قلم ہاتھ میں لیتے ہی بہت سی سوچوں کے ہجوم ریلوں کی صورت میں ذہن کی اسکرین پر جگمگانے لگے اور کچھ سرخ بتیوں کی صورت میں جلتے بجھتے ہوئے اپنے خطر ناک ہونے کی اطلاع دے رہے تھے۔
ایک مسلم معاشرے کو درپیش مسائل پر لکھنے کے لیے بے شمار مسائل میرے سامنے تھے دل تو چاہتا ہے کہ ہر ایک مسئلے کی تہہ تک پہنچ کر ان مسائل کو حل کروں مگر سب سے پہلے میری نظر میں اس وقت ایک مسئلہ جو امت مسلمہ کو درپیش ہے وہ ہے ایک عورت کا کردار جو اسلام کے قلعے میں ایک اہم ستون کی مانند ہے آج اہل کفر نے سب سے پہلے اس پر کاری وار کرکے اس کو ہلا ڈالا ہے اور اس مضبوط قلعے کی دیواروں میں شگاف پڑ گئے ہیں ۔
جس کے نتیجے میں یہ حوا کی بیٹی گھر کی چاردیواری چھوڑ کر سڑکو ں ، بازاروں اور شاپنگ سینٹروں کی زینت بننے کے لیے بے پردہ ہوکر نکل آئی جس کی وجہ سے معاشرہ بے راہ روی کا شکار ہوگیا تباہی اور بربادی کے دروازے اپنے لیے کھول دیے ۔
اسلام نے اس کو جو عزت ، مقام، شرف اور منزلت عطاکی تھی وہ اس نے بالائے طاق رکھ کر خود کو ایک کھلونا اور شوپیس بنا کرپیش کیا ، سڑکوں پر کھلے چہرے اور کھلے بالوں کے ساتھ نہ جانے کونسی خوبصورتی کی نمائش کرنا چاہتی ہے ، معاشرے میں نوے فیصد بے حیائی کے فروغ کی آلہ کار آج کی عورت ہے اور اس کے ساتھ اس کے بھائی اور والد بھی برابر کے شریک ہیں جو اس کو روکتے نہیں بلکہ اس کے اس طرح باہر نکلنے پر خود کو فخر سے آزاد خیال کہلاتے ہیں ،کیا انہوں نے نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نہیں سنا :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَا أَرَاهُمَا بَعْدُ، نِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ، مَائِلَاتٌ، مُمِيلَاتٌ، عَلَى رُءُوسِهِنَّ أَمْثَالُ أَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ، لَا يَرَيْنَ الْجَنَّةَ، وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا، (مسند أحمد ط الرسالة (14/ 300)

’’ جہنمیوں کے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں میں نے نہیں دیکھا (اور نہ  ہی میں دیکھوں گا ) جن میں ایک گروہ ان عورتوں کا ہے جو (دنیا میں )کپڑوں سے عاری رہنے والی ،یا بظاہر کپڑے پہنے کے باوجودحقیقت میں بے لباس و برہنہ ہوں گی وہ مردوں کو اپنی طرف مائل کریں گی اور خودبھی مردوں کی طرف مائل ہوں گی ان کے سر بختی اونٹ کی کوہان کی طرح ہوں گے ایسی عورتیں نہ تو جنت میں داخل ہوں گی اور نہ ہی جنت کی خوشبو تک کو پاسکیں گی ۔‘‘
جبکہ عورت ہی ماں ہے ، یہی بہن ،بیٹی اور بیوی ہے تو ہر جگہ بات عورت کے کردار کی آتی ہےیہی عورت جس کی اتنی تکریم تھی مگر اس نے خود کو نمائش کے لیے پیش کرکے اپنے آپ کو بازار کی سستی چیز بناڈالااور سمجھتی ہے کہ میں محفوظ ہوں، اور ایک کردار اس کو اسلام نے دیا ہے، جس میں وقار ہے خوبصورتی ہے ہر رشتے کا احترام ہے خلوص ہے دھوکہ ا ور فریب نہیں۔
عورت اگر ماں ہے تو اولاد کی بہتر تربیت کرنے پر اس کے لیے جنت کی بشارت ہے ، اگر بیوی ہے تو شوہر کے گھر اس کے مال اور اولاد کی حفاظت پر جنت کے آٹھوں دروازوںسے پکارے جانے کی خوش خبری ہے۔
رسول اللہﷺ کا فرمان ہے: جس عورت نے پابندی کے ساتھ پانچوں وقت کی نمازیں ادا کیں، رمضان کے (ادا اور قضاء) روزے رکھے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی (یعنی فحاشی و عریانیت اوربدکاری سے اپنے نفس کو محفوظ رکھا) اور اپنے شوہر کی (جائز امور میں) فرمانبرداری کی تو اس عورت کے لئے یہ بشارت ہے کہ وہ جنت کے جس دروازہ سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے۔ (صحیح الجامع الصغیر)
اب اس کے سامنے دو نوں راستے صاف اور واضح ہیں چاہے تو اسلام کے بتلائے ہوئے رستے پر چل کر اوج ثریا پر پہنچ جائے اور چاہے تو شیطان کی پیروی میں اور اغیار کی نقالی میں چلتے چلتے جہنم کے گھڑے میں جا گرے اوراسفل سافلین میں سے ہوجائے۔
میری عزیزبہنوں میرا مقصد صرف تنقید کرنا نہیں بلکہ یہ بتانا چاہتی ہوں کہ شیطان کے اور اس کے دوستوں کےبچھائے ہوئے جالوں میں الجھ نہ جانا بلکہ اللہ کے دین کو مضبوطی سے تھام لینا جس کو رب تعالی نے اپنے کلام مجید میں ایک مضبوط کڑے سے تشبیہہ دی ہے۔
ارشاد ربانی ہے:

لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ ڐ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ (البقرۃ:256)

’’ دین (کے معاملہ) میں کوئی زبردستی نہیں۔ ہدایت گمراہی کے مقابلہ میں بالکل واضح ہو چکی ہے۔ اب جو شخص طاغوت سے کفر کرے اور اللہ ایمان پر لائے تو اس نے ایسے مضبوط کڑا تھام لیا جو ٹوٹ نہیں سکتا اور اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے‘‘
اور شیطان کے یہ گماشتے تمہارے خیر خواہ کبھی نہیں ہوسکتے یہ تمہاری عزت ، عفت و خوبصورتی کے دشمن ہیں اور تمہیں دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی سے دوچار کرنے کے در پے ہیں ، انسان کی جوانی اور خوبصورتی بہار کی طرح عارضی اور ختم ہونے والی ہے یہ دھوکے کا سامان ہے ، آنکھیں کھول کر ذرا ٹھنڈے دل سے سوچو جس راستے کا ہم نے انتخاب کیا ہے وہ کامیابی کی طرف جاتاہے ہے یا جہنم کی تاریکی کی طرف؟؟؟؟؟
پردے کے نام پرزرق برق اور چست برقعوں کے نت نئے ڈیزائین جوکہ بجائے پردے کے بے حیائی کا سبب بن چکے ہیںجن پر ہر گزرنے والے کی نظر ٹھہر جاتی ہے اور بجائے پردے کے مزید لوگوں کی نظروں کا محور بن جاتی ہے اور اگر دوسری طرف دیکھیں تو وہ لباس ہیں جو اپنی باریکی اور وضع قطع میں ایسے ہیں کہ جس میں سوائے نمائش جسم کے اور کچھ حاصل نہیں ،ہر جگہ شاہراہوں پر اور شاپنگ سینٹرز پر آویزاں مختلف کمپنیوں کے دیوقامت ہورڈنگز پر اشتہار بازی کے نام پر قوم کی بیٹیوں کی نیم برہنہ تصاویر بھی بگاڑ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کس کی بیٹیاں ہیں جو اتنی آسانی سے سڑکوں اور بازاروں کی زینت بنی ہوئی ہیں ، یہ چمک دمک اور یہ رونق صرف چندروز کی ہےاس کے بعد گہری تاریکی ہے ایک آج کی عورت ہے جس نے خود اپنے لیے تباہی کے راستے کا انتخاب کیاہے اور ایک عورت وہ تھی جو اسلام سے قبل مظلومیت کا شکار تھی جہاں بیٹی کی پیدائش کو نحوست جانا جاتا تھا اور اس کی معاشرے میں کوئی عزت و وقار نہیں تھانہ معاشرے میں اس کا کوئی کردار تھا بلکہ وہ ایک حقیر شے کی مانندتصور کی جاتی تھی اسلام کی نورانی کرنیں جب ہر سو پھیلیں تو حوا کی بیٹی کی قسمت بھی چمک اٹھی اور اس کو بھی معاشرے میں ایک بلند مقام حاصل ہوگیاہر معاملے میں اسلام نے اس کے حقوق کا تحفظ کیا، مثلاً پہلے عورتو ں کو وراثت سے محروم رکھا جاتا تھا اسلام نے اس کا ایک مستقل حصہ مقرر کیااور پھر ماں بننے کے بعد باپ کے مقابلے میں اس کے تین درجے زیادہ رکھے یہ شرف ، عزت و مقام اسکو اسلام نے عطاکیا، اسلام ہی وہ دین ہے جس نے عورت کے تحفظ کی ضمانت دی ہے وگرنہ اب بھی عورتوں کو ہر جگہ اپنے مفاد کی خاطروقتی فوائد کے لیے استعمال کیا جاتاہے اور یہ بڑی خوشی سے آزادیٔ نسواں کے خوشنما نعروں کا آسانی سے شکار ہوجاتی ہیں، عورتوں کے حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والی تنظیمیں اور انجمنیں ملکی اور عالمی سطح پرمسلمان عورت کو مظلومیت کا ڈرامہ رچاکر اس کی ہمدردی حاصل کر کے اس کو گھر کی چاردیواری سے نکال کر برسر بازار لانا چاہتی ہیں اور یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اسلامی معاشرے میں اس کو جینے کے حقوق حاصل نہیں اور اس کو گھروں میں قید کر رکھاہے ، مگر یہ صرف اور صرف ایک شیطانی ہتھکنڈاہے اس کے سواکچھ نہیں۔
میں ان سے چند سوال پوچھنا چاہتی ہوں ! کہ کیا اسلام نے عورتوں کو تعلیم کے حصول سے روکا ہے؟
اس کو جائز ضروریات کے لیے باہر نکلنے سے روکا ہے یا تجارت اور اس کے علاوہ دوسرے کسی باعزت کاروبار سے روکتاہے؟
اگر ہم تاریخ اسلام پر نظر ڈالیں تو ہمیں یہ نظر آتاہے کہ تاریخ اسلام عورتوں کےعظیم کارناموں پر گواہ ہے، صحابیات رضوان اللہ علیہن اجمعین نے بڑے بڑے معرکے سر کیے دشمنوں کے مقابلے میں قابل قدر خدمات انجام دیں ، لیکن آج کی مسلمان عورت کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کےتحت غلط رخ دکھاکر اس کو ملکی و غیرملکی میڈیا کے ذریعے گمراہ کیا جارہا ہے۔
دشمن کی شاطرانہ چال یہ ہے کہ وہ مسلمان عورتوں کو زندگی کی دوڑ میں مادہ پرستی کے حصول کے لیے مصروف کرنا چاہتاہے تاکہ وہ گھروں میں رہ کر اپنی اولاد کی تربیت نہ کر سکیںاور اسلام کے ہیرو پیدا نہ ہوں جو اسلام کا پر چم لہرانے کے لیے ہر طوفان کے سامنے سینہ سپر ہوں ، بلکہ وہ مسلمانوں کی آئندہ آنے والی نسلوں کو مغربی طرزحیات کا عادی بنا کر اسلام اور مسلمانوں کے لیے بیکا رکردینا چاہتے ہیں ، ہمیں ان چالوں کو سمجھنا ہوگا اور اسلام کے قلعے میں رہتے ہوئے ان مفاسد کا مقابلہ کرنا ہوگا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے