Categories: اکتوبر2014

سکون قلب کے حصول کا آسان و سادہ نسخہ

موجودہ دَور کی تمام تر ترقی و عروج اور سہولیات کے باوجود ہر انسان پریشان ہے کوئی معاشی پریشانی کا شکار ہے تو کوئی سیاسی دُکھوں میں مبتلا ہے۔ کسی کو سماج کا غم لاحق ہے تو کوئی مذہب سے دوری کے نقصانات پر متفکر ہے۔ کسی کو سٹیٹس (Status) برقرار رکھنے کی فکر ہے تو کوئی غربت و ذلت پر شکوہ کناں ہے۔ غرض ہر نفس بے اطمینانی اور بے سکونی کا شکار ہے اور کہہ رہا ہے کہ

سکوں دُنیا کے گوشے میں نہیں ممکن ، نہیں ممکن

اِک عالمِ اضطرابی ہے جدھر نظریں اُٹھاتے ہیں

حالانکہ ’’سکون‘‘ حاصل کرنے کا بہت آسان ، سادہ اور تیربہدف ’’نسخہ‘‘ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بہت واضح الفاظ میں بیان کر دیا ہے کہ

الا بذکر اللّٰہ تطمئن القلوب

ترجمہ : بلاشبہ دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے سکون و اطمینان پاتے ہیں۔

ہم بے سکونی کا شکوہ تو کرتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ یہ سب ہماری ’’کرنی‘‘ کا پھل ہے۔ ہم نے اللہ کے شکر گزار بندے بننے کی بجائے کفران نعمت کیا اسی لیے ہمارا رزق کم ہو گیا۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے۔

ترجمہ : اور جو لوگ ہمارے ذکر سے غافل ہوتے ہیں ہم ان کی معیشت کو تنگ کر دیتے ہیں اور قیامت کے دن ان کو اندھا اُٹھائیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہم تو دُنیا میں دیکھتے تھے پھر ہمیں اندھا کیوں اُٹھایا گیا ہے؟ تو جواب ملے گا کہ یہ اس وجہ سے ہے کہ تم نے ہماری نعمتوں کو جھٹلایا‘‘۔

اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شمار نا ممکن ہے۔ سورۃ ’’الرحمن‘‘ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کچھ نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور بار بار اس سوال کو دہرایا ہے کہ

فبای الآئِ ربکماتکذ بان

ترجمہ : تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے؟

’’سکون ِ قلب‘‘ حاصل کرنے کیلئے ہمیں اس سوال کا یہ جواب عملی طور پر دینے کی ضرورت ہے‘‘

اللھم ربنا لا نکذب بای من اٰلائک

ترجمہ : اے اللہ ہم تیری نعمتوں میں سے کسی ایک کو بھی نہیں جھٹلاتے۔

’’ شکوہ‘‘ کرنا شاید ہماری عادت بنتی جا رہی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سمیت ہر کسی سے شکوہ کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں لیکن شکوہ پیدا ہونے کے اسباب پر غور کرنے کے فرض سے غافل ہو جاتے ہیں۔

نوجوان نسل سے بھی حسب روایت ہمیں بہت سے شکوے ہیں۔ ہم ان کی بے ادبی ، بد اخلاقی ، بد لحاظی ، نا فرمانی ، ڈھٹائی ، بد عملی ، سستی ، خود غرضی ، روایات سے دوری ، دین سے دوری ، ظاہر پرستی ، فیشن پرستی ، مغرب اور میڈیا کی اندھی تقلید ، وقت کی ناقدری ، محنت سے جی چرانا ، کمپیوٹر ، انٹرنیٹ اور موبائل کے غلط استعمال ، حد سے بڑھے ہوئے اعتماد اور نہ جانے کس کس خامی کے شاکی ہیں اور ان سب خامیوں پر مجلسوں ، محفلوں ، مذاکروں ، مباحثوں ، سکولوں ، کالجوں ، دفتروں اور گھروں میں دن رات لمبی لمبی بحثیں کرتے ہیں۔ کڑھتے ہیں لیکن ان بے شمار خامیوں اور خرابیوں کی وجوہات تلاش کرنے کی اوّل تو جستجو ہی نہیں کرتے اور اگر کوشش کرتے بھی ہیں تو وجوہات ہمیں ’’ دکھائی‘‘ ہی نہیں دیتیں۔ حالانکہ ۔۔۔حالانکہ تالی کبھی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔

نسل نو کی ان خامیوں کے اصل ذمہ دار ہم خود ہیں کیونکہ بچے کی شخصیت پر اپنے ماں باپ ، گھر کے دیگر افراد ، اساتذہ اور ارد گرد کے حالات اور ماحول کا بے حد اثر ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے بزرگوں کا ادب و احترام کریں گے تو بچے بھی ان شاء اللہ ہمارا ادب و لحاظ کریں گے۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ پر یقین ِ کامل رکھیں گے اور اس سے اپنا تعلق مضبوط رکھیں گے، شعائرِ اسلام کی پابندی کریں گے‘قرآن حکیم کو مکمل ضابطہء حیات سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہوں گے، صرف حقوق کا نہیں بلکہ فرائض کا بھی خیال رکھیں گے، سلیقہ شعاری ، نظم و ضبط ، فضول خرچی ، کنجوسی سے اجتناب کریں گے۔ صرف صفائی جسم و لباس ہی نہیں بلکہ صفائی قلب و ذہن و عقیدہ کابھی اہتمام کریں گے، توازن و اعتدال کا راستہ اپنائیں گے، تن آسانی کی بجائے محنت کی عظمت کا اعتراف کریں گے، اپنا فارغ وقت دوسروں کی عیب جوئی ، غیبت ، بہتان طرازی ، دروغ گوئی ، چغل خوری کی بجائے اپنے محاسبہ اور اولاد بالخصوص لڑکیوں کی تربیت پر صرف کریں گے اور ہماری شخصیت دین و دُنیا کا حسین امتزاج ہوگی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارے بچے ’’بگڑی ہوئی نسل‘‘ کا طعنہ سنیں۔

’’تربیت‘‘ کسی نسل کو ’’سنوارنے‘‘ یا ’’بگاڑنے‘‘ میں اہم کردار ادا کرتی ہے اگر ہم نسل نو کی تربیت صحیح خطوط پر کریں گے تو ہی وہ آئندہ نسلوں کی صحیح تربیت کر پائے گی پھر ان شاء اللہ ‘ اللہ تعالیٰ یا کسی نسل سے شکوہ کناں ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ بقول علامہ اقبال؎

عبث ہے شکوہ تقدیر یزداں

تو خود تقدیرِ یزداں کیوں نہیں ہے؟

میرے خیال میں نوجوان نسل میں جہاں بہت سی خامیاں ہیں وہاں وہ بہت سی خوبیوں کا بھی مجموعہ ہے۔

اس میں آگے بڑھنے کا جذبہ ہے، وہ ذہین ہے، پُراعتماد ہے، سیکھنے کا جذبہ ہے، مضبوط ارادوں کی مالک ہے، باشعور ہے، بہادر ہے، پُرجوش ہے، ‏ترقی کرنے ‏کی صلاحیت ہے وغیرہ وغیرہ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی صحیح تربیت و رہنمائی کی جائے۔

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

موجودہ نسل کو یہ نمی فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اس نمی کے بغیر زرخیزی کی خواہش عبث ہے۔ اگر ہم گلاب بوئیں گے تو ہی گلاب کی ‏خوشبو سے معطر ‏ہو سکیں گے، ببول بونا اور گلاب کی خواہش کرنا سب سے بڑی حماقت ہے۔

میں نسل نو سے مایوس نہیں بلکہ ’’خوش اُمید‘‘ ہوں کہ وہ اپنا محاسبہ کرکے اپنی خامیوں کی اصلاح کرے گی اور اپنے عمل سے ثابت کرے گی ‏کہ وہ صحیح ‏مسلمان اور محبِ وطن ہے۔

جب کوئی چیز اپنے مقصد اور مدار سے ہٹ جاتی ہے تو وہ اپنا مقام کھو دیتی ہے۔ کچھ ایسا ہی حال حضرت انسان کا ہے۔ انسان اپنی تخلیق کے ‏مقصد ’’عبادتِ ‏الٰہی‘‘ اور ’’دردِ دل‘‘ سے ہٹ گیا تو اس کا جو حال ہوا ، اس کی وضاحت قرآن مجید میں ان الفاظ میں کی گئی۔

ثُمَّ رَدَدنٰہُ اَسفَلَ سافِلِینo

ترجمہ : پھر ہم نے اس کی حالت کو بدل کر پست کر دیا

حالانکہ جب تک انسان اللہ تعالیٰ کے احکامات ، حضر ت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اسوئہ حسنہ اور قرآن حکیم جیسے مکمل ضابطہء حیات پر عمل ‏پیرا ‏ہوتا رہا، مادیت پرستی ، بے حسی اور اصل مقصد سے دوری سے گریز کرتا رہا تو اللہ سبحانہ‘ و تعالیٰ نے اسے یہ نوید دی تھی کہ ‏

وَلَقَد کَرَّمنَا بَنِی اٰدَم

اور ہم نے اولاد آدم کو عزت بخشی

اگر ہم اپنی کھوئی ہوئی عزت و عظمت کو بحال کرنا چاہتے ہیں اور تمام تفکرات و پریشانیوں سے نجات پانا چاہتے ہیں تو ہمیں توحید باری تعالیٰ کا ‏صرف اقرار ‏باللسان نہیں بلکہ تصدیق بالقلب کا مظاہرہ کرنا ہوگا، ہمیں ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہوگا۔ دین و دُنیا میں توازن رکھنا ‏ہوگا، کفران نعمت سے بچنا ‏ہوگا، اخلاقِ حسنہ کو شعار زندگی بنانا ، اخلاقِ رذیلہ سے اجتناب کرنا ہوگا، امر و نواہی پر سختی سے عمل پیرا ہونا ہوگا، ‏زندگی کو غنیمت سمجھتے ہوئے اس کی قدر ‏کرنا ہوگی تاکہ اللہ جل شانہ بھی ہم سے خوش ہو اور خلق اللہ بھی۔ ساتھ ساتھ یہ دُعا بھی کثرت سے ‏کرنی چاہیے کہ

رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنیَا حَسَنَۃً وَ فِی الاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارo

‏’’ اے ہمارے رب ہمیں دُنیا و آخرت دونوں کی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘آمین ثم آمین

admin

Share
Published by
admin
Tags: dilskoonzikr

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

5 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

5 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago