{وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى } [النجم: 39]

اگر کسی سے پوچھا جائے کہ اس کے پاس سب سےقیمتی ترین سرمایہ کون سا ہے؟تو یقیناً اس کا منا سب ترین جواب یہی ہوگا کہ صحت اور وقت یہ دو ایسی لاجواب اور لاثانی نعمتیں ہیں جن کا مقابلہ کسی دوسری چیز سے نہیں کیاجاسکتا۔اسی لیے شارع علیہ السلام نے اس جانب توجہ دلاتے ہوئے فرمایا ہے کہ

نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالفَرَاغُ صحيح البخاري (8/ 88)

دونعمتیں ایسی ہیں جن کی بابت بہت سے لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں ’’صحت اور فراغت‘‘

صحت مند یہ سمجھتا ہے کہ اس کی صحت کو کبھی بھی زوال نہیں آئے گا۔اور فارغ البال انسان سمجھتاہے کہ اسے کبھی کوئی فکر اور پریشانی یانہ ختم ہونے والی مشغولیت لاحق نہیں ہوگی لیکن پھرجلد ہی وہ لمحات سر پہ آن کھڑے ہوتے ہیں جب یہ سب کچھ قصۂ پارینۂ ہوجاتاہے ان دو نعمتوں میں سے بھی اگر زیادہ انمول اور گراں قدر کوئی چیز ہے تووہ’’وقت کی نعمت ‘‘ہے۔

وقت ہی اصل زندگی ہے جب کسی انسان کا وقت ختم ہوجاتاہے تو اس کی زندگی ختم ہوجاتی ہے۔اگر کسی نے وقت کو بیکار گزارا توا س نے زندگی بیکار گزاری۔اگر کسی نے وقت کو کارگر بنالیا تواس نے اپنی زندگی کو کارگر بنالیا۔وقت کوبہتر طور پرکامیاب بنانے اور اسے استعمال میں لانے کےلیےضروری ہے کہ ہم اس کی اہمیت کوسمجھیں اور اپنی ذمہ داریوں کااحساس کرتے ہوئے ایسی حکمت عملی تیار کریں جوہمیں اس دنیا میں بھی کامیاب انسان بننے کےلیے مددگار ثابت ہواور آخرت میں بھی کامیابی نصیب ہوجائےجوکہ انتہائی اہم ہے۔

وقت کیاہے؟

علماءکرام رحمہم اللہ نے وقت کی تعریف ان الفاظ میں بیان کی ہے(الوقت ھو:عمر الحیاۃ ومیلان وجود الانسان وساحۃ ظلہ وبقایٔہ،ونغمہ وانتفاعہ) مأخوذقیمۃ الزمن عند العلماء۔

وقت ہی زندگی کی عمراور انسانی وجود کامیدان اس کی بقاءاورسائےلاثر اور نفع حاصل کرنے اور نفع پہنچانے کاآنگن ہے۔

ابن سید کہتے ہیں وقت زمانے کی ایک معروف مقدار کانام ہے(لسان العرب)

جب وقت زمانے کی ایک معلوم مقدار کانام ہے تو اس مراد سےہم وہ عرصہ لے سکتے ہیں جس کے دوران ہم اس دنیا میں زندہ رہتے ہیں اور وقت ہی انسان اور اس کی زندگی کا مادہ ہے۔ (ادارۃ الوقت بین التراث والمعاصرۃ)

نعمت وقت

وقت اللہ تعالیٰ کی ان بیش بہا نعمتوں میں سے ہے ایک ہے۔جس کی قیمت کا اندازہ لگانے سے اہل عقل ودانش آج تک قاصر رہے۔اور نہ کوئی ایسا پیمانہ دریافت ہوا جو وقت کی قیمت بتاسکے بس اتنا بطور مثال کہہ سکتے ہیں کہ جو چیز اور جو شخص جتنا بڑا اور قیمتی ہے اس کے پیچھے وقت کی قیمت کارفرما ہے ورنہ اس سب کی حقیقت لا یعنی ہے۔امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:میں علماءکے ساتھ رہا ہوں اور ان کی دوہی باتوں سے فائدہ اٹھایا ہے۔میں نےان کو کہتے سنا کہ وقت تلوار ہے یاتُو اسے کاٹ دے یاوہ تجھے کاٹ دے گی۔اور اپنےنفس کو حق میں مشغول کر ورنہ وہ تجھے باطل میں مشغول کردے گا۔

کہتے ہیں کہ وقت کا ضائع کرنا موت سے زیادہ سخت اورخطرناک ہے اس لیے وقت کا ضیاع اللہ اور آخرت کے گھر سے جدا کرتا ہےاور موت صرف اہل دنیا اور اپنے عزیز و اقارب سے جدا کرتی ہے۔

وقت ایک ایسی نعمت ہے جو انعام عطا کرنے والے کی طرف سے ہر ایک کے لیے برابر ہے اس میں کسی خاندان،ذات پات، قوم و مرتبہ، رنگ و نسل اور ملک وشہر، دولت مند اور فقیر کی کوئی تفریق نہیں بلکہ ہر ایک کےلیے یہ نعمت برابرہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

الکیس من دان نفسہ و عمل لما بعد الموت والعاجز من اتبع نفسہ ھواھا وتمنی علی اللہ (ترمذی 2383 ،احمد 1650 ،ابن ماجہ 4250 )

عقل مند وہ ہے جس نے اپنے نفس کو قابو میں رکھا اور موت کے بعد کے لیے اعمال کیے اور عاجز وہ ہے جس نے خواہشات نفس کی پیروی کی اور اللہ پر امیدیں لگائے رکھیں۔

اپنی دنیا اور آخرت سنوارنے کےلیے ایسے کام کرنا چاہئیں گویا کہ یہی لمحات حیات جو ہمیں میسر ہیں بس یہی ہیں ان کے بعد کوئی وقت نہیں ملے گا۔شاعر کہتا ہے:

اعمل لدنیاک کانک تعیش أبدا
واعمل لآخرتک کانک تموت غدا

اپنی دنیا کےلیے ایسے کام کرو گویا کہ تم نے ہمیشہ زندہ رہنا ہے۔اور اپنی آخرت کے لیے عمل کرو گویا کہ کل ہی مرجاناہے۔

اردو کے شاعر نے یوں قالب میں ڈھالا ہے:

دنیا دنی کو نقش فانی سمجھو

رواداد جہاں کو ایک کہانی سمجھو

پر کرو جب آغاز کوئی کام بڑا

تو ہر سانس کو عمر جاودانی سمجھو

وقت کی قدر

وقت اپنے سیکنڈ منٹ، گھنٹہ، دن اور سال کے حساب سے انسان کے پاس امانت ہے اور اس کے متعلق سوال ہو گا۔ پس ہر لحظہ حیات جو ابدہی کی تیاری میں صرف ہونا چاہیے۔ شاعر کہتا ہے:

والوقت انفس ما عنیت بحفظہ
واراہ اسھل ما علیک یضیع

اور وقت وہ سب سے قیمتی چیز ہے جس کی حفاظت کا آپ کو ذمہ دار ٹہرایا گیا ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ اس کا ضیاع آپ کےلیے سب سے آسان ہے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کافرمان ہے:

الایام محائف اعمارکم مخلدوھا بصالح اعمالکم

یہ دن تمہاری زندگیوں کے صحیفے ہیں انہیں نیک اعمال سے دوام بخشو۔

حسن بصری رحمہ اللہ فرمایا کرتےتھے

یاابن ادم انما انت ایام اذھب یوم ذھب بعضک

ابن ادم تو دنوں کا ہی مجموعہ ہے سو جب ایک دن چلا گیا تیری زندگی کا ایک حصہ چلاجاتاہے۔

شاعر کہتا ہے:

ایھا المؤمنون لا تتوانوا
فاالتوانی وسیلۃ للثیاب
فاذا المصلحون فی القوم ناموا
نھضت بینھم جیوش الخراب

اے اہل ایمان سستی مت کرو بیشک سست روی تباہی کاوسیلہ ہے جب کسی قوم میں اصلاح کرنے والے سو جاتے ہیں تو اس قوم میں تباہی کے لشکر جنم لیتے ہیں۔

(ماخوذ اشارات الطریق 43)

اگرہم مختصر اً دیگر علماء کی حیات پر نظر ڈالیں گے تو ایک عالم عجائب ملے گا اپنی ہمتوں اور ضیاع وقت کو دیکھ کر ان کی خدمات کا یقین تذبذب کا شکار ہوجاتاہے۔

ابن شاہین رحمہ اللہ نے حدیث، تاریخ، تفسیر، فقہ اور دیگر علوم میں کئی ایک تصانیف چھوڑی ہیں حدیث میں المسند پندرہ سو اجزاء اور تفسیر ایک ہزار اجزا پرمشتمل ہے۔

حجاج بن شاعر خلیفہ مامون کے دور میں ترجمہ کے کام پر مامور تھےان کا تعلیمی زمانہ اتنا ناگوار اورخشک گزرا ہے کہ خود فرماتے ہیں کہ سوروز تک متواتر ایک روٹی دجلہ کے پانی سے بھگو لاتا اور پیٹ بھرتا(ماخوذ من العلم والعلماء ۔جھنڈا نگری 35)

علامہ عبد اللہ بن سادہ اپنے زمانے کےمشہور ذی علم بزرگ تھے اشبیلیہ میں جلد سازی کرکے گزاراکرتے تھے۔ فن حدیث کے عالی المرتبت امام ابو حاتم رازی چودہ برس تک حصول علم کی خاطر بصرہ میں رہے تنگ دستی کا یہ عالم تھا کہ ایک بار تو اپنے کپڑے تک بیچ کھائے۔ (ماخوذ من العلم والعلماء 39)

امام طبرانی رحمہ اللہ نے تیس برس تک صرف بوریے پر سوکر گزاراکیا اور اس بلند مقام تک پہنچے جس کا اعتراف دنیا کرتی ہے (ماخوذ من تذکرۃ الحفاظ 128/3)

امام ابوبکر رحمہ اللہ سکاف موچی تھے شمس الائمہ سرخسی حلوائی تھے ابن سیرین بزاز تھے ایوب سختیانی چرم کے سوداگر تھے۔

مالک بن دینار کا غذ فروش تھے (ماخوذ من العلم والعلماء 41۔42 )

سیدنا عامر بن قیس رحمہ اللہ ایک زاہد تابعی تھے ایک شخص نے ان سے کہا آؤ بیٹھ کر باتیں کریں انہوں نے جواب دیا توپھر سورج کو بھی ٹھرالو۔ یعنی زمانہ تو ہمیشہ متحرک رہتاہے اور گزرا ہوا زمانہ واپس نہیں آتا ہے اس لیے ہمیں کام سے غرض رکھنی چاہیے ۔

موجودہ دور کے عظیم المرتبہ محدث اورعالم ربانی علامہ البانی رحمہ اللہ گھڑی ساز تھے۔

ان روایات اور حکایات کو بیان کرنے کا مقصد صرف اور صرف ہمت کا بڑھانا حوصلہ دینا اور حوصلوں کو پرانگیخہ کرنا ہے۔اس لیے کوئی بھی کام بغیر مشقت اور محنت کے انجام نہیں پاتا اور سفر کئے بغیر منزل نہیں ملتی اگر ہم میں سے بھی کوئی کسی منزل کا خواہاں ہے تو اسے ایسے ہی محنت کرنا ہوگی جیسے ہمارے اکابر کا شیوہ رہاہے۔

بقول اقبال

کوئی ؕقابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں

ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتےہیں

وقت کو کار آمد بنانے کے ذرائع

لمحات کی قدر وقیمت:

دانا اور عقل مند انسان وہ ہےجو اپنے وقت کی حفاظت کرے انسان کی زندگی کا ہر لمحہ عزت ووقار اور بزرگی و بلند مرتبہ حاصل کرنے کے قابل ہے ۔بس یہ شرف و منزلت پانے کےلیے سستی اور شیطانی چالوں کو خیر باد کہتے ہوئے وقت کی قدر و قیمت کا احساس اپنے دل میں پیدا کرنا ہوگا کیونکہ یہ کوئی ایسے امور نہیں جن کا کرنا مشکل ہو یا جن کے کرنے کے لیے دیناوی نعمتوں کو خیر باد کہنا پڑتا ہو ایک منٹ جسے ہم بہت کمزور سمجھتے ہیں ایک منٹ جسے ہم بہت کم تر سمجھتے ہیں اس میں کیا کچھ ہو سکتاہے۔

ایک منٹ کی قیمت کا اند ازہ ذرا اس سے لگائیں۔

1۔ ایک منٹ میں سورۃ الفاتحہ کم از کم پانچ مرتبہ پڑھی جا سکتی ہے جس کے ایک سو چالیس حروف ہیں اور ہر حرف کے پڑھنےپر دس نیکیاں ملتی ہیں اس طرح ایک منٹ میں 7000 نیکیاں کمائی جاسکتی ہیں

2۔ ایک منٹ میں کم از کم بارہ مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھی جا سکتی ہے تین بار سورۃ اخلاص پڑھنے کا ثواب ایک قرآن پڑھنےکے برابر ہے اس طرح ایک منٹ میں چار قرآن کا ثواب حاصل ہو سکتاہے۔

3۔ ایک منٹ میں کم ازکم پندرہ بار لا إلٰہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علیٰ کل شیء قدیر کہا جاسکتا ہے ایک بار یہ کلمہ کہنے کا اجر اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔

4۔ ایک منٹ میں انسان کم از کم چالیس بار سبحان اللہ وبحمدہ کہہ سکتا ہے یہ کلمہ کہنے سے انسان کے صغیرہ گناہ معاف ہوجاتےہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔

5۔ ایک منٹ میں کم ازکم تیس بار سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم کہا جا سکتا ہے جو روز قیامت میزان حسنات میں بہت وزنی کلمہ ہوگا۔

6۔ ایک منٹ میں تیس بار لاحول ولا قوۃ الا باللہ کہا جا سکتا ہے یہ کلمہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔

7۔ ایک منٹ کا ٹیلیفون صلہ رحمی کا حق ادا کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتاہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی خاص برکات حاصل ہوتی ہیں ان کے علاوہ اور بھی بہت سارے اعمال ہیں جو انتہائی کم وقت میں بہت ساری نیکیاں کمانے کا سبب بن سکتے ہیں۔

گو منزل حیات بہت دور تھی مگر

دیکھا جو میرا عزم تور ستہ ہی سمٹ گیا

ترحل عن الدنیا بزاد من التقیٰ
فعمرک ایام تعد قلائل

اس دنیا سے کوچ کرتے ہوئے تقویٰ کا زادراہ لے لو آپ کی زندگی گنتی کے چند دن رہ گئی ہے۔

نسئل اللہ رب العرش العظیم ان یو فقنا لما یحبہ و یرضاہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے