ میں بھی جٹ جاتے ہیں۔ ان میں کالج اور یونیورسٹیوں کے افراد بھی ہوتے ہیں اور ان پڑھ بھی۔ دنیاوی علوم و فنون یا کاروبار پر تو خوب دسترس رکھتے ہیں لیکن دین کا معاملہ پورا کا پورا انہی پیشواؤں پر چھوڑ دیتے ہیں جنہوں نے علم دین حاصل تو کیا لیکن اپنے مزاجوں ، اپنے استاذوں کے اقوال اور اپنے مسلک کو دین کی اصل حکمتوں پر غالب رکھا۔ اگر یہ لوگ ساری عمر علم حاصل نہ کر کے صرف ’’حجۃ الوداع‘‘ کے پیغام کو ہی سمجھ لیتے اور اس پر عمل کرتے تو آج تابہ خاک کا شغر اسلام اور مسلمان ایک ہوتے ۔ اگر ان کے نزدیک شہر مکہ ، شہر ذی الحج اور یومِ عرفہ کی کوئی اہمیت ہوتی تو اپنے کسی بھی مسلمان بھائی کے بارے میں ایک لفظ بھی برا کہنے سے پہلے انہیں حیا آتی۔

یہی وہ لوگ ہیں جو آج لاکھوں بلکہ کروڑوں انسانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہی اسلام کو ٹکڑوں میں بانٹا اور ایک دوسرے کا خون ، مال اور بے عزتی جائز کرلی ۔ ورنہ اس طرح کی تعلیمات کوئی حقیقی عالم نہیں دے سکتا۔

قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ مساجد اللہ کے لیے ہیں لیکن ہر مسلک کی مسجد الگ اس کا امام الگ اور ایک مسجد کا نمازی دوسری مسجد کے امام کے پیچھے نماز کو جائز نہیں سمجھتا۔ فرض نماز کے بعد کسی مسجد میں دیر سے آنے والے دوسری جماعت بنائیں تو سختی سے روک دیا جاتا ہے تو کسی اور مسجد میں سلام پھیرنے کے بعد فاتحہ کے پڑھے جانے یا نہ پڑھے جانے پر مار پیٹ ہو جاتی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ہر مسجد پر لیبل لگا دیا گیا تو اللہ تعالی کی مساجد کہاں ہے۔ کہ اللہ کی مسجد کو ہم نے مسلکانہ بنیادوں پر تقسیم کر دیا اور عبادت کے وسیع تصور کو صرف چند مشہور و معروف عبادات تک محدود کردیا تو نتیجہ اسی سوال کی صورت میں نکلنا تھا کہ نمازبرائیوں سے کیوں نہیں روکتی۔

اورخطبہ حجۃ الوداع کی خلاف ورزی کوئی نئی بات نہیں بلکہ ہماری تاریخ ایسے افسوسناک واقعات سے بھری پڑی ہے دشمنانِ اسلام سے زیادہ خود مسلمانوں نے مسلمانوں کا خون بہایا ہے ۔ شہادتِ عثمان سے شروع ہونے والے فسادات کو نکتہ عروج اس وقت ملا جب عباسیوں نے امویوں کی تڑپتی لاشوں پر جشن حصول خلافت منایا اس وقت سے آج تک ایک دوسرے کے گلے کاٹتے آ رہے ہیں۔

مجھے اجازت دیں کہ اگر یہ دین انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے آیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک کے انسانوں کے لیے رحمۃ للعالمین ہیں تو خود اس امت کے افراد ایک دوسرے کے لیے رحمت کیوں نہیں ہیں؟

اس کا پہلا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے قرآن کو پڑھنا، غور و فکرکرنا چھوڑ دیا اور اپنے اپنے علماءکی پیروی کرنے لگے۔

دوسرا سبب یہ ہے کہ مولویوں کے نام پر بعض نام نہاد لوگوں نے عوام کی غفلت، جہالت اور اندھی عقیدت کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اپنی خواہشات اور مفاد پرستی کو دین کا نام دے کر دین کو غالب کرنے والے موضوعات کو نظرانداز کر کے ایسے موضوعات پر علمی موشگافیاں کرنے لگے جن سے زیادہ سے زیادہ انتشار پیدا ہو سکتا تھا۔

پھر امت کو مقلد اور غیرمقلد میں تقسیم کیا۔ پھر مقلدین کو دیوبندی بریلوی میں تقسیم کیا۔غیر مقلدین کو سلفی، وہابی، جماعت المسلمین وغیرہ میں تقسیم کیا۔ علم تو ایک ہی ہے جس کی بنیاد وحی ہے۔اور اس کے آنے کے بعداختلاف چہ معنی دارد؟اور ایک أمر واضح ہے کہ اختلاف رحمت تو ہرگز نہیں ہو سکتا۔ جس کو حاصل کرنے والے قرون اولی میں بے شمار سائنسدان اور ریاضی دان ، فلکیات دان ، طبیب تھے۔ اور ایران و روم فتح کرنے والے فاتحین کا تعلق بھی اسی علم سے تھا۔ پس پشت دشمنان اسلام نے اسی اساس پر وار کیا اور علم کو دینی و دنیاوی حصول میں تقسیم کر دیا۔ پھر تقسیم در تقسیم کا نتیجہ خوفناک سے خوفناک تر ہوتا چلا گیاکیونکہ تقسیم کا منطقی نتیجہ یہ نکلا ہم اپنی اصل سے دور ہو گئے۔ حدیث کا سرچشمہ بخاری و مسلم اور سنن اربع ہونے کے باوجود ایک فریق نے دوسرے فریق کی پیش کردہ سند کو کمزور، ضعیف یا موضوع قرار دینا شروع کیا۔ اس طرح لوگوں کے دلوں سے حدیث کا مقام و مرتبہ کم ہوتا گیا۔ اگر تمام مسالک کی جانب سے ضعیف و کمزور قرار دی جانے والی روایات، ذخیرہ حدیث سے منہا کر دی جائیں تو شاید احادیث کی تعداد آدھی سے بھی کم رہ جائے ۔

دین میں ترجیحات قرآن اور حدیث کی ہے ۔ لیکن ان لوگوں نے اس سے بالکل الٹ ایک نئی ترتیب نکال لی جس میں کسی نے محض قرآن کو نشانہ ستم بنایا اور کسی نے ضعیف روایات کا سہارا لیا تو کسی نے کچھ اور ۔ جس کی وجہ سے کسی کا نماز ترک کرنا اتنا بڑا عیب نہ رہا جتنا کہ نماز کے فروعی معاملات میں اختلاف رائے ہو گیا۔ شاید یہی سبب ہے کہ مساجد میں نمازیوں کے وجود عنقا بلکہ لوگوں کی اکثریت مسجد سے دورہوتی گئی کل تک مسجد امت مسلمہ کی زندگی میں محور اور مرکز تھی اور آج محض عبادات میں سے ایک عبادت کو رسمی اور ظاہری طور پر ادا کرنے کی جگہ سمجھ لیا۔یہی وجہ ہے کہ نمازی مسجد سے باہر آتے ہی دائرہ عبادت سے باہر آجاتا ہے۔

جبکہ قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں زیادہ تر کا تعلق حقوق العباد اور مکارم اخلاق و کردارسے ہے مثلاً ماں باپ ، رشتہ دار اور پڑوسی کے حقوق ، ناپ تول میں کمی ، امانت و خیانت ، غیبت و چغل خوری ، عہد کی پاسداری ، جھوٹ اور سچ ، اخوت ، انفاق ، خدمت خلق وغیرہ ۔۔۔ اور ان پر تمام مسالک و جماعتوں کا اتفاق بھی ہے ۔ سارے مذاہب و مسالک اس بات پر متفق ہیں کہ حقوق العباد اورمکارمِ اخلاق و کردار، اسلام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ یعنی یہ کلی اتفاق ہے جزئی نہیں تو پھر تمام مسالک والے ان متفق امور میں ایک دوسرے کے ساتھ معاملات کیوں نہیں طے کرتے اور متنازعہ امور میں ہی سرپھٹول کرنے کو سعادت کیوں سمجھ بیٹھے ہیں۔

صرف مسجدوں کو ہی تقسیم نہیں کیا بلکہ اپنے اپنے طریقہ واردات کو مخصوص نعرے اور پہچان دینا شروع کر دی اور نام کی حد تک تو ان سب کا تعلق دین اسلام سے ہی ہے لیکن ان لوگوں نے خود مسلمانوں کے اندر ہی اپنی اپنی الگ شناخت قائم کرکے امت میں امتیازات پیدا کئے۔

ان تمام فرقوں، گروہوں، مسلکوں، جماعتوں سے ایک ہی سوال ہے کہ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے حقوق والی ان آیات اور احادیث کا مقام کیا ہے؟

کیا یہ احادیث اور آیات صرف تقریر کیلئے ہیں؟اور صرف قوم کو سنانے کیلئے ہیں یا اپنی ذات پران کا انطباق سب سے پہلے کیا جانا چاہیے۔

اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نہ کسی کو برے لقب دو۔ ایمان کے بعد فسق برا نام ہے ، اور جو توبہ نہ کریں وہی ظالم لوگ ہیں۔جس شخص نے لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لیا اس کا قتل نہیں کیا جا سکتا۔ (صحيح مسلم کتاب الايمان)

کسی مسلمان کا شر ثابت ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کی تحقیر کرے(ابو داؤد کتاب الادب)

کسی مسلمان کو اپنے سے کمتر سمجھنا ہی کبر ہے اور کبر اللہ کی چادر ہے( ابن ماجہ ، کتاب الزھد)

کیا کسی فرد، جماعت، یا مفتی کو یہ حق حاصل ہے کہ اختلاف رائے رکھنے والے کے ایمان کے خلاف فیصلہ سنائے ؟ کیا ایسے فیصلے دینےپر کوئی دلیل قرآن ، حدیث یا سیرت مبارکہ یا سیرتِ صحابہ سے مل سکتی ہے؟

حکومتوں کے خلاف خودکش بم دھماکے، قتل و غارتگری کو خوارج ہی کی طرح جائز قرار دینے والے مذہبی پیشوا پیدا ہو گئے ہیں جن کی اکثریت ایجنٹوں ہی کی ہے ۔ان کے اپنے اپنے مفاد ہوتے ہیں جنکے حصول کیلئے وہ معصوم نوجوانوں کے ذہنوں کو استعمال کرتے ہیں اور وہ اس طرح کہ انہیں جہاد کے فلسفے پڑھاکر جنّت کے باغ دکھاکر گھروں سے نکال لے جاتے ہیں اور ان کے سر کٹوادیتے ہیں۔ ان کے لیڈر زیادہ تر وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے زندگی میں نہ کامرس پڑھی نہ سائنس و ٹیکنالوجی جانتے ہیں نہ سیاسیات۔ جماعت، جہاد اور قتال کے الفاظ استعمال تو کرتے ہیں لیکن ان کو نافذ کرنے کے اسلامی اصول اور اسکی حکمتوں سے ناواقف ہوتے ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ طہارت کے ڈھیلے سے لے کر جہاد و قتال تک کے مسائل کا استنباط و استخراج کیا جاتا ہے ۔

اصل سوال یہ ہے کہ اگر مسائل کے استنباط کے لیے ضعیف یا غیر معروف احادیث پر بھی اجماع ہو جاتا ہے تو پھر ان معروف آیات و احادیث پر جو اوپر بیان کی گئی ہیں مسلکوں اور فرقوں کے اصول کیوں قائم نہیں ہوتے؟

3۔ شیطان کی عبادت

شیطان کی عبادت بظاہر ختم ہوچکی ہے لیکن دو باتوں کو وہ اپنے حق میں استعمال کرتا ہے ایک یہ کہ چھوٹے چھوٹے کام جن کو حقیر سمجھا جاتا ہے وہ انسان سے کروا لیتاہے اوردوم وہ آپس میں ایک دوسرے سے لڑتا ہے۔

یعنی شیطان اپنی عبادت کروانے کے دوسرے طریقے ڈھونڈ لے گا۔ لوگ نماز ، روزہ، زکوٰۃ یا حج نہیں چھوڑیں گے۔ ان سب کی ادائیگی ہوگی بلکہ بار بار ادا ہوں گے۔ مسجدیں بھری رہیں گی۔ مدرسوں، حفاظ اور قراء کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہوتا جائے گا ، ساتھ ہی ان پر انفاق کرنے والوں کی تعداد بھی بڑھتی جائے گی۔ جماعتیں دعوت اور اصلاحِ معاشرہ کے اجتماعات زیادہ سے زیادہ کریں گی۔ اگر کوئی توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو لوگسرپر کفن باندھ کر گھروں سے نکل پڑیں گے ۔ جھنڈے، عَلَم، ماتم ، محافلِ حمد و نعت ، سلام ، محفلِ قصیدہ بردہ شریف پہلے سے بھی زیادہ سجتے رہیں گے۔ دینی کتب و رسائل کی اشاعت میں اضافہ ہوگا۔ فیس بک ، سوشل فورمز پر خوب سے خوب تر اسلامی معلومات پیش کی جائیں گی۔ مگران سب کے باوجود اخلاقی، سیاسی، تعلیمی، سماجی اورمعاشی حالت بدسے بدترہوتی جارہی ہےکیوں؟

جس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہر فرد صرف ایک ایک غلط کام کو حقیر جان کر یا مجبوری، مصلحت کی خاطر کرتا ہے کبھی خاندانی رواج کے نام پر تو کبھی کہ برادری کیا کہے گی اور کبھی اپنی شان کو بلند رکھنے کے لیے اور کبھی خاتون خانہ کے اصرار پر گھر سے باہر کروڑوں کے سودے کرنے والے گھر میں صفر کیوںہو جاتے ہیں۔ محض یہ سوچ کر اپنے آپ کو فریب دے لینا کہ اگر میں غلط کام کر رہا ہوں تو کیا ہوا باقی سارے نیک کام بھی تو اس کے ساتھ کرہی رہا ہوں۔

جہیز اور اسراف کو رواج کہہ کر نماز روزہ وغیرہ سب ہی جاری و ساری رکھا ہوا ہے۔ اگر کوئی ان باتوں کو حرام جان بھی لیتا ہےتو ایسی تقریبات میں شرکت کو اخلاقی فریضہ کہہکر جوازپیدا کر لیتا ہے۔ ایسے ہی معاملات کا عبرت ناک پہلو یہ نکلا کہ ہمارے سامنے یہ فتوی بھی آیا کہ رشوت دینا بصورت مجبوری جائز ہے۔ اور مجبوری کی ایسی صورتیں خود ساختہ طور پرپیدا کر لی جاتی ہیں۔ یہ تو ایسا ہی ہے کہ کوئی خنزیر کے گوشت کھانے کو جائز کرنے کے لیے تین دن بھوکا رہے۔ اور رشوت کو ہدیہ کہہ کر قبول کرلینا کہ ’’ہم نہیں لیں گے تو کوئی اور لے لے گا‘‘۔

معاشرتی زندگی کی طرف جائیں تو کوئی بیوی کی اجازت کے بغیر نہ اپنے ماں باپ سے ملتا ہے اور نہ رشتے داروں کی مدد کرتے ہیں۔ کوئی گھر سے باہر انتہائی بااخلاق لیکن اپنے اہل خانہ کے ساتھ جہالت کی انتہا پر۔

میں اگر یہ پوچھوں کہ کیا کوئی ایسا ہے جو یہ کہہ سکے کہ وہ ’’جھوٹ اور غیبت‘‘ سے پاک ہے ؟ ہر شخص یہ سوچتا ہے کہ جو جھوٹ اور غیبت وہ کرتا ہے وہ تو مجبوری ہے جسے اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا لیکن جو دوسرے مرتکب ہو رہے ہیں وہ بالکل غلط ہے ۔

ان تمام برائیوں کو چھوٹا اور حقیر سمجھ کر اپنا لیا جاتا ہے کہ یہ تو سبھی کر رہے ہیں۔ لہٰذا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان اخلاقی اور سماجی طور پر غیر مسلم اقوام سے مختلف نہیں بلکہ بعض امور میں ان سے بدتر۔

میں تو اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اگر معاشرہ کا ہر فرد اپنے مفاد کے ساتھ مناسبت رکھنے والی ہر حقیر برائی کو ختم کر دے جو خطبہ حجۃ الوداع کے مطابق نہ ہو تو مثالی معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے جس کی اولین تصویرپہلی صدی ہجری میں نظر آتی تھی۔

4۔ خبردار! جاہلیت کے تمام دستور میرے دونوں پاؤں کے نیچے ہیں۔

قوموں کی ہلاکت میں سب سے بڑا سبب یہ کہنا تھاکہ اسی کی اتباع کریں گے جس پر باپ دادا کو پایا۔ آج امت مسلمہ میں بھی بے شمار ایسے مذہبی ، تہذیبی اور کاروباری طریقے مروج ہیں جن کی شریعت میں کوئی بنیادنہیں لیکن وہ ان کو اس لیے ترک نہیں کرتے کہ یہ ان کے آباء و اجداد سے چلے آ رہے ہیں۔

خطبہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرما دیا کہ آج تک باپ دادا کے جاہلانہ رسوم و رواج جو بھی چھوٹ تھی آج کے بعد’’اليوم اكملت لكم دينكم ۔۔۔‘‘ کی بنیاد پر صرف اور صرف وہی چیز حلال اور جائز ہوگی جو قرآن اور سنت میں ہوگی ورنہ وہ پاؤں کے نیچے یعنی دفن کر دی جائے گی۔

کتنی رسومات ہیں جنہیں ہم آج بھی عزیز رکھتے ہیں۔ بہنوں کو جہیز دے کر وراثت سے محروم رکھنا۔ حجۃ الوداع کا خطبہ ہر مسلمان سے متقاضی ہے کہ زمانہ جہالت کی رسمِ جہیز اور عورت کو وراثت سے محروم کرنے کی مشرکانہ روایت کو ختم کر دیا جائے۔

منافقت کی حد ہو جاتی ہے کہ ایک طرف لاکھوں کا جہیز ڈٹ کر وصول کیا جاتا ہے لیکن جب مہر کی بات آتی ہے تو خود ساختہ شرعی مہر کے راگ الاپے جاتے ہیں۔ جبکہ مہر کے معاملے میں سخت احکام یہ ہیں کہ عورت کا مہر خوشدلی کے ساتھ دو اور نقد ادائیگی کرو (سورہ النساء )۔ مشرکین شادی کی رسموں کو ایک ایک ہفتہ مناتے تھے۔ ہم نے بھی شادی کی تقریبات کو ایک ایک ہفتہ تک پھیلا دیا مہندی، مایوں وغیرہ وغیرہ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کئے اور ’’النکاح من سنتی‘‘ کہہ کر یہ بتادیا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والے ہر شخص پر یہ واجب ہے کہ جس طریقے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا وہی نکاح سنت ہے۔ اسطرح بارات، منگنی، جہیز، تلک، دلہن کی الوداعی تقریب میں لڑکی کے والدین کی طرف اہل برات کے لیے کھانا وغیرہ یہ دورِ جاہلیت کی وہ رسمیں ہیں۔ جنہیں بدقسمتی سے آج نہ صرف کیا جاتا ہے بلکہ کچھ ستم ظریف ان کے جواز کا فتوٰی بھی دے دیتے ہیں۔

بچے کی پیدائش پر زنخوں سے دعا کروانا، نئے کام کے لیے فال نکلوانا، چاند یا سورج گرہن کے موقع پر نمازوں کے بجائے آسن لگوانا ، ہندوؤں کی طرح گلے یا ہاتھوں میں رنگین ڈوریاں یا تعویذ باندھنا، بیوہ کی شادی کو عیب سمجھنا، تقریبات میں کسی بیوہ یا یتیم لڑکیوں کا دلہن کے قریب آنے کو بدشگونی سمجھنا، شگون نکلوانا وغیرہ ۔ ایسی بے شمار رسمیں مسلمان معاشرے میں بھی رچ بس گئی ہیں۔ اسی وجہ سے سفلی عمل اور چمتکار دکھانے والوں کا زور بڑھتا جا رہا ہے۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم پہلےاپنے گھر کی خبر لیں پھر زمانے پر تنقید کریں۔

سیدناعمر، عثمان و علی رضی اللہ عنہم بھی شہید کردیئے گئے۔ لیکن صرف شہداء کربلا کے لیے ماتم اور نوحوں کی رسم نے ہمیں پھردورِ جاہلیت میں دوبارہ کیوں لوٹا دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ واقعہ کربلا ہماری تاریخ کا ایک افسوسناک باب ہے لیکن صرف واقعہ کربلا ہی کیوں؟شہادت عمر رضی اللہ عنہ ،شہادت عثمان رضی اللہ عنہ اور شہادت علی رضی اللہ عنہ کیوں نہیں؟

اور سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی افسوسناک واقعہ کا غم منانے کو ایک مکمل مذہب کی شکل دے دینا صحیح ہے؟ سڑکوں پر ماتم کے مظاہروں سے دین کی دعوت کا کام ہرگز نہیں ہوتا۔ کیا ان مظاہروں کو دیکھ کر کوئی غیرمسلم صرف اس لیے ایمان لے آئے گا کہ ان کے اماموں کے ساتھ ظلم ہوا تھا لہٰذا ایمان لانا چاہئے؟الٹا یہ پیغام لے گا کہ ایک ایسا مذہب جسمیں صرف قتل و غارتگری کی داستانیں ہیں، نبی کے انتقال کے چند سال کے اندر ہی مسلمان اپنے خلفا اور آل نبی کا قتل کرڈالتے ہیں اور اس کی بنیاد پر مذہب و شریعت الگ ہوجاتی ہے اس مذہب پر کیسے ایمان لایا جاسکتاہے۔

شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ سے قبل شہادتِ حمزہ رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے کس طرح سوگ منایا یہ کتب سیرت میں موجود ہے۔ جس دردناک طریقے سے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیاگیا اور آپ کو اُن سے جس قدر محبت تھی یہ بھی ہمیں معلوم ہے۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے ایسا کوئی اسلوب اختیار نہیں کیا جو عصر حاضر میں جزو سوگ بن چکا ہے۔اب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا غم منانے والے خود ہی سوچ لیں کہ وہ کسی کی شہادت کاسوگ منانے کا طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمکے طریقے پر ہے یا دورِ جاہلیت کے طریقے پر۔

5۔ سن لو : کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر ، اور سن لو کسی گورے کو کسی کالے پر یا کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت نہیں ، سوائے تقوی کے۔ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔

آپ کا یہ حکم محض مسجد یا امامت کے لیے مخصوص نہیں بلکہ آپ نے اسے ملکی سیاست میں بھی برت کر دکھا دیا۔ غلام کے بیٹے کو کہیں سپہ سالاری عطا کر دی تو کہیں سیاہ حبشی سیدنابلال رضی اللہ عنہ کو مؤذن بنا دیا۔ سیدنااسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے نکاح میں اپنی چچا زاد بہن دے دی۔

6۔ جاہلیت کے تمام سود بھی باطل کر دئے گئے ہیں تم صرف اپنے اصلی مال کے حقدار ہو۔

عہدِ حاضر کو عہدِ اقتصادیات کہا جا تا ہے۔ دنیا کو ہم نے بے شمار مذہبی ، فقہی ، روحانی اور جہاد و قتال کے نظریات دیے لیکن عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق عملا نظامِ معیشت نہ وضع کر سکے صرف یہ کہہ دینا کہ اسلام نے انتہائی جامع نظریہ اقتصادت دیا،کافی نہیں۔ بلکہ جس طرح نماز، روزہ، حج اورزکوٰۃ کے مسائل میں اجتہاد کر کے تمام ممکنہ مسائل کا حل نکالا گیا تو اقتصادیت سے متعلق اجتہاد کیوں نہ کیا گیا اورمحض سودی نظام کی خرابیاں گنوا دینا اور یہ کہہ دینا کہ ان خرابیوں کو نکال دیں سب کچھ اسلامی ہو جائے گا کافی نہیں۔ آخر ہمارے دینی و دنیاوی تعلیمی اداروں نے جب علم کی دینی اور دنیاوی خانوں میں تقسیم کی تو اس وقت ان تمام مضامین کو خارج کیوں کر دیا جو آج انسانی تہذیب و بقا کے لیے اہمیت کے حامل ہیں جیسے سائنس ، ریاضی ، نفسیات ، ادب۔ انہی میں اکنامکس اور کامرس بھی شامل ہیں۔ دیناوی اداروں نے ان مضامین کو رکھا بھی تو مکمل مغربی اور غیر اسلامی افکار کے تحت جن کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔

بنکاری نظام پر تنقیدیں کرنے والوں سے سوال یہ نہیں ہے کہ موجودہ معاشی نظام سود سے کتنا آلودہ ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اسے باطل قرار دینے والوں نے دنیا کو متبادل نظام کیا دیا ہے؟

متبادل نظام تو شاید اس وقت دیا جا سکتا تھا جب عصر حاضر میں اسلام کو قائم کرنے والے مضامین بھی قرآن و سنت کے تحت تعلیمی اداروں میں شامل نصاب کیے جاتے بالخصوص دینی ادارے۔

7۔ عورتوں کے حقوق کی ادائیگی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف حجۃ الوداع کے موقع پر بلکہ اپنی آخری وصیت میں بھی عورتوں کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اسلام نے عورت کو آزادی دی ، مرد کے برابر حقوق عطا کیے ۔ اگر ہم عورت کے حقوق کو صحیح طور پر ادا کریں تو ویمنس رائیٹس چارٹر کی دنیا کو شاید ضرورت نہ پڑے۔

8۔ میں تم میں ایک چیز چھوڑ جاتا ہوں ، اگر تم نے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا تو گمراہ نہ ہوں گے ۔ وہ چیز ہے کتاب اللہ۔

یہ بات ہر شخص کی زبان پر ہوتی ہے کہ ’’اگر ہم قرآن کو مضبوطی سے تھام لیں گے تو کبھی گمراہ نہ ہوں گے ‘‘۔ پھر کیا وجہ ہے کہ سب کا قرآن ایک ہے اور سبھی یہی پڑھتے ہیں ، پھر بھی چاروں طرف اتنی بے دینی ، بے حسی اور اختلافات کیوں ہیں؟ اس کی نفسیاتی وجوہات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اولین وجہ: ہم قرآن پڑھتے تو ہیں لیکن یہ سوچے بغیر پڑھتے ہیں کہقرآن ہم سے کیا چاہتا ہے؟

قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو معاشرہ کے ہر فرد کو اس کی ضرورت کے مطابق رہنمائی دیتی ہے۔ جس طرح ایک طالب علم اپنے نصاب کی تمام موٹی موٹی کتابوں کو شروع سے آخر تک نہیں پڑھتا بلکہ انہی صفحات پر محنت کرتا ہے جو امتحان میں پوچھے جائیں گے۔ اسی طرح قرآن پڑھنے والوں کی اکثریت ان لوگوں کی ہے جو قرآن میں وہ چیز تو تلاش نہیں کرتے جو ان پر واجب العمل ہے بلکہ وہ چیزیں پڑھتے ہیں جو ان کے علم میں خوب اضافہ کرتی ہیں۔ بحث ، تقریر ، درس و تدریس میں مدد کرتی ہیں۔ شخصیت کو نمایاں کرنے اور رعب دار گفتگو کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ یا پھر ان کے عقیدے کے بزرگوں نے جن سورتوں کے فضائل بتا دیے کہ فلاں سورت پڑھنے سے نوکری لگ جاتی ہے اور فلاں سورت کی تلاوت سے اولاد نرینہ پیدا ہوتی ہے ۔ لوگ اس لیے بھی قرآن کثرت سے پڑھتے ہیں کہ مرحوم ابا جان اور امی جان کی بخشش ہو جائے ۔ گمراہیوں سے بچنے کے لیے سب سے پہلے یہ طے کرنا پڑے گا کہ ہم قرآن سے حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں؟ قرآن نہ تراویح میں سہ شبی یا پنچ شبی شبینہ سننے اور سنانے کے لیے آیا ہے اور نہ تجوید اور قرات کے مقابلوں کے لیے نازل ہوا ہے ۔ قرآن بیک وقت نہ غارِ حرا میں نازل ہوا نہ کسی خانقاہ میں نہ گھر اور نہ کسی جلسے میں۔

قم فانذر کے ساتھ ہی یہ طے ہو گیا تھا کہ یہ ایک دعوتی پیغام ہے جسے لے کر گھر ، خاندان ، محلہ ، بازار ، دوست ، دشمن ، جنگ اور امن ، ہر جگہ اسے ساتھ لے کر جانا ہے قرآن کو گھر یا مدرسہ یا درس و اجتماع میں بیٹھ کر سنا جا سکتا ہے ، پڑھا جا سکتا ہے ۔۔ لیکن اس کو مضبوطی سے تھامنے کے معنی اسی وقت سمجھ میں آتے ہیں جب ہم اس کی ایک ایک آیت کو لیں اور غور کریں کہ یہ آیت مجھ سے کیا چاہتی ہے۔

اور المیہ تو یہ ہے کہ لوگ قرآن کو اپنی ہدایت کے لیے نہیں بلکہ اپنے شوق اور مزاج کی تکمیل کے لیے پڑھنا چاہتے ہیں۔ کوئی کاروبار میں مستقل جھوٹ اور چکمہ بازی سے کام لیتا ہے لیکن ان کو قرآن کے حروف مقطعات سے بڑی دلچسپی ہے۔ ہر محفل میں ان کے معنی و مطالب پر بحث کرتے ہیں۔ کوئی اپنے بیٹوں کی شادی میں پورا پورا جہیز وصول کر چکے ہیں وہ قرآن میں وراثت، طلاق کے مسائل کا گہرائی و گیرائی سے مطالعہ کرتے ہیں۔ چندہ وصول کرنے والوں کو قرآن میں موجود انفاق والی آیات سے دلچسپی ہوتی ہے ۔ معصوم نوجوانوں کو جہاد کے نام پر قتل و غارت گری کی جانب ورغلانے والوں کو جہاد و قتال کی آیات پسند ہیں۔

الغرض لوگوں نے قرآن کو مضبوطی سے تھاما بھی تو افسوس کہ اس کے ذریعے اپنی گمراہیوں اور خامیوں کو دور کرنا ان کے پیش نظر نہیں ہوتا بلکہ دوسروں کی گمراہیوں اور خامیوں کی نشاندھی کیلئے کام آتی ہیں۔

قرآن کو مضبوطی سے تھامنے کا تقاضا یہ ہے کہ جو لوگ مسلمانوں کے اندر سے شرک و بدعات کو مٹانا چاہتے ہیں، وہ پہلے ’’ادعوا الی سبيل ربك بالحكمۃ والموعظۃ‘‘ کے معنی و مطالب سمجھیں۔ کسی بھی کلمہ گو فرد کو مشرک ، کافر ، فاسق اور بدعتی وغیرہ جیسے القابات سے سرفراز کرنے سے قبل قرآن میں یہ تلاش کریں کہ ’’ایسا کہنے کی قرآن انہیں کہاں اجازت دیتا ہے ؟‘‘ بے شک اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں کئی جگہ تکفیر اور لعنت سے کام لیا ہے لیکن اپنا یہ اختیار اس نے کسی جگہ بندوں کے حوالے نہیں کیا۔

ہر مسلمان اگر اپنی زندگی سے متعلق احکامات والی آیات کو اچھی طرح سمجھ لے خواہ اس نے عربی نہ سیکھی ہو، لیکن اگر اس نے حقوق العباد اور اپنے معاملاتِ زندگی سے متعلق آیات کو مضبوطی سے تھام لیا ہے تو ان شاءاللہ یہ کافی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے حقوق معاف کر دے ۔کیونکہ پورا اسلام، قرآن اور عقیدہ آخرت دو ہی چیزوں پر قائم ہے۔ ایک حلال رزق کی طلب اور حصول دوسرے حقوق العباد۔

9۔ میری بات غورسے سنو: زندگی پا جاو گے۔

سنو ظلم نہ کرو، سنو ظلم نہ کرو، سنو ظلم نہ کرو کسی شخص کا مال اسکے دل کی خوشی کے بغیر لینا حلال نہیں ۔(خبردار!) یاد رکھو مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ کسی مسلمان کی کوئی بھی چیز دوسرے مسلمان کے لیے حلال نہیں تاوقتیکہ وہ خود (خوشی سے ) حلال نہ کرے ۔ جس نے اپنے بھائی کا مال جھوٹی قسم سے ہتھیا لیا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۔

اگر ہمیں صرف ’’المسلم اخوا المسلم‘‘ کے تقاضے سمجھ میں آ جائیں تو نہ خود مسلمانوں میں فرقہ بندیاں باقی رہیں گی اور نہ دنیا میں کوئی غیرمسلم باقی رہیگا ۔ کیونکہ جب وہ دیکھیں گے کہ مسلمان ایک دوسرے کے حقوق کا جتنا حفاظت کرتے ہیں ، وہ دنیا کا کوئی دستور نہیں کر سکتا تو فطری طور پر ان کے دل میں مسلمانوں میں شامل ہونے کی خواہش پیدا ہو جائے گی۔ آج بدقسمتی سے ’’المسلکی اخو المسلکی‘‘ اور ’’الجماعتی اخو الجماعتی‘‘ تو ضرور ہے ’’المسلم اخو المسلم‘‘ کہیں نہیں ہے۔

مسلمانوں میں بیروزگاری کے نتیجے میں ہر شخص تعمیراتی کام میںیا رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں اترنے لگا ہے کیونکہ اس میدان میں اخراجات دکھائے کچھ اور جاتے ہیں اور لگایا کچھ اور جاتا ہے ۔ پولیس والوں ، سرکاری افسروں ، عدلیہ والوں اور وکیلوں کا تو ذکر ہی کیا؟ یہ لوگ تو بس وہی لیتے ہیں جو مسلمان بھائی ’’خوشی سے ‘‘ دے دے ۔ اور اگر کوئی بھائی ان کو ’’خوشی سے ‘‘ نہ دے سکے تو اس کا جو حشر ہوتا ہے یہ سب ہی کو معلوم ہے ۔ آج ہر فرد ایک ’’طوائف‘‘ کی طرح ہو چکا ہے کہ جہاں اسے پتہ چل جائے کہ دوسرا اس کا محتاج ہے تو وہ اپنی قیمت بڑھا دیتا ہے اور یوں دوسرے بھائی کی ضرورت کا مکمل استحصال کرتا ہے ۔

10۔ اے لوگو! اللہ نے میراث میں ہر وارث کا حصہ مقرر کر دیا ہے ۔ اور وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں۔

عدالتوں میں موجود مقدمات کی اکثریت کا تعلق وراثت سے ہے۔ اگر مسلمان صرف حقِ وراثت کے قانون کو صرف اپنے اپنے گھر سختی سے نافذ کر دیں تو ساری عدلیہ ان کے قدموں میں ہوگی۔ اگرچہ نمار ، روزہ ، زکوٰۃ ، حج اور جہاد جیسے اہم ترین فرائض قرآن میں بیان ہوئے ہیں لیکن کہیں کسی حکم کے ضمن میں ’’تلک حدود اللہ‘‘ کے الفاظ سے تنبیہ نہیں کی گئی لیکن وراثت کے ضمن میں یہ تنبیہ آئی ہے۔ وراثت کے حکم کی خلاف ورزی اللہ کے لائن آف کنٹرول کو تجاوز کرنے کے مترادف ہے۔

اے لوگو؛ بخدا مجھے معلوم نہیں کہ آج کے بعد میں اس جگہ تم سے دوبارہ مل سکوں گا یا نہیں۔ پس اللہ اس شخص پر رحمت کرے جس نے آج کے دن میری باتیں سنی اور انہیں یاد کیا۔کیونکہ کئی ایسے ہوتے ہیں جنہیں سمجھ داری کی باتیں یاد ہوتی ہیں لیکن انہیں ان کی سمجھ نہیں ہوتی۔ اور بہت سے لوگ سمجھ داری کی باتوں کو یاد کرکے ایسے لوگوں تک پہنچادیتے ہیں جو ان سے زیادہ سمجھ دار ہوتے ہیں۔

ان کے علاوہ بھی اس خطبہ میں اور اہم نکات ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری تمام سنّی، شیعہ علما، جماعتوں، مسلکوں اور سلسلوں سے درخواست ہے کہ اب شیعہ، سنّی، بریلوی، دیوبندی، سلفی، اہلِ حدیث، پرویزی اور جماعت المسلمین وغیرہ جیسے فرقوں کی بحث سے باہر آئیں اور اس امت کی نشاۃ ثانیہ کی خاطر ان عنوانات پر کام کریں جو اصل دین ہیں۔ جن سے اسلام اس دنیا میں قائم ہوسکتا ہے۔ دنیا آپ کے مذہب میں انسانیت، انسانی خون کے احترام، عورتوں کے حقوق کی حفاظت، عدل و مساوات، حلال کمائی، نظامِ معیشت، نظامِ سیاست اور نظام معاشرت دیکھنا چاہتی ہے۔ دنیا اسکی پیاسی ہے۔ اگر ہم تمام مل کر اس خطبہ حجۃ الوداع کے چارٹر کو لے کر اٹھیں تو کیا عجب ہے کہ دنیا کو پھر کسی دستور کی ضرورت نہ پڑے اور لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونا شروع ہوجائیں ان شاء اللہ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے