اقوام عالم کو ہمیشہ کےلیے زیر تسلط رکھنے اور بغیر کسی لڑائی کے ان پر قبضہ کرنے کے لیے عسکری جنگ سے زیادہ نظریاتی یلغار مؤثرہوتی ہے۔کیونکہ عسکری جنگ اکثروبیشترمخالف جانب سے بھرپور مقابلے اور ردعمل کا سبب بنتی ہے۔جو کہ لڑائی کے طویل ہونے جنگی اخراجات اور نقصانات کی زیادتی کا سبب بنتا ہے۔ اور بالآخر اس کا نتیجہ حملہ آور کی شکست ہوتا ہے اگرچہ یہ شکست طویل عرصہ بعد ہی کیوں نہ ہو۔

نظریاتی جنگ کی تعریف

نظریاتی جنگ وہ جنگ ہے جو کفار غیر فوجی وسائل کے ذریعے مسلمانوں کو مسخر کرنے اور ان کے عقائد،فکر،رسم ورواج،اخلاق اور زندگی گزارنے کے اسلامی ڈھانچے کو یکسر بدلنے کے لیے لڑتے ہیں۔تاکہ مسلمان اپنے انفرادی تشخص سے محروم ہو جائیں اور انہیں زندگی کے تمام شعبوں میں مغرب کی تقلید کرنا پڑے۔نیز کفار کے خلاف کسی مسلمان کے ذہن میں عسکری جنگ کا تصور تک باقی نہ رہے۔

نظریاتی جنگ میں مسلمانوں کے ظاہری وجود کو نشانہ نہیں بنایا جاتابلکہ ان کےدین،سوچ وفکر،معاشرتی رسم و رواج اور اخلاق کو ہدف بناکر ان پر کاری ضرب لگائی جاتی ہے کیونکہ یہی وہ باطنی عوامل ہیں جو کسی قوم کے افراد کو اپنے ظاہری اور معنوی وجود کو بچانے اور حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کے لیے جنگ کی صف اول میں کھڑا کرتے ہیں۔

نظریاتی جنگ کے وسائل

جیسا کہ عسکری جنگ میں فوجی وسائل کو کارآمد بنایاجاتا ہے یعنی فوج،توپ، ٹینک، جہاز، بم، بارود، کارتوس، بندوق، عسکری ٹیکنالوجی،عسکری قوت اور تربیت شدہ ماہر فوجی آفیسرز وغیرہ کوکام میں لایا جاتاہے۔اسی طرح نظریاتی محاذ پر فکری نوعیت کےوسائل کو بروئے کا رلایاجاتاہے جیساکہ استاد، کتاب، درسگاہ، اسکول، کالج، علمی تحقیقات کتب خانے، اخبارات ورسائل، علاج معالجے کے ادارے،میڈیا،نشرواشاعت مثلا ریڈیو، ٹیلی ویژن،سینما گھر،انٹرنیٹ،سیٹلائیٹ،فلمیں بنانے والی کمپنیاں،سیاسی شخصیات اور سیاسی جماعتیں، سیاسی لٹریچر،جنسی خواہشات اور ہرکام میں عورت کی مشارکت وغیرہ۔یہ تمام وہ وسائل ہیں جو انسان کی سوچ وفکر اور نظریہ کو متاثر کرتےاور قوموں کے نظریاتی رخ کوبدلتے ہیں۔آج ہزاروں مغربی ادارے اس میں مصروف عمل ہیں۔

نظریاتی جنگ کی تاریخ

حق وباطل کے درمیان عسکری جنگ کی بہ نسبت نظریاتی جنگ کی تاریخ زیادہ قدیم ہے اس کی ابتداء اسی دن ہوگی تھی جس دن آدم علیہ السلام اور ابلیس کے درمیان دشمنی کی ابتداء ہوئی۔ابلیس جو کہ باطل قوتوں کا علمبردار ہے اس نے آدم علیہ السلام کیخلاف نظریاتی جنگ سے کام لیا اور آدم علیہ السلام کو مغلوب کرنے کے لیے نظریاتی وسائل کا استعمال کیا۔چنانچہ ابلیس نے جب یہ بھانپ لیا کہ آدم علیہ السلام اس کے دشمن ہیں اور بزور بازو انہیں زیر نہیںکیاجاسکتاتو اس نے نظریاتی وسائل سے کام لیااورآدم علیہ السلام کے سامنے اپنے آپ کو خیرخواہ کی شکل میں ظاہرکیا اور پھر اپنے دعوی کو سچا دکھانے کے لیے جھوٹی قسمیں اٹھانےلگااورآخر کار آدم علیہ السلام اور ان کی بیوی کو بہکا دیا اور دونوں کو جنت سے نکلوادیا۔

اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ باطل کے اتحادیوں نے ہمیشہ ابنیاء کے خلاف اپنی مزاحمتوں میں جنگی وسائل کیساتھ ساتھ نظریاتی وسائل سے بھی کام لیا ہے۔چنانچہ کبھی تو انبیاء کے بارے میں بیہودہ اور لغو الزامات کا چرچا کیا کرتے تھے اور کبھی انہیں پاگل،ناقص العقل اور جادوگر کے نام سے پکارتے تھے جیساکہ جب قرآن کی مجالس ہوتی تھیں تو مالک بن نضر لوگوں کو کہاکرتاتھا کہ آؤ ہمارے قصے اور افسانے سنوجو کہ قرآن کی بہ نسبت زیادہ مزیدار ہیں۔جس کی طرف قرآن نے ان الفاظ میں اشارہ کیاہے۔:

وقال الذین کفروا لا تسمعوا لہذاالقران والغو فیہ لعلکم تغلبون(فصّلت24)

آج بھی حق کی دعوت اور آواز کےمقابلےمیں باطل کی تبلیغ کرنے والی کربناک آوازیں اسی طرح شورمچارہی ہیں تاکہ لوگ حق کی آواز نہ سن سکیں،بس دونوں زمانوں میں طریقہ کار کا فرق رہاہے کہ آج ذرائع ابلاغ کے تمام جدید وسائل موجود ہیں جیسے ریڈیو،ٹیلی ویژن، سیٹلائٹ، انٹرنیٹ وغیرہ،یہ سب وسائل لوگوں کوحق کی دعوت سننے سے روکتے اور اس میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

جدید نظریاتی یلغار کی ابتداء

1۔ جدید نظریاتی یلغار کا سب سے بڑا سبب صلیبی جنگیں ہیں کیونکہ جب کفر نے صلیبی جنگوں میں(جو تقریباًدو صدیوں پرمشتمل تھی)شکست کھائی تو انھوں نے سوچا کہ عسکری محاذ پر تو ہم بہت طاقت ور ہیں لیکن کیاوجہ ہے کہپھر بھی ہمیںفتح نہیں ہو رہی ہےتوآخر وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ مسلمانوں میں کوئی دوسری قوت مضمرہےجوان کےکام آتی ہے اور ہمیں شکست سے دوچار کرتی ہے تو انہیں معلوم ہوا کہ وہ تو ایمان اور اس کے متعلقات ہیں لہٰذاانہوںنے اس قوت کے خاتمے کے لیے تدابیر سوچیں جس کو ہم الغزوالفکری کے نام سے جانتے ہیں

2۔ کسی وقت میں فرانس دنیا کی ایک بہت بڑی قوت تھا اگرچہ آج بھی ہے،اس ملک کے بادشاہ ’’لوئیس‘‘ 1250م میں مصر میں ’’منصورہ کی لڑائی میں فرانسیسی لشکر کی تباہی کے بعد مسلمانوں کےہاتھوں گرفتار ہوااور بعدمیںبطورفدیہ خطیر رقم ادا کر کےرہاہوا۔وہ اپنے ایام اسیری میں اس بات پرغور کرتارہا کہ مادی اور عسکری وسائل کی کمی کے باوجود مسلمان کافروں پر کیوں غلبہ پالیتے ہیں؟مسلسل سوچ وبیچار کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ مسلمانوں کی قوت کا سر چشمہ مادی وسائل نہیں بلکہ ان کا اپنے دین پر پکا ایمان،پختہ عقیدہ اور اخلاق دہ معنوی صفات ہیں جو ان کےمذہب نے ان کو عطا کی ہیں۔لہذا جب تک یہ چیز یں ان میں برقرار رہیں گی اس وقت تک وہ اپنے مدمقابل پرغالب رہیں گے۔ رہائی کے بعد جب یہ واپس فرانس پہنچا تو اس نے فرانس کے فوجی،سیاسی اور مذہبی لیڈروں اور دوسرے بااثر لوگوں کو جمع کیا اور اسلامی دنیا کے ساتھ جنگ کی نوعیت بیان کرتے ہوئے اپنی تقریر کے دوران کہا:’’اگر تم چاہتے ہو کہ مسلمانوں کو شکست دو تو صرف اسلحہ کی جنگ پر اکتفاءنہ کرناکیونکہ اس جنگ میں تم ان کے سامنے ہر دفعہ شکست ہی کھاؤگے۔تمہیں ان کے عقیدے کے خلاف لڑناہوگاکیونکہ ان کی فاتحانہ قوت کا راز ان کے عقیدے میں مضمر ہے‘‘

اس کے بعد یورپ کی سیاسی،نظریاتی اور فوجی قیادت نے فیصلہ کیا کہ اب آئندہ کےلیے مسلمانوں کےخلاف فوجی جنگ کے ساتھ ساتھ نظریاتی جنگ بھی شروع کردی جائے اور اس لڑائی کےلیے انہوں نے یورپ کے کلیساؤں،تعلیمی،سیاسی اور سفارتی مراکز میں اسلام، اسلامی فکر اور اسلامی تمدن سیکھنے اورا ن پر تحقیق کرنے کے ادارے کھول دئیے۔یہ مراکز بعد میں استشراق علوم اور عیسائیت کی تبلیغ کی شکل میں منظر عام پر آئے، ان مراکز میںمنظم طریقے سے اسلامی دنیا کی فکر اور تہذیب کی بناوٹ پر توجہ دی گئی اور مسلمانوں کی نئی نسل میں اپنی فکرکی تاثیر منتقل کرنےکا کام شروع کیاگیا۔اس نظریاتی انقلاب کو برپاکرنے کےنمایاںمراکزمیں ہمارے سامنےتعلیمی ادارے مثلاً اسکول،کالجز،مغربی طرزپر مسلمان بچوں کی تربیت گاہیں،میڈیا کا موجودہ سیلاب،یورپ کی سیاسی سرگرمیاں اور سیاسی جماعتیں ہیں۔ان تمام مراکز اور اداروں کی کوشش کے نتیجے میں ایک ایسی نسل تیار ہوگی جن کے نام تو اسلامی ہیں لیکن ان کی زندگی کے تمام سیاسی، نظریاتی، اخلاقی، معاشرتی، عسکری، اقتصادی اور ادبی طور طریقے مغربی تصورات اور ترجیحات کی بنیادوں پرقائم ہیں اور ان عیسائی اداروں کی ساری توجہ مسلمانوں کو مغربی خواہشات کے مطابق بناناہےاگرچہ اس مقصد کے حصول میں لاکھوں مسلمانوں کاخون بہانے کی ضرورت ہی کیوں نہ پیش آجائے۔

نظریاتی جنگ کے اہداف

پہلا ہدف:مسلمانوں کے دل ودماغ سے جہادی سوچ وفکرختم کرنا:

مغرب یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ جب تک جہاد، ہجرت، شہادت اور قربانی جیسی عبادات مسلمانوں کی فکر تشکیل دینے میں مرکزی کردار اداکرتی رہیں گی۔ اس وقت تک یہ لوگ ذہنی طور پر حملہ آور کےمقابلے کےلیےتیار رہیں گےاور اس کے لیےہرقسم کی جانی ومالی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کریں گے لیکن اگر ایک بار ان کےدل اور ان کی فکر سے یہ چیزیں نظریاتی جنگ کے ذریعے نکال دی جائیں توپھریہ جنگی وسائل اور عسکری آلات سےخواہ کتنےہی لیس ہوجائیں،دشمن سے مقابلے پر کبھی آمادہ نہیں ہونگے،آج یہی بات ان تمام مسلم ملکوں کےنوجوانوں اورافواج میں نظرآتی ہےجومغرب کی فکری یلغارکےزیراثر ہیں اسلام کی تاریخ میں ہم دیکھتے ہیںکہ ہردورمیں مسلمان کم تعداد اورکمزور عسکری وسائل کےباوجودطاقتوردشمن کے مقابلے میں مردانگی سے لڑتےرہےاوراللہ کےفضل سے جنگیں بھی جیتتےرہے۔آج مسلمان ممالک اپنے لاکھوں فوجیوں،اعلی عسکری تجربات اور ترقی یافتہ جنگی وسائل کے باوجود شمن سے لڑنےکےقابل نہیں ہیںکیونکہ نظریاتی جنگ نے ان سے مقابلہ کرنے کی معنوی قوت چھین لی ہے۔

دوسرا ہدف:اسلام اور اسلامی طرززندگی اور اسلامی طور طریقوں کے بارے میں مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات ڈالنا:

پوری عیسائیت چاہتی ہےکہ مسلمان اپنے دین، عقیدے اور اخلاق،نظریاتی ترجیحات اور معاشرتی طور طریقوں میں ہماری طرح ہوجائیں اور ہر ہرچیز اور ہرہرعمل میں ہماری تقلید کریں۔اس ہدف کے حاصل ہونے کے نتیجہ میں ایک طرف تو اہل یورپ کیخلاف مسلمانوں کے دلوں میں نفرت اور بغض ختم ہوجائے گا اوروہ ان مکروہ منصوبوں کی مخالفت بھی نہیں کریں گے جن کے ذریعے وہ مسلم ممالک پرقبضہ جمانا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف پوری مسلم دنیا مغربی مصنوعات کے لیے اوپن مارکیٹ میں تبدیل ہو جائے گی۔

لیکن اسلامی شریعت عقیدہ اور اسلامی تہذیب مغرب کے ان مقاصدکو حاصل کرنے میں رکاوٹ ہے اس لیے یورپ نے اس رکاوٹ کےہٹانے کے لیےنظریاتی یلغار شروع کی ہے۔

دین اسلام تو اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ مسلمانوں کا سب کچھ اہل پورپ سےمختلف ہوناچاہئےکیونکہ اسلام نےاپنے پیروکاروں کو کفار کی مشابہت سے منع کیا ہے اور ان کو اس بات کی ترغیب دی ہےکہ اپنےدین کےقوانین اور طور طریقوں پر مضبوطی سے قائم رہو۔اس مقصدکے حصول کے لیے انہوں نے نظریاتی جنگ کے تمام وسائل کو مصروف عمل کیا ہےجیسے اسکول،کالج،جدید نصاب، ثقافت، میڈیا،اقتصادی کمپنیاں،تجزیہ نگار، شعراء اور مضمون نگاروغیرہ تاکہ اسلامی دینا سیکولرزم، لبرل ازم(لادینیت)ماڈرن ازم،جمہوریت اور عالمگیریت کےذریعے زندگی کے ہررخ میں مغرب کی اطاعت کرنے پرآمادہ ہوجائے۔

تیسرا ہدف:سچے اور حقیقی اسلام کو مغربی معاشرے تک پہنچنے سے روکنا:

مغربی حکومتیں یہ بات اچھی طرح جانتی ہیں کہ دین اسلام انسانی فطرت اور عقل سلیم کے مطابق ہونے کی وجہ سے دنیا کے ہر خطے اورقوم میں مقبول ہوسکتا ہے بشرط یہ کہ اسلام مکمل اور حقیقی شکل میں ان تک پہنچے۔دنیا کے بہت سےممالک جیسے ہندوستان،بنگال،برما،تھائی لینڈ، ملائیشیا، فلپائن، برونائی اور وسطی افریقہ کے بہت سےممالک کےلوگوں نے دعوت کےذریعے اسلام قبول کیا ہے۔ان ممالک میں کوئی ایسا فاتح لشکر نہیں گیا۔جس نے عسکری فتح کرکےاسلام پھیلایاہو۔بلکہ لوگوں نے اسلام کی حقانیت،افادیت اور عقل سلیم کے تقاضوں کےمطابق ہونے کی وجہ سے ازخود قبول کیا۔مغربی عیسائی دنیا میں اب بھی اس بات کاخوف پھیلا ہواہےکہ اگر اسلام اپنی سچی اور حقیقی شکل میں اس مغربی معاشرے تک پہنچ گیا،جو عیسائیت کے ظلم اور اس کی نامعقولیت سے تنگ آچکے ہیںتو بعید نہیں کہ یورپ کے عقلمند اور تعلیم یافتہ لوگ جوکہ حق کی تلاش میںہیں اسے اپنالیں اور نصرانیت اور مادیت کویکسر چھوڑ بیٹھیں گے لہٰذا ایسی صورت میں اس طلاطم خیز طوفان کا راستہ روکنا ان کےلیےناممکن ہوجائے گا چنانچہ اب بھی یورپ کے بہت سے لوگ اسلام کے بارے میں مطالعہ اور تحقیق میںلگے ہوئے ہیں اور ہرسال ہزاروں لوگ مسلمان ہورہے ہیںلہٰذا لوگوں تک سچا اور مکمل اسلام پہنچنے کی روک تھام کے لیے یورپ اور امریکہ نے درجہ ذیل اقدامات کئے ہیں۔

(الف) مغربی حکومتیں اور کلیسائیں اس کوشش میں ہے کہ مغربی معاشرے کے سامنے اسلام کو مسخ اور تحریف شدہ شکل میں پیش کریں۔ان کے سامنے اسلام کا تعارف قدیم زمانے کے ایک ایسے دین کے طورپر کیا جائے جو تلوار،قتل،جنگ،ہاتھ پاؤں کاٹنے اور لوگوں پر مذہبی تسلط جمانے کے علاوہ اور کچھ نہیں جانتا۔اس میں نہ تو کوئی اسلامی زندگی گزارنے کے لیے کوئی نظام اور لائحہ عمل ہے نہ ترقی کرنے کا تصور ہے۔اسلام نہ تو صلح پر مبنی زندگی چاہتا ہے اور نہ ہی اس میں تمدن ہے اور نہ انسانی ہمدردی کا تصور اور مزید یہ کہ اسلام انسانی زندگی کے فطری تقاضوں کے یکسر مخالف ہے جو کہ معاشرے کی زندگی میں تبدیلی لانے کےلیے عقل،علم،سیرت اور مذہبی اطمینان کے فطری وسائل کو بروئے کار نہیں لاتا بلکہ اس کے لیے تلوار،بندوق اور ڈنڈے کا زور استعمال کرتا ہے۔

مغربی میڈیا اور ان کی سیاسی و دینی قیادت اسلام کے خلاف اس طرح کے مختلف زہریلے پروپیگنڈوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور اس پر ہر سال اربوں ڈالر خرچ کئے جاتے ہیں تاکہ مغربی معاشرے کو اسلام سے متنفر کر کے اسلام قبول کرنے سے روکا جائے۔

(ب) یورپ کی سیاسی،نظریاتی اور دینی قیادت یہ کوشش کر رہی ہے کہ اپنے سیاسی،اقتصادی،عسکری اور بین الاقوامی اثر ورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اسلامی ممالک کی حکومتوں کو اس بات پر مجبور کرے کہ وہ اپنے ملکوں میں ایسا تعلیمی نصاب رائج کریں جس میں اسلام حقیقی شکل میں موجود نہ ہو۔علماء مبلغین،دینی مدارس، دینی جماعتیں،پریس اور اسی طرح مختلف اداروں کو جو کہ اسلامی نشر واشاعت میں مصروف کار ہیں،شدید دباؤ میں رکھا جائے اور ان کے اداروں کو بند کیا جائے، شخصیات کو قتل کیا جائے اور انہیں اتنا کمزور اور اپنی ذات میں مصروف رکھا جائے کہ وہ مغرب تک صحیح اسلام پہنچانے سے عاجز ہوجائیں۔ان کے مالی وسائل،مادی اور معنوی ذرائع کو مختلف عنوانات اور بہانوں کے ذریعے ان سے چھین کر باہرنکالا جائےاور بالآخر انہیں اپنےہی ملکوں میں فقروذلت اور مشکلات کیساتھ زندگی گزارنے پرمجبورکیاجائے۔اسلامی تنظیموں پر طرح طرح کی پابندیاں لگاکر انہیں غیر مؤثر کیا جائے اور یہ ساری کوششیں اس وقت تک جاری رہیں کہ جب تک اسلام کی نشرواشاعت کرنے والی شخصیات اور ادارے بالکل بے بس نہ ہو جائیں،اس کے بالمقابل عام لوگوں کے سامنے اسلام کا تعارف نہ ہو یا پھر اسلام کی ایک مسخ شدہ شکل ہو جس سے فطرت سلیمہ نفرت کرتی ہو۔

(ج)  مغرب اگر ایک طرف مغربی معاشرے تک سچے اور حقیقی اسلام پہنچنے کی روک تھام کرتا ہے تو دوسری طرف صرف ان گروہوں،تنظیموں اور اداروں کو یورپ میں مؤثرطریقے سے کام کرنے کی اجازت دیتا ہے جوکہ تحریف شدہ شکل میں اسلام کی نشرواشاعت کرتے ہیں اور خود بھی اسلامی معاشرے میں مرتد اور کفریہ جماعتوں کی حیثیت سے پہنچانے جاتےہیں۔جیسےقادیانی فرقہ،بہائی جماعت اور مشرک جعلی صوفیاءوغیرہ یا پھر ان جماعتوں کو اجازت دیتا ہے جوحقیقی اسلام کو لوگوں کے سامنے ناقص اور ادھوری شکل میں پیش کرتی ہیں۔ جنہوں نے اپنی دعوت کے نصاب سےاسلام اور اس کی ترجیحات، فرائض اور واجبات،جہاد،ولاء،براء کا عقیدہ، اسلامی نظام،اسلام کی حاکمیت،فتنہ وفساد کا مقابلہ بقدر ضرورت شرعی علم،جہادی جماعتوں کے ساتھ ہمدردی اور ان کے ساتھ مالی تعاون جیسے ضروری امور بلکہ ان کو دعا دینے تک کو صرف اس لیے نکال دیا ہےکہ کہیں کفار ان سے ناراض نہ ہوجائیں اور اپنےممالک میں سفر کرنے کےلیے انہیں ویزوں سے محروم نہ کر دیں۔اگر یہ لوگ اپنی اسی جدوجہد کو لے کر مجاہدین کے پہلو بہ پہلو کھڑے ہوجائے اور مجاہدین اسلام کی کمر مضبوط کریں تویقیناً وہ صرف دس سال کے عرصہ میں اسلامی دعوت پھیلانے کےلیے وہ کچھ کرسکتے ہیںجو یہ جماعتیں ایک صدی میں بھی نہیں کر سکتیں۔یورپ اس لئے تو ایسی جماعتوں کی سرگرمیوں پرپابندی نہیں لگاتاکیونکہ ان کی دعوت سے مغربی نظام،تسلط جمانے کے منصوبے،کفریہ تہذیب اورعالمی حیثیت کو کسی قسم کا صدمہ نہیں پہنچتا۔

چوتھا ہدف:اسلامی ممالک میں نااہل اور غیروں کے ہاتھوں پلےہوئے افراد کوقیادت سونپنا:

نظریاتی جنگ کےمقاصد میںسے ایک مقصد یہ ہے کہ اسلامی ممالک اور مسلمان معاشرے کو نیک قیادت سے محروم کردیاجائے اور ان کے متبادل نااہل اورغیروں کی گود میں پلی ہوئی قیادتوں کومتعارف کرایاجائے اور نئی نسل کے سامنے انہیں نمونے کے طور پر پیش کیا جائے۔ اہل پورپ اس بات کو سمجھتےہیں کہ جب تک اسلامی ملکوں میں مخلص،شریف،اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اور امت مسلمہ کے وفادار لوگوں کی قیادت موجود رہے گی اس وقت تک اسلامی دنیا میںمغرب کی خواہشات ہرگز پوری نہیں ہوسکتیں اسی لیے پورپ مسلسل اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ مسلمانوں کے مخلص حکمرانوں کو یاغائب کردیا جائے یا قید کر دیا جائے یامن گھڑت الزامات لگا کر بدنام کیا جائےاور نتیجۃً زمام کار ان کے ہاتھ سے لےلی جائے۔

نظریاتی جنگ کے نقصانات

یہ جنگ عسکری جنگ سے کئی گنازیادہ خطرناک ہوتی ہے کیونکہ یورپ اپنی عسکری جنگوں میں صرف معدنیات چوری کرتاتھا۔لوگوں کے گھر ویران کرتا اور انہیں قتل کرتا تھا۔ اور یہ سب کچھ مسلمانوں کے دلوں میں نفرت بڑھانےکاسبب بنتا تھااور وہ اپنے دین پر اور بھی مضبوط ہوجاتے تھے اور صدیوں تک لڑائی جاری رہنے کی باوجود بھی ہمہ وقت ان کے ساتھ جنگ پرآمادہ رہتے تھے۔لیکن نظریاتی جنگ کا نقصان یہ ہوا کہ اس نے مسلمانوں میں لادین نظریات بےدین ثقافت اور گرے پڑے اخلاق پھیلا دئے۔مسلمانوں کی نئی نسل کو اسلامی اقدار سے ایسے انجان کردیاکہ انکی نظر میں اسلامی شریعت،عقائد،تاریخ اور طرز زندگی بالکل اجنبی معلوم ہونےلگے۔ہرمعاملے میں مغربی فلسفے پر اور مغربی ترجیحات پریقین رکھتے ہوئے ان کے نقش قدم پر چلنے لگے۔نظریاتی جنگ نے ان کےقلبی احساسات کو ایسی شکست دی کہ اب ان کی نظر میں مغرب کی ہر بات حق اور درست دکھائی دیتی ہے اور اسےاپنانے کو اپنی ترقی اور تہذیب سمجھتے ہیں اور جوبات بھی یورپی نظریات اور طرز زندگی کی خلاف ہو۔اسے رجعت پسندی، بےوقوفی اور ترقی سے محرومی سمجھتے ہیں۔

نظریاتی جنگ میں مسلمانوں کی اس شکست خوردہ نسل نے اسلام اور امت مسلمہ کو اتنانقصان پہنچایاہے کہ چنگیزخان کے سانحہ کے بعد کبھی بھی انہیں اس پیمانے پر نقصان نہیں پہنچایاگیااس ذہنی غلام نسل نےمسلمانوں کی زندگی کے اسلامی طور طریقوں اور ترجیحات کو ان کی نظروں میں اجنبی بنادیاہے۔

نظریاتی اور عسکری جنگ میں فرق

ان دونوں کےدرمیان کئی اہم فرق موجود ہیں۔جن کو بغور دیکھ کر نظریاتی جنگ کی اہمیت اور اس کے بھیانک نقصانات معلوم ہوجاتے ہیں ان میں چند اہم فرق یہ ہیں:

1۔ عسکری جنگ کھلم کھلا اور نظریاتی جنگ خفیہ طور پر جاری رہتی ہے۔

2۔ عسکری جنگ میں مدمقابل فوجی ہوتےہیں جبکہ نظریاتی جنگ میں نہتے عوام

3۔ عسکری جنگ میںزمین پر قبضہ ہوتا ہے جبکہ نظریاتی جنگ میں عقل وفکر پر

4۔ عسکری جنگ کے نتیجےمیں جنگی وسائل اور آبادیاں تباہ ہوتی ہیں جبکہ نظریاتی جنگ میں ایمان،عقیدہ اور ان پر مبنی پختہ عزائم کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

جدید فکری یلغار کی کچھ مثالیں

1۔ دنیا میں تقریباً57 اسلامی ممالک ہیںاور وہ بھی تمام تر اسلحے سے مالا مال ہیں حتی کہ بعض ایٹمی قوتیںبھی ہیں لیکن اس کے باو جود وہ غیروں کی غلامی پرراضی ہیں کیونکہ ان کی ضمیر اور معنوی قوت چھین لی گئی ہے حتی کہ یہودی جو کہ دنیا میں سب سے کم ہیںنے بھی اتنی جرأت کی ہیں کہ ہیکل بنانی شروع کیا ہے۔

2۔ امریکہ نے افغانستان میں عسکری جنگ کو آگے بڑھانے کے لیے صرف چار پانچ ادارے مصروف عمل بنائے ہیں جیسے امریکی فوج،نیٹو،ایساف،افغان آرمی، ملی اردو اور جاسوسی ادارے،جبکہ نظریاتی محاذ کےلیے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تقریباً چارہزار غیرفوجی ادارےمصروف عمل ہیں۔جوکہ افغان قوم کی زندگی کے دینی سیاسی،معاشرتی،سماجی،تعلیمی،اقتصادی اور اس کے علاوہ اور بہت سے مختلف شعبوں پر مسلسل کام کر رہے ہیں۔

3۔ پاکستان فضائیہ ڈرون طیارے گرانے کی نہ صرف صلاحیت رکھتی ہے بلکہ حکومت سے اس کی اجازت بھی طلب کر چکی ہےعلاوہ ازیں پارلیمنٹ میں دو مرتبہ ڈرون حملوں کے خلاف کاروائی کی قراردادیں بھی منظور ہوچکی ہیں حتی کہ حکومت اقرار بھی کرچکی ہے کہ اس میں 98 فیصد عام شہری مر جاتے ہیں اس کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا جارہاہے۔(ماخوذ من الکتاب ’’عالم اسلام پر مغرب کی فکری یلغار‘‘ مختصرا مع بعض الزیادات)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے